Surat ur Rehman

Surah: 55

Verse: 22

سورة الرحمن

یَخۡرُجُ مِنۡہُمَا اللُّؤۡلُؤُ وَ الۡمَرۡجَانُ ﴿ۚ۲۲﴾

From both of them emerge pearl and coral.

ان دونوں میں سے موتی اور مونگے برآمد ہوتے ہیں ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

Out of them both come out pearls and Al-Marjan. pearls are well-known. As for Marjan they say it means small pearls. Mujahid, Qatadah, Abu Ruzayn, Ad-Dahhak said it, and it has also been reported from Ali. It was also said that it means large, precious pearls, this was mentioned by Ibn Jarir from some of the Salaf. Ibn Abi Hatim recorded from Ibn Abbas who said, "When it rains, the oysters in the sea open their mouths. What falls in them, the drops, turns into pearls." Its chain of narrators is Sahih. Since this type of adornment is a favor from Allah to the people of earth, He reminded them of it, فَبِأَيِّ الاَء رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

22۔ 1 مَرْجَان سے چھوٹے موتی یا پھر مونگے مراد ہیں کہتے ہیں آسمان سے بارش ہوتی ہے تو سیپیاں اپنے منہ کھول دیتی ہیں، جو قطرہ ان کے منہ کے اندر پڑجاتا ہے، وہ موتی بن جاتا ہے۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[١٦] مرجان برزخی مخلوق :۔ مرجان دراصل جمادات اور نباتات کے درمیان برزخی پیدائش ہے جس طرح سب موتی پتھروں ہی کی قسم ہوتے ہیں۔ مرجان بھی پتھر ہی کی قسم ہے لیکن یہ نباتات کی طرح بڑھتا ہے جمادات کی طرح جامد نہیں۔ مرجان کا ایک چھوٹا سا پودا ہوتا ہے جس کی شاخیں بھی ہوتی ہیں۔ موتی اور مرجان عموماً کھاری پانی کی پیداوار ہیں۔ مگر اسی کھاری پانی کے نیچے اللہ کی قدرت سے میٹھے پانی کے چشمے بھی ابل رہے ہوتے ہیں۔ یا ساتھ ساتھ دریا رواں ہوتے ہیں۔ اسی لیے منھما کا لفظ ارشاد فرمایا یعنی یہ چیزیں اللہ تعالیٰ کے حیرت انگیز تخلیقی کارناموں کے نتیجہ میں پیدا ہوتی ہیں جن سے انسان فائدہ اٹھا رہا ہے۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

یَخْرُجُ مِنْہُمَا اللُّؤْلُؤُ وَالْمَرْجَانُ : مفسر کیلانی لکھتے ہیں :” مرجان دراصل جمادات اور نباتات کے درمیان برزخی پیدائش ہے، جس طرح سب موتی پتھروں ہی کی قسم ہوتے۔ ہیں ، مرجان بھی پتھر ہی کی قسم ہے ، لیکن یہ نباتات کی طرح بڑھتا ہے ، جمادات کی طرح جامد نہیں ۔ مرجان کا ایک چھوٹا سا پودا ہوتا ہے جس کی شاخیں بھی ہوتی ہیں ۔ موتی اور مرجان عموماً کھاری پانی کی پیداوار ہیں مگر اسی کھاری پانی کے نیچے اللہ کی قدرت سے میٹھے پانی کے چشمے بھی ابل رہے ہوتے ہیں ، یا ساتھ ساتھ رواں دواں ہوتے ہیں ، اس لیے ” منھما “ کا لفظ ارشاد فرمایا، یعنی یہ چیزیں اللہ تعالیٰ کے حیرت انگیز تخلیقی کارناموں کے نتیجے میں پیدا ہوتی ہیں جن سے انسان فائدہ اٹھا رہا ہے “۔ (تیسیر القرآن) مزید دیکھئے سورة ٔ نحل (١٤)

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

يَخْرُ‌جُ مِنْهُمَا اللُّؤْلُؤُ وَالْمَرْ‌جَانُ (From both of them come forth the pearl and the coral....55:22). The meaning of لُّؤْلُؤُ lu&lu& is quite well-known, that is, &pearl&. The word مَرْ‌جَانُ marjan too is one of the &precious jewels or gems&. It is a hard substance formed from coral which has branches like trees. Both these precious jewels or gems are produced in the waters. It is generally understood that pearls and corals are both hunted or fished for in the salty waters, not in the fresh waters, whereas the verse states that they are fished for in both kinds of waters. It is possible to reconcile the verse with the general understanding: Pearls as well as corals originate in sweet waters where it is not easy to hunt for or from which to fish out the gems or jewels. The sweet waters flow into the salty waters where the substances are carried and deposited. The pearls and corals are brought out from there. Therefore, the source of the pearls and corals is said to be the salty seas.

يَخْرُجُ مِنْهُمَا اللُّؤْلُؤُ وَالْمَرْجَانُ ، لولو کے معنی موتی اور مر جان کے معنی مونگا، یہ بھی قیمتی جواہرات سے ہے، اس میں درخت کے مشابہ شاخیں ہوتی ہے، یہ دونوں چیزیں دریا سے نکلتی ہیں مگر معروف یہ ہے کہ موتی اور جواہرات دریائے شور سے نکلتے ہیں، شیریں دریا سے نہیں، اس آیت میں دونوں سے نکلنا بیان فرمایا ہے، اس کی توجیہ یہ بھی ہو سکتی ہے کہ موتی دونوں ہی دریاؤں میں پیدا ہوتے مگر شیریں دریا سب جاری ہوتے ہیں ان سے موتی کا نکالنا آسان نہیں اور شیریں دریا سب جا کر دیائے شور میں گر جاتے ہیں، وہیں سے موتی نکالے جاتے ہیں، اس لئے موتیوں کا منبع دریائے شور کو کہا جاتا ہے۔

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

يَخْرُجُ مِنْہُمَا اللُّؤْلُؤُ وَالْمَرْجَانُ۝ ٢٢ ۚ خرج خَرَجَ خُرُوجاً : برز من مقرّه أو حاله، سواء کان مقرّه دارا، أو بلدا، أو ثوبا، وسواء کان حاله حالة في نفسه، أو في أسبابه الخارجة، قال تعالی: فَخَرَجَ مِنْها خائِفاً يَتَرَقَّبُ [ القصص/ 21] ، ( خ رج ) خرج ۔ ( ن) خروجا کے معنی کسی کے اپنی قرار گاہ یا حالت سے ظاہر ہونے کے ہیں ۔ عام اس سے کہ وہ قرار گاہ مکان ہو یا کوئی شہر یا کپڑا ہو اور یا کوئی حالت نفسانی ہو جو اسباب خارجیہ کی بنا پر اسے لاحق ہوئی ہو ۔ قرآن میں ہے ؛ فَخَرَجَ مِنْها خائِفاً يَتَرَقَّبُ [ القصص/ 21] موسٰی وہاں سے ڈرتے نکل کھڑے ہوئے کہ دیکھیں کیا ہوتا ہے ۔ لؤلؤ قال تعالی: يَخْرُجُ مِنْهُمَا اللُّؤْلُؤُ [ الرحمن/ 22] ، وقال : كَأَنَّهُمْ لُؤْلُؤٌ مَكْنُونٌ [ الطور/ 24] جمعه : لَآلِئٌ ، وتَلَأْلَأَ الشیء : لَمَعَ لَمَعان اللّؤلؤ، وقیل : لا أفعل ذلک ما لَأْلَأَتِ الظِّبَاءُ بأذنابها «1» . ( ل ء ل ء ) اللؤ لوء ۔ جمع لاتی ۔ قرآن میں ہے : يَخْرُجُ مِنْهُمَا اللُّؤْلُؤُ [ الرحمن/ 22] دونوں دریاؤں سے ہوتی ۔۔۔ نکلتے ہیں ۔ كَأَنَّهُمْ لُؤْلُؤٌ مَكْنُونٌ [ الطور/ 24] جیسے چھپائے ہوئے ہوتی ۔ اور تلالالشئی کے معنی کسی چیز کے موتی کی طرح چمکنے کے ہیں مشہور محاورہ ہے ۔ لاافعل ذلک مالالات الظباء باذنابھا جب تک کہ آہو اپنے دم ہلاتے رہیں گے میں یہ کام نہیں کرونگا ۔ یعنی کبھی بھی یہ کام نہیں کروں گا ۔ لبس لَبِسَ الثّوب : استتر به، وأَلْبَسَهُ غيره، ومنه : يَلْبَسُونَ ثِياباً خُضْراً [ الكهف/ 31] واللِّبَاسُ واللَّبُوسُ واللَّبْسُ ما يلبس . قال تعالی: قَدْ أَنْزَلْنا عَلَيْكُمْ لِباساً يُوارِي سَوْآتِكُمْ [ الأعراف/ 26] وجعل اللّباس لكلّ ما يغطّي من الإنسان عن قبیح، فجعل الزّوج لزوجه لباسا من حيث إنه يمنعها ويصدّها عن تعاطي قبیح . قال تعالی: هُنَّ لِباسٌ لَكُمْ وَأَنْتُمْ لِباسٌ لَهُنَ [ البقرة/ 187] فسمّاهنّ لباسا کما سمّاها الشاعر إزارا في قوله : 402- فدی لک من أخي ثقة إزاري«1» وجعل التّقوی لِبَاساً علی طریق التّمثیل والتّشبيه، قال تعالی: وَلِباسُ التَّقْوى ذلِكَ خَيْرٌ [ الأعراف/ 26] وقوله : صَنْعَةَ لَبُوسٍ لَكُمْ [ الأنبیاء/ 80] يعني به : الدِّرْعَ ، وقوله : فَأَذاقَهَا اللَّهُ لِباسَ الْجُوعِ وَالْخَوْفِ [ النحل/ 112] ، وجعل الجوع والخوف لباسا علی التّجسیم والتشبيه تصویرا له، وذلک بحسب ما يقولون : تدرّع فلان الفقر، ولَبِسَ الجوعَ ، ( ل ب س ) لبس الثوب ۔ کے معنی کپڑا پہننے کے ہیں اور البسہ کے معنی دوسرے کو پہنانا کے ۔ قرآن میں ہے : يَلْبَسُونَ ثِياباً خُضْراً [ الكهف/ 31] اور وہ سبز کپڑے پہنا کریں گے ۔ اللباس واللبوس واللبس وہ چیز جو پہنی جائے ۔ قرآن میں ہے : قَدْ أَنْزَلْنا عَلَيْكُمْ لِباساً يُوارِي سَوْآتِكُمْ [ الأعراف/ 26] ہم نے تم پر پوشاک اتاری کہ تمہارا ستر ڈاھانپے ۔ اور لباس کا لفظ ہر اس چیز پر بولا جاتا ہے ۔ جو انسان کے برے کاموں پر پردہ ڈال سکے ۔ چناچہ میاں بیوی میں سے ہر ایک کو دوسرے کا لباس قرار دیا گیا ہے کیونکہ وہ ایک دوسرے کو قبائح کے ارتکاب سے روکتے ہیں ۔ قرآن میں ہے ۔ هُنَّ لِباسٌ لَكُمْ وَأَنْتُمْ لِباسٌ لَهُنَ [ البقرة/ 187] وہ تمہاری پوشاک اور تم ان کی پوشاک ہو ۔ چناچہ اسی معنی میں شاعرنے اپنی بیوی کو ازار کہا ہے ۔ اے میرے قابل اعتماد بھائی پر میری ازار یعنی بیوی قربان ہو ۔ اور تمثیل و تشبیہ کے طور پر تقوی کو بھی لباس قرار دیا گیا ہے ۔ چناچہ فرمایا : وَلِباسُ التَّقْوى ذلِكَ خَيْرٌ [ الأعراف/ 26] اور جو پر ہیزگاری کا لباس ہے ۔ اور آیت کریمہ : صَنْعَةَ لَبُوسٍ لَكُمْ [ الأنبیاء/ 80] اور ہم نے تمہارے لئے ان کو ایک طرح کا لباس بنانا ۔۔۔۔۔ میں لبوس سے زر ہیں مراد ہیں اور آیت کریمہ : فَأَذاقَهَا اللَّهُ لِباسَ الْجُوعِ وَالْخَوْفِ [ النحل/ 112] تو خدا نے ان کے اعمال کے سبب بھوک اور خوف کا لباس پہنا کر ناشکری کا مزہ چکھا دیا ۔ میں جوں یعنی بھوک اور خوف کی تصویر کھینچے کے لئے اس لباس کے ساتھ تشبیہ دی ہے ۔ مرج أصل المَرْج : الخلط، والمرج الاختلاط، يقال : مَرِجَ أمرُهم «2» : اختلط، ومَرِجَ الخاتَمُ في أصبعي، فهو مارجٌ ، ويقال : أمرٌ مَرِيجٌ. أي : مختلط، ومنه غصنٌ مَرِيجٌ: مختلط، قال تعالی: فَهُمْ فِي أَمْرٍ مَرِيجٍ [ ق/ 5] والمَرْجان : صغار اللّؤلؤ . قال : كَأَنَّهُنَّ الْياقُوتُ وَالْمَرْجانُ [ الرحمن/ 19] من قولهم : مَرَجَ. ويقال للأرض التي يكثر فيها النّبات فتمرح فيه الدّواب : مَرْجٌ ، وقوله : مِنْ مارِجٍ مِنْ نارٍ [ الرحمن/ 15] أي : لهيب مختلط، وأمرجت الدّابّةَ في المرعی: أرسلتها فيه فَمَرَجَتْ. ( م ر ج ) اصل میں المرج کے معنی خلط ملط کرنے اور ملا دینے کے ہیں اور المروج کے معنی اختلاط اور مل جانے کے ۔ مرج امرھم ۔ ان کا معاملہ ملتبس ہوگیا ۔ مرج الخاتم فی اصبعی ۔ انگوٹھی انگلی میں ڈھیلی ہوگئی مارج ( صفت فاعلی ) ڈھیلی انگوٹھی ۔ امر مریج گذمڈا اور پیچیدہ معاملہ ۔ غضن مریج : باہم گتھی ہوئی ٹہنی ۔ قرآن پاک میں ہے : فَهُمْ فِي أَمْرٍ مَرِيجٍ [ ق/ 5] سو یہ ایک غیرواضح معاملہ میں ہیں ۔ المرجان ۔ مونگا چھوٹا موتی ۔ قرآن پاک میں ہے : كَأَنَّهُنَّ الْياقُوتُ وَالْمَرْجانُ [ الرحمن/ 19] اور آٰیت کریمہ ؛مَرَجَاس نے دودریا ر واں کے جو آپس میں ملتے ہیں ۔ میں مرج کا لفظ مرج کے محاورہ سے ماخوذ ہے اور جس زمین میں گھاس بکثرت ہو اور جانور اس میں مگن ہوکر چرتے رہیں اسے مرج کہاجاتا ہے ۔ اور آیت کریمہ : مِنْ مارِجٍ مِنْ نارٍ [ الرحمن/ 15] آگ کے شعلے ہے ۔ میں مارج کے معنی آگ کے ( دھوئیں سے ) مخلوط شعلے کے ہیں ۔ امرجت الدابۃ فی المرعیٰ : میں نے جانور کو چراگاہ میں کھلا چھوڑ دیا چناچہ آزادی سے چرتا رہا ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

لئو لئو اور مرجان قول باری ہے (یخرج منھما اللئو لئو والمرجان ان دونوں سے موتی اور مونگے برآمد ہوتے ہیں) یہاں مراد یہ ہے کہ ان دونوں میں سے ایک سے کیونکہ موتی اور مونگے سمندر کے کھارے پانی سے برآمد ہوتے ہیں۔ میٹھے پانی سے نہیں برآمد ہوتے۔ اس کی مثال یہ قول باری ہے (یا معشرالجن والانس الم یاتکم رسل منکم اے گروہ جن وانس ! کیا تمہارے پاس تم میں سے رسول نہیں آئے) جب کہ رسول صرف انسانوں میں سے بھیجے گئے۔ حضرت ابن عباس (رض) ، حسن، قتادہ اور ضحاک کا قول ہے کہ مرجان چھوٹے موتیوں کو کہتے ہیں۔ ایک قول کے مطابق مرجان مخلوط قسم کے جواہرات کو کہتے ہیں۔ یہ لفظ ” مرحت “ سے نکلا ہے جس کے معنی مخلوط ہوجانے کے ہیں۔ ایک قول ہے کہ مرجان جواہرات کی ایک قسم ہے جیسے قضبان جو سمندر سے نکالا جاتا ہے۔ ایک قول ہے کہ (یخرج منھما) کہا گیا اس لئے کہ نمکین اور میٹھے پانیوں کے دھارے ایک دوسرے سے مل جاتے ہیں اور اس طرح میٹھے اور نمکین پانی کے ملاپ سے درج بالا چیزیں پیدا ہوتی ہیں جس طرح یہ کہا جاتا ہے کہ نر اور مادہ سے بچہ ظہور میں آتا ہے حالانکہ بچے کو مادہ جنم دیتی ہے۔ یہاں یہ بھی مفہوم ہے کہ نر اور مادہ کے ملاپ سے بچہ پیدا ہوتا ہے۔ حضرت ابن عباس (رض) کا قول ہے کہ جب بارش کا قطرہ آسمان سے گرتا ہے تو سیپ اپنا منہ کھول کر اس قطرے کو سنبھال لیتی ہے اور پھر یہی قطرہ موتی بن جاتا ہے۔

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(٢٢۔ ٢٥) ان دونوں سے بالخصوص کھاری دریا سے موتی اور مونگا پیدا ہوتا ہے سو اے جن و انس تم اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں کا انکار کرو گے۔ اور اسی کے اختیار اور ملکیت میں جہاز ہیں جو سمندر میں پہاڑو کی طرح اونچے کھڑے نظر آتے ہیں سو اے جن و انس تم اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں کا انکار کرو گے۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٢٢ { یَخْرُجُ مِنْہُمَا اللُّؤْلُؤُ وَالْمَرْجَانُ ۔ } ” ان دونوں سے نکلتے ہیں موتی بھی اور مونگے بھی۔ “

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

20 According to Ibn 'Abbas, Qatadah, Ibn Zaid and Dahhak (may AIIah bless them), marjan implies small pearls, but according to Hadrat 'Abdullah bin Mas'ud, this word is used for corals in Arabia. 21 Literally: "From both these seas come out..." The objectors say that pearls and corals come out only from salt waters. How is it then that they are stated to come out from both the sweet and salt waters ? The answer is that the seas contain both the sweet and the salt waters; therefore, whether it is said that these things come out from the combination of both, or from both kinds of waters, it would be one and the same thing. And it may well be that further investigations might reveal that both these things originate in the sea at the place where springs of sweet water gush outs from the sea bed; and in their birth and development combination of both kinds of the water plays its part. Near Bahrain which has been famous for its pearl-fisheries for centuries, there exist springs of sweet water at the bottom of the Gulf.

سورة الرَّحْمٰن حاشیہ نمبر :20 اصل میں لفظ مرجان استعمال ہوا ہے ۔ ابن عباس ، ابن زید اور ضحاک رحمہم اللہ کا قول ہے کہ اس سے مراد چھوٹے موتی ہیں ۔ اور حضرت عبداللہ بن مسعود فرماتے ہیں کہ یہ لفظ عربی میں مونگوں کے لیے استعمال ہوتا ہے ۔ سورة الرَّحْمٰن حاشیہ نمبر :21 اصل الفاظ ہیں یَخْرُجُ مِنْھُمَا ، ان دونوں سمندروں سے نکلتے ہیں ۔ معترضین اس پر اعتراض کرتے ہیں کہ موتی اور مونگے تو صرف کھاری پانی سے نکلتے ہیں ، پھر یہ کیسے کہا گیا کہ میٹھے اور کھاری دونوں پانیوں سے یہ چیزیں نکلتی ہیں؟ اس کا جواب یہ ہے کہ سمندروں میں میٹھا اور کھاری دونوں طرح کا پانی جمع ہو جاتا ہے ، اس لیے خواہ یہ کہا جائے کہ دونوں کے مجموعہ سے یہ چیزیں نکلتی ہیں ، یا یہ کہا جائے کہ وہ دونوں پانیوں سے نکلتی ہیں ، بات ایک ہی رہتی ہے اور کچھ عجب نہیں کہ مزید تحقیقات سے یہ ثابت ہو کہ ان چیزوں کی پیدائش سمندر میں اس جگہ ہوتی ہے جہاں اس کی تہہ سے میٹھے پانی کے چشمے پھوٹتے ہیں ، اور ان کی پیدائش و پرورش میں دونوں طرح پانیوں کے اجتماع کا کچھ دخل ہے ۔ بحرین میں جہاں قدیم ترین زمانے سے موتی نکالے جا رہے ہیں ، وہاں تو یہ بات ثابت ہے کہ خلیج کی تہہ میں میٹھے پانی کے چشمے موجود ہیں ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(55:22) اللؤلؤ۔ ل ء ل ء حروف مادہ۔ موتی۔ لالی جمع۔ تلالؤ (تفعلل) رباعی مجرد۔ مصدر۔ تلا لأ الشیء کے معنی کسی چیز کے موتی کی طرح چمکنے کے ہیں۔ مرجان۔ چھوٹے موتی، مونگا۔ م ر ج حروف مادہ۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 12 موتی اور مونگے صرف کھاری پانی سے نکلتے ہیں لیکن جب کھاری اور میٹھا پانی ایک جگہ مل جاتے ہیں تو گویا وہ دونوں کے مجموعہ سے نکلتے ہیں یا ممکن ہے کہ آئندہ تحقیقات سے معلوم ہو کہ جن کھاری سمندروں اور دریائوں سے موتی نکلتے ہیں انکی تہ میں میٹھا پانی ہوتا ہے اور یہ ان پانیوں کے اشتراک عمل سے پیدا ہوتے ہیں۔

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : دونوں سمندروں کے فوائد۔ اللہ تعالیٰ ہی سمندروں سے موتی اور مونگے پیدا کرتا ہے۔ کچھ سائنسدانوں کا خیال ہے کہ موتی اور مونگے صرف کڑوے اور کھارے پانی میں پیدا ہوتے ہیں جس کی بالواسطہ طور پر نفی کی گئی ہے۔ اس لیے واحد کی بجائے مِنْہُماَ کی ضمیر لاکر بتلایا ہے کہ ایک نہیں دونوں قسم کے سمندروں سے موتی اور مونگے نکلتے ہیں۔ موتی اور مونگے انتہائی قیمتی اور خوبصورت ہیرے ہیں جو زیبائش کے علاوہ کئی ادویات میں استعمال ہوتے ہیں جو مخصوص قسم کی بیماریوں کا علاج اور تریاق ہیں۔ اللہ تعالیٰ کی قدرت کی انتہا دیکھئے کہ وہ پانی میں کس طرح موتی اور مونگے پیدا کرتا ہے۔ پانی مائع ہے اور اس میں پیدا ہونے والے سیپ اور اس میں بننے والے موتی پتھر کی طرح سخت ہوتے ہیں جو لوہے کی ضرب کے بغیر نہیں ٹوٹتے، جن اور انسان اس پر غور کریں تو انہیں یقین ہوجائے گا کہ واقعی اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی پانی سے موتی اور مونگے پیدا نہیں کرسکتا لیکن اس کی قدرتوں پر غور نہ کرنے کی وجہ سے بیشمار جن اور انسان اپنے رب کی ذات اور اس کی نعمتوں کا انکار کرتے ہیں۔ اس لیے فرمایا ہے کہ اے جنوں اور انسانو ! تم اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں کو جھٹلاؤ گے۔ یہ بھی اللہ تعالیٰ کی قدرت کی نشانیوں میں ایک نشانی ہے کہ اس نے سمندر میں پہاڑوں کی مانند بیڑے اور جہاز چلا دیئے ہیں۔ بحری بیڑے اور جہاز کے لیے ” لَہٗ “ کا لفظ استعمال کیا ہے جس کا معنٰی ہے اسی کے لیے ہے۔ مراد یہ ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ انسان کو بحری بیڑے اور جہاز بنانے اور انہیں چلانے کی صلاحیت نہ دیتا اور سمندر کی فضا اور ہوا موافق نہ کرتا تو انسان کسی صورت بھی سمندری سفر اختیار نہ کرتا اور نہ ہی سمندر سے موتی اور جواہرات نکال سکتا تھا۔ قرآن مجید میں یہ بھی موجود ہے کہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) جنوں کے ذریعے سمندر سے موتی اور جواہرات نکالنے کا کام لیا کرتے تھے۔” اور ان کے لیے شیاطین کو مسخر کردیا جو معمار اور غوطہ خور تھے۔ “ (صٓ: ٣٧) ١۔ نہروں کے ذریعے وہاں تک پانی پہنچا دیا جاتا ہے جہاں پہنچنے کا انسان تصور بھی نہیں کرسکتا تھا۔ دریاؤں کے پانی کو بڑے بڑے ڈیموں میں بند کرلیا جاتا ہے۔ ٢۔ سمندر کی سطح پر پلوں کی شکل میں بڑی بڑی سڑکیں بنا دی گئی ہیں یہاں تک کہ سمندر کے پانی کی گہرائیوں میں بحری اڈے قائم کردیے گئے ہیں۔ مختلف سمندروں سے ہر روز کروڑوں ٹن تروتازہ مچھلی نکالی جاتی ہے۔ جسے انسان اپنی خوراک بنانے کے ساتھ ادویات اور دیگر ضروریات کے لیے استعمال کرتا ہے۔ اسی طرح سمندر کی تہہ سے بڑے بڑے قیمتی ہیرے، جو ہرات ہمیشہ سے نکالے جا رہے ہیں جو بالخصوص عورتوں اور امیر لوگوں کی حسن و زیبائش کے لیے گراں قدر قیمت کے حامل ہیں یہ خوبصورت چیزیں زمین کی سطح پر نہیں پائی جاتیں۔ اب تو سمندر کے پانی سے تیل اور گیس کے ذخائر تلاش کرلیے گئے ہیں نہ معلوم قیامت تک کون کون سی قیمتی اشیا سمندر سے حاصل کی جائیں گی ان کے ذخائر کا کوئی حقیقی اندازہ نہیں کرسکتا۔ اس کے بعد سطح سمندر کی طرف آئیں تو دنیا کی تجارت کا ستر فیصد سے زائد حصہ سمندری راستوں کے ساتھ وابستہ ہے جو پرانے زمانے میں کشتیوں کے ذریعے اور آج کل آبدوزوں اور بحری جہازوں کے ذریعے ایک ملک سے دوسرے ملک پہنچائی جا رہی ہیں۔ یاد رہے کہ آج کے بحری جہاز اور پہلے وقت کے بادبان بیڑے سمندر میں کھڑے ہوئے دور سے پہاڑ نظر آتے ہیں۔ جس وجہ سے ان کے لیے ” اَلْجَوَارِ الْمُنْشَءٰتُ “ کے الفاظ استعمال فرمائے ہیں۔ یہ اللہ تعالیٰ کے فضل کا نتیجہ ہے جس پر انسان کو اپنے رب کا شکر گزار ہونا چاہیے اگر آدمی تھوڑی سی توجہ کے ساتھ غور کرے تو اسے معلوم ہوگا کہ آخر وہ کونسی وجہ ہے کہ جو پانی سوئی کے معمولی وزن کو اپنی چھاتی پر برداشت نہیں کرتا وہ ہزاروں ٹن وزنی جہازوں کو نہ صرف اپنے آپ پر برداشت کرتا ہے بلکہ اسے اٹھائے ہوئے ہزاروں لوگوں اور ان کے سامان کو میلوں دور منتقل کرنے میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔ معلوم نہیں کہ جن بھی بحری سفر کے لیے بحری جہاز یا بحری بیڑے استعمال کرتے ہیں یا نہیں البتہ قرآن مجید نے یہاں بھی جنوں اور انسانوں کو مخاطب کیا ہے تم اپنے رب کی کون کون سی نعمت اور قدرت کو جھٹلاؤ گے۔ مسائل ١۔ اللہ تعالیٰ کا یہ احسان ہے کہ اس نے سمندر میں موتی اور جواہرات پیدا کیے ہیں۔ ٢۔ بحری بیڑوں اور جہازوں کا سمندر میں چلنا اللہ تعالیٰ کی قدرت کا مظہر ہے۔ ٣۔ انسان اور جن دلیل کی بنیاد پر اللہ تعالیٰ کی کسی قدرت اور نعمت کی تکذیب نہیں کرسکتے۔ تفسیر بالقرآن بحری بیڑوں کا سمندر میں چلنا اللہ کی قدرت کی نشانی ہے : (ابراہیم : ٣٢) (یٰس : ٤٤) (العنکبوت : ٦٥) (الحج : ٦٥) (لقمان : ٣١) (الجاثیہ : ١٢)

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

یخرج ............ والمرجان (55: ٢٢) (ان سمندروں سے موتی اور مونگے نکلتے ہیں) موتی (لولو) دراصل حیوان ہے۔ ” سمندر کے اندر جو موتی ہیں وہ سمندروں کی عجیب ترین چیزوں میں سے ہیں۔ یہ حیوان سیپی میں ہوتا ہے اور یہ سیپی چونے کے مواد سے بنی ہوتی ہے اور یہ سمندروں کی گہری تہوں میں اترجاتی ہے۔ یہ سیپی اسے خطرات سے بچاتی ہے۔ یہ حیوان دوسرے زندہ حیوانوں سے اپنی ساخت اور طریقہ حیات کے لحاظ سے بالکل مختلف ہے۔ اس کے پاس ایک باریک جال ہوتا ہے جس طرح شکاری کا جال ہوتا ہے۔ یہ جال نہایت ہی عجیب انداز سے (١) ” انسان اکیلا نہیں ہے “ از اے گریسی مورسون ، صدر سائنس اکیڈمی ، نیویارک بنا ہوا ہوتا ہے۔ یہ دراصل ایک فلٹر کا کام کرتا ہے جو پانی ، ہوا اور غذا کو تو اندر جانے دیتا ہے لیکن ریت ، کنکریوں وغیرہ کو صاف کرتا جاتا ہے۔ اس جال کے نیچے اس حیوان کے منہ ہوتے ہیں۔ ہر منہ کے چار ہونٹ ہوتے ہیں۔ جب کبھی ریت کا کوئی ذرہ یا کوئی کنکر اس کے منہ میں داخل ہوجائے یا کوئی مضر حیوان اس سیپی میں داخل ہوجائے تو یہ حیوان فوراً اس پر ایک مادہ پھینکتا ہے جس سے یہ ریت کنکری یا حیوان ڈھانپ لیا جاتا ہے۔ اس طرح یہ چیز ایک موتی بن جاتی ہے۔ ریت کا ذرہ یا کنکر کی مقدار جس قدر بڑی ہوگی اس قدر موتی بڑا ہوگا۔ (” اللہ اور جدید سائنس “ ص 5 ٠١) ” مرجان (مونگا) بھی اللہ کی مخلوقات میں سے ایک عجیب مخلوق ہے۔ یہ سمندروں کے اندر تقریباً 5 ئ ٣ میٹر کی گہرائی تک میں رہتا ہے۔ اس کا نچلا حصہ کسی پتھر یا لکڑی سے چسپاں ہوتا ہے اور اس کا منہ اس کے جسم کے بالائی حصے میں ہوتا ہے۔ اس کے جسم کے ساتھ کچھ زائد حصے بھی ہوتے ہیں جن کو وہ اپنے شکار اور خوراک میں استعمال کرتا ہے۔ جب یہ زوائد کسی شکار کو پکڑتے ہیں (یہ شکار اکثر باریک حیوانات پر مشتمل ہوتا ہے۔ مثلاً پانی کے مچھر) تو شکار فوراً شل ہوجاتا ہے اور یہ مرجان کے ساتھ چمٹ جاتا ہے۔ یہ زوائد یعنی ہاتھ پاؤں سکڑتے ہیں اور اس شکار کو منہ کی طرف قریب کرتے ہیں اور یہاں سے یہ شکار مرجان کے منہ میں داخل ہوتا ہے۔ ایک باریک نالی کے ذریعے جس طرح انسان کی خوراک کی نالی کی طرح ہوتی ہے۔ “ ” یہ حیوان نسل کشی کے ذریعے بڑھتا ہے۔ یہ انڈے دیتا ہے۔ ان انڈوں سے جنین پیدا ہوتے ہیں اور یہ جنین پر پتروں اور جھاڑیوں سے چپک کر مستقبل حیوان کے طور پر بڑھتے ہیں اور یہ گویا ایک مستقل حیوان بن جاتے ہیں۔ “ ” خالق کائنات کی قدرتوں کے نشانات میں سے ایک یہ ہے کہ مرجان کا حیوان ایک دوسرے طریقے سے بھی پھیلتا ہیں۔ یوں مرجان کا درخت بن جاتا ہے جس کی لمبی لمبی شاخیں ہوتی ہیں اور جوں جوں یہ شاخوں کی شکل اختیار کرتے ہیں یہ شاخیں باریک ہوجاتی ہیں۔ مرجان جب درخت کی شکل اختیار کرتے ہیں تو اس کی لمبائی ٠٣ سینٹی میٹر تک ہوتی ہے۔ زندہ مرجانی جانور کئی رنگوں کے ہوتے ہیں۔ سمندر میں زرد ، نارنگی ، سرخ ، ازرق ، بھورے ، لونگ کے رنگ کے۔ “ ” سرخ مرجان وہ گول اور مضبوط حصہ ہوتا ہے جو جانور کے مرجانے کے بعد رہتا ہے اور بڑی بڑی چٹانیں ان کی نوآبادیات ہوتی ہیں۔ “ ” ان نو آبادیات میں سے مشہور ترین مرجانی پتھروں کا وہ سلسلہ ہے جو عظیم مرجانی پردے کے نام سے مشہور ہے جو شمالی مشرقی آسٹریلیاں میں واقع ہے اور اس چٹانی سلسلے کی لمبائی ایک ہزار تین سو پچاس میل ہے اور اس کی چوڑائی پچاس میل ہے اور یہ پردہ انہی باریک مرجانی جانوروں کا مرکب ہے۔ (٢) ” اللہ اور جدید سائنس “ ص 5 ٠١) ان موتیوں اور مونگوں سے وہ زیورات بنائے جاتے ہیں جو نہایت شاندر اور قیمتی ہوتے ہیں۔ اس لئے اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر احسان رکھتا ہے کہ تم پر میرے یہ یہ احسانات ہیں اور ان کے ذکر کے بعد پھر یاد دہانی کا فقرہ دہرایا جاتا ہے۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(22) ان دونوں دریائوں سے موتی اور مونگا برآمد ہوتا ہے۔