Surat ul Qamar

Surah: 54

Verse: 14

سورة القمر

تَجۡرِیۡ بِاَعۡیُنِنَا ۚ جَزَآءً لِّمَنۡ کَانَ کُفِرَ ﴿۱۴﴾

Sailing under Our observation as reward for he who had been denied.

جو ہماری آنکھوں کے سامنے چل رہی تھی ۔ بدلہ اس کی طرف سے جس کا کفر کیا گیا تھا ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

تَجْرِي بِأَعْيُنِنَا ... Floating under Our Eyes, means, `by Our command and under Our protection and observation,' ... جَزَاء لِّمَن كَانَ كُفِرَ a reward for him who had been rejected! meaning, as recompense for them because of their disbelief in Allah and as reward for Nuh, peace be upon him. Allah the Exalted said,

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[١٤] طوفان میں کشتی کا منظر :۔ جوں جوں پانی کی سطح بلند ہوتی جاتی تھی یہ کشتی خود بخود اوپر اٹھتی جاتی تھی۔ حتیٰ کہ پہاڑ تک پانی میں غرق ہوگئے۔ اس وقت سیدنا نوح (علیہ السلام) اور آپ کے ساتھیوں میں سے کسی کو بھی معلوم نہ تھا کہ ہم نے کس طرف کشتی کا رخ موڑنا ہے اور ہماری منزل کون سی ہے وہ بھی اللہ کے سہارے اس کشتی میں جانیں محفوظ کیے بیٹھے تھے اس کے علاوہ انہیں کچھ علم نہ تھا اور نیچے پانی کا سمندر بن گیا تھا۔ اللہ ہی اس کشتی کی حفاظت اور نگرانی فرما رہا تھا اور اس کے حکم سے یہ کشتی اپنا رخ بدلتی تھی۔ [١٥] اس سے مراد نوح (علیہ السلام) ہیں۔ اس کا ایک مطلب تو ترجمہ سے واضح ہے اور اگر کفر کا معنی کفران نعمت یا قدر ناشناسی لیا جائے تو مطلب یہ ہوگا کہ نوح (علیہ السلام) کی ذات ان کے درمیان اللہ کی ایک نعمت تھی جن کی وجہ سے عذاب رکا ہوا تھا اور نبی کی ناقدر شناسی کی وجہ سے ہی ان پر یہ عذاب آیا تھا۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

١۔ تجری باعینا : جب آسمان کے دروازے پانی کے ساتھ کھلنے اور زمین کے چشموں کے ساتھ پھٹ جانے سے زمین و آسمان کا پانی ایک ہوگیا تو اس پانی کی بلندی کا اندازہ کون کرسکتا ہے۔ اس کشتی میں بیٹھے ہوئے نوح (علیہ السلام) اور ان کے ساتھیوں کو کچھ معلوم نہیں کہ کدھر جانا ہے اور اسے موجوں سے کس طرح بچانا ہے ، نہ کشتی پر یا پانی پر ان کا کوئی اختیار ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں اس وقت وہ کشتی ہماری آنکھوں کے سامنے چل رہی تھی ، اس کے نگران و محافظ ہم تھے ، پھر اسے کوئی گزند کیسے پہنچ سکتا تھا۔ ٢۔ جَزَآئً لِّمَنْ کَانَ کُفِرَ : اس کے دو مطلب ہیں ، ایک یہ کہ سب کچھ اس شخص کا بدلہ لینے کی خاطر کیا گیا جس کا انکار کیا گیا اور اسے نبی تسلیم کیا گیا : ” کفر “ کا دوسرا معنی ناشکری اور نا قدر شناسی ہے ، یعنی نوح (علیہ السلام) اس قوم کے لیے اللہ تعالیٰ کی عظیم نعمت تھے اور انہوں نے اس کی قدر نہیں کی ۔ یعنی اس شخص کا انتقام لینے کی خاطر جو ایک عظیم نعمت تھا مگر اس کی قدر نہیں پہنچانی گئی۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

تَجْرِيْ بِاَعْيُنِنَا۝ ٠ ۚ جَزَاۗءً لِّمَنْ كَانَ كُفِرَ۝ ١٤ جری الجَرْي : المرّ السریع، وأصله كمرّ الماء، ولما يجري بجريه . يقال : جَرَى يَجْرِي جِرْيَة وجَرَيَاناً. قال عزّ وجل : وَهذِهِ الْأَنْهارُ تَجْرِي مِنْ تَحْتِي [ الزخرف/ 51] وقال تعالی: جَنَّاتُ عَدْنٍ تَجْرِي مِنْ تَحْتِهِمُ الْأَنْهارُ [ الكهف/ 31] ، وقال : وَلِتَجْرِيَ الْفُلْكُ [ الروم/ 46] ، وقال تعالی: فِيها عَيْنٌ جارِيَةٌ [ الغاشية/ 12] ، وقال : إِنَّا لَمَّا طَغَى الْماءُ حَمَلْناكُمْ فِي الْجارِيَةِ [ الحاقة/ 11] ، أي : السفینة التي تجري في البحر، وجمعها : جَوَارٍ ، قال عزّ وجلّ : وَلَهُ الْجَوارِ الْمُنْشَآتُ [ الرحمن/ 24] ، وقال تعالی: وَمِنْ آياتِهِ الْجَوارِ فِي الْبَحْرِ كَالْأَعْلامِ [ الشوری/ 32] ، ويقال للحوصلة : جِرِّيَّة «2» ، إمّا لانتهاء الطعام إليها في جريه، أو لأنها مجری الطعام . والإِجْرِيَّا : العادة التي يجري عليها الإنسان، والجَرِيُّ : الوکيل والرسول الجاري في الأمر، وهو أخصّ من لفظ الرسول والوکيل، وقد جَرَيْتُ جَرْياً. وقوله عليه السلام : «لا يستجرینّكم الشّيطان» يصح أن يدّعى فيه معنی الأصل . أي : لا يحملنّكم أن تجروا في ائتماره وطاعته، ويصح أن تجعله من الجري، أي : الرسول والوکيل ومعناه : لا تتولوا وکالة الشیطان ورسالته، وذلک إشارة إلى نحو قوله عزّ وجل : فَقاتِلُوا أَوْلِياءَ الشَّيْطانِ [ النساء/ 76] ، وقال عزّ وجل : إِنَّما ذلِكُمُ الشَّيْطانُ يُخَوِّفُ أَوْلِياءَهُ [ آل عمران/ 175] . ( ج ر ی ) جریٰ ( ض) جریۃ وجریا وجریا نا کے معنی تیزی سے چلنے کے ہیں ۔ اصل میں یہ لفظ پانی اور پانی کی طرح چلنے والی چیزوں کے متعلق استعمال ہوتا ہے ۔ قرآن میں ہے :۔ وَهذِهِ الْأَنْهارُ تَجْرِي مِنْ تَحْتِي [ الزخرف/ 51] اور یہ نہریں جو میرے ( محلوں کے ) نیچے بہ رہی ہیں ۔ میری نہیں ہیں ۔ جَنَّاتُ عَدْنٍ تَجْرِي مِنْ تَحْتِهِمُ الْأَنْهارُ [ الكهف/ 31] باغ ہیں جن کے نیچے نہریں بہ رہی ہیں ۔ وَلِتَجْرِيَ الْفُلْكُ [ الروم/ 46] اور تاکہ کشتیاں چلیں فِيها عَيْنٌ جارِيَةٌ [ الغاشية/ 12] اس میں چشمے بہ رہے ہوں گے اور آیت کریمہ ؛ إِنَّا لَمَّا طَغَى الْماءُ حَمَلْناكُمْ فِي الْجارِيَةِ [ الحاقة/ 11] جب پانی طغیانی پر آیا تو ہم نے تم لو گوں کو کشتی میں سوار کرلیا ۔ میں جاریۃ سے مراد کشتی ہے اس کی جمع جوار آتی ہے جیسے فرمایا ؛۔ وَلَهُ الْجَوارِ الْمُنْشَآتُ [ الرحمن/ 24] اور جہاز جو اونچے کھڑے ہوتے ہیں ۔ وَمِنْ آياتِهِ الْجَوارِ فِي الْبَحْرِ كَالْأَعْلامِ [ الشوری/ 32] اور اسی کی نشانیوں میں سے سمندر کے جہاز ہیں ( جو ) گویا یا پہاڑ ہیں ۔ اور پرند کے سنکدانہ کو جریۃ کہنے کی وجہ یہ ہے کہ کھانا چل کر وہاں پہنچتا ہے اور یا اس لئے کہ وہ طعام کا مجریٰ بنتا ہے ۔ الاجریات عاوت جس پر انسان چلتا ہے ۔ الجری وکیل ۔ یہ لفظ رسول اور وکیل سے اخص ہی ۔ اور جرمت جریا کے معنی وکیل بنا کر بھینے کے ہیں اور حدیث میں ہے :۔ یہاں یہ لفظ اپنے اصل معنی پر بھی محمول ہوسکتا ہے یعنی شیطان اپنے حکم کی بجا آوری اور اطاعت میں بہ جانے پر تمہیں بر انگیختہ نہ کرے اور یہ بھی ہوسکتا ہے ۔ کہ جری بمعنی رسول یا وکیل سے مشتق ہو اور معنی یہ ہونگے کہ شیطان کی وکالت اور رسالت کے سرپر ست مت بنو گویا یہ آیت کریمہ ؛ فَقاتِلُوا أَوْلِياءَ الشَّيْطانِ [ النساء/ 76] شیطان کے مددگاروں سے لڑو ۔ کے مضمون کی طرف اشارہ ہے اور فرمایا :إِنَّما ذلِكُمُ الشَّيْطانُ يُخَوِّفُ أَوْلِياءَهُ [ آل عمران/ 175] یہ ( خوف دلانے والا ) تو شیطان ہے جو اپنے دوستوں سے ڈرتا ہے ۔ عين ويقال لذي العَيْنِ : عَيْنٌ «3» ، وللمراعي للشیء عَيْنٌ ، وفلان بِعَيْنِي، أي : أحفظه وأراعيه، کقولک : هو بمرأى منّي ومسمع، قال : فَإِنَّكَ بِأَعْيُنِنا[ الطور/ 48] ، وقال : تَجْرِي بِأَعْيُنِنا [ القمر/ 14] ، وَاصْنَعِ الْفُلْكَ بِأَعْيُنِنا[هود/ 37] ، أي : بحیث نریونحفظ . وَلِتُصْنَعَ عَلى عَيْنِي[ طه/ 39] ، أي : بکلاء تي وحفظي . ومنه : عَيْنُ اللہ عليك أي : كنت في حفظ اللہ ورعایته، وقیل : جعل ذلک حفظته وجنوده الذین يحفظونه، وجمعه : أَعْيُنٌ وعُيُونٌ. قال تعالی: وَلا أَقُولُ لِلَّذِينَ تَزْدَرِي أَعْيُنُكُمْ [هود/ 31] ، رَبَّنا هَبْ لَنا مِنْ أَزْواجِنا وَذُرِّيَّاتِنا قُرَّةَ أَعْيُنٍ [ الفرقان/ 74] . ويستعار الْعَيْنُ لمعان هي موجودة في الجارحة بنظرات مختلفة، واستعیر للثّقب في المزادة تشبيها بها في الهيئة، وفي سيلان الماء منها فاشتقّ منها : سقاء عَيِّنٌ ومُتَعَيِّنٌ: إذا سال منها الماء، وقولهم : عَيِّنْ قربتک «1» ، أي : صبّ فيها ما ينسدّ بسیلانه آثار خرزه، وقیل للمتجسّس : عَيْنٌ تشبيها بها في نظرها، وذلک کما تسمّى المرأة فرجا، والمرکوب ظهرا، فيقال : فلان يملك كذا فرجا وکذا ظهرا لمّا کان المقصود منهما العضوین، وقیل للذّهب : عَيْنٌ تشبيها بها في كونها أفضل الجواهر، كما أنّ هذه الجارحة أفضل الجوارح ومنه قيل : أَعْيَانُ القوم لأفاضلهم، وأَعْيَانُ الإخوة : لنبي أب وأمّ ، قال بعضهم : الْعَيْنُ إذا استعمل في معنی ذات الشیء فيقال : كلّ ماله عَيْنٌ ، فکاستعمال الرّقبة في المماليك، وتسمية النّساء بالفرج من حيث إنه هو المقصود منهنّ ، ويقال لمنبع الماء : عَيْنٌ تشبيها بها لما فيها من الماء، ومن عَيْنِ الماء اشتقّ : ماء مَعِينٌ. أي : ظاهر للعیون، وعَيِّنٌ أي : سائل . قال تعالی: عَيْناً فِيها تُسَمَّى سَلْسَبِيلًا[ الإنسان/ 18] ، وَفَجَّرْنَا الْأَرْضَ عُيُوناً [ القمر/ 12] ، فِيهِما عَيْنانِ تَجْرِيانِ [ الرحمن/ 50] ، يْنانِ نَضَّاخَتانِ [ الرحمن/ 66] ، وَأَسَلْنا لَهُ عَيْنَ الْقِطْرِ [ سبأ/ 12] ، فِي جَنَّاتٍ وَعُيُونٍ [ الحجر/ 45] ، مِنْ جَنَّاتٍ وَعُيُونٍ [ الشعراء/ 57] ، وجَنَّاتٍ وَعُيُونٍ وَزُرُوعٍ [ الدخان/ 25- 26] . وعِنْتُ الرّجل : أصبت عَيْنَهُ ، نحو : رأسته وفأدته، وعِنْتُهُ : أصبته بعیني نحو سفته : أصبته بسیفي، وذلک أنه يجعل تارة من الجارحة المضروبة نحو : رأسته وفأدته، وتارة من الجارحة التي هي آلة في الضّرب فيجري مجری سفته ورمحته، وعلی نحوه في المعنيين قولهم : يديت، فإنه يقال : إذا أصبت يده، وإذا أصبته بيدك، وتقول : عِنْتُ البئر أثرت عَيْنَ مائها، قال :إِلى رَبْوَةٍ ذاتِ قَرارٍ وَمَعِينٍ [ المؤمنون/ 50] ، فَمَنْ يَأْتِيكُمْ بِماءٍ مَعِينٍ [ الملک/ 30] . وقیل : المیم فيه أصليّة، وإنما هو من : معنت «2» . وتستعار العَيْنُ للمیل في المیزان ويقال لبقر الوحش : أَعْيَنُ وعَيْنَاءُ لحسن عينه، وجمعها : عِينٌ ، وبها شبّه النّساء . قال تعالی: قاصِراتُ الطَّرْفِ عِينٌ [ الصافات/ 48] ، وَحُورٌ عِينٌ [ الواقعة/ 22] . ( ع ی ن ) العین اور عین کے معنی شخص اور کسی چیز کا محافظ کے بھی آتے ہیں اور فلان بعینی کے معنی ہیں ۔ فلاں میری حفاظت اور نگہبانی میں ہے جیسا کہ ھو بمر ا ئ منی ومسمع کا محاورہ ہے ۔ قرآن پاک میں ہے : ۔ فَإِنَّكَ بِأَعْيُنِنا[ الطور/ 48] تم تو ہماری آنکھوں کے سامنے ہو ۔ وہ ہماری آنکھوں کے سامنے چلتی تھی ۔ وَلِتُصْنَعَ عَلى عَيْنِي[ طه/ 39] اور اس لئے کہ تم میرے سامنے پر دریش پاؤ ۔ اور اسی سے عین اللہ علیک ہے جس کے معنی ہیں اللہ تعالیٰ تمہاری حفاظت اور نگہداشت فرمائے یا اللہ تعالیٰ تم پر اپنے نگہبان فرشتے مقرر کرے جو تمہاری حفاظت کریں اور اعین وعیون دونوں عین کی جمع ہیں ۔ قرآن پاک میں ہے : ۔ وَلا أَقُولُ لِلَّذِينَ تَزْدَرِي أَعْيُنُكُمْ [هود/ 31] ، اور نہ ان کی نسبت جن کو تم حقارت کی نظر سے دیکھتے ہو یہ کہتا ہوں کہ ۔ رَبَّنا هَبْ لَنا مِنْ أَزْواجِنا وَذُرِّيَّاتِنا قُرَّةَ أَعْيُنٍ [ الفرقان/ 74] اے ہمارے پروردگار ہم کو ہماری بیویوں کی طرف سے آ نکھ کی ٹھنڈک عطا فرما ۔ اور استعارہ کے طور پر عین کا لفظ کئی معنوں میں استعمال ہوتا ہے جو مختلف اعتبارات سے آنکھ میں پائے جاتے ہیں ۔ مشکیزہ کے سوراخ کو عین کہا جاتا ہے کیونکہ وہ ہیئت اور اس سے پانی بہنے کے اعتبار سے آنکھ کے مشابہ ہوتا ہے ۔ پھر اس سے اشتقاق کے ساتھ کہا جاتا ہے ۔ سقاء عین ومعین پانی کی مشک جس سے پانی ٹپکتا ہو عین قر بتک اپنی نئی مشک میں پانی ڈالواتا کہ تر ہو کر اس میں سلائی کے سوراخ بھر جائیں ، جاسوس کو عین کہا جاتا ہے کیونکہ وہ دشمن پر آنکھ لگائے رہتا ہے جس طرح کو عورت کو فرج اور سواری کو ظھر کہا جاتا ہے کیونکہ ان دونوں سے مقصود یہی دو چیزیں ہوتی ہیں چناچنہ محاورہ ہے فلان یملک کذا فرجا وکذا ظھرا ( فلاں کے پاس اس قدر لونڈ یاں اور اتنی سواریاں ہیں ۔ (3) عین بمعنی سونا بھی آتا ہے کیونکہ جو جواہر میں افضل سمجھا جاتا ہے جیسا کہ اعضاء میں آنکھ سب سے افضل ہوتی ہے اور ماں باپ دونوں کی طرف سے حقیقی بھائیوں کو اعیان الاخوۃ کہاجاتا ہے ۔ (4) بعض نے کہا ہے کہ عین کا لفظ جب ذات شے کے معنی میں استعمال ہوجی سے کل مالہ عین تو یہ معنی مجاز ہی ہوگا جیسا کہ غلام کو رقبۃ ( گردن ) کہہ دیا جاتا ہے اور عورت کو فرج ( شرمگاہ ) کہہ دیتے ہیں کیونکہ عورت سے مقصود ہی یہی جگہ ہوتی ہے ۔ (5) پانی کے چشمہ کو بھی عین کہاجاتا ہے ۔ کیونکہ اس سے پانی ابلتا ہے جس طرح کہ آنکھ سے آنسو جاری ہوتے ہیں اور عین الماء سے ماء معین کا محاورہ لیا گیا ہے جس کے معنی جاری پانی کے میں جو صاف طور پر چلتا ہوا دکھائی دے ۔ اور عین کے معنی جاری چشمہ کے ہیں ۔ چناچہ فرمایا : عَيْناً فِيها تُسَمَّى سَلْسَبِيلًا[ الإنسان/ 18] یہ بہشت میں ایک چشمہ ہے جس کا نام سلسبیل ہے ۔ وَفَجَّرْنَا الْأَرْضَ عُيُوناً [ القمر/ 12] اور زمین میں چشمے جاری کردیئے ۔ فِيهِما عَيْنانِ تَجْرِيانِ [ الرحمن/ 50] ان میں دو چشمے بہ رہے ہیں ۔ يْنانِ نَضَّاخَتانِ [ الرحمن/ 66] دو چشمے ابل رہے ہیں ۔ وَأَسَلْنا لَهُ عَيْنَ الْقِطْرِ [ سبأ/ 12] اور ان کیلئے ہم نے تانبے کا چشمہ بہا دیا تھا ۔ فِي جَنَّاتٍ وَعُيُونٍ [ الحجر/ 45] باغ اور چشموں میں ۔ مِنْ جَنَّاتٍ وَعُيُونٍ [ الشعراء/ 57] باغ اور چشمے اور کھیتیاں ۔ عنت الرجل کے معنی ہیں میں نے اس کی آنکھ پر مارا جیسے راستہ کے معنی ہوتے ہیں میں نے اس کے سر پر مارا فادتہ میں نے اس کے دل پر مارا نیز عنتہ کے معنی ہیں میں نے اسے نظر بد لگادی جیسے سفتہ کے معنی ہیں میں نے اسے تلوار سے مارا یہ اس لئے کہ اہل عرب کبھی تو اس عضو سے فعل مشتق کرتے ہیں جس پر مارا جاتا ہے اور کبھی اس چیز سے جو مار نے کا آلہ ہوتی ہے جیسے سفتہ ورمحتہ چناچہ یدیتہ کا لفظ ان ہر دومعنی میں استعمال ہوتا ہے یعنی میں نے اسے ہاتھ سے مارا یا اس کے ہاتھ پر مارا اور عنت البئر کے معنی ہیں کنواں کھودتے کھودتے اس کے چشمہ تک پہنچ گیا قرآن پاک میں ہے :إِلى رَبْوَةٍ ذاتِ قَرارٍ وَمَعِينٍ [ المؤمنون/ 50] ایک اونچی جگہ پر جو رہنے کے لائق تھی اور ہوا پانی جاری تھا ۔ فَمَنْ يَأْتِيكُمْ بِماءٍ مَعِينٍ [ الملک/ 30] تو ( سوائے خدا کے ) کون ہے جو تمہارے لئے شیریں پال کا چشمہ بہالائے ۔ بعض نے کہا ہے کہ معین میں لفظ میم حروف اصلیہ سے ہے اور یہ معنت سے مشتق ہے جسکے معنی ہیں کسی چیز کا سہولت سے چلنا یا بہنا اور پر بھی بولا جاتا ہے اور وحشی گائے کو آنکھ کی خوب صورتی کہ وجہ سے اعین دعیناء کہاجاتا ہے اس کی جمع عین سے پھر گاواں وحشی کے ساتھ تشبیہ دے کر خوبصورت عورتوں کو بھی عین کہاجاتا ہے ۔ قرآن پاک میں ہے : قاصِراتُ الطَّرْفِ عِينٌ [ الصافات/ 48] جو نگاہیں نیچی رکھتی ہوں ( اور ) آنکھیں بڑی بڑی ۔ وَحُورٌ عِينٌ [ الواقعة/ 22] اور بڑی بڑی آنکھوں والی حوریں ۔ كفر الكُفْرُ في اللّغة : ستر الشیء، ووصف اللیل بِالْكَافِرِ لستره الأشخاص، والزّرّاع لستره البذر في الأرض، وأعظم الكُفْرِ : جحود الوحدانيّة أو الشریعة أو النّبوّة، والکُفْرَانُ في جحود النّعمة أكثر استعمالا، والکُفْرُ في الدّين أكثر، والکُفُورُ فيهما جمیعا قال : فَأَبَى الظَّالِمُونَ إِلَّا كُفُوراً [ الإسراء/ 99] ( ک ف ر ) الکفر اصل میں کفر کے معنی کیس چیز کو چھپانے کے ہیں ۔ اور رات کو کافر کہا جاتا ہے کیونکہ وہ تمام چیزوں کو چھپا لیتی ہے ۔ اسی طرح کا شتکار چونکہ زمین کے اندر بیچ کو چھپاتا ہے ۔ اس لئے اسے بھی کافر کہا جاتا ہے ۔ اور سب سے بڑا کفر اللہ تعالیٰ کی وحدانیت یا شریعت حقہ یا نبوات کا انکار ہے ۔ پھر کفران کا لفظ زیادہ نعمت کا انکار کرنے کے معنی ہیں استعمال ہوتا ہے ۔ اور کفر کا لفظ انکار یہ دین کے معنی میں اور کفور کا لفظ دونوں قسم کے انکار پر بولا جاتا ہے ۔ چناچہ قرآن میں ہے : ۔ فَأَبَى الظَّالِمُونَ إِلَّا كُفُوراً [ الإسراء/ 99] تو ظالموں نے انکار کرنے کے سوا اسے قبول نہ کیا ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ١٤ { تَجْرِیْ بِاَعْیُنِنَا } ” جو چل رہی تھی ہماری نگاہوں کے سامنے۔ “ وہ کشتی ہماری نگرانی اور حفاظت میں چل رہی تھی۔ { جَزَآئً لِّمَنْ کَانَ کُفِرَ ۔ } ” یہ بدلہ تھا اس شخص کے لیے جس کی ناقدری کی گئی تھی۔ “ یوں ہم نے اپنے بندے نوح (علیہ السلام) کی قدر افزائی فرمائی جس کی قوم نے اسے ٹھکرا دیا تھا۔ اس کشتی کے ذریعے ہم نے اسے اور اس کے اہل ایمان ساتھیوں کو سیلاب سے محفوظ رکھا۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

13 Literally: "This was a vengeance for the sake of him whose kufr had been committed." If kufr be taken in the sense of denial, it would mean: "Whose message had been denied and rejected; " and if it is taken in the meaning of ingratitude for a blessing, it would mean: 'Who was indeed a blessing for the people, but had been ungratefully rejected.'

سورة الْقَمَر حاشیہ نمبر :13 اصل الفاظ ہیں جَزَاءً لِّمَنْ کَانَ کُفِرَ ، یعنی یہ سب کچھ اس شخص کی خاطر بدلہ لینے کے لیے کیا گیا جس کا کفر کیا گیا تھا ۔ کفر اگر انکار کے معنی میں ہو تو مطلب یہ ہو گا کہ جس کی بات ماننے سے انکار کیا گیا تھا اور اگر اسے کفران نعمت کے معنی میں لیا جائے تو مطلب یہ ہو گا کہ جس کا وجود ایک نعمت تھا مگر اس کی ناقدری کی گئی تھی ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(54:14) تجری : مضارع واحد مؤنث غائب۔ جری وجریان (باب ضرب) مصدر۔ بمعنی تیز گزرنا۔ پانی کی طرح بہنا۔ اس کا فاعل کشتی ہے (ذات الواح) ۔ یعنی جو چلتی ہے۔ یہ بہتی ہے۔ جو جاری ہے۔ باعیننا : ای بحفظنا۔ ہماری نظروں کے سامنے، ہماری حفاظت میں ۔ ضمیر تجری سے حال ہے۔ جزاء لمن کان کفر : ای فعلنا ذلک جزاء لنوح لانہ نعمۃ کفروھا فان کل نبی نعمۃ من اللہ (بیضاوی) ہم نے یہ اس شخص کا بدلہ لینے کے لئے کیا جو ایک نعمت تھا جس نعمت کی بےقدری کی گئی ۔ کیونکہ ہر نبی اللہ کی طرف سے ایک نعمت ہوتا ہے۔ (حضرت نوح (علیہ السلام) بھی اپنی قوم کے لئے اللہ کی نعمت تھے لیکن اس نعمت کا قوم کی طرف سے کفران کیا گیا ۔ جس کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے قوم نوح کو طوفان میں غرق کردیا اور نوح (علیہ السلام) کو کشتی میں سوار کر کے بچا لیا۔ جزاء (باب ضرب) مصدر ہے۔ جزا دینا۔ بدلہ دینا۔ خبر کے بدلے خیر اور شر کے بدلے میں شر ” جزائ “ کہلاتا ہے۔ یہاں جزاء بطور مفعول لہ مستعمل ہے لہٰذا منصوب آیا ہے۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 8 یعنی جس کی رسالت ان کے لئے ایک نعمت تھی لیکن انہوں نے اس کی قدر نہ کی۔ مراد حضرت نوح ہیں۔

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

3۔ مراد نوح (علیہ السلام) ہیں، اور چونکہ رسول اور اللہ تعالیٰ کے حقوق میں تلازم ہے اس میں فکر باللہ بھی آگیا۔

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

جزاء لمن کان کفر ” اس شخص کے بدلہ کی خاطر جس کی ناقدری کی گئی “ اس کی دعوت کا انکار کیا گیا بلکہ الصا اس کو جھڑکیاں دی گئی۔ ان لوگوں نے نبی پر مظالم ڈھائے۔ یہ اس کی سزا ہے۔ انہوں نے نبی کے ساتھ مذاق کیا۔ اللہ نے اسے یہ اعزاز دیا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے جس شخص کو اللہ کی راہ میں بےبس کردیا جائے اس کی حمایت میں اللہ کی قوتیں کس طرح کام کرتی ہیں اور جو شخص اپنا کام پورا کرکے اور اپنی پوری قوت لگا کر جب معاملہ اللہ کے حوالے کرتا ہے تو پھر اللہ کس طرح بدلہ لیتا ہے۔ اس کائنات کی پوری قوتیں اس کی نصرت میں اٹھ جاتی ہیں اور ان قوتوں کی پشت پر اللہ اپنی قدرت اور جبروت کے ساتھ موجود ہوتا ہے۔ اس ہولناک انتقام کے منظر کے اختتام پر اور اس فیصلہ کن انجام پر ان لوگوں کو متوجہ کیا جاتا ہے جنہوں نے اپنی آنکھوں سے یہ منظر دیکھا کہ ذرا ان واقعات سے عبرت لو ، یہ اس لئے کہ شاید وہ متاثر ہوکر دعوت حق کو قبول کرلیں۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(14) وہ کشتی ہماری حفاظت و نگرانی میں اور ہماری آنکھوں کے سامنے چلتی تھی یہ سب کچھ اس شخص کا بدلا لینے کے لئے کیا گیا جس کی بےقدری کی گئی تھی تفصیل سورة ہود میں گزر چکی ہے۔ تجری باعیننا کا مطلب یہ ہے کہ ہماری حفاظت میں جاری تھی گویا کشتی بنی بھی حضرت حق کی نگرانی میں جیسا کہ فرمایا واصنح الفلک باعیننا اور چلتی بھی رہی نگرانی میں جیسا کہ فرمایا تجری بایننا یہاں ایک اور بات کا بھی اظہار فرمایا جزآء ملن کان کفر یعنی یہ طوفان کا آنا نور قوم نوح (علیہ السلام) کا غرق کرنا یہ سب اس شخص کی ناقدری حق ناشناسی اور بےقدری کا بدلا تھا جس کی قدر نہ پہچانی اور اس کی بےقدری اور اس کا انکار کیا گیا۔ یعنی حضرت نوح (علیہ السلام) کی بےعزتی اور تذلیل اور نافرمانی کا انتقام اور بدلا لینا تھا۔ اس سے معلوم ہوا کہ اللہ والوں کی اذیت اور تذلیل کا بدلا لیا جاتا ہے اور یہ ظاہر ہے کہ نوح (علیہ السلام) اللہ تعالیٰ کے پیغمبر تھے ان کی بےقدری کا انتقام کفر باللہ کا انتقام تھا پس نوح (علیہ السلام) کی بےعزتی اور اللہ تعالیٰ کے ساتھ کفر سب کا ہی انتقام لیا گیا۔ اس سے معلوم ہوا کہ اللہ والوں کی اذیت اور تذلیل کا بدلا لیا جاتا ہے اور یہ ظاہر ہے کہ نوح (علیہ السلام) اللہ تعالیٰ کے پیغمبر تھے ان کی بےقدری کا انتقام کفر باللہ کا انتقام تھا پس نوح (علیہ السلام) کی بےعزتی اور اللہ تعالیٰ کے ساتھ کفر سب کا ہی انتقام لیا گیا۔