Surat ur Rehman

Surah: 55

Verse: 14

سورة الرحمن

خَلَقَ الۡاِنۡسَانَ مِنۡ صَلۡصَالٍ کَالۡفَخَّارِ ﴿ۙ۱۴﴾

He created man from clay like [that of] pottery.

اس نے انسان کو بجنے والی مٹی سے پیدا کیا جو ٹھیکری کی طرح تھی ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

The Creation of Humans and Jinns Allah mentions that: خَلَقَ الاِْنسَانَ مِن صَلْصَالٍ كَالْفَخَّارِ وَخَلَقَ الْجَانَّ مِن مَّارِجٍ مِّن نَّارٍ

انسان اور جنات کی پیدائش میں فرق یہاں بیان ہو رہا ہے کہ انسان کی پیدائش بجنے والی ٹھیکری جیسی مٹی سے ہوئی ہے اور جنات کی پیدائش آگ کے شعلے سے ہوئی ہے جو خالص اور احسن تھا مسند کی حدیث میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں فرشتے نور سے جنات نار سے اور انسان اس مٹی سے جس کا ذکر تمہارے سامنے ہو چکا ہے پیدا کئے گئے ہیں پھر اپنی کسی نعمت کے جھٹلانے کی ہدایت کر کے فرماتا ہے جاڑے اور گرمی کے دو سورج کے نکلنے اور ڈوبنے کے مقامات کا رب اللہ ہی ہے دو سے مراد سورج نکلنے اور ڈوبنے کی دو مختلف جگہیں ہیں کہ وہاں سے سورج چڑھتا اترتا ہے اور موسم کے لحاظ سے یہ بدلتی جگہیں رہتی ہیں ہر دن انقلاب لاتا ہے جیسے دوسری آیت میں مشرق و مغرب کا رب وہی ہے تو اسی کو اپنا وکیل سمجھ تو یہاں مراد جنس مشرق و مغرب ہے اور دوسری مشرق مغرب سے مراد طلوع و غرب کی دو جگہ ہیں ، اور چونکہ طلوع و غروب کی جگہ کے جدا جدا ہونے میں انسانی منفعت اور اس کی مصلحت بینی تھی اس لئے پھر فرمایا کہ کیا اب بھی تم اپنے رب کی نعمتوں کے منکر ہی رہو گے ؟ اس کی قدرت کا مظاہرہ دیکھو کہ دو سمندر برابر چل رہے ہیں ایک کھاری پانی کا ہے دوسرا میٹھے پانی کا لیکن نہ اس کا پانی اس میں مل کر اسے کھاری کرتا ہے نہ اس کا میٹھا پانی اس میں مل کر اسے میٹھا کر سکتا ہے بلکہ دونوں اپنی رفتار سے چل رہے ہیں دونوں کے درمیان ایک پردہ حائل ہے نہ وہ اس میں مل سکے نہ وہ اس میں جا سکے یہ اپنی حد میں ہے وہ اپنی حد میں اور قدرتی فاصلہ انہیں الگ الگ کئے ہوئے ہے حالانکہ دونوں پانی ملے ہوئے ہیں ۔ سورہ فرقان کی آیت ( وَهُوَ الَّذِيْ مَرَجَ الْبَحْرَيْنِ ھٰذَا عَذْبٌ فُرَاتٌ وَّھٰذَا مِلْحٌ اُجَاجٌ ۚ وَجَعَلَ بَيْنَهُمَا بَرْزَخًا وَّحِجْرًا مَّحْجُوْرًا 53؀ ) 25- الفرقان:53 ) ، کی تفسیر میں اس کی پوری تشریح گذر چکی ہے امام ابن جریر یہ بھی فرماتے ہیں کہ آسمان میں جو پانی کا قطرہ ہے اور صدف جو زمین کے دریا میں ہے ان دونوں سے مل کر لؤلؤ پیدا ہوتا ہے واقعہ تو یہ ٹھیک ہے لیکن اس آیت کی تفسیر اس طرح کرنی کچھ مناسب معلوم نہیں ہوتی اس لئے کہ آیت میں ان دونوں کے درمیان برزخ یعنی آڑ کا ہونا بیان فرمایا گیا ہے جو اس کو اس سے اور اس کو اس سے روکے ہوئے ہیں اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ دونوں زمین میں ہی ہیں بلکہ ایک دوسرے سے لگے لگے چلتے ہیں مگر قدرت انہیں جدا رکھتی ہے آسمان و زمین کے درمیان جو فاصلہ ہے وہ برزخ اور حجر نہیں کہا جاتا اس لئے صحیح قول یہی ہے کہ یہ زمین کے دو دریاؤں کا ذکر ہے نہ کہ آسمان اور زمین کے دریا کا ۔ ان دونوں میں سے یعنی دونوں میں سے ایک میں سے ۔ جیسے اور جگہ جن و انس کو خطاب کر کے سوال ہوا ہے کہ کیا تمہارے پاس تمہیں میں سے رسول نہیں آئے تھے ؟ ظاہر ہے کہ رسول صرف انسان میں سے ہی ہوئے ہیں جنات میں کوئی جن رسول نہیں آیا تو جیسے یہاں اطلاع صحیح ہے حالانکہ وقوع ایک میں ہی ہے اسی طرح اس آیت میں بھی اطلاق دونوں دریا پر ہے اور وقوع ایک میں ہی ہے لؤلؤ یعنی موتی کو کہتے ہیں کہ اور کہا گیا ہے کہ بہترین اور عمدہ موتی کو مرجان کہتے ہیں بعض کہتے ہیں سرخ رنگ جواہر کو کہتے ہیں ، بعض کہتے ہیں سرخ مہرے کا نام ہے اور آیت میں ہے ( وَمِنْ كُلٍّ تَاْكُلُوْنَ لَحـْـمًا طَرِيًّا وَّتَسْتَخْرِجُوْنَ حِلْيَةً تَلْبَسُوْنَهَا ۚ وَتَرَى الْفُلْكَ فِيْهِ مَوَاخِرَ لِتَبْتَغُوْا مِنْ فَضْلِهٖ وَلَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ 12؀ ) 35- فاطر:12 ) یعنی تم ہر ایک میں سے نکلا ہوا گوشت کھاتے ہو جو تازہ ہوتا ہے اور پہننے کے زیور نکالتے ہو تو خیر مچھلی تو کھاری اور میٹھے دونوں پانی سے نکلتی ہے اور موتی مونگے صرف کھاری پانی میں سے نکلتے ہیں میٹھے میں سے نہیں نکلتے حضرت ابن عباس فرماتے ہیں کہ آسمان کا جو قطرہ سمندر کی سیپ کے منہ میں سیدھا جاتا ہے وہ لؤلؤ بن جاتا ہے اور جب صدف میں نہیں جاتا تو اس سے عنبر پیدا ہوتا ہے مینہ برستے وقت سیپ اپنا منہ کھول دیتی ہے پس اس نعمت کو بیان فرما کر پھر دریافت فرماتا ہے کہ ایسی ہی بیشمار نعمتیں جس رب کی ہیں تم بھلا کس کس نعمت کی تکذیب کرو گے ؟ پھر ارشاد ہوتا ہے کہ سمندر میں چلنے والے بڑے بڑے بادبانوں والے جہاز جو دور سے نظر پڑتے ہیں اور پہاڑوں کی طرح کھڑے دکھائی دیتے ہیں جو ہزاروں من مال اور سینکڑوں انسانوں کو ادھر سے ادھر لے آتے ہیں یہ بھی تو اس اللہ کی ملکیت میں ہیں اس عالیشان نعمت کو یاد دلا کر پھر پوچھتا ہے کہ اب بتاؤ انکار کئے کیسے بن آئے گی ؟ حضرت عمیری بن سوید فرماتے ہیں میں اللہ کے شیر حضرت علی مرتضٰی کے ساتھ دریائے فرات کے کنارے پر تھا ایک بلند و بالا بڑا جہاز آ رہا تھا اسے دیکھ کر آپ نے اس کی طرف اپنے ہاتھ سے اشارہ کر کے اس آیت کی تلاوت کی پھر فرمایا اس اللہ کی قسم جس نے پہاڑوں جیسی ان کشتیوں کو امواج سمندر میں جاری کیا ہے نہ میں نے عثمان غنی کو قتل کیا نہ ان کے قتل کا ارادہ کیا نہ قاتلوں کے ساتھ شریک ہوا نہ ان سے خوش نہ ان پر نرم ۔

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

14۔ 1 صَلصَالٍ خشک مٹی جس میں آواز ہو۔ فَخَّار آگ میں پکی ہوئی مٹی، جسے ٹھیکری کہتے ہیں۔ انسان سے مراد حضرت آدم (علیہ السلام) ہیں، جن کا پہلے مٹی کا پتلا بنایا گیا اور پھر اس میں اللہ نے روح پھونکی۔ پھر حضرت آدم (علیہ السلام) کی بائیں پسلی سے حوا کو پیدا فرمایا، اور پھر ان دونوں سے نسل انسانی چلی۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[١٢] سیدنا آدم کے پہلے کی تخلیق کے مراحل :۔ یہ سیدنا آدم کے پتلے کی تخلیق کا ساتواں اور آخری مرحلہ ہے اور ان سات مراحل کی ترتیب یوں ہے۔ (١) تراب بمعنی خشک مٹی سے، (المومن : ٦٧) (١) ارض بمعنی عام مٹی یا زمین، (نوح : ١٧) (٣) طین بمعنی گیلی مٹی یا گارا، (الانعام : ٢) (٤) طِیْنٍ لاَّزِبٍ بمعنی لیسدار اور چپکدار مٹی، (الصافات : ١١) (٥) حَمَإٍ مَّسْنُوْنٍ بمعنی بدبودار کیچڑ،۔ (الحجر : ٢٦) (٦) صَلَصَالٍ ٹھیکرا یا حرارت سے پکائی ہوئی مٹی، (ایضاً ) (٧) صَلْصََالٍ کَاْلفَخَّارٍ بمعنی ٹن سے بجنے والی ٹھیکری، (الرحمن : ١٤) پھر جب اللہ تعالیٰ نے اس میں اپنی روح سے پھونکا تو یہ بشر بن گیا۔ اس کو مسجود ملائک بنایا گیا۔ پھر اسی سے اس کا زوج پیدا کیا گیا (٤: ١) پھر اس کے بعد حقیر پانی کے ست سے اس کی نسل چلائی گئی جس کے لیے دوسرے مقامات پر نطفہ کا لفظ استعمال کیا گیا ہے۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

خَلَقَ الْاِنْسَانَ مِنْ صَلْصَالٍ کَالْفَخَّارِ :” صلصلۃ “ وہ آواز جو کسی چیز کو بجانے یا کھڑکانے سے پیدا ہوتی ہے ، جیسا کہ صحیح بخاری کی حدیث (٢) میں ” صلصلۃ الجرس “ کا ذکر ہے۔” صلصال “ بجنے والی ، کھنکھنانے والی ( مٹی) بعض کہتے ہیں ۔ یہ ” صل اللحم “ سے مشتق ہے ، جس کا معنی گوشت کا بد بودار ہونا ہے۔ مراد بد بودار مٹی ہے ۔ آیت کی مزید تفسیر کے لیے دیکھئے سورة ٔ حجر (٢٦) ۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

The Creation of Humans and Jinns خَلَقَ الْإِنسَانَ مِن صَلْصَالٍ كَالْفَخَّارِ‌ (He has created man from dry clay, ringing like pottery... 55:14). The word insan [ man ] in this context refers unanimously to &Adam (علیہ السلام) . The word salsal [ clay ] refers to the wet soil when it becomes dry and heavy. The word fakhkhar refers to the wet soil when it is baked.

خَلَقَ الْاِنْسَانَ مِنْ صَلْصَالٍ كَالْفَخَّارِ ، انسان سے مراد اس جگہ باتفاق آدم (علیہ السلام) ہیں، جن کی تخلیق مٹی سے کی گئی ہے، صلصال پانی میں ملی ہوئی مٹی جبکہ وہ خشک ہوجائے اور فخار وہ پانی میں ملاتی ہوئی مٹی جس کو آگ پر پکا لیا جائے۔

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

خَلَقَ الْاِنْسَانَ مِنْ صَلْصَالٍ كَالْفَخَّارِ۝ ١٤ ۙ خلق الخَلْقُ أصله : التقدیر المستقیم، ويستعمل في إبداع الشّيء من غير أصل ولا احتذاء، قال : خَلْقِ السَّماواتِ وَالْأَرْضِ [ الأنعام/ 1] ، أي : أبدعهما، ( خ ل ق ) الخلق ۔ اصل میں خلق کے معنی ( کسی چیز کو بنانے کے لئے پوری طرح اندازہ لگانا کسے ہیں ۔ اور کبھی خلق بمعنی ابداع بھی آجاتا ہے یعنی کسی چیز کو بغیر مادہ کے اور بغیر کسی کی تقلید کے پیدا کرنا چناچہ آیت کریمہ : ۔ خَلْقِ السَّماواتِ وَالْأَرْضِ [ الأنعام/ 1] اسی نے آسمانوں اور زمین کو مبنی بر حکمت پیدا کیا میں خلق بمعنی ابداع ہی ہے إنس الإنس : خلاف الجن، والأنس : خلاف النفور، والإنسيّ منسوب إلى الإنس يقال ذلک لمن کثر أنسه، ولكلّ ما يؤنس به، ولهذا قيل :إنسيّ الدابة للجانب الذي يلي الراکب «1» ، وإنسيّ القوس : للجانب الذي يقبل علی الرامي . والإنسيّ من کل شيء : ما يلي الإنسان، والوحشيّ : ما يلي الجانب الآخر له . وجمع الإنس أَناسيُّ ، قال اللہ تعالی: وَأَناسِيَّ كَثِيراً [ الفرقان/ 49] . وقیل ابن إنسک للنفس «2» ، وقوله عزّ وجل : فَإِنْ آنَسْتُمْ مِنْهُمْ رُشْداً [ النساء/ 6] أي : أبصرتم أنسا بهم، وآنَسْتُ ناراً [ طه/ 10] ، وقوله : حَتَّى تَسْتَأْنِسُوا[ النور/ 27] أي : تجدوا إيناسا . والإِنسان قيل : سمّي بذلک لأنه خلق خلقة لا قوام له إلا بإنس بعضهم ببعض، ولهذا قيل : الإنسان مدنيّ بالطبع، من حيث لا قوام لبعضهم إلا ببعض، ولا يمكنه أن يقوم بجمیع أسبابه، وقیل : سمّي بذلک لأنه يأنس بكلّ ما يألفه «3» ، وقیل : هو إفعلان، وأصله : إنسیان، سمّي بذلک لأنه عهد اللہ إليه فنسي . ( ان س ) الانس یہ جن کی ضد ہے اور انس ( بضمہ الہمزہ ) نفور کی ضد ہے اور انسی ۔ انس کی طرف منسوب ہے اور انسی اسے کہا جاتا ہے ۔ جو بہت زیادہ مانوس ہو اور ہر وہ چیز جس سے انس کیا جائے اسے بھی انسی کہدیتے ہیں اور جانور یا کمان کی وہ جانب جو سوار یا کمانچی کی طرف ہو اسے انسی کہا جاتا ہے اور اس کے بالمقابل دوسری جانب کو وحشی کہتے ہیں انس کی جمع اناسی ہے قرآن میں ہے :۔ { وَأَنَاسِيَّ كَثِيرًا } ( سورة الفرقان 49) بہت سے ( چوریاں ) اور آدمیوں کو ۔ اور نفس انسانی کو ابن انسک کہا جاتا ہے ۔ انس ( افعال ) کے معنی کسی چیز سے انس پانا یا دیکھتا ہیں ۔ قرآن میں ہے :۔ { فَإِنْ آنَسْتُمْ مِنْهُمْ رُشْدًا } ( سورة النساء 6) اگر ان میں عقل کی پختگی دیکھو ۔ انست نارا (27 ۔ 7) میں نے آگ دیکھی ۔ اور آیت کریمہ :۔ { حَتَّى تَسْتَأْنِسُوا } ( سورة النور 27) کا مطلب یہ ہے کہ جب تک تم ان سے اجازت لے کر انس پیدا نہ کرلو ۔ الانسان ۔ انسان چونکہ فطرۃ ہی کچھ اس قسم کا واقع ہوا ہے کہ اس کی زندگی کا مزاج باہم انس اور میل جول کے بغیر نہیں بن سکتا اس لئے اسے انسان کے نام سے موسوم کیا گیا ہے اسی بنا پر یہ کہا گیا ہے کہ انسان طبعی طور پر متمدن واقع ہوا ہے ۔ کیونکہ وہ آپس میں بیل جوں کے بغیر نہیں رہ سکتا اور نہ ہی اکیلا ضروریات زندگی کا انتظام کرسکتا ہے ۔ بعض نے کہا ہے کہ اسے جس چیز سے محبت ہوتی ہے اسی سے مانوس ہوجاتا ہے ۔ اس لئے اسے انسان کہا جاتا ہے ۔ بعض کا قول ہے کہ انسان اصل میں انسیان پر وزن افعلان ہے اور ( انسان ) چونکہ اپنے عہد کو بھول گیا تھا اس لئے اسے انسان کہا گیا ہے ۔ صلل أصل الصَّلْصَالِ : تردُّدُ الصّوتِ من الشیء الیابس، ومنه قيل : صَلَّ المسمارُ ، وسمّي الطّين الجافّ صَلْصَالًا . قال تعالی: مِنْ صَلْصالٍ كَالْفَخَّارِ [ الرحمن/ 14] ، مِنْ صَلْصالٍ مِنْ حَمَإٍ مَسْنُونٍ [ الحجر/ 26] ، والصُّلْصَلَةُ : بقيّةُ ماءٍ ، سمّيت بذلک لحکاية صوت تحرّكه في المزادة، وقیل : الصَّلْصَالُ : المنتن من الطین، من قولهم : صَلَّ اللحمُ ، قال : وکان أصله صَلَّالٌ ، فقلبت إحدی الّلامین، وقرئ : (أئذا صَلَلْنَا) أي : أنتنّا وتغيّرنا، من قولهم : صَلَّ اللّحمُ وأَصَلَّ. ( ص ل ل ) اصل میں صلصان کے معنی کسی خشک چیز سے آواز آنا کے ہیں اسی سے صل المسار کا محاورہ ہے ۔ جس کے معنی میخ کو کسی چیز میں ٹھونکنے سے آواز پیدا ہونا کے ہیں اور ( کھنکنے والی ) خشک مٹی کو بھی صلصال کہاجاتا ہے قرآن پاک میں ہے : مِنْ صَلْصالٍ كَالْفَخَّارِ [ الرحمن/ 14] ٹھیکری کی طرح کھنکھناتی مٹی سے مِنْ صَلْصالٍ مِنْ حَمَإٍ مَسْنُونٍ [ الحجر/ 26] کھنکنے والی خشک مٹی یعنی سنے ہوئے گارے سے ۔ اور صلصلۃ کے معنی باقی ماندہ پانی کے میں کیونکہ مشکیزہ میں باقی ماندہ پانی کے ہلنے سے کھنکناہٹ کی آواز پیدا ہوتی ہے بعض نے کہا ہے کہ صلصان کے معنی سڑی ہوئی مٹی کے ہیں اور یہ صل اللحم سے مشتق ہے جس کے معنی گوشت کے بدبودار ہوجانے کے ہیں صلصان اصل میں صلال ہے ایک لام کو صاد سے بدل دیا گیا ہے اور آیت کریمہ :(أئذا صَلَلْنَا) کیا جب ہم زمین میں ملیامیٹ ہوجائیں گے ۔ میں ایک قرات صللنا بھی ہے یعنی جب ہم گل سٹر گئے اور یہ ) صل اللحم واصل کے محاورہ سے مشتق ہے ۔ فخر الفَخْرُ : المباهاة في الأشياء الخارجة عن الإنسان کالمال والجاه، ويقال : له الفَخَرُ ، ورجل فَاخِرٌ ، وفُخُورٌ ، وفَخِيرٌ ، علی التّكثير . قال تعالی: إِنَّ اللَّهَ لا يُحِبُّ كُلَّ مُخْتالٍ فَخُورٍ [ لقمان/ 18] ، ويقال : فَخَرْتُ فلانا علی صاحبه أَفْخَرُهُ فَخْراً : حکمت له بفضل عليه، ويعبّر عن کلّ نفیس بِالْفَاخِرِ. يقال : ثوب فَاخِرٌ ، وناقة فَخُورٌ: عظیمة الضّرع، كثيرة الدّر، والفَخَّارُ : الجرار، وذلک لصوته إذا نقر كأنما تصوّر بصورة من يكثر التَّفَاخُرَ. قال تعالی: مِنْ صَلْصالٍ كَالْفَخَّارِ [ الرحمن/ 14] . ( ف خ ر ) الفخر ( ن ) کے معنی ان چیزوں پر اترانے کے ہیں جو انسان کے ذاتی جوہر سے خارج ہوں مثلا مال وجاہ وغیرہ اور اسے فحر ( بفتح الخا ) بھی کہتے ہیں اوت فخر کرنے والے کو فاخر کہا جاتا ہے اور فخور وفخیر صیغہ مبالغہ ہیں یعنی بہت زیادہ اترانے والا ۔ قرآن میں ہے : ۔ إِنَّ اللَّهَ لا يُحِبُّ كُلَّ مُخْتالٍ فَخُورٍ [ لقمان/ 18] کہ خدا کسی اترانے والے کو خود پسند کو پسند نہیں کرتا ۔ فخرت فلان علٰی صاحبہ افخرہ فخرا ایک یکو دوسرے پر فضیلت دینا اور ہر نفیس چیز کو فاخر کہا جاتا ہے چوب فاخر قیمتی کپڑا اور جس اونٹنی کے تھن تو بڑے بڑے ہوں مگر دودھ بہت کم دے اسے فخور کہتے ہیں ۔ الفخار منکوں کو کہا جاتا ہے کیونکہ وہ ٹھوکا لگانے سے اس طرح زور سے بولتے ہیں جیسے کوئی کوئی بہت زیادہ فخر کررہا ہے ۔ قرآن میں ہے ۔ مِنْ صَلْصالٍ كَالْفَخَّارِ [ الرحمن/ 14] ٹھیکرے کی طرح کھنکھناتی مٹی سے

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(١٤۔ ١٦) اسی نے آدم کو ایسی مٹی سے جو ٹھیکری کی طرح بجتی ہے پیدا کیا، اور جنات و شیاطین کی اصل کو ایسی آگ سے جس میں دھواں نہ تھا پیدا کیا سو اے جن و انس تم اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں کا انکار کرو گے۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ١٤ { خَلَقَ الْاِنْسَانَ مِنْ صَلْصَالٍ کَالْفَخَّارِ ۔ } ” اس نے پیدا کیا انسان کو ٹھیکرے کی طرح کھنکھناتی ہوئی مٹی سے۔ “ حضرت آدم (علیہ السلام) کی تخلیق کے حوالے سے سورة الحجر کے تیسرے رکوع میں تین مرتبہ { صَلْصَالٍ مِّنْ حَمَاٍ مَّسْنُوْنٍ 4 } کے الفاظ آئے ہیں۔ اس سے مراد ایسا گارا ہے جس میں سڑاند پیدا ہوچکی ہو ‘ یعنی سنا ہوا گارا۔ ایسا گارا خشک ہونے پر سخت ہوجاتا ہے اور ٹھوکر لگنے سے کھنکنے لگتا ہے۔ یہاں پر صَلْصَالٍ کَالْفَخَّارِسے ایسا ہی سوکھا ہوا گارا مراد ہے ‘ یعنی ٹھیکرے کی طرح کھنکھناتا ہوا گارا۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

14 The order of the initial stages of the creation of man, as given at different places in the Qur'an seems to be as follows: (1) Turab, i.e. earth or dust; (2) Tin, i.e. clay made by mixing water with earth; (3) tin-i-lazib: sticky clay, i.e. a clay which becomes sticky when left alone for a long time; (4) hama in musnun, i.e. clay with a stink in it; (S) salsal-im-min hems in masnun kalfakhkhar. i.e. the rotten clay which when dried becomes like baked pottery; (ti) bashar, i.e.. the one who was made from this last form of the earth, in whom Allah breathed of His Spirit, to whom the angels were commanded to bow down, and from whose species his mate was created; (7) thumma ja ala nasla-hu min sulala-tin-min-ma 'in mahin: 'then spread his progeny by means of an extract of the nature of a despicable water', for which the word nutfah has been used at other places. For these stages one may look up the following verses of the Qur'an in sequence: ka-melba/-i Adalla khalaqa-hu min turab (AI-'Imran : 59); bed's khalqal-insan-i min tin (As Sajdah: 7); Inna khalaq-na hum min tin-il-/azib (As-Saaffat: 11): the fourth and fifth stages have been described in the verse being explained, and the later stages in the following verses : Inni khaliq-un bashar an-nun tin. Faidha sa wwaitu-hu wa nafakhtu-fi -hi min-ruhi fa-qa ,u-lahu sajidin. (Suad : 71-72); khalaqa-kum min-nafs in wahidatin wa khalaqa nun-ha zauja-ha wa baththa minhuma rijal-an kathir-an wa nisa-an. (An -Nisa':1) ; thumma Ja ala nasla-hu min sulata-tin-min mmaa'-in -mahin. (As-Sajdah: 8); fa-inna khalaq-na-kum min turabin thumma min nutfs-tin. (AI-Hajj:5).

سورة الرَّحْمٰن حاشیہ نمبر :14 تخلیق انسانی کے ابتدائی مراتب جو قرآن مجید میں بیان کیے گیے ہیں ان کی سلسلہ وار ترتیب مختلف مقامات کی تصریحات کو جمع کرنے سے یہ معلوم ہوتی ہے : ( 1 ) تراب ، یعنی مٹی یا خاک ( 2 ) طین ، یعنی گارا جو مٹی میں پانی ملا کر بنایا جاتا ہے ( 3 ) طینِ لازِب ، لیس دار گارا ، یعنی وہ گارا جس کے اندر کافی دیر تک پڑے رہنے کے باعث لیس پیدا ہو جائے ۔ ( 4 ) حَمَأٍ مَسْنون ، وہ گارا جس کے اندر بو پیدا ہو جائے ( 5 ) صلصال من حمأ مسنون کالفخار ، یعنی وہ سڑا ہوا گارا جو سوکھنے کے بعد پکی ہوئی مٹی کے ٹھیکرے جیسا ہو جائے ( 6 ) بشر جو مٹی کی اس آخری صورت سے بنایا گیا ، جس میں اللہ تعالیٰ نے اپنی خاص روح پھونکی ، جس کو فرشتوں سے سجدہ کرایا گیا ، اور جس کی جنس سے اس کا جوڑا پیدا کیا گیا ۔ ( 7 ) ٹُمَّ جَعَلَ نَسْلَہ مِنْ سُلٰلَۃٍ مِّنْ مَآءٍ مَّھِیْنِ ۔ پھر آگے اس کی نسل ایک حقیر پانی جیسے ست سے چلائی گئی جس کے لیے دوسرے مقامات پر نطفہ کا لفظ استعمال کیا گیا ہے ۔ ان مدارج کے لیے قرآن مجید کی حسب ذیل آیات کو ترتیب وار ملاحظہ کیجیے : کَمَثَلِ اٰدَمَ خَلَقَہ مِنْ تُرَابٍ ( آل عمران ۔ 59 ) ۔ بَدَأَ خَلْقَ الْاِنْسَانِ مِنْ طِیْنٍ ۔ ( السجدہ ۔ 7 ) ۔ اِنَّا خَلَقْنٰھُمْ مِّنْ طِیْنٍ لَّازِبٍ ( الصافّات ۔ 11 ) چوتھا اور پانچواں مرتبہ آیت زیر تفسیر میں بیان ہو چکا ہے ۔ اور اس کے بعد کے مراتب ان آیات زیر تفسیر میں بیان ہو چکا ہے ۔ اور اس کے بعد کے مراتب ان آیات میں بیان کیے گئے ہیں : اِنِّیْ خَالِقٌ بَشَراً مِّنْ طِیْنٍ o فَاِذَا سَوَّیْتُہ وَنَفَخْتُ فِیْہِ مِنْ رُّوْحِیْ فَقَعُوْا لَہ سَاجِدِیْنَ ( ص ۔ 71 ۔ 72 ) خَلَقَکُمْ مِّنْ نَّفْسٍ وَّاحِدَۃٍ وَّ خَلَقَ مِنْھَا زَوْجَھَا وَ بَثَّ مِنْھُمَا رِجَالًا کَثِیْراً وَّ نِسَآءً ( النساء ۔ 1 ) ثُمَّ جَعَلَ نَسْلَہ مِنْ سُلٰلَۃٍ مِنْ مَآءٍ مَّھِیْنٍ ( السجدہ ۔ 8 ) ۔ فَاِنَّا خَلَقْنٰکُمْ مِّنْ تُرَابٍ ثُمَّ مِنْ نُطْفَۃٍ ( الحج ۔ 5 ) ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

١٤۔ ٢٥۔ ترمذی نسائی ‘ مسند بزار وغیرہ میں ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے۔ جس کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا پتلا بنانے کے لئے پہلے مٹی لی پھر اس میں پانی ملا کر چھوڑ دیا کہ سیاہ رنگ کا بودار گارا ہوگیا اور یہاں تک سوکھا کہ ٹھیکرے کی طرح ہوگیا۔ ابن حبان نے اس حدیث کو صحیح کہا ہے۔ سورة آل عمران ‘ سورة حج ‘ سورة و الصفات اور اس سورة میں اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم کے پتلے کی مختلف حالتیں جو فرمائی ہیں یہ حدیث ان سب حالتوں کی تفسیر ہے جس سے معلوم ہوا کہ ان سورتوں کی آیتوں میں کچھ اختلاف نہیں ہے بلکہ ان چند حالتوں میں سے کسی آیت میں کوئی حالت ہے اور کسی میں کوئی اور۔ حقیقت میں وہ سب حالتیں ایک ہی پتلے کی ہیں۔ ان آیتوں میں پتلے کی آخری حالت کا ذکر ہے اور سورة ال عمران میں ابتدائی حالت کا اور سورة حجر اور والصافات میں درمیانی دو حالتوں کا۔ مارج دہکتی ہوئی آگ کا وہ شعلہ ہے جس میں دھواں نہ ہو۔ جاڑے کا مشرق و مغرب الگ ہے جس سے دن چھوٹا ہوتا جاتا ہے اور گرمی کا الگ جس سے دن بڑھ جاتا ہے ان آیتوں میں دونوں کا ذکر ہے۔ دریا سے مقصود میٹھی ندیاں اور سمندر ہے اور یہی حال زمین کے اندر کا ہے کہ کھودنے سے کہیں میٹھا پانی نکلتا ہے اور کہیں کھاری اور قدرت کی روک کے سبب سے ایک دوسرے پر غالب نہیں آتا۔ سورة فرقان میں اس کی تفصیل زیادہ ہے۔ اکثر مفسرین کا قول ہے کہ سمندر میں جہاں میٹھی ندیاں گرتی ہیں وہاں موتی اور مونگا پیدا ہوتا ہے اس لئے دونوں دریاؤں سے موتی اور مونگے کا نکلنا فرمایا۔ جہازوں اور کشتیوں کو پہاڑوں سے تشبیہ دینے کا مطلب یہ ہے کہ جس طرح خشکی میں پہاڑ قدرت کا نمونہ ہیں اسی طرح دریا میں جہاز اور کشتیاں۔ پھر فرمایا زمین پر جو کچھ ہے وہ ہمیشہ رہنے والا نہیں۔ اس سب کے پیچھے فنالگی ہوئی ہے باقی رہنے والی وہی ایک ذات وحدہ لاشریک ہے اب جس کی قدرت میں انسان کا پیدا کرنا اور فنا کرنا ہے اسی نے یہ جتلایا ہے کہ دنیا کا یہ سب کارخانہ اس نے بےفائدہ نہیں پیدا کیا بلکہ اس لئے پیدا کیا ہے کہ دنیا میں جو نیکی و بدی ہو رہی ہے ہر نیک و بد کے مرجانے کے بعد پھر انسان کو دوبارہ پیدا کرکے نیکی و بدی کی جزا و سزا کا فیصلہ ایک دن کیا جائے گا جو لوگ اس کے منکر ہیں انہوں نے دنیا کی حالت پر اچھی طرح غور نہیں کیا۔ صاحب غور وہی ہیں جنہوں نے دنیا کو چند روزہ سمجھ کر یہاں کچھ ایسا کرلیا جس سے دوبارہ زیست میں ان کو سرخروئی حاصل ہو۔ ترمذی ١ ؎ اور ابن ماجہ کی شداد بن اوس کی حدیث اوپر گزر چکی ہے۔ جس کا حاصل یہ ہے کہ سمجھ دار وہی شخص ہے جو دنیا میں موت کے بعد کا کچھ سامان کرلے ترمذی نے اس حدیث کو حسن کہا ہے۔ (١ ؎ ترمذی شریف ص ٨٢ ج ٢۔ )

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(55:14) صلصال۔ بجتی ہوئی مٹی۔ کھنکھناتی ہوئی مٹی۔ وہ خشک مٹی کہ جب اس پر انگلی ماری جائے تو بجنے اور کھنکھنانے لگے۔ صلصال کہلاتی ہے۔ امام راغب لکھتے ہیں :۔ صلصال اصل میں خشک چیز کے بجنے کا نام ہے اسی سے محاورہ ہے صلی المسمار (کھونٹی بجی) بعض نے کہا ہے کہ صلصال سڑی ہوئی مٹی ہے۔ یہ عرب کے محاورہ صل اللحم سے ماخوذ ہے۔ (گوشت سڑ گیا) کالفخار۔ ک تشبیہ کا ہے اس کا واحد فخارۃ ہے۔ مٹکوں کو کہا جاتا ہے کیونکہ وہ ٹھوکا لگانے سے اس طرح زور سے بولتے ہیں جیسے کوئی بہت زیادہ فخر کر رہا ہو۔ یہ الفخر (باب نصر) سے مصدر ہے۔ جس کے معنی ان چیزوں پر اترانے کے ہیں جو انسان کے ذاتی جوہر سے خارج ہوں َ مثلاً مال و جاہ وغیرہ۔ فاخر اسم فاعل ہے اور فخوروفخیر مبالغہ کے صیغے ہیں۔ فائدہ : حضرت آدم (علیہ السلام) کی تخلیق کے بارے میں قرآن مجید میں مختلف الفاظ مذکور ہیں کہیں ارشاد ہے :۔ (1) ان مثل عیسیٰ عند اللہ کمثل ادم خلقہ من تراب (3:59) بیشک (حضرت) عیسیٰ (علیہ السلام) کا حال (حضرت) آدم (علیہ لالسام) کا سا ہے۔ اس نے مٹی سے اس کو پیدا کیا۔ (2) کہیں فرمایا ہے : انا خلقنھم من طین لازب (37:11) بیشک ہم نے (جتنی خلقت بنائی ہے) اسکو چپکتے گارے سے بنایا ہے (3) کہیں فرمایا ولقد خلقنا الانسان من صلصال کالفخار 55:14) اسی نے انسان کو ٹھیکرے کی طرح کھنکھناتی مٹی سے بنایا در حقیقت ان الفاظ میں اختلاف نہیں ہے بلکہ مطلب ایک ہی ہے۔ کیونکہ حضرت آدم کو اللہ تعالیٰ نے اول مٹی سے پیدا کیا۔ پھر اس میں پانی ملا تو طین لازب ہوئی یعنی اس میں چپک پیدا ہوئی اس کے بعد حما مسنون کہلائی۔ کہ سیاہ ہوگئی اور سڑ گئی۔ پھر جب خشک ہوئی صلصال کالفخار سے موسوم ہوئی۔ کہ ٹھیکری کی طرح کھن کھن بجنے لگی۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : اللہ تعالیٰ کی مخلوق میں سب سے افضل مخلوق انسان ہے اس لیے جن کی بجائے انسان کی تخلیق کا ذکر پہلے کیا ہے۔ جبکہ جنات کی پیدائش انسان سے پہلے ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی مخلوق میں جس مخلوق کو حساب و کتاب کا مکلف ٹھہرایا ہے وہ انسان اور جن ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے انسانِ اوّل یعنی حضرت آدم (علیہ السلام) کو کھنکھناتی ہوئی مٹی سے پیدا کیا اور جن کو آگ کے شعلے سے پیدا فرمایا۔ آدم (علیہ السلام) کے زمین پر نازل ہونے سے پہلے زمین پر جن رہتے تھے اور ان کا زمین پر راج تھا۔ اللہ تعالیٰ نے آدم (علیہ السلام) کو پیدا کرنے کے بعد اسے زمین میں خلافت عطا فرمائی اور اس کو اپنے احکام کا مکلف بنایا اور جن کو اسی دین کا پابند کیا۔ اس لیے انسان اور جن کے بارے میں ارشاد ہے کہ ہم نے جنوں اور انسانوں کو اپنی عبادت کے لیے پیدا فرمایا ہے۔ ” میں نے جنات اور انسانوں کو صرف اپنی عبادت کے لیے پیدا کیا ہے۔ “ (الذار یات : ٥٦) اللہ کی عبادت کرنے میں جن وانس کی عزت اور ان کی خودی کا تحفظ ہے اور دوسروں کی عبادت کرنے میں ذلت ہے اور اپنی خودی کی نفی پائی جاتی ہے لیکن بیشمار جن اور انسان اپنے خالق کو چھوڑ کر دوسروں کی عبادت کرتے ہیں گویا کہ اسے اپنا خالق نہیں مانتے۔ یہ اس کی ذات اور اس کے فرمان کو جھٹلانے کے مترادف ہے اسی لیے فرمایا ہے کہ اے جنو اور انسانو ! تم اپنے رب کی کس کس نعمت کو جھٹلاؤ گے۔ مسائل ١۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کو کھنکھناتی ہوئی مٹی سے پیدا کیا ہے۔ ٢۔ اللہ تعالیٰ نے جن کو آگ کے شعلے سے پیدا کیا۔ ٣۔ بیشمار جن اور انسان اپنے رب کی خالص عبادت نہیں کرتے وہ دوسروں کی عبادت کر کے اپنے رب کی ذات اور احکام کی تکذیب کرتے ہیں۔ تفسیر بالقرآن انسان کی تخلیق کے مراحل : (النحل : ٤) (آل عمران : ٥٩) (المومنون : ١٢) (الدھر : ٢) (النساء : ١)

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

خلق ............ کالفخار (55:4 ١) وخلق ............ نار (55:5 ١) فبای ........ تکذبن (55: ٦١) ” انسان کو اس نے ٹھیکری جیسے سوکھے سڑے گارے سے بنایا اور جن کو آگ کی لپٹ سے پیدا کیا۔ پس اے جن وانس ، تم اپنے رب کے کن کن عجائب قدرت کو جھٹلاؤ گے ؟ “ پیدا کرنا اور ایجاد کرنا ، اصول نعمت میں سے ہے۔ وجود اور عدم کے درمیان جو فاصلے ہیں ان کو ان پیمانوں میں سے کسی پیمانے کے ساتھ نہیں ناپا جاسکتا جو انسان کے ادراک میں ہیں۔ اس لئے کہ انسانوں کی دسترس میں جو پیمانے ہیں یا جن کا ادراک ان کی عقلوں نے کرلیا ہے وہ ایسے پیمانے ہیں جو ایک موجود اور دوسرے موجود کے درمیان فرق کرنے کے پیمانے ہیں۔ رہی یہ بات کے موجود اور غیر موجود کے درمیان کیا فرق ہے اور کس قدر فاصلے ہیں۔ ان کو انسان نہیں جان سکتا۔ یہی حال جنوں کا بھی ہے۔ ان کے پیمانے بھی مخلوقات کے پیمانے ہیں۔ جب اللہ انسانوں اور جنوں کو یاد دلاتا ہے کہ میں تمہیں عدم سے وجود میں لایا ہوں تو یہ ایک ایسی نعمت ہے جو حد ادراک سے ماورا ہے۔ اس کے بعد بتایا جاتا ہے کہ انسان کی تخلیق کسی مواد سے ہوئی اور جنوں کی تخلیق کسی مواد سے ہوئی۔ انسان کو اللہ نے۔ صلصال (55:4 ١) سے بنایا ، صلصال (55:4 ١) اس مٹی کو کہتے ہیں جو سوکھ جائے اور جب اس پر ضرب لگائی جائے تو اس سے آواز صلصلہ نکلے۔ ہوسکتا ہے کہ جس وقت انسان کو مٹی سے پیدا کیا گیا اس کی پیدائش کے مراحل میں سے یہ ایک مرحلہ ہو اور یہ بھی ممکن ہے کہ اس سے مراد یہ ہو کہ انسان کے مادہ تخلیق اور مٹی کے مادہ میں کوئی فرق نہیں ہے۔ ” جدید سائنس نے تو یہ بات ثابت کردی ہے کہ جسم انسانی کے اندر وہی مواد ہے جو مٹی کے اندر ہے۔ انسان کاربن ، آکسیجن ، ہائیڈروجن ، فاسفورس ، گندھک ، کیلشیم ، پوٹاشیم ، سوڈیم کلورائیڈ ، میکگنیشیم ، آئرن ، مینگنیز ، تانبے ، لیڈ ، فلورین ، کو بالٹ ، زنک ، سلیکان اور ایلومینم سے مرکب ہے اور یہی وہ عناصر ہیں جن سے زمین بنی ہوئی ہے۔ اگرچہ ایک انسان اور انسان کے اندر ان کی نسبت مختلف ہوتی ہے اور انسان اور مٹی کے اندر بھی نسبت کا اختلاف ہے۔ البتہ عناصرو اصناف ایک ہی ہیں۔ “ (” اللہ اور سائنس “ صفحہ ٠٨١) لیکن سائنس نے جو بات کی ہے یہ لازمی نہیں ہے کہ آیت کی تفسیر بھی وہی ہو۔ ہوسکتا ہے کہ قرآن کی مراد یہی ہو جو سانس نے ثابت کیا ہے یا وہ ہو جو سائنس دانوں کو بھی معلوم نہ ہو اور کچھ اور ہو۔ یا اس سے دوسرے معنوں میں انسان کو خالی مخلوق کہا گیا ہو اور طین اور صلحال کے کچھ اور ہی معانی مراد ہوں۔ ہم نے جس چیز کا بڑی شدت سے انتباہ کیا ہے وہ یہ ہے کہ کسی آیت کو ان مفہومات تک محدود نہیں کرنا چاہئے جو جدید سائنس نے دریافت کئے ہیں کیونکہ انسانی انکشافات صحیح بھی ہوسکتے ہیں اور غلط بھی ہوسکتے ہیں اور تغیر اور تبدل قبول کرتے ہیں۔ جوں جوں انسان کے وسائل علم بڑھتے ہیں انسانی نظریات میں تغیر وتبدل ہوتا رہتا ہے۔ بعض مخلص لوگ قرآنی آیات کو بہت جلد سائنسی مفہومات کے مطابق بنانے کی سعی کرتے ہیں ، خواہ یہ مفاہیم تجرباتی ہوں یا فرضی ہوں اور ان کی نیت یہ ہوتی ہے کہ قرآن کا اعجاز ثابت کیا جائے۔ اس لئے کہ قرآن سائنس کے خلاف ہو یا موافق ہو وہ اپنی جگہ معجزہ ہے۔ قرآن کے نصوص کا مفہوم بہت ہی وسیع ہے اور اس کو کسی ایک وقت کے انکشافات تک محدود نہیں کیا جاسکتا کیونکہ یہ انکشافات ہر وقت اپنے اندر غلطی کا احتمال رکھتے ہیں بلکہ بعض اوقات سرے سے نظریات باطل ہوجاتے ہیں۔ جدید سائنسی معلومات سے ہم صرف اس قدر استفادہ کرسکتے ہیں کہ ہم ان کے ذریعہ آیات کے مفہوم ومدلول کو اپنے تصور میں وسیع کردیتے ہیں بشرطیکہ وہ ان مفہومات کی طرف اشارہ کررہی ہوں جن کی طرف قرآن اشارہ کرتا ہے لیکن کبھی ہم یہ دعویٰ نہیں کرتے کہ قرآن کا مفہوم وہی ہے جس تک ہمارے انکشافات پہنچ گئے ہیں۔ جواز اس قدر ضرور ہے کہ ہم کہیں کہ یہی وہ چیز ہے جس کی طرف قرآن نے بھی اشارہ کیا ہے۔ رہی یہ بات کہ جنوں کو آگ کی لپٹ سے تخلیق کیا گیا ہے تو یہ مسئلہ انسانوں کے حدود علم سے باہر ہے۔ جنوں کے صرف وجود کی اطلاع قرآن نے دی ہے اور یہ بھی کہا ہے کہ وہ آگ سے پیدا کئے گئے ہیں ۔ مارج کے معنی آگ کے شعلوں کی وہ لپٹ ہے جو زبان کی طرح ہوتی ہے اور یہ ہوا سے بنتی ہے اور جن اسی زمین پر انسانوں کے ساتھ رہتے ہیں جن اور ان کی نسل کس طرح رہتی ہے اس کا ہمیں علم نہیں۔ یقینی بات یہی ہے کہ ان پر لازم ہے کہ وہ قرآن اور شریعت پر عمل کریں جیسا کہ اس سے قبل ہم نے۔ واذا ............ القران (اور اس وقت کو یاد کرو جب ہم نے تیری طرف جنوں کے کچھ افراد کو پھیر دیا اور وہ قرآن سننے لگے) کی تفسیر میں کہا ہے اور جنوں اور انسانوں دونوں کو اس آیت میں خطاب کیا گیا ہے کہ اللہ کی کن کن انعامات کی تم تکذیب کروگے۔ دونوں کی اللہ نے تخلیق کی اور تخلیق کرنا اور وجود بخشنا وہ نعمت ہے جس پر تمام نعمتوں کا دارومدار ہے۔ چناچہ اس پورے پیراگراف پر یہ شہادت قائم کی جاتی ہے۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

اللہ تعالیٰ نے انسان کو بجتی ہوئی مٹی سے اور جنات کو خالص آگ سے پیدا فرمایا یہ تین آیتوں کا ترجمہ ہے پہلی آیت میں انسان کی تخلیق کا تذکرہ فرمایا اور یہ بتایا کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو مٹی سے پیدا فرمایا یعنی ابوالبشر سید نا آدم (علیہ السلام) جو سب سے پہلے انسان اور سب انسانوں کے باپ ہیں ان کا پتلا مٹی سے بنایا یہ پہلے صرف مٹی تھی اس میں پانی ملا دیا گیا توطین یعنی کیچڑ بن گئی پھر اس سے پتلا بنایا گیا اور وہ سوکھ گیا تو صلصال ہوگیا جیسا فخار ہوتا ہے فخار اس چیز کو کہتے ہیں جو کیچڑ والی مٹی سے بنائی گئی ہو، جب وہ سوکھ جائے تو اس میں انگلی مارنے سے آواز نکلتی ہے اس آواز دینے والی مٹی کو ﴿صَلْصَالٍ كَالْفَخَّارِۙ٠٠١٤ ﴾ فرمایا، حضرت آدم (علیہ السلام) کی تخلیق پر مختلف ادوار گزرے تھے اس کی تفصیل کے لیے سورة الحجر کے تیسرے رکوع کی تفسیر دیکھ لی جائے۔ (انوار البیان صفحہ ١٨٣: ج ٥) جنات کا جو سب سے پہلا باپ تھا اس کے بارے میں فرمایا کہ جان کو خالص آگ سے پیدا فرمایا بعض علماء کا کہنا ہے کہ جیسے حضرت آدم ابوالبشر (علیہ السلام) ہیں ایسے ہی جان ابوالجن یعنی جنات کا باپ ہے اور بعض علماء کا کہنا ہے کہ ابلیس شیطان تمام جناب کا باپ ہے واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب۔ خلاصہ یہ ہے کہ انسان مٹی سے اور جنات آگ سے پیدا کیے گئے اور ہر فریق اپنے اپنے اصل مادہ کی طرف منسوب ہے اللہ تعالیٰ نے جس کو جس طرح پیدا فرمانا چاہا پیدا فرما دیا، وجود بخشا یہ اللہ تعالیٰ کی بڑی نعمت ہے اور اس نعمت کے ساتھ اور بہت سی نعمتیں ہیں ان نعمتوں کا تقاضا ہے کہ انسان اور جنات اپنے خالق جل مجدہ کے شکر گزار ہوں اور نعمتوں کی قدر دانی کریں اسی لیے اخیر میں فرمادیا ﴿فَبِاَيِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ﴾ فرمایا (سو تم دونوں فریق انسان اور جن اپنے رب کی کن کن نعمتوں کو جھٹلاؤ گے) ۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

ٖف 7:۔ ” خلق الانسان “ یہ توحید کی چوتھی عقلی دلیل ہے۔ الانسان سے حضرت آدم (علیہ السلام) مراد ہیں۔ ” صلصال “ خشک مٹی جو بجانے سے آواز دے۔ ” الفخار “ ٹھیکری یعنی وہ مٹی جو آگ میں پکا لی گئی ہو۔ ” مارج “ آگ کا شعلہ جس میں دھواں نہ ہو۔ اللہ نے انسان کو مٹی سے پیدا فرمایا اور ” جآن “ جنوں کے جد اعلیٰ کو آگ کے شعلے سے پیدا فرمایا۔ اے جن و انس ذرا سوچو تو سہی تمہاری تخلیق بھی اللہ کا تم پر انعام ہے تم اس کی کونسی نعمت کو نہیں مانو گے پھر یہ اس کی قدرت و صفت کا کمال ہے کہ مٹی اور آگ سے اس نے کس خوبی سے پیدا فرمایا یہ اس کی قدرت و وحدانیت کی دلیل ہے۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(14) اسی نے انسان کو ایسی خشک مٹی سے پیدا کیا جو ٹھیکرے کی طرح کھنکھناتی اور کھن کھن بولتی تھی۔ یعنی آدم (علیہ السلام) کو خشک مٹی سے بنایا جو شروع میں گارا تھی پھر آخر میں خشک ہوگئی تھی۔