Surat ul Qamar

Surah: 54

Verse: 30

سورة القمر

فَکَیۡفَ کَانَ عَذَابِیۡ وَ نُذُرِ ﴿۳۰﴾

And how [severe] were My punishment and warning.

پس کیونکر ہوا میرا عذاب اور میرا ڈرانا ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

and killed (her). Then, how was My torment and My warnings, `I tormented them, so how was the torment I sent on them because of their disbelief in Me and denying My Messenger' إِنَّا أَرْسَلْنَا عَلَيْهِمْ صَيْحَةً وَاحِدَةً فَكَانُوا كَهَشِيمِ الْمُحْتَظِرِ

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

فَكَيْفَ كَانَ عَذَابِيْ وَنُذُرِ۝ ٣٠ اِنَّآ اَرْسَلْنَا عَلَيْہِمْ صَيْحَۃً وَّاحِدَۃً فَكَانُوْا كَہَشِيْمِ الْمُحْتَظِرِ۝ ٣١ رسل ( ارسال) والْإِرْسَالُ يقال في الإنسان، وفي الأشياء المحبوبة، والمکروهة، وقد يكون ذلک بالتّسخیر، كإرسال الریح، والمطر، نحو : وَأَرْسَلْنَا السَّماءَ عَلَيْهِمْ مِدْراراً [ الأنعام/ 6] ، وقد يكون ببعث من له اختیار، نحو إِرْسَالِ الرّسل، قال تعالی: وَيُرْسِلُ عَلَيْكُمْ حَفَظَةً [ الأنعام/ 61] ، فَأَرْسَلَ فِرْعَوْنُ فِي الْمَدائِنِ حاشِرِينَ [ الشعراء/ 53] ، وقد يكون ذلک بالتّخلية، وترک المنع، نحو قوله : أَلَمْ تَرَ أَنَّا أَرْسَلْنَا الشَّياطِينَ عَلَى الْكافِرِينَ تَؤُزُّهُمْ أَزًّا [ مریم/ 83] ، والْإِرْسَالُ يقابل الإمساک . قال تعالی: ما يَفْتَحِ اللَّهُ لِلنَّاسِ مِنْ رَحْمَةٍ فَلا مُمْسِكَ لَها وَما يُمْسِكْ فَلا مُرْسِلَ لَهُ مِنْ بَعْدِهِ [ فاطر/ 2] ( ر س ل ) الرسل الارسال ( افعال ) کے معنی بھیجنے کے ہیں اور اس کا اطلاق انسان پر بھی ہوتا ہے اور دوسری محبوب یا مکروہ چیزوں کے لئے بھی آتا ہے ۔ کبھی ( 1) یہ تسخیر کے طور پر استعمال ہوتا ہے جیسے ہوا بارش وغیرہ کا بھیجنا ۔ چناچہ قرآن میں ہے ۔ وَأَرْسَلْنَا السَّماءَ عَلَيْهِمْ مِدْراراً [ الأنعام/ 6] اور ( اوپر سے ) ان پر موسلادھار مینہ برسایا ۔ اور کبھی ( 2) کسی بااختیار وار وہ شخص کے بھیجنے پر بولا جاتا ہے جیسے پیغمبر بھیجنا چناچہ قرآن میں ہے : وَيُرْسِلُ عَلَيْكُمْ حَفَظَةً [ الأنعام/ 61] اور تم لوگوں پر نگہبان ( فرشتے ) تعنیات رکھتا ہے ۔ فَأَرْسَلَ فِرْعَوْنُ فِي الْمَدائِنِ حاشِرِينَ [ الشعراء/ 53] اس پر فرعون نے ( لوگوں کی بھیڑ ) جمع کرنے کے لئے شہروں میں ہر کارے دوڑائے ۔ اور کبھی ( 3) یہ لفظ کسی کو اس کی اپنی حالت پر چھوڑے دینے اور اس سے کسی قسم کا تعرض نہ کرنے پر بولاجاتا ہے ہے جیسے فرمایا : أَلَمْ تَرَ أَنَّا أَرْسَلْنَا الشَّياطِينَ عَلَى الْكافِرِينَ تَؤُزُّهُمْ أَزًّا [ مریم/ 83]( اے پیغمبر ) کیا تم نے ( اس باٹ پر ) غور نہیں کیا کہ ہم نے شیطانوں کو کافروں پر چھوڑ رکھا ہے کہ وہ انہیں انگینت کر کے اکساتے رہتے ہیں ۔ اور کبھی ( 4) یہ لفظ امساک ( روکنا ) کے بالمقابل استعمال ہوتا ہے جیسے فرمایا : ما يَفْتَحِ اللَّهُ لِلنَّاسِ مِنْ رَحْمَةٍ فَلا مُمْسِكَ لَها وَما يُمْسِكْ فَلا مُرْسِلَ لَهُ مِنْ بَعْدِهِ [ فاطر/ 2] تو اللہ جو اپنی رحمت دے لنگر لوگوں کے لئے ) کھول دے تو کوئی اس کا بند کرنے والا نہیں اور بندے کرے تو اس کے ( بند کئے ) پیچھے کوئی اس کا جاری کرنے والا نہیں ۔ صاح الصَّيْحَةُ : رفع الصّوت . قال تعالی: إِنْ كانَتْ إِلَّا صَيْحَةً واحِدَةً [يس/ 29] ( ص ی ح ) الصیحۃ کے معنی آواز بلندکرنا کے ہیں ۔ قرآن میں ہے : ۔ إِنْ كانَتْ إِلَّا صَيْحَةً واحِدَةً [يس/ 29] وہ تو صرف ایک چنگھاڑ تھی ( آتشین ۔ هشم الْهَشْمُ : کسر الشیء الرّخو کالنّبات . قال تعالی: فَأَصْبَحَ هَشِيماً تَذْرُوهُ الرِّياحُ [ الكهف/ 45] ، فَكانُوا كَهَشِيمِ الْمُحْتَظِرِ [ القمر/ 31] يقال : هَشَمَ عظمه، ومنه : هَشَمْتُ الخبز، قال الشاعر : عمرو العلا هَشَمَ الثّريد لقومه ... ورجال مكّة مسنتون عجاف «2» والْهَاشِمَةُ : الشّجّة تَهْشِمُ عظم الرأس، واهْتَشَمَ كلّ ما في ضرع الناقة : إذا احتلبه ويقال : تَهَشَّمَ فلان علی فلان : تعطّف . ( ھ ش م ) الھشم ۔ اصل میں سوکھی یا نرم چیز کے توڑنے پر بولاجاتا ہے ۔ چناچہ قرآن پاک میں ہے : ۔ فَأَصْبَحَ هَشِيماً تَذْرُوهُ الرِّياحُ [ الكهف/ 45] پھر وہ چورا چورا ہوگئی کہ ہوائیں اسے اڑاتی پھرتی ہیں ۔ فَكانُوا كَهَشِيمِ الْمُحْتَظِرِ [ القمر/ 31] تو وہ ایسے ہوگئی جسیے باڑ والے کی سوکھی اور ٹوٹی ہوئی باڑ ۔ اور ہڈی وغیرہ ( سخت چیز ) کے توڑنے پر ھشم بولاجاتا ہے اور اسی سے ھشمت الخبز کا محاورہ ہے ۔ جس کے معنی سوکھی روٹی کو توڑ کر ثرید بنانے کے ہیں ۔ شاعر نے کہا ہے عمرو العلا ھشم الثرید لقومہ ورجال مکۃ مسنتون عجاف عمر والعلا نے خشک سالی نے زمانہ میں اپنی قوم کو ثرید کھلایا جب کہ مکہ مکرمہ کے سردار قحط سالی کی وجہ سے دبلے ہو رہے تھے ۔ ھا شمۃ سر کا زخم جس سے کھو پڑی کی ہڈی ٹوٹ جائے ۔ اھتشم کل مافی صد ع الناقۃ اونٹنی کے پستانوں سے تمام دودھ نچوڑ لیا محاورہ ہے ۔ تھثم فلان عل فلان کسی پر مہر بان ہونا ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٣٠ { فَـکَیْفَ کَانَ عَذَابِیْ وَنُذُرِ ۔ } ” پھر کیسا رہا میرا عذاب اور میرا خبردار کرنا ؟ “

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(54:30) ملاحظہ ہو آیت 16 متذکرہ الصدر۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

فکیف ........ ونذر (45: ٠٣) ” پھر دیکھ لو کہ کیسا تھا میرا عذاب اور کیسی تھیں میری تنبیہات “ یہ سوال تعجب انگیز اور خوف پیدا کرنے کے لئے ہے اور یہ عذاب کے ذکر سے بھی پہلے کیا جاتا ہے۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(30) پھر دیکھو کہ میرا عذاب اور میرا ڈرانا کیسا ہوا۔ یعنی تیسرے دن عذاب آگیا اسی کو فرماتے ہیں۔