ایک مرتبہ حضرت ابو بکر صدیق نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ بوڑھے ہو گئے آپ نے فرمایا ہاں مجھے سورہ ہود سورہ واقعہ سورہ والمرسلات سورہ نباء سورہ اذا الشمس کورت نے بوڑھا کر دیا اس حدیث کو امام ترمذی لائے ہیں اور اسے حسن غریب کہتے ہیں ۔ حافظ ابن عساکر حضرت عبداللہ بن مسعود کے واقعات میں ایک روایت لائے ہیں کہ جب حضرت عبداللہ بیمار ہوئے جس بیماری سے آپ جاں بر نہ ہوئے اس بیماری میں حضرت عثمان بن عفان ان کی عیادت کے لئے تشریف لے گئے پوچھا آپ کو کیا شکوہ ہے ؟ فرمایا اپنے گناہوں کا ، دریافت کیا خواہش کیا ہے ؟ فرمایا اپنے رب کی رحمت کی ، پوچھا کسی طبیب کو بھیج دوں ؟ فرمایا طبیب نے ہی تو بیمار ڈالا ہے ۔ پوچھا کچھ مال بھیج دوں ؟ فرمایا مال کی کوئی حاجت نہیں ، کہا آپ کے بچوں کے کام آئے گا فرمایا کیا میری بچیوں کی نسبت آپ کو فقیری کا ڈر ہے ؟ سنئے میں نے اپنی سب لڑکیوں کو کہہ دیا ہے کہ وہ ہر رات کو سورہ واقعہ پڑھ لیا کریں میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ جو شخص سورہ واقعہ کو ہر روز پڑھ لیا کرے اس کو ہرگز ہرگز فاقہ نہ پہنچے گا ۔ اس واقعہ کے راوی حضرت ابو ظبیہ بھی اس سورت کو بلاناغہ پڑھا کرتے تھے ۔ مسند احمد میں ہے حضرت جابر فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نمازیں اسی طرح پڑھتے تھے جس طرح تم آج پڑھتے ہو لیکن آپ کی نماز تخفیف والی ہوتی تھے ۔ فجر کی نماز میں آپ سورہ واقعہ اور اسی جیسی سورتیں تلاوت فرمایا کرتے تھے ۔