Surat ur Rehman

Surah: 55

Verse: 24

سورة الرحمن

وَ لَہُ الۡجَوَارِ الۡمُنۡشَئٰتُ فِی الۡبَحۡرِ کَالۡاَعۡلَامِ ﴿ۚ۲۴﴾

And to Him belong the ships [with sails] elevated in the sea like mountains.

اور اللہ ہی کی ( ملکیت میں ) ہیں وہ جہاز جو سمندروں میں پہاڑ کی طرح بلند ( چل پھر رہے ) ہیں ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

وَلَهُ الْجَوَارِ الْمُنشَأتُ ... And His are Al-Jawar Al-Munsha'at, meaning the ships that float, ... فِي الْبَحْرِ ... in the seas, Mujahid said, "Whatever ship hoists a sail, it is from Munsha'at, if it does not hoist a sail, it is not from the Munsha'at." Qatadah said, "Al-Munsha'at means created." Others said that it is Al-Munshi'at meaning, "launched." ... كَالاْاَعْلَامِ like A`lam. This means, they are like mountains with their great size, and it also refers to the trade and commercial services they make possible, transporting cargo from one area to another and from one province to another. Ships provide various benefits for people, including transporting different types of goods they need. Therefore, فَبِأَيِّ الاَء رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

24۔ 1 یعنی بلندی ہوئیں، مراد بادبان ہیں، جو بادبانی کشتیوں میں جھنڈوں کی طرح اونچے اور بلند بنائے جاتے ہیں۔ بعض نے اس کے معنی مصنوعات کے کئے ہیں، یعنی اللہ کی بنائی ہوئی جو سمندر میں چلتی ہیں۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[١٧] یعنی اللہ تعالیٰ نے انسان کو اتنی عقل عطا فرمائی کہ اس نے بڑے اونچے اونچے جہاز تیار کرلیے جو مہیب سمندر کی تلاطم خیز موجوں کو چیرتے چلے جاتے ہیں لہذا انسان کے اس فعل کی نسبت اللہ تعالیٰ نے براہ راست اپنی طرف کی ہے کہ یہ جہاز دراصل انسان کی ملکیت نہیں ہماری ہی ملکیت ہیں۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

وَلَہُ الْجَوَارِ الْمُنْشَئٰتُ فِی الْبَحْرِ کَالْاَعْلَامِ ۔۔۔:” المنشئٰت “” انشاء ینشی “ ( افعال) ( بنانا) سے اسم مفعول ہے ، پہاڑوں جیسے لمبے چوڑے اور کئی منزلہ اونچے بحری جہاز ” جو بنائے گئے ہیں “۔ اس میں بحری جہاز بنانے کا طریقہ سکھانے کی نعمت کی یاد دہانی ہے کہ اللہ تعالیٰ کے سکھانے سے انسان چھوٹے چھوٹے ٹکڑے جوڑتے ہوئے کتنا بڑا بحری جہاز بنا لیتا ہے ۔ طبری نے صحیح سند کے ساتھ مجاہد سے ” المنشئت “ کا ایک اور معنی بھی نقل فرمایا ہے :” ما رفع فلعہ من المفن فھی منشئات واذا لم یرفع قلعھا فلیست بمنشئات “ ” وہ جہاز جن کے بادبان اٹھائے ہوئے ہوں وہ ” منشئات “ ہیں اور جب ان کے بادبان اٹھائے ہوئے نہ ہوں تو وہ ” منشئات ‘ نہیں ہیں “۔ واضح رہے کہ انجن کی ایجاد سے پہلے بحری جہازوں کا سفر موافق ہواؤں کے ذریعے سے ہوتا تھا۔ چناچہ اونچے اونچے ستونوں کے ساتھ کپڑے باندھ دیے جاتے ، ہوا انہیں دھکیلتی ہوئی منزل مقصود پر پہنچا دیتی ، انہیں بادبان کہا جاتا تھا۔” باد “ ہوا کو کہتے ہیں ۔ اگر کہیں رکنا مقصود ہوتا تو وہ کپڑے اکٹھے کردیئے جاتے ، اسے بادبان گرانا کہا جاتا تھا۔ اس معنی کے لحاظ سے بحری جہازوں پر اللہ تعالیٰ کی ایک اور نعمت کا ذکر ہے۔ مزید تفصیل کے لیے دیکھئے سورة ‘ شوریٰ (٣٣) کی تفسیر۔ ” ولہ الجوار “ میں ” لہ “ کو پہلے لانے سے تخصیص پیدا ہوگئی کہ یہ جہاز ، ان کے بنانے کا طریقہ سکھانا ، ہزاروں ٹن وزنی ہونے کے باوجود انہیں سمندر کے سینے پر قائم رکھنا اور ڈوبنے نہ دینا اور لوگوں کو اور ان کے سامان کو درودراز ملکوں تک پہنچانا وغیرہ صرف اور صرف اللہ تعالیٰ کا کام ہے۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

وَلَهُ الْجَوَارِ‌ الْمُنشَآتُ فِي الْبَحْرِ‌ كَالْأَعْلَامِ (And His are the sailing ships raised up in the sea like mountains...55:24). The word جَوَارِی۔ jawari is the plural of جَارِیَہ - jariyah. One of its meanings is ship and that is the sense in which it is used in the current verse. The word مُنشَآتُ munsha&at is derived from نَشَأ nasha&a which means &to rise up or high, be lofty&. Al-munsha&at thus refers to &sails of the ships that are lofty&. The verse describes the wisdom of making the ship and its running on the surface of the water.

وَلَهُ الْجَوَارِ الْمُنْشَــٰٔتُ فِي الْبَحْرِ كَالْاَعْلَامِ ، جواری، جاریہ کی جمع ہے، اس کے ایک معنی کشتی کے بھی آتے ہیں وہی یہاں مراد ہیں، منشئت، نشاء سے مشتق ہے جس کے معنی ابھرنے اور بلند ہونے کے ہیں، مراد کشتیوں کے بادبان ہیں جو جھنڈوں کی طرح اونچے اور بلند بنائے جاتے ہیں، اس میں کشتی کی صنعت اور اس کے پانی کے اوپر چلنے کی حکمت کا بیان ہے۔

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

وَلَہُ الْجَوَارِ الْمُنْشَــٰٔتُ فِي الْبَحْرِ كَالْاَعْلَامِ۝ ٢٤ ۚ جری الجَرْي : المرّ السریع، وأصله كمرّ الماء، ولما يجري بجريه . يقال : جَرَى يَجْرِي جِرْيَة وجَرَيَاناً. قال عزّ وجل : وَهذِهِ الْأَنْهارُ تَجْرِي مِنْ تَحْتِي [ الزخرف/ 51] وقال تعالی: جَنَّاتُ عَدْنٍ تَجْرِي مِنْ تَحْتِهِمُ الْأَنْهارُ [ الكهف/ 31] ، وقال : وَلِتَجْرِيَ الْفُلْكُ [ الروم/ 46] ، وقال تعالی: فِيها عَيْنٌ جارِيَةٌ [ الغاشية/ 12] ، وقال : إِنَّا لَمَّا طَغَى الْماءُ حَمَلْناكُمْ فِي الْجارِيَةِ [ الحاقة/ 11] ، أي : السفینة التي تجري في البحر، وجمعها : جَوَارٍ ، قال عزّ وجلّ : وَلَهُ الْجَوارِ الْمُنْشَآتُ [ الرحمن/ 24] ، وقال تعالی: وَمِنْ آياتِهِ الْجَوارِ فِي الْبَحْرِ كَالْأَعْلامِ [ الشوری/ 32] ، ويقال للحوصلة : جِرِّيَّة «2» ، إمّا لانتهاء الطعام إليها في جريه، أو لأنها مجری الطعام . والإِجْرِيَّا : العادة التي يجري عليها الإنسان، والجَرِيُّ : الوکيل والرسول الجاري في الأمر، وهو أخصّ من لفظ الرسول والوکيل، وقد جَرَيْتُ جَرْياً. وقوله عليه السلام : «لا يستجرینّكم الشّيطان» يصح أن يدّعى فيه معنی الأصل . أي : لا يحملنّكم أن تجروا في ائتماره وطاعته، ويصح أن تجعله من الجري، أي : الرسول والوکيل ومعناه : لا تتولوا وکالة الشیطان ورسالته، وذلک إشارة إلى نحو قوله عزّ وجل : فَقاتِلُوا أَوْلِياءَ الشَّيْطانِ [ النساء/ 76] ، وقال عزّ وجل : إِنَّما ذلِكُمُ الشَّيْطانُ يُخَوِّفُ أَوْلِياءَهُ [ آل عمران/ 175] . ( ج ر ی ) جریٰ ( ض) جریۃ وجریا وجریا نا کے معنی تیزی سے چلنے کے ہیں ۔ اصل میں یہ لفظ پانی اور پانی کی طرح چلنے والی چیزوں کے متعلق استعمال ہوتا ہے ۔ قرآن میں ہے :۔ وَهذِهِ الْأَنْهارُ تَجْرِي مِنْ تَحْتِي [ الزخرف/ 51] اور یہ نہریں جو میرے ( محلوں کے ) نیچے بہ رہی ہیں ۔ میری نہیں ہیں ۔ جَنَّاتُ عَدْنٍ تَجْرِي مِنْ تَحْتِهِمُ الْأَنْهارُ [ الكهف/ 31] باغ ہیں جن کے نیچے نہریں بہ رہی ہیں ۔ وَلِتَجْرِيَ الْفُلْكُ [ الروم/ 46] اور تاکہ کشتیاں چلیں فِيها عَيْنٌ جارِيَةٌ [ الغاشية/ 12] اس میں چشمے بہ رہے ہوں گے اور آیت کریمہ ؛ إِنَّا لَمَّا طَغَى الْماءُ حَمَلْناكُمْ فِي الْجارِيَةِ [ الحاقة/ 11] جب پانی طغیانی پر آیا تو ہم نے تم لو گوں کو کشتی میں سوار کرلیا ۔ میں جاریۃ سے مراد کشتی ہے اس کی جمع جوار آتی ہے جیسے فرمایا ؛۔ وَلَهُ الْجَوارِ الْمُنْشَآتُ [ الرحمن/ 24] اور جہاز جو اونچے کھڑے ہوتے ہیں ۔ وَمِنْ آياتِهِ الْجَوارِ فِي الْبَحْرِ كَالْأَعْلامِ [ الشوری/ 32] اور اسی کی نشانیوں میں سے سمندر کے جہاز ہیں ( جو ) گویا یا پہاڑ ہیں ۔ اور پرند کے سنکدانہ کو جریۃ کہنے کی وجہ یہ ہے کہ کھانا چل کر وہاں پہنچتا ہے اور یا اس لئے کہ وہ طعام کا مجریٰ بنتا ہے ۔ الاجریات عاوت جس پر انسان چلتا ہے ۔ الجری وکیل ۔ یہ لفظ رسول اور وکیل سے اخص ہی ۔ اور جرمت جریا کے معنی وکیل بنا کر بھینے کے ہیں اور حدیث میں ہے :۔ یہاں یہ لفظ اپنے اصل معنی پر بھی محمول ہوسکتا ہے یعنی شیطان اپنے حکم کی بجا آوری اور اطاعت میں بہ جانے پر تمہیں بر انگیختہ نہ کرے اور یہ بھی ہوسکتا ہے ۔ کہ جری بمعنی رسول یا وکیل سے مشتق ہو اور معنی یہ ہونگے کہ شیطان کی وکالت اور رسالت کے سرپر ست مت بنو گویا یہ آیت کریمہ ؛ فَقاتِلُوا أَوْلِياءَ الشَّيْطانِ [ النساء/ 76] شیطان کے مددگاروں سے لڑو ۔ کے مضمون کی طرف اشارہ ہے اور فرمایا :إِنَّما ذلِكُمُ الشَّيْطانُ يُخَوِّفُ أَوْلِياءَهُ [ آل عمران/ 175] یہ ( خوف دلانے والا ) تو شیطان ہے جو اپنے دوستوں سے ڈرتا ہے ۔ المنشئت : اسم مفعول جمع مؤنث۔ المنشأۃ واحد۔ انشاء ( افعال) مصدر سطح سمندر سے اونچی کی ہوئی کشتیاں، یا وہ کشتیاں جن کے بادباں اونچے ہوتے ہیں۔ نشا ونشاۃ ( باب فتح، کرم) سے بمعنی پیدا ہونا ہے۔ انشاء ( افعال) پیدا کرنا پرورش کرنا۔ اوپر ابھارنا ہے جیسے کہ قرآن مجید میں ہے وینسی السحاب الثقال (13: 12) اور بھاری بھاری بادل اٹھاتا ہے یا پیدا کرتا ہے۔ عَلَمُ : الأثر الذي يُعْلَمُ به الشیء کعلم الطّريق وعلم الجیش، وسمّي الجبل علما لذلک، وجمعه أَعْلَامٌ ، وقرئ : ( وإنّه لَعَلَمٌ للسّاعة) «1» وقال : وَمِنْ آياتِهِ الْجَوارِ فِي الْبَحْرِ كَالْأَعْلامِ [ الشوری/ 32] ، وفي أخری: وَلَهُ الْجَوارِ الْمُنْشَآتُ فِي الْبَحْرِ كَالْأَعْلامِ [ الرحمن/ 24] . والشّقّ في الشّفة العلیا عَلَمٌ ، وعلم الثّوب، ويقال : فلان عَلَمٌ ، أي : مشهور يشبّه بعلم الجیش . وأَعْلَمْتُ كذا : جعلت له علما، ومَعَالِمُ الطّريق والدّين، الواحد مَعْلَمٌ ، وفلان معلم للخیر، والعُلَّامُ : الحنّاء وهو منه، العلم ۔ ایسا نشان جس سے کوئی نشے پہچانی جاسکے جیسے علم الطریق اس نشان کو کہتے ہیں جو راستہ کی پہچان کے لئے اس میں کھڑا کردیا جاتا ہے اور فوج کی پہچان ہوجاتی ہے ۔ چناچہ ایک قرءات ( میں عیسٰی (علیہ السلام) کو ) وإنّه لَعَلَمٌ للسّاعة) کہا گیا ہے یعنی وہ قیامت کی نشانی ہیں ۔ اور اسی معنی کے اعتبار سے پہاڑ کو بھی علم کہا جاتا ہے اس کی جمع اعلام ہے قرآن میں ہے : ۔ وَمِنْ آياتِهِ الْجَوارِ فِي الْبَحْرِ كَالْأَعْلامِ [ الشوری/ 32] اور اس کی نشانیوں میں سے سمندر کے جہاز ہیں جو گویا پہاڑ ہیں ۔ اور دوسرے مقام پر فرمایا : ۔ وَلَهُ الْجَوارِ الْمُنْشَآتُ فِي الْبَحْرِ كَالْأَعْلامِ [ الرحمن/ 24] اور جہاز بھی اسی کے ہیں جو دریا میں پہاڑوں کی طرح اونچے کھڑے ہوتے ہیں نیز اوپر کے ہونٹ کے شگاف اور کپڑے کے نقش ونگار کو بھی علم کہا جاتا ہے اور محاورہ ہے : فلان علم فلان مشہور ومصروف ہے جھنڈے کے ساتھ تشبیہ کے اعتبار سے یہ معنی مراد ہوتا ہے ۔ اعلمت کذا کے معنی کسی چیز پر نشان لگا نا کے ہیں اور معالم الطریق اولدین میں معالم کا وحد معلم ہے اور معلم اس نشان کو کہتے ہیں جس سے کسی چیز کی پہچان ہو ہو سکے محاورہ ۔ فلان معلم للخیر فلان خیروبرکت کا نشان ہے ۔ العلام مہندی

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٢٤{ وَلَہُ الْجَوَارِ الْمُنْشَئٰتُ فِی الْْبَحْرِکَالْاَعْلَامِ ۔ } ” اور اسی کے ہیں یہ جہاز جو سمندر میں پہاڑوں کی مانند اونچے اٹھے ہوئے ہیں۔ “ یعنی اسی کی قدرت کا نمونہ ہیں اور اسی کے قبضہ قدرت میں ہیں۔ پچھلے زمانے کے جہاز اگرچہ دور جدید کے جہازوں کے مقابلے میں چھوٹے ہوتے تھے ‘ لیکن جب ان کے بادبان کھلتے تھے تو وہ بھی اونچائی میں پہاڑوں جیسے نظر آتے تھے ۔ اور آج کل کے جہاز تو واقعتا پہاڑوں سے مشابہ ہیں۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

23 "His are the ships...": Ships became possible only by His power. It is He Who blessed man with the capability and skill that he may build ships for crossing the oceans; it is He Who created on the earth the material from which ships could be built; and it is He Who subjected water to the laws by which it became possible for the mountain-like ships to sail on the surface of the surging oceans.

سورة الرَّحْمٰن حاشیہ نمبر :23 یعنی اس کی قدرت سے بنے ہیں ۔ اسی نے انسان کو یہ صلاحیت بخشی کہ سمندروں کو پار کرنے کے لیے جہاز بنائے ۔ اسی نے زمین پر وہ سامان پیدا کیا جس سے جہاز بن سکتے ہیں ۔ اور اسی نے پانی کو ان قواعد کا پابند گیا جن کی بدولت غضبناک سمندروں کے سینے پر پہاڑ جیسے جہازوں کا چلنا ممکن ہوا ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(55:24) ولہ واؤ عاطفہ لام تملیک کا۔ ہ ضمیر واحد مذکر غائب جس کا مرجع الرحمن ہے جس کا ذکر پہلے چلا آرہا ہے۔ الجوار المنشئت۔ موصوف و صفت۔ جوار جمع جاریۃ کی جس کے معنی کشتی کے ہیں۔ جو جری (باب ضرب) مصدر سے اسم فاعل کا صیغہ واحد مؤنث ہے بمعنی چلنے والی چونکہ کشتی سطح آب پر چلتی ہے اسی لئے جاریۃ کہلاتی ہے جاریۃ کی جمع جاریت بھی ہے۔ المنشئت : اسم مفعول جمع مؤنث۔ المنشأۃ واحد۔ انشاء (افعال) مصدر سطح سمندر سے اونچی کی ہوئی کشتیاں، یا وہ کشتیاں جن کے بادباں اونچے ہوتے ہیں۔ نشا ونشاۃ (باب فتح، کرم) سے بمعنی پیدا ہونا ہے۔ انشاء (افعال) پیدا کرنا پرورش کرنا۔ اوپر ابھارنا ہے جیسے کہ قرآن مجید میں ہے وینسی السحاب الثقال (13: 12) اور بھاری بھاری بادل اٹھاتا ہے یا پیدا کرتا ہے۔ کالاعلام : ک تشبیہ کا۔ اعلام پہاڑ علم کی جمع۔ علم اصل میں اس علامت کو کہتے ہیں جس کے ذریعہ کسی شے کا علم ہوسکے۔ جیسے نشان راہ کے پتھر۔ فوج کا علم۔ اسی اعتبار سے پہاڑوں کا نام بھی اعلام ہوگیا۔ ترجمہ : اور جہاز بھی اسی کے ہیں جو سمندر میں پہاڑوں کی طرح اونچے کھڑے ہوتے ہیں۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 1 اس کے بنائے ہوئے “ اس لحاظ سے ہے کہ اسی نے تمہیں اتنی سمجھ اور مہارت دی کہ تم نے انہیں بنایا۔

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

اس کے بعد بات کشتی کی طرف آتی ہے جو سمندروں میں چلتی ہے۔ یہ کشتی بعض اوقات اتنی بڑی ہوتی ہے جیسے سمندر میں کوئی پہاڑ ہو۔ ولہ ............ کالاعلام (55:4 ٢) (اور یہ جہاز اسی کے ہیں جو سمندروں میں پہاڑوں کے طرح اونچے اٹھے ہوئے ہیں) اور یہ اونچے اٹھے ہوئے جہاز اللہ سبحانہ تعالیٰ کی قدرت کے نمونے ہیں کیونکہ سمندروں میں یہ اللہ کی قدرت سے چلتے ہیں۔ گہرے سمندروں اور امواج کے تھپیڑوں میں انہیں صرف اللہ ہی حفاظت دیتا ہے۔ یہ اللہ ہی کی نگرانی اور نگہبانی ہے کہ یہ پانیوں کے اوپر تیرتے رہتے ہیں۔ یہ جہاز اس وقت بھی اور آج بھی اللہ کی عظیم نعمتوں میں سے تھے اور ہیں۔ ان جہازوں نے لوگوں کی ضروریات نقل وحمل میں ، سفر میں ، سہولیات کی منتقلی میں اور تجارت اور کمائی میں اس قدر اہم کردار ادا کیا ہے کہ اس کا کوئی بھی انکار نہیں کرسکتا۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

10:۔ ” ولہ الجوار۔ الایۃ “ یہ توحید کی ساتویں عقلی دلیل ہے۔ یہ کشتیاں اور پہاڑوں کی مانند اونچے اونچے بحری جہاز اللہ تعالیٰ ہی کے تصرف اور قبضہ اختیار میں ہیں وہی ان کو اپنی قدرت تامہ اور تدبیر صائب سے چلاتا اور منزل مقصود تک پہنچاتا ہے بتاؤ اللہ کی کونسی نعمت سے آنکھیں بند کرو گے، اسی قادر و مختار اور منعم و محسن کے نام میں برکت ہے۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(24) اور اس کے اختیار میں ہیں سمندر میں چلنے والے جہاز جو پہاڑوں کی طرح بلند ہیں۔ یعنی یہ بڑے بڑے جہاز جو پہاڑوں کی مانند ہیں اور سمندر میں بہتے رہتے ہیں خواہ وہ بادبانی ہوں یا دخانی یہ سب اس کے اختیار میں ہیں۔