Surat ur Rehman

Surah: 55

Verse: 48

سورة الرحمن

ذَوَاتَاۤ اَفۡنَانٍ ﴿ۚ۴۸﴾

Having [spreading] branches.

۔ ( دونوں جنتیں ) بہت سی ٹہنیوں اور شاخوں والی ہیں ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

With Afnan. their trees have beautiful young branches that hold and produce every type of ripened beautiful fruit, فَبِأَيِّ الاَء رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

48۔ 1 یہ اشارہ ہے اس طرف کہ اس میں سایہ گنجان اور گہرا ہوگا، نیز پھلوں کی کثرت ہوگی، کیونکہ کہتے ہیں ہر شاخ ٹہنی پھلوں سے لدی ہوگی (ابن کثیر)

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٣٢] افنان۔ فن کی جمع ہے یعنی بہت بڑا اور لمبا ٹہنا یعنی ان دو باغوں کے جتنے درخت ہوں گے ان سب کے دو بڑے بڑے ٹہنے ہوں گے۔ پھر ان ٹہنوں کی چھوٹی چھوٹی ٹہنیاں نکلیں گی۔ اس آیت میں اللہ کی اس قدرت کا اظہار ہے کہ ان باغوں کے درختوں کی نشوونما میں ایک دوسرے سے پوری طرح یکسانیت اور ہم آہنگی ہوگی۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

ذَوَاتَآ اَفْنَانٍ ” افنان “ ” فنن “ کی جمع ہے ، سیدھی لمبی شاخ اور ” فن “ کی جمع بھی ہے جس کا معنی نوع ہے ۔ بہت شاخوں والے سے مراد شاخوں ، پتوں اور پھلوں کی کثرت ہے ، ورنہ باغوں کی ٹہنیاں تو ہوتی ہی ہیں اور اگر ” افنک “ ’ فن “ کی جمع ہو تو مطلب یہ ہے کہ وہ دونوں باغ بہت سی قسموں کے پودوں اور درختوں والے ہیں۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

ذَوَاتَا أَفْنَانٍ (both having lot of branches...55:48). This describes the first two Gardens. There will be plenty of trees abounding in. branches and consequently their shade will be dense, and the fruits will be in abundance. The other two Gardens are described later. No such qualities are mentioned about them, which may imply their relative deficiency in this quality.

ذَوَاتَآ اَفْنَانٍ ، یہ پہلے دو باغوں کی صف ہے کہ بہت شاخوں والے ہوں گے، جس کا یہ اثر لازمی ہے کہ ان کا سایہ بھی گھنا ہوگا اور پھل بھی زیادہ ہوگا، دوسرے دو باغ جن کا ذکر آ گے آتا ہے ان میں یہ صفت مذکور نہیں، جس سے اس معاملہ میں ان کی کمی کی طرف اشارہ ہوسکتا ہے۔

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

ذَوَاتَآ اَفْنَانٍ۝ ٤٨ ۚ ذواتا افنان : ذواتا ذات کا تثنیہ بحالت رفع ہے۔ والیاں ۔ صاحب ذو ذو علی وجهين : أحدهما : يتوصّل به إلى الوصف بأسماء الأجناس والأنواع، ويضاف إلى الظاهر دون المضمر، ويثنّى ويجمع، ويقال في المؤنّث : ذات، وفي التثنية : ذواتا، وفي الجمع : ذوات، ولا يستعمل شيء منها إلّا مضافا، قال : وَلكِنَّ اللَّهَ ذُو فَضْلٍ [ البقرة/ 251] ، وقال : ذُو مِرَّةٍ فَاسْتَوى [ النجم/ 6] ، وَذِي الْقُرْبى [ البقرة/ 83] ، وَيُؤْتِ كُلَّ ذِي فَضْلٍ فَضْلَهُ [هود/ 3] ، ذَوِي الْقُرْبى وَالْيَتامی [ البقرة/ 177] ، إِنَّهُ عَلِيمٌ بِذاتِ الصُّدُورِ [ الأنفال/ 43] ، وَنُقَلِّبُهُمْ ذاتَ الْيَمِينِ وَذاتَ الشِّمالِ [ الكهف/ 18] ، وَتَوَدُّونَ أَنَّ غَيْرَ ذاتِ الشَّوْكَةِ تَكُونُ لَكُمْ [ الأنفال/ 7] ، وقال : ذَواتا أَفْنانٍ [ الرحمن/ 48] ، وقد استعار أصحاب المعاني الذّات، فجعلوها عبارة عن عين الشیء، جو هرا کان أو عرضا، واستعملوها مفردة ومضافة إلى المضمر بالألف واللام، وأجروها مجری النّفس والخاصّة، فقالوا : ذاته، ونفسه وخاصّته، ولیس ذلک من کلام العرب . والثاني في لفظ ذو : لغة لطيّئ، يستعملونه استعمال الذي، ويجعل في الرفع، والنصب والجرّ ، والجمع، والتأنيث علی لفظ واحد نحو : وبئري ذو حفرت وذو طویت ( ذ و ) ذو ( والا ۔ صاحب ) یہ دو طرح پر استعمال ہوتا ہے ( 1) اول یہ کہ اسماء اجناس وانوع کے ساتھ توصیف کے لئے اسے ذریعہ بنایا جاتا ہے ۔ اس صورت میں اسم ضمیر کیطرف مضاف نہیں ہوتا بلکہ ہمیشہ اسم ظاہر کی طرف مضاف ہوتا ہے اور اس کا تنثیہ جمع بھی آتا ہے ۔ اور مونث کے لئے ذات کا صیغہ استعمال ہوتا ہے اس کا تثنیہ ذواتا اور جمع ذوات آتی ہے ۔ اور یہ تمام الفاظ مضاف ہوکر استعمال ہوتے ہیں ۔ چناچہ قرآن میں ہے ۔ وَلكِنَّ اللَّهَ ذُو فَضْلٍ [ البقرة/ 251] لیکن خدا اہل عالم پر بڑا مہرابان ہے ۔ ذُو مِرَّةٍ فَاسْتَوى [ النجم/ 6] ( یعنی جبرئیل ) طاقتور نے پھر وہ پورے نظر آئے ۔ وَذِي الْقُرْبى [ البقرة/ 83] اور رشتہ داروں ۔ وَيُؤْتِ كُلَّ ذِي فَضْلٍ فَضْلَهُ [هود/ 3] اور ہر ساحب فضل کو اسکی بزرگی ( کی داو ) دیگا ۔ ذَوِي الْقُرْبى وَالْيَتامی [ البقرة/ 177] رشتہ داروں اور یتیموں ۔ إِنَّهُ عَلِيمٌ بِذاتِ الصُّدُورِ [ الأنفال/ 43] تو دلوں تک کی باتوں سے آگاہ ہے ۔ وَنُقَلِّبُهُمْ ذاتَ الْيَمِينِ وَذاتَ الشِّمالِ [ الكهف/ 18] اور ہم ان کو دائیں اور بائیں کروٹ بدلاتے ہیں ۔ وَتَوَدُّونَ أَنَّ غَيْرَ ذاتِ الشَّوْكَةِ تَكُونُ لَكُمْ [ الأنفال/ 7] اور تم چاہتے تھے کہ جو قافلہ بےشان و شوکت ( یعنی بےہتھیار ) ہے وہ تمہارے ہاتھ آجائے ۔ ذَواتا أَفْنانٍ [ الرحمن/ 48] ان دونوں میں بہت سے شاخیں یعنی قسم قسم کے میووں کے درخت ہیں ۔ علمائے معانی ( منطق وفلسفہ ) ذات کے لفظ کو بطور استعارہ عین شے کے معنی میں استعمال کرتے ہیں اور یہ جو ہر اور عرض دونوں پر بولاجاتا ہے اور پھر کبھی یہ مفرد یعنی بدون اضافت کت استعمال ہوتا ہے ۔ اور کبھی اسم ضمیر کی طرف مضاف ہو کر اور کبھی معرف بلالم ہوکر ۔ اور یہ لفظ بمنزلہ نفس اور خاصہ کے بولا جاتا ہے ۔ اور نفسہ وخاصتہ کی طرح ذاتہ بھی کہاجاتا ہے ۔ مگر یہ عربی زبان کے محاورات سے نہیں ہے ( 2 ) دوم بنی طیی ذوبمعنی الذی استعمال کرتے ہیں اور یہ رفعی نصبی جری جمع اور تانیث کی صورت میں ایک ہی حالت پر رہتا ہے جیسا کہ شاعر نے کہا ہے ع ( الوافر ) یعنی کنواں جسے میں نے کھودا اور صاف کیا ہے ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٤٨{ ذَوَاتَآ اَفْنَانٍ ۔ } ” دونوں بہت سی شاخوں والی ہوں گی۔ “

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(55:48) ذواتا افنان : ذواتا ذات کا تثنیہ بحالت رفع ہے۔ والیاں ۔ صاحب مضاف، افنان یہ یا تو فنن کی جمع ہے (بروزن فعل) بمعنی شاخیں یا فن (فعل) کی جمع ہے بمعنی نوع، قسم، رنگارنگ۔ علامہ ابوحیان بحر المحیط میں اول الذکر کو اولیٰ سمجھتے ہیں کیونکہ افعال (افنان) کے وزن پر فعل (فنن) کی جمع بہ نسبت فعل (فن) کی اسی وزن (افعال) پر جمع کے زیادہ مستعمل ہے علماء کی اکثریت کی یہی رائے ہے۔ مضاف الیہ ہے۔ ذواتا افنان (شاخوں والیاں) یہ جنتن کی صفت ہے۔ یعنی پھلے پھولے، ہرے بھرے۔ خزاں۔ گرمی و سردی سے محفوظ۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : جنت کے باغات کی بہاریں اور ان کے پھل۔ ” اللہ “ کا خوف رکھنے والے جنتی کو جنت میں دو باغ دیئے جائیں گے جن کے درخت طرح طرح کے پھلوں سے لدے ہوئے ہوں گے۔ ان باغات میں دو دو چشمے ہوں گے اور ان کے پھل بھی دو قسم کے ہوں گے۔ جنتی حضرات ایسے قالینوں پر تکیے لگائے تشریف فرما ہوں گے جن کے استر اطلس کے بنے ہوئے ہوں گے اور جنت کے پھل ان کے سامنے ٹپک رہے ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ نے جنت کی بڑی بڑی نعمتوں کا ذکر کرنے کے بعد بار بار ارشاد فرمایا ہے کہ اے جن اور انسانو ! تم اپنے رب کی کون کون سی نعمت کو جھٹلاؤ گے۔ اس ارشاد سے یہ ثابت کیا ہے کہ اگر جن اور انسان آخرت کی فکر پیدا کرلیں اور اپنے رب سے ڈر کر زندگی بسر کریں تو انہیں ہر صورت جنت کی نعمتوں سے سرفراز کیا جائے گا۔ اللہ کے خوف کا پہلا تقاضا ہے کہ انسان اپنے رب کے ساتھ شرک نہ کرے اور ہر قسم کی نافرمانی سے بچتا رہے۔ جس نے اپنے رب کی نافرمانی سے بچنے کی کوشش نہ کی حقیقت میں اس نے جنت اور اس کی نعمتوں کی تکذیب کی۔ اس لیے فرمایا کہ اے جن اور انسانو ! تم اپنے رب کی کس کس نعمت کا انکار کروگے۔ (وَعَنْ اَبِیْ ہُرَےْرَۃَ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کُلُّ اُمَّتِیْ ےَدْخُلُوْنَ الْجَنَّۃَ اِلَّا مَنْ اَبٰی قِےْلَ وَمَنْ اَبٰی قَالَ مَنْ اَطَاعَنِیْ دَخَلَ الْجَنَّۃَ وَمَنْ عَصَانِیْ فَقَد اَبٰی) (رواہ البخاری : باب الاِقْتِدَاءِ بِسُنَنِ رَسُول اللّٰہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول معظم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : میری تمام کی تمام امت جنت میں داخل ہوگی سوائے اس کے جس نے جنت میں جانے سے انکار کیا صحابہ (رض) نے پوچھا انکار کرنے والا کون ہوگا ؟ فرمایا جس نے میری اطاعت کی وہ جنت میں داخل ہوگا جس نے میری نافرمانی کی اس نے جنت میں جانے سے انکار کیا۔ “ مسائل ١۔ جنت کے باغ پھلوں سے لدے ہوئے ہوں گے۔ ٢۔ جنت کے باغات میں چشمے بہہ رہے ہوں گے۔ ٣۔ جنت کے باغوں میں تمام پھل دو دو قسم پر مشتمل ہوں گے۔ ٤۔ انسانوں اور جنت کو اللہ کی نعمتوں کی قدر کرنی چاہیے۔ ٥۔ جنتی جنت کے قالینوں پر تشریف فرما اور تکیوں پر ٹیک لگائے ہوں گے۔ ٦۔ جنت کے باغات کے پھل جنتی کے سامنے ٹپک رہے ہوں گے۔ تفسیر بالقرآن جنت میں جنتی کا مقام اور جنت کی ایک جھلک : ١۔ ہم ان کے دلوں سے کینہ نکال دیں گے اور سب ایک دوسرے کے سامنے تکیوں پر بیٹھے ہوں گے۔ انہیں کوئی تکلیف نہیں پہنچے گی اور نہ وہ اس سے نکالے جائیں گے۔ (الحجر : ٤٧۔ ٤٨) ٢۔ جس جنت کا مومنوں کے ساتھ وعدہ کیا گیا ہے۔ اس کے نیچے سے نہریں جاری ہیں اور اس کے پھل اور سائے ہمیشہ کے لیے ہوں گے۔ (الرعد : ٣٥) ٣۔ جنت میں بےخار بیریاں، تہہ بہ تہہ کیلے، لمبا سایہ، چلتا ہوا پانی، اور کثرت سے میوے ہوں گے۔ (الواقعہ : ٢٨ تا ٣٠) ٤۔ جنت میں وہ سب کچھ ہوگا جس کی جنتی خواہش کرے گا۔ (حٰم السجدۃ : ٣١) ٥۔ ہم نے اس میں کھجوروں، انگوروں کے باغ بنائے ہیں اور ان میں چشمے جاری کیے ہیں۔ (یٰس : ٣٤) ٦۔ یقیناً متقین باغات اور چشموں میں ہوں گے۔ (الذاریات : ١٥) ٧۔ یقیناً متقی نعمتوں والی جنت میں ہوں گے۔ (الطور : ١٧) ٨۔ جنت کے میوے ٹپک رہے ہوں گے۔ (الحاقہ : ٢٣) ٩۔ جنت میں جنتی کو سونے اور لولو کے زیور پہنائے جائیں گے۔ (فاطر : ٣٣) ١٠۔ جنت میں تمام پھل دو ، دو قسم کے ہوں گے۔ (الرحمن : ٥٢) ١١۔ جنتی کو شراب طہور دی جائے گی۔ (الدھر : ٢١) ١٢۔ جنتی سبز قالینوں اور مسندوں پر تکیہ لگا کر بیٹھے ہوں گے۔ (الرحمن : ٧٦)

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

ذواتا ............ الجنتین دان فبای الاء ربکما تکذبن (55) (55: ٨ 4 تا 55) ” ہری بھری ڈالیوں سے بھر پور ، اپنے رب کے کن کن انعامات کو جھٹلاؤ گے ؟ دونوں باغوں میں دو چشمے رواں ، اپنے رب کے کن کن انعامات کو جھٹلاؤ گے ؟ دونوں باغوں میں ہر پھل کی دو قسمیں ، اپنے رب کے کن کن انعامات کو تم جھٹلاؤ گے ؟ جنتی لوگ ایسے فرشوں پر تکئے لگا کے بیٹھیں گے جن کے استر دبیزریشم کے ہوں گے اور باغوں کی ڈالیں پھلوں سے جھکی پڑرہی ہوں گی۔ اپنے رب کے کن کن انعامات کو تم جھٹلاؤ گے ؟ “ ذواتا افنان (55: ٨ 4) (ہری بھری ڈالیوں سے بھرپور) افنان ، اغصان ، چھوٹی ڈالیاں ، تازہ ، نرم اور سرسبز وشادات ، عینان تجربان (دو باغوں میں دو چشمے رواں) پانی بہت زیادہ اور بڑی سہولت سے لیا جاسکتا ہے۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(48) وہ دونوں باغ بکثرت ٹہنیوں اور شاخوں والے ہوں گے۔ یعنی گھنے ہوں گے۔