Surat ur Rehman

Surah: 55

Verse: 10

سورة الرحمن

وَ الۡاَرۡضَ وَضَعَہَا لِلۡاَنَامِ ﴿ۙ۱۰﴾

And the earth He laid [out] for the creatures.

اور اسی نے مخلوق کے لئے زمین بچھا دی ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

And the earth He has put down (laid) for Al-Ana'm. Allah raised the heavens and put down, or laid, the earth and balanced it with firm mountains, so that it would be stable for its residents that live on it, i.e. the various types and kinds of creatures, different in species, shape, color and language. Ibn Abbas, Mujahid, Qatadah and Ibn Zayd said that Al-An'am means the creatures.

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٨] انام کا لغوی مفہوم :۔ انام سے مراد ہر وہ جاندار مخلوق ہے جو روئے زمین پر پائی جاتی ہے۔ خواہ وہ چرند ہوں، یا پرند، مویشی ہوں یا درندے، انسان ہوں یا جن، اور انام سے مراد انسان اور جن لینا اس لحاظ سے زیادہ مناسب ہے کہ آگے انہیں دو انواع کا ذکر آرہا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ زمین پر بسنے والی تمام مخلوق کا رزق ہم نے زمین سے ہی وابستہ کردیا ہے۔ یہی ان کی جائے پیدائش، یہی ان کا مسکن اور یہی ان کا مدفن ہے۔ خ اشتراکی نظریہ کا رد :۔ اس آیت سے اشتراکیت پسند حضرات نے اپنا نظریہ کشید کرنے کی کوشش فرمائی ہے کہ زمین حکومت کو اپنی تحویل میں لے لینی چاہئے۔ پھر وہ تمام افراد کو رزق مہیا کرے۔ اس کے نظریے کے ابطال کے لیے اتنا ہی کافی ہے کہ انام کے معنی صرف انسان نہیں بلکہ سب جاندار مخلوق ہے۔ پھر اس پر کئی اعتراض بھی پیدا ہوتے ہیں۔ مثلاً یہ کہ کیا زمین کی تمام پیداوار تقسیم ہوگی یا مصنوعات ؟ اور کیا ہر فرد ریاست میں برابر تقسیم ممکن بھی ہے۔ یا نہیں ؟ اور آج تو ان لوگوں کا نظریہ عملاً بھی باطل قرار پاچکا ہے۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

وَالْاَرْضَ وَضَعَہَا لِلْاَ نَامِ :” الانام “ کا معنی ہر جان دار مخلوق ہے ، یعنی اللہ تعالیٰ نے زمین کو اس طرح بنایا اور بچھایا ہے کہ مخلوق کی تمام ضروریات اس سے پوری ہوتی ہے ، ان کا پیدا ہونا ، کھانا پینا ، پہننا ، رہنا سہنا ، چلنا پھرنا ، زندہ رہنا اور دفن ہونا غرض ہر ضرورت اور ہر سہولت اسی سے وابستہ ہے۔ ” الانام “ کے لفظ میں اگرچہ تمام مخلوق شامل ہے ، مگر یہاں اس سے مراد جن و انس ہیں ، کیونکہ محاسبہ انہی دو کا ہونا ہے اور آگے انہی پر احسانات کا ذکر ہے۔ دوسری جگہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اس نے زمین کی ہر چیز انسانوں کی خاطر بنائی ہے ، فرمایا :(ہُوَ الَّذِیْ خَلَقَ لَکُمْ مَّا فِی الْاَرْضِ جَمِیْعًا ) (البقرہ : ٢٩) ” وہی ہے جس نے زمین میں جو کچھ ہے سب تمہارے لیے پیدا کیا ۔ “ اور فرمایا (وَ سَخَّرَلَکُمْ مَّا فِی السَّمٰوٰتِ وَمَا فِی الْاَرْضِ جَمِیْعًا ) (الجاثیہ : ١٣)” اور اس نے تمہاری خاطر ان تمام چیزوں کو مسخر کردیا جو آسمانوں میں ہیں اور جو زمین میں ہیں “۔ زمین کو انسان کے لیے بنانے اور بچھانے کے متعلق دیکھئے سورة ٔ رعد ( ٣) ، نمل (٦٠، ٦١) یٰسین (٣٣ تا ٣٥) حم السجدہ (٩، ١٠) زخرف (٩، ١٠) جاثیہ (٣، ٤) ق (٧، ٨) ملک (١٥) مرسلات (٢٥، ٢٦) ، نبائ (٦) اور سورة ٔ نازعات ( ٣٠ تا ٣) ۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

وَالْأَرْ‌ضَ وَضَعَهَا لِلْأَنَامِ (And the earth is placed by Him for creatures...55:10). The word &anam with fatha [=a ] on the first letter on the grammatical measure of سَحَاب sahab, refers to all the creatures that are on the surface of the earth. Baidawi translates the word as &everything having a soul&. Evidently, the word &anam in the verse refers to mankind and the jinn, because only these two species of Allah&s creation are obligated to observe the precepts of Shari` ah. Furthermore, they are addressed throughout the Surah. For instance in the refrain verse فَبِأَيِّ آلَاءِ رَ‌بِّكُمَا تُكَذِّبَانِ (So, [ 0 mankind and Jinn,] which of the bounties of your Lord will you deny?...55:13) The dual second person attached pronouns and the dual forms of the verbs second person sustained throughout Surah Ar-Rahman are addressed to Jinn and mankind.

وَالْاَرْضَ وَضَعَهَا لِلْاَنَامِ ، انام بالفتح بروزن سحاب، ہر جاندار کو کہا جاتا ہے جو زمین پر رہتا چلتا ہے، (قاموس) بیضاوی نے ہر ذی روح اس کا ترجمہ کیا ہے اور ظاہر یہ ہے کہ اس آیت میں انام سے مراد انسان اور جنات ہیں، کیونکہ کل ذی روح ارواح میں سے یہی دونوں احکام شرعیہ کے مکلف اور مامور ہیں اور اس سورت میں بار بار انہی دونوں کو خطاب بھی کیا گیا ہے، جیسا کہ فَبِاَيِّ اٰلَاۗءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ میں یہی دونوں جن وانس مخاطب ہیں۔

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

وَالْاَرْضَ وَضَعَہَا لِلْاَنَامِ۝ ١٠ ۙ أرض الأرض : الجرم المقابل للسماء، وجمعه أرضون، ولا تجیء مجموعةً في القرآن «4» ، ويعبّر بها عن أسفل الشیء، كما يعبر بالسماء عن أعلاه . ( ا رض ) الارض ( زمین ) سماء ( آسمان ) کے بالمقابل ایک جرم کا نام ہے اس کی جمع ارضون ہے ۔ جس کا صیغہ قرآن میں نہیں ہے کبھی ارض کا لفظ بول کر کسی چیز کا نیچے کا حصہ مراد لے لیتے ہیں جس طرح سماء کا لفظ اعلی حصہ پر بولا جاتا ہے ۔ الانام ۔ بمعنی الحیوان کلہ ( ابن عباس) تمام جاندار بمعنی الانس والجن ( حسن) انسان اور جن ۔ بہتوں نے اسی کو ترجیح دی ہے کیونکہ بظاہر اس جگہ ( آیت ہذا) جن اور انس ہی مراد ہیں کیونکہ خطاب انہی دونوں کو کیا گیا ہے اور آگے چل کر فبای الاء ربکما تکذبن میں یہی دونوں نوعین مخاطب ہیں۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ١٠ { وَالْاَرْضَ وَضَعَہَا لِلْاَنَامِ ۔ } ” اور زمین کو اس نے بچھا دیا مخلوق کے لیے۔ “ ظاہر ہے مخلوق میں انسان بھی شامل ہیں اور جنات بھی ۔ نوٹ کیجیے کہ پہلے آسمان ‘ سورج اور چاند کا ذکر ہوا ہے اور اب زمین کا ۔ گویا ترتیب تدریجاً اوپر سے نیچے کی طرف آرہی ہے۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

9 Now from here to verse 20, mention is being made of the blessing and bounties of God and of those manifestations of His might by which both man and jinn are benefiting, and whose natural and moral demand is that although they have the option to believe or not to believe, they should adopt the way of their Lord's service and obedience willingly by their own free choice. 10 The word wade `in the original means to compost, make, prepare, keep. and inscribe, and anam the creatures, which includes man and all other living things. According to Ibn 'Abbas, anam includes every thing which has a soul. Mujahid takes it in the meaning of the living creatures. Qatadah, Ibn Zaid and Sha'bi say that all living things are anam. Hasan Basri says that both the men and the jinn are included in its meaning. The same meanings have been~given by the lexicographers. This shows that the people who deduce from this verse the command of making land the state property, are in error. This is an ugly attempt to introduce alien theories forcibly into the Qur'an which arc neither supported by the words of the verse nor by the context. Anam is not used only for human society but it includes aII other creatures of the earth as well, and setting of the earth for anam dces not mean that it should be the common property of aII. Besides, the context here also dces not indicate that the object of the verse is to state some economic principle. This, in fact, is meant to impress the truth that AIIah made and prepared this earth in such a way that it became a fit abode for every kind of living being. It has not become so by itself, but by the will and power of the Creator. He in His wisdom placed it at a suitable distance and created such conditions on it which made it possible for the different species to exist and stay alive on it. (For explanation, see E.N.'s 73, 74 of An-Naml, E.N.'s 29, 32 of Ya Sin, E.N.'s 90, 91 of Al-Mu'min, E.N.'s 11 to 13 of Ha Mim As-Sajdah, E.N.'s 7 to 10 of Az.Zukhruf, E.N. 7 of AI-Jathiyah).

سورة الرَّحْمٰن حاشیہ نمبر :9 اب یہاں سے آیت 25 تک اللہ تعالیٰ ان نعمتوں اور اس کے ان احسانات اور اس کی قدرت کے ان کرشموں کا ذکر کیا جا رہا ہے جن سے انسان اور جن دونوں متمتع ہو رہے ہیں اور جن کا فطری اور اخلاقی تقاضا یہ ہے کہ وہ کفر و ایمان کا اختیار رکھنے کے باوجود خود اپنی مرضی سے بَطوعَ و رغبت اپنے رب کی بندگی اور اطاعت کا راستہ اختیار کریں ۔ سورة الرَّحْمٰن حاشیہ نمبر :10 اصل الفاظ ہیں زمین کو اَنام کے لیے وضع کیا ۔ وضع کرنے سے مراد ہے تالیف کرنا ، بنانا ، تیار کرنا ، رکھنا ، ثبت کرنا ۔ اور اَنام عربی زبان میں خلق کے لیے استعمال ہوتا ہے جس میں انسان اور دوسری سب زندہ مخلوقات شامل ہیں ۔ ابن عباس کہتے ہیں کل شیء فیہ الروح ، اَنام میں ہر وہ چیز شامل ہے جس کے اندر روح ہے ۔ مجاہد اس کے معنی بیان کرتے ہیں خلائق ۔ قتادہ ، ابن زید اور شعبی کہتے ہیں کہ سب جاندار انام ہیں ۔ حسن بصری کہتے ہیں کہ اِنس و جن دونوں اس کے مفہوم میں داخل ہیں ۔ یہ معنی تمام اہل لغت نے بیان کیے ہیں ۔ اس سے معلوم ہوا کہ جو لوگ اس آیت سے زمین کو ریاست کی ملکیت بنانے کا حکم نکالتے ہیں وہ ایک فضول بات کہتے ہیں ۔ یہ باہر کے نظریات لا کر قرآن میں زبردست ٹھونسنے کی ایک بھونڈی کوشش ہے جس کا ساتھ نہ آیت کے الفاظ دیتے ہیں نہ سیاق و سباق ۔ اَنام صرف انسانی معاشرے کو نہیں کہتے بلکہ زمین کی دوسری مخلوقات بھی اس میں شامل ہیں ۔ اور زمین کو اَنام کے لیے وضع کرنے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ وہ سب کی مشترک ملکیت ہو ۔ اور سیاق عبارت بھی یہ نہیں بتا رہا ہے کہ کلام کا مدعا اس جگہ کوئی معاشی ضابطہ بیان کرنا ہے ۔ یہاں تو مقصود دراصل یہ بتانا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس زمین کو اس طرح بنایا اور تیار کر دیا کہ یہ قسم قسم کی زندہ مخلوقات کے لیے رہنے بسنے اور زندگی بسر کرنے کے قابل ہو گئی ۔ یہ آپ سے آپ ایسی نہیں ہو گئی ہے ۔ خالق کے بنانے سے ایسی بنی ہے ۔ اس نے اپنی حکمت سے اس کو ایسی جگہ رکھا اور ایسے حالات اس میں پیدا کیے جن سے یہاں زندہ انواع کا رہنا ممکن ہوا ۔ ( تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن ، جلد سوم النمل حواشی 73 ۔ 74 جلد چہارم ، یٰسٓ ، حواشی 29 ۔ 32 ۔ المومن حواشی 90 ۔ 91 ، حم السجدہ ، حواشی 11 تا 13 ۔ الزخرف ، حواشی 7 تا 10 الجاثیہ ، حاشیہ 7 )

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(55:10) والارض وضعھا : ای وضع الارض : وضع ماضی واحد مذکر غائب۔ وضع (باب فتح) مصدر۔ بمعنی نیچے رکھنا ۔ اسی سے موضع رکھنے کی جگہ ، جس کی جمع مواضع ہے اسی سے وضع کا لفظ وضع حمل اور بوجھ اتارنے کے لئے آتا ہے لیکن اسی مادہ (و ض ع) سے بمعنی خلق اور ایجاد (یعنی پیدا کرنا) بھی آیا ہے۔ چنانچہوضع البیت کے معنی مکان بنانے کے آئے ہیں۔ مثلاً ان اول بیت وضع للناس (3:95) تحقیق پہلا گھر جو لوگوں (کی عبادت) کے لئے بنایا گیا تھا۔ اور اسی سے آیت ہذا میں بمعنی پیدا کرنا یا بچھانا آیا ہے ۔ والارض وضعھا للانام : اور اسی نے مخلوق کے لئے زمین بچھائی۔ (پیدا کی) اسی مادہ سے اور معنی بھی مشتق ہیں۔ الانام۔ بمعنی الحیوان کلہ (ابن عباس) تمام جاندار بمعنی الانس والجن (حسن) انسان اور جن ۔ بہتوں نے اسی کو ترجیح دی ہے کیونکہ بظاہر اس جگہ (آیت ہذا) جن اور انس ہی مراد ہیں کیونکہ خطاب انہی دونوں کو کیا گیا ہے اور آگے چل کر فبای الاء ربکما تکذبن میں یہی دونوں نوعین مخاطب ہیں۔ ترجمہ ہوگا :۔ اور اس نے جن وانس کے لئے زمین کو (پیدا کیا اور اس کی جگہ پر) رکھ دیا۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : آسمان کے بعد زمین اور اس کے فوائد کا مختصر ذکر۔ جس الرحمن نے شمس و قمر اور نجم وشجر پیدا کیے ہیں اور القسط قائم کرنے کا حکم دیا اسی نے اپنی مخلوق کے لیے زمین کو فرش کے طور پر بچھایا ہے۔ قرآن مجید نے جس طرح انسان کو آسمانوں کے بارے میں معلومات فراہم کی ہیں اسی طرح زمین کے بارے میں بھی بہت کچھ بتلایا ہے۔ ” کیا وہ لوگ جو کفر کرتے ہیں وہ غور نہیں کرتے کہ آسمان اور زمین آپس میں ملے ہوئے تھے ہم نے انہیں الگ الگ کیا اور ہر زندہ چیز پانی سے پیدا کی ؟ کیا پھر بھی وہ ایمان نہیں لاتے اور ہم نے زمین میں پہاڑ بنائے تاکہ زمین انہیں لے کر ڈھلک نہ پڑے اور زمین میں کشادہ راہیں بنایں تاکہ لوگ اپنے راستے معلوم کریں۔ “ (الانبیاء : ٣٠، ٣١) (وَ ہُوَ الَّذِیْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ فِیْ سِتَّۃِ اَیَّامٍ وَّ کَانَ عَرْشُہٗ عَلَی الْمَآءِ لِیَبْلُوَکُمْ اَیُّکُمْ اَحْسَنُ عَمَلًا) (ہود : ٧) ” اور وہی ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو چھ دنوں میں پیدا کیا اور اس کا عرش پانی پر تھا تاکہ تمہیں آزمائے کہ تم میں سے کون اچھے عمل کرنے والا ہے۔ “ (الَّذِیْ جَعَلَ لَکُمُ الْاَرْضَ فِرَاشًا وَّ السَّمَآءَ بِنَاءً وَّ اَنْزَلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءً فَاَخْرَجَ بِہٖ مِنَ الثَّمَرٰتِ رِزْقاً لَّکُمْ فَلَا تَجْعَلُوْا لِلّٰہِ اَنْدَادًا وَّ اَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ ) (البقرہ : ٢٢) ” جس نے تمہارے لیے زمین کو فرش اور آسمان کو چھت بنایا اور آسمان سے پانی اتار کر اس سے تمہارے لیے پھل پیدا کیے جو تمہارا رزق ہے جاننے کے باوجود اللہ کے ساتھ شریک نہ بناؤ۔ “ یہاں زمین پر بسنے والوں کے لیے ” الانام “ کا لفظ استعمال فرمایا ہے جس میں ہر وہ جاندار چیز شامل ہے جس کا رہنا سہنا، کھانا پینا اور مرنا جینا زمین کے ساتھ وابستہ ہے۔ اس میں سر فہرست جن اور انسان ہیں۔ جن کے لیے خاص طور پر اللہ تعالیٰ نے زمین کو فرش کے طور پر بچھایا ہے۔ زمین صرف رہائش کا کام نہیں دیتی بلکہ اسے اللہ تعالیٰ نے ہر جاندار کے لیے دستر خوان بھی بنایا ہے۔ کچھ نعمتیں زمین کے اندر دفن کی ہیں جسے ہر دور کے لوگ اپنی لیاقت اور طاقت کے مطابق نکالتے رہیں گے۔ زیادہ نعمتوں کا تعلق زمین کی پیداوار سے ہے تاکہ انسان ان نعمتوں سے بھر پور استفادہ کرسکے۔ ان نعمتوں میں ہر قسم کے پھل خوشوں سے لدی ہوئی کھجوریں ہیں جن کے خوشوں پر غلاف چڑھے ہوتے ہیں۔ ان میں انسانوں اور ہر قسم کے الانعام کے لیے اناج ہے کچھ پر بھس چڑھا ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اناج اور بیشمار پھل پیدا کیے ہیں۔ اس کی قدرتوں اور نعمتوں پر قربان جائیں کہ اس نے ہر اناج اور پھل کے اوپر چھلکے کی صورت میں غلاف چڑھا دیئے ہیں تاکہ اناج اور پھل ہر قسم کی کثافت اور غلاظت سے محفوظ رہیں یہاں تک کہ جو چیزیں زمین کے اندر تیار ہوتی ہیں، ان پر بھی ایک باریک سا چھلکا چڑھا دیا ہے تاکہ مٹی اس چیز کے اندر داخل نہ سکے ان کا تذکرہ فرماکر ارشاد فرمایا کہ اے جنوں اور انسانو ! تم اپنے رب کی کس کس قدرت اور نعمت کو جھٹلاؤ گے۔ اس سورت کے تعارف میں وضاحت موجود ہے کہ ” اٰآا “ کا معنٰی قدرت، نعمت اور خوبی ہے یہاں یہ لفظ تینوں معنوں میں استعمال ہوا ہے۔ مسائل ١۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی مخلوق کے لیے زمین کو فرش بنادیا ہے۔ ٢۔ اللہ تعالیٰ نے زمین میں ہر قسم کے پھل اور غلافوں میں لپٹی ہوئی کھجوریں پیدا کیں۔ ٣۔ اللہ تعالیٰ نے خوشبودار پھول پیدا کیے اور ہر قسم کے اناج کو اس کے چھلکے اور خوشے میں محفوظ فرمایا ہے تفسیر بالقرآن قرآن مجید میں زمین سے پیدا ہونے والے چند پودوں کا ذکر : ١۔ ” اللہ “ پانی سے تمہارے لیے کھیتی، زیتون، کھجور اور انگور اگاتا ہے۔ (النحل : ١١) ٢۔ ” اللہ “ نے کھجوروں اور انگوروں کے باغات پیدا کیے۔ (المومنون : ١٩) ٣۔ ” اللہ “ نے زمین میں کھجوروں اور انگوروں کے باغات پیدا کیے۔ (یٰس : ٣٤) ٤۔ ” اللہ “ نے پانی سے ہر قسم کی نباتات کو پیدا کیا۔ (الانعام : ٩٩) (الانعام : ١٤١) مزید معلومات کے لیے ڈاکٹر اقتدار فاروقی کی کتاب ” نباتات قرآن کا مطالعہ فرمائیں۔

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

والارض ............ الاکمام (55: ١١) والحب ............ والریحان (55: ٢١) (زمین کو اس نے مخلوقات کے لئے بنایا۔ اس میں ہر طرح کے بکثرت پھل ہیں ، کھجور کے درخت ہیں جن کے پھل غلافوں میں لپٹے ہوئے ہیں۔ طرح طرح کے غلے ہیں جن میں بھوسا بھی ہوتا ہے اور دانہ بھی) اس زمین میں بس کر اور رہ رہ کر ہمیں یہ چیزیں نظر نہیں آتیں۔ اس زمین کے حالات واطوار کو دیکھ کر اور اپنے حالات واحوال کو ہر وقت دیکھ دیکھ کر ہم اس کی کوئی چیز انوکھی نہیں پاتے جو دراصل عجوبہ ہوتی ہے اور دست قدرت کی عجب کارستانی ہوتی ہے اور زمین پر جس طرح ہمیں سکون وقرار سے رکھا گیا ہے ، اس کی ٹیکنالوجی کا ہمیں پورا شعور نہیں ہوتا اور جس طرح ہمیں یہاں قرار سے رکھا گیا ہے اس کے معنی کو ہم نے سمجھا ہی نہیں ورنہ ہم اللہ کی قدرت اور عظمت کا کچھ تصور کرتے۔ ہاں کبھی کبھی جب آتش فشانی ہوتی ہے یا کوئی شدید زلزلہ آتا ہے تو ہمارے پاؤں کے نیچے سے زمین کانپتی ہے۔ تب ہمیں قدرے اضطراب ہوتا ہے اور معلوم ہوتا ہے کہ زمین کے مطیع ہونے کا مفہوم کیا ہے۔ انسانوں کا تو یہ فریضہ ہے اور ان کے لئے یہ بات شایان شان ہے کہ وہ ہر وقت اس بات کو ذرایاد رکھیں۔ یہ زمین جس کے اوپروہ چلتے دوڑتے ہیں ، اگر اس کی طرف قدرے توجہ کریں تو ان کی نظر آئے کہ یہ تو ایک ذرہ ہے جو اس ہولناک اور محیر العقول وسیع تر فضا میں تیر رہا ہے۔ یہ اس مطلق بےقید ، بےحد فضا میں ہے۔ یہ ذرہ خود اپنے گرد بھی ایک ہزار میل فی گھنٹہ کی رفتار سے چل رہا ہے اور سورج کے گرد یہ ساٹھ ہزار میل فی گھنٹہ کی رفتار سے چل رہا ہے جبکہ یہ زمین یہ سورج اور اپنے مجموعہ ستار گان جو کئی ملین میں بحساب بیس ہزار میل فی گھنٹہ کسی سمت میں جارہے ہیں جس کا ہمیں علم نہیں۔ سائنس دان کہتے ہیں کہ یہ برج جیار کی طرف جارہے ہیں۔ ہاں اگر انسان اس بات پر غور کریں کہ وہ ایک چھوٹے سے ذرے پر سوار ہیں اور یہ ذرہ اس فضا میں اس تیزی سے دوڑ رہا ہے اور یہ اس فضا میں لٹک رہا ہے اور کوئی ستون اور سہارا نہیں ہے صرف دست قدرت نے اسے یوں رکھا ہوا ہے تو وہ ہر وقت اللہ کا خوف اپنے دلوں کے اندر پائیں۔ کانپتے رہیں اور تھرتھراتے رہیں اور صرف اس ذات کی طرف متوجہ ہوں جس نے اسے ایسا رکھا ہوا ہے اور اس نہایت تیز رفتار گھوڑے پر یہ یوں چل پھر رہے ہیں۔ اللہ نے تو اس خوف کے لئے اس میں اسباب حیات مہیا کردیئے ہیں۔ یہ اس میں کھاتے پیتے ہیں جبکہ یہ انہیں لئے ہوئے اپنے گرد بھی دوڑرہی ہے اور سورج کے گرد بھی دوڑ رہی ہے اور نظام شمسی کے مجموعے کے ساتھ بھی دوڑ رہی ہے اور پھر اسی زمین کے اندر اللہ نے ہمارا رزق ، میوے اور فواکہ پیدا کر رکھے ہیں اور کھجور کے اونچے اونچے درخت جن کے پھل غلافوں میں بند ہوتے ہیں۔ کم اس تھیلے کو کہتے ہیں جن کے اندر سے کھجور کا پھل باہر آتا ہے کسی قدر خوبصورت ہوتا ہے وہ اور پھر دوسرے خوشے دار فصل اور دانے جن کے اوپر بھوسہ ہوتا ہے اور اسے ہٹا کر دانے نکال کر انسانوں کے لئے اور بھوسہ مویشیوں کے لئے ہوتا ہے۔ یہاں ریحان کا ذکر بھی کیا جاتا ہے کہ بعض نباتات خوشبودار ہوتے ہیں اور یہ زمین کے اندر مختلف قسم کے نباتات ہوتے ہیں جو خوشبودار ہوتے ہیں اور ان خوشبودار نباتات میں سے کچھ انسانوں کی خوراک ہیں اور کچھ حیوانوں کی خوراک اور بعض محض خوشبوئیں ہیں جو انسانوں کے لئے متاع حیات ہیں۔ اللہ کے ان انعامات کے ذکر کے بعد یعنی تعلیم القرآن ، تعلیم البیان ، شمس وقمر کا منظم دوران ، آسمان کی بلندیاں اور آسمانوں کا میزان اور اہل زمین کا میزان اور زمین کا لوگوں کے لئے برقرار رکھنا اور اس کے اندر کے میوہ جات ، پھل اور خوشبوئیں ظاہر و باطن کے لحاظ سے خوبصورت ، ان انعامات و احسانات کو گنوا کر جن وانس دونوں مکلف مخلوقوں کو خطاب کیا جاتا ہے۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

5:۔ ” والارض وضعہا “ سفلیات کا ذکر۔ اور اللہ نے زمین کو لوگوں کے لیے پیدا کر کے رکھدیا ہے تاکہ وہ اس سے ہر قسم کا فائدہ اٹھائیں۔ جس میں ہر قسم کے پھل اور میوے پیدا ہوتے ہیں۔ خصوصاً کھجور کے درخت جس کے بھاری بھرکم گچھے آویزاں ہیں۔ ” والحب ذوالعصف “ اور ہر قسم کے غلے پیدا ہوتے ہیں جن کے باقی اجزاء بھوسے کی شکل میں مویشیوں کے چارے میں کار آمد ہیں۔ ” والریحان “ غذائی اجناس اور میووں کے علاوہ زمین میں خوشبودار پودے بھی ہوتے ہیں جن کی خوشبو دل و دماغ کو معطر اور تازہ کردیتی ہے۔ ھول کمل مشموم طیب الریح من النبات (روح ج 27 ص 103) ۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(10) اور اسی نے خلق کے فائدے اور نفع کے لئے زمین کو پھیلادیا۔