Surat un Najam
Surah: 53
Verse: 9
سورة النجم
فَکَانَ قَابَ قَوۡسَیۡنِ اَوۡ اَدۡنٰی ۚ﴿۹﴾
And was at a distance of two bow lengths or nearer.
پس وہ دو کمانوں کے بقدر فاصلہ پر رہ گیا بلکہ اس سے بھی کم ۔
فَکَانَ قَابَ قَوۡسَیۡنِ اَوۡ اَدۡنٰی ۚ﴿۹﴾
And was at a distance of two bow lengths or nearer.
پس وہ دو کمانوں کے بقدر فاصلہ پر رہ گیا بلکہ اس سے بھی کم ۔
And was at a distance of two bows` length or less. means, Jibril came closer to Muhammad when Jibril was descending to him on earth. At that time, the distance between them became only two bow lengths, when the bows are extended to full length, according to Mujahid and Qatadah. It was said that the meaning here is the distance between the bow's string and its wood center. Allah's statement, أَوْ أَدْنَى (or less) indicates that the distance was as only as far described, not more. This type of usage is found in several instances in the Qur'an, such as, ثُمَّ قَسَتْ قُلُوبُكُمْ مِّن بَعْدِ ذلِكَ فَهِىَ كَالْحِجَارَةِ أَوْ أَشَدُّ قَسْوَةً Then, after that, your hearts were hardened and became as stones or even worse in hardness. (2:74) The Ayah says that their hearts became not softer than rocks, but as hard and difficult as rocks, and more. There is a similar Ayah, يَخْشَوْنَ النَّاسَ كَخَشْيَةِ اللَّهِ أَوْ أَشَدَّ خَشْيَةً fear men as they fear Allah or even more. (4:77), and Allah's statement, وَأَرْسَلْنَـهُ إِلَى مِاْيَةِ أَلْفٍ أَوْ يَزِيدُونَ And We sent him to hundred thousand (people) or even more. (37:147), indicating that they were not less than a hundred thousand, but that amount or more. Therefore, this verifies the facts mentioned, leaving no doubt or means of refute. Similarly, Allah said, فَكَانَ قَابَ قَوْسَيْنِ أَوْ أَدْنَى (And was at a distance of two bow lengths or less). We stated before that it was Jibril who came down near the Prophet, according to A'ishah, the Mother of the faithful, Abdullah bin Mas`ud, Abu Dharr and Abu Hurayrah. We will mention their statements about this soon afterwards, Allah willing. Ibn Jarir recorded that Abdullah bin Mas`ud said about this Ayah, فَكَانَ قَابَ قَوْسَيْنِ أَوْ أَدْنَى (And was at a distance of two bow lengths or less). Allah's Messenger said, رَأَيْتُ جِبْرِيلَ لَهُ سِتُّمِايَةِ جَنَاح I saw Jibril; he had six hundred wings. Al-Bukhari recorded that Talq bin Ghannam said that Za'idah said that Ash-Shaybani said, "I asked Zirr about the Ayah, فَكَانَ قَابَ قَوْسَيْنِ أَوْ أَدْنَى فَأَوْحَى إِلَى عَبْدِهِ مَا أَوْحَى And was at a distance of two bow lengths or less. So (Allah) revealed to His servant whatever He revealed. Zirr said, "Abdullah narrated to us that Muhammad saw Jibril having six hundred wings." Allah's statement, فَأَوْحَى إِلَى عَبْدِهِ مَا أَوْحَى
[٥] قَابَ (الارض) بمعنی زمین کو گول کھودنا اور قاب بمعنی مقدار، اندازہ، کمان کے کونے سے قبضہ تک کا فاصلہ۔ محاورہ ہے ھو علٰی قاب قوسین بمعنی وہ نہایت قریب ہے (منجد) اور مجاہد کہتے ہیں قاب قوسین کی عبارت میں قلب ہوا ہے یعنی اصل لفظ قابی قَوْسٍ ہے یعنی کمان کے دو کنارے (بخاری۔ کتاب التفسیر) پہلے معنی کے لحاظ سے یہ فاصلہ کمان کی تانت کا نصف اور دوسرے معنی کے لحاظ سے کمان کی تانت کے برابر فاصلہ ہے اور آیت مذکورہ میں (أوْاَدْنٰی) سے معلوم ہوا کہ اس وقت رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور جبرئیل کا درمیانی فاصلہ کمان کے دونوں کناروں سے بہرحال کم تھا۔ زیادہ نہیں تھا۔
فَكَانَ قَابَ قَوْسَيْنِ أَوْ أَدْنَىٰ (so as he was at a distance between two bows (joined together), rather even nearer....53:9). The noun qab refers to the distance between the curved handle of a bow and the tight chord that releases arrows. This distance is estimated about the length of one hand. The expression qaba qawsain is based on an ancient Arab custom, according to which when two persons pledged themselves to firm friendship, each one of them would turn the wooden part of their bows towards themselves, but they would turn the chord part towards the other. In this way when the chords of their bows were joined together, this used to be regarded as the proclamation of proximity, love and affection at the time of which the distance between the two persons would be two bows& length - approximately the length of two arms or one cubit. The expression aw adna (&rather even nearer& ) signifies that the relationship of closeness was no ordinary one, it in fact was more intimate than could be conceived. The reason for the mention of such intimacy with Jibra&il (علیہ السلام) in the above verses is to confirm that the revelation which he delivered is indubitably and truly from Allah, and he heard it with absolute accuracy in every detail: There is no room for any doubt in this. This closeness and intimacy further allays the suspicion that the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) might have not recognized Jibra&il (علیہ السلام) and that the devil might interfere.
فَكَانَ قَابَ قَوْسَيْنِ اَوْ اَدْنٰى، قاب، کمان کی لکڑی جہاں دستہ پکڑنے کا ہوتا ہے اور اس کے مقابل کمان کی ڈور (تانت) ہوتی ہے، ان دونوں کے درمیانی فاصلہ کو قاب کہا جاتا ہے، جس کا اندازہ تقریبی ایک ہاتھ سے کیا جاتا ہے، قاب قوسین، یعنی دو کمانوں کی قاب فرمانے کی وجہ عرب کی ایک خاص عادت ہے کہ دو آدمی اگر آپس میں معاہدہ صلح اور دوستی کا کرنا چاہتے تو جیسی اس کی ایک علامت ہاتھ پر ہاتھ مارنے کی معروف مشہور ہے، اسی طرح دوسری علامت جس سے دوستی کا مظاہرہ کیا جاتا تھا یہ تھی کہ دونوں شخص اپنی اپنی کمانوں کی لکڑی تو اپنی طرف کرلیتے اور کمان کی ڈور دوسرے کی طرف، اس طرح جب دونوں کمانوں کی ڈوریں آپس میں مل جاتیں تو باہمی قرب و مودت کا اعلان سمجھا جاتا تھا، اس قرب کے وقت ان دونوں شخصوں کے درمیان دونوں قوسوں کے قاب کا فاصلہ رہتا تھا، یعنی تقریباً دو ہاتھ ( یا ایک گز) اس کے بعد او ادنی کہہ کر یہ بھی بتلا دیا کہ یہ قرب و اتصال عام رسمی اتصال کی طرح نہیں تھا بلکہ اس سے بھی زیادہ تھا۔ آیات مذکورہ میں جبر ئیل کا بغایت قریب ہوجانا اس لئے بیان فرمایا گیا کہ یہ ثابت ہوجاوے کہ جو وحی انہوں نے پہنچائی ہے اس کے سننے میں کسی شک و شبہ کی گنجائش نہیں اور یہ کہ اس قرب و اتصال کی وجہ سے یہ بھی احتمال نہیں رہا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جبرئیل امین کو نہ پہچانیں اور کوئی شیطان مداخلت کرسکے۔
فَكَانَ قَابَ قَوْسَيْنِ اَوْ اَدْنٰى ٩ ۚ قاب القَابُ : ما بين المقبض والسّية من القوس . قال تعالی: فَكانَ قابَ قَوْسَيْنِ أَوْ أَدْنى[ النجم/ 9] . ( ق و ب ) قاب کے معنی کمان کے درمیانی حصہ ( مقبض ) سے لے کر ایک گوشہ کمان تک کے فاصلہ کے ہیں استعمال ہوتا ہے چناچہ فرمایا ۔ فَكانَ قابَ قَوْسَيْنِ أَوْ أَدْنى[ النجم/ 9] تو دو کھانوں کے قاب کے فاصلہ پر یا اس سے بھی کم ۔ قوس القَوْسُ : ما يرمی عنه . قال تعالی: فَكانَ قابَ قَوْسَيْنِ أَوْ أَدْنى[ النجم/ 9] ، وتصوّر منها هيئتها، فقیل للانحناء : التَّقَوُّسُ ، وقَوَّسَ الشّيخ وتَقَوَّسَ : إذا انحنی، وقَوَّسْتُ الخطّ فهو مُقَوَّسٌ ، والْمِقْوَسُ : المکان الذي يجري منه القوس، وأصله : الحبل الذي يمدّ علی هيئة قوس، فيرسل الخیل من خلفه . ( ق و س ) القوس کمان ۔ قرآن پاک میں ہے : ۔ فَكانَ قابَ قَوْسَيْنِ أَوْ أَدْنى[ النجم/ 9] تو دوکمان کے فاصلے پر یا اس سے بھی کم ۔ اور کمان کی ہیشت کذائی کے لحاظ سے تقوس بمعنی انحناء آتا ہے محاورہ ہے ۔ قوس الشیخ وتقوس : بوڑھا خمیدہ ہوگیا ۔ قوست الخط : میں نے خمیدہ خط کھینچا ۔ اور خمیدہ خط کو مقوس کہا جاتا ہے ۔ المقوس وہ جگہ جہاں سے گھوڑ دوڑ میں گھوڑے دوڑنا شروع کرتے ہیں اور اس کے اصل معنی اس یرسی کے ہیں جس سے گھوڑدوڑ میں گھوڑوں کی صف بندی کی جاتی ہے اور پھر انہیں دوڑنے کے لئے چھوڑا جاتا ہے ۔ او ادنی ۔ اس جگہ او بمعنی یا ( شکیہ) نہیں ہے بلکہ او بمعنی بل ہے جیسے کہ آیت وارسلنہ الی مائۃ الف او یزیدون (37:147) اور ہم نے ان کو ایک لاکھ بلکہ اس سے زیادہ ( لوگوں) کی طرف ّپیغمبر بنا کر) بھیجا۔ ادنی۔ افعل التفضٰل کا صیغہ واحد مذکر اقصی کے مقابلہ میں آتا ہے۔ بہت نزدیک ۔ قریب تر۔
آیت ٩{ فَکَانَ قَابَ قَوْسَیْنِ اَوْ اَدْنٰی ۔ } ” بس دو کمانوں کے برابر (فاصلہ رہ گیا) یا اس سے بھی قریب۔ “
8 That i:, "After appearing on the uppermost edge of the sky, Gabriel started advancing towards the Prophet till he reached and hung suspended about him in mid air. Then he bent down to him and came within just two bow-lengths or even closer. " The commentators generally have taken qaba qausain in the meaning of "two bow-lengths", but Hadrat `Abdullah bin `Abbas and Hadrat `Abdullah bin Mas`ud have taken qaus in the meaning of a dhira'(an amm-length, cubit), and have interpreted the words kama qaba qausain, saying that the distance between them was reduced to only two arm-lengths. And since all bows are not equal in length, the approximate distance has been expressed by "two bow-lengths away or even closer.
سورة النَّجْم حاشیہ نمبر :8 یعنی آسمان کے بالائی مشرقی کنارے سے نمودار ہونے کے بعد جبریل علیہ السلام نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف آ گے بڑھنا شروع کیا یہاں تک کہ بڑھتے بڑھتے وہ آپ کے اوپر آ کر فضا میں معلق ہو گئے ۔ پھر وہ آپ کی طرف جھکے اور اس قدر قریب ہو گئے کہ آپ کے اور ان کے درمیان صرف دو کمانوں کے برابر یا کچھ کم فاصلہ رہ گیا ۔ عام طور پر مفسرین نے قَابَ قَوْسَیْن کے معنی بقدر دو قوس ہی بیان کیے ہیں ، لیکن حضرت عبداللہ بن عباس اور حضرت عبداللہ بن مسعود نے قوس کو ذراع ( ہاتھ ) کے معنی میں لیا ہے اور کَانَ قَابَ قَوْسَیْنِ کا مطلب وہ یہ بیان کرتے ہیں کہ دونوں کے درمیان صرف دو ہاتھ کا فاصلہ رہ گیا تھا ۔ اور یہ جو فرمایا کہ فاصلہ دو کمانوں کے برابر یا اس سے کچھ کم تھا ، تو اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ معاذ اللہ فاصلے کی مقدار کے تعین میں اللہ تعالیٰ کو کوئی شک لاحق ہو گیا ہے ۔ دراصل یہ طرز بیان اس لیے اختیار کیا گیا ہے کہ تمام کمانیں لازماً ایک ہی ناپ کی نہیں ہوتیں اور ان کے حساب سے کسی فاصلے کو جب بیان کیا جائے گا تو مقدار فاصلہ میں ضرور کمی بیشی ہو گی ۔
5: یہ عربی زبان کا ایک محاورہ ہے۔ جب دو آدمی آپس میں دوستی کا عہد کرتے تھے تو اپنی کمانیں ایک دوسرے سے ملا لیتے تھے۔ اس وجہ سے جب زیادہ قرب بیان کرنا ہوتا ہے تو کہا جاتا ہے کہ وہ دو کمانوں کے فاصلے کے برابر قریب آ گئے۔
(53:9) فکان قاب قوسین : اس میں کان کا اسم محذوف ہے تقدیر کلامیوں ہے : فکان مقدار ما بینھما قاب قوسین۔ کان فعل ناقص مقدار (اسم کان محذوف) قاب قوسین خبر کان۔ قاب (ق و ب مادہ) کے معنی کمان کے درمیان والے حصہ کو کہتے ہیں۔ مقبض (مٹھ) سے لے کر ایک گوشہ کمان تک کے فاصلہ کے ہیں۔ اور قوس کی طرف اضافت کے ساتھ استعمال ہوتا ہے۔ یعنی ایک قوس کی مقدار یا فاصلہ۔ القوس : قطعۃ من الدائرۃ۔ دائرہ کے کسی حصہ کو قوس کہتے ہیں۔ القوس عام طور پر اس آلہ کو کہتے ہیں جس سے تیر پھینکے جاتے ہیں۔ الۃ علی ہیئۃ ہلال ترمی بھا السھام۔ ہلال کی شکل کا آلہ جس سے تیر پھینکے جاتے ہیں۔ قاب قوسین دو قوس کی مقدار۔ یعنی ایک کمان۔ لغات القرآن میں اس کی تشریح یوں کی گئی ہے :۔ قاب : اندازہ۔ مقدار۔ یا کمان کے قبضہ سے نوک تک کا فاصلہ ۔ یعنی آدھی کمان کی لمبائی۔ (تاج، صحاح، راغب، معجم) ۔ اہل عرب کسی مسافت کا اندازہ کرنے کے لئے مختلف الفاظ بولتے تھے۔ مثلاً کمان برابر، ایک نیزے کے برابر، ایک کوڑے کے برابر، ہاتھ بربار، بالشت برابر۔ انگلی برابر وغیرہ۔ آیت میں لفظی قلب کردیا گیا ہے اصل میں قابی قوس تھا یعنی کمان کے دو قاب برابر۔ ایک کمان کے دو قاب ہوتے ہیں۔ یعنی وسطی قبضہ سے دونوں طرف کے حصے برابر ہوتے ہیں۔ دو قاب پوری کمان کے برابر ہوگئے۔ (معجم القرآن) صاحب منتہی الارب نے بھی آیت میں لفظی قلب نقل کیا ہے۔ لیکن قاب کے عام (معنی) اندازہ و مقدار بھی لکھا ہے۔ محلی نے بھی مقدار ترجمہ کیا ہے ۔۔ لیکن عام اہل تفسیر نے لکھا ہے کہ نہ قلب مکانی کی ضرورت ہے نہ دو کمانوں کے برابر فاصلہ قرار دینے کی۔ کیونکہ اس جگہ کلام کی بناء اہل عرب کے رواج اور دستور پر ہے۔ عرب میں جب وہ شخص گہری دوستی اور ایک روح دو قالب ہونے کا پیمان باندھتے تھے تو ہر ایک اپنی مکان نکال کر لاتا تھا پھر دونوں کمانوں کو اس طرح ملا دیا جاتا تھا کہ دونوں قبضے مل جاتے تھے ، گوشے مل جاتے تھے۔ تانت مل جاتی تھی۔ گویا دونوں کمانیں جڑ کر ایک ہوجاتی تھیں۔ پھر دونوں سے ملا کر ایک تیر پھینکا جاتا تھا۔ مطلب یہ ہوتا تھا کہ ہم دونوں ان دونوں کمانوں کی طرح ایک ہوگئے۔۔ اس صورت میں حضرت جبرائیل (علیہ السلام) اور رسول مقبول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے درمیان فاصلہ ثابت ہوگا جتنا دو کمانوں کو جوڑنے کے بعد دونوں کے درمیان ہوتا ہے یعنی بالکل فاصلہ نہ رہے گا۔ دونوں کا بالکل متصل ہونا سمجھا جائے گا۔ (واللہ اعلم) او ادنی۔ اس جگہ او بمعنی یا (شکیہ) نہیں ہے بلکہ او بمعنی بل ہے جیسے کہ آیت وارسلنہ الی مائۃ الف او یزیدون (37:147) اور ہم نے ان کو ایک لاکھ بلکہ اس سے زیادہ (لوگوں) کی طرف ّپیغمبر بنا کر) بھیجا۔ ادنی۔ افعل التفضٰل کا صیغہ واحد مذکر اقصی کے مقابلہ میں آتا ہے۔ بہت نزدیک ۔ قریب تر۔