Surat ul Qamar

Surah: 54

Verse: 5

سورة القمر

حِکۡمَۃٌۢ بَالِغَۃٌ فَمَا تُغۡنِ النُّذُرُ ۙ﴿۵﴾

Extensive wisdom - but warning does not avail [them].

اور کامل عقل کی بات ہے لیکن ان ڈراؤنی باتوں نے بھی کچھ فائدہ نہ دیا ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

حِكْمَةٌ بَالِغَةٌ ... Perfect wisdom, in that Allah guides whomever He wills and misguides whomever He wills, ... فَمَا تُغْنِ النُّذُرُ but warners benefit them not. but the preaching of warnings does not benefit those upon whom Allah has written misery and sealed their hearts. Who can guide such people after Allah? This Ayah is similar to Allah's statements, قُلْ فَلِلَّهِ الْحُجَّةُ الْبَـلِغَةُ فَلَوْ شَأءَ لَهَدَاكُمْ أَجْمَعِينَ Say: "With Allah is the perfect proof and argument; had He so willed, He would indeed have guided you all." (6:149) and, وَمَا تُغْنِى الايَـتُ وَالنُّذُرُ عَن قَوْمٍ لاَّ يُوْمِنُونَ But neither Ayat nor warners benefit those who believe not. (10:101)

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

5۔ 1 یعنی ایسی بات جو تباہی سے پھیر دینے والی ہے یا قرآن حکمت بالغہ ہے جس میں کوئی نقص یا خلل نہیں ہے۔ یا اللہ تعالیٰ جس کو ہدایت دے اور یا اسے گمراہ کرے، اس میں بڑی حکمت ہے جس کو وہی جانتا ہے۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٥] یعنی قرآن میں اقوام سابقہ کی سرگزشت کو اس لیے بار بار دہرایا گیا ہے کہ لوگ ان اقوام کے انجام اور عذاب سے عبرت حاصل کریں اور ان واقعات کا ذکر ان کے لیے تازیانہ کا کام دے۔ (جسے شرعی اصطلاح میں تذکیر با یام اللہ کہا جاتا ہے) ان واقعات میں لوگوں کے عبرت اور سبق حاصل کرنے کے لیے مواد تو بہت موجود ہے لیکن اگر کوئی شخص ادھر توجہ ہی نہ کرے تو یہ تنبیہات اس کے کس کام آسکتی ہیں ؟۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

حِکْمَۃٌ بَالِغَۃٌ فَمَاتُغْنِ النُّذُرُ ۔” بالغۃ “ کا لفظی معنی پہنچنے والی ہے ، مراد انتہاء اور کمال کو پہنچی ہوئی حکمت ہے ۔” النذر “ ” نذیر “ کی جمع ہے ، ڈرانے والی چیزیں ۔ ” نذیر “ مصدر بھی ہوسکتا ہے ، جس طرح ” نکیر “ ہے یعنی تنبیہات ، ڈراوے ۔” حکمۃ “ پچھلی آیت میں مذکور ” مافیہ مزدجر “ سے بدل ہے۔ یعنی پچھلی امتوں کے واقعات میں سے وہ واقعات جن میں کفر و تکذیب سے باز آنے کا سامان موجود ہے ، کامل حکمت اور دانائی کی باتیں ہیں ، مگر یہ ڈرانے اور خبردار کرنے والی چیزیں نہ ماننے والوں کو کچھ فائدہ نہیں دیتیں ۔ دیکھیئے۔ سورة ٔ یونس (١٠١)

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

حِكْمَۃٌۢ بَالِغَۃٌ فَمَا تُغْنِ النُّذُرُ۝ ٥ ۙ حكم والحُكْم بالشیء : أن تقضي بأنّه كذا، أو ليس بکذا، سواء ألزمت ذلک غيره أو لم تلزمه، قال تعالی: وَإِذا حَكَمْتُمْ بَيْنَ النَّاسِ أَنْ تَحْكُمُوا بِالْعَدْلِ [ النساء/ 58] ( ح ک م ) حکم الحکم کسی چیز کے متعلق فیصلہ کرنے کا نام حکم ہے یعنی وہ اس طرح ہے یا اس طرح نہیں ہے خواہ وہ فیصلہ دوسرے پر لازم کردیا جائے یا لازم نہ کیا جائے ۔ قرآں میں ہے :۔ وَإِذا حَكَمْتُمْ بَيْنَ النَّاسِ أَنْ تَحْكُمُوا بِالْعَدْلِ [ النساء/ 58] اور جب لوگوں میں فیصلہ کرنے لگو تو انصاف سے فیصلہ کیا کرو ۔ بلغ البُلُوغ والبَلَاغ : الانتهاء إلى أقصی المقصد والمنتهى، مکانا کان أو زمانا، أو أمرا من الأمور المقدّرة، وربما يعبّر به عن المشارفة عليه وإن لم ينته إليه، فمن الانتهاء : بَلَغَ أَشُدَّهُ وَبَلَغَ أَرْبَعِينَ سَنَةً [ الأحقاف/ 15] ( ب ل غ ) البلوغ والبلاغ ( ن ) کے معنی مقصد اور متبٰی کے آخری حد تک پہنچے کے ہیں ۔ عام اس سے کہ وہ مقصد کوئی مقام ہو یا زمانہ یا اندازہ کئے ہوئے امور میں سے کوئی امر ہو ۔ مگر کبھی محض قریب تک پہنچ جانے پر بھی بولا جاتا ہے گو انتہا تک نہ بھی پہنچا ہو۔ چناچہ انتہاتک پہنچے کے معنی میں فرمایا : بَلَغَ أَشُدَّهُ وَبَلَغَ أَرْبَعِينَ سَنَةً [ الأحقاف/ 15] یہاں تک کہ جب خوب جو ان ہوتا ہے اور چالس برس کو پہنچ جاتا ہے ۔ غنی( فایدة) أَغْنَانِي كذا، وأغْنَى عنه كذا : إذا کفاه . قال تعالی: ما أَغْنى عَنِّي مالِيَهْ [ الحاقة/ 28] ، ما أَغْنى عَنْهُ مالُهُ [ المسد/ 2] ، لَنْ تُغْنِيَ عَنْهُمْ أَمْوالُهُمْ وَلا أَوْلادُهُمْ مِنَ اللَّهِ شَيْئاً [ آل عمران/ 10] ، ( غ ن ی ) الغنیٰ اور اغنانی کذا اور اغنی کذا عنہ کذا کسی چیز کا کا فی ہونا اور فائدہ بخشنا ۔ قر آں میں ہے : ما أَغْنى عَنِّي مالِيَهْ [ الحاقة/ 28] میرا مال میرے کچھ کام نہ آیا ما أَغْنى عَنْهُ مالُهُ [ المسد/ 2] تو اس کا مال ہی اس کے کچھ کام آیا ۔۔۔۔ لَنْ تُغْنِيَ عَنْهُمْ أَمْوالُهُمْ وَلا أَوْلادُهُمْ مِنَ اللَّهِ شَيْئاً [ آل عمران/ 10] نہ تو ان کا مال ہی خدا کے عذاب سے انہیں بچا سکے گا اور نہ ان کی اولاد ہی کچھ کام آئیگی نذر وَالإِنْذارُ : إخبارٌ فيه تخویف، كما أنّ التّبشیر إخبار فيه سرور . قال تعالی: فَأَنْذَرْتُكُمْ ناراً تَلَظَّى[ اللیل/ 14] والنَّذِيرُ : المنذر، ويقع علی كلّ شيء فيه إنذار، إنسانا کان أو غيره . إِنِّي لَكُمْ نَذِيرٌ مُبِينٌ [ نوح/ 2] ( ن ذ ر ) النذر الا نذار کے معنی کسی خوفناک چیز سے آگاہ کرنے کے ہیں ۔ اور اس کے بالمقابل تبشیر کے معنی کسی اچھی بات کی خوشخبری سنا نیکے ہیں ۔ قرآن میں ہے : ۔ فَأَنْذَرْتُكُمْ ناراً تَلَظَّى[ اللیل/ 14] سو میں نے تم کو بھڑکتی آگ سے متنبہ کردیا ۔ النذ یر کے معنی منذر یعنی ڈرانے والا ہیں ۔ اور اس کا اطلاق ہر اس چیز پر ہوتا ہے جس میں خوف پایا جائے خواہ وہ انسان ہو یا کوئی اور چیز چناچہ قرآن میں ہے : ۔ وَما أَنَا إِلَّا نَذِيرٌ مُبِينٌ [ الأحقاف/ 9] اور میرا کام تو علانیہ ہدایت کرنا ہے ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٥ { حِکْمَۃٌم بَالِغَۃٌ فَمَا تُغْنِ النُّذُرُ ۔ } ” کامل دانائی (کی باتیں) ‘ لیکن ان خبردار کرنے والوں سے انہیں کوئی فائدہ نہ پہنچا۔ “

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(54:5) حکمۃ : یہ آیت سابقہ میں جو ما ہے (جو فعل جاء کا فاعل ہے) اس کا بدل ہے۔ بالغۃ : صفت ہے حکمۃ کی، پہنچی ہوئی۔ پہنچنے والی۔ بلوغ (باب نصر) سے مصدر۔ اسم فاعل کا صیغہ واحد مؤنث ہے (ایمان بالغۃ (68:39) تاکید میں انتہاء کو پہنچی ہوئی قسمیں۔ حکمۃ بالغۃ۔ حکمت اور دانائی میں انتہاء کو پہنچی ہوئی بات، سراسر دانائی۔ فما تغن النذر : ما نافیہ بھی ہوسکتا ہے اور استفہامیہ انکار بھی تغن مضارع کا صیغہ واحد مؤنث غائب اغناء (افعال) مصدر سے۔ کام آنا۔ کفایت کرنا۔ تغن اصل میں تغنی تھا۔ عامل کے سبب سے ی حذف ہوگئی ہے (لغات القرآن) اصلہ تغنی لم تکتب لیاء بعد النون اتباعا لرسم المصاحف (تفسیر حقانی) اصل میں تغنی تھا رسم مصحف کے اتباع میں نون کے بعد ی نہیں لکھی جاتی۔ نذر مصدر (باب نصر) ڈرانا۔ بمعنی انذار (باب افعال۔ یا نذر جمع ہے نذیر بمعنی منذر کی۔ ڈرانے والے۔ یعنی پیغمبران علیہم الاسلام ۔ مطلب یہ ہے کہ پیغمبروں کا یا ڈرانے کا ان کو کیا فائدہ ہوا۔ یعنی کوئی فائدہ نہیں ہوا۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : منکرین قیامت کے پاس شق قمر کا معجزہ اور دیگر دلائل آچکے ہیں لیکن اس کے باوجود عبرت حاصل کرنے کے لیے تیار نہیں۔ ایسے لوگ قیامت کے ظہور سے پہلے اس پر ایمان نہیں لائیں گے اور نہ ہی عبرت حاصل کریں گے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں نہ صرف قیامت قائم ہونے کے دلائل دیئے ہیں بلکہ کچھ انبیائے کرام (علیہ السلام) اور ان کے سا تھیوں کے سامنے مردوں کو زندہ کرکے بھی دکھلایا ہے اور جو لوگ دلائل اور تنبیہات کے باوجود قیامت پر یقین کرنے کے لیے تیار نہیں انہیں ان کے حال پر چھوڑ دینا چاہیے۔ یہ اس دن سے پہلے ماننے کے لیے تیار نہیں ہوں گے جس دن انہیں بلانے والا اس چیز کی طرف بلائے گا۔ جیسے یہ لوگ اچھا نہیں سمجھتے۔ یہ اپنی قبروں سے اٹھ کھڑے ہوں گے اور ان کی نگاہیں خوف کے مارے جھکی ہوئی ہوں گی اور یہ بکھری ہوئی ٹڈیوں کی طرح منتشر ہوں گے۔ قیامت کے منکر پکار پکار کر کہیں گے کہ آج کا دن بڑا بھاری اور سخت ہے۔ قرآن مجید نے کئی مقامات پر ذکر کیا ہے کہ جب اسرافیل دوسری مرتبہ صورپھونکے گا تو لوگ اپنے اپنے مقام پر اٹھ کھڑے ہوں گے۔ سورة یٰس میں یہ بھی ذکر ہے کہ جب لوگ اپنی قبروں سے اٹھائے جائیں گے تو وہ محشر کے میدان کی طرف اس طرح جائیں گے جس طرح تیر اپنے نشانے کی طرف جاتا ہے۔ (المعارج : ٤٣) (وَنُفِخَ فِی الصُّورِ فَاِِذَا ہُمْ مِنَ الْاَجْدَاثِ اِِلٰی رَبِّہِمْ یَنسِلُوْنَ قَالُوْا یٰوَیْلَنَا مَنْ بَعَثَنَا مِنْ مَّرْقَدِنَاہٰذَا مَا وَعَدَ الرَّحْمٰنُ وَصَدَقَ الْمُرْسَلُوْنَ اِِنْ کَانَتْ اِِلَّا صَیْحَۃً وَّاحِدَۃً فَاِِذَا ہُمْ جَمِیْعٌ لَدَیْنَا مُحْضَرُوْنَ فَالْیَوْمَ لاَ تُظْلَمُ نَفْسٌ شَیْءًا وَّلاَ تُجْزَوْنَ اِِلَّا مَا کُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ ) ( یٰسٓ: ٥١ تا ٥٤) ” پھر ایک صور پھونکا جائے گا اور یکایک لوگ تیزی سے دوڑتے ہوئے اپنے رب کے حضور پیش ہونے کے لیے اپنی اپنی قبروں سے نکل پڑیں گے۔ گھبرا کر کہیں گے کس نے ہماری خواب گاہ سے ہمیں اٹھا کھڑا کیا یہ وہ بات ہے جس کا رب رحمٰن نے وعدہ کیا تھا اور رسولوں کی بات سچ تھی۔ یہ صرف زور دار آواز ہوگی اور سب کے سب ہمارے سامنے پیش کردیے جائیں گے۔ آج کسی پر ذرّہ برابر ظلم نہیں کیا جائے گا اور تمہیں ویسا ہی بدلہ دیا جائے گا جیسے تم عمل کرتے رہے ہو۔ “ (وَعَنْ جَابِرٍ (رض) قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) یُبْعَثُ کُلُّ عَبْدٍ عَلٰی مَامَاتَ عَلَیْہِ ) (رواہ مسلم : باب الأَمْرِ بِحُسْنِ الظَّنِّ باللَّہِ تَعَالَی عِنْدَ الْمَوْتِ ) ” حضرت جابر (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول مکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ہر شخص اسی حالت پر اٹھایا جائے گا جس پر وہ فوت ہوگا۔ “ ” حِکْمَۃٌ بَالِغَۃٌ“ سے مراد قرآن مجید ہے اور شق قمر کا معجزہ بھی قیامت کے ثبوت ہیں۔ اس کا یہ بھی معنی ہے کہ ایسی حکمت جس کے خلاف کوئی واضح دلائل نہ ہو۔ مسائل ١۔ جو لوگ قیامت پر یقین نہیں رکھتے وہ ہر قسم کے دلائل اور تنبیہات کو خاطر میں نہیں لاتے۔ ٢۔ ” اللہ “ کی طرف سے لوگوں پر حجت پوری کردی گئی ہے مگر لوگ پھر بھی اس کی پرواہ نہیں کرتے۔ ٣۔ قیامت کے دن جب لوگوں کو قبروں سے اٹھایا جائے گا تو خوف کے مارے مجرموں کی نگاہیں جھکی ہوئی ہوں گی۔ ٤۔ قیامت کے دن لوگ ٹڈیوں کی طرف منتشر ہوں گے اور انہیں محشر کے میدان میں جمع کیا جائے گا۔ تفسیر بالقرآن قیامت کے دن لوگوں کی حالت : ١۔ قیامت کے دن نیک لوگوں کے چہروں پر ذلت اور نحوست نہیں ہوگی وہ جنت میں رہیں گے۔ (یونس : ٢٦) ٢۔ برے لوگوں کے چہروں پر ذلت چھائی ہوگی اور انہیں اللہ سے کوئی نہیں بچا سکے گا۔ (یونس : ٢٧) ٣۔ مومنوں کے چہرے تروتازہ ہوں گے (القیامہ : ٢٢) ٤۔ کفار کے چہرے بگڑے ہوں ہو گے۔ (الحج : ٧٢) ٥۔ مومنوں کے چہرے خوش و خرم ہوں گے (عبس : ٣٨) ٦۔ کفار کے چہروں پر گردو غبار ہوگا۔ (عبس : ٤٠) ٧۔ مومنوں کا استقبال ہوگا۔ ( الزمر : ٧٣) ٨۔ خدا کے باغیوں پر پھٹکار ہوگی۔ (یونس : ٢٧ )

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

حکمة ........ النذر (54:5) ” اور ایسی حکمت جو نصیحت کے مقصد کو بدرجہ اتم پورا کرتی ہے مگر تنبیہات ان پر کارگر نہیں ہوتیں۔ “ ایمان ہی وہ نعمت ہے جس کی وجہ سے قلب انسانی ان چیزوں سے فائدہ اٹھاتا ہے۔ ان کی روگردانی اور کفر پر اصرار کی اس قدر تصویر کشی کرنے کے بعد اور یہ بتا دینے کے بعد کہ یہ خبروں سے بھی مستفید نہیں ہوتے ان کے لئے ڈراوے میں بھی فائدہ نہیں۔ رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو متوجہ کیا جاتا ہے کہ آپ بھی ان سے روگردانی کرلیں اور ان کو اپنے حال پر چھوڑ دیں۔ وہ دن جلدی ہی آنے والا ہے شق قمر اس دن کی علامت تھی ، یہ دن بہت قریب ہے۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(5) اعلیٰ درجے کی حکمت اور انتہائی دانائی اور پوری عقل کی بات موجود ہے مگر ان کو ڈرانے والی باتیں اور خوف دلانے والی چیزیں کوئی فائدہ نہیں دیتیں۔ حکمۃ بالغتہ یا تو مبتدا محذوف کی خبر ہے یا مافیہ میں جو ما ہے اس سے بدل ہے اور ہوسکتا ہے مزدجر سے بدل ہو مطلب یہ ہے کہ وہ خبریں اور وہ واقعات پوری دانائی اور حکمت ہیں یا ان واقعات میں انتہائی حکمت و دانائی ہے یا یہ واقعات جس قرآن میں مذکور ہیں وہ قرآن حکمت بانو ہے یا وہ جھڑکی اور ڈانٹ انتہائی حکمت و دانائی ہے مگر ان کو ان ڈرانے والی باتوں سے کچھ نفع نہیں ہوتا اور ان کو کوئی فائدہ نہیں پہنچتا خواہ وہ ڈرانے والے انبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام ہوں یا امم سابقہ کی ہلاکت اور تباہی کے واقعات ہوں۔