Surat ur Rehman
Surah: 55
Verse: 2
سورة الرحمن
عَلَّمَ الۡقُرۡاٰنَ ؕ﴿۲﴾
Taught the Qur'an,
قرآن سکھایا ۔
عَلَّمَ الۡقُرۡاٰنَ ؕ﴿۲﴾
Taught the Qur'an,
قرآن سکھایا ۔
2۔ 1 کہتے ہیں کہ اہل مکہ کے جواب میں ہے جو کہتے رہتے یہ قرآن محمد کو کوئی انسان سکھاتا ہے بعض کہتے ہیں ان کے اس قول کے جواب میں ہے کہ رحمٰن کیا ہے ؟ قرآن سکھانے کا مطلب ہے، اسے آسان کردیا، یا اللہ نے اپنے پیغمبر کو سکھایا اور پیغمبر نے امت کو سکھلایا۔ اس سورت میں اللہ نے اپنی بہت سی نعمتیں گنوائی ہیں۔ چونکہ تعلیم قرآن ان میں قدر ومنزلت اور اہمیت و افادیت کے لحاظ سے سب سے نمایاں ہے، اس لیے پہلے اسی نعمت کا ذکر فرمایا۔ (فتح القدیر)
[١] یعنی یہ اللہ کی رحمت اور مہربانی ہی کا نتیجہ ہے کہ اس نے آپ کو قرآن جیسی عظیم الشان اور بلند پایہ کتاب سکھا دی جو پوری نوع انسانی کی ہدایت کا ذریعہ ہے اور اسی کی ہدایت پر عمل کرنے سے انسان کی دنیا بھی سنور سکتی ہے اور آخرت بھی۔ اور اس کا دوسرا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ہی نے آپ کو قرآن سکھایا ہے کسی اور نے نہیں سکھایا جیسا کہ کفار مکہ کا قرآن کے متعلق ایک اعتراض یہ بھی تھا کہ اسے کوئی عجمی سکھاتا ہے۔ پھر یہ شخص اسے اللہ کی طرف منسوب کرکے ہمیں سنا دیتا ہے۔
Grammatically speaking, the verb عَلَّمَ ` allama [ to teach ] requires two objects, the direct and the indirect: [ 1] that of which the knowledge is imparted; and [ 2] he to whom the knowledge is imparted. Here the first object [ the Holy Qur&an ] is explicitly stated, but the second object is not. Some of the exegetes express the view that the second object is the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) who was taught the Qur&an directly by Allah, and through him the entire creation. It is possible to look at it from another point of view: The purpose of the Holy Qur&an is to give guidance to the entire creation of Allah, and to teach them good morals and the righteous deeds. Therefore, no particular object has been specified. The fact that the second object has not been explicitly specified indicates its generality, that is, it refers to the totality of human beings.
آگے پوری سورت میں حق تعالیٰ کی دنیوی اور دینی نعمتوں کا ذکر مسلسل ہوا ہے، عَلَّمَ الْقُرْاٰنَ میں اللہ تعالیٰ کی نعمتوں میں جو سب سے بڑی نعمت ہے اس کے ذکر سے ابتداء کی گئی اور سب سے بڑی نعمت قرآن ہے کیونکہ قرآن کریم انسان کے معاش اور معاد، دین اور دنیا دونوں کو خیرات و برکات کا جامع ہے، جنہوں نے قرآن کو لیا اور اس کا حق ادا کیا، جیسے صحابہ کرام حق تعالیٰ نے ان کو آخرت کے درجات اور نعمتوں سے تو سرفراز فرمایا ہی ہے دنیا میں بھی وہ درجہ اور مقام عطا فرمایا جو بڑے بڑے بادشاہوں کو بھی حاصل نہیں۔ قاعدے کے مطابق لفظ علم کے دو مفعول ہوتے ہیں، ایک وہ علم جو سکھایا جائے، دوسرے وہ شخص جس کو سکھایا جائے، یہاں آیت میں وہ چیز تو بتلا دی گئی جو سکھائی گئی ہے، یعنی قرآن، دوسرا مفعول یعنی قرآن جس کو سکھایا گیا اس کا ذکر نہیں کیا، بعض حضرات مفسرین نے فرمایا کہ بلاواسطہ حق تعالیٰ نے جن کو تعلیم دی، یعنی رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) وہی مراد ہیں، پھر آپ کے واسطے سے ساری مخلوقات اس میں داخل ہے اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ تنزیل قرآن کا مقصد ساری ہی خلق خدا کو راہ ہدایت دکھانا اور سب ہی کو اخلاق و اعمال صالحہ کا سکھانا ہے، اس لئے کسی خاص مفعول کی تخصیص نہیں کی گئی، دوسرا مفعول ذکر نہ کرنے سے اشارہ اسی عموم کی طرف ہے۔
عَلَّمَ الْقُرْاٰنَ ٢ ۭ علم ( تعلیم) اختصّ بما يكون بتکرير وتكثير حتی يحصل منه أثر في نفس المُتَعَلِّمِ. قال بعضهم : التَّعْلِيمُ : تنبيه النّفس لتصوّر المعاني، والتَّعَلُّمُ : تنبّه النّفس لتصوّر ذلك، وربّما استعمل في معنی الإِعْلَامِ إذا کان فيه تكرير، نحو : أَتُعَلِّمُونَ اللَّهَ بِدِينِكُمْ [ الحجرات/ 16] ، فمن التَّعْلِيمُ قوله : الرَّحْمنُ عَلَّمَ الْقُرْآنَ [ الرحمن/ 1- 2] ، عَلَّمَ بِالْقَلَمِ [ العلق/ 4] ، وَعُلِّمْتُمْ ما لَمْ تَعْلَمُوا[ الأنعام/ 91] ، عُلِّمْنا مَنْطِقَ الطَّيْرِ [ النمل/ 16] ، وَيُعَلِّمُهُمُ الْكِتابَ وَالْحِكْمَةَ [ البقرة/ 129] ، ونحو ذلك . وقوله : وَعَلَّمَ آدَمَ الْأَسْماءَ كُلَّها [ البقرة/ 31] تعلیم کے معنی با ر بار کثرت کے ساتھ خبر دینے کے ہیں ۔ حتٰی کہ متعلم کے ذہن میں اس کا اثر پیدا ہوجائے ۔ بعض نے کہا ہے کہ تعلیم کے معنی تصور کیلئے نفس کو متوجہ کرنا کے ہیں اور تعلم کے معنی ایسے تصور کی طرف متوجہ ہونا کے اور کبھی تعلیم کا لفظ اعلام کی جگہ آتا ہے جب کہ اس میں تاکید کے معنی مقصود ہوں جیسے فرمایا ۔ أَتُعَلِّمُونَ اللَّهَ بِدِينِكُمْ [ الحجرات/ 16] کیا تم خدا کو اپنی دینداری جتلاتے ہو ۔ اور حسب ذیل آیات میں تعلیم کا لفظ استعمال ہوا ہے جیسے فرمایا ۔ الرَّحْمنُ عَلَّمَ الْقُرْآنَ [ الرحمن/ 1- 2] خدا جو نہایت مہربان اس نے قرآن کی تعلیم فرمائی ۔ قلم کے ذریعہ ( لکھنا ) سکھایا ؛ وَعُلِّمْتُمْ ما لَمْ تَعْلَمُوا[ الأنعام/ 91] اور تم کو وہ باتیں سکھائی گئیں جن کو نہ تم جانتے تھے عُلِّمْنا مَنْطِقَ الطَّيْرِ [ النمل/ 16] ہمیں خدا کی طرف ست جانوروں کی بولی سکھائی گئی ہے ۔ وَيُعَلِّمُهُمُ الْكِتابَ وَالْحِكْمَةَ [ البقرة/ 129] اور خدا کی کتاب اور حکمت کی تعلیم دیتے ہیں ۔ اور آیت کریمہ ۔ وَعَلَّمَ آدَمَ الْأَسْماءَ كُلَّها [ البقرة/ 31] اور اس نے ادم کو سب چیزوں کے نام سکھائے ۔ میں آدم (علیہ السلام) کو اسماء کی تعلیم دینے کے معنی یہ ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے آدم کے اندر بولنے کی صلاحیت اور استعدادرکھ دی جس کے ذریعہ اس نے ہر چیز کے لئے ایک نام وضع کرلیا یعنی اس کے دل میں القا کردیا جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے حیوانات کو ان کے کام سکھا دیئے ہیں جسے وہ سر انجام دیتے رہتے ہیں اور آواز دی ہے جسے وہ نکالتے رہتے ہیں قرآن والْقُرْآنُ في الأصل مصدر، نحو : کفران ورجحان . قال تعالی:إِنَّ عَلَيْنا جَمْعَهُ وَقُرْآنَهُ فَإِذا قَرَأْناهُ فَاتَّبِعْ قُرْآنَهُ [ القیامة/ 17- 18] قال ابن عباس : إذا جمعناه وأثبتناه في صدرک فاعمل به، وقد خصّ بالکتاب المنزّل علی محمد صلّى اللہ عليه وسلم، فصار له کالعلم کما أنّ التّوراة لما أنزل علی موسی، والإنجیل علی عيسى صلّى اللہ عليهما وسلم . قال بعض العلماء : ( تسمية هذا الکتاب قُرْآناً من بين كتب اللہ لکونه جامعا لثمرة كتبه) بل لجمعه ثمرة جمیع العلوم، كما أشار تعالیٰ إليه بقوله : وَتَفْصِيلَ كُلِّ شَيْءٍ [يوسف/ 111] ، وقوله : تِبْياناً لِكُلِّ شَيْءٍ [ النحل/ 89] ، قُرْآناً عَرَبِيًّا غَيْرَ ذِي عِوَجٍ [ الزمر/ 28] ، وَقُرْآناً فَرَقْناهُ لِتَقْرَأَهُ [ الإسراء/ 106] ، فِي هذَا الْقُرْآنِ [ الروم/ 58] ، وَقُرْآنَ الْفَجْرِ[ الإسراء/ 78] أي : قراء ته، لَقُرْآنٌ كَرِيمٌ [ الواقعة/ 77] ( ق ر ء) قرآن القرآن ۔ یہ اصل میں کفران ورحجان کی طرف مصدر ہے چناچہ فرمایا :إِنَّ عَلَيْنا جَمْعَهُ وَقُرْآنَهُ فَإِذا قَرَأْناهُ فَاتَّبِعْ قُرْآنَهُ [ القیامة/ 17- 18] اس کا جمع کرنا اور پڑھوانا ہمارے ذمہ جب ہم وحی پڑھا کریں تو تم ( اس کو سننا کرو ) اور پھر اسی طرح پڑھا کرو ۔ حضرت ابن عباس نے اس کا یہ ترجمہ کیا ہے کہ جب ہم قرآن تیرے سینہ میں جمع کردیں تو اس پر عمل کرو لیکن عرف میں یہ اس کتاب الہی کا نام ہے جو آنحضرت پر نازل ہوگئی ا وریہ اس کتاب کے لئے منزلہ علم بن چکا ہے جیسا کہ توراۃ اس کتاب الہی کو کہاجاتا ہے جو حضرت موسیٰ ٰ (علیہ السلام) پر نازل ہوئی ۔ اور انجیل اس کتاب کو کہا جاتا ہے جو حضرت عیسیٰ پر نازل کی گئی ۔ بعض علماء نے قرآن کی وجہ تسمیہ یہ بھی بیان کی ہے کہ قرآن چونکہ تمام کتب سماویہ کے ثمرہ کو اپنے اندر جمع کئے ہوئے ہے بلکہ تمام علوم کے ماحصل کو اپنے اندر سمیٹے ہوئے ہے اس لئے اس کا نام قرآن رکھا گیا ہے جیسا کہ آیت : وَتَفْصِيلَ كُلِّ شَيْءٍ [يوسف/ 111] اور ہر چیز کی تفصیل کرنے والا ۔ اور آیت کریمہ : تِبْياناً لِكُلِّ شَيْءٍ [ النحل/ 89] کہ اس میں ہر چیز کا بیان مفصل ہے ۔ میں اس کی طرف اشارہ پایا جاتا ہے ۔ مزید فرمایا : قُرْآناً عَرَبِيًّا غَيْرَ ذِي عِوَجٍ [ الزمر/ 28] یہ قرآن عربی ہے جس میں کوئی عیب ( اور اختلاف ) نہیں ۔ وَقُرْآناً فَرَقْناهُ لِتَقْرَأَهُ [ الإسراء/ 106] اور ہم نے قرآن کو جزو جزو کرکے نازل کیا تاکہ تم لوگوں کو ٹھہر ٹھہر کر پڑھ کر سناؤ ۔ فِي هذَا الْقُرْآنِ [ الروم/ 58] اس قرآن اور آیت کریمہ : وَقُرْآنَ الْفَجْرِ [ الإسراء/ 78] اور صبح کو قرآن پڑھا کرو میں قرآت کے معنی تلاوت قرآن کے ہیں ۔ لَقُرْآنٌ كَرِيمٌ [ الواقعة/ 77] یہ بڑے رتبے کا قرآن ہے ۔
آیت ٢ { عَلَّمَ الْقُرْاٰنَ ۔ } ” قرآن سکھایا ۔ “ رحمن ‘ اللہ تعالیٰ کا خاص نام ہے۔ اس کا مادہ ” رحم “ ہے اور یہ فَعلان کے وزن پر ہے۔ اس وزن پر جو الفاظ آتے ہیں ان کے مفہوم میں بہت زیادہ مبالغہ پایاجاتا ہے۔ جیسے قرآن مجید میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے لیے دو مرتبہ (الاعراف : ١٥٠ اور طٰہ : ٨٦) غَضْبان کا لفظ آیا ہے ‘ یعنی غصے سے بہت زیادہ بھرا ہوا۔ اسی طرح اَنَا عَطْشَان کا مطلب ہے کہ میں پیاس سے مرا جا رہا ہوں اور اَنَا جَوْعَان : بھوک سے میری جان نکلی جا رہی ہے۔ چناچہ لغوی اعتبار سے رحمن کے مفہوم میں ایک طوفانی شان پائی جاتی ہے (لفظ ” طوفان “ بھی اسی وزن پر ہے ‘ اس لیے اس لفظ کے مفہوم میں بھی مبالغہ پایاجاتا ہے) ۔ اس مفہوم کو ہم اپنی زبان میں اس طرح ادا کرنے کی کوشش کرسکتے ہیں کہ رحمن وہ ذات ہے جس کی رحمت ٹھاٹھیں مارتے ہوئے سمندر کی طرح ہے۔ اس کی رحمت تمام مخلوقات کو ڈھانپے ہوئے ہے۔ کسی مخلوق کا کوئی فرد بھی اس کی رحمت سے مستغنی نہیں۔ خاص طور پر بنی نوع انسانی تو دنیا میں بھی اس کی رحمت کی محتاج ہے اور آخرت میں بھی۔ اللہ تعالیٰ کی رحمت کے بارے میں ایک موقع پر حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ کوئی شخص صرف اپنے اعمال کی بنیاد پر جنت میں نہیں جاسکے گا جب تک کہ رحمت خداوندی اس کی دستگیری نہ کرے۔ اس پر صحابہ (رض) نے عرض کیا کہ یارسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! کیا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بھی نہیں ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : (وَلَا اَنَا ‘ اِلاَّ اَنْ یَتَغَمَّدَنِیَ اللّٰہُ بِمَغْفِرَۃٍ وَرَحْمَۃٍ ) (١) ” ہاں میں بھی نہیں ‘ اِلا یہ کہ اللہ تعالیٰ مجھے اپنی مغفرت اور رحمت سے ڈھانپ لے “۔ چناچہ اللہ تعالیٰ کے صفاتی ناموں میں رحمن چوٹی کا نام ہے۔ جس طرح اللہ تعالیٰ کے ناموں میں چوٹی کا نام رحمن ہے ‘ اسی طرح اللہ نے انسان کو جو علم سکھایا ہے اس میں چوٹی کا علم قرآن ہے۔ اکتسابی علم (acquired knowledge) میں تو اللہ تعالیٰ کی مشیت کے مطابق انسان رفتہ رفتہ ترقی کی منازل طے کر رہا ہے ‘ لیکن اللہ تعالیٰ کی طرف سے انسان کو جو الہامی علم (revealed knowledge) عطا ہوا ہے اس میں چوٹی کا علم قرآن ہے ‘ جو ہر قسم کے تمام علوم کا نقطہ عروج ہے۔
1 That is, the teaching of this Qur'an is not the production of a man's mind but its Teacher is the Merciful God Himself. Here, there was no need to tell as to whom AIIah had imparted this Qur'anic teaching for the people were hearing it from the tongue of the Prophet Muhammad (upon whom be Allah's peace and blessings). Therefore, the situation by itself made it evident that the teaching had been imparted to Muhammad (upon whom be Allah's peace and blessings). To begin the discourse with this sentence is meant,,first of aII, to tell that the Prophet Muhammad (upon whom be Allah's peace and blessings) himself is not its author, but its Teacher is AIlah Almighty. Furthermore, there is another object also to which the word Rahman (Merciful) is pointing. If the purpose was only to say that that teaching is from Allah, and not the production of the Prophet's mind, there was no need to use an attribute of AIIah instead of His proper name, acid for that purpose any attribute from among the Divine attributes could have been adopted, But when, instead of saying that AIIah, or the Creator, or the Providence, has taught this, it was said: 'The Merciful (Ar-Rahman) has taught this Qur'an,' it by itself gave the meaning that the revelation of the Qur'an for the guidance of mankind was nothing but Allah's mercy and grace, As He is most kind and Merciful to His creation, He did not like that He should leave them wandering in the darkness, and His mercy demanded that He should send down this Quran to bleu them with the knowledge on which depends their right guidance and conduct in the world and their success and well-being in the Hereafter, "
سورة الرَّحْمٰن حاشیہ نمبر :1 یعنی اس قرآن کی تعلیم کسی انسان کی طبعزاد نہیں ہے بلکہ اس کا معلم خود خدائے رحمان ہے ۔ اس مقام پر یہ بات بیان کرنے کی حاجت نہیں تھی کہ اللہ نے قرآن کی یہ تعلیم کس کو دی ہے ، کیونکہ لوگ اس کو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان سے سن رہے تھے ، اس لیے مقتضائے حال سے کلام کا یہ مدعا آپ سے آپ ظاہر ہو رہا تھا کہ یہ تعلیم محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو دی گئی ہے ۔ آغاز اس فقرے سے کرنے کا پہلا مقصد تو یہی بتانا ہے کہ حضور خود اس کے مصنف نہیں ہیں بلکہ اس تعلیم کا دینے والا اللہ تعالیٰ ہے مزید برآں دوسرا ایک مقصد ور بھی ہے جس کی طرف لفظ رحمان اشارہ کر رہا ہے ۔ اگر بات صرف اتنی ہی کہنی ہوتی کہ یہ تعلیم اللہ کی طرف سے ہے ، نبی کی طبعزاد نہیں ہے تو اللہ کا اہم ذات چھوڑ کر کوئی اسم صفت استعمال کرنے کی حاجت نہ تھی ، اور اسم صفت ہی استعمال کرنا ہوتا تو محض اس مضمون کو ادا کرنے کے لیے اسمائے الٰہیہ میں سے کوئی اسم بھی اختیار کیا جا سکتا تھا ۔ لیکن جب یہ کہنے کے بجائے کہ اللہ نے ، یا خالق نے ، یا رزاق نے یہ تعلیم دی ہے ، فرمایا یہ گیا کہ اس قرآن کی تعلیم رحمٰن نے دی ہے ، تو اس سے خود بخود یہ مضمون نکل آیا کہ بندوں کی ہدایت کے لیے قرآن مجید کا نازل کیا جانا سراسر اللہ کی رحمت ہے ۔ وہ چونکہ اپنی مخلوق پر بے انتہا مہربان ہے ، اس لیے اس نے یہ گورا نہ کیا کہ تمہیں تاریکی میں بھٹکتا چھوڑ دے ، اور اس کی رحمت اس بات کی مقتضی ہوئی کہ یہ قرآن بھیج کر تمہیں وہ علم عطا فرمائے جس پر دنیا میں تمہاری راست روی اور آخرت میں تمہاری فلاح کا انحصار ہے ۔
(55:2) علم القران : جملہ فعلیہ۔ اس نے قرآن کی تعلیم دی۔ (1) الرحمن مبتداء ہے۔ اور جملہ علم القران اس کی خبر۔ (2) الرحمن خبر ہے اس کا مبتداء محذوف ہے۔ ای الرحمن ربنا الرحمن ۔ (3) الرحمن مبتداء ہے اور اس کی خبر محذوف ہے ای الرحمن ربنا۔ الرحمن کے بعد جملہ علم القرآن جملہ مستانفہ ہے۔ علم القران میں مفعول اول محذوف ہے تقدیر کلام ہے علم النبی القران یا جبریل۔ یا الانسان۔ اس نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو قرآن کی تعلیم دی ۔ یا جبریل کو یا انسان کو۔
ف 3 ہو اس کی نعمتوں میں سے سب سے بڑی اور سب سے اونچی نعمت ہے۔
4۔ یعنی قرآن نازل کیا تاکہ اس کے بندے اس سے اس پر ایمان لاکر اس کا علم حاصل کر کے اس پر عمل کر کے منتفع ہوں۔