Surat ul Qamar

Surah: 54

Verse: 17

سورة القمر

وَ لَقَدۡ یَسَّرۡنَا الۡقُرۡاٰنَ لِلذِّکۡرِ فَہَلۡ مِنۡ مُّدَّکِرٍ ﴿۱۷﴾

And We have certainly made the Qur'an easy for remembrance, so is there any who will remember?

اور بیشک ہم نے قرآن کو سمجھنے کے لئے آسان کر دیا ہے پس کیا کوئی نصیحت حاصل کرنے والا ہے؟

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

وَلَقَدْ يَسَّرْنَا الْقُرْانَ لِلذِّكْرِ ... And We have indeed made the Qur'an easy to understand and remember; meaning, `We have made the Qur'an easy to recite and comprehend for those who seek these traits, to remind mankind,' as Allah said, كِتَـبٌ أَنزَلْنَـهُ إِلَيْكَ مُبَـرَكٌ لِّيَدَّبَّرُواْ ءَايَـتِهِ وَلِيَتَذَكَّرَ أُوْلُو الاٌّلْبَـبِ (This is) a Book which We have sent down to you, full of blessings, that they may ponder over its Ayat, and that men of understanding may remember. (38:29), فَإِنَّمَا يَسَّرْنَـهُ بِلَسَانِكَ لِتُبَشِّرَ بِهِ الْمُتَّقِينَ وَتُنْذِرَ بِهِ قَوْماً لُّدّاً So We have made this (the Qur'an) easy in your own tongue, only that you may give glad tidings to those who have Taqwa and warn with it the most quarrelsome people. (19:97) Allah said, ... فَهَلْ مِن مُّدَّكِرٍ then is there any that will remember, meaning, `is there anyone who will remember through this Qur'an, which We made easy to memorize and easy to understand?' Muhammad bin Ka`b Al-Qurazi commented on this Ayah, "Is there anyone who will avoid evil?"

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

17۔ 1 یعنی اس کے مطلب اور معانی کو سمجھنا، اس سے عبرت و نصیحت حاصل کرنا اور اسے زبانی یاد کرنا ہم نے آسان کردیا، اسی طرح یہ دنیا کی واحد کتاب ہے، جو لفظ بہ لفظ یاد کرلی جاتی ہے ورنہ چھوٹی سی کتاب کو بھی اس طرح یاد کرلینا اور اسے یاد رکھنا نہایت مشکل ہے

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[١٧] قرآن کی خوبیاں اور آسان زبان :۔ یہ اللہ کا بڑا فضل اور احسان ہے کہ اس نے اپنے کلام کو آسان اور سہل بنادیا ہے۔ اس میں دی گئی مثالیں تشبیہات مناظر قدرت، دلائل اور انداز بیان سادہ اور عام فہم ہیں اس لیے کہ اس کے اولین مخاطب امی لوگ تھے۔ لکھے پڑھے عالم فاضل لوگ نہیں تھے۔ یہ کسی فلسفے یا منطق کی کتاب بھی نہیں جس کی عبارت پیچیدہ اور مغلق ہو۔ اللہ تعالیٰ نے واضح طور پر بتادیا کہ ہم نے اس کتاب میں کوئی پیچیدگی نہیں رکھی۔ (٨: ١١) نیز اس میں محض خیالی فلسفے نہیں بلکہ ایسی ہدایات دی گئی ہیں جن سے انسان کی عملی زندگی کا تعلق ہوتا ہے اور ہر شخص اسے سمجھ سکتا ہے اور ہدایت حاصل کرنا چاہے تو کرسکتا ہے۔ علاوہ ازیں شعر نہ ہونے کے باوجود اس میں موزونیت اور تاثیر شعر سے زیادہ ہے اسی وجہ سے اس کو حفظ کرنا آسان ہے اور ہر چھوٹا بڑا عربی عجمی اسے تھوڑی سی محنت سے حفظ کرلیتا ہے۔ اسی وجہ سے قرآن کے حافظ ہر دور میں لاکھوں کی تعداد میں رہے ہیں۔ پھر اس کی ایک اور حیثیت یہ ہے کہ اس کے اولین مخاطب تو امی ہیں۔ لیکن خطاب کرنے والی وہ ہستی ہے جو سب سے بڑھ کر علیم و حکیم ہے جس سے اس میں دو گونہ خوبیاں پیدا ہوگئیں ایک یہ کہ مبتدی اور منتہی دونوں اس کلام سے ایک جیسے مستفید ہوتے ہیں اور اپنی اپنی علمی سطح کے مطابق اس سے استفادہ اور ہدایت حاصل کرسکتے ہیں اور دوسری یہ کہ اللہ تعالیٰ کے آسان انداز بیان اختیار کرنے کے باوجود اس کلام میں لاتعداد اسرار اور حکمتیں پوشیدہ ہیں جو باربار پڑھنے اور غور کرنے سے منکشف ہوتی چلی جاتی ہیں۔ جیسا کہ رسول اللہ نے خود لا تنقضی عجائبہ کہہ کر ان باتوں کی طرف اشارہ فرما دیا : یعنی قرآن ایسی کتاب ہے جس کے عجائب ختم ہونے میں آہی نہیں سکتے۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

وَ لَقَدْ یَسَّرْنَا الْقُرْاٰنَ لِلذِّکْرِ ۔۔۔۔۔ یعنی ہم نے قرآن کو نصیحت کے لیے آسان کردیا ہے ، اس کے الفاظ آسان ہیں ، معنی بھی آسان ہے ، نہ پڑھنے میں دقت ہے نہ سمجھنے میں ، تو کیا کوئی ہے جو اس سے نصیحت حاصل کرے اور نافرمانی سے باز آجائے ؟ اس میں قرآن مجید پڑھنے ، پڑھانے ، سمجھنے ، سمجھانے اور اس سے نصیحت حاصل کرنے کی ترغیب ہے۔ اس کے باوجود مسلمانوں میں بہت سے لوگ وہ ہیں جن کا کہنا ہے کہ قرآن و حدیث کو سمجھنا ہر شخص کا کام نہیں ، یہ بڑے بڑے عالم و فاضل لوگوں کا کام ہے ، جو چودہ یا اکیس علوم پڑھے ہوئے ہوں ۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ ساری عمر متعدد مشکل سے مشکل علوم و فنون پڑھتے رہتے ہیں ، مگر قرآن کے قریب نہیں جاتے ، اپنے چودہ یا اکیس علوم پورے کرتے کرتے ہی دنیا سے گزر جاتے ہیں ۔ کئی تو ایسے ظالم ہیں ، جو کہتے ہیں کہ عالم آدمی کے لیے قرآن کا ترجمہ پڑھنا ممنوع ہے، کیونکہ اس سے گمراہی کا خطرہ ہے۔ حالانکہ قرآن مجید عربی مبین میں اترا اور لوگوں کی ہدایت کے لیے اترا ، ہر عام و خاص اور عالم و جاہل عرب نے اسے سنا ، سمجھا، اس پر عمل کیا اور آگے پہنچایا ۔ ہماری زبان اردو میں قرآن مجید کے تقریباًستر (٧٠) فیصد الفاظ موجود ہیں ، تھوڑی سی توجہ کے ساتھ ہر آدمی قرآن کا ترجمہ سمجھ سکتا ہے۔ مگر جن لوگوں نے قرآن و حدیث کے مقابلے میں نیا دین بنا لیا اور توحید کے مقابلے میں شرک اور سنت کے مقابلے میں بدعت کو اختیار کرلیا ہے ، ان کی پوری کوشش ہے کہ لوگ اس قرآن مجید اور حدی سے آگاہ نہ ہوجائیں ، ورنہ وہ ان کے نیچے سے نکل جائیں گے۔ اللہ تعالیٰ ہدایت دے اور مسلمانوں کو قرآن و سنت کی طرف پلٹنے کی توفیق عطاء فرمائے۔ ٢۔ قرآن مجید کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے آسان کیے جانے کا ایک کرشمہ اور معجزہ یہ ہے کہ یہ سہولت کے ساتھ حفظ ہوجاتا ہے۔ دنیا میں کوئی کتاب نہیں جس کے ہزاروں لاکھوں حافظ ہر زمانے میں پائے گئے ہوں اور یہ بھی اللہ تعالیٰ کا غیبی تصرف ہے کہ اس نے اپنی کتاب کی حاظت کے لیے مسلمانوں کے دلوں میں اس کے حفظ کا شوق رکھ دیا ہے ، گناہ گار سے گناہ گار مسلمانوں کی بھی خواہش ہوتی ہے کہ اس کا بچہ قرآن کا حافظ ہے۔ کمیونسٹوں نے اپنے زیر تسلط ملکوں میں قرآن کو مٹانے کی کوشش جتنی کرسکتے تھے کی ، مگر مسلمانوں نے اپنے گھروں کی تہہ خانوں میں کمیونسٹ جاسوسوں سے چھپ کر حفظ قرآن کا سلسلہ جاری رکھا ، جس کی برکت یہ ہوئی کہ کمیونسٹ قرآن کو مٹانے میں بری طرح ناکام ہوئے۔ اس وقت بھی دنیا میں قرآن کے حافظ لاکھوں کی تعداد میں موجود ہیں۔ ( والحمد للہ) مزید دیکھئے سورة ٔ عنکبوت (٤٩) کی تفسیر ۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

وَلَقَدْ يَسَّرْ‌نَا الْقُرْ‌آنَ لِلذِّكْرِ‌ فَهَلْ مِن مُّدَّكِرٍ‌ (And indeed We have made the Qur&an easy for seeking advice. So, is there one to seek advice?....54:17). The word dhikr in the prepositional phrase &lidh-dhikr& has several shades of meaning: to remember or memorize or by-heart; and to take heed of admonition and warnings. Both these meanings are equally applicable here. Allah has made it easy to memorize the Holy Qur&an. The followers of the previous scriptures were not privileged to memorize their entire book, word by word - whether Torah, Injil or Zabur. It is one of the privileges conferred on Muslims that He has made it easy, even for the tender-aged children, to commit the entire Qur&an to memory, word for word, without missing out a single letter. The Qur&an is preserved in the hearts of hundreds of thousands of Huffaz for the past fourteen hundred years in every age, people and their children of every level, in every region or territory of the world. The verse could also mean that Allah has made the Qur&an so simple that just as an intellectual and knowledgeable person benefits from its contents, so does a layman, having no expertise in relevant sciences. He too can benefit from its admonition and warnings (at his own level). Qur’ an is Made Simple to Memorize and to Take Heed; Not for Ijtihad or Istinbat In this verse the verb یَسَّرنَا yassarna [ We have made easy ] is qualified by the prepositional phrase لِلذِّکرِ lidh-dhikri [ for seeking advice ]. This implies that the Qur&an has been made easy to the extent of memorizing it and paying heed to its advice and warnings, from which all can benefit -whether a learned scholar or an unlearned person, whether young or old. This does not necessarily imply that derivation or deduction of laws and injunctions from the Qur&an is easy for everybody. Ijtihad or Istinbat (deduction) of injunctions from the Qur&an is a science, having its own complex rules. Scholars well-grounded in knowledge have spent years of their life to attain to the position where they could exercise Ijtihad and Istinbat. It is not a field where every ordinary person or layman can play his role. This indicates the error of some of the deviant people who, on the strength of this statement, wish to pose as mujtahid and derive laws and injunctions with their own reasoning, without acquiring complete and profound knowledge of the Qur&an, and without fully grasping its methodological principles and rules. This is clear deviation!

وَلَقَدْ يَسَّرْنَا الْقُرْاٰنَ للذِّكْرِ فَهَلْ مِنْ مُّدَّكِرٍ ، للذکر، ذکر کے معنی یاد کرنے اور حفظ کرنے کے بھی آتے ہیں اور کسی کلام سے نصیحت و عبرت حاصل کرنے کے بھی، یہ دونوں معنی یہاں مراد ہو سکتے ہیں کہ حق تعالیٰ نے قرآن کریم کو حفظ کرنے کے لئے آسان کردیا، یہ بات اس سے پہلے کسی کتاب کو حاصل نہیں ہوئی کہ پوری کتاب تورات یا انجیل یا زبور لوگوں کو برزباں یاد ہو اور یہ حق تعالیٰ ہی کی تفسیر اور آسانی کا اثر ہے کہ مسلمانوں کے چھوٹے چھوٹے بچے پورے قرآن کو ایسا حفظ کرلیتے ہیں کہ ایک زیر زبر کا فرق نہیں آتا، چودہ سو برس سے ہر زمانہ ہر طبقے ہر خطے میں ہزاروں لاکھوں حافظوں کے سینوں میں یہ اللہ کی کتاب محفوظ ہے۔ اور یہ معنی بھی ہو سکتے ہیں کہ قرآن کریم نے اپنے مضامین عبرت و نصیحت کو ایسا آسان کر کے بیان کیا ہے کہ جس طرح بڑے سے بڑا عالم و ماہر، فلسفی اور حکیم اس سے فائدہ اٹھاتا ہے، اسی طرح ہر عالم جاہل جس کو علوم سے کوئی مناسبت نہ ہو وہ بھی عبرت و نصیحت کے مضامین قرآنی کو سمجھ کر اس سے متاثر ہوتا ہے۔ حفظ کرنے کیلئے قرآن کو آسان کیا گیا ہے نہ کہ اجہتاد اور استباط احکام کیلئے : اس آیت میں یسرنا کے ساتھ للذکر کی قید لگا کر یہ بھی بتلا دیا گیا ہے کہ قرآن کو حفظ کرنے اور اس کے مضامین سے عبرت و نصیحت حاصل کرنے کی حد تک اس کو آسان کردیا گیا ہے، جس سے ہر عالم و جاہل، چھوٹا اور بڑا یکساں فائدہ اٹھا سکتا ہے، اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ قرآن کریم سے مسائل اور احکام کا استنباط بھی ایسا ہی آسان ہو، وہ اپنی جگہ ایک مستقل اور مشکل فن ہے جس میں عمریں صرف کرنے والے علماء راسخین کو ہی حصہ ملتا ہے ہر ایک کا وہ میدان نہیں۔ اس سے ان لوگوں کی غلطی واضح ہوگئی جو قرآن کریم کے اس جملے کا سہارا لے کر قرآن کی مکمل تعلیم، اس کے اصول و قواعد سے حاصل کئے بغیر مجہتد بننا اور اپنی رائے سے احکام و مسائل کا استخراج کرنا چاہتے ہیں کہ وہ کھلی گمراہی کا راستہ ہے۔

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

وَلَقَدْ يَسَّرْنَا الْقُرْاٰنَ لِلذِّكْرِ فَہَلْ مِنْ مُّدَّكِرٍ۝ ١٧ يسر اليُسْرُ : ضدّ العسر . قال تعالی: يُرِيدُ اللَّهُ بِكُمُ الْيُسْرَ وَلا يُرِيدُ بِكُمُ الْعُسْرَ [ البقرة/ 185] ، سَيَجْعَلُ اللَّهُ بَعْدَ عُسْرٍ يُسْراً [ الطلاق/ 7] ، وَسَنَقُولُ لَهُ مِنْ أَمْرِنا يُسْراً [ الكهف/ 88] ، فَالْجارِياتِ يُسْراً [ الذاریات/ 3] وتَيَسَّرَ كذا واسْتَيْسَرَ أي تسهّل، قال : فَإِنْ أُحْصِرْتُمْ فَمَا اسْتَيْسَرَ مِنَ الْهَدْيِ [ البقرة/ 196] ، فَاقْرَؤُا ما تَيَسَّرَ مِنْهُ [ المزمل/ 20] أي : تسهّل وتهيّأ، ومنه : أَيْسَرَتِ المرأةُ ، وتَيَسَّرَتْ في كذا . أي : سهَّلته وهيّأته، قال تعالی: وَلَقَدْ يَسَّرْنَا الْقُرْآنَ لِلذِّكْرِ [ القمر/ 17] ، فَإِنَّما يَسَّرْناهُ بِلِسانِكَ [ مریم/ 97] واليُسْرَى: السّهل، وقوله : فَسَنُيَسِّرُهُ لِلْيُسْرى[ اللیل/ 7] ، فَسَنُيَسِّرُهُ لِلْعُسْرى [ اللیل/ 10] فهذا۔ وإن کان قد أعاره لفظ التَّيْسِيرِ- فهو علی حسب ما قال عزّ وجلّ : فَبَشِّرْهُمْ بِعَذابٍ أَلِيمٍ [ آل عمران/ 21] . واليَسِيرُ والمَيْسُورُ : السّهلُ ، قال تعالی: فَقُلْ لَهُمْ قَوْلًا مَيْسُوراً [ الإسراء/ 28] واليَسِيرُ يقال في الشیء القلیل، فعلی الأوّل يحمل قوله : يُضاعَفْ لَهَا الْعَذابُ ضِعْفَيْنِ وَكانَ ذلِكَ عَلَى اللَّهِ يَسِيراً [ الأحزاب/ 30] ، وقوله : إِنَّ ذلِكَ عَلَى اللَّهِ يَسِيرٌ [ الحج/ 70] . وعلی الثاني يحمل قوله : وَما تَلَبَّثُوا بِها إِلَّا يَسِيراً [ الأحزاب/ 14] والمَيْسَرَةُ واليَسَارُ عبارةٌ عن الغنی. قال تعالی: فَنَظِرَةٌ إِلى مَيْسَرَةٍ [ البقرة/ 280] واليَسَارُ أختُ الیمین، وقیل : اليِسَارُ بالکسر، واليَسَرَاتُ : القوائمُ الخِفافُ ، ومن اليُسْرِ المَيْسِرُ. ( ی س ر ) الیسر کے معنی آسانی ار سہولت کے ہیں یہ عسر کی ضد ہے ۔ قرآن پاک میں ہے : ۔ يُرِيدُ اللَّهُ بِكُمُ الْيُسْرَ وَلا يُرِيدُ بِكُمُ الْعُسْرَ [ البقرة/ 185] خدا تمہارے حق میں آسانی چاہتا ہے ۔ اور سختی نہیں چاہتا ۔ سَيَجْعَلُ اللَّهُ بَعْدَ عُسْرٍ يُسْراً [ الطلاق/ 7] خدا عنقریب تنگی کے بعد کشائش بخشے گا ۔ وَسَنَقُولُ لَهُ مِنْ أَمْرِنا يُسْراً [ الكهف/ 88] بلکہ اس سے نرم بات کہیں گے ۔ فَالْجارِياتِ يُسْراً [ الذاریات/ 3] پھر نر می سے چلتی ہیں ۔ تیسر کذا واستیسرکے معنی آسان ہو نیکے ہیں ۔ قرآن پاک میں ہے : ۔ فَإِنْ أُحْصِرْتُمْ فَمَا اسْتَيْسَرَ مِنَ الْهَدْيِ [ البقرة/ 196] اگر رستے میں روک لئے جاؤ تو جیسی قربانی میسر ہو کردو ۔ فَاقْرَؤُا ما تَيَسَّرَ مِنْهُ [ المزمل/ 20] تو جتنا آسانی سے ہو سکے پڑھ لیا کرو ۔ اسی سے الیسرت المرءۃ کا محاورہ ہے جس کے معنی عورت کے سہولت سے بچہ جننے کے ہیں ۔ یسرت کذا کے معنی کسی کام آسان اور سہل کردینے کے ہیں چناچہ قرآن پاک میں ہے : ۔ وَلَقَدْ يَسَّرْنَا الْقُرْآنَ لِلذِّكْرِ [ القمر/ 17] اور ہم نے قرآن کو سمجھنے کے لئے آسان کردیا ۔ فَإِنَّما يَسَّرْناهُ بِلِسانِكَ [ مریم/ 97] اے پیغمبر یہ قران تمہاری زبان میں آسان نازل کیا ہے ۔ الیسری اسم بمعنی یسر قرآن پاک میں ہے : فَسَنُيَسِّرُهُ لِلْيُسْرى[ اللیل/ 7] اس کو ہم آسان طریقے کی توفیقی دیں گے ۔ اور آیت کریمہ : ۔ فَسَنُيَسِّرُهُ لِلْعُسْرى [ اللیل/ 10] اسے سختی میں پہنچا ئنگے ۔ میں عسریٰ کے ساتھ تیسیر کا لفظ بطور تحکم لایا گیا ہے جس طرح کہ آیت : ۔ فَبَشِّرْهُمْ بِعَذابٍ أَلِيمٍ [ آل عمران/ 21] میں عذاب کے متعلق بشارت کا لفظ استعمال ہوا ہے ۔ الیسیر والمیسور سہل اور آسان قرآن پاک میں ہے : ۔ فَقُلْ لَهُمْ قَوْلًا مَيْسُوراً قرآن والْقُرْآنُ في الأصل مصدر، نحو : کفران ورجحان . قال تعالی:إِنَّ عَلَيْنا جَمْعَهُ وَقُرْآنَهُ فَإِذا قَرَأْناهُ فَاتَّبِعْ قُرْآنَهُ [ القیامة/ 17- 18] قال ابن عباس : إذا جمعناه وأثبتناه في صدرک فاعمل به، وقد خصّ بالکتاب المنزّل علی محمد صلّى اللہ عليه وسلم، فصار له کالعلم کما أنّ التّوراة لما أنزل علی موسی، والإنجیل علی عيسى صلّى اللہ عليهما وسلم . قال بعض العلماء : ( تسمية هذا الکتاب قُرْآناً من بين كتب اللہ لکونه جامعا لثمرة كتبه) بل لجمعه ثمرة جمیع العلوم، كما أشار تعالیٰ إليه بقوله : وَتَفْصِيلَ كُلِّ شَيْءٍ [يوسف/ 111] ، وقوله : تِبْياناً لِكُلِّ شَيْءٍ [ النحل/ 89] ، قُرْآناً عَرَبِيًّا غَيْرَ ذِي عِوَجٍ [ الزمر/ 28] ، وَقُرْآناً فَرَقْناهُ لِتَقْرَأَهُ [ الإسراء/ 106] ، فِي هذَا الْقُرْآنِ [ الروم/ 58] ، وَقُرْآنَ الْفَجْرِ؂[ الإسراء/ 78] أي : قراء ته، لَقُرْآنٌ كَرِيمٌ [ الواقعة/ 77] ( ق ر ء) قرآن القرآن ۔ یہ اصل میں کفران ورحجان کی طرف مصدر ہے چناچہ فرمایا :إِنَّ عَلَيْنا جَمْعَهُ وَقُرْآنَهُ فَإِذا قَرَأْناهُ فَاتَّبِعْ قُرْآنَهُ [ القیامة/ 17- 18] اس کا جمع کرنا اور پڑھوانا ہمارے ذمہ جب ہم وحی پڑھا کریں تو تم ( اس کو سننا کرو ) اور پھر اسی طرح پڑھا کرو ۔ حضرت ابن عباس نے اس کا یہ ترجمہ کیا ہے کہ جب ہم قرآن تیرے سینہ میں جمع کردیں تو اس پر عمل کرو لیکن عرف میں یہ اس کتاب الہی کا نام ہے جو آنحضرت پر نازل ہوگئی ا وریہ اس کتاب کے لئے منزلہ علم بن چکا ہے جیسا کہ توراۃ اس کتاب الہی کو کہاجاتا ہے جو حضرت موسیٰ ٰ (علیہ السلام) پر نازل ہوئی ۔ اور انجیل اس کتاب کو کہا جاتا ہے جو حضرت عیسیٰ پر نازل کی گئی ۔ بعض علماء نے قرآن کی وجہ تسمیہ یہ بھی بیان کی ہے کہ قرآن چونکہ تمام کتب سماویہ کے ثمرہ کو اپنے اندر جمع کئے ہوئے ہے بلکہ تمام علوم کے ماحصل کو اپنے اندر سمیٹے ہوئے ہے اس لئے اس کا نام قرآن رکھا گیا ہے جیسا کہ آیت : وَتَفْصِيلَ كُلِّ شَيْءٍ [يوسف/ 111] اور ہر چیز کی تفصیل کرنے والا ۔ اور آیت کریمہ : تِبْياناً لِكُلِّ شَيْءٍ [ النحل/ 89] کہ اس میں ہر چیز کا بیان مفصل ہے ۔ میں اس کی طرف اشارہ پایا جاتا ہے ۔ مزید فرمایا : قُرْآناً عَرَبِيًّا غَيْرَ ذِي عِوَجٍ [ الزمر/ 28] یہ قرآن عربی ہے جس میں کوئی عیب ( اور اختلاف ) نہیں ۔ وَقُرْآناً فَرَقْناهُ لِتَقْرَأَهُ [ الإسراء/ 106] اور ہم نے قرآن کو جزو جزو کرکے نازل کیا تاکہ تم لوگوں کو ٹھہر ٹھہر کر پڑھ کر سناؤ ۔ فِي هذَا الْقُرْآنِ [ الروم/ 58] اس قرآن اور آیت کریمہ : وَقُرْآنَ الْفَجْرِ [ الإسراء/ 78] اور صبح کو قرآن پڑھا کرو میں قرآت کے معنی تلاوت قرآن کے ہیں ۔ لَقُرْآنٌ كَرِيمٌ [ الواقعة/ 77] یہ بڑے رتبے کا قرآن ہے ۔ ذكر ( نصیحت) وذَكَّرْتُهُ كذا، قال تعالی: وَذَكِّرْهُمْ بِأَيَّامِ اللَّهِ [إبراهيم/ 5] ، وقوله : فَتُذَكِّرَ إِحْداهُمَا الْأُخْرى [ البقرة/ 282] ، قيل : معناه تعید ذكره، وقد قيل : تجعلها ذکرا في الحکم «1» . قال بعض العلماء «2» في الفرق بين قوله : فَاذْكُرُونِي أَذْكُرْكُمْ [ البقرة/ 152] ، وبین قوله : اذْكُرُوا نِعْمَتِيَ [ البقرة/ 40] : إنّ قوله : فَاذْكُرُونِي مخاطبة لأصحاب النبي صلّى اللہ عليه وسلم الذین حصل لهم فضل قوّة بمعرفته تعالی، فأمرهم بأن يذكروه بغیر واسطة، وقوله تعالی: اذْكُرُوا نِعْمَتِيَ مخاطبة لبني إسرائيل الذین لم يعرفوا اللہ إلّا بآلائه، فأمرهم أن يتبصّروا نعمته، فيتوصّلوا بها إلى معرفته . الذکریٰ ۔ کثرت سے ذکر الہی کرنا اس میں ، الذکر ، ، سے زیادہ مبالغہ ہے ۔ قرآن میں ہے :۔ ذَكَّرْتُهُ كذا قرآن میں ہے :۔ وَذَكِّرْهُمْ بِأَيَّامِ اللَّهِ [إبراهيم/ 5] اور ان کو خدا کے دن یاد دلاؤ ۔ اور آیت کریمہ ؛فَتُذَكِّرَ إِحْداهُمَا الْأُخْرى [ البقرة/ 282] تو دوسری اسے یاد دلا دے گی ۔ کے بعض نے یہ معنی کئے ہیں کہ اسے دوبارہ یاد دلاوے ۔ اور بعض نے یہ معنی کئے ہیں وہ حکم لگانے میں دوسری کو ذکر بنادے گی ۔ بعض علماء نے آیت کریمہ ؛۔ فَاذْكُرُونِي أَذْكُرْكُمْ [ البقرة/ 152] سو تم مجھے یاد کیا کر میں تمہیں یاد کروں گا ۔ اذْكُرُوا نِعْمَتِيَ [ البقرة/ 40] اور میری وہ احسان یاد کرو ۔ میں یہ فرق بیان کیا ہے کہ کے مخاطب آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اصحاب ہیں جنہیں معرفت الہی میں فوقیت حاصل تھی اس لئے انہیں براہ راست اللہ تعالیٰ کو یاد کرنے کا حکم دیا گیا ہے ۔ اور دوسری آیت کے مخاطب بنی اسرائیل ہیں جو اللہ تعالیٰ کو اس نے انعامات کے ذریعہ سے پہچانتے تھے ۔ اس بنا پر انہیں حکم ہوا کہ انعامات الہی میں غور فکر کرتے رہو حتی کہ اس ذریعہ سے تم کو اللہ تعالیٰ کی معرفت حاصل ہوجائے ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

اور ہم نے قرآن کریم کو حفظ و قرات اور کتابت کے لیے یا یہ کہ قرات کے لیے آسان کردیا ہے سو کیا کوئی علم قرآنی کا طالب ہے کہ اس کی رہنمائی کی جائے۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ١٧ { وَلَقَدْ یَسَّرْنَا الْقُرْاٰنَ لِلذِّکْرِ فَہَلْ مِنْ مُّدَّکِرٍ ۔ } ” اور ہم نے قرآن کو آسان کردیا ہے نصیحت اخذ کرنے کے لیے ‘ تو ہے کوئی نصیحت حاصل کرنے والا ! “ یہ اس سورت کی ترجیعی (بار بار دہرائی جانے والی ) آیت ہے اور اس میں ایک چیلنج کا سا انداز پایاجاتا ہے۔ مضمون کی اہمیت کے پیش نظر پوری سورت میں اس آیت کو چار مرتبہ دہرایا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس اعلان کو پڑھ لینے یا سن لینے کے بعد ایک بندے پر گویا اتمامِ حجت ہوجاتا ہے اور اس کے لیے ضروری ہوجاتا ہے کہ وہ قرآن کو سمجھنے اور اس سے ہدایت حاصل کرنے کے لیے استطاعت بھر کوشش شروع کردے۔ خصوصی طور پر پڑھے لکھے خواتین و حضرات پر تو گویا فرض ہے کہ وہ عربی سیکھیں اور قرآن کے معانی و مفہوم کو سمجھنے کی کوشش کریں۔ اگر وہ باقی علوم حاصل کرسکتے ہیں تو قرآن کا علم باقاعدہ حاصل نہ کرنے کے بارے میں اللہ تعالیٰ کے سامنے ان کا کوئی عذر قابل قبول نہیں ہوگا ۔ آج ہمارا المیہ یہ ہے کہ اس قدر اہم اور بنیادی فرض کے بارے میں لوگوں کو بتایا ہی نہیں جاتا۔ لیلۃ القدر میں نوافل پڑھنے کی ترغیب بھی دی جاتی ہے ‘ مختلف اذکار و وظائف کے ثواب کے بارے میں بھی بتایا جاتا ہے ‘ لیکن یہ نہیں بتایا جاتا کہ اپنی اپنی استطاعت کے مطابق قرآن کے مطالب و مفاہیم کا سمجھنا ہر مسلمان پر فرض ہے۔ عربی سیکھنے کے حوالے سے ہمارے لیے حوصلہ افزا بات یہ ہے کہ یہ ایک زندہ زبان ہے۔ دنیا کے ایک بہت بڑے علاقے میں بولی جاتی ہے۔ بین الاقوامی سطح پر اس کی اہمیت مسلمہ ہے۔ آج کوئی بین الاقوامی فورم ایسا نہیں جہاں پر عربی ترجمہ پیش کرنے کا انتظام نہ ہو۔ ہم مسلمانوں کو اپنی الہامی کتاب کی زبان کو سیکھنے کے لیے یہودیوں اور ہندوئوں سے سبق حاصل کرنا چاہیے۔ اگر یہ قومیں اپنی مردہ زبانوں (عبرانی اور سنسکرت) کو زندہ کرسکتی ہیں تو ہم اپنی زندہ زبان کو کیوں نہیں سیکھ سکتے ؟ بہرحال آج نوجوان نسل میں یہ احساس اجاگر کرنے کی سخت ضرورت ہے۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

15 .Some people have misconstrued the words Yassarnal-Qur an to mean that the Qur'an is an easy Book; no knowledge is required to understand it so much so that a person even without the knowledge of the Arabic language, can write a commentary on it, and can deduce any injunctions he likes from its verses independent of the Hadith and Islamic Law, whereas the context in which these words occur, indicates that they are meant to make the people realize this: "One means of the admonition are the dreadful torments that descended upon the rebellious nations, and the other means is this Qur'an, which guides you to the right path by argument and instruction. Obviously, this means of admonition is by far the easier one; then, why don't you take advantage of it and insist on meeting with the torment instead? It is indeed Allah's bounty that He has sent this Book through His Prophet and is warning you that the ways you are following lead only to destntction and your well-being lies only in following this way. This method of admonition has been adopted so that you are rescued even before you fall into the pit of destntction. Now, who could be more foolish than the one who does not believe in the admonition and realizes his error only after he has fallen into the pit?"

سورة الْقَمَر حاشیہ نمبر :15 بعض لوگوں نے یَسَّرْنَا الْقُراٰنَ کے الفاظ سے یہ غلط مطلب نکال لیا ہے کہ قرآن ایک آسان کتاب ہے ، اسے سمجھنے کے لیے کسی علم کی ضرورت نہیں ، حتیٰ کہ عربی زبان تک سے واقفیت کے بغیر جو شخص چاہے اس کی تفسیر کر سکتا ہے اور حدیث و فقہ سے بے نیاز ہو کر اس کی آیات سے جو احکام چاہے مستنبط کر سکتا ہے ۔ حالانکہ جس سیاق و سباق میں یہ الفاظ آئے ہیں اس کو نگاہ میں رکھ کر دیکھا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ اس ارشاد کا مدعا لوگوں کو یہ سمجھانا ہے کہ نصیحت کا ایک ذریعہ تو ہیں وہ عبرتناک عذاب جو سرکش قوموں پر نازل ہوئے ، اور دوسرا ذریعہ ہے یہ قرآن جو دلائل اور وعظ و تلقین سے تم کو سیدھا راستہ بتا رہا ہے ۔ اس ذریعہ کے مقابلے میں نصیحت کا یہ ذریعہ زیادہ آسان ہے ۔ پھر کیوں تم اس سے فائدہ نہیں اٹھاتے اور عذاب ہی دیکھنے پر اصرار کیے جاتے ہو؟ یہ تو سراسر اللہ تعالیٰ کا فضل ہے کہ اپنے نبی کے ذریعہ سے یہ کتاب بھیج کر وہ تمہیں خبردار کر رہا ہے کہ جن راہوں پر تم لوگ جا رہے ہو وہ کس تباہی کی طرف جاتی ہیں اور تمہاری خیر کس راہ میں ہے ۔ نصیحت کا یہ طریقہ اسی لیے تو اختیار کیا گیا ہے کہ تباہی کے گڑھے میں گرنے سے پہلے تمہیں اس سے بچا لیا جائے ۔ اب اس سے زیادہ نادان اور کون ہو گا جو سیدھی طرح سمجھانے سے نہ مانے اور گڑھے میں گر کر ہی یہ تسلیم کرے کہ واقعی یہ گڑھا تھا ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(54:17) یسرنا۔ ماضی جمع متکلم۔ تیسیر (تفعیل) مصدر۔ ہم نے آسان کردیا ۔ للذکر : جار ومجرور۔ پندو نصیحت کے لئے ذکر۔ ذکر یذکر (باب نصر) کا مصدر ہے۔ نیز ملاحظہ ہو آیت 15 ۔ متذکرہ الصدر

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 10 قرآن کے آسان ہونے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ یہ کوئی سطحی کتاب ہے جسے سمجھنے کے لئے نہ کسی محنت کی ضرورت ہے اور نہ کسی علم کی حتی کہ جو شخص عربی زبان تک سے ناواقف ہو وہ جب چاہے اسے ہاتھ میں لے اور حدیث اور علوم حدیث و تفسیر سے بےنیاز ہو کر اس سے جو مسائل چاہے استنباط کرتا رہے۔ بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ قرآن کا انداز بیان اللہ تعالیٰ نے ایسا صاف، سہل اور دل نشین بنایا ہے کہ اس سے نصیحت حاصل کرنا نہایت آسان ہے۔ یہی معنی اس کے کتاب مبین ہونے کے ہیں اور پھر اس کا آسان کرنا یہ بھی ہے کہ یہ سہولت سے حفظ ہوسکتا ہے۔ چناچہ یہ ایک حقیقت ہے کہ دنیا میں قرآن کے حجم کی کوئی ایسی کتاب نہیں پائی گئی جس کے ہزاروں لاکھوں حافظ ہر زمانہ میں پائے گئے ہوں حضرت عبداللہ بن عباس فرماتے ہیں ” اگر اللہ تعالیٰ کو آسان نہ کرتا تو کوئی آدمی اللہ تعالیٰ کے کلام کو اپنی زبان سے ادا نہ سکتا۔ (شوکانی)

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

4۔ یعنی آسان کردیا سب کے لئے عموما بوجہ وضوح بیان کے اور عرب کے لئے حصہ تھا بوجہ عربیت لسان کے۔ (فائدہ) اس کا سیدھا مطلب یہ ہے کہ ترغیب و ترہیب کے متعلق قرآن میں جو مضامین ہیں وہ نہایت جلی ہیں۔ اور وجوہ استنباط کا دقیق ہونا تو خود ظاہر ہے۔

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

ولقد ............ مد کر (45:17 ) ” ہم نے اس قرآن کو نصیحت کے لئے آسان ذریعہ بنایا ہے پھر کیا ہے کوئی نصیحت قبول کرنے والا “ یہ ہے وہ سبق جو ہر پیراگراف کے آخر میں دہرایا جاتا ہے۔ ہر مصور منظر کے بعد ، ہر منظر کے بعد قرآن انسان دل کے ساتھ گفتگو کرتا ہے اور اسے نصیحت قبول کرنے ، دانش حاصل کرنے ، تدبر کرنے کے لئے کہتا ہے۔ ہر تاریخی انجام بد کے بعد جس سے مکذبین دو چار ہوئے۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

اللہ تعالیٰ کی طرف سے قرآن کو آسان فرما دینا : ﴿ وَ لَقَدْ يَسَّرْنَا الْقُرْاٰنَ للذِّكْرِ فَهَلْ مِنْ مُّدَّكِرٍ ٠٠١٧﴾ یہ آیت کریمہ سورة القمر میں چار جگہ ہے پہلی بار حضرت نوح (علیہ السلام) کی قوم کے تذکرہ کے بعد فرمائی ہے نیز قوم عاد اور قوم ثمود اور حضرت لوط (علیہ السلام) کی قوم کی ہلاکت کے ذکر کے بعد بھی مذکور ہے۔ ارشاد فرمایا کہ ہم نے قرآن کو ذکر کے لیے آسان کردیا ہے سو کیا کوئی شخص نصیحت حاصل کرنے والا ہے، اس میں قرآن کریم کی تسہیل اور تیسیر کا بھی ذکر ہے اور دعوت فکر بھی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم کو سہل کردیا تو بندوں پر لازم ہے کہ اس سے نصیحت حاصل کریں، ذکر و فکر کی دعوت دیتے ہوئے فرمایا ﴿ فَهَلْ مِنْ مُّدَّكِرٍ ٠٠١٧﴾ (سو کیا کوئی نصیحت حاصل کرنے والا ہے) ھذہ الکلمة اصلھا مذتکر من الافتعال ابدلت التاء والذال کلتا ھما ثم ادغم بعضھا فی بعض کما فی سورة یوسف (علیہ السلام) وادکر بعد امةٍ ۔ لفظ للذِّكْرِ میں نصیحت حاصل کرنا عبرت لینا سب کچھ داخل ہے اور معالم التنزیل میں حضرت سعید بن جبیر (رض) کا قول نقل کیا ہے کہ اس سے حفظ اور قرات مراد ہے (قرآن کا پڑھنا اور حفظ کرنا بھی آسان ہے اور اس کے معانی اور مضامین اور احکام کا سمجھنا بھی سہل ہے) ، رہے وجوہ استنباط تو ان کو ہر شخص نہیں سمجھ سکتا، اور قرآن میں یہ ہے بھی نہیں کہ سارے قرآن کو من کل الوجوہ ہر شخص کے لیے آسان کردیا ہے بہت سے وہ لوگ جو آیت شریفہ کو سامنے رکھ کر قرآن کریم کا مطلب اپنے پاس سے تجویز کرتے ہیں اور سلف صالحین کے خلاف تفسیر کرتے ہیں جبکہ عربی لغات اور قواعد عربیہ کو بھی نہیں جانتے ہیں ایسے لوگ شدید گمراہی میں ہیں، یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے تسہیل اور تیسیر ہے کہ اس نے پورے قرآن کو مومن بندں کے سینوں میں بالفاظہ و حروفہ محفوظ فرما دیا، اگر بالفرض خدانخواستہ سارے مصاحف ختم ہوجائیں تو قرآن مجید پھر بھی محفوظ رہے گا ایک نو عمر حافظ بچہ کھڑے ہو کر پورا قرآن مجید لکھوا سکتا ہے، اہل کتاب نے لکھے ہوئے صحیفوں پر بھروسہ کیا اس لیے اپنی کتاب ضائع کردی، اب ان کے پاس ترجمے ہی ترجمے ہیں، کتابیں نہیں ہیں جن سے ترجموں کا میلان کیا جاسکے۔ قرآن کا اعجاز اور لوگوں کا تغافل قرآن مجید کا ایک یہ معجزہ ہے جو سب کے سامنے ہے کہ اسے عورتیں، بوڑھے بچے، جوان سب ہی حفظ کرلیتے ہیں۔ اتنی بڑی کتاب کوئی بھی شخص اپنی زبان کی لفظ بہ لفظ اور حرف بہ حرف یاد نہیں کرسکتا۔ دنیا اور دنیا کی محبت نے ایسے لوگوں کو قرآن سے اور اس کے حفظ کرنے سے اس کی تجوید اور قرات سے محروم کردیا جو خود بھی آخرت سے بےفکر ہیں اور بچوں کو بھی طالب دنیا بنا کر ان کا ناس کھوتے ہیں۔ بات یہ ہے کہ عموماً مسلمانوں میں نسلی مسلمان رہ گئے۔ یعنی ان کے باپ دادا مسلمان تھے یہ بھی ان کے گھروں میں پیدا ہوگئے، اسلام کو اس کے تقاضوں کے ساتھ نہ پڑھا نہ سمجھا، جیسے خود ہیں ویسے ہی اولاد کو بنانا چاہتے ہیں۔ جو لوگ اصلی مسلمان ہیں وہ لوگ قرآن کو سینہ سے لگاتے ہیں، حفظ کرتے ہیں، تجوید سے پڑھتے ہیں، بچوں کو بھی حفظ کرواتے ہیں اس کے معانی بتاتے ہیں، عالم بناتے ہیں، علماء کی صحبتوں میں لے جاتے ہیں۔ مسلمانو ! اپنے بچوں کو حفظ میں لگاؤ یہ بہت آسان کام ہے۔ جاہلوں نے مشہور کردیا ہے کہ قرآن حفظ کرنا لوہے کے چنے چبانے کے برابر ہے، یہ بالکل جاہلانہ بات ہے۔ قرآن حافظہ سے یاد نہیں ہوتا معجزہ ہونے کی وجہ سے یاد ہوتا ہے۔ بہت سے جاہل کہتے ہیں کہ طوطے کی طرح رٹانے سے کیا فائدہ ؟ یہ لوگ روپے پیسے کو فائدہ سمجھتے ہیں ہر حرف پر دس نیکیاں ملنا اور آخرت میں ماں باپ کو تاج پہنایا جانا اور قرآن پڑھنے والے کا اپنے گھر کے لوگوں کی سفارش کرکے دوزخ سے بچوا دینا فائدہ میں شمار ہی نہیں کرتے کہتے ہیں کہ حفظ کرکے ملا بنے گا تو کہاں سے کھائے گا، میں کہتا ہوں کہ حفظ کرلینے کے بعد تجارت اور ملازمت سے کون روکتا ہے، ملا بننا تو بہت بڑی سعادت ہے جسے اپنے لیے یہ سعادت مطلوب نہیں وہ اپنے بچے کو تو حفظ قرآن سے محروم نہ کرے جب حفظ کرلے تو اسے دنیا کے کسی بھی حلال مشغلے میں لگایا جاسکتا ہے۔ قرآن کریم کی برکات : ہم نے تجربہ کیا ہے کہ دنیا کے کام کاج کرتے ہوئے اور سکول، کالج میں پڑھتے ہوئے بہت سے بچوں نے قرآن شریف حفظ کرلیا۔ بہت لوگوں نے سفید بال ہونے کے بعد حفظ کرنا شروع کیا اللہ جل شانہ، نے ان کو بھی کامیابی عطا کی، جو بچہ حفظ کرلیتا ہے اس کی قوت حافظہ اور سمجھ میں بہت زیادہ اضافہ ہوجاتا ہے اور وہ آئندہ جو تعلیم بھی حاصل کرے ہمیشہ اپنے ساتھیوں سے آگے رہتا ہے، قرآن کی برکت سے انسان دنیا و آخرت میں ترقی کرتا ہے۔ افسوس ہے کہ لوگوں نے قرآن کو سمجھا ہی نہیں کوئی قرآن کی طرف بڑھے تو قرآن کی برکات کا پتہ چلے۔ قرآن کو بھول جانے کا وبال : جس طرح قرآن کو یاد کرنا ضروری ہے اسی طرح اس کا یاد رکھنا بھی ضروری ہے۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : ” قرآن کو یاد رکھنے کا دھیان رکھو (یعنی نماز میں اور خارج نماز اس کی تلاوت کرتے رہو) قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ میں میری جان ہے جو اونٹ رسیوں میں بندھے ہوئے ہوں جس طرح وہ اپنی رسیوں میں بھاگنے کی کوشش میں رہتے ہیں قرآن ان سے بڑھ کر تیزی کے ساتھ نکل کر چلا جانے والا ہے۔ “ (رواہ البخاری و مسلم، مشکوۃ المصابیح صفحہ ١٩٠) بات یہ ہے کہ قرآن جس طرح جلدی یاد ہوجاتا ہے اور محبت کرنے والوں کے دل میں سما جاتا ہے اسی طرح وہ یاد رکھنے کا دھیان نہ کرنے والوں کے سینوں سے چلا جاتا ہے کیونکہ وہ غیرت مند ہے جس شخص کو اس کی حاجت نہیں ہے جب وہ یاد رکھنے کی کوشش نہ کرے تو قرآن کیوں اس کے پاس رہے، جبکہ وہ بےنیاز ہے۔ قرآن پڑھ کر بھول جانے والے کے لیے سخت وعید ہے۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ارشاد ہے کہ : ” جو شخص قرآن پڑھتا ہے، پھر بھول جاتا ہے وہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ سے ایسی حالت میں ملاقات کرے گا کہ وہ جذامی ہوگا “ (یعنی اس کے اعضاء اور دانت گرے ہوئے ہوں گے) ۔ (رواہ ابوداود والدارمی، مشکوٰۃ المصابیح ص ١٩١) ایک اور حدیث میں ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : ” مجھ پر میری امت کے ثواب کے کام پیش کیے گئے تو میں نے ثواب کے کاموں میں یہ بھی دیکھا کہ مسجد میں کوئی تکلیف دینے والی چیز پڑی ہو اور کوئی شخص اسے نکال دے اور مجھ پر میری امت کے گناہ بھی پیش کیے گئے تو میں نے اس سے بڑھ کر گناہ نہیں دیکھا کہ کسی شخص کو کوئی سورت یا آیت عطا کی گئی ہو پھر وہ اس کو بھول جائے۔ “ (رواہ الترمذی و ابوداؤد، مشکوٰۃ المصابیح صفحہ ٦٩) بچوں کو قرآن کی تعلیم پر لگانے والے دنیا کے چند دن چہک مہک نہیں دیکھتے بلکہ اپنے لیے اور اپنی اولاد کے لیے آخرت کی کامیابی اور وہاں کی نعمتوں سے مالا مال ہونے کے لیے فکر مند ہوتے ہیں۔ ﴿ فَاُولٰٓىِٕكَ كَانَ سَعْيُهُمْ مَّشْكُوْرًا ٠٠١٩﴾

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(17) اور ہم نے قرآن کو نصیحت حاصل کرنے کی غرض سے سہل اور آسان کردیا ہے تو کیا کوئی سوچنے والا اور غور کرنے والا ہے کہ وہ اس کے پندو و عظ سے فائدہ حاصل کرے۔ للذکر کی قید سے ان لوگوں کے خیالات کی نفی ہوگئی جو آج کل کے لوگ اجتہاد اور استنباط کے لئے قرآن کو آسان سمجھتے ہیں۔