Surat ur Rehman

Surah: 55

Verse: 58

سورة الرحمن

کَاَنَّہُنَّ الۡیَاقُوۡتُ وَ الۡمَرۡجَانُ ﴿ۚ۵۸﴾

As if they were rubies and coral.

وہ حوریں مثل یاقوت اور مونگے کے ہوں گی ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

they are like Yaqut and Marjan. Mujahid, Al-Hasan, Ibn Zayd and others said, "They are as pure as rubies and white as Marjan." So here they described Marjan as pearls. Imam Muslim recorded that Muhammad bin Sirin said, "Some people either boasted or just wondered who are more in Paradise, men or women. Abu Hurayrah said, `Has not Abu Al-Qasim (Muhammad) said, إِنَّ أَوَّلَ زُمْرَةٍ تَدْخُلُ الْجَنَّةَ عَلَى صُورَةِ الْقَمَرِ لَيْلَةَ الْبَدْرِ وَالَّتِي تَلِيهَا عَلَى أَضْوَءِ كَوْكَبٍ دُرِّيَ فِي السَّمَاءِ لِكُلِّ امْرِىءٍ مِنْهُمْ زَوْجَتَانِ اثْنَتَانِ يُرَى مُخُّ سُوقِهِمَا مِنْ وَرَاءِ اللَّحْمِ وَمَا فِي الْجَنَّةِ أَعْزَب Verily, the first group that will enter Paradise will look like the moon when it is full, and the next batch will be as radiant as the radiant star in the sky. Each one of them will marry two wives. The marrow of the bones of their shins will be seen through the flesh. None will be unmarried in Paradise. This Hadith was recorded in the Two Sahihs. Imam Ahmad recorded that Anas said that the Messenger of Allah said, لَغَدْوَةٌ فِي سَبِيلِ اللهِ أَوْ رَوْحَةٌ خَيْرٌ مِنَ الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا وَلَقَابُ قَوسِ أَحَدِكُمْ أَوْ مَوْضِعُ قِدِّهِ يَعْنِي سَوْطَهُ مِنَ الْجَنَّةِ خَيْرٌ مِنَ الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا وَلَوِ اطَّلَعَتِ امْرَأَةٌ مِنْ نِسَاءِ أَهْلِ الْجَنَّةِ إِلَى الاَْرْضِ لَمَلََتْ مَا بَيْنَهُمَا رِيحًا وَلَطَابَ مَا بَيْنَهُمَا وَلَنَصِيفُهَا عَلَى رَأْسِهَا خَيْرٌ مِنَ الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا A morning or an evening journey in Allah's cause is better than the world and whatever is on its surface. And a place in Paradise as small as that occupied by the whip of one of you, is better than the world and whatever is on its surface. If one of the women of the people of Paradise looks directly at the earth, she will fill what is between Paradise and earth with a good scent and all of it will become delightful. Verily, the veil over her head is better than this life and all that is on its surface. Al-Bukhari also collected a similar narration. فَبِأَيِّ الاَء رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

58۔ 1 یعنی صفائی میں یاقوت اور سفیدی و سرخی میں موتی یا مونگے کی طرح ہونگی جس طرح صحیح حدیث میں بھی ان کے حسن و جمال کو ان الفاظ میں فرمایا گیا ہے ' ان کے حسن و جمال کی وجہ سے ان کی پنڈلی کا گودا، گوشت اور ہڈی کے باہر نظر آئے گا، ایک دوسری روایت میں فرمایا کہ جنتیوں کی بیویاں اتنی حسین و جمیل ہوں گی کہ اگر ان میں سے ایک عورت اہل ارض کی طرف جھانک لے تو آسمان و زمین کے درمیان کا سارا حصہ چمک اٹھے اور خوشبو سے بھر جائے۔ اور اس کے سر کا دوپٹہ اتنا قیمتی ہوگا کہ وہ دنیا ومافیہا سے بہتر ہے۔ (صحیح البخاری کتاب الجہاد باب الحورالعین)

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٣٧] یہ ان عورتوں کی تیسری صفت ہے جو کئی صفات کا مجموعہ ہے مثلاً وہ اتنی خوبصورت اور دلکش ہوں گی جیسے یاقوت اور مرجان یا وہ اتنی آب و تاب والی اور صاف شفاف ہوں گی جیسے یاقوت اور مرجان یا وہ اتنی صاف ستھری ہوں گی کہ ہاتھ لگانے سے بھی میلی ہو رہی ہوں گی۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

کَاَنَّہُنَّ الْیَاقُوْتُ وَالْمَرْجَا :” الیاقوت “ سرخ رنگ کا پتھر جو اتنا صاف شفاف ہوتا ہے کہ اس کے درمیان سوراخ میں دھاگہ ڈالا جائے تو باہر سے نظر آتا ہے۔” المرجان “ مونگے ( چھوٹے موتی) کو کہتے ہیں ۔ جتنی عورتوں کی سرخ و سفید رنگت ، دلکشی ، صفائی اور شفاعت میں انہیں یاقوت اور مرجان سے تشبیہ دی ہے۔ محمد ( ابن سیرین ) کہتے ہیں :(امام تفاخروا واما تذاکروا الرجال فی الجنۃ اکثرام النسائ ؟ فقال ابوہریرہ او لم یقل ابو القاسم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان اول زمرۃ تدخل الجنۃ علی صورۃ القمر لیلۃ البلدر والتی تلیھا علی اضوا کوکب ذری فی السماء لکل امرء منھم زوجتاک اثنتان یری مخ سوقھما من وراء اللحم وما فی الجنۃ عزب) (مسلم الجنۃ وصفۃ نعیمھا ، باب اول زمرۃ تدخل الجنۃ، ٢٨٣٤) ” یا تو اس بات پر کہ لوگوں نے عورتوں اور مردوں کے مابین فخر کا ذکر کیا ، یا ویسے ہی گفتگو ہوئی کہ جنت میں مرد زیادہ ہوں گے یا عورتیں ؟ تو ابوہریرہ (رض) نے کہا : ” کیا ابو لقاسم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ نہیں فرمایا کہ پہلی جماعت جو جنت میں داخل ہوگی چودھویں کے چاند کی طرح ہوگی اور اس کے بعد والی جماعت آسمان کے سب سے زیادہ روشن چمکدار ستارے کی طرح ہوگی ، ان میں سے ہر مرد کی دو بیویاں ہوں گی ، جن کی پنڈلیوں کا مغزگوشت کے پار سے نظر آرہا ہوگا اور جنت میں کوئی شخص بیوی کے بغیر نہیں ہوگا “۔ انس بن مالک (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا :(لروحۃ فی سبیل اللہ او غدوۃ خیر من الدنیا وما فیھا ، ولقاب قوس احد کم من الجنۃ او موضع فید یعنی سوطہ خیر من الدنیا وما فیھا ولو ان امراۃ من اھل الجنۃ اطلعت الی اھل الالرض لا ضاعت ما ینھما ولملاتہ ریحا ، والنصیفھا علی راسھا خیر من الدنیا وما فیھا) ( بخاری ، الجھاد والسیر ، باب حور لعین وصفتھن : ٢٧٩٦) ” اللہ کے راستے میں ایک شام یا ایک صبح دنیا ومافیہا سے بہتر ہے اور جنت میں تمہارے کسی ایک کی ایک کمان یا ایک کوڑے کے برابر جگہ دنیا ومافیہا سے بہتر ہے اور اگر اہل جنت کی کوئی عورت زمین والوں کی طرف جھانک لے تو زمین و آسمان کے درمیان کا سارا حصہ روشن ہوجائے اور یہ سارا خلاء خوشبو سے بھر جائے اور اس کے سرکا دوپٹا دنیا ومافیہا سے بہتر ہے۔ “

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

كَاَنَّہُنَّ الْيَاقُوْتُ وَالْمَرْجَانُ۝ ٥٨ ۚ مرج أصل المَرْج : الخلط، والمرج الاختلاط، يقال : مَرِجَ أمرُهم «2» : اختلط، ومَرِجَ الخاتَمُ في أصبعي، فهو مارجٌ ، ويقال : أمرٌ مَرِيجٌ. أي : مختلط، ومنه غصنٌ مَرِيجٌ: مختلط، قال تعالی: فَهُمْ فِي أَمْرٍ مَرِيجٍ [ ق/ 5] والمَرْجان : صغار اللّؤلؤ . قال : كَأَنَّهُنَّ الْياقُوتُ وَالْمَرْجانُ [ الرحمن/ 19] من قولهم : مَرَجَ. ويقال للأرض التي يكثر فيها النّبات فتمرح فيه الدّواب : مَرْجٌ ، وقوله : مِنْ مارِجٍ مِنْ نارٍ [ الرحمن/ 15] أي : لهيب مختلط، وأمرجت الدّابّةَ في المرعی: أرسلتها فيه فَمَرَجَتْ. ( م ر ج ) اصل میں المرج کے معنی خلط ملط کرنے اور ملا دینے کے ہیں اور المروج کے معنی اختلاط اور مل جانے کے ۔ مرج امرھم ۔ ان کا معاملہ ملتبس ہوگیا ۔ مرج الخاتم فی اصبعی ۔ انگوٹھی انگلی میں ڈھیلی ہوگئی مارج ( صفت فاعلی ) ڈھیلی انگوٹھی ۔ امر مریج گذمڈا اور پیچیدہ معاملہ ۔ غضن مریج : باہم گتھی ہوئی ٹہنی ۔ قرآن پاک میں ہے : فَهُمْ فِي أَمْرٍ مَرِيجٍ [ ق/ 5] سو یہ ایک غیرواضح معاملہ میں ہیں ۔ المرجان ۔ مونگا چھوٹا موتی ۔ قرآن پاک میں ہے : كَأَنَّهُنَّ الْياقُوتُ وَالْمَرْجانُ [ الرحمن/ 19] اور آٰیت کریمہ ؛مَرَجَاس نے دودریا ر واں کے جو آپس میں ملتے ہیں ۔ میں مرج کا لفظ مرج کے محاورہ سے ماخوذ ہے اور جس زمین میں گھاس بکثرت ہو اور جانور اس میں مگن ہوکر چرتے رہیں اسے مرج کہاجاتا ہے ۔ اور آیت کریمہ : مِنْ مارِجٍ مِنْ نارٍ [ الرحمن/ 15] آگ کے شعلے ہے ۔ میں مارج کے معنی آگ کے ( دھوئیں سے ) مخلوط شعلے کے ہیں ۔ امرجت الدابۃ فی المرعیٰ : میں نے جانور کو چراگاہ میں کھلا چھوڑ دیا چناچہ آزادی سے چرتا رہا ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(٥٨۔ ٥٩) اور رنگت ان کی اس قدر صاف و شفاف ہوگی گویا وہ یاقوت اور مرجان ہیں سو اے جن و انس تم اپنے پروردگار کی کون کون سی نعمتوں کا انکار کرو گے۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٥٨{ کَاَنَّہُنَّ الْیَاقُوْتُ وَالْمَرْجَانُ ۔ } ” وہ ایسی ہوں گی گویا لعل اور مونگے ہوں۔ “

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(55:58) کانھن : کان حر مشبہ بالفعل۔ ھن ضمیر جمع مؤنث غائب کان کا اسم۔ گویا وہ سب۔ الیاقوت والمرجان خبر۔ گویا کہ وہ سب یاقوت اور مونگاہیں ۔ یہ قصرت الطرف کی صفت ہے۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 8 یعنی ان کے رنگ یا قوت کی طرح چمکدار اور موتی کی طرح سفید ہوں گے۔

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

کانھن ............ والمرجان (55: ٨ 5) ” ہیرے اور موتی کی طرح خوبصورت “ چمکدار اور نرم ونازک۔ یہ ہے جزاء ان لوگوں کے لئے جو اپنے رب کے مقام اور مرتبے سے ڈرتے تھے اور جنہوں نے اس کی عبادت اس طرح کی جیسا کہ گویا رب کو دیکھ رہے ہوں اور اس شعور کے ساتھ کہ وہ انہیں دیکھ رہا ہے۔ یوں وہ مرتبہ احسان تک پہنچ گئے جس طرح رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اسی طرح وہ اپنی جزا از جانب رحمان پاگئے۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(58) وہ عورتیں جو محلات میں ہوں گی وہ ایسی خوش نما ہوں گی جیسے یا قوت اور مونگے ہیں۔ یعنی یاقوت کی طرف صاف و شفاف اور مونگے کی طرح سفید اور گوری یا سرخ وسفید صاحب مدارک نے کہا مرجان چھوٹے موتی کو کہتے ہیں، بہرحال ان کے چہروں کی چمک سفیدی اور سرخی بہت ہی خوش نما ہوگی۔