Surat ur Rehman

Surah: 55

Verse: 19

سورة الرحمن

مَرَجَ الۡبَحۡرَیۡنِ یَلۡتَقِیٰنِ ﴿ۙ۱۹﴾

He released the two seas, meeting [side by side];

اس نے دو دریا جاری کر دیئے جو ایک دوسرے سے مل جاتے ہیں ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

He has Maraja the two seas, or let them loose, according to Ibn Abbas. Allah's statement, يَلْتَقِيَانِ (meeting together), Ibn Zayd said, "He prevents them from meeting by the dividing barrier He placed between them to separate them." The two seas are the fresh and salty waters, the former coming from running rivers. We discussed this topic in Surah Al-Furqan when explaining Allah's statement; وَهُوَ الَّذِى مَرَجَ الْبَحْرَيْنِ هَـذَا عَذْبٌ فُرَاتٌ وَهَـذَا مِلْحٌ أُجَاجٌ وَجَعَلَ بَيْنَهُمَا بَرْزَخاً وَحِجْراً مَّحْجُوراً And it is He Who has let free the two seas: one palatable and sweet, and the other salty and bitter; and He has set a barrier and a complete partition between them. (25:53) Allah said, بَيْنَهُمَا بَرْزَخٌ لاَّ يَبْغِيَانِ

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

مَرَجَ الْبَحْرَیْنِ یَلْتَقِیٰـنِ ۔۔۔۔۔: ان آیات کی تفسیر کے لیے دیکھئے سورة ٔ فرقان (٥٣) کی تفسیر۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Allah created Different Types of Water مَرَ‌جَ الْبَحْرَ‌يْنِ يَلْتَقِيَانِ (He has set forth the two seas that meet together...55:19). Literally, the verb maraja means &to let loose&. The word bahrain [ two seas or two types of waters ] refers to sweet and salty waters. Allah has created two types of waters. In some places the two seas meet together, the samples of which are available in every region of the world. However, where the sweet and salty waters meet, there is a distinct barrier between the sweet and salty waters. In some cases, the two types of waters are seen distinctly in higher or lower position. If the salty water overrides the sweet water, the characteristics of the sweet water will not be spoiled; nor will the characteristics of the salty water be affected in any way if the sweet water overrides it. Thus the Qur&an states: مَرَ‌جَ الْبَحْرَ‌يْنِ يَلْتَقِيَانِ بَيْنَهُمَا بَرْ‌زَخٌ لَّا يَبْغِيَانِ He has set forth the two seas that meet together, while between them there is a barrier they do not transgress....55:20)

مَرَجَ الْبَحْرَيْنِ ، مرج کے لغوی معنی آزاد و بےقید چھوڑ دینے کے ہیں اور بحرین سے دو دریا شیریں اور نمکین مراد ہیں، زمین پر حق تعالیٰ نے دونوں قسم کے دریا پیدا فرمائے ہیں اور بعض جگہ یہ دونوں مل جاتے ہیں جس کی نظائر دنیا کے ہر خطے میں پائی جاتی ہیں مگر جہاں دو دریا شیریں اور نمکین مل کر بہتے ہیں وہاں کافی دور تک دونوں کا پانی الگ الگ ممتاز رہتا ہے، ایک طرف میٹھا دوسری طرف کھارا اور بعض جگہ یہ صورت اوپر نیچے بھی ہوتی ہے جہاں دریائے شور کسی شیریں دریا کے اوپر چڑھ آتا ہے وہاں بھی نیچے کا پانی اپنی جگہ شیریں ہوتا ہے اور اوپر کا نمکین اور کھاری، پانی باوجود رقیق اور لطیف ہونے کے ایک مسافت تک ایک دوسرے میں خلط ملط نہیں ہوتا، الگ الگ اپنے ذائقہ کے ساتھ چلتا ہے، اسی قدرت حق تعالیٰ کے بیان کے لئے فرمایا مَرَجَ الْبَحْرَيْنِ يَلْتَقِيٰنِ بَيْنَهُمَا بَرْزَخٌ لَّا يَبْغِيٰنِ ، یعنی دونوں دریا ملتے ہیں، مگر ان کے درمیان قدرت خداوندی کا ایک پردہ حائل رہتا ہے جو دور تک آپس میں ان کو ملنے نہیں دیتا۔

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

مَرَجَ الْبَحْرَيْنِ يَلْتَقِيٰنِ۝ ١٩ ۙ مرج أصل المَرْج : الخلط، والمرج الاختلاط، يقال : مَرِجَ أمرُهم «2» : اختلط، ومَرِجَ الخاتَمُ في أصبعي، فهو مارجٌ ، ويقال : أمرٌ مَرِيجٌ. أي : مختلط، ومنه غصنٌ مَرِيجٌ: مختلط، قال تعالی: فَهُمْ فِي أَمْرٍ مَرِيجٍ [ ق/ 5] والمَرْجان : صغار اللّؤلؤ . قال : كَأَنَّهُنَّ الْياقُوتُ وَالْمَرْجانُ [ الرحمن/ 19] من قولهم : مَرَجَ. ويقال للأرض التي يكثر فيها النّبات فتمرح فيه الدّواب : مَرْجٌ ، وقوله : مِنْ مارِجٍ مِنْ نارٍ [ الرحمن/ 15] أي : لهيب مختلط، وأمرجت الدّابّةَ في المرعی: أرسلتها فيه فَمَرَجَتْ. ( م ر ج ) اصل میں المرج کے معنی خلط ملط کرنے اور ملا دینے کے ہیں اور المروج کے معنی اختلاط اور مل جانے کے ۔ مرج امرھم ۔ ان کا معاملہ ملتبس ہوگیا ۔ مرج الخاتم فی اصبعی ۔ انگوٹھی انگلی میں ڈھیلی ہوگئی مارج ( صفت فاعلی ) ڈھیلی انگوٹھی ۔ امر مریج گذمڈا اور پیچیدہ معاملہ ۔ غضن مریج : باہم گتھی ہوئی ٹہنی ۔ قرآن پاک میں ہے : فَهُمْ فِي أَمْرٍ مَرِيجٍ [ ق/ 5] سو یہ ایک غیرواضح معاملہ میں ہیں ۔ المرجان ۔ مونگا چھوٹا موتی ۔ قرآن پاک میں ہے : كَأَنَّهُنَّ الْياقُوتُ وَالْمَرْجانُ [ الرحمن/ 19] اور آٰیت کریمہ ؛مَرَجَاس نے دودریا ر واں کے جو آپس میں ملتے ہیں ۔ میں مرج کا لفظ مرج کے محاورہ سے ماخوذ ہے اور جس زمین میں گھاس بکثرت ہو اور جانور اس میں مگن ہوکر چرتے رہیں اسے مرج کہاجاتا ہے ۔ اور آیت کریمہ : مِنْ مارِجٍ مِنْ نارٍ [ الرحمن/ 15] آگ کے شعلے ہے ۔ میں مارج کے معنی آگ کے ( دھوئیں سے ) مخلوط شعلے کے ہیں ۔ امرجت الدابۃ فی المرعیٰ : میں نے جانور کو چراگاہ میں کھلا چھوڑ دیا چناچہ آزادی سے چرتا رہا ۔ بحر أصل البَحْر : كل مکان واسع جامع للماء الکثير، هذا هو الأصل، ثم اعتبر تارة سعته المعاینة، فيقال : بَحَرْتُ كذا : أوسعته سعة البحر، تشبيها به، ومنه : بَحرْتُ البعیر : شققت أذنه شقا واسعا، ومنه سمیت البَحِيرَة . قال تعالی: ما جَعَلَ اللَّهُ مِنْ بَحِيرَةٍ [ المائدة/ 103] ، وذلک ما کانوا يجعلونه بالناقة إذا ولدت عشرة أبطن شقوا أذنها فيسيبونها، فلا ترکب ولا يحمل عليها، وسموا کلّ متوسّع في شيء بَحْراً ، حتی قالوا : فرس بحر، باعتبار سعة جريه، وقال عليه الصلاة والسلام في فرس ركبه : «وجدته بحرا» «1» وللمتوسع في علمه بحر، وقد تَبَحَّرَ أي : توسع في كذا، والتَبَحُّرُ في العلم : التوسع واعتبر من البحر تارة ملوحته فقیل : ماء بَحْرَانِي، أي : ملح، وقد أَبْحَرَ الماء . قال الشاعر : 39- قد عاد ماء الأرض بحرا فزادني ... إلى مرضي أن أبحر المشرب العذب «2» وقال بعضهم : البَحْرُ يقال في الأصل للماء الملح دون العذب «3» ، وقوله تعالی: مَرَجَ الْبَحْرَيْنِ هذا عَذْبٌ فُراتٌ وَهذا مِلْحٌ أُجاجٌ [ الفرقان/ 53] إنما سمي العذب بحرا لکونه مع الملح، كما يقال للشمس والقمر : قمران، وقیل السحاب الذي كثر ماؤه : بنات بحر «4» . وقوله تعالی: ظَهَرَ الْفَسادُ فِي الْبَرِّ وَالْبَحْرِ [ الروم/ 41] قيل : أراد في البوادي والأرياف لا فيما بين الماء، وقولهم : لقیته صحرة بحرة، أي : ظاهرا حيث لا بناء يستره . ( ب ح ر) البحر ( سمندر ) اصل میں اس وسیع مقام کو کہتے ہیں جہاں کثرت سے پانی جمع ہو پھر کبھی اس کی ظاہری وسعت کے اعتبار سے بطور تشبیہ بحرت کذا کا محارہ استعمال ہوتا ہے جس کے معنی سمندر کی طرح کسی چیز کو وسیع کردینا کے ہیں اسی سے بحرت البعیر ہے یعنی میں نے بہت زیادہ اونٹ کے کان کو چیز ڈالا یا پھاڑ دیا اور اس طرح کان چر ہے ہوئے اونٹ کو البحیرۃ کہا جا تا ہے قرآن میں ہے ما جَعَلَ اللَّهُ مِنْ بَحِيرَةٍ [ المائدة/ 103] یعنی للہ تعالیٰ نے بحیرہ جانور کا حکم نہیں دیا کفار کی عادت تھی کہ جو اونٹنی دس بچے جن چکتی تو اس کا کان پھاڑ کر بتوں کے نام پر چھوڑ دیتے نہ اس پر سواری کرتے اور نہ بوجھ لادیتے ۔ اور جس کو کسی صنعت میں وسعت حاصل ہوجائے اسے بحر کہا جاتا ہے ۔ چناچہ بہت زیادہ دوڑ نے والے گھوڑے کو بحر کہہ دیا جاتا ہے ۔ آنحضرت نے ایک گھوڑے پر سواری کے بعد فرمایا : ( 26 ) وجدتہ بحرا کہ میں نے اسے سمندر پایا ۔ اسی طرح وسعت علمی کے اعتبار سے بھی بحر کہہ دیا جاتا ہے اور تبحر فی کذا کے معنی ہیں اس نے فلاں چیز میں بہت وسعت حاصل کرلی اور البتحرفی العلم علم میں وسعت حاصل کرنا ۔ اور کبھی سمندر کی ملوحت اور نمکین کے اعتبار سے کھاری اور کڑوے پانی کو بحر انی کہد یتے ہیں ۔ ابحرالماء ۔ پانی کڑھا ہوگیا ۔ شاعر نے کہا ہے : ( 39 ) قدعا دماء الا رض بحر فزادنی الی مرض ان ابحر المشراب العذاب زمین کا پانی کڑوا ہوگیا تو شریں گھاٹ کے تلخ ہونے سے میرے مرض میں اضافہ کردیا اور آیت کریمہ : مَرَجَ الْبَحْرَيْنِ هذا عَذْبٌ فُراتٌ وَهذا مِلْحٌ أُجاجٌ [ الفرقان/ 53] بحرین ھذا عذاب فرات ولھذا وھذا ملح اجاج ( 25 ۔ 53 ) دو دریا ایک کا پانی شیریں ہے پیاس بجھانے والا اور دوسرے کا کھاری ہے چھاتی جلانے والا میں عذاب کو بحر کہنا ملح کے بالمقابل آنے کی وجہ سے ہے جیسا کہ سورج اور چاند کو قمران کہا جاتا ہے اور بنات بحر کے معنی زیادہ بارش برسانے والے بادلوں کے ہیں ۔ اور آیت : ظَهَرَ الْفَسادُ فِي الْبَرِّ وَالْبَحْرِ [ الروم/ 41] کی تفسیر میں بعض نے کہا ہے کہ بحر سے سمندر مراد نہیں ہے بلکہ بر سے جنگلات اور بحر سے زرخیز علاقے مراد ہیں ۔ لقیتہ صحرۃ بحرۃ میں اسے ایسے میدان میں ملا جہاں کوئی اوٹ نہ تھی ؟ ( لقی) تلقی السّماحة منه والنّدى خلقاویقال : لَقِيتُه بکذا : إذا استقبلته به، قال تعالی: وَيُلَقَّوْنَ فِيها تَحِيَّةً وَسَلاماً [ الفرقان/ 75] ، وَلَقَّاهُمْ نَضْرَةً وَسُرُوراً [ الإنسان/ 11] . وتَلَقَّاهُ كذا، أي : لقيه . قال : وَتَتَلَقَّاهُمُ الْمَلائِكَةُ [ الأنبیاء/ 103] ، وقال : وَإِنَّكَ لَتُلَقَّى الْقُرْآنَ [ النمل/ 6] وتلقی السماحۃ منہ والندیٰ خلقا سخاوت اور بخشش کرنا اس کی طبیعت ثانیہ بن چکی ہے ۔ لقیت بکذا ۔ میں فلاں چیز کے ساتھ اس کے سامنے پہنچا۔ قرآن میں ہے : وَيُلَقَّوْنَ فِيها تَحِيَّةً وَسَلاماً [ الفرقان/ 75] اور وہاں ان کا استقبال دعاوسلام کے ساتھ کیا جائے گا ۔ وَلَقَّاهُمْ نَضْرَةً وَسُرُوراً [ الإنسان/ 11] اور تازگی اور شادمانی سے ہمکنار فرمائے گا ۔ تلقاہ کے معنی کسی چیز کو پالینے یا اس کے سامنے آنے کے ہیں ۔ جیسے فرمایا : وَتَتَلَقَّاهُمُ الْمَلائِكَةُ [ الأنبیاء/ 103] اور فرشتے ان کو لینے آئیں گے ۔ وَإِنَّكَ لَتُلَقَّى الْقُرْآنَ [ النمل/ 6] اور تم کو قرآن عطا کیا جاتا ہے ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(١٩۔ ٢١) اسی نے دو دریاؤں شیریں اور تلخ کو ملا دیا کہ آپس میں ایک دوسرے کا پانی نہیں ملتا اور ان دونوں کے درمیان ایک حجاب ہے کہ جس سے دونوں ایک دوسرے کے ساتھ مل نہیں سکتے اور نہ ایک دوسرے کا پانی تبدیل کرسکتے ہیں سو اے جن و انس تم اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں کا انکار کرو گے۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ١٩ { مَرَجَ الْبَحْرَیْنِ یَلْتَقِیٰنِ ۔ } ” اس نے چلا دیے دو دریا جو آپس میں ملے ہوئے بھی ہیں۔ “

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(55:19) مرج : ماضی واحد مذکر غائب۔ اس نے چھوڑا۔ اس نے مخلوط کیا۔ اس نے چلایا۔ اس نے رواں کیا۔ (نیز ملاحظہ ہو 55:15) متذکرہ الصدر۔ البحرین : دو سمندر۔ بحر کا تثنیہ۔ بحالت نصب و جر۔ اور سورة الفرقان میں ان دو سمندروں کا ذکر یوں ہے :۔ ھو الذی مرج البحرین ھذا عذب فرات وھذا ملح اجاج وجعل بینھما برزخا وحجرا محجورا (25:53) اور وہی تو ہے جس نے دو دریاؤں کو ملا دیا۔ (مخلوط کیا) ایک کا پانی شیریں ہے پیاس بجھانے والا۔ اور دوسرے کا کھاری کڑوا۔ (چھاتی جلانے والا) اور دونوں کے درمیان ایک آڑ اور مضبوط اوٹ بنادی۔ مولٰنا اشرف علی تھانوی (رح) اپنی تفسیر بیان القرآن میں مثالاً ذکر کرتے ہیں اراکان سے چاٹگام تک ملے جلے چلتے ہیں۔ ایک کا پانی سفید ہے اور ایک کا سیاہ۔ سیاہ میں سمندر کی طرح تلاطم آتا ہے مگر سفید ساکن رہتا ہے۔ کشتی سفید پانی میں چلتی ہے اور دونوں کے درمیان ایک دھاری سی چلی گئی ہے۔ سفید کا پانی میٹھا ہے اور سیاہ کا کڑوا۔ مولانا دریا آبادی اپنی تفسیر ماجدی میں لکھتے ہیں :۔ ماہرین فن کا بیان ہے کہ سطح زمین کے نیچے پانی کے دو مستقل نظام جاری ہیں ۔ ایک سلسلہ آب شور کا ہے جو کہ سمندروں سے ظاہر ہوتا ہے۔ دوسرا سلسلہ آب شیریں کا ہے جو عموماً دریاؤں ۔ کنووں۔ جھیلوں سے نکلتا ہے۔ عام مشاہدہ سے بھی پایا جاتا ہے کہ زمین کے نیچے کھاری اور میٹھے پانی کے دھارے میلوں تک ساتھ ساتھ موجود ہیں اور بعض جگہ ایک فٹ کے فاصلہ پر ایک کنویں کا پانی میٹھا اور دوسرے کا کھارا نکل آتا ہے اسی طرح ایک سطح پر پانی کھارا ہے تو چند فٹ نیچے جاکر میٹھا پانی آجاتا ہے اور اس کے برعکس بھی۔ یلتقین : مضارع تثنیہ مذکر غائب التقاء (افتعال) مصدر۔ وہ دونوں ملے ہوئے ہیں۔ وہ دونوں ملتے ہیں۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

مرج البحرین ............ کالاعلام (4 ٢) فبای الاء ربکما تکذبن (55:5 ٢) ” دو سمندروں کو اس نے چھوڑ دیا کہ بہم مل جائیں پھر بھی ان کے درمیان ایک پردہ حائل ہے جس سے وہ تجاوز نہیں کرتے۔ پس اے جن وانس ، تم اپنے رب کی قدرت کے کن کن کرشموں کو جھٹلاؤ گے ؟ ان سمندروں سے موتی اور مونگے نکلتے ہیں۔ پس اے جن وانس ، تم اپنے رب کی قدرت کے کن کن کمالات کو جھٹلاؤ گے ؟ اور یہ جہاز اسی کے ہیں جو سمندر میں پہاڑوں کی طرح اونچے اٹھے ہوئے ہیں ، پس اے جن وانس ، تم اپنے رب کے کن کن احسانات کو جھٹلاؤ گے ؟ “ یہاں جن دو دریاؤں کی طرف اشارہ کیا گیا ہے وہ میٹھا سمندر اور کھارا سمندر ہیں۔ کھارے دریا سے مراد سمندر اور بڑے اور گہرے پانی ہیں اور میٹھے سے مراد چھوٹے دریا ہے۔ یہ باہم ملتے ہیں لیکن ان میں سے کوئی بھی اپنے حدود مقررہ سے آگے نہیں بڑھتا۔ ہر ایک اپنے حدود سے تجاوز نہیں کرتا اور ان کے درمیان ایک پردہ حائل ہے۔ زمین کے اس کرہ پر پانیوں کی یہ تقسیم اتفاقاً نہیں ہوگئی۔ یہ اللہ تعالیٰ کی تدبیر نے گہرے اور باریک اندازے سے ایسی رکھی ہے۔ کڑوا پانی سطح زمین کے 4 ٣ حصہ پر پھیلا ہوا ہے۔ صرف 4 ١ خشکی ہے اور یہ خطے ایک دوسرے کے ساتھ متصل ہیں۔ اس قدر وسیع نمکین پانی سطح زمین کے لئے بہت ہی ضروری ہے تاکہ وہ زمین کو صاف رکھے اور زندگی کے نشوونما کے لئے وہ قابل رہے۔ ” زمین سے مسلسل گیسیں نکل رہی ہیں۔ زمانوں سے نکل رہی ہیں اور ان میں سے اکثر زہریلی ہیں لیکن ہوا ان گیسوں سے ملوث نہیں ہوتی۔ نیز ہوا کے اندر پانے جانے والی وہ نسبت بھی نہیں بدلتی جو انسان کے وجود کے لئے ضروری ہے ۔ اس توازن کو برقرار رکھنے کا ضامن پانی کا وہ عظیم ذخیرہ ہے یعنی سمندر “ (١) اس عظیم ذخیرہ آب پر جب سورج چمکتا ہے تو اس سے بخارات اٹھتے ہیں اور انہی بخارات سے بادل اور بارشیں بن کر خشکی پر میٹھے پانی کے دریا بہتے ہیں۔ سمندر ، حرارت شمسی اور اعلیٰ فضا کی سردی اور دوسرے فلکیاتی عوامل مل کر بارش بناتے ہیں اور ان سے میٹھا سمندر بنتا ہے۔ اس میٹھے پانی ہی پر انسانوں ، حیوانوں اور نباتات کی زندگی موقوف ہے۔ تمام دریا جاکر سمندروں میں گرتے ہیں اور زمین کا نمک بہا کر یہ سمندر میں لے جاتے ہیں لیکن یہ سمندر کے پانیوں کو خراب نہیں کرسکتے۔ جتنے بھی دریا ہیں ان کی سطح سمندر کی سطح سے بلند ہوتی ہے۔ اس لئے سمندر بھی ان دریاؤں پر کوئی دست درازی نہیں کرسکتا کیونکہ یہ دریا سمندر ہی میں گرتے ہیں۔ ان دریاؤں کے چلنے کے جو راستے ہیں ان پر نمکین پانی دست درازی نہیں کرتا نہ نمکین پانی ان صاف پانیوں کو اپنے کام سے روک سکتا ہے۔ دونوں کے درمیان ایک پردہ حائل ہے لہٰذا دو سمندروں کا ذکر اور ان کے درمیان پردے کا ذکر کوئی قابل تعجب بات نہیں ہے۔” پس اے جن وانس تم اپنے رب کی قدرت کے کن کن کمالات کو جھٹلاؤ گے۔ “ اس کے بعد سمندروں میں موجود اللہ کے احسانات کا ذکر ، خصوصاً وہ چیزیں جو ان کی عملی زندگی کے قریب تھیں۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

اس کے بعد کشتیوں کا تذکرہ فرمایا کہ اونچی اونچی کشتیاں پہاڑوں کی طرح سمندروں میں بلند ہیں یہ سب اللہ تعالیٰ ہی کی مشیت سے قائم ہیں۔ وہی اپنی قدرت کاملہ سے ان کی حفاظت فرماتا ہے۔ سمندر کا تلاطم اور تیز ہواؤں کے حملوں سے محفوظ فرماتا ہے، یہ کشتیاں بڑے بڑے وزن کے سامان تجارت کو اور تاجروں کو اور انسانوں کی خوراکوں اور دوسری ضروریات کو ایک براعظم سے دوسرے براعظم تک لے جاتی ہیں جسے سورة البقرہ میں یوں فرمایا ہے ﴿ وَ الْفُلْكِ الَّتِيْ تَجْرِيْ فِي الْبَحْرِ بِمَا يَنْفَعُ النَّاسَ ﴾ (اور ان کشتیوں میں جو سمندر میں وہ چیزیں لے کر چلتی ہیں جو انسانوں کو نفع دیتی ہیں، عقلمندوں کے لیے نشانیاں ہیں) اللہ تعالیٰ شانہٗ نے کشتیاں بنانے کا طریقہ بھی الہام فرمایا پھر ان کو سمندر میں جاری کرنے اور ان میں مال لاد کرلے جانے کا طریقہ بتایا یہ سب فوائد اور منافع کی صورتیں ہیں، یہ کشتیاں لاکھوں انسانوں کی ضروریات زندگی کو ادھر سے ادھر پہنچاتی ہیں لہٰذا فائدہ اٹھانے والوں پر لازم ہے کہ خالق جل مجدہ کا شکر ادا کریں اور اس کی نعمتوں کی ناشکری نہ کریں۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

9:۔ ” مرج البحرین “ یہ توحید کی چھٹی دلیل ہے۔ مرج ای ارسل واجری، بہا دیا، جاری کردیا، دو دریا، میٹھا اور کھاری۔ اس کی قدرت کاملہ کا کرشمہ دیکھو کہ اس نے دو دریا ساتھ ساتھ چلائے ہیں جن کا پانی ساتھ ساتھ جا رہا ہے اور ان کے درمیان ظاہری طور پر کوئی حجاب حاجز بھی نہیں محض اللہ کی قدرت کا پردہ ہے جو ان کو آپس میں ملنے نہیں دیتا اور دونوں دریا اپنی حدوں سے نکل کر ایک دوسرے کی حد میں داخل نہیں ہوسکتے۔ ان دونوں سے ہر حجم میں چھوٹے اور بڑے سچے موتی نکلتے ہیں۔ ” اللؤلؤ “ بڑے موتی، ” المرجان “ چھوٹے موتی۔ اللؤؤ والمرجان کبار الدر وصغارہ (بیضاوی، ابن کثیر) ۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(19) اسی نے دو دریائوں کو اسی طرح چلایا کہ وہ دونوں باہم ملے ہوئے ہیں۔