Surat ul Waqiya

Surah: 56

Verse: 10

سورة الواقعة

وَ السّٰبِقُوۡنَ السّٰبِقُوۡنَ ﴿۱۰﴾ۚ ۙ

And the forerunners, the forerunners -

اور جو آگے والے ہیں وہ تو آگے والے ہی ہیں ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

So those on the right -- how will be those on the right! And those on the left -- how will be those on the left! And those foremost will be foremost. Allah divides people into these three groups upon their death, as indicated by the end of this Surah. Allah mentioned them in His statement as well, ثُمَّ أَوْرَثْنَا الْكِتَـبَ الَّذِينَ اصْطَفَيْنَا مِنْ عِبَادِنَا فَمِنْهُمْ ظَـلِمٌ لِّنَفْسِهِ وَمِنْهُمْ مُّقْتَصِدٌ وَمِنْهُمْ سَابِقٌ بِالْخَيْرَتِ بِإِذُنِ اللَّهِ Then We gave the Book as inheritance to such of Our servants whom We chose. Then of them are some who wrong themselves, and of them are some who follow a middle course, and of them are some who are, by Allah's leave, foremost in good deeds. (35:32) Muhammad bin Ka`b, Abu Hazrah Ya`qub bin Mujahid said that, وَالسَّابِقُونَ السَّابِقُونَ (And those foremost will be foremost), is about the Prophets, peace be upon them, while As-Suddi said that they are the residents of the utmost highs (Ahl Al-`Illiyyin, in Paradise). The meaning of foremost is that they were foremost in performing the acts of righteousness just as Allah commanded them, وَسَارِعُواْ إِلَى مَغْفِرَةٍ مِّن رَّبِّكُمْ وَجَنَّةٍ عَرْضُهَا السَّمَـوَتُ وَالاٌّرْضُ And march forth in the way to forgiveness from your Lord, and for Paradise as wide as the heavens and the earth. (3:133) and, سَابِقُواْ إِلَى مَغْفِرَةٍ مِّن رَّبِّكُمْ وَجَنَّةٍ عَرْضُهَا كَعَرْضِ السَّمَأءِ وَالاٌّرْضِ Race with one another in hastening towards forgiveness from your Lord, and Paradise the width whereof is as the width of the heaven and the earth. (57:21) Therefore, those who rush to obey Allah in this life and are foremost in performing acts of righteousness, will be among the foremost believers honored in the Hereafter. Verily, the reward is according to the kind of deed, and as one does, so he is judged. So Allah said: أُوْلَيِكَ الْمُقَرَّبُونَ

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

10۔ 1 ان سے مراد خواص مومنین ہیں، یہ تیسری قسم ہے جو ایمان قبول کرنے میں سبقت کرنے اور نیکی کے کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینے والے ہیں، اللہ تعالیٰ ان کو قرب خاص سے نوازے گا، یہ ترکیب ایسے ہی ہے، جیسے کہتے ہیں، تو تو ہے اور زید زید، اس میں گویا زید کی اہمیت اور فضیلت کا بیان ہے۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

والسبقون السبقون : اس کے دو مطلب ہوسکتے ہیں ، ایک یہ کہ پہلے ” السبقون “ سے مرادعمل میں سبقت والے اور دوسرے ” السبقون “ سے مراد درجے میں سبقت لینے والے ہیں ۔ یعنی جو لوگ ایمان لانے میں اور اعمال صالحہ میں دوسروں سے پہل کرنے والے اور آگے بڑھنے والے ہیں وہ جنت کے داخلے میں بھی دوسروں سے بھی پہلے اور اس کے مراتب میں دوسروں سے آگے ہوں گے۔ دوسرا مطلب یہ کہ دونوں ” السبقون “ سے مراد ایک ہی ہے اور مقصود ان کی شان کا بیان ہے ، جیسے کہا جاتا ہے :” انت انت “ کہ تم ، تم ہی ہو ، تمہارا کیا کہنا ، کوئی اور تمہارے جیسا نہیں اور جیسے شاعر نے کہا ہے ؎ انا ابو النجم وشعری شعری ” میں ابو النجم ہوں اور میرا شعر میرا ہی شعر ہے “۔ یعنی میرے شعر کی کیا بات ہے ۔ یعنی سابقون سابقون ہی ہیں ، کوئی اور ان کے رتبے کو نہیں پہنچ سکتا ۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

وَالسَّابِقُونَ السَّابِقُونَ (And the Foremost are the foremost....56:10) Imam Ahmad (رح) ، has recorded a Tradition on the authority of Sayyidah ` A&ishah Siddiqah (رض) that the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) asked the noble Companions (رض) : |"Do you know who will be the first to be accommodated in the Divine Shade on the Day of Resurrection?|" The noble Companions (رض) replied: اللہُ وَ رَسُولُہ اَعلَم |"Allah and His Messenger know best.|" The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said: |"They are those who accept the truth when it is presented to them; when they are asked for the rights due from them, they fulfill them; and they judge about the matters of others as they would judge about themselves.|" Mujahid says that As-sabiqun (the Foremost) refers to &the Prophets&. Ibn Sirin says that it refers to early Muslims who performed their prayers facing the two qiblas, namely, baytul-maqdis and baitulllah. Hasan and Qatadah رحمۃ اللہ علیہما say that in every Ummah there will be As-sabiqun. Some of the commentators express the view that they are people who go first to the mosque. Ibn-Kathir (رح) cites all these views and concludes that they are all correct and authentic in their own right. The opinions are not in conflict with one another, because As-sabiqun are those who must have been foremost in their invincible faith and righteous deeds in this world, and as such they would be the &Foremost& in the Hereafter in terms of reward which will befit their faith and good deeds.

وَالسّٰبِقُوْنَ السّٰبِقُوْنَ ، امام احمد نے حضرت صدیقہ عائشہ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے صحابہ کرام سے سوال کیا کہ تم جانتے ہو کہ قیامت کے روز ظل اللہ کی طرف سبقت کرنے والے کون لوگ ہوں گے، صحابہ کرام نے عرض کیا اللہ و رسولہ اعلم۔ آپ نے فرمایا یہ وہ لوگ ہیں کہ جب ان کو حق کی طرف دعوت دی جائے تو اس کو قبول کریں اور جب ان سے حق مانگا جائے تو ادا کردیں اور لوگوں کے معاملات میں وہ فیصلہ کریں جو اپنے حق میں کرتے ہیں۔ مجاہد نے فرمایا کہ سابقین سے مراد انبیاء ہیں، ابن سیرین نے فرمایا کہ جن لوگوں نے دونوں قبلوں یعنی بیت المقدس اور بیت اللہ کی طرف نماز پڑھی ہے وہ سابقین ہیں اور حضرت حسن و قتادہ نے فرمایا کہ ہر امت میں سابقین ہوں گے، بعض مفسرین نے فرمایا کہ مسجد کی طرف سب سے پہلے جانے والے سابقین ہوں گے۔ ابن کثیر نے ان تمام اقوال کو نقل کرنے کے بعد فرمایا کہ سب اقوال اپنی اپنی جگہ صحیح و درست ہیں، ان میں کوئی اختلاف نہیں، کیونکہ سابقین وہی لوگ ہوں گے جنہوں نے دنیا میں نیک کاموں کی طرف مسابقت کی ہوگی تو جو آدمی اس دنیا میں اعمال صالحہ کے اندر دوسروں سے آگے بڑھا رہا وہ آخرت میں بھی سابقین میں سے ہوگا کیونکہ آخرت کی جزا عمل کے مناسب دی جائے گی۔

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(١٠۔ ١٢) اور تیسری قسم جو اعلی درجے کے ہیں وہ تو اعلی درجے کے ہی ہیں یعنی جو دنیا میں ایمان جہاد ہجرت تکبیر اولی اور تمام نیکیوں کی طرف سبقت کرنے والے ہیں وہ جنت میں بھی پیش پیش ہیں۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ١٠{ وَالسّٰبِقُوْنَ السّٰبِقُوْنَ ۔ } ” اور آگے نکل جانے والے تو ہیں ہی آگے نکل جانے والے۔ “

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

7 Sabiqin (the Foremost) implies the people who excelled others in virtue and love of the truth and in good works and responded to the call of Allah and His Messenger before others. They were also in the forefront in their response to the call for Jihad, for expending their wealth for the sake of the needy and for public services, or for inviting others to virtue and truth, in short, for spreading the good and wiping out evil and making sacrifices and exerting themselves whenever there was need for it. On this very basis, in the Hereafter too, they will be placed in the forefront. Thus, mankind, so to say, will be ranged in Allah's Court like this: On the right hand, there will be the righteous, on the left the wicked, and in the forefront (nearest in Divine Presence) the Sabiqin (the Foremost in Faith and good deeds). According to a Hadith reported by ,Hadrat `A'ishah the Holy Prophet (upon whom be Allah's peace) asked the people: "Do you know who, on the Day of Resurrection, will he the first to be accommodated under the Divine Shade ?" The people said Allah and His Messenger only had the best knowledge. Thereupon the Holy Prophet replied: "Those who were such that when the Truth was presented before them, they accepted it forthwith; when a right was asked of them, they discharged it gracefully; and their decision in respect of others was the same as in respect of their own selves." (Musnad Ahmad).

سورة الْوَاقِعَة حاشیہ نمبر :7 سابقین ( آگے والوں ) سے مراد وہ لوگ ہیں جو نیکی اور حق پرستی میں سب پر سبقت لے گئے ہوں ، بھلائی کے ہر کام میں سب سے آگے ہوں ، خدا اور رسول کی پکار پر سب سے پہلے لبیک کہنے والے ہوں ، جہاد کا معاملہ ہو یا انفاق فی سبیل اللہ کا یا خدمت خلق کا یا دعوت خیر اور تبلیغ حق کا ، غرض دنیا میں بھلائی پھیلانے اور برائی مٹانے کے لیے ایثار و قربانی اور محنت و جانفشانی کا جو موقع بھی پیش آئے اس میں وہی آگے بڑھ کر کام کرنے والے ہوں ۔ اس بنا پر آخرت میں بھی سب سے آگے وہی رکھے جائیں گے ۔ گویا وہاں اللہ تعالیٰ کے دربار کا نقشہ یہ ہوگا کہ دائیں بازو میں صالحین ، بائیں بازو میں فاسقین ، اور سب سے آگے بارگاہ خداوندی کے قریب سابقین ۔ حدیث میں حضرت عائشہ کی روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں سے پوچھا جانتے ہو قیامت کے روز کون لوگ سب سے پہلے پہنچ کر اللہ کے سایہ میں جگہ پائیں گے؟ لوگوں نے عرض کیا اللہ اور اللہ کا رسول ہی زیادہ جانتا ہے ۔ فرمایا الذین اعطوا الحق قبلوہ ، واذا سُئِلوہ بذلوہ ، وحکموا الناس کحکمہم لا نفسہم ، وہ جن کا حال یہ تھا کہ جب ان کے آگے حق پیش کیا گیا انہوں نے قبول کر لیا ، جب ان سے حق مانگا گیا انہوں نے ادا کر دیا ، اور دوسروں کے معاملہ میں ان کا فیصلہ وہی کچھ تھا جو خود اپنی ذات کے معاملہ میں تھا ۔ ( مسند احمد ) ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

4: اس سے مراد انبیاء کرام اور وہ اعلی درجے کے پاکباز حضرات ہیں جنہوں نے تقوی کاسب سے اونچا مقام پایا ہوگا۔

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(56:10) والسبقون السبقون : (اور تیسرا گروہ) آگے والے تو آگے والے ہی ہیں َ واؤ عاطفہ السبقون مبتدائ۔ السبقون (ثانی) اس کی خبر، اور سابقون آگے نکل جانے والے ہیں۔ یا دوسرا السبقون پہلے کی نعمت ہے۔ سابقون : آگے بڑھنے والے۔ آگے پہنچنے والے ، آگے نکل جانے والے، سبقت لیجانے والے۔ صیغہ جمع مذکر سابق کی جمع سبق (باب ضرب ونصر) مصدر۔ علماہ پانی پتی (رح) فرماتے ہیں : اول السابقون میں الف لام جنسی ہے اور دوسرے السابقون میں الف لام عہد کا ہے ۔ یعنی سابقین وہی سابقین ہیں جن کے حال و کمال و مآل سے تم واقف ہو۔ یا یہ مطلب ہے کہ سابقین وہی لوگ ہیں جو جنت کی طرف سبقت کرنے والے ہیں۔ السبقون کے متعلق متعدد اقوال ہیں :۔ (1) اسلام ، اطاعت، قرب خداوندی کی طرف سبقت کرنے والے۔ (2) گروہ انبیائ۔ ایمان اور اطاعت خداوندی میں سب کے پیشوا۔ (3) جو ہجرت میں سبقت کرنے والے تھے۔ وہی آخرت میں بھی پیش روہوں گے۔ (ابن عباس) (4) وہ انصار اور مہاجر مراد ہیں جنہوں نے دونوں قبلوں کی طرف منہ کرکے نماز پڑھی (ابن سیرین (رح)) (5) دنیا میں جنہوں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی تصدیق میں سبقت کی ۔ وہی جنت کی طرف سبقت کرنے والے ہوں گے۔ (ربیع بن انس) ۔ (6) پانچویں نمازوں کی طرف پیش قدمی کرنے والے مراد ہیں۔ (حضرت علی کرم اللہ وجہہ) ان تمام اقوال کا حاصل یہ ہے کہ السابقون سے مراد صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین ہیں۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 2 مراد وہ لوگ ہیں جو نہ صرف خود ایمان لائے اور نیکو کار رہے بلکہ ایمان لانے اور ہر ایک نیک عمل … جیسے نماز ہجرت اور جاد وغیرہ … کی انجام دہی میں دوسروں پر سبقت لے جانے والے ہیں۔

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

والسبقون السبقون (٦ 5: ٠١) ” آگے والے تو پھر آگے ہی والے ہیں۔ “ جس طرح کہا جاتا کہ وہ تو وہ ، فلاں تو فلاں ہیں ، بس ان کا نام لینا ہی ان کے مرتبہ ومقام کا اظہار کردیتا ہے۔ اس کے بعد پھر ان کی جی بھر کر تعریف کی جاتی ہے کہ ان کے لئے عالم بالا میں کیا کیا تیاریاں کی گئی ہیں۔ اگرچہ جنت کی تیاریوں کا تصور بھی نہیں ہوسکتا لیکن اہل زمین کے تجربے کے مطابق کچھ یوں ہیں۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

سابقین اولین کون سے حضرات ہیں ؟ سابقین کے بارے میں فرمایا ﴿ وَ السّٰبِقُوْنَ السّٰبِقُوْنَۚۙ٠٠١٠ اُولٰٓىِٕكَ الْمُقَرَّبُوْنَ۠ۚ٠٠١١﴾ (اور آگے بڑھنے والے وہ آگے بڑھنے والے ہیں وہ خاص قرب رکھنے والے ہیں) ۔ جن حضرات کو سابقین کا لقب دیا اس سبقت سے کون سی سبقت مراد ہیں ؟ اس بارے میں متعدد اقوال ہیں۔ حضرت ابن عباس (رض) نے فرمایا کہ اس سے وہ حضرات مراد ہیں جنہوں نے ہجرت کی طرف سبقت کی اور حضرت عکرمہ (رض) نے فرمایا کہ اس سے اسلام قبول کرنے کی طرف سبقت کرنے والے مراد ہیں حضرت ابن سیرین (رح) نے فرمایا کہ اس سے وہ حضرات مراد ہیں جنہوں نے قبلتین کی طرف نماز پڑھی۔ حضرت ربیع بن انس (رض) نے فرمایا کہ اس سے وہ حضرات مراد ہیں جنہوں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ارشادات پر عمل کرنے میں سبقت کی اور حضرت علی (رض) نے فرمایا جو حضرات پانچوں نمازوں کی طرف سبقت کرتے ہیں۔ السابقون سے وہ حضرات مراد ہیں اور حضرت سعید بن جبیر (رض) نے فرمایا جو حضرات توبہ کی طرف اور نیک اعمال کی طرف سبقت کرتے ہیں وہ حضرات سابقون ہیں، اللہ تعالیٰ شانہ نے ارشاد فرمایا ﴿ سَابِقُوْۤا اِلٰى مَغْفِرَةٍ مِّنْ رَّبِّكُمْ ﴾ اور فرمایا ﴿ اُولٰٓىِٕكَ يُسٰرِعُوْنَ فِي الْخَيْرٰتِ وَ هُمْ لَهَا سٰبِقُوْنَ ٠٠٦١﴾ مذکورہ بالا اقوال میں کوئی تعارض نہیں ہے سب سے زیادہ جامع قول حضرت سعید بن جبیر (رض) کا ہے جو دیگر اقوال کو بھی شامل ہے۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

6:۔ ” اولئک “ یہ تیسرے جماعت یعنی السابقون کے احوال کا بیان ہے بطریق لف و نشر غیر مرتب۔ فی جنات المقربون کے متعلق ہے۔ نعمتوں کے باغوں میں یعنی جنت میں اللہ تعالیٰ کا اصل قرب تو ان سابقین ہی کو حاصل ہوگا۔ قرب خداوندی کا جو درجہ ان کو ملے گا وہ اور کسی کا نصیب نہیں ہوگا۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(10) اور تیسرے آگے چلنے والے تو وہ ہیں ہی آگے بڑھنے۔ یعنی جو نیک کاموں سبقت کرنے والے ہیں وہ وہاں بھی آگے ہی رہنے والے ہیں۔