Surat ul Qamar

Surah: 54

Verse: 18

سورة القمر

کَذَّبَتۡ عَادٌ فَکَیۡفَ کَانَ عَذَابِیۡ وَ نُذُرِ ﴿۱۸﴾

'Aad denied; and how [severe] were My punishment and warning.

قوم عاد نے بھی جھٹلایا پس کیسا ہوا میرا عذاب اور میری ڈرانے والی باتیں ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

The Story of `Ad Allah states that, كَذَّبَتْ عَادٌ فَكَيْفَ كَانَ عَذَابِي وَنُذُرِ `Ad denied; then how was My torment and My warnings? Allah states that `Ad, the People of Hud, denied their Messenger, just as the people of Nuh did. So, Allah sent on them,

کفار کی بدترین روایات اللہ تعالیٰ خبر دیتا ہے کہ قوم ہود نے بھی اللہ کے رسولوں کو جھوٹا کہا اور بالکل قوم نوح کی طرح سرکشی پر اتر آئے تو ان پر سخت ٹھنڈی مہلک ہوا بھیجی گئی وہ دن ان کے لئے سراسر منحوس تھا برابر ان پر ہوائیں چلتی رہیں اور انہیں تہ و بالا کرتی رہیں ، دنیوی اور اخروی عذاب میں گرفتار کر لئے گئے ہوا کا جھونکا آتا ان میں سے کسی کو اٹھا کر لے جاتا یہاں تک کہ زمین والوں کی حد نظر سے وہ بالا ہو جاتا پھر اسے زمین پر اوندھے منہ پھینک دیتا سر کچل جاتا بھیجا نکل پڑتا ، سر الگ دھڑ الگ ایسا معلوم ہوتا گویا کھجور کے درخت کے بن سرے ٹنڈ ہیں دیکھو میرا عذاب کیسا ہوا ؟ میں نے قرآن کو آسان کر دیا جو چاہے نصیحت و عبرت حاصل کرلے ۔

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

۔ کَذَّبَتْ عَادٌ فَکَیْفَ کَانَ عَذَابِیْ وَنُذُرِ ۔۔۔: ان آیات کی تفسیر کے لیے دیکھئے سورة ‘ حم السجدہ ( ١٥، ١٦) کی تفسیر۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Lexicological Analysis The word سُعُر su&ur has appeared twice in this Surah. First it has appeared in verse 24 in connection with the people of Thamud where it is their own word, and means &madness or insanity&. The second time, the word appears in connection with the punishment of the sinners where it is the word of Allah in the forthcoming verse [ 47] فِي ضَلَالٍ وَسُعُرٍ‌. Here the word سُعُر su&ur may also be taken in the sense of Hell-Fire. According to lexicologists, the word su&ur is used in both these senses. رَ‌اوَدُوهُ عَن ضَيْفِهِ (And they had even tried to tempt him against his guests...54:37). The word murawadah signifies to entice someone to satisfy one&s lust. This verse refers to the night when the angels came to Prophet Lut (علیہ السلام) in the shape of handsome young men, as a test from Allah for his people who were addicted to homosexuality. Prophet Lut (علیہ السلام) hosted his guests. The licentious people came to him from every direction, and the Prophet Lut (علیہ السلام) had to shut the door to protect his guests. They came during the night and tried to break the door down and scale the walls to come in. The immoral behaviour of his people distressed Prophet Lut (علیہ السلام) but when the guests revealed to him that they were angels and have been sent by Allah to inflict destructive punishment on his people, he felt comforted; they assured him that they will not be able to hurt them in any way. Surah Al-Qamar started on the note that Doomsday is fast approaching, so that the infidels and pagans, who have lust and greed for this world and are unaware of the Hereafter, come to their senses. First, the punishment of the Hereafter is mentioned. Then the evil consequences of their misdeeds in the present life are cited. Reference is made to the conditions of world-famous nations, their opposition to their respective prophets and its evil consequences. The people of Lut (علیہ السلام) were the first people who were destroyed by Divine punishment. Many different kinds of devastating torments were inflicted on the people of Lut (علیہ السلام) ، the tribes of ` Ad, Thamud and Lut (علیہ السلام) and the people of Fir&aun in this world. Their stories and histories are recounted in detail on several occasions in the Qur&an. Here they have been condensed. All these five nations were the strongest and resourceful. It was not possible for any of the subdued nations to overcome any of these superpowers. The current set of verses show how the superpowers were destroyed by Divine punishment. After describing the punishment of each nation, the Qur&an repeats the following statement as a refrain: فَكَيْفَ كَانَ عَذَابِي وَنُذُرِ‌ (How then was My torment and My warnings?). That is, when the Divine chastisement overtook these nations who were very powerful in terms of might, wealth and number were killed like flies and mosquitoes. In addition, the following verse is repeated to advise the Muslims and the infidels in general: وَلَقَدْ يَسَّرْ‌نَا الْقُرْ‌آنَ لِلذِّكْرِ‌ فَهَلْ مِن مُّدَّكِرٍ‌ (and indeed We have made the Qur&an easy for seeking advice. So, is there one to seek advice?) This is to indicate that the only way to avoid the terrible chastisement is to take to the advice of the Qur&an. Allah has made the Qur&an easy to the extent of paying heed to the admonition and warnings. Only the most ill-fated person will not take advantage of the warnings. The forthcoming verses address the people of the time of the Prophet Muhammad (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) that they are not more powerful in terms of wealth, number and might than the people of Prophet Lut (علیہ السلام) the tribes of ` Ad and Thamud, Prophet Lut’ s علیہ السلام people and the people of Fir&aun. Then how are they sitting in a careless manner?

خلاصہ تفسیر عاد نے (بھی اپنے پیغمبر کی) تکذیب کی سو (اس کا قصہ سنو کہ) میرا عذاب اور ڈرانا کیسا ہوا، (اور وہ قصہ یہ ہے کہ) ہم نے ان پر ایک سخت ہوا بھیجی ایک مسلسل نحوست کے دن میں (یعنی یہ زمانہ ان کے حق میں ہمیشہ کے لئے اس لئے منحوس رہا کہ اس روز جو عذاب آیا وہ عذاب برزخ سے متصل ہوگیا، پھر عذاب آخرت اس سے متصل ہوگیا، جو ان سے کبھی منقطع نہ ہوگا اور) وہ ہوا لوگوں کو اس طرح (ان کی جگہ سے) اکھاڑ اکھاڑ کر پھینکتی تھی کہ گویا وہ اکھڑی ہوئی کھجوروں کے تنے ہیں (اس تشبیہ میں علاوہ ان کے پھینکے جانے کے اشارہ ان کے طول قامت کی طرف بھی ہے) سو (دیکھو) میرا عذاب اور ڈرانا کیسا (ہولناک) ہوا اور ہم نے قرآن کو نصیحت حاصل کرنے کے لئے آسان کردیا ہے سو کیا کوئی نصیحت حاصل کرنے والا ہے، ثمود نے (بھی) پیغمبروں کی تکذیب کی (کیونکہ ایک پیغمبر کی تکذیب مستلزم ہے سب پیغمبروں کی تکذیب کو) اور کہنے لگے کیا ہم ایسے شخص کا اتباع کریں گے جو ہماری جنس کا آدمی ہے اور (چشم و خدم سے) اکیلا ہے (یعنی یا تو فرشتہ ہوتا تو ہم دین میں اتباع کرتے یا صاحب خدم و حشم ہوتا تو دنیوی امور میں اتباع کرتے جبکہ بشر ہے اور وہ بھی اکیلا، نہ تو اتباع فی الدنیا کو کوئی امر مقتضی ہے نہ اتباع فی الدین کو اور اگر ہم اس حالت میں اتباع کریں) تو اس صورت میں ہم بڑی غلطی اور (بلکہ) جنون میں پڑجاویں کیا ہم سب میں سے (منتخب ہو کر) اسی (شخص) پر وحی نازل ہوئی ہے (ہرگز ایسا نہیں) بلکہ یہ بڑا جھوٹا اور شیخی باز ہے (شیخی یعنی تکبر کے مارے ایسی باتیں بڑائی کی کرتا ہے، کہ لوگ مجھ کو سردار قرار دے لیں، حق تعالیٰ نے صالح (علیہ السلام) سے فرمایا کہ تم ان کے بکنے پر رنج مت کرو) ان کو عنقریب (مرتے ہی) معلوم ہوجائے گا کہ جھوٹا شیخی باز کون تھا (یعنی یہی لوگ تھے کہ انکار نبوت میں کاذب تھے اور اتباع نبی سے بوجہ شیخی کے عار کرتے تھے، اور یہ لوگ جو اونٹنی کا معجزہ طلب کرتے تھے تو) ہم (ان کی درخواست کے موافق پتھر میں سے) اونٹنی کو نکالنے والے ہیں، ان کی آزمائش (ایمان) کے لئے سو ان (کی حرکتوں) کو دیکھتے بھالتے رہنا اور صبر سے بیٹھے رہنا اور ان لوگوں کو (جب اونٹنی پیدا ہو تو) یہ بتلا دینا کہ پانی (کنویں کا) بانٹ دیا گیا ہے، (یعنی تمہارے مویشی اور اونٹنی کی باری مقرر ہوگئی ہے) ہر ایک باری پر باری والا حاضر ہوا کرے (یعنی اونٹنی اپنی باری میں پانی پیوے اور مویشی اپنی باری میں، چناچہ اونٹنی پیدا ہوئی اور صالح (علیہ السلام) نے اسی طرح فرما دیا) سو (اس باری سے وہ لوگ تنگ آگئے اور) انہوں نے (اس کے قتل کرنے کی غرض سے) اپنے رفیق (قدار) کو بلایا سو اس نے (اونٹنی پر) وار کیا اور (اس کو) مار ڈالا سو (دیکھو) میرا عذاب اور ڈرانا کیسا ہوا (جس کا بیان آگے آتا ہے وہ یہ کہ) ہم نے ان پر ایک ہی نعرہ (فرشتہ کا) مسلط کیا سو وہ (اس سے) ایسے ہوگئے جیسے کانٹوں کی باڑ لگانے والے (کی باڑ) کا چورا (یعنی کھیت یا مویشی وغیرہ کی حفاظت کے لئے جیسے کانٹوں وغیرہ کی باڑ لگا دیتے ہیں اور چند روز بعد سب چورا چورا ہوجاتا ہے اسی طرح وہ ہلاک و تباہ ہوگئے، عرب کے لوگ اس مشبہ بہ کو یعنی کھیت کے گرد کی باڑ کو شب و روز دیکھتے تھے تو وہ اس تشبیہ کو خوب سمجھتے تھے) اور ہم نے قرآن کو نصیحت حاصل کرنے کے لئے آسان کردیا ہے سو کیا کوئی نصیحت حاصل کرنے والا ہے قوم لوط نے (بھی پیغمبروں کی تکذیب کی (کیونکہ ایک نبی کی تکذیب مستلزم ہے سب کی تکذیب کو) ہم نے ان پر پتھروں کا مینہ برسایا بجز متعلقین لوط (علیہ السلام) کے (یعنی بجز مومنین کے) کہ ان کو اخیر شب میں (بستی سے باہر کر کے عذاب سے) بچا لیا اپنی جانب سے فضل کر کے جو شکر کرتا ہے (یعنی ایمان لاتا ہے) ہم اس کو ایسا ہی صلہ دیا کرتے ہیں (کہ قہر سے بچا لیتے ہیں) اور (قبل عذاب آنے کے) لوط (علیہ السلام) نے ان کو ہماری دارو گیر سے ڈرایا تھا، سو انہوں نے اس ڈرانے میں جھگڑے پیدا کئے (یعنی یقین نہ لائے) اور (جب لوط (علیہ السلام) کے پاس ہمارے فرشتے بشکل مہمان آئے اور ان لوگوں کو حسین لڑکوں کا آنا معلوم ہوا تو یہاں آ کر) ان لوگوں نے لوط (علیہ السلام) سے ان کے مہمانوں کو بری نیت سے لینا چاہا (جس سے لوط (علیہ السلام) اول گھبرائے مگر وہ فرشتے تھے) سو ہم نے (ان فرشتوں کو حکم دے کر) ان کی آنکھیں چوپٹ کردیں (یعنی جبرائیل (علیہ السلام) نے اپنے پر ان کی آنکھوں پر پھیر دیئے جس سے اندھے بھٹ ہوگئے، کذا فی الدر عن قتادة اور بزبان قال یا حال ان سے کہا گیا کہ) لو میرے عذاب اور ڈرانے کا مزہ چکھو (پہلے تو یہ واقعہ طمس یعنی اندھے کرنے کا پیش آیا) اور (پھر) صبح سویرے ہی ان پر دائمی عذاب آپہنچا (اور ارشاد ہوا) کہ لو میرے ڈرانے اور عذاب کا مزہ چکھو (یہی جملہ پہلے اندھے ہونے کے عذاب پر کہا گیا تھا یہاں ہلاکت کے عذاب پر ہے، اس لئے کوئی تکرار نہیں) اور ہم نے قرآن کو نصیحت حاصل کرنے کے لئے آسان کردیا ہے سو کیا کوئی نصیحت حاصل کرنے والا ہے اور (فرعون اور) فرعون والوں کے پاس بھی ڈرانے کی بہت سی چیزیں پہنچیں (مراد موسیٰ (علیہ السلام) کے ارشادات اور معجزات ہیں کہ ارشادات سے تشریعی طور پر اور معجزات سے تکوینی طور پر ان کو ڈرایا گیا مگر) ان لوگوں نے ہماری تمام (ان) نشانیوں (کو جو ان کے پاس آئی تھیں وہ آیات تسعہ (نو آیتیں) مشہور ہیں) جھٹلایا (یعنی ان کے مدلول و مقتضا توحید الٰہی اور نبوت موسیٰ (علیہ السلام) کو جھٹلایا، ورنہ واقعات کے وقوع کی تکذیب تو ہو نہیں سکتی) سو ہم نے ان کو زبردست صاحب قدرت کا پکڑنا پکڑا (یعنی جب ہم نے ان کو قہر اور غلبہ سے پکڑا تو اس پکڑ کو کوئی دفع نہیں کرسکا، پس عزیز مقتدر سے مراد اللہ تعالیٰ ہے ) معارف و مسائل بعض لغات کی تشریح : سُعُر، یہ لفظ آیات مذکورہ میں دو جگہ آیا ہے، اول قوم ثمود کے ذکر میں ان کا اپنا قول ہے، اس میں سعر کا لفظ جنون کے معنی میں آیا ہے، دوسری جگہ یہی لفظ آگے آنے والی آیات میں حق تعالیٰ کی طرف سے عذاب مجرمین کے ذکر میں آیا ہے، فِيْ ضَلٰلٍ وَّسُعُرٍ ، یہاں سعر کے معنی جہنم کی آگ کے ہیں، حسب تصریح اہل لغت لفظ سعر ان دونوں معنی میں مستعمل ہوتا ہے۔ رَاوَدُوْهُ عَنْ ضَيْفِهٖ ، مراودت کے معنی کسی کو اپنی نفسانی شہوت پورا کرنے کے لئے بہلانا پھسلانا ہے، مراد یہ ہے کہ قوم لوط (علیہ السلام) چونکہ اپنی خباثت سے لڑکوں کے ساتھ بدفعلی کے خوگر تھے اور اللہ تعالیٰ نے ان کے امتحان ہی کے لئے فرشتوں کو حسین امرد لڑکوں کی صورت میں بھیجا تھا، یہ شیاطین ان کو اپنی خواہش کا نشانہ بنانے کے لئے لوط (علیہ السلام) کے مکان پر چڑھ آئے، لوط (علیہ السلام) نے دروازہ بند کرلیا تو یہ دروازہ توڑ کر یا اوپر سے چھلانگ کر اندار آنے لگے، حضرت لوط (علیہ السلام) پریشان ہوئے تو اس وقت فرشتوں نے اپنا راز ظاہر کیا کہ آپ کچھ فکر نہ کریں، یہ ہمارا کچھ نہیں بگاڑ سکتے، ہم اللہ کے فرشتے ان کو عذاب دینے ہی کے لئے آئے ہیں۔ سورة قمر کو قرب قیامت کے ذکر سے شروع کیا گیا، تاکہ کفار و مشرکین جو دنیا کی ہوا وہوس میں مبتلا اور آخرت سے غافل ہیں وہ ہوش میں آئیں، پہلے قیامت کے عذاب کا بیان کیا گیا، اس کے بعد دنیا میں بھی ان کے انجام بد کو بتلانے کے لئے پانچ مشہور عالم اقوام کے حالات اور انبیاء (علیہم السلام) کی مخالفت پر ان کے انجام بد اور دنیا میں بھی طرح طرح کے عذابوں میں مبتلا ہونا بیان کیا گیا ہے۔ سب سے پہلے قوم نوح (علیہ السلام) کا ذکر کیا گیا، کیونکہ یہی سب سے پہلی دنیا کی قوم ہے جو عذاب الٰہی میں پکڑی گئی، یہ قصہ سابقہ آیات میں آ چکا ہے، مذکور الصد آیات میں چار اقوام کا ذکر ہے، عاد، ثمود، قوم لوط، قوم فرعون ان کے واقعات اور مفصل قصے قرآن کریم کے متعدد مقامات میں بیان ہوئے ہیں، یہاں ان کا اجمالی ذکر ہے۔ یہ پانچوں اقوام دنیا کی قوی ترین اور قابو یافتہ قومیں تھیں، جن کو کسی طاقت سے رام کرنا کسی کے لئے آسان نہ تھا، آیات مذکورہ میں ان پر اللہ کا عذاب آنا دکھلایا گیا اور ہر ایک قوم کے انجام پر قرآن کریم نے ایک جملہ ارشاد فرمایا (فَكَيْفَ كَانَ عَذَابِيْ وَنُذُرِ ) یعنی اتنی بڑی قوی اور بھاری تعداد والی قوم پر جب اللہ کا عذاب آیا تو دیکھو کہ وہ کس طرح اس عذاب کے سامنے مکھیوں، مچھروں کی طرح مارے گئے اور اس کے ساتھ ہی مومنین و کفار کی عام نصیحت کے لئے اس جملے کو بار بار دھرایا گیا، وَلَقَدْ يَسَّرْنَا الْقُرْاٰنَ للذِّكْرِ فَهَلْ مِنْ مُّدَّكِرٍ ، یعنی اللہ کے اس عذاب عظیم سے بچنے کا راستہ قرآن ہے اور قرآن کو نصیحت و عبرت حاصل کرنے کی حد تک ہم نے بہت آسان کردیا ہے، بڑا بدنصیب اور محروم ہے جو اس سے فائدہ نہ اٹھائے، آگے آنے والی آیات میں زمانہ نبوت کے موجودین کو خطاب کر کے یہ بتلایا گیا ہے کہ اس زمانے کے منکرین و کفار دولت و ثروت، تعداد، طاقت قوت میں عاد وثمود اور قوم فرعون وغیرہ سے کچھ زیادہ نہیں ہیں، پھر یہ کیسے بےفکر بیٹھے ہیں۔

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

كَذَّبَتْ عَادٌ فَكَيْفَ كَانَ عَذَابِيْ وَنُذُرِ۝ ١٨ كذب وأنه يقال في المقال والفعال، قال تعالی: إِنَّما يَفْتَرِي الْكَذِبَ الَّذِينَ لا يُؤْمِنُونَ [ النحل/ 105] ، ( ک ذ ب ) الکذب قول اور فعل دونوں کے متعلق اس کا استعمال ہوتا ہے چناچہ قرآن میں ہے ۔ إِنَّما يَفْتَرِي الْكَذِبَ الَّذِينَ لا يُؤْمِنُونَ [ النحل/ 105] جھوٹ اور افتراء تو وہی لوگ کیا کرتے ہیں جو خدا کی آیتوں پر ایمان نہیں لاتے كيف كَيْفَ : لفظ يسأل به عمّا يصحّ أن يقال فيه : شبيه وغیر شبيه، كالأبيض والأسود، والصحیح والسّقيم، ولهذا لا يصحّ أن يقال في اللہ عزّ وجلّ : كيف، وقد يعبّر بِكَيْفَ عن المسئول عنه كالأسود والأبيض، فإنّا نسمّيه كيف، وكلّ ما أخبر اللہ تعالیٰ بلفظة كَيْفَ عن نفسه فهو استخبار علی طریق التنبيه للمخاطب، أو توبیخا نحو : كَيْفَ تَكْفُرُونَ بِاللَّهِ [ البقرة/ 28] ، كَيْفَ يَهْدِي اللَّهُ [ آل عمران/ 86] ، كَيْفَ يَكُونُ لِلْمُشْرِكِينَ عَهْدٌ [ التوبة/ 7] ، انْظُرْ كَيْفَ ضَرَبُوا لَكَ الْأَمْثالَ [ الإسراء/ 48] ، فَانْظُرُوا كَيْفَ بَدَأَ الْخَلْقَ [ العنکبوت/ 20] ، أَوَلَمْ يَرَوْا كَيْفَ يُبْدِئُ اللَّهُ الْخَلْقَ ثُمَّ يُعِيدُهُ [ العنکبوت/ 19] . ( ک ی ف ) کیف ( اسم استفہام ) اس چیز کی حالت در یافت کرنے کے لئے آتا ہے جس پر کہ شیبہ اور غیر شیبہ کا لفظ بولا جاسکتا ہو جیسے ابیض ( سفید اسود ( سیاہی ) صحیح ( تندرست ) سقیم ( بیمار ) وغیرہ ۔ لہذا اللہ تعالیٰ کے متعلق اس کا استعمال جائز نہیں ہے اور کبھی اس چیز پر بھی کیف کا اطلاق کردیتے ہیں جس کے متعلق سوال کر نا ہو مثلا کہا جاتا ہے کہ اسود اور ابیض مقولہ کیف سے ہیں اور جہاں کہیں اللہ تعالیٰ نے اپنی ذات کے متعلق کیف کا لفظ استعمال کیا ہے تو وہ تنبیہ یا قو بیخ کے طور پر مخاطب سے استخبار کے لئے لایا گیا ہے جیسے فرمایا : ۔ كَيْفَ تَكْفُرُونَ بِاللَّهِ [ البقرة/ 28] کافرو تم خدا سے کیونکر منکر ہوسکتے ہو ۔ كَيْفَ يَهْدِي اللَّهُ [ آل عمران/ 86] خدا ایسے لوگوں کو کیونکر ہدایت دے ۔ كَيْفَ يَكُونُ لِلْمُشْرِكِينَ عَهْدٌ [ التوبة/ 7] بھلا مشرکوں کے لئے کیونکر قائم رہ سکتا ہے ۔ انْظُرْ كَيْفَ ضَرَبُوا لَكَ الْأَمْثالَ [ الإسراء/ 48] دیکھو انہوں نے کس کس طرح کی تمہارے بارے میں باتیں بنائیں ۔ فَانْظُرُوا كَيْفَ بَدَأَ الْخَلْقَ [ العنکبوت/ 20] اور دیکھو کہ اس نے کس طرح خلقت کو پہلی مر تبہ پیدا کیا ۔ أَوَلَمْ يَرَوْا كَيْفَ يُبْدِئُ اللَّهُ الْخَلْقَ ثُمَّ يُعِيدُهُ [ العنکبوت/ 19] کیا انہوں نے نہیں دیکھا کہ خدا کسی طرح خلقت کو پہلی بار پیدا کرتا پھر کس طرح اس کو بار بار پیدا کرتا رہتا ہے ۔ عذب والعَذَابُ : هو الإيجاع الشّديد، وقد عَذَّبَهُ تَعْذِيباً : أكثر حبسه في العَذَابِ. قال : لَأُعَذِّبَنَّهُ عَذاباً شَدِيداً [ النمل/ 21] واختلف في أصله، فقال بعضهم : هو من قولهم : عَذَبَ الرّجلُ : إذا ترک المأكل والنّوم فهو عَاذِبٌ وعَذُوبٌ ، فَالتَّعْذِيبُ في الأصل هو حمل الإنسان أن يُعَذَّبَ ، أي : يجوع ويسهر، ( ع ذ ب ) العذاب سخت تکلیف دینا عذبہ تعذیبا اسے عرصہ دراز تک عذاب میں مبتلا رکھا ۔ قرآن میں ہے ۔ لَأُعَذِّبَنَّهُ عَذاباً شَدِيداً [ النمل/ 21] میں اسے سخت عذاب دوں گا ۔ لفظ عذاب کی اصل میں اختلاف پا یا جاتا ہے ۔ بعض کہتے ہیں کہ یہ عذب ( ض ) الرجل کے محاورہ سے مشتق ہے یعنی اس نے ( پیاس کی شدت کی وجہ سے ) کھانا اور نیند چھوڑدی اور جو شخص اس طرح کھانا اور سونا چھوڑ دیتا ہے اسے عاذب وعذوب کہا جاتا ہے لہذا تعذیب کے اصل معنی ہیں کسی کو بھوکا اور بیدار رہنے پر اکسانا

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(١٨۔ ٢١) اور قوم عاد نے بھی ہود کو جھٹلایا سو محمد سنیے کہ ان پر میرا عذاب اور ڈرانا کیسا ہوا۔ جس وقت ان کو ہود نے ڈرایا اور پھر بھی ایمان نہیں لائے۔ تو ہم نے ان پر ایک تند ٹھنڈی ہوا یعنی دبور بھیجی ایسے دن میں جو ان کے حق میں خواہ بڑا ہوا یا چھوٹا ہمیشہ کے لیے منحوس رہا وہ ہوا قوم ہود کو ان کی جگہ اس طرح اکھاڑ اکھاڑ کر پھینکتی تھی کہ گویا وہ اکھڑی ہوئی کھجور کے تنے ہیں کہ ان کو جڑ سے اکھاڑ کر پھینک دیا ہے۔ سو دیکھیے کہ ان پر میرا عذاب اور میرا ڈرانا کیسا ہولناک ہوا۔ جس وقت ان کو ہود نے ڈرایا مگر وہ پھر بھی ایمان نہیں لائے۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ١٨ { کَذَّبَتْ عَادٌ فَـکَیْفَ کَانَ عَذَابِیْ وَنُذُرِ ۔ } ” جھٹلایا تھا قوم عاد نے بھی ‘ تو کیسا رہا میرا عذاب اور میرا خبردار کرنا ؟ “

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(54:18) کذبت عاد : ای کذبت عاد ھودا علیہ السلام۔ عاد نے بھی اپنے (پیغمبر) ہود (علیہ السلام) کی تکذیب کی۔ نیز ملاحظہ ہو آیت 16 متذکرہ الصدر۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

لغات القرآن آیت نمبر 18 تا 42 صر صر تیز و تند ، سخت۔ یوم نجس منحوس دن۔ تنزع وہ کھینچتا ہے۔ اعجاز تنے۔ سعر اکھڑنے والا۔ اشر جنون۔ النافۃ اونٹنی۔ ارتقب تو نگرانی کر۔ اصطبر تو برداشت کر، تو صبر کرے۔ محتضر حاضر ہونے کا وقت ۔ تعاطی اس نے حملہ کیا۔ عقر اس نے کاٹ ڈالا (ذبح کردیا) ھشیم چور چور ہوجانا۔ المحتظر باڑہ لگانے والا۔ حاصب پتھرائو کرنے والا۔ راودوا انہوں نے مانگا۔ طمسنا ہم نے منا ڈالا۔ مستقر مقرر کیا ہوا۔ مقتدر قابو کرنے والا۔ تشریح :- آیت نمبر 18 تا 42 قرآن کریم اللہ کی وہ آخری مقدس و محترم کتاب ہے جو معافی اور حقائق کے اعتبار سے تو ایک گہرا سمندر ہے لیکن اس کا انداز بیان اس قدر سادہ صاف اور روشن ومنور ہے کہ اس کو سمجھنے اور اس پر عمل کرنے میں نہ تو عام آدمی کو کسی طرح کی دشواری ہوتی ہے اور نہ کسی اعلیٰ تعلیم یافتہ شخص کو مثلاً قرآن مجید میں اس اصول کو بار بار دھرایا گیا ہے کہ ہر وہ شخص جو حق صداقت کی آواز کو لے کر اٹھتا ہے مشکلات، پریشانیوں اور کانٹوں بھرے راستوں کے باوجود آخر کار اس کو دنیا اور آخرت کی کامیابیاں اور نجات عطا کی جاتی ہے۔ اس کے برخلاف جو بھی دین کی سچائیوں کو جھٹلا کر اور اس کے پاکیزہ نفوس پیغمبروں کی تعلیمات اور ان کی ذات سے ٹکراتا ہے وہ دنیاوی اعتبار سے کتنا ہی مضبوط اور طاقت ور کیوں نہ ہو اس کو دنیا کی ذلت اور آخرت کی بربادی سے کوئی بچا نہیں سکتا۔ افراد کی طرح قوموں کا معاملہ بھی یہی ہے کہ ان کی نجات کا دار و مدار اللہ کی فرماں برداری اور پیغمبروں کا کہا ماننے میں ہے۔ اگر دنیاوی ترقیات نے کسی قوم کو مکتبر اور مغرور بنا دیا ہو اور وہ کفر و شرک اور اللہ کے رسول کی نافرمانیوں میں حد سے اگٓے بڑھ گئی ہو تو اس قوم کی اصلاح کے لئے اللہ اپنے پیغمبروں کو بھیجتا ہے چناچہ قرآن حکیم ان انبیاء کے واقعات کو بیان کرتا ہے کہ جن لوگوں نے ان کی بات مان کر اپنی اصلاح کرلی تو وہ دنیا و آخرت کی رسوائی سے بچ گئے۔ اب اللہ نے سارے نبیوں اور رسولوں کے آخر میں اپنے محبوب رسول حضرت محمد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو بھجیا ہے تاکہ قیامت تک آنے والے انسانوں کی اصلاح و تربیت کا کام مکمل کرلیا جائے۔ اگرچہ دنیاوی اعتبار سے آپ ہماری درمیان موجود نہیں ہے اور روضہ پاک میں آپ کو حیات برزخی حاصل ہے لیکن آپ کی تعلیمات موجود ہیں جن کو امت کے مخلص علماء کرام ہمیشہ سے دنیا کے تمام لوگوں تک پہنچانے کی جدوجہد کرتے رہے ہیں اور کریں گے ۔ زیر مطالعہ آیات میں ان تمام حقائق کو بیان کرنے کے لئے خاص طور پر ان چار قوموں قوم عاد، قوم ثمود، قوم لوط اور قوم فرعون کا ذکر فرمایا ہے جو اپنے زمانہ میں انتہائی طاقت وور غرور وتکبر کا پیکر، حومت و سلطنت اور مال و دولت پر ناز کرتے ہوئے اپنے علاوہ سب کو حقیر اور ذلیل سمجھا کرتے تھے لیکن جب کفر و شرک، اللہ کے بندوں پر ظلم و ستم اور طرح طرح کی نافرمانیوں کی وجہ سے ان پر اللہ کا عذاب آیا تو وہ معمولی کیڑے مکوڑوں کی طرح مار ڈالے گئے جن کے اونچے اونچے محلات ، تجارتی مراکز، مال و دولت کے ڈھیر کھنڈر بن کر عبرت کا نمونہ بنے ہوئے ہیں۔ وہی شہر جو کبھی دن رات عیش و عشرت اور لوگوں کی آمد و رفت سے آباد رہا کرتے تھے اب ایسے ویران ہوگئے ہیں کہ دن کی روشنی میں بھی جاتے ہوئے ڈرلگتا ہے۔ قوم عاد نے دنیا پر سینکڑوں سال تک حکومت کی تھی اور ہر طرح کی دنیاوی ترقیات میں وہ سب سے آگے تھے وہ اپنی طاقت و قوت کے سامنے کسی قوم اور ملک کو کوئی حیثیت نہیں دیتے تھے جب کفر و شرک اور لوگوں پر ظلم و زیادتی کی انتہاؤں پر پہنچ گئے تو اللہ نے اس قوم کی اصلاح کے لئے حضرت ھود علیہ اسللام کو بھیجا۔ انہوں نے دن رات ان کو سمجھانے کی کوشش کی اور ان کو کفر و شرک اور اللہ کی مخلوق پر ظلم و ستم کرنے سے روکا تو پوری قوم ان کی دشمن بن گئی اور انہوں نے حضرت ہود کی بات ماننے سے صاف انکار کردیا اور ان کی ہر بات کا مذاق اڑایا۔ جب اس قوم نے کفر و شرک کا راستہ چھوڑنے سے انکار کردیا تو اللہ کا فیصلہ آگیا۔ اسی قوم کی تباہی کا آغاز ایک ایسی تیز و تند آندھی سے ہوا جس سے لوگوں کا زمین پر کھڑا رہنا مشکل ہوگیا۔ آندھی تیز ہوتی گئی اور کوئی دیوار سے ٹکرا کر، کوئی درخت سے ، کوئی پتھر سے مر گیا اور کسی پر اس کی چھت آ گری۔ وہ لوگ لمبے تڑنگے اور طاقت ور تھے مگر تیز ہوا ان کو اس طرح اٹھا کر پھینک رہی تھی جیسے کھجور کے تنے اکھڑ کر زمین پر پڑے ہوئے ہوں۔ اس طرح وہ تمام عرصہ اور مدت جب ان پر عذاب نازل ہو رہا تھا ہمیشہ کے لئے نحوست بھرا یادگار دن بن گیا۔ اسی طرح قوم ثمود جن کی ترقیات، مال و دولت کے ڈھیر اور عیش و عشرت کے سامانوں کے ساتھ ہر طرف خوشحلای تھی وہ پہاڑوں کو تراش کر اس زمانہ میں بیس بیس منزلہ عمارتیں بناتے تھے جب دو منزلہ مکان بنانا مشکل تھا لیکن کفر و شرک اور اللہ کی نافرمانیوں کی انتہا تک پہنچ گئے تھے۔ جب حضرت صالح نے ان تک سچائی کا پیغام پہنچایا تو انہوں نے نہ صرف ان کو جھٹلایا بلکہ ان کی توہین کرتے ہوئے کہنے لگے کہ ہم یہ کیسے مان لیں کہ اے صالح آپ اللہ کے نبی ہیں۔ آپ تو ہمارے جیسے ہی ہیں۔ اگر ہم یہ مان لیں کہ آپ اللہ کے نبی ہیں اور ہم آپ کی اطاعت کرلیں تو ہم سے بڑا بیوقوف اور نادان کون ہوگا ؟ انہوں نے ان کو جھوٹا اور شیخی باز تک کہہ دیا۔ ایک دن کہنے لگے کہا گر تم واقعی اللہ کی طرف سے بھیجے گئے ہو تو اس سامنے کی پہاڑی سے ایک ایسی گابھن اونٹنی نکال کر دکھائو جو ہمارے سامنے بچے جنے اور ہم اس کو اپنی آنکھوں سے دیکھیں ۔ حضرت صالح نے اللہ کی بارگاہ میں درخواست پیش کردی۔ اللہ نے اپنی قدرت سے پہاڑ چٹان سے اونٹنی کو پیدا کیا۔ اس نے آتے ہی بچے کو جنم دیا۔ کچھ لوگوں نے تو ایمان قبول کرلیا لیکن اکثر نے اس کا انکار کردیا۔ جب ان کو اس بات کا حکم دیا گیا کہ تمہارے کنوئیں سے ایک دن اونٹنی پانی پئے گی اور دوسرے دن تم پانی لے سکتے ہو۔ شروع میں تو انہوں نے اس تقسیم کو قبول کرلیا مگر جب پانی کا مسئلہ شدت اختیار کر گیا تو انہوں نے عاجز آ کر ایک شخص قدار بن سالت جو کہ بڑا ہی بدبخت ظالم تھا اس کو اس بات پر آمادہ کرلیا کہ وہ اس اونٹنی کو قتل کر دے تاکہ یہ روز روز کا جھگڑا ہی ختم ہوجائے۔ چناچہ اس نے اونٹنی کو ذبح کردیا۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت صالح کی طرف وحی بھیجی کہ وہ صبر سے کام لیں اب یہ لوگ عذاب سے نہ بچ سکیں گے۔ اللہ تعالیٰ اہل ایمان کو نجات عطا فرمائے گا اور اس پوری قوم کو تباہ بوبراد کر دے گا چناچہ ایک ایسی ہیبت ناک چھنگاڑ سنائی دی جس سے ان کے کانوں کے پردے پھٹ گئے اور پورے ظالم قوم کے لوگ اس طرح پڑے نظر آئے جیسے باڑہ لگانے والوں کی وہ باڑہ جو جانوروں کی حفاظت کے لئے بنائی جاتی ہے اور ٹوٹ کر چورہ چورہ ہوجاتی ہے۔ اور اس طرح اس قوم کو صفحہ ہستی سے مٹا دیا گیا۔ قوم عاد اور قوم ثمود کے بعد اللہ تعالیٰ نے حضرت لوط کی نافرمان قوم کے متعلق فرمایا ہے کہ اس قوم کا یہ عالم تھا کہ حضرت لوط نے ان کو ہر طرح سمجھانے کی کوشش کی مگر وہ اپنی غیر فطری خواہشوں میں لگے رہے۔ ایک مرتبہ جب اللہ تعالیٰ نے چند فرشتوں کو نوجوان لڑکوں کی شکل میں بھجیا اور اس قوم کے لوگوں کو معلوم ہوا تو وہ حضرت لوط کے پاس پہنچ گئے اور اس بات پر زبردستی کرنے لگے کہ وہ نوجوان لڑکے جو آپ کے مہمان ہیں ان کو ہمارے حوالے کر دو ۔ حضرت لوط جو اپنی قوم سے اچھی طرح واقف تھے یہ سن کر گھبرا گئے اور ان کو سمجھانے کی کوشش کرتے رہے۔ فرشتوں نے اپنے آپ کو ظاہر کرتے ہوئے حضرت لوط سے کہا کہ آپ ہرگز پریشان نہ ہوں کیونکہ ہم اللہ کی طرف سے اس ظالم و بدکاری قوم کیلئے بھیجے گئے ہیں یہ ہمارا کچھ نہیں بگاڑ سکتے۔ جب اس قوم کے لوگوں نے آگے بڑھنے کی کوشش کی تو اللہ نے ان کو اندھا کردیا۔ ان کی آنکھیں چوپٹ ہوگئیں اور وہ اندھے ہو کر ادھر ادھر دھکے کھانے لگے۔ فرشتوں نے حضرت لوط سے کہا کہ صبح ہونے سے پہلے آپ (سوائے اپنی نافرزمان بیوی کے) گھر کے سارے افراد اور اہل ایمان کو لے کر اس شہر سے نکل جائیے اور پلٹ کر نہ دیکھیے جب حضرت لوط ان کے گھر والے اور اہل ایمان ان بستیوں سے نکل گئے تو حضرت جبرئیل نے قوم لوط کی بستیوں کو اٹھایا اور آسمان کی بلندیوں تک لے جا کر پٹک دیا۔ پھر ان پر پتھروں کی زبردست بارش کردی گئی۔ سمندر کا پانی ان کی بستیوں پر چڑھ دوڑا اور اس طرح اللہ کے عذاب نے اس پوری قوم اور ان کی آبادیوں کو سمندر میں ڈبو دیا۔ بحر مردار (ڈیڈ سی) ان ہی بستیوں پر چھایا ہوا ہے۔ یہ سمندر کا وہ حصہ ہے کہ اس پانی میں چھوٹے سے چھوٹا جان ور بھی زندہ نہیں رہ سکتا۔ قوم عاد قوم ثمود اور قوم لوط کے بدترین انجام کو بیان کرنے کے بعد قوم فرعون کا ذکر فرمایا ۔ فرعون اپنے وقت کا انتہائی طاقت دو بادشاہ تھا۔ اپنے آپ کو معبود بیٹھا اہر طرف اس کی حکوتم کا ظلم و ستم اس حد تک بڑھ چکا تھا کہ بنی اسرائیل میں پیدا ہونے والے ہر لڑکے کو ماؤں کی گود سے چھین کر ان کے سامنے ان کے بیٹوں کے ٹکڑے ٹکڑے کردیئے جاتے مگر ان ماؤں کو اس ظالمانہ کارروائی پر اف تک کرنے یا احتجاج کرنے کی ہمت و طاقت اور اجازت نہ تھی۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ اور ان کے بھائی حضرت ہارون کو بہت سی نشانیوں کے ساتھ فرعون کے پاس بھیجا۔ حضرت اللہ تعالیٰ نے فرعون کو بنی اسرائیل پر ظلم و ستم سے روکنے کی کوشش کی تو اس نے نہ صرف انکار کردیا بلکہ حضرت موسیٰ کے معجزات کو جادو قرار دے کر ان کو ذلیل کرنے کی کوشش کی۔ اس کفر اور انکار اور ظلم و ستم کی وجہ سے فرعون اسی قدر بےقیمت ہوچکا تھا جب اس پر اور اس کی قوم پر اللہ کا عذاب آیا اور اس کو اور اس کی قوم کو سمندر میں ڈبو دیا گیا تو وہ انتہائی مجبور اور بےبسی کے عالم میں اس طرح سمندر میں غوطے کھا رہا تھا کہ اس کی سلطنت، حکومت، مال و دولت اور فوج اس کے کسی کام نہ آسکی یکنی جب اللہ نے ایک زبردست طاقت اور بادشاہ کی طرح پکڑا تو پھر کوئی بھی اس کی گرفت سے اسے چھڑا نہ سکا۔ اللہ تعالیٰ نے ان ظالم قوموں پر عذاب کا ذکر کرنے کے بعد فرمایا کہ یہ وہ سچائیاں ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ نے نہایت آسان اور سہل زبان میں بیان کردیا ہے۔ جس کے سمجھنے میں کوئی دشواری نہیں ہے۔ سن کر دھیان دینے کی ضرورت ہے۔ دھیان دینے والا اس بات کو اچھی طرح سمجھ لے گا کہ اللہ جس برے انجام سے نافرمانوں کو ڈرا رہا ہے وہ ڈرانا کس قدر اہمیت رکھتا ہے ۔ اللہ نے اپنے اس دستور کو بار بار بیان کیا ہے کہ جس سر زمین پر اللہ کے بندوں پر ظلم و ستم کیا جائے گا اور اللہ کی بندگی کے بجائے غیر اللہ کی عبادت و بندگی کی جائے گی اللہ ایسی قوموں کو مٹا کر دوسروں کو ان کی جگہ دے کر کامیاب کر دے گا۔ اسی طرح ہر وہ قوم جو اللہ کی اطاعت و فرماں برداری کرے گی اس کو نجات عطا کر کے دنیا اور آخرت میں سربلند کردیا جائے گا۔ اللہ کا یہ ایسا دستور ہے جو ابتدائے کائنات سے ہے اور قیامت تک رہے گا اس میں کبھی تبدیلی آئی ہے اور نہ کبھی آئے گی۔

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : نوح (علیہ السلام) کی قوم کا انجام ذکر کرنے کے بعد قوم عاد کے بارے میں ارشاد ہوا کہ سوچو اور غور کرو کہ اللہ تعالیٰ کا عذاب اور ڈرانا کس طرح خوف ناک تھا جسے قرآن میں تفصیل کے ساتھ بیان کیا گیا ہے اور ہم نے قرآن کو سمجھنے کے لیے آسان کردیا ہے۔ قوم عاد کی مختصر تاریخ جاننے کے لیے سورة الذاریات کی آیت ٤١ تا ٤٢ کی تفسیر ملاحظہ فرمائیں ! اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں بڑے ہی آسان اور سادہ الفاظ میں لوگوں کی راہنمائی فرمائی ہے۔ اگر کوئی راہنمائی حاصل کرنا چاہے تو قرآن مجید سے بڑھ کر کوئی کتاب آسان اور پر تاثیر نہیں ہوسکتی۔ جو آدمی صراط مستقیم پر چلنا چاہے اسے اس کتاب کو سمجھنا اور صراط مستقیم کو پانے میں کوئی دشواری نہیں ہوگی۔ لیکن اس کا یہ معنٰی نہیں کہ قرآن مجید کے مطالب اور مفاہیم کو ہر شخص سمجھ سکتا ہے۔ ایسا ہرگز نہیں کہ کیونکہ ہر زبان کو پوری طرح سمجھنے کے لیے اس کے قواعد کو جاننے کے لیے ایک ماہر استاد کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس کے بغیر کوئی شخص اس کتاب کے رموز و اسرار کو کما حقّہ نہیں سمجھ سکتا۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا کہ اے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! ہم نے آپ پر قرآن مجید نازل کیا ہے تاکہ آپ لوگوں کے سامنے اسے کھول کھول کر بیان کریں اور لوگ اس پر غور و فکر کریں۔ (وَ مَآ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِکَ اِلَّا رِجَالًا نُّوْحِیْٓ اِلَیْہِمْ فَسْءَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ بِالْبَیِّنٰتِ وَ الزُّبُرِ وَ اَنْزَلْنَآ اِلَیْکَ الذِّکْرَ لِتُبَیِّنَ للنَّاسِ مَا نُزِّلَ اِلَیْہِمْ وَ لَعَلَّہُمْ یَتَفَکَّرُوْنَ ) (النحل : ٤٣، ٤٤) ” اور نہیں بھیجے ہم نے آپ سے پہلے رسول مگر وہ آدمی تھے جن کی طرف ہم نے وحی کی۔ اگر تم نہیں جانتے تو اہل ذکر سے پوچھ لو۔ واضح دلائل اور کتابیں دے کر اور ہم نے آپ کی طرف نصیحت اتاری تاکہ آپ لوگوں کے سامنے کھول کر بیان کریں جو کچھ ان کی طرف اتارا گیا ہے اور تاکہ وہ غوروفکر کریں۔ “ مسائل ١۔ اللہ تعالیٰ قوم عاد کو سخت ترین عذاب دے کر ان کو آنے والے لوگوں کے لیے عبرت بنا دیا۔ ٢۔ اللہ تعالیٰ قرآن مجید نصیحت حاصل کرنے والوں کے لیے آسان کردیتے ہیں۔ تفسیر بالقرآن قوم عاد کے جرائم اور ان کا انجام : ١۔ قوم عاد نے جھٹلایا تو اللہ نے ان کو ہلاک کردیا۔ (الشعراء : ١٣٩) ٢۔ قوم عاد وثمود کے اعمال بد کو شیطان نے مزین کردیا۔ (العنکبوت : ٣٨) ٣۔ قوم عاد نے زمین میں تکبر کیا اور کہا کہ ہم سے طاقت میں کون زیادہ ہوسکتا ہے ؟ (حٰم السجدۃ : ١٥) ٤۔ رسولوں کی نافرمانی قوم عاد کی تباہی کا سبب ثابت ہوئی۔ (ھود : ٥٩) ٥۔ قوم عاد نے ھود (علیہ السلام) سے عذاب کا مطالبہ کیا۔ (الاحقاف : ٢٢) ٦۔ قوم عاد نے اپنے پروردگار کے ساتھ کفر کیا، قوم عاد کے لیے دوری ہے۔ (ھود : ٦٠) ٧۔ قوم عاد بڑے سفاک اور ظالم لوگ تھے۔ ( النجم : ٥٢) ٨۔ عاد زبر دست آندھی کے ذریعے ہلاک ہوئے۔ (الحاقہ : ٦) قوم عاد کی دنیاوی ترقی کی ایک جھلک : ١۔ قوم عاد اس قدر کڑیل اور قوی ہیکل جوان تھے کہ ان جیسا دنیا میں کوئی اور پیدا نہیں کیا گیا۔ (الفجر ٦ تا ٨ ) ٢۔ قوم عاد بڑے بڑے محلات میں رہتی تھی۔ کھیتی باڑی اور باغبانی میں ان کا کوئی ثانی نہیں تھا۔ (الشعراء ١٢٩ تا ١٣٣)

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

کذبت ............ مد کر (54:18 تا ٢٢) ” عاد نے جھٹلایا تو دیکھ لو کہ کیسا تھا میرا عذاب اور کیسی تھیں میری تنبیہات۔ ہم نے ایک پیہم نحوست کے دن سخت طوفانی ہوا ان پر بھیج دی۔ جو لوگوں کو اٹھا اٹھا کر اس طرح پھینک رہی تھی جیسے وہ جڑ سے اکھڑے ہوئے کھجور کے تنے ہوں۔ پس دیکھ لو کیسا تھا میرا عذاب اور کیسی تھیں میری تنبیہات۔ ہم نے اس قرآن کو نصیحت کے لئے آسان ذریعہ بنادیا ہے۔ پھر کیا ہے کوئی نصیحت قبول کرنے والا “ ؟ یہ دوسرا پیراگراف ہے اور اقوام سابقہ پر عذاب آنے کا دوسرا منظر ہے۔ قوم نوح کے بعد ہلاکت کا یہ بڑا واقعہ تھا۔ سب سے پہلے قوم نوح ہلاک ہوئی اور اس کے بعد قوم عاد۔ پہلے یہ بتایا جاتا ہے عاد نے بھی تکذیب کی لیکن آیت ختم ہونے سے پہلے ہی ایک خوفناک سوال کردیا جاتا ہے۔ فکیف ........ ونذر (45: ٨١) ” میرا عذاب کیسا تھا اور تنبیہات کیسی تھیں “ اس کے بعد بتایا جاتا ہے کہ ان کا انجام یوں ہوا ، ہولناک اور خوفناک۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

قوم عاد کی تکذیب اور ہلاکت اور تعذیب ان آیات میں قوم عاد کی تکذیب اور تعذیب کا ذکر ہے انکی طرف اللہ تعالیٰ شانہ، نے حضرت ہود (علیہ السلام) کو مبعوث فرمایا تھا۔ حضرت ھود (علیہ السلام) نے ان کو تبلیغ کی توحید کی دعوت دی، یہ لوگ بری طرح پیش آئے اور کہنے لگے کہ ہمارے خیال میں تو تم کم عقل ہو بیوقوف ہو ہم تو تمہیں جھوٹا سمجھتے ہیں۔ یہ جو تم نے عذاب عذاب کی رٹ لگا رکھی ہے یہ دھمکی ہم پر کچھ اثر انداز نہیں ہوسکتی اگر تم اپنی بات میں سچے ہو تو چلو عذاب کو بلالو، بالآخر ان پر اللہ تعالیٰ شانہ، نے ہوا کا عذاب بھیج دیا بہت سخت تیز ہوا آئی جو ان پر سات رات اور آٹھ دن مسلط رہی یہ دن ان کے لیے نامبارک اور منحوس تھے۔ ہوا چلتی رہی اور یہ لوگ مرتے رہے تیز ہوا نے انہیں اٹھا اٹھا کر پھینک دیا یہ لوگ بڑی جسامت والے تھے قد آور تھے اپنی قوت اور طاقت پر انہیں بڑا گھمنڈ تھا ان کے سامنے جب دین و ایمان کی بات آئی تو کہنے لگے ﴿مَنْ اَشَدُّ مِنَّا قُوَّةً﴾ (ہم سے بڑھ کر قوت کے اعتبار سے کون زیادہ سخت ہوگا) اللہ تعالیٰ نے ہوا بھیجی تو ساری شیخی دھری رہ گئی ہوا نے انہیں اپنی جگہوں سے ایسا اٹھا اٹھا کر پھینکا کہ ان میں کوئی جان ہی نہ تھی۔ یہاں سورة القمر میں فرمایا ﴿ كَاَنَّهُمْ اَعْجَازُ نَخْلٍ مُّنْقَعِرٍ ٠٠٢٠﴾ (گویا کہ وہ کھجور کے درختوں کے تنے تھے جو اکھڑ اکھڑ کر زمین پر گرپڑے) اور سورة الحاقہ میں فرمایا ہے ﴿فَتَرَى الْقَوْمَ فِيْهَا صَرْعٰى١ۙ كَاَنَّهُمْ اَعْجَازُ نَخْلٍ خَاوِيَةٍۚ٠٠٧﴾ (سو اے مخاطب تو اس قوم کو مذکورہ ایام میں پچھاڑے ہوئے دیکھتا ہے گویا کہ وہ کھجور کے کھوکھلے تنے ہیں جو اندر سے خالی ہیں) ۔ ﴿فَكَيْفَ كَانَ عَذَابِيْ وَ نُذُرِ ٠٠٢١﴾ (سو کیسا تھا میرا عذاب اور میرا ڈرانا) ﴿ وَ لَقَدْ يَسَّرْنَا الْقُرْاٰنَ للذِّكْرِ فَهَلْ مِنْ مُّدَّكِرٍ (رح) ٠٠٢٢﴾ اور یہ بات یقینی ہے کہ ہم نے قرآن کو نصیحت کے لیے آسان کردیا سو کوئی ہے نصیحت حاصل کرنے والا) ۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

11:۔ ” کذبت عاد “ یہ تخویف دنیوی کا دوسرا نمونہ ہے۔ قوم عاد کا انجام بھی نہایت ہی عبرتناک ہے۔ ہم نے کس طرح پیغمبر بھیج کر ان کو ڈرایا۔ اور تکذیب و انکار پر پھر کس قدر ہولناک عذاب سے ان کو ہلاک کیا۔ صرصر، نہایت تند و تیز طوفان باد، یوم نحسن مستمر وہ دن اس قوم کے لیے دائمی بدبختی کا دن تھا کیونکہ اس دن سے لے کر قیامت تک عالم برزخ کے عذاب میں رہیں گے اور اس کے بعد عذاب جہنم میں ہمشیہ کیلئے داخل ہوں گے۔ مستمر، یوم کی صفت ہے یا نحس کی۔ نخل اسم جنس ہے اس لیے مذکر و مونث دونوں طرح مستعمل ہے باعتبار لفظ مذکر ہے جیسا کہ یہاں ہے ” نخل منقعر “ اور باعتبار معنی مونث ہے جیسا کہ سورة الحاقہ میں ہے ” کانہم اعجاز نخل خاویۃ “۔ منقعر، اکھڑا ہوا۔ ہم نے قوم عاد پر نہایت ہی تند و تیز طوفان ہوا کو مسلط کیا اور وہ دن ان کی دائمی بد بختی کا دن ثابت ہوا۔ ہوا کا طوفان ایسا تیز اور زور دار تھا کہ انسانوں کو زمین سے اٹھا اٹھا کر پھینک رہا تھا اور وہ کھجور کے اکھڑے ہوئے تنوں کی طرح ہوا میں اڑ اڑ کر گر رہے تھے۔ ” فکیف کان عذابی۔ تا فھل من مد کر “ ہمار اعذاب کیسا ہونلاک تھا، اس طرح ہم قرآن میں گذشتہ قوموں کے احوال بیان کرتے ہیں تاکہ کوئی ان سے عبرت حاصل کرے قرآن سے پند و نصیحت سیکھنا آسان ہے لیکن کوئی سیکھنے والا تو ہو۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(18) قوم عاد نے بھی تکذیب کا شیوہ اختیار کیا سو دیکھو میرا عذاب اور میرا ڈرانا کیسا ہوا یعنی ان کا انجام بھی دیکھ لو۔