Surat ur Rehman

Surah: 55

Verse: 78

سورة الرحمن

تَبٰرَکَ اسۡمُ رَبِّکَ ذِی الۡجَلٰلِ وَ الۡاِکۡرَامِ ﴿۷۸﴾٪  13

Blessed is the name of your Lord, Owner of Majesty and Honor.

تیرے پروردگار کا نام بابرکت ہے ۔ جو عزت و جلال والا ہے ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

Blessed be the Name of your Lord (Allah) Dhil-Jalal wal-Ikram, Allah states that He is Worthy of being honored and always obeyed, revered and thus worshipped, appreciated and never unappreciated, and remembered and never forgotten. Abdullah bin Abbas said that, ذِي الْجَلَلِ وَالاِْكْرَامِ (Dhil-Jalal wal-Ikram) means, the Owner of greatness and pride. In a Hadith, the Prophet said, إِنَّ مِنْ إِجْلَلِ اللهِ إِكْرَامُ ذِي الشَّيْبَةِ الْمُسْلِمِ وَذِي السُّلْطَانِ وَحَامِلِ الْقُرْانِ غَيْرِ الْغَالِي فِيهِ وَلاَ الْجَافِي عَنْه Verily, among the acts of venerating Allah, are honoring the elderly Muslims, the one in authority, and carrier (memorizer) of the Qur'an who avoids extremism and laziness with it." Imam Ahmad recorded that Rabi`ah bin `Amir said that he heard the Messenger of Allah say, أَلِظُّوا بِذِي الْجَلَلِ وَالاِْكْرَام Persist (in invoking Allah) with, "Ya Dhal-Jalal wal-Ikram (O Owner of greatness and honor).") An-Nasa'i also collected this Hadith. Muslim and the Four Sunan compilers recorded that A'ishah said, "When the Messenger of Allah would (say the) Salam (completing prayer), he would only sit as long as it takes him to say, اللْهُمَّ أَنْتَ السَّلَمُ وَمِنْكَ السَّلَمُ تَبَارَكْتَ يَاذَا الْجَلَلِ وَالاِْكْرَام O Allah! You are As-Salam, and peace comes from You. Blessed be You Ya Dhal-Jalal wal-Ikram This is the end of the Tafsir of Surah Ar-Rahman, all praise is due to Allah and all favors come from Him.

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

78۔ 1 تَبَارَکَ ، برکت سے ہے جس کے معنی دوام و ثبات کے ہیں۔ مطلب یہ ہے اس کا نام ہمیشہ رہنے والا ہے، یا اس کے پاس ہمیشہ خیر کے خزانے ہیں۔ بعض نے اس کے معنی بلندی اور علوشان کے کئے ہیں اور جب اس کا نام اتنا بابرکت یعنی خیر اور بلندی کا حامل ہے تو اس کی ذات کتنی برکت اور عظمت و رفعت والی ہوگی۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

٤٧] پروردگار کا ذاتی نام اللہ ہے اور رحمن ذاتی بھ بھی ہے اور صفاتی بھی۔ باقی اللہ کے سب نام صفاتی ہیں۔ ان میں سے ذوالجلال والاکرام بڑا بابرکت صفاتی نام ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ خود بھی بڑی بزرگی اور عزت والا ہے اور دوسروں کو عزت عطا کرنے والا اور ان پر لطف و احسان کرنے والا ہے۔ جیسا کہ اہل جنت پر اس کے لطف و احسان کا ذکر ان آیات میں آیا ہے، پھر جب اس کا نام ہی بڑا بابرکت ہے تو اس کی ذات مقدس کس قدر بابرکت ہوگی اور حدیث میں ہے کہ رسول اللہ ہر نماز سے سلام پھیرنے کے بعد پہلے اللہ اکبر پھر تین بار استغفر اللہ کہتے۔ پھر اس کے بعد یہ ذکر فرماتے : (اللّٰھُمَّ أنْتَ السَّلاَمُ وَمِنْکَ السَّلاَمُ تَبَارَکْتَ یَا ذَالْجَلاَلِ وَالاِکْرَام) (مسلم، کتاب المساجد ومواضع الصلوٰۃ، باب استحباب الذکر بعد الصلوۃ وبیان صفتہ)

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

تَبٰـرَکَ اسْمُ رَبِّکَ ذِی الْجَلٰلِ وَالْاِکْرَامِ :” تبرک “ باب تفاعل ہے ، جب اس میں تشارک مقصود نہ ہو تو مبالغہ مراد ہوتا ہے ، یعنی بہت برکت والا ہے تیرے رب کا نام ۔ پھر جب اس کا نام بہت برکت والا ہے تو اس کی ذات پاک کس قدر با برکت ہوگی ۔ ثوبان (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب نماز سے فارغ ہوتے تو تین دفعہ استغفار کرتے اور یوں کہتے :(اللھم انت السلام ومنک السلام تبارکت یا ذا الجلال والاکرام) ( مسلم المساجد ، باب استحباب الذکر بعد الصلاۃ۔۔۔۔ ٥٩١) ” اے اللہ ! تو ہی سلامتی والا ہے اور تجھی سے سلامتی ہے اے جلال اور اکرام والے ! “ اس دعا میں کئی لوگ ان الفاظ کا اضافہ کرتے ہیں :” والیک یرجع السلام حینا ربنا بالسلام و ادخلنا دار السلام “۔ یہ الفاظ حدیث سے ثابت نہیں ہیں۔ ” ذی الجلل والا کرام “ اللہ تعالیٰ کا ایسا با برکت نام ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اسے کثرت سے پڑھنے کی تاکید فرمائی ہے ۔ انس (رض) فرماتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا :( الظور بیا ذا الجلال والاکرام) ( ترمذی ، الدعوات ، باب : ٢٥٢٤، وقال الالبانی صحیح)” یا ذالجلال والاکرام “ سے چمٹ جاؤ ، اسے لازم پکڑ لو ۔ “” الظوا “ ” الظ یلظ الظاظا “ سے ہے جس کا معنی ” چمٹ جانا “ ہے ۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اس کو لازم پکڑنے کے حکم سے ظاہر ہو رہا ہے کہ یہ قدر با برکت نام ہے۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

تَبَارَ‌كَ اسْمُ رَ‌بِّكَ ذِي الْجَلَالِ وَالْإِكْرَ‌امِ (Glorious is the name of your Lord, the Lord of Majesty, the Lord of Honor....55:78) Surah Ar-Rahman is replete with verses that call attention to Allah&s blessings, boons and bounties, and His favors upon man. In conclusion, this verse has been appended as a synopsis: What can one say about the Pure Being? Even His Name is Glorious. All Divine boons and bounties subsist by virtue of His Name. Allah, the Pure and the Most High, knows best!

تَبٰرَكَ اسْمُ رَبِّكَ ذِي الْجَلٰلِ وَالْاِكْرَامِ ، سورة رحمن میں بیشتر حق تعالیٰ کی نعمتوں اور انسان پر احسانات کا ذکر ہے، اس کے خاتمہ پر خلاصہ کے طور پر یہ جملہ ارشاد ہوا کہ اس ذات پاک کا تو کہنا کیا ہے اس کا نام بھی بڑا بابرکت ہے، اس کے نام ہی سے یہ ساری نعمتیں قائم ہیں، واللہ سبحانہ و تعالیٰ اعلم تمت سورة الرحمن بحمد اللہ وعونہ للحادی عشر من الربیع الثانی س 1391 ھ یوم السبت

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

تَبٰرَكَ اسْمُ رَبِّكَ ذِي الْجَلٰلِ وَالْاِكْرَامِ۝ ٧٨ ۧ برك أصل البَرْك صدر البعیر وإن استعمل في غيره، ويقال له : بركة، وبَرَكَ البعیر : ألقی بركه، واعتبر منه معنی اللزوم، فقیل : ابْتَرَكُوا في الحرب، أي : ثبتوا ولازموا موضع الحرب، وبَرَاكَاء الحرب وبَرُوكَاؤُها للمکان الذي يلزمه الأبطال، وابْتَرَكَتِ الدابة : وقفت وقوفا کالبروک، وسمّي محبس الماء بِرْكَة، والبَرَكَةُ : ثبوت الخیر الإلهي في الشیء . قال تعالی: لَفَتَحْنا عَلَيْهِمْ بَرَكاتٍ مِنَ السَّماءِ وَالْأَرْضِ [ الأعراف/ 96] ( ب رک ) البرک اصل میں البرک کے معنی اونٹ کے سینہ کے ہیں ( جس پر وہ جم کر بیٹھ جاتا ہے ) گو یہ دوسروں کے متعلق بھی استعمال ہوتا ہے اور اس کے سینہ کو برکۃ کہا جاتا ہے ۔ برک البعیر کے معنی ہیں اونٹ اپنے گھٹنے رکھ کر بیٹھ گیا پھر اس سے معنی لزوم کا اعتبار کر کے ابترکوا ا فی الحرب کا محاورہ استعمال ہوتا ہے جس کے معنی میدان جنگ میں ثابت قدم رہنے اور جم کر لڑنے کے ہیں براکاء الحرب الحرب وبروکاءھا سخت کا ر زار جہاں بہ اور ہی ثابت قدم رہ سکتے ہوں ۔ ابترکت الدبۃ چو پائے کا جم کر کھڑا ہوجانا برکۃ حوض پانی جمع کرنے کی جگہ ۔ البرکۃ کے معنی کسی شے میں خیر الہٰی ثابت ہونا کے ہیں ۔ قرآن میں ہے ۔ لَفَتَحْنا عَلَيْهِمْ بَرَكاتٍ مِنَ السَّماءِ وَالْأَرْضِ [ الأعراف/ 96] تو ہم ان پر آسمان اور زمین کی برکات ( کے دروازے ) کھول دیتے ۔ یہاں برکات سے مراد بارش کا پانی ہے اور چونکہ بارش کے پانی میں اس طرح خیر ثابت ہوتی ہے جس طرح کہ حوض میں پانی ٹہر جاتا ہے اس لئے بارش کو برکات سے تعبیر کیا ہے ۔ اسْمُ والِاسْمُ : ما يعرف به ذات الشیء، وأصله سِمْوٌ ، بدلالة قولهم : أسماء وسُمَيٌّ ، وأصله من السُّمُوِّ وهو الذي به رفع ذکر الْمُسَمَّى فيعرف به، قال اللہ : بِسْمِ اللَّهِ [ الفاتحة/ 1] ، وقال : ارْكَبُوا فِيها بِسْمِ اللَّهِ مَجْراها [هود/ 41] ، بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمنِ الرَّحِيمِ [ النمل/ 30] ، وَعَلَّمَ آدَمَ الْأَسْماءَ [ البقرة/ 31] ، أي : لألفاظ والمعاني مفرداتها ومرکّباتها . وبیان ذلک أنّ الاسم يستعمل علی ضربین : أحدهما : بحسب الوضع الاصطلاحيّ ، وذلک هو في المخبر عنه نحو : رجل وفرس . والثاني : بحسب الوضع الأوّليّ. ويقال ذلک للأنواع الثلاثة المخبر عنه، والخبر عنه، والرّابط بينهما المسمّى بالحرف، وهذا هو المراد بالآية، لأنّ آدم عليه السلام کما علم الاسم علم الفعل، والحرف، ولا يعرف الإنسان الاسم فيكون عارفا لمسمّاه إذا عرض عليه المسمّى، إلا إذا عرف ذاته . ألا تری أنّا لو علمنا أَسَامِيَ أشياء بالهنديّة، أو بالرّوميّة، ولم نعرف صورة ما له تلک الأسماء لم نعرف الْمُسَمَّيَاتِ إذا شاهدناها بمعرفتنا الأسماء المجرّدة، بل کنّا عارفین بأصوات مجرّدة، فثبت أنّ معرفة الأسماء لا تحصل إلا بمعرفة المسمّى، و حصول صورته في الضّمير، فإذا المراد بقوله : وَعَلَّمَ آدَمَ الْأَسْماءَ كُلَّها [ البقرة/ 31] ، الأنواع الثلاثة من الکلام وصور المسمّيات في ذواتها، وقوله : ما تَعْبُدُونَ مِنْ دُونِهِ إِلَّا أَسْماءً سَمَّيْتُمُوها [يوسف/ 40] ، فمعناه أنّ الأسماء التي تذکرونها ليس لها مسمّيات، وإنما هي أسماء علی غير مسمّى إذ کان حقیقة ما يعتقدون في الأصنام بحسب تلک الأسماء غير موجود فيها، وقوله : وَجَعَلُوا لِلَّهِ شُرَكاءَ قُلْ سَمُّوهُمْ [ الرعد/ 33] ، فلیس المراد أن يذکروا أساميها نحو اللّات والعزّى، وإنما المعنی إظهار تحقیق ما تدعونه إلها، وأنه هل يوجد معاني تلک الأسماء فيها، ولهذا قال بعده : أَمْ تُنَبِّئُونَهُ بِما لا يَعْلَمُ فِي الْأَرْضِ أَمْ بِظاهِرٍ مِنَ الْقَوْلِ [ الرعد/ 33] ، وقوله : تَبارَكَ اسْمُ رَبِّكَ [ الرحمن/ 78] ، أي : البرکة والنّعمة الفائضة في صفاته إذا اعتبرت، وذلک نحو : الكريم والعلیم والباري، والرّحمن الرّحيم، وقال : سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى [ الأعلی/ 1] ، وَلِلَّهِ الْأَسْماءُ الْحُسْنى [ الأعراف/ 180] ، وقوله : اسْمُهُ يَحْيى لَمْ نَجْعَلْ لَهُ مِنْ قَبْلُ سَمِيًّا [ مریم/ 7] ، لَيُسَمُّونَ الْمَلائِكَةَ تَسْمِيَةَ الْأُنْثى [ النجم/ 27] ، أي : يقولون للملائكة بنات الله، وقوله : هَلْ تَعْلَمُ لَهُ سَمِيًّا [ مریم/ 65] أي : نظیرا له يستحقّ اسمه، وموصوفا يستحقّ صفته علی التّحقیق، ولیس المعنی هل تجد من يتسمّى باسمه إذ کان کثير من أسمائه قد يطلق علی غيره، لکن ليس معناه إذا استعمل فيه كما کان معناه إذا استعمل في غيره . الاسم کسی چیز کی علامت جس سے اسے پہچانا جائے ۔ یہ اصل میں سمو ہے کیونکہ اس کی جمع اسماء اور تصغیر سمی آتی ہے ۔ اور اسم کو اسم اس لئے کہتے ہیں کہ اس سے مسمیٰ کا ذکر بلند ہوتا ہے اور اس کی معرفت حاصل ہوتی ہے ۔ قرآن میں ہے :۔ ارْكَبُوا فِيها بِسْمِ اللَّهِ مَجْراها [هود/ 41] اور ( نوح (علیہ السلام) نے ) کہا کہ خدا کا نام لے کر ( کہ اس کے ہاتھ میں ) اس کا چلنا ( ہے ) سوار ہوجاؤ۔ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمنِ الرَّحِيمِ [ النمل/ 30] وہ سلیمان کی طرف سے ہے اور مضمون یہ ہے ) کہ شروع خدا کا نام لے کر جو بڑا مہربان اور نہایت رحم والا ہے ۔ اور آیت : وَعَلَّمَ آدَمَ الْأَسْماءَ [ البقرة/ 31] اور اس آدم کو سب ( چیزوں کے ) نام سکھائے ۔ میں اسماء سے یہاں الفاظ و معانی دونوں مراد ہیں ۔ خواہ مفردہوں خواہ مرکب اس اجمال کی تفصیل یہ ہے ۔ کہ لفظ اسم دو طرح استعمال ہوتا ہے ۔ ایک اصطلاحی معنی میں اور اس صورت میں ہمیشہ مخبر عنہ بنتا ہے ۔ جیسے رجل وفرس دوم وضع اول کے لحاظ سے اس اعتبار سے ( کلمہ کی ) انواع ثلاثہ یعنی مخبر عنہ ( اسم ) خبر اور رابطہ ( حرف ) تینوں پر اس معنی مراد ہیں ۔ کیونکہ آدم (علیہ السلام) نے جس طرح اسماء کی تعلیم حاصل کی تھی ۔ اسی طرح افعال وحروف کا علم بھی نہیں حاصل ہوگیا تھا اور یہ ظاہر ہے کہ جب تک کسی چیز کی ذات کا علم حاصل نہ ہو محض نام کے جاننے سے انسان اسے دیکھ کر پہچان نہیں سکتا ہے مثلا اگر ہم ہندی یا رومی زبان میں چند چیزوں کے نام حفظ کرلیں تو ان چیزوں کے اسماء کے جاننے سے ہم ان کے مسمیات کو نہیں پہچان سکیں گے ۔ بلکہ ہمار علم انہیں چند اصوات تک محدود رہے گا اس سے ثابت ہوا کہ اسماء کی معرفت مسمیات کی معرفت کو مستلزم نہیں ہے اور نہ ہی محض اسم سے مسمی ٰ کی صورت ذہن میں حاصل ہوسکتی ہے ۔ لہذا آیت : وَعَلَّمَ آدَمَ الْأَسْماءَ كُلَّها [ البقرة/ 31] میں اسماء سے کلام کی انواع ثلاثہ اور صورۃ مسمیات بمع ان کی ذوات کے مراد ہیں اور آیت ما تَعْبُدُونَ مِنْ دُونِهِ إِلَّا أَسْماءً سَمَّيْتُمُوها [يوسف/ 40] جن چیزوں کی تم خدا کے سوا پرستش کرتے ہو وہ صرف نام ہی نام ہیں جو تم نے رکھ لئے ہیں ۔ کے معنی یہ ہیں ک جن اسماء کی تم پرستش کرتے ہو ان کے مسمیات نہیں ہیں ۔ کیونکہ و اصنام ان اوصاف سے عاری تھے ۔ جن کا کہ وہ ان اسماء کے اعتبار سے ان کے متعلق اعتقاد رکھتے تھے ۔ اور آیت : وَجَعَلُوا لِلَّهِ شُرَكاءَ قُلْ سَمُّوهُمْ [ الرعد/ 33] اور ان لوگوں نے خدا کے شریک مقرر کر رکھے ہیں ۔ ان سے کہو کہ ( ذرا ) انکے نام تولو ۔ میں سموھم سے یہ مراد نہیں ہے کہ لات ، عزی وغیرہ ان کے نام بیان کرو بلکہ آیت کے معنی پر ہیں کہ جن کو تم الاۃ ( معبود ) کہتے ہو ان کے متعلق تحقیق کرکے یہ تو بتاؤ کہ آیا ان میں ان اسماء کے معانی بھی پائے جاتے ہیں ۔ جن کے ساتھ تم انہیں موسوم کرتے ہو ( یعنی نہیں ) اسی لئے اس کے بعد فرمایا أَمْ تُنَبِّئُونَهُ بِما لا يَعْلَمُ فِي الْأَرْضِ أَمْ بِظاهِرٍ مِنَ الْقَوْلِ [ الرعد/ 33] ( کہ ) کیا تم اسے ایسی چیزیں بتاتے ہو جس کو وہ زمین میں ( کہیں بھی ) معلوم نہیں کرتا یا ( محض ) ظاہری ( باطل اور جھوٹی ) بات کی ( تقلید کرتے ہو ۔ ) اور آیت : تَبارَكَ اسْمُ رَبِّكَ [ الرحمن/ 78] تمہارے پروردگار ۔۔ کا نام برا بابر کت ہے ۔ میں اسم رب کے بابرکت ہونے کے معنی یہ ہیں ک اس کی صفات ۔ الکریم ۔ العلیم ۔ الباری ۔ الرحمن الرحیم کے ذکر میں برکت اور نعمت پائی جاتی ہے جیسا ک دوسری جگہ فرمایا : سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى [ الأعلی/ 1] ( اے پیغمبر ) اپنے پروردگار جلیل الشان کے نام کی تسبیح کرو ۔ وَلِلَّهِ الْأَسْماءُ الْحُسْنى [ الأعراف/ 180] اور خدا کے نام سب اچھے ہی اچھے ہیں ۔ اور آیت : اسْمُهُ يَحْيى لَمْ نَجْعَلْ لَهُ مِنْ قَبْلُ سَمِيًّا[ مریم/ 7] اسمہ یحیٰ لم نجعل لہ من قبل سمیا َ (719) جس کا نام یحیٰ ہے ۔ اس سے پہلے ہم نے اس نام کا کوئی شخص پیدا نہیں کیا ۔ میں سمیا کے معنی ہم نام ، ، کے ہیں اور آیت :۔ هَلْ تَعْلَمُ لَهُ سَمِيًّا[ مریم/ 65] بھلا تم اس کا کوئی ہم نام جانتے ہو ۔ میں سمیا کے معنی نظیر کے ہیں یعنی کیا اس کی کوئی نظیر ہے جو اس نام کی مستحق ہوا اور حقیقتا اللہ کی صفات کے ساتھ متصف ہو اور اس کے یہ معنی نہیں ہیں کہ کیا تم کسی بھی پاتے ہو جو اس کے نام سے موسوم ہوکیون کہ ایسے تو اللہ تعالیٰ کے بہت سے اسماء ہیں جن کا غیر اللہ پر بھی اطلاق ہوسکتا ہے یا ہوتا ہے لیکن اس سے یہ لازم نہیں آتا ہے کہ ان سے معافی بھی وہی مراد ہوں جو اللہ تعالیٰ پر اطلاق کے وقت ہوتے ہیں ۔ اور آیت : لَيُسَمُّونَ الْمَلائِكَةَ تَسْمِيَةَ الْأُنْثى[ النجم/ 27] اور وہ فرشتوں کو ( خدا کی ) لڑکیوں کے نام سے موسوم کرتے ہیں ۔ میں لڑکیوں کے نام سے موسوم کرنے کے معنی یہ ہیں ۔ کہ وہ فرشتوں کو بنات اللہ کہتے ہیں ۔ رب الرَّبُّ في الأصل : التربية، وهو إنشاء الشیء حالا فحالا إلى حدّ التمام، يقال رَبَّهُ ، وربّاه ورَبَّبَهُ. وقیل : ( لأن يربّني رجل من قریش أحبّ إليّ من أن يربّني رجل من هوازن) فالرّبّ مصدر مستعار للفاعل، ولا يقال الرّبّ مطلقا إلا لله تعالیٰ المتکفّل بمصلحة الموجودات، نحو قوله : بَلْدَةٌ طَيِّبَةٌ وَرَبٌّ غَفُورٌ [ سبأ/ 15] ( ر ب ب ) الرب ( ن ) کے اصل معنی تربیت کرنا یعنی کس چیز کو تدریجا نشونما دے کر حد کہال تک پہنچانا کے ہیں اور ربہ ورباہ وربیہ تنیوں ایک ہی معنی میں استعمال ہوتے ہیں ۔ کسی نے کہا ہے ۔ لان یربنی رجل من قریش احب الی من ان یربنی رجل من ھوازن ۔ کہ کسی قریشی کا سردار ہونا مجھے اس سے زیادہ عزیز ہے کہ بنی ہوازن کا کوئی آدمی مجھ پر حکمرانی کرے ۔ رب کا لفظ اصل میں مصدر ہے اور استعارۃ بمعنی فاعل استعمال ہوتا ہے اور مطلق ( یعنی اصافت اور لام تعریف سے خالی ) ہونے کی صورت میں سوائے اللہ تعالیٰ کے ، جو جملہ موجودات کے مصالح کا کفیل ہے ، اور کسی پر اس کا اطلاق نہیں ہوتا چناچہ ارشاد ہے :۔ بَلْدَةٌ طَيِّبَةٌ وَرَبٌّ غَفُورٌ [ سبأ/ 15] عمدہ شہر اور ( آخرت میں ) گنا ه بخشنے والا پروردگار ،۔ ذو ذو علی وجهين : أحدهما : يتوصّل به إلى الوصف بأسماء الأجناس والأنواع، ويضاف إلى الظاهر دون المضمر، ويثنّى ويجمع، ويقال في المؤنّث : ذات، وفي التثنية : ذواتا، وفي الجمع : ذوات، ولا يستعمل شيء منها إلّا مضافا، قال : وَلكِنَّ اللَّهَ ذُو فَضْلٍ [ البقرة/ 251] ، وقال : ذُو مِرَّةٍ فَاسْتَوى [ النجم/ 6] ، وَذِي الْقُرْبى [ البقرة/ 83] ، وَيُؤْتِ كُلَّ ذِي فَضْلٍ فَضْلَهُ [هود/ 3] ، ذَوِي الْقُرْبى وَالْيَتامی [ البقرة/ 177] ، إِنَّهُ عَلِيمٌ بِذاتِ الصُّدُورِ [ الأنفال/ 43] ، وَنُقَلِّبُهُمْ ذاتَ الْيَمِينِ وَذاتَ الشِّمالِ [ الكهف/ 18] ، وَتَوَدُّونَ أَنَّ غَيْرَ ذاتِ الشَّوْكَةِ تَكُونُ لَكُمْ [ الأنفال/ 7] ، وقال : ذَواتا أَفْنانٍ [ الرحمن/ 48] ، وقد استعار أصحاب المعاني الذّات، فجعلوها عبارة عن عين الشیء، جو هرا کان أو عرضا، واستعملوها مفردة ومضافة إلى المضمر بالألف واللام، وأجروها مجری النّفس والخاصّة، فقالوا : ذاته، ونفسه وخاصّته، ولیس ذلک من کلام العرب . والثاني في لفظ ذو : لغة لطيّئ، يستعملونه استعمال الذي، ويجعل في الرفع، والنصب والجرّ ، والجمع، والتأنيث علی لفظ واحد نحو : وبئري ذو حفرت وذو طویت ( ذ و ) ذو ( والا ۔ صاحب ) یہ دو طرح پر استعمال ہوتا ہے ( 1) اول یہ کہ اسماء اجناس وانوع کے ساتھ توصیف کے لئے اسے ذریعہ بنایا جاتا ہے ۔ اس صورت میں اسم ضمیر کیطرف مضاف نہیں ہوتا بلکہ ہمیشہ اسم ظاہر کی طرف مضاف ہوتا ہے اور اس کا تنثیہ جمع بھی آتا ہے ۔ اور مونث کے لئے ذات کا صیغہ استعمال ہوتا ہے اس کا تثنیہ ذواتا اور جمع ذوات آتی ہے ۔ اور یہ تمام الفاظ مضاف ہوکر استعمال ہوتے ہیں ۔ چناچہ قرآن میں ہے ۔ وَلكِنَّ اللَّهَ ذُو فَضْلٍ [ البقرة/ 251] لیکن خدا اہل عالم پر بڑا مہرابان ہے ۔ ذُو مِرَّةٍ فَاسْتَوى [ النجم/ 6] ( یعنی جبرئیل ) طاقتور نے پھر وہ پورے نظر آئے ۔ وَذِي الْقُرْبى [ البقرة/ 83] اور رشتہ داروں ۔ وَيُؤْتِ كُلَّ ذِي فَضْلٍ فَضْلَهُ [هود/ 3] اور ہر ساحب فضل کو اسکی بزرگی ( کی داو ) دیگا ۔ ذَوِي الْقُرْبى وَالْيَتامی [ البقرة/ 177] رشتہ داروں اور یتیموں ۔ إِنَّهُ عَلِيمٌ بِذاتِ الصُّدُورِ [ الأنفال/ 43] تو دلوں تک کی باتوں سے آگاہ ہے ۔ وَنُقَلِّبُهُمْ ذاتَ الْيَمِينِ وَذاتَ الشِّمالِ [ الكهف/ 18] اور ہم ان کو دائیں اور بائیں کروٹ بدلاتے ہیں ۔ وَتَوَدُّونَ أَنَّ غَيْرَ ذاتِ الشَّوْكَةِ تَكُونُ لَكُمْ [ الأنفال/ 7] اور تم چاہتے تھے کہ جو قافلہ بےشان و شوکت ( یعنی بےہتھیار ) ہے وہ تمہارے ہاتھ آجائے ۔ ذَواتا أَفْنانٍ [ الرحمن/ 48] ان دونوں میں بہت سے شاخیں یعنی قسم قسم کے میووں کے درخت ہیں ۔ علمائے معانی ( منطق وفلسفہ ) ذات کے لفظ کو بطور استعارہ عین شے کے معنی میں استعمال کرتے ہیں اور یہ جو ہر اور عرض دونوں پر بولاجاتا ہے اور پھر کبھی یہ مفرد یعنی بدون اضافت کت استعمال ہوتا ہے ۔ اور کبھی اسم ضمیر کی طرف مضاف ہو کر اور کبھی معرف بلالم ہوکر ۔ اور یہ لفظ بمنزلہ نفس اور خاصہ کے بولا جاتا ہے ۔ اور نفسہ وخاصتہ کی طرح ذاتہ بھی کہاجاتا ہے ۔ مگر یہ عربی زبان کے محاورات سے نہیں ہے ( 2 ) دوم بنی طیی ذوبمعنی الذی استعمال کرتے ہیں اور یہ رفعی نصبی جری جمع اور تانیث کی صورت میں ایک ہی حالت پر رہتا ہے جیسا کہ شاعر نے کہا ہے ع ( الوافر ) یعنی کنواں جسے میں نے کھودا اور صاف کیا ہے ۔ جلَ الجَلَالَة : عظم القدر، والجلال بغیر الهاء : التناهي في ذلك، وخصّ بوصف اللہ تعالی، فقیل : ذُو الْجَلالِ وَالْإِكْرامِ [ الرحمن/ 27] ، ولم يستعمل في غيره، والجلیل : العظیم القدر . ووصفه تعالیٰ بذلک إمّا لخلقه الأشياء العظیمة المستدلّ بها عليه، أو لأنه يجلّ عن الإحاطة به، أو لأنه يجلّ أن يدرک بالحواس . وموضوعه للجسم العظیم الغلیظ، ولمراعاة معنی الغلظ فيه قوبل بالدقیق، وقوبل العظیم بالصغیر، فقیل : جَلِيل ودقیق، وعظیم وصغیر، وقیل للبعیر : جلیل، وللشاة : دقیق، اعتبارا لأحدهما بالآخر، فقیل : ما له جلیل ولا دقیق وما أجلّني ولا أدقّني . أي : ما أعطاني بعیرا ولا شاة، ثم صار مثلا في كل كبير وصغیر . وخص الجُلَالةَ بالناقة الجسیمة، والجِلَّة بالمسانّ منها، والجَلَل : كل شيء عظیم، وجَلَلْتُ كذا : تناولت، وتَجَلَّلْتُ البقر : تناولت جُلَالَه، والجَلَل : المتناول من البقر، وعبّر به عن الشیء الحقیر، وعلی ذلک قوله : كلّ مصیبة بعده جلل . والجَلَل : ما معظم الشیء، فقیل : جَلَّ الفرس، وجل الثمن، والمِجَلَّة : ما يغطی به الصحف، ثمّ سمیت الصحف مَجَلَّة . وأمّا الجَلْجَلَة فحكاية الصوت، ولیس من ذلک الأصل في شيء، ومنه : سحاب مُجَلْجِل أي : مصوّت . فأمّا سحاب مُجَلِّل فمن الأول، كأنه يُجَلِّل الأرض بالماء والنبات . ( ج ل ل ) الجلالتہ کے معنی ہیں عظیم القدر یعنی قدرو منزلہ میں بڑا یعنی بلند مرتبہ ہونا کے ہیں اور ( ۃ ) کے بغیر الجلال کہا جائے تو اس کے معنی ہوتے ہیں عظمت کی آخری حد جس کے بعد اور مرتبہ نہ ہو ۔ اسی لئے یہ اللہ تعالیٰ کی وصف کے ساتھ مختص ہے ۔ اور دوسروں کے حق میں استعمال نہیں ہوتا چناچہ قرآن میں ہے ۔ ذُو الْجَلالِ وَالْإِكْرامِ [ الرحمن/ 27] صاحب جلال و عظمت ۔ الجلیل اور یہ باری تعالیٰ کے ساتھ مختص نہیں ہے اللہ تعالیٰ کو الجلیل یا تو اس لئے کہا جاتا ہے کہ اس نے بڑ ی بڑی عظیم الشان چیزوں کو پیدا کیا ہے جن سے اس کی ذات با برکت پر استدلال ہوسکتا ہے اور یا اللہ تعالیٰ کی ذلت الجلیل اس لئ ہے کہ وہ احاطہ سے بلند ہے اور یا اس لئے کہ جو اس کے ذریعہ اس کا ادراک نہیں ہوسکتا ۔ اصل وضع کے اعتبار سے جلیل کا لفظ ہر اس چیز پر بولا جاتا ہے جو جسامت کے اعتبار سے بڑی بھی ہو اور غلیظ یعنی موٹی اور سخت بھی پھر معنی غلظت کے اعتبار سے یہ دقین کے مقابلہ میں استعمال ہونے لگا ہے اور عظیم کا لفظ صغیر کے مقابلہ میں چناچہ کہا جاتا ہے جلیل ودقیق وعظیم وصغیر اور باہم مقابلہ کے اعتبار سے اونٹ کو جلیل اور بھڑ بکری کو حقیر کہا جاتا چناچہ محارورہ ہے مالہ جلیل ولادقیق جی اس کے پاس نہ اونٹ ہے اور نہ بھڑ بکری مااجلنی ولاادقنی اس نے مجھے نہ اونٹ دیئے اور نہ بھیڑ بکری ) یہ اس کے اصل معنی ہیں پھر یہ لفظ ہر بڑی اور چھوٹی چیز پر بولا جاتا ہے ۔ اجلۃ کلاں سال کو ۔ الجلل ہر بڑی چیز کار بزرگ جللت کذا میں نے اس کا بڑا حصہ لے لیا ۔ تجلت البیعر میں نے کلاں جسم اونٹ یا ان کی بڑی مقدار لی ۔ الجلل ( ایضا) جو مینگنی اٹھائی جائے ۔ اسی سے کنایہ ہر حقیر چیز کو جلل ( ایضا ) جو مینگنی اٹھائی جائے ۔ اسی سے کنایہ ہر حقیر کو جلل کہا جاتا ہے شاعر نے کہا ہے ۔ کہ ہر مصیبت اس کے بعد حقیر ہے ۔ الجل کے معنی مصحف کے غلاف کے ہیں پھر اس سے مصحف کے غلاف کے ہیں پھر اس سے مصحف کو مجلۃ کہا جانے لگا ہے ۔ الجلجلۃ جس کے معنی حکایت صوت کے ہیں وہ اس مادہ سے نہیں ہے اور اسی سے سحاب مجلجل کا محاورہ ہے جس کے معنی گرجنے والے یا دل گے ہیں ۔ سحاب مجلل کا محاورہ اس مادہ سے ہے ۔ جس کے معنی عام بارش برسانے والے بادل کے ہیں ۔ گویا وہ اپنی اور نباتات سے زمین کو چھپا دیتا ہے إِكْرَامُ والتَّكْرِيمُ : أن يوصل إلى الإنسان إکرام، أي : نفع لا يلحقه فيه غضاضة، أو أن يجعل ما يوصل إليه شيئا كَرِيماً ، أي : شریفا، قال : هَلْ أَتاكَ حَدِيثُ ضَيْفِ إِبْراهِيمَ الْمُكْرَمِينَ [ الذاریات/ 24] . وقوله : بَلْ عِبادٌ مُكْرَمُونَ [ الأنبیاء/ 26] أي : جعلهم کراما، قال : كِراماً كاتِبِينَ [ الانفطار/ 11] ، وقال : بِأَيْدِي سَفَرَةٍ كِرامٍ بَرَرَةٍ [ عبس/ 15 16] ، وَجَعَلَنِي مِنَ الْمُكْرَمِينَ [يس/ 27] ، وقوله : ذُو الْجَلالِ وَالْإِكْرامِ [ الرحمن/ 27] منطو علی المعنيين . الا کرام والتکریم کے معنی ہیں کسی کو اس طرح نفع پہچانا کہ اس میں اس کی کسی طرح کی سبکی اور خفت نہ ہو یا جو نفع پہچا یا جائے وہ نہایت باشرف اور اعلٰی ہو اور المکرم کے معنی معزز اور با شرف کے ہیں ۔ قرآن میں ہے : ۔ هَلْ أَتاكَ حَدِيثُ ضَيْفِ إِبْراهِيمَ الْمُكْرَمِينَ [ الذاریات/ 24] بھلا تمہارے پاس ابراہیم کے معزز مہمانوں کی خبر پہنچی ہے ؛ اور آیت کریمہ : ۔ بَلْ عِبادٌ مُكْرَمُونَ [ الأنبیاء/ 26] کے معنی یہ ہیں کہ وہ اللہ کے معزز بندے ہیں جیسے فرمایا : ۔ وَجَعَلَنِي مِنَ الْمُكْرَمِينَ [يس/ 27] اور مجھے عزت والوں میں کیا ۔ كِراماً كاتِبِينَ [ الانفطار/ 11] عالی قدر تمہاری باتوں کے لکھنے والے ۔ بِأَيْدِي سَفَرَةٍ كِرامٍ بَرَرَةٍ [ عبس/ 15 16] ( ایسے ) لکھنے والوں کے ہاتھوں میں جو سر دار اور نیکوکار ہیں ۔ اور آیت : ۔ ذُو الْجَلالِ وَالْإِكْرامِ [ الرحمن/ 27] اور جو صاحب جلال اور عظمت ہے ۔ میں اکرام کا لفظ ہر دو معنی پر مشتمل ہے ۔ یعنی اللہ تعالیٰ عزت و تکریم بھی عطا کرتا ہے اور باشرف چیزیں بھی بخشتا ہے

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

بڑا ہی برکت اور رحمت والا نام ہے آپ کے رب کا جو عظمت والا اور احسان والا اور قیامت قائم ہونے پر بھی درگزر کرنے والا ہے یا یہ کہ آپ کے رب کی ذات اولاد اور شریک سے پاک اور ماورا ہے۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٧٨{ تَبٰرَکَ اسْمُ رَبِّکَ ذِی الْجَلٰلِ وَالْاِکْرَامِ ۔ } ” بہت بابرکت نام ہے تیرے رب کا جو بہت عظمت والا ‘ بہت اکرام والا ہے۔ “

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

٧٨۔ ترمذی ٣ ؎ اور مستدرک حاکم میں حضرت انس (رض) سے روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ہر مسلمان کو لازم ہے کہ یا ذالجلال والا کرام کا وظیفہ کبھی نہ چھوڑے۔ صحیح ٤ ؎ مسلم میں ثوبان سے روایت ہے کہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہر نماز کے بعد یہ دعا پڑھا کرتے تھے اللھم انت السلام ومنک السلام تبارکت یا ذا الجلال و الاکرم۔ معنی ان دونوں ناموں کے یہ ہیں کہ اللہ تعالیٰ بڑا صاحب عظمت ہے اس کی عظمت کے آگے کسی طرح بزرگی کا حق حاصل نہیں ہے۔ اس واسطے اس کی عبادت میں کسی کو شریک نہیں کیا جاسکتا اور جو باتیں اللہ کی ذات کے لائق نہیں ہیں ان سے اللہ کی پاکی اور اکرام بندوں کو لازم ہے۔ (٣ ؎ جامع ترمذی آخر ابواب الدعوات ص ٢١٤ ج ٢۔ ) (٤ ؎ صحیح مسلم باب استحباب الذکر بعد الصلوٰۃ ص ٢١٨ ج ١۔ )

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(55:78) تبارک۔ وہ بہت بڑا برکت والا ہے۔ تبارک سے جس کے معنی بابرکت ہونے کے ہیں۔ ماضی کا صیغہ واحد مذکر غائب ہے۔ اس فعل کی گردان نہیں آتی۔ صرف ماضی کا ایک صیغہ مستعمل ہے اور وہ بھی صرف اللہ تعالیٰ کی ذات کے لئے ہے۔ اسم ربک۔ ربک مضاف مضاف الیہ مل کر مضاف الیہ اسم مضاف کا ۔ تیرے رب کا نام۔ ذی الجلا مضاف مضاف الیہ ۔ ذوا بمعنی والا۔ صاحب، اسم ہے اس کے ذریعہ اسمائے اجناس و انواع سے موسوم کیا جاتا ہے اسماء ستہ مکبرہ میں سے ہے۔ یعنی ان چھ اسموں میں سے ہے کہ جب ان کی تصغیر نہ ہو اور وہ غیر یائے متکلم کی طرف مضاف ہوں تو ان کو رفع کی حالت میں واؤ زبر کی حالت میں الف اور زیر کی حالت میں ی آتی ہے جیسے ذا ذوا ذی، ہمیشہ مضاف ہوکر ہی استعمال ہوتا ہے اور اسم ظاہر ہی کی طرف مضاف ہوتا ہے ضمیر کی طرف نہیں۔ اس کا تثنیہ بھی آتا ہے جمع بھی۔ ذی الجلال صاحب جلال، بمعنی عظمت و بزرگی۔ یہ جل یجل کا مصدر ہے جلال کے معنی عظمت قدر کے ہیں اور یہ اللہ تعالیٰ کی ذات ہی سے مخصوص ہے۔ والاکرام : واؤ عاطفہ الاکرام معطوف اس کا عطف الجلال پر ہے۔ ای وذی الاکرام بمعنی باعظمت ہونا۔ دوسرے کو عزت دینا اور اس پر کرم کرنا۔ بروزن افعال مصدر ہے۔ اکرام کے دو معنی آتے ہیں۔ ایک یہ کہ دوسرے پر کرم کیا جائے یعنی اس کو نفع ایسا پہنچایا جائے کہ جس میں کھوٹ نہ ہو۔ دوسرے یہ کہ جو چیز عطا کی جائے وہ عمدہ چیز ہو۔ ذوالجلال والاکرام میں لفظ اکرام دونوں معنی پر مشتمل ہے۔ کرم کا لفظ جہاں بھی قرآن مجید اللہ تعالیٰ کی صفت میں آیا ہے وہاں احسان و اکرام الٰہی مراد ہے۔ ذی الجلال والاکرام : رب کی صفت ہے اس لئے بحالت زیر آیا ہے۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 5 حضرت عائشہ سے روایت ہے کہ آنحضرت نماز سے لام پھیرن کے بعد صرف اتنی دیر (قبلہ رخ ہو کر) بیٹھتے تھے جتنی دیر میں آپ زبان سے یہ الفاظ ادا فرماتے : الھم انت السلام ومنک السلام تبارکت یا ذالجلال والاکرام اے اللہ ! تو ہے سلامتی والا اور سلامتی دینے والا اے بزرگی و برتری کے مالک ! تو بابرکت ہے۔ ابن کثیر بحوالہ صحیح مسلم

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

4۔ نام سے مراد صفات جو کہ ذات کے غیر نہیں، پس حاصل جملہ کا ثناء ہوئی کمال ذات وصفات کے ساتھ، اور شاید لفظ اسم بڑھانے سے مقصود مبالغہ ہو کہ مسمی تو کیسا کچھ کامل اور بابرکت ہوگا، اس کا تو اسم بھی مبارک اور کامل ہے۔

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت اور نشانیوں کا ذکر کرنے کے بعد اس سورت کا اختتام اپنے مبارک نام اور جلال واکرام کے ذکر پر کیا ہے تاکہ لوگ اپنے رب کی قدرتوں، نعمتوں اور اس کے جلال کو یاد رکھیں۔ یہی وہ عقیدہ ہے جو انسان کو صحیح فکر اور راستے کی نشان دہی کرتا ہے۔ (وَ لِلّٰہِ الْاَسْمَآءُ الْحُسْنٰی فَادْعُوْہُ بِھَا) (الاعراف : ١٨٠) ” اور سب سے اچھے نام اللہ ہی کے، ہیں سو اسے انہی ناموں کے ساتھ پکاراکرو۔ “ (عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ رِوَایَۃً قَالَ لِلّٰہِ تِسْعَۃٌ وَتِسْعُونَ اسْمًا ماءَۃٌ إِلَّا وَاحِدًا لَا یَحْفَظُہَا أَحَدٌ إِلَّا دَخَلَ الْجَنَّۃَ وَہُوَ وِتْرٌ یُحِبُّ الْوِتْرَ ) ( رواہ البخاری : باب للہ ماءۃ اسم غیر واحد) ” حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اللہ تعالیٰ کے ننانوے نام ہیں جو کوئی انہیں یاد کرلے گا وہ جنت میں داخل ہوگا اللہ ایک ہے اور ایک کو پسند کرتا ہے۔ “ (بشرطیکہ اس کا عقیدہ اور عمل بھی اللہ تعالیٰ کے اسمائے گرامی کے مطابق ہو۔ ) باری تعالیٰ کا اسم اعظم ” اللہ “ ہے۔ یہ ایسا عظیم المرتبت اور عظیم الرّعب اسم عالی ہے جو صرف اور صرف خالق کائنات کی ذات کو زیبا اور اسی کے لیے مختص ہے۔ یہ ذات باری تعالیٰ کا ذاتی نام ہے اس اسم مبارک کے اوصاف اور خواص میں سے ایک خاصہ یہ بھی ہے کہ کائنات میں انتہا درجے کے کافر، مشرک اور بدترین باغی انسان گزرے ہیں اور ہوں گے۔ جن میں اپنے آپ کو داتا، مشکل کشا، موت وحیات کا مالک کہنے والے حتی کہ ” اَنَا رَبُّکُمُ الْاَعَلٰی “ کہلوانے والے بھی ہوئے ہیں۔ مگر ” اللہ “ کے نام کی جلالت وہیبت کی وجہ سے اپنے آپ کو ” اللہ “ کہلوانے کی کوئی جرأت نہیں کرسکا اور نہ کرسکے گا۔ مکہ کے مشرک اپنے بتوں کو سب کچھ مانتے اور کہتے تھے لیکن بتوں کو ” اللہ “ کہنے کی جرأت نہیں کرسکے تھے۔ ” اللہ “ ہی انسان کا ازلی اقرار اور اس کی فطری آواز ہے جس بنا پر ہر کام ” بِسْمِ اللّٰہِ “ سے شروع کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ یہ اسم مبارک اپنے آپ میں خا لقیت، مالکیت، جلالت و صمدیت، رحمن و رحیمیت کا ابدی اور سرمدی تصور لیے ہوئے ہے۔ قرآن مجید میں اللہ کا نام ٢٦٩٧ مرتبہ وارد ہوا ہے۔ (عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ عُمَیْسٍ (رض) قَالَتْ قَالَ لِی رَسُول اللَّہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) أَلاَ أُعَلِّمُکِ کَلِمَاتٍ تَقُولِینَہُنَّ عِنْدَ الْکَرْبِ أَوْ فِی الْکَرْبِ اللَّہُ ” اللَّہُ رَبِّی لاَ أُشْرِکُ بِہِ شَیْءًا “ ) (رواہ ابوداؤد : باب فِی الاِسْتِغْفَارِ ) ” حضرت اسماء بن عمیس (رض) بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے فرمایا کیا میں تجھے ایسے کلمات نہ سکھاؤں جنہیں تو مصیبت کے وقت پڑھا کر ! میں اللہ جو کہ میرا رب ہے اس کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھراؤں گا۔ “

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

تبرک ................ والاکرام (55: ٨٧) ” بڑا برکت والا ہے تیرے رب جلیل وکریم کا نام۔ “ سورة رحمن کا یہ بہترین خاتمہ ہے۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

25:۔ ” تبرک اسم ربک۔ الایۃ “ آخر میں سورت کا دعوی مذکور ہے یعنی برکت دینے والا اللہ تعالیٰ ہی ہے اور اسی کے نام میں برکت ہے۔ اور یہ دعوی سورت میں مذکورہ تمام دلائل اور انواع نعمت کا ثمرہ اور نتیجہ ہے۔ اللہ تعالیٰ ساری کائنات کا مالک اور سارے عالم میں متصرف و مختار ہے اور یہ تمام نعمتیں بھی اسی ہی نے عطاء کی ہیں اس لیے وہی ساری کائنات میں کارساز ہے اور وہی برکات دہندہ ہے۔ واخر دعوانا ان الحمد اللہ رب العالمین۔ سورة الرحمن میں آیات توحید اور خصوصیات 1 ۔ ” الرحمن، علم القران۔ تا۔ کل یوم ھو فی شان “ نفی شرک اعتقادی پر دلائل عقلیہ۔ 2 ۔ ” تبرک اسم ربک ذی الجلال والاکرام “ برکات دہندہ صرف اللہ تعالیٰ ہی ہے۔ سورة الرحمن ختم ہوئی

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(78) اے پیغمبر آق کے پروردگار کا نام بڑا بابرکت ہے جو عظمت والا احسان والا ہے یعنی آپ کا پروردگار جو عظمت و جلال اور اکرام و انعام کا صاحب ہے اس کا نام بڑا بابرکت اور بڑاعظیم الشان ہے چونکہ اس سورت میں بعض جگہ قیامت اور جہنم کے عذاب کا بھی ذکر آیا ہے جو بظاہر نعمت نہیں معلوم ہوتا اگرچہ ہم شروع میں ہی عرض کرچکے ہیں کہ عذاب کا ذکر بھی اس جہت سے کہ وہ موجب ہدایت ہے اور اس رہنمائی حاصل ہوتی ہے اور عذاب کی باتیں سن کر انسان کو کفر سے نفرت اور بےرغبتی ہوتی ہے اس لئے وہ بھی نعمت ہے ۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں ہر آیت نعمت جتائی کوئی آپ نصیحت ہے اور کسی کی خبر دینی نعمت ہے تا اس سے بچیں۔ تم تفسیر سورة رحمن