Lexicological Analysis The word سُعُر su&ur has appeared twice in this Surah. First it has appeared in verse 24 in connection with the people of Thamud where it is their own word, and means &madness or insanity&. The second time, the word appears in connection with the punishment of the sinners where it is the word of Allah in the forthcoming verse [ 47] فِي ضَلَالٍ وَسُعُرٍ. Here the word سُعُر su&ur may also be taken in the sense of Hell-Fire. According to lexicologists, the word su&ur is used in both these senses. رَاوَدُوهُ عَن ضَيْفِهِ (And they had even tried to tempt him against his guests...54:37). The word murawadah signifies to entice someone to satisfy one&s lust. This verse refers to the night when the angels came to Prophet Lut (علیہ السلام) in the shape of handsome young men, as a test from Allah for his people who were addicted to homosexuality. Prophet Lut (علیہ السلام) hosted his guests. The licentious people came to him from every direction, and the Prophet Lut (علیہ السلام) had to shut the door to protect his guests. They came during the night and tried to break the door down and scale the walls to come in. The immoral behaviour of his people distressed Prophet Lut (علیہ السلام) but when the guests revealed to him that they were angels and have been sent by Allah to inflict destructive punishment on his people, he felt comforted; they assured him that they will not be able to hurt them in any way. Surah Al-Qamar started on the note that Doomsday is fast approaching, so that the infidels and pagans, who have lust and greed for this world and are unaware of the Hereafter, come to their senses. First, the punishment of the Hereafter is mentioned. Then the evil consequences of their misdeeds in the present life are cited. Reference is made to the conditions of world-famous nations, their opposition to their respective prophets and its evil consequences. The people of Lut (علیہ السلام) were the first people who were destroyed by Divine punishment. Many different kinds of devastating torments were inflicted on the people of Lut (علیہ السلام) ، the tribes of ` Ad, Thamud and Lut (علیہ السلام) and the people of Fir&aun in this world. Their stories and histories are recounted in detail on several occasions in the Qur&an. Here they have been condensed. All these five nations were the strongest and resourceful. It was not possible for any of the subdued nations to overcome any of these superpowers. The current set of verses show how the superpowers were destroyed by Divine punishment. After describing the punishment of each nation, the Qur&an repeats the following statement as a refrain: فَكَيْفَ كَانَ عَذَابِي وَنُذُرِ (How then was My torment and My warnings?). That is, when the Divine chastisement overtook these nations who were very powerful in terms of might, wealth and number were killed like flies and mosquitoes. In addition, the following verse is repeated to advise the Muslims and the infidels in general: وَلَقَدْ يَسَّرْنَا الْقُرْآنَ لِلذِّكْرِ فَهَلْ مِن مُّدَّكِرٍ (and indeed We have made the Qur&an easy for seeking advice. So, is there one to seek advice?) This is to indicate that the only way to avoid the terrible chastisement is to take to the advice of the Qur&an. Allah has made the Qur&an easy to the extent of paying heed to the admonition and warnings. Only the most ill-fated person will not take advantage of the warnings. The forthcoming verses address the people of the time of the Prophet Muhammad (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) that they are not more powerful in terms of wealth, number and might than the people of Prophet Lut (علیہ السلام) the tribes of ` Ad and Thamud, Prophet Lut’ s علیہ السلام people and the people of Fir&aun. Then how are they sitting in a careless manner?
خلاصہ تفسیر عاد نے (بھی اپنے پیغمبر کی) تکذیب کی سو (اس کا قصہ سنو کہ) میرا عذاب اور ڈرانا کیسا ہوا، (اور وہ قصہ یہ ہے کہ) ہم نے ان پر ایک سخت ہوا بھیجی ایک مسلسل نحوست کے دن میں (یعنی یہ زمانہ ان کے حق میں ہمیشہ کے لئے اس لئے منحوس رہا کہ اس روز جو عذاب آیا وہ عذاب برزخ سے متصل ہوگیا، پھر عذاب آخرت اس سے متصل ہوگیا، جو ان سے کبھی منقطع نہ ہوگا اور) وہ ہوا لوگوں کو اس طرح (ان کی جگہ سے) اکھاڑ اکھاڑ کر پھینکتی تھی کہ گویا وہ اکھڑی ہوئی کھجوروں کے تنے ہیں (اس تشبیہ میں علاوہ ان کے پھینکے جانے کے اشارہ ان کے طول قامت کی طرف بھی ہے) سو (دیکھو) میرا عذاب اور ڈرانا کیسا (ہولناک) ہوا اور ہم نے قرآن کو نصیحت حاصل کرنے کے لئے آسان کردیا ہے سو کیا کوئی نصیحت حاصل کرنے والا ہے، ثمود نے (بھی) پیغمبروں کی تکذیب کی (کیونکہ ایک پیغمبر کی تکذیب مستلزم ہے سب پیغمبروں کی تکذیب کو) اور کہنے لگے کیا ہم ایسے شخص کا اتباع کریں گے جو ہماری جنس کا آدمی ہے اور (چشم و خدم سے) اکیلا ہے (یعنی یا تو فرشتہ ہوتا تو ہم دین میں اتباع کرتے یا صاحب خدم و حشم ہوتا تو دنیوی امور میں اتباع کرتے جبکہ بشر ہے اور وہ بھی اکیلا، نہ تو اتباع فی الدنیا کو کوئی امر مقتضی ہے نہ اتباع فی الدین کو اور اگر ہم اس حالت میں اتباع کریں) تو اس صورت میں ہم بڑی غلطی اور (بلکہ) جنون میں پڑجاویں کیا ہم سب میں سے (منتخب ہو کر) اسی (شخص) پر وحی نازل ہوئی ہے (ہرگز ایسا نہیں) بلکہ یہ بڑا جھوٹا اور شیخی باز ہے (شیخی یعنی تکبر کے مارے ایسی باتیں بڑائی کی کرتا ہے، کہ لوگ مجھ کو سردار قرار دے لیں، حق تعالیٰ نے صالح (علیہ السلام) سے فرمایا کہ تم ان کے بکنے پر رنج مت کرو) ان کو عنقریب (مرتے ہی) معلوم ہوجائے گا کہ جھوٹا شیخی باز کون تھا (یعنی یہی لوگ تھے کہ انکار نبوت میں کاذب تھے اور اتباع نبی سے بوجہ شیخی کے عار کرتے تھے، اور یہ لوگ جو اونٹنی کا معجزہ طلب کرتے تھے تو) ہم (ان کی درخواست کے موافق پتھر میں سے) اونٹنی کو نکالنے والے ہیں، ان کی آزمائش (ایمان) کے لئے سو ان (کی حرکتوں) کو دیکھتے بھالتے رہنا اور صبر سے بیٹھے رہنا اور ان لوگوں کو (جب اونٹنی پیدا ہو تو) یہ بتلا دینا کہ پانی (کنویں کا) بانٹ دیا گیا ہے، (یعنی تمہارے مویشی اور اونٹنی کی باری مقرر ہوگئی ہے) ہر ایک باری پر باری والا حاضر ہوا کرے (یعنی اونٹنی اپنی باری میں پانی پیوے اور مویشی اپنی باری میں، چناچہ اونٹنی پیدا ہوئی اور صالح (علیہ السلام) نے اسی طرح فرما دیا) سو (اس باری سے وہ لوگ تنگ آگئے اور) انہوں نے (اس کے قتل کرنے کی غرض سے) اپنے رفیق (قدار) کو بلایا سو اس نے (اونٹنی پر) وار کیا اور (اس کو) مار ڈالا سو (دیکھو) میرا عذاب اور ڈرانا کیسا ہوا (جس کا بیان آگے آتا ہے وہ یہ کہ) ہم نے ان پر ایک ہی نعرہ (فرشتہ کا) مسلط کیا سو وہ (اس سے) ایسے ہوگئے جیسے کانٹوں کی باڑ لگانے والے (کی باڑ) کا چورا (یعنی کھیت یا مویشی وغیرہ کی حفاظت کے لئے جیسے کانٹوں وغیرہ کی باڑ لگا دیتے ہیں اور چند روز بعد سب چورا چورا ہوجاتا ہے اسی طرح وہ ہلاک و تباہ ہوگئے، عرب کے لوگ اس مشبہ بہ کو یعنی کھیت کے گرد کی باڑ کو شب و روز دیکھتے تھے تو وہ اس تشبیہ کو خوب سمجھتے تھے) اور ہم نے قرآن کو نصیحت حاصل کرنے کے لئے آسان کردیا ہے سو کیا کوئی نصیحت حاصل کرنے والا ہے قوم لوط نے (بھی پیغمبروں کی تکذیب کی (کیونکہ ایک نبی کی تکذیب مستلزم ہے سب کی تکذیب کو) ہم نے ان پر پتھروں کا مینہ برسایا بجز متعلقین لوط (علیہ السلام) کے (یعنی بجز مومنین کے) کہ ان کو اخیر شب میں (بستی سے باہر کر کے عذاب سے) بچا لیا اپنی جانب سے فضل کر کے جو شکر کرتا ہے (یعنی ایمان لاتا ہے) ہم اس کو ایسا ہی صلہ دیا کرتے ہیں (کہ قہر سے بچا لیتے ہیں) اور (قبل عذاب آنے کے) لوط (علیہ السلام) نے ان کو ہماری دارو گیر سے ڈرایا تھا، سو انہوں نے اس ڈرانے میں جھگڑے پیدا کئے (یعنی یقین نہ لائے) اور (جب لوط (علیہ السلام) کے پاس ہمارے فرشتے بشکل مہمان آئے اور ان لوگوں کو حسین لڑکوں کا آنا معلوم ہوا تو یہاں آ کر) ان لوگوں نے لوط (علیہ السلام) سے ان کے مہمانوں کو بری نیت سے لینا چاہا (جس سے لوط (علیہ السلام) اول گھبرائے مگر وہ فرشتے تھے) سو ہم نے (ان فرشتوں کو حکم دے کر) ان کی آنکھیں چوپٹ کردیں (یعنی جبرائیل (علیہ السلام) نے اپنے پر ان کی آنکھوں پر پھیر دیئے جس سے اندھے بھٹ ہوگئے، کذا فی الدر عن قتادة اور بزبان قال یا حال ان سے کہا گیا کہ) لو میرے عذاب اور ڈرانے کا مزہ چکھو (پہلے تو یہ واقعہ طمس یعنی اندھے کرنے کا پیش آیا) اور (پھر) صبح سویرے ہی ان پر دائمی عذاب آپہنچا (اور ارشاد ہوا) کہ لو میرے ڈرانے اور عذاب کا مزہ چکھو (یہی جملہ پہلے اندھے ہونے کے عذاب پر کہا گیا تھا یہاں ہلاکت کے عذاب پر ہے، اس لئے کوئی تکرار نہیں) اور ہم نے قرآن کو نصیحت حاصل کرنے کے لئے آسان کردیا ہے سو کیا کوئی نصیحت حاصل کرنے والا ہے اور (فرعون اور) فرعون والوں کے پاس بھی ڈرانے کی بہت سی چیزیں پہنچیں (مراد موسیٰ (علیہ السلام) کے ارشادات اور معجزات ہیں کہ ارشادات سے تشریعی طور پر اور معجزات سے تکوینی طور پر ان کو ڈرایا گیا مگر) ان لوگوں نے ہماری تمام (ان) نشانیوں (کو جو ان کے پاس آئی تھیں وہ آیات تسعہ (نو آیتیں) مشہور ہیں) جھٹلایا (یعنی ان کے مدلول و مقتضا توحید الٰہی اور نبوت موسیٰ (علیہ السلام) کو جھٹلایا، ورنہ واقعات کے وقوع کی تکذیب تو ہو نہیں سکتی) سو ہم نے ان کو زبردست صاحب قدرت کا پکڑنا پکڑا (یعنی جب ہم نے ان کو قہر اور غلبہ سے پکڑا تو اس پکڑ کو کوئی دفع نہیں کرسکا، پس عزیز مقتدر سے مراد اللہ تعالیٰ ہے ) معارف و مسائل بعض لغات کی تشریح : سُعُر، یہ لفظ آیات مذکورہ میں دو جگہ آیا ہے، اول قوم ثمود کے ذکر میں ان کا اپنا قول ہے، اس میں سعر کا لفظ جنون کے معنی میں آیا ہے، دوسری جگہ یہی لفظ آگے آنے والی آیات میں حق تعالیٰ کی طرف سے عذاب مجرمین کے ذکر میں آیا ہے، فِيْ ضَلٰلٍ وَّسُعُرٍ ، یہاں سعر کے معنی جہنم کی آگ کے ہیں، حسب تصریح اہل لغت لفظ سعر ان دونوں معنی میں مستعمل ہوتا ہے۔ رَاوَدُوْهُ عَنْ ضَيْفِهٖ ، مراودت کے معنی کسی کو اپنی نفسانی شہوت پورا کرنے کے لئے بہلانا پھسلانا ہے، مراد یہ ہے کہ قوم لوط (علیہ السلام) چونکہ اپنی خباثت سے لڑکوں کے ساتھ بدفعلی کے خوگر تھے اور اللہ تعالیٰ نے ان کے امتحان ہی کے لئے فرشتوں کو حسین امرد لڑکوں کی صورت میں بھیجا تھا، یہ شیاطین ان کو اپنی خواہش کا نشانہ بنانے کے لئے لوط (علیہ السلام) کے مکان پر چڑھ آئے، لوط (علیہ السلام) نے دروازہ بند کرلیا تو یہ دروازہ توڑ کر یا اوپر سے چھلانگ کر اندار آنے لگے، حضرت لوط (علیہ السلام) پریشان ہوئے تو اس وقت فرشتوں نے اپنا راز ظاہر کیا کہ آپ کچھ فکر نہ کریں، یہ ہمارا کچھ نہیں بگاڑ سکتے، ہم اللہ کے فرشتے ان کو عذاب دینے ہی کے لئے آئے ہیں۔ سورة قمر کو قرب قیامت کے ذکر سے شروع کیا گیا، تاکہ کفار و مشرکین جو دنیا کی ہوا وہوس میں مبتلا اور آخرت سے غافل ہیں وہ ہوش میں آئیں، پہلے قیامت کے عذاب کا بیان کیا گیا، اس کے بعد دنیا میں بھی ان کے انجام بد کو بتلانے کے لئے پانچ مشہور عالم اقوام کے حالات اور انبیاء (علیہم السلام) کی مخالفت پر ان کے انجام بد اور دنیا میں بھی طرح طرح کے عذابوں میں مبتلا ہونا بیان کیا گیا ہے۔ سب سے پہلے قوم نوح (علیہ السلام) کا ذکر کیا گیا، کیونکہ یہی سب سے پہلی دنیا کی قوم ہے جو عذاب الٰہی میں پکڑی گئی، یہ قصہ سابقہ آیات میں آ چکا ہے، مذکور الصد آیات میں چار اقوام کا ذکر ہے، عاد، ثمود، قوم لوط، قوم فرعون ان کے واقعات اور مفصل قصے قرآن کریم کے متعدد مقامات میں بیان ہوئے ہیں، یہاں ان کا اجمالی ذکر ہے۔ یہ پانچوں اقوام دنیا کی قوی ترین اور قابو یافتہ قومیں تھیں، جن کو کسی طاقت سے رام کرنا کسی کے لئے آسان نہ تھا، آیات مذکورہ میں ان پر اللہ کا عذاب آنا دکھلایا گیا اور ہر ایک قوم کے انجام پر قرآن کریم نے ایک جملہ ارشاد فرمایا (فَكَيْفَ كَانَ عَذَابِيْ وَنُذُرِ ) یعنی اتنی بڑی قوی اور بھاری تعداد والی قوم پر جب اللہ کا عذاب آیا تو دیکھو کہ وہ کس طرح اس عذاب کے سامنے مکھیوں، مچھروں کی طرح مارے گئے اور اس کے ساتھ ہی مومنین و کفار کی عام نصیحت کے لئے اس جملے کو بار بار دھرایا گیا، وَلَقَدْ يَسَّرْنَا الْقُرْاٰنَ للذِّكْرِ فَهَلْ مِنْ مُّدَّكِرٍ ، یعنی اللہ کے اس عذاب عظیم سے بچنے کا راستہ قرآن ہے اور قرآن کو نصیحت و عبرت حاصل کرنے کی حد تک ہم نے بہت آسان کردیا ہے، بڑا بدنصیب اور محروم ہے جو اس سے فائدہ نہ اٹھائے، آگے آنے والی آیات میں زمانہ نبوت کے موجودین کو خطاب کر کے یہ بتلایا گیا ہے کہ اس زمانے کے منکرین و کفار دولت و ثروت، تعداد، طاقت قوت میں عاد وثمود اور قوم فرعون وغیرہ سے کچھ زیادہ نہیں ہیں، پھر یہ کیسے بےفکر بیٹھے ہیں۔