Surat ul Waqiya
Surah: 56
Verse: 13
سورة الواقعة
ثُلَّۃٌ مِّنَ الۡاَوَّلِیۡنَ ﴿ۙ۱۳﴾
A [large] company of the former peoples
۔ ( بہت بڑا ) گروہ تو اگلے لوگوں میں سے ہوگا ۔
ثُلَّۃٌ مِّنَ الۡاَوَّلِیۡنَ ﴿ۙ۱۳﴾
A [large] company of the former peoples
۔ ( بہت بڑا ) گروہ تو اگلے لوگوں میں سے ہوگا ۔
The Reward of the Foremost in Faith Allah states that the foremost of the close believers are a multitude, a crowd among the earlier generations and a few from the latter generations. There is a difference over the meaning of the first generations and the later generations. Some said that the former means earlier (believing) nations, while the later refers to this Ummah. This was reported from Mujahid and Al-Hasan Al-Basri, in the collection of Ibn Abi Hatim, and this is the preference of Ibn Jarir. He considered it supported by the saying of Allah's Messenger: نَحْنُ الاْخِرُونَ السَّابِقُونَ يَوْمَ الْقِيَامَة We are the later nation, but the foremost on the Day of Resurrection. Ibn Jarir did not mention any other interpretation nor did he attribute this view to anyone else. There is another Hadith that could support this meaning. Imam Abu Muhammad bin Abi Hatim recorded that Abu Hurayrah said that when these Ayat were revealed, ثُلَّةٌ مِّنَ الاَْوَّلِينَ وَقَلِيلٌ مِّنَ الاْخِرِينَ
مقربین کون ہیں؟ اور اولین کون؟ ارشاد ہوتا ہے کہ مقربین خاص بہت سے پہلے کے ہیں اور کچھ پچھلوں میں سے بھی ہیں ، ان اولین و آخرین کی تفسیر میں کئی قول ہیں ، مثلاً اگلی امتوں میں سے اور اس امت میں سے ، امام ابن جریر اسی قول کو پسند کرتے ہیں اور اس حدیث کو بھی اس قول کی پختگی میں پیش کرتے ہیں کہ حضور علیہ السلام نے فرمایا ہم پچھلے ہیں اور قیامت کے دن پہلے ہیں اور اس قول کی تائید ابن ابی حاتم کی اس روایت سے بھی ہو سکتی ہے کہ جب یہ آیت اتری اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر بہت گراں گزری ۔ پس یہ آیت اتری ( ثُـلَّةٌ مِّنَ الْاَوَّلِيْنَ 13ۙ ) 56- الواقعة:13 ) تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مجھے امید ہے کہ کل اہل جنت کی چوتھائی تم ہو بلکہ تہائی تم ہو بلکہ آدھوں آدھ تم ہو تم آدھی جنت کے مالک ہو گے اور باقی آدھی تمام امتوں میں تقسیم ہو گی جن میں تم بھی شریک ہو ۔ یہ حدیث مسند احمد میں بھی ہے ۔ ابن عساکر میں ہے حضرت عمر نے اس آیت کو سن کر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کیا کہ یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیا اگلی امتوں میں سے بہت لوگ سابقین میں داخل ہوں گے اور ہم میں سے کم لوگ ؟ اس کے ایک سال کے بعد یہ آیت نازل ہوئی کہ اگلوں میں سے بھی بہت اور پچھلوں میں سے بھی بہت حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عمر کو بلا کر کہا سنو حضرت آدم سے لے کر مجھ تک ثلہ ہے اور صرف میری امت ثلہ ہے ، ہم اپنے ( ثلہ ) کو پورا کرنے کے لئے ان حبشیوں کو بھی لے لیں گے جو اونٹ کے چرواہے ہیں مگر اللہ تعالیٰ کے واحد اور لاشریک ہونے کی شہادت دیتے ہیں ۔ لیکن اس روایت کی سند میں نظر ہے ، ہاں بہت سی سندوں کے ساتھ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان ثابت ہے کہ مجھے امید ہے کہ تم اہل جنت کی چوتھائی ہو آخر تک ۔ پس الحمد اللہ یہ ایک بہترین خوشخبری ہے ۔ امام ابن جریر نے جس قول کو پسند فرمایا ہے اس میں ذرا غور کرنے کی ضرورت ہے بلکہ دراصل یہ قول بہت کمزور ہے ۔ کیونکہ الفاظ قرآن سے اس امت کا اور تمام امتوں سے افضل و اعلیٰ ہونا ثابت ہے ، پھر کیسے ہو سکتا ہے؟ کہ مقربین بار گاہ صمدیت اور امتوں میں سے تو بہت سے ہوئے اور اس بہترین امت میں سے کم ہوں ، ہاں یہ توجیہ ہو سکتی ہے کہ ان تمام امتوں کے مقرب مل کر صرف اس ایک امت کے مقربین کی تعداد سے بڑھ جائیں ، لیکن بہ ظاہر تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ اکل امتوں کے مقربین سے صرف اس ایک امت کے مقربین کی تعداد سے بڑھ جائیں ، لیکن بہ ظاہر تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ کل امتوں کے مقربین سے صرف اس امت کے مقربین کی تعداد زیادہ ہوگی ۔ آگے اللہ کو علم ہے ۔ دوسرا قول اس جملہ کی تفسیر میں یہ ہے کہ اس امت کے شروع زمانے کے لوگوں میں سے مقربین کی تعداد بہت زیادہ ہے اور بعد کے لوگوں میں کم ۔ یہی قول رائج ہے ۔ چنانچہ حضرت حسن سے مروی ہے کہ آپ نے اس آیت کی تلاوت کی اور فرمایا سابقین تو گذر چکے اے اللہ تو ہمیں اصحاب یمین میں کر دے ایک اور روایت میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس امت میں سے جو گزر چکے ان میں مقربین بہت تھے ۔ امام ابن سیرین بھی یہی فرماتے ہیں ، کوئی شک نہیں کہ ہر امت میں یہی ہوتا چلا آیا ہے کہ شروع میں بہت سے مقربین ہوتے ہیں اور بعد والوں میں یہ تعداد کم ہو جاتی ہے ، تو یہ بھی ممکن ہے کہ مراد یونہی ہو یعنی ہر امت کے اگلے لوگ سبقت کرنے والے زیادہ ہوتے ہیں بہ نسبت ہر امت کے پچھلے لوگوں کے ، چنانچہ صحاح وغیرہ کی احادیث سے ثابت ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سب زمانوں میں بہتر زمانہ میرا زمانہ ہے پھر اس کے بعد والا پھر اس کا متصل زمانہ ، الخ ۔ ہاں ایک حدیث میں یہ بھی آیا میری امت کی مثال بارش جیسی ہے نہ معلوم کہ شروع زمانے کی بارش بہتر ہو یا آخر زمانے کی ، تو یہ حدیث جب کہ اس کی اسناد کو صحت کا حکم دے دیا جائے اس امر پر محمول ہے کہ جس طرح دین کو شروع کے لوگوں کی ضرورت تھی جو اس کی تبلیغ اپنے بعد والوں کو کریں اسی طرح آ کر میں بھی اسے قائم رکھنے والوں کی ضرورت ہے جو لوگوں کو سنت رسول پر جمائیں اس کی روایتیں کریں اسے لوگوں پر ظاہر کریں ، لیکن فضیلت اول والوں کی ہی رہے گی ۔ ٹھیک اسی طرح جس طرح کھیت کو شروع بارش کی اور آخری بارش کی ضرورت ہوتی ہے لیکن بڑا فائدہ ابتدائی بارش سے ہی ہوتا ہے اس لئے کہ اگر شروع شروع بارش نہ ہو تو دانے اگیں ہی نہیں نہ ان کی جڑیں جمیں ۔ اسی لئے حضور صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ایک جماعت میری امت میں سے ہمیشہ حق پر رہ کر غالب رہے گی ان کے دشمن انہیں ضرر نہ پہنچا سکیں گے ، ان کے مخالف انہیں رسوا اور پست نہ کر سکیں گے یہاں تک کہ قیامت قائم ہو جائے گی اور وہ اس طرح ہوں ۔ الغرض یہ امت باقی تمام امتوں سے افضل و اشرف ہے اور اس میں مقربین الیہہ بنسبت اور امتوں کے بہت ہیں ، اور بہت بڑے مرتبے والے کیونکہ دین کے کامل ہونے اور نبی کے عالی مرتبہ ہونے کے لحاظ سے یہ سب بہتر ہیں ۔ تواتر کے ساتھ یہ حدیث ثبوت کو پہنچ چکی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس امت میں سے ستر ہزار لوگ بغیر حساب کے جنت میں جائیں گے اور ہر ہزار کے ساتھ ستر ہزار اور ہوں گے ، طبرانی میں ہے اس کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے تم میں سے ایک بہت بڑی جماعت قیامت کے روز کھڑی کی جائے گی جو اس قدر بری اور گنتی میں زائد ہو گی کہ گویا رات آ گئی زمین کے تمام کناروں کو گھیرا لے گی فرشتے کہنے لگیں گے سب نبیوں کے ساتھ جتنے لوگ آئے ہیں ان سے بہت ہی زیادہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہیں ۔ مناسب مقام یہ ہے کہ بہت بری جماعت اگلوں میں سے اور بہت ہی بڑی پچھلوں میں سے والی آیت کی تفسیر کے موقع پر یہ حدیث ذکر کر دی جائے جو حافظ ابو بکر بیہقی رحمۃ اللہ علیہ نے دلائل نبوۃ میں وارد کی ہے کہ رسول اللہ لی اللہ علیہ وسلم جب صبح کی نماز پڑھتے پاؤں موڑے ہوئے ہی ستر مرتبہ یہ پڑھتے دعا ( سبحان اللہ وبحمدہ استغفر اللہ ان اللہ کان تواباً ) پھر فرماتے ستر کے بدلے سات سو ہیں جس کے ایک دن کے گناہ سات سو سے بھی بڑھ جائیں وہ بےخبر ہے پھر دو مرتبہ اسی کو فرماتے پھر لوگوں کی طرف منہ کر کے بیٹھے اور چونکہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو خواب اچھا معلوم ہوتا تھا اس لئے پوچھتے کہ کیا تم میں سے کسی نے کوئی خواب دیکھا ہے؟ ابو زمل کہتے ہیں ایک دن اسی طرح حسب عادت آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا تو میں نے کہا ہاں یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں نے ایک خواب دیکھا ہے ، فرمایا اللہ خیر سے ملائے شر سے بچائے ہمارے لئے بہتر بنائے اور ہمارے دشمنوں کے لئے بدتر بنائے ہر قسم کی تعریفوں کا مستحق وہ اللہ ہے جو تمام جہانوں کا پالنے والا ہے ، اپنا خواب بیان کرو ۔ میں نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں نے دیکھا کہ ایک راستہ ہے کشادہ ، آسان ، نرم ، صاف اور بیشمار لوگ اس راستے میں چلے جا رہے ہیں یہ راستہ جاتے جاتے ایک سر سبز باغ کو نکلتا ہے کہ میری آنکھوں نے ایسا لہلہاتا ہوا ہرا بھرا باغ کبھی نہیں دیکھا پانی ہر سو رواں ہے سبزے سے پٹا پڑا ہے انواع و اقوام کے درخت خوشنما پھلے پھولے کھڑے ہیں اب میں نے دیکھا کہ پہلی جماعت جو آئی اور اس باغ کے پاس پہنچی تو انہوں نے اپنی سواریاں تیز کرلیں دائیں بائیں نہیں گئے اور تیز رفتاری کے ساتھ یہاں سے گزر گئے ۔ پھر دوسری جماعت آئی جو تعداد میں بہت زیادہ تھی ، جب یہاں پہنچے تو بعض لوگوں نے اپنے جانوروں کو چرانا چگانا شروع کیا اور بعضوں نے کچھ لے لیا اور چل دیئے پھر تو بہت زیادہ لوگ آئے جب ان کا گذرا ان گل و گلزار پر ہوا تو یہ تو پھول گئے اور کہنے لگے یہ سب سے اچھی جگہ ہے گویا میں انہیں دیکھ رہا ہوں کہ وہ دائیں بائیں جھک پڑے میں نے یہ دیکھا لیکن میں آپ تو چلتا ہی رہا جب دور نکل گیا تو میں نے دیکھا کہ ایک منبر سات سیڑھیوں کا بچھا ہوا ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے اعلیٰ درجہ پر تشریف فرما ہیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی دائیں جانب ایک صاحب ہیں گندم گوں رنگ بھری انگلیوں والے دراز قد جب کلام کرتے ہیں تو سب خاموشی سے سنتے ہیں اور لوگ اونچے ہو ہو کر توجہ سے ان کی باتیں سنتے ہیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بائیں طرف ایک شخص ہیں بھرے جسم کے درمیانہ قد کے جن کے چہرہ پر بکثرت تل ہیں ان کے بال گویا پانی سے تر ہیں جب وہ بات کرتے ہیں تو ان کے اکرام کی وجہ سے سب لوگ جھک جاتے ہیں پھر اس سے آگے ایک شخص ہیں جو اخلاق و عادات میں اور چہرے نقشے میں بالکل آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے مشابہت رکھتے ہیں ، آپ لوگ سب ان کی طرف پوری توجہ کرتے ہیں اور ان کا ارادہ رکھتے ہیں ۔ ان سے آ گئے ایک دبلی پتلی بڑھیا اونٹنی ہے میں نے دیکھا کہ گویا آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسے اٹھا رہے ہیں ، یہ سن کر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا رنگ متغیر ہو گیا تھوڑی دیر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ حالت بدل گئی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سیدھے سچے اور صحیح راستے سے مراد تو وہ دین ہے جسے میں لے کر اللہ کی طرف سے آیا ہوں اور جس ہدایت پر تم ہو ، ہر بھرا سبز باغ جو تم نے دیکھا ہے وہ دنیا ہے اور اس کی عیش و عشرت کا دل لبھانے والا سامان ، میں اور میرے اصحاب تو اس سے گذر جائیں گے نہ تم اس میں مشغول ہوں گے نہ وہ ہمیں چمٹے گی نہ ہمارا تعلق اس سے ہوگا نہ اس کا تعلق ہم سے نہ ہم اس کی چاہت کریں گے نہ وہ ہمیں لپٹے گی ، پھر ہمارے بعد دوسری جماعت آئے گی جو ہم سے تعداد میں بہت زیاددہ ہوگی ان میں سے بعض تو اس دنیا میں پھنس جائیں گے اور بعض بقدر حاجت لے لیں گے اور چل دیں گے اور نجات پالیں گے ، پھر ان کے بعد زبردست جماعت آئے جو اس دنیا میں بالکل مستغرق ہو جائے گی اور دائیں بائیں بہک جائے گی آیت ( فانا للہ وانا الیہ راجعون ) ۔ اب رہے تم سو تم اپنی سیدھی راہ چلتے رہو گے یہاں تک کہ مجھ سے تمہاری ملاقات ہو جائے گی ، جس منبر کے آخری ساتوں درجہ پر تم نے مجھے دیکھا اس کی تعبیر یہ ہے کہ دنیا کی عمر سات ہزار سال کی ہے میں آخری ہزارویں سال میں ہوں میرے دائیں جس گندمی رنگ موٹی ہتھیلی والے انسان کو تم نے دیکھا وہ حضرت موسیٰ علیہ السلام ہیں جب وہ کلام کرتے ہیں تو لوگ اونچے ہو جاتے ہیں اس لئے کہ انہیں اللہ تعالیٰ سے شرف ہم کلامی ہو چکا ہے اور جنہیں تم نے میرے بائیں دیکھا جو درمیانہ قد کے بھرے جسم کے بہت سے تلوں والے تھے جن کے بال پانی سے تر نظر آتے تھے وہ حضرت عیسیٰ بن مریم علیہ السلام ہیں چونکہ ان کا اکرام اللہ تعالیٰ نے کیا ہے ہم سب بھی ان کی بزرگی کرتے ہیں اور جن شیخ کو تم نے بالکل مجھ سا دیکھا وہ ہمارے باپ حضرت ابراہیم علیہ السلام ہیں ہم سب ان کا قصد کرتے ہیں اور ان کی اقتداء اور تابعداری کرتے ہیں اور جس اونٹنی کو تم نے دیکھا کہ میں اسے کھڑی کر رہا ہوں اور اس سے مراد قیامت ہے جو میری امت پر قائم ہوگی نہ میرے بعد کوئی نبی آئے گا ، نہ میری امت کے بعد کوئی امت ہے ۔ فرماتے ہیں اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ پوچھنا چھوڑ دیا کہ کسی نے خواب دیکھا ہے؟ ہاں اگر کوئی شخص اپنے آپ اپنا خواب بیان کر دے تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم تعبیر دے دیا کرتے تھے ۔ ان کے بیٹھنے کے تخت اور آرام کرنے کے پلنگ سونے کے تاروں سے بنے ہوئے ہوں گے جن میں جگہ جگہ موتی ٹکے ہوئے ہوں گے در و یاقوت جڑے ہوئے ہوں گے ۔ یہ فعیل معنی میں مفعول کے ہے اسی لئے اونٹنی کے پیٹ کے نیچے والے کو وضین کہتے ہیں ۔ سب کے منہ ایک دوسرے کے سامنے ہوں گے کوئی کسی کی طرف پیٹھ دیئے ہوئے نہ ہو گا ، وہ علماء ان کی خدمت گزاری میں مشغول ہوں گے جو عمر میں ویسے ہی چھوٹے رہیں گے نہ بڑے ہوں نہ بوڑھے ہوں ۔ نہ ان میں تغیر تبدیل آئے ۔ اکواب کہتے ہیں ان کوزوں کو جن کی ٹونٹی اور پکڑنے کی چیز نہ ہو اور اباریق وہ آفتابے جو ٹنٹی دار اور پکڑے جانے کے قابل ہوں ۔ یہ سب شراب کی جاری نہر سے چھلکتے ہوئے ہوں گے جو شراب نہ ختم ہو نہ کم ہو کیونکہ اس کے چشمے بہ رہے ہیں ، جام چھلکتے ہوئے ہر وقت اپنے نازک ہاتھوں میں لئے ہوئے یہ گل اندام ساقی ادھر ادھر گشت کر رہے ہوں گے ۔ اس شراب سے انہیں درد سر ہو نہ ان کی عقل زائل ہو بلکہ باوجود پورے سرور اور کیف کے عقل و حواس اپنی جگہ قائم رہیں گے اور کامل لذت حاصل ہو گی ۔ شراب میں چار صفتیں ہیں نشہ سر درد قی اور پیشاب ، پس پروردگار عالم نے جنت کی شراب کا ذکر کر کے ان چاروں نقصانوں کی نفی کر دی کہ وہ شراب ان نقصانات سے پاک ہے ۔ پھر قسم قسم کے میوے اور طرح طرح کے پرندوں کے گوشت انہیں ملیں گے جس میوے کو جی چاہے اور جس طرح کے گوشت کی طرف دل کی رغبت ہو موجود ہوجائیگا ، یہ تمام چیزیں لئے ہوئے ان کے سلیقہ شعار خدام ہر وقت ان کے ارد گرد گھومتے رہیں گے تا کہ جس چیز کی جب کبھی خواہش ہو لے لیں ، اس آیت میں دلیل ہے کہ آدمی میوے چن چن کر اپنی خواہش کے مطابق کھا سکتا ہے ، مسند ابو یعلی موصلی میں ہے حضرت عکراش بن ذویب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اپنی قوم کے صدقہ کے مال لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا آپ صلی اللہ علیہ وسلم مہاجرین اور انصار میں تشریف فرما تھے میرے ساتھ زکوٰۃ کے بہت سے اونٹ تھے گویا کہ وہ ریت کے درختوں کے چرئے ہوئے نوجوان اونٹ ہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم کون ہو؟ میں نے کہا عکراش بن ذویب فرمایا اپنا نسب نامہ دور تک بیان کر دو میں نے مرہ بن دبیک تک کہہ سنایا اور ساتھ ہی کہا کہ زکوٰۃ مرہ بن عبید کی ہے پس حضور صلی اللہ علیہ وسلم مسکرائے اور فرمانے لگے یہ میری قوم کے اونٹ ہیں یہ میری قوم کے صدقہ کا مال ہے پھر حکم دیا کہ صدقے کے اونٹوں کے نشان ان پر کر دو اور ان کے ساتھ انہیں بھی ملا دو پھر میرا ہاتھ پکڑ کر ام المومنین حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہہ کے گھر تشریف لائے اور فرمایا کچھ کھانے کو ہے؟ جواب ملا کہ ہاں چنانچہ ایک بڑے لگن میں ٹکڑے ٹکڑے کی ہوئی روٹی آئی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اور میں نے کھانا شروع کیا ۔ میں ادھر ادھر سے نوالے لینے لگا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ سے میرا داہنا ہاتھ تھام لیا ، اور فرمایا اے عکراش یہ تو ایک قسم کا کھانا ہے ایک جگہ سے کھاؤ ۔ پھر ایک سینی تر کھجوروں خشک کھجوروں کی آئی میں نے صرف میرے سامنے جو تھیں انہیں کھانا شروع کیا ہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سینی کے ادھر ادھر سے جہاں سے جو پسند آتی تھی لے لیتے تھے اور مجھ سے بھی فرمایا اے عکراش اس میں ہر طرح کی کھجوریں ہیں جہاں سے چاہو کھاؤ جس قسم کی کھجور جس قسم کی کھجور چاہو لے لو ، پھر پانی آیا پس حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ دھوئے اور وہی تر ہاتھ اپنے چہرے پر اور دونوں بازوؤں اور سر پر تین دفعہ پھیر لئے اور فرمایا اے عکراش یہ وضو ہے اس چیز سے جسے آگ نے متغیر کیا ہو ۔ ( ترمزی اور ابن ماجہ ) امام ترمذی اسے غریب بتاتے ہیں ۔ مسند احمد میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خواب پسند تھا بسا اوقات آپ صلی اللہ علیہ وسلم پوچھ لیا کرتے تھے کہ کسی نے خواب دیکھا ہے؟ اگر کوئی ذکر کرتا اور پھر حضور صلی اللہ علیہ وسلم اس خواب سے خوش ہوتے تو اسے بہت اچھا لگتا ۔ ایک مرتبہ ایک عورت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں نے آج ایک خواب دیکھا ہے کہ گویا میرے پاس کوئی آیا اور مجھے مدینہ سے لے چلا اور جنت میں پہنچا دیا پھر میں نے یکایک دھماکا سنا جس سے جنت میں ہل چل مچ گئی میں نے جو نظر اٹھا کر دیکھا تو فلاں بن فلاں اور فلاں بن فلاں کو دیکھا بارہ شخصوں کے نام لئے انہیں بارہ شخصوں کا ایک لشکر بنا کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے کئی دن ہوئے ایک مہم پر روانہ کیا ہوا تھا فرماتی ہیں انہیں لایا گیا یہ اطلس کے کپڑے پہنچے ہوئے تھے ان کی رگیں جوش مار رہی تھیں حکم ہوا کہ انہیں نہر بیدج میں لے جاؤں یا بیذک کہا ، جب ان لوگوں نے اس نہر میں غوطہ لگایا تو ان کے چہرے چودہویں رات کے چاند کی طرح چمکنے لگ گئے پھر ایک سونے کی سینی میں گدری کھجوریں آئیں جو انہوں نے اپنی حسب منشا کھائیں اور ساتھ ہی ہر طرح کے میوے جو چاروں طرف چنے ہوئے تھے جس میوے کو ان کا جی چاہتا تھا لیتے تھے اور کھاتے تھے میں نے بھی ان کے ساتھ شرکت کی اور وہ میوے کھائے ، مدت کے بعد ایک قاصد آیا اور کہا فلاں فلاں اشخاص جنہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لشکر میں بھیجا تھا شہید ہو گئے ٹھیک بارہ شخصوں کے نام لئے اور یہ وہی نام تھے جنہیں اس بیوی صاحبہ نے اپنے خواب میں دیکھا تھا ۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ان نیک بخت صحابیہ کو پھر بلوایا اور فرمایا اپنا خواب دوبارہ بیان کرو اس نے پھر بیان کیا اور انہیں لوگوں کے نام لئے جن کے نام قاصد نے لئے تھے ۔ طبرانی میں ہے کہ جنتی جس میوے کو درخت سے توڑے گا وہیں اس جیسا اور پھل لگ جائے گا ۔ مسند احمد میں ہے کہ جنتی پرند بختی اور اونٹ کے برابر ہیں جو جنت میں چرتے چگتے رہتے ہیں ، حضرت صدیق نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ پرند تو نہایت ہی مزے کے ہوں گے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ان کے کھانے والے ان سے بھی زیادہ ناز و نعمت والے ہوں گے ۔ تین مرتبہ یہی جملہ ارشاد فرما کر پھر فرمایا مجھے اللہ سے امید ہے کہ اے ابو بکر تم ان میں سے ہو جو ان پرندوں کا گوشت کھائیں گے ۔ حافظ ابو عبداللہ مصری کی کتاب صفۃ الجنت میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے طوبی کا ذکر ہو پس حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے حضور صدیق اکبر سے دریافت فرمایا کہ جانتے ہو طوبیٰ کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا اللہ اور اس کے رسول کو پورا علم ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جنت کا ایک درخت ہے جس کی طولانی کا علم سوائے اللہ کے اور کسی کو نہیں اس کی ایک ایک شاخ تلے تیز سوار ستر ستر سال تک چلا جائے گا ۔ پھر بھی اس کا سایہ ختم نہ ہوا اس کے پتے بڑے چوڑے چوڑے ہیں ان پر بختی اونٹنی کے برابر پرند آ کر بیٹھتے ہیں ، ابو بکر نے فرمایا پھر تو یہ پرند بڑی ہی نعمتوں والے ہوں گے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ان سے زیادہ نعمتوں والے ان کے کھانے والے ہوں گے اور انشاء اللہ تم بھی انہی میں سے ہو ۔ حضرت قتادہ سے بھی یہ پچھلا حصہ مروی ہے ۔ ابن ابی الدنیا میں حدیث ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے کوثر کی بابت سوال ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہ جنتی نہر ہے جو مجھے اللہ عزوجل نے عطا فرمائی ہے دودھ سے زیادہ سفید اور شہد سے زیادہ میٹھا اس کا پانی ہے اس کے کنارے بختی اونٹوں کی گردنوں جیسے پرند ہیں ۔ حضرت عمر نے فرمایا وہ پرند تو بڑے مزے میں ہیں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ان کا کھانے والا ان سے زیادہ مزے میں ہے ۔ ( ترمذی ) امام ترمذی اسے حسن کہتے ہیں ۔ ابن ابی حاتم میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں جنت میں ایک پرند ہے جس کے ستر ہزار پر ہیں جنتی کے دسترخوان پر وہ آئے گا اور اس کے ہر پر سے ایک قسم نکلے گی جو دودھ سے زیادہ سفید اور مکھن سے زیادہ نرم اور شہد سے زیادہ میٹھی پھر دوسرے پر سے دوسری قسم نکلے گی اسی طرح ہر پر سے ایک دوسرے سے جداگانہ ، پھر وہ پرند اڑ جائے گا یہ حدیث بہت ہی غریب ہے اور اس کے راوی رصانی اور ان کے استاد دونوں ضعیف ہیں ۔ ابن ابی حاتم میں حضرت کعب سے مروی ہے کہ جنتی پرند مثل بختی اونٹوں کے ہیں جو جنت کے پھل کھاتے ہیں اور جنت کی نہروں کا پانی پیتے ہیں جنتیوں کا دل جس پرند کے کھانے کو چاہے گا وہ اس کے سامنے آجائے گا وہ جتنا چاہے گا جس پہلو کا گوشت پسند کرے گا کھائے گا پھر وہ پرند اڑ جائے گا اور جیسا تھا ویسا ہی ہوگا ۔ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں جنت کے جس پرند کو تو چاہے گا وہ بھنا بھنایا تیرے سامنے آ جائے گا ۔ حور کی دوسری قرأت رے کے زیر سے بھی ہے ۔ پیش سے تو مطلب ہے کہ جنتیوں کے لئے حوریں ہوں گی اور زیر سے یہ مطلب ہے کہ گویا اگلے اعراب کی ماتحتی میں یہ اعراب بھی ہے ، جیسے آیت ( وَامْسَحُوْا بِرُءُوْسِكُمْ وَاَرْجُلَكُمْ اِلَى الْكَعْبَيْنِ Č ) 5- المآئدہ:6 ) میں زبر کی قرأت ہے اور جیسے کہ آیت ( عٰلِيَهُمْ ثِيَابُ سُـنْدُسٍ خُضْرٌ وَّاِسْتَبْرَقٌ 21 ) 76- الإنسان:21 ) ہیں ۔ اور یہ معنی بھی ہو سکتے ہیں کہ غلمان اپنے ساتھ حوریں بھی لئے ہوئے ہوں گے لیکن ان کے محلات میں اور خیموں میں نہ کہ عام طور پر واللہ اعلم ۔ یہ حوریں ایسی ہوں گی جیسے تروتازہ سفید صاف موتی ہوں ، جیسے سورۃ صافات میں ہے آیت ( كَاَنَّهُنَّ بَيْضٌ مَّكْنُوْنٌ 49 ) 37- الصافات:49 ) سورۃ الرحمن میں بھی یہ وصف مع تفسیر گذر چکا ہے ۔ یہ ان کے نیک اعمال کا صلہ اور بدلہ ہے یعنی یہ تحفے ان کی حسن کارگزاری کا انعام ہے ۔ یہ جنت میں لغو بیہودہ بےمعنی خلاف طبع کوئی کلمہ بھی نہ سنیں گے حقارت اور برائی کا ایک لفظ بھی کان میں نہ پڑے گا ، جیسے اور آیت میں ہے ( لَّا تَسْمَعُ فِيْهَا لَاغِيَةً 11ۭ ) 88- الغاشية:11 ) فضول کلامی سے ان کے کان محفوظ رہیں گے ۔ نہ کوئی قبیح کلام کان میں پڑے گا ۔ ہاں صرف سلامتی بھرے سلام کے کلمات ایک دوسروں کو کہیں گے ، جیسے اور جگہ ارشاد فرمایا آیت ( تَحِيَّتُهُمْ فِيْهَا سَلٰمٌ 23 ) 14- ابراھیم:23 ) انکا تحفہ آپس میں ایک دوسرے کو سلام کرنا ہوگا ۔ انکی بات چیت لغویت اور گناہ سے پاک ہوگی ۔
ثُلَّۃٌ مِّنَ الْاَوَّلِیْنَ وَ قَلِیْلٌ مِّنَ الْاٰخِرِیْنَ :” ثلۃ “ پر تنوین تعظیم کے لیے ہے ، ایک بڑی جماعت ۔ اللہ تعالیٰ نے سابقون کے متعلق ” ثُلَّۃٌ مِّنَ الْاَوَّلِیْنَ وَ قَلِیْلٌ مِّنَ الْاٰخِرِیْنَ “ اور اصحاب الیمین کے متعلق ” ثُلَّۃٌ مِّنَ الْاَوَّلِیْنَ وَ قَلِیْلٌ مِّنَ الْاٰخِرِیْنَ “ فرمایا۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ دونوں جگہ ” الاولین “ اور ” الاخرین “ سے مراد کیا ہے ؟ تو اس کے متعلق اہل علم کے دو قول ہیں ، ایک یہ کہ ” الاولین “ سے مراد پہلی امتیں ہیں اور ’ ’ الاخرین “ سے مراد ہماری امت ہے۔ انہیں ” الاخرین “ اس لیے کہا گیا کہ وہ تمام امتوں میں سے آخری امت ہیں ۔ مطلب یہ ہے کہ سابقون پہلی امتوں میں سے ایک بڑی جماعت ہیں اور آخری امت میں سے قلیل ہیں ۔ طبری نے تفسیر میں یہی قول ذکر فرمایا ہے، کوئی اور قول ذکر ہی نہیں کیا اور راحج قول بھی یہی قوم ہوتا ہے ، کیونکہ آدم (علیہ السلام) سے لے کر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تک مشہور قول کے مطابق ایک لاکھ سے زیادہ تو انبیاء ہی گزرے ہیں ۔ انبیاء سمیت ان کی امتوں کے سابقون یقینا بہت بڑی جماعت ہوں گے ، ان کی نسبت سے ہماری امت کے سابقون کی تعداد کم ہوگی۔ ہاں اصحاب الیمین جس طرح پہلی امتوں کے بہت بڑی جماعت ہوں گے ، ان کی نسبت سے ہماری امت کے سابقون کی تعداد کم ہوگی۔ ہاں اصحاب الیمین جس طرح پہلی امتوں کے بہت بڑی جماعت ہوں گے ہماری امت کے بھی بہت بڑی جماعت ہوں گے ، حتیٰ کہ ہماری امت کے افراد اہل جنت کا نصف ہوں گے ، جیسا کہ ” ثلثۃ من الاخرین “ کی تفسیر میں احادیث آرہی ہیں۔ اس قول کے راحج ہونے کی ایک اور وجہ یہ ہے کہ اس سورت میں قیامت کا ذکر ہو رہا ہے اور اس دن یہ تین گروہ صرف ہماری امت کے نہیں ہوں گے بلکہ آدم (علیہ السلام) سے لے کر آخری ابن آدم تک سب لوگ تین گروہوں میں تقسیم ہوں گے ۔ اس اعتبار سے بھی اولین سے مراد پہلی امتیں ہیں اور آخرین سے مراد امت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لوگ ہیں ۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اس حدیث سے بھی اس قول کی تائید ہوتی ہے ، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا :( نحن الاخرون السابقون یوم القیاۃ بید انھم اوتوا الکتاب من قلبنا ، ثم ھذا یومھم الذی فرض علیھم فاختلفوا فیہ ، فھدانا اللہ ، فالناس لنا فیہ تبع ، الیھود عذر والنصاری بعد غد) (بخاری ، الجمعۃ ، باب فرض الجمعۃ۔۔۔۔۔ ٨٧٦، عن ابی ہریرۃ (رض) ) ” ہم آخر میں آنے والے ہیں ، قیامت ے دن پہلے ہوں گے ۔ اس لیے ان لوگوں کو ہم سے پہلے کتاب دی گئی ، پھر یہ ( جمعہ کا) دن جو ان پر فرض کیا گیا تو انہوں نے اس میں اختلاف کیا ، تو اللہ تعالیٰ نے ہمیں ہدایت دی ، چناچہ لوگ اس میں ہمارے پیچھے ہیں ، یہود اگلے دن اور نصاری اس سے اگلے دن “۔ دوسرا قول جسے ابن کثیر نے ترجیح دی ہے ، یہ ہے کہ دونوں جگہ اولین اور آخرین سے مراد امت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اولین و آخرین ہیں اور مطلب یہ ہے کہ سابقون اس امت کے شروع کے لوگوں میں سے ایک بہت بڑی جماعت ہوں گے اور بعد کے لوگوں میں سے کم تعداد میں ہوں گے ۔ البتہ اصحاب الیمین امت کے شروع کے لوگوں میں بہت بڑی جماعت ہوں گے اور آخرحصے کے لوگوں سے بھی بہت بڑی جماعت ہوں گے۔ شروع کے لوگوں سے مراد صحابہ کرام (رض) اور ان سے قریب زمانوں کے لوگ ہیں۔ عبد اللہ بن مسعود (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا :(خیر الناس قرنی ثم الذین یلونھم ثم الذین یلونھم ثم یحییٰ ء قوم تسبق شھادۃ احدھم یمینہ و یمینہ شھادتہ) ( بخاری ، فضائل الصحابۃ ، باب فضائل اصحاب النبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ۔۔۔۔: ٣٦٥١)” سب لوگوں سے بہتر میرا زمانہ ہے ، پھر وہ لوگ جو ان سے ملیں گے ، پھر وہ لوگ جو ان سے ملیں گے ، پھر کچھ لوگ آئیں گے جن کی شہادت ان کی قسم سے پہلے اور ان کی قسم ان کی شہادت سے پہلے ہوگی ۔ “ ابن کثیر (رح) تعالیٰ نے ایک تیسرا قول ذکر فرمایا ہے کہ ہر امت کے ابتدائی لوگوں میں سابقون کی ایک بڑی جماعت ہوئی ہے جب کہ بعد کے لوگوں میں وہ قلیل ہوئے ہیں ۔ حقیقت یہ ہے کہ ان تینوں اقوال میں کوئی تعارض نہیں ، اپنی اپنی جگہ تینوں درست ہیں ، البتہ آیات کے سیاق کے مطابق یہاں پہلا راجح معلوم ہوتا ہے۔ ( واللہ اعلم)
ثُلَّةٌ مِّنَ الْأَوَّلِينَ وَقَلِيلٌ مِّنَ الْآخِرِينَ (...many from the earlier generations, and of a small number from the later ones....56:13-14) The word ثُلَّةٌ thullatun, means &a party, group, company&. Zamakhshari says that thullatun refers to &a throng or a large number of people &. Who are الْأَوَّلِينَ Awwalin (earlier generations) and الْآخِرِينَ &Akhirin (later ones)? The words &awwalin& (earlier generations) and ` akhirin& (later ones) are used twice: First, in connection with As-sabiqun (the Foremost) who are favoured with special Divine nearness; and secondly, in connection with Ashab-ul-yamin [ the People of the Right, or the general body of believers ]. In the case of the &Foremost& it is mentioned that there will be &many& from amongst the &awwalin& (earlier generations) who will be categorized as &the Foremost&, but from amongst the later generations, the number of the &Foremost& will be smaller. As opposed to this, in the description of the People of the Right, the word &thullah& (many) is applied to both &earlier& and &later& generations in the following words: ثُلَّةٌ مِّنَ الْأَوَّلِينَ وَثُلَّةٌ مِّنَ الْآخِرِينَ ( many from the first generations, and many from the later ones...56:39-40) The question now is: Who are &earlier generations& and &later generations&? In this connection, two views of the commentators have been recorded: The first view is that &earlier generations& include all the creation of Allah from the time of &Adam to the time just prior to the advent of the &Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) . And &later generations& include all the creation of Allah from the time of the advent of the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) to the Doomsday. This interpretation is recorded by Ibn Abi Hatim (رح) [ with a chain of transmitters ] from Mujahid and Hasan Basri رحمۃ اللہ علیہما . Ibn Jarir (رض) has preferred this interpretation. This interpretation has also been adopted in the Bayan-ul-Qur&an. This is supported by the Prophetic Tradition transmitted on the authority of Sayyidna Jabir Ibn ` Asakir reports the Tradition [ with his chain of transmitters ] thus: |"When the first pair of verses regarding &the Foremost& was revealed stating that they will comprise &many from the first generations, and of a small number from the later ones, ثُلَّةٌ مِّنَ الْأَوَّلِينَ وَقَلِيلٌ مِّنَ الْآخِرِينَ [ 56:13-14], Sayyidna ` Umar Ibn Khattab (رض) enquired: &0 Messenger of Allah, will there be a larger number of &the Foremost& from among the earlier generations and a small number from amongst us?& For about a year, no revelation in this connection came down. A year later, verses [ 39] and [ 40] ثُلَّةٌ مِّنَ الْأَوَّلِينَ وَثُلَّةٌ مِّنَ الْآخِرِينَ |"many from the first generations, and many from the later ones.|" were revealed. The Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) of Allah called Sayyidna ` Umar (رض) and said to him: اِسمَع یَا عُمَرُ مَا قَد اَنزَلَ اللہُ ثُلَّۃُ مَّنَ الاَوَّلِین وَ ثُلَّۃُ مَّنَ الاٰخِرِینَ اَلاَوَاِنَّ مِن اٰدَمَ اَلَیَّ ثُلَّۃُ وَّاُمَّتِی ثُلَّۃُ ۔ (الحدیث) – ابن کثیر۔ |"0 ` Umar, listen to what Allah has revealed many from the first generations, and many from the later ones). Behold! From &Adam to me is one thullah (throng) and my Ummah is another thullah& (throng).|" The theme of this Tradition is supported by the Tradition recorded by Imam Ahmad and Ibn Abi Hatim رحمۃ اللہ علیہما on the authority of Sayyidna Abu Hurairah (رض) that when verses [ 13] and [ 14] were revealed, the Companions (رض) found this painful, because they understood them to mean that the foremost believers from earlier nations are more numerous than those of this Ummah. As a result, verses [ 39] and [ 40] were revealed and the Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) of Allah stated &I hope that you will comprise a quarter of the inmates of Paradise, a third of the inmates of Paradise. Rather, you are a half of the inmates of Paradise, and will have a share in the other half.& (Ibn Kathir) Thus, collectively, majority of the inmates of Paradise will be the followers of the Holy Prophet Muhammad (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) . However, a question arises about both these Traditions. The question is that verse 40 relates to the People of the Right, while verse 13 was about the Foremost. Then, how can verse 40 remove the concern of the Companions (رض) about verse 13? Ruh-ul-Ma’ ani resolves the problem thus: The noble Companions (رض) ، in general, and Sayyidna ` Umar (رض) in particular, were saddened by the verse 13 presumably because they thought that the proportion of the later generations in the &People of the Right& will be the same as it is in the Foremost, and thus the later generations will be small in number even among the &People of the Right&. From this point of view, they thought their number in relation to all the inmates of Paradise, put together, will be very small. But when verses [ 39] and [ 40] were revealed, the point was clarified that collectively the majority of the inmates of Paradise will be the followers of the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) even though the collective number of later generations in the category of the Foremost& may be smaller as compared to the previous nations, especially since a large number of the previous nations will comprise the Prophets. In relation to them, it does not matter if the followers of the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) are fewer. However, Ibn Kathir, Abu Hayyan, Qurtubi, Ruh-ul-Ma’ ani, Mazhari and others prefer another interpretation: &the earlier generations& and &the later generations imply, according to them, the earlier and the latter followers of the Holy Prophet&s (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) own Ummah. &Earlier generations&, in their view, are the Companions (رض) of the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) and their pupils, who are termed in a Hadith as &khair-ul-qurun& (the best generation), and &later generations& include all those who came after them. As for the Hadith narrated by Jabir quoted above from Ibn Kathir, in support of the first interpretation, Ibn Kathir himself has expressed his reservation about its chain of transmitters. He writes وَ لٰکِن فِی اِسنَادہٖ نَظَرُ |"In its chain of transmission, there is some defect.|" In support of his own interpretation, he quotes verses relating to Ummah of the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) being the best of nations, as for instance كُنتُمْ خَيْرَ أُمَّةٍ You are the best of nations...|". (3:110) Therefore, it is not possible that the foremost believers from earlier nations are more numerous than those of this Ummah. Thus ثُلَّةٌ مِّنَ الْأَوَّلِينَ &many from the earlier generations& refers to the earlier generation of this Ummah and قَلِیلُ مِنَ الآخِرِین &of a small number from the later generations& refers to the later generation of this Ummah from whom a small number will be included in the category of the &Foremost&. In support of this view, Ibn Kathir has cited the statement of Sayyidna Hasan Basri (رح) ، as recorded by Ibn Abi Hatim (رح) ، to the effect that he recited the Verse 10 about &the Foremost& and said, &They have predeceased, but 0 Allah! make us from amongst the People of the Right hand&. In another statement, Sayyidna Hasan Basri (رح) is reported to have said in explanation of Verse 13: ثُلَّثۃُ مِّمَّن مَّضیٰ مِن ھٰذِہِ الاُمَّۃِ & &Those foremost Faith are all from this Ummah&. Likewise, Muhammad Ibn Sirin said in connection with Verse 13 and 14: &The scholars stated and hoped that they (the Foremost of earlier and later generations) will all be from amongst this Ummah.& Ruh-ul-Ma’ ani puts forward the following Prophetic Hadith with a good chain of transmitters in support of the second interpretation: اخرَجَ مُسَدَّدُ فِی مُسنَدِہ وَ ابن المنذِرِ وَ الطّبرَانِی وَابن مردویہ بِسنَدِ حَسَنِ عَن اَبِی بَکرَۃَ عَنِ النَّبِیِّ (رض) فِی قَولِہٖ سُبحَانَہ ثُلَّۃُ مَّنَ الاَوَّلِین وَ ثُلَّۃُ مِّنَ الاٰخرِینَ قالَ ھُمَا جَمِیعاً مِّن ھٰذِہِ الاُمَّۃِ ۔ |"Musaddad in his Musnad, Ibn-ul-Mundhir, Tabarani and Ibn Marduyah report with a good chain on the authority of Sayyidna Abu Bakrah (رض) that, while interpreting verses [ 39] and [ 40] (Many from the earlier generations and of a small number from the later ones), the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said: &They are both from this Ummah.&|" Many Scholars of Hadith report another Prophetic Tradition with a weak chain on the authority of Sayyidna Ibn ` Abbas (رض) also. The wordings are: ھُمَا جَمِیعاً مِّن اُمَّتِی . |"They [ the earlier and the later generations ] are from my Ummah.|" From this point of view, verse [ 7] of this Chapter وَكُنتُمْ أَزْوَاجًا ثَلَاثَةً |"and you will be (divided into) three categories. [ 7] |" addresses the Ummah of the Holy Prophet Muhammad (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) and all three categories will be from this Ummah. Mazhari has held the first interpretation as improbable, because according to the clear text of the Qur&an, this Ummah is the best and most honoured of all nations. Therefore, it is inconceivable that the foremost believers from earlier nations should be more numerous than those of this Ummah. The higher rank of this Ummah vis-a-vis the other nations is proved by the express texts of the Holy Qur&an. The Qur&anic verse [ 3:110] reads: كُنتُمْ خَيْرَ أُمَّةٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ |"You are the best Ummah raised for the good of mankind...|".Verse [ 3:110] reads: لِّتَكُونُوا شُهَدَاءَ عَلَى النَّاسِ وَيَكُونَ الرَّسُولُ عَلَيْكُمْ شَهِيدًا |"...so that you should be witnesses over the people, and the Messenger a witness to you.|" Tirmidhi, Ibn Majah and Darimi have recorded a narration on the authority of Sayyidna Bahz Ibn Hakim (رض) in which the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) is reported to have said: اَنتُم تُتِمُّونَ سَبعِینَ اُمّۃً اَنتُم اَخِیرُھا وَ اَکرَمُھَا عَلَی اللہِ تَعَلٰی |"You are complement to the seventy nations of the days of yore. You are the choicest one and the most honourable one in the sight of Allah.|" Imam Bukhari (رح) narrates a Tradition on the authority of Sayyidna ` Abdullah Ibn Mas` ud (رض) in which the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) is reported to have said: |"Will it please you if you are a quarter of the inmates of Paradise?|" The Companions replied: |"Yes, indeed, it would please us.|" The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said: وَالَّذِی نَفسِی بِیَدَہٖ اِنِّی لَاَرجُو اَن تَکُونُوا نِصفَ اَھلِ الجَنَّۃِ |"By Him in Whose control is my life! I hope that you will comprise a half of the inmates of Paradise.|" (Mazhari) Tirmidhi, Hakim and Baihaqi report on the authority of Sayyidna Buraidah (رض) that the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said: اَھلُ الجَنَّۃَ وَّ عِشرُونَ صَفِّا ثَمَانُونَ مِنھَا مِن ھٰذِہِ الاُمَّۃِ وَ اَربَعُونَ مِن سَایِٔر الاُمَم |"The inmates of Paradise will be ranged in 120 ranks: eighty of them will be from this Ummah, and forty from the rest of the nations.|" (Tirmidhi has rated this tradition as &Hasan& and Hakim as &sahih&.) The ratio between this Ummah and other communities in Paradise is given differently at different times, ranging between one third, one quarter, a half and two-thirds. There is no conflict in the ratios mentioned on different occasions. That was based on the estimation of the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) which has been increasing at different times.
ثُـلَّةٌ مِّنَ الْاَوَّلِيْنَ وَقَلِيْلٌ مِّنَ الْاٰخِرِيْنَ ، لفظ ثلہ بضم ثاء جماعت کو کہتے ہیں اور زمخشری نے کہا کہ بڑی جماعت کو ثلہ کہا جاتا ہے (روح) اولین و آخرین سے کیا مراد ہے : یہاں اولین و آخرین کی تقسیم کا دو جگہ ذکر آیا ہے، اول سابقین مقربین کے سلسلہ میں، دوسرا اصحاب الیمین یعنی عامہ مومنین کے سلسلے میں، پہلی جگہ یعنی سابقین میں تو یہ فرق کیا گیا ہے کہ یہ سابقین مقربین اولین میں سے ثلہ یعنی بڑی جماعت ہوگی اور آخرین میں سے کم ہوں گے، جیسا کہ آیت مذکورہ میں ہے اور دوسری جگہ اصحاب الیمین کے بیان میں اولین و آخرین دونوں میں لفظ ثلہ وارد ہوا ہے، جس کے معنی یہ ہوئے کہ اصحاب یمین اولین میں سے بڑی جماعت ہوگی، اسی طرح آخرین میں سے بھی بڑی جماعت ہوگی (ثُلَّةٌ مِّنَ الْاَوَّلِيْنَ وَثُلَّةٌ مِّنَ الْاٰخِرِيْنَ ) اب قابل غور یہ امر ہے کہ اولین سے مراد کون ہیں اور آخرین سے کون، اس میں حضرات مفسرین کے دو قول ہیں، ایک یہ کہ آدم (علیہ السلام) سے لے کر قرب زمانہ خاتم الانبیاء تک کی تمام مخلوقات اولین میں داخل ہیں اور خاتم الانبیاء (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے لے کر قیامت تک آنے والی مخلوق آخرین میں داخل ہے، یہ تفسیر مجاہد اور حسن بصری سے ابن ابی حاتم نے سند کے ساتھ نقل کی ہے اور ابن جریر نے بھی اسی تفسیر کو اختیار کیا ہے، بیان القرآن کے خلاصہ تفسیر میں بھی اسی کو اختیار کیا گیا ہے، جو اوپر بیان ہوچکا ہے اور اس کی دلیل میں حضرت جابر کی مرفوع حدیث نقل کی ہے، یہ حدیث ابن عساکر نے اپنی سند کے ساتھ اس طرح نقل کی ہے کہ جب پہلی آیت جو سابقین مقربین کے سلسلے میں آئی ہے نازل ہوئی ۉثُلَّةٌ مِّنَ الْاَوَّلِيْنَ وَقَلِيْلٌ مِّنَ الْاٰخِرِيْنَ ، تو حضرت عمر بن خطاب نے عجب کے ساتھ عرض کیا کہ یا رسول اللہ کیا پچھلی امتوں میں سابقین زیادہ ہوں گے اور ہم میں کم ہوں گے ؟ اس کے بعد سال بھر تک اگلی آیت نازل نہیں ہوئی، جب ایک سال کے بعد آیت نازل ہوئی ثُلَّةٌ مِّنَ الْاَوَّلِيْنَ وَثُلَّةٌ مِّنَ الْاٰخِرِيْنَ تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا۔ اسمع یا عمر ما قد انزل اللہ ثلة من الاولین وثلة من الاخرین الا و ان من ادم الی ثلة و امتی ثلة الحدیث (ابن کثیر) |" اے عمر ! سنو ! جو اللہ نے نازل فرمایا کہ اولین میں سے بھی ثلہ یعنی بڑی جماعت ہوگی اور آخرین میں سے بھی ثلہ یعنی بڑی جماعت ہوگی اور یاد رکھو کہ آدم (علیہ السلام) سے مجھ تک ایک ثلہ ہے اور میری امت دوسرا ثلہ |" اور اس مضمون کی تائید اس حدیث سے بھی ہوتی ہے جو امام احمد اور ابن ابی حاتم نے حضرت ابوہریرہ سے روایت کی ہے کہ جب آیت ثُلَّةٌ مِّنَ الْاَوَّلِيْنَ وَقَلِيْلٌ مِّنَ الْاٰخِرِيْنَ نازل ہوئی تو صحابہ کرام پر شاق ہوا کہ ہم بہ نسبت امم سابقہ کے کم رہیں گے، اس وقت دوسری آیت نازل ہوئی، ۉثُلَّةٌ مِّنَ الْاَوَّلِيْنَ وَثُلَّةٌ مِّنَ الْاٰخِرِيْنَ ، اس وقت رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ مجھے امید ہے کہ تم یعنی امت محمدیہ جنت میں ساری مخلوق کے مقابلہ میں چوتھائی، تہائی، بلکہ نصف اہل جنت ہو گے اور باقی نصف میں بھی کچھ تمہارا حصہ ہوگا ، (ابن کثیر) جس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ مجموعی طور پر اہل جنت میں اکثریت امت محمدیہ کی ہوجائے گی، مگر ان دونوں حدیثوں سے استدلال میں ایک اشکال یہ ہے کہ قَلِيْلٌ مِّنَ الْاٰخِرِيْنَ تو سابقین مقربین کے متعلق آیا ہے اور دوسری آیت میں جو ثُلَّةٌ مِّنَ الْاٰخِرِيْنَ آیا ہے وہ سابقین مقربین کے متعلق نہیں بلکہ اصحاب الیمین کے متعلق ہے۔ اس کا جواب روح المعانی میں یہ دیا ہے کہ صحابہ کرام اور حضرت عمر کو جو پہلی آیت سے رنج و غم ہوا، اس کی وجہ یہ ہو سکتی ہے کہ انہوں نے یہ خیال کیا ہوگا کہ جو نسبت سابقین میں ہے وہی شاید اصحاب الیمین اور عام اہل جنت میں ہوگی جس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ کل اہل جنت میں ہماری تعداد بہت کم رہے گی، جب اصحاب الیمین کی تشریح میں اولین و آخرین دونوں میں لفظ ثلتہ نازل ہوا تو اس شبہ کا ازالہ ہوگیا کہ مجموعی اعتبار سے اہل جنت میں امت محمدیہ کی اکثریت رہے گی، اگرچہ سابقین اولین میں ان کی تعداد مجموعہ امم سابقہ کے مقابلہ میں کم رہے خصوصاً اس وجہ سے کہ مجموعہ امم سابق میں ایک بھاری تعداد انبیاء (علیہم السلام) کی ہے، ان کے مقابلہ میں امت محمدیہ کے لوگ کم رہیں تو کوئی غم کی چیز نہیں۔ لیکن ابن کثیر، ابو حیان، قرطبی، روح المعانی، مظہری وغیرہ نے سب تفسیروں میں دوسری تفسیر کو ترجیح دی ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ یہ اولین و آخرین دونوں طبقے اسی امت کے مراد ہیں، اولین اس امت کے قرون اولیٰ یعنی صحابہ وتابعین وغیرہ ہیں، جن کو حدیث میں خیر القرون فرمایا ہے اور آخرین قرون اولیٰ کے بعد والے حضرات ہیں۔ ابن کثیر نے حضرت جابر کی مرفوع حدیث جو پہلی تفسیر کی تائید میں اوپر لکھی گئی ہے، اس کی سند کے متعلق کہا ہے ولکن فی اسنادہ نظر، دوسری تفسیر کے لئے استدلال میں، وہ آیات قرآنی پیش کی ہیں جن میں امت محمدیہ کا خیر الامم ہونا مذکور ہے جیسے کنتم خیر امۃ وغیرہ اور فرمایا کہ یہ بات بہت مستبعد ہے کہ سابقین مقربین کی تعداد خیر الامم میں دوسری امتوں کی نسبت سے کم ہو، اس لئے راج یہ ہے کہ ثـلَّةٌ مِّنَ الْاَوَّلِيْنَ سے مراد اسی امت کے قرون اولیٰ ہیں، اور قَلِيْلٌ مِّنَ الْاٰخِرِيْنَ سے مراد بعد کے لوگ ہیں کہ ان میں مسابقین مقربین کی تعداد کم ہوگی۔ اس قول کی تائید میں ابن کثیر نے حضرت حسن بصری کا قول بروایت ابن ابی حاتم یہ پیش کیا ہے کہ حضرت حسن نے یہ آیت السابقون السابقون تلاوت کر کے فرمایا کہ سابقین تو ہم سے پہلے گزر چکے، لیکن یا اللہ ہمیں اصحاب الیمین میں داخل فرما دیجئے اور حضرت حسن سے دوسری روایت میں یہ الفاظ بھی نقل کئے ہیں کہ ثلتہ من الاولین کی تفسیر میں فرمایا ثلتہ ممن مضے من ہذہ الامۃ یعنی اولین سے مراد اسی امت کے سابقین ہیں۔ اسی طرح محمد بن سیرین نے فرمایا کہ ثـلَّةٌ مِّنَ الْاَوَّلِيْنَ وَقَلِيْلٌ مِّنَ الْاٰخِرِيْنَ کے متعلق علماء یہ کہتے اور توقع کرتے تھے کہ یہ اولین و آخرین سب اسی امت میں سے ہوں (ابن کثیر) اور روح المعانی میں اس دوسری تفسیر کی تائید میں ایک حدیث مرفوع بسند حسن حضرت ابوبکرہ کی روایت سے یہ نقل کی ہے :۔ اخرج مسدد فی مسندہ وابن المنذر و الطبرانی و ابن مردویہ بسند حسن عن ابی بکرة عن النبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فی قولہ سبحانہ ثلة من الاولین و ثلة من الاخرین قال ھما جمیعا من ھذہ الامة |" مسدد نے اپنی مسند میں اور ابن المنذر، طبرانی اور ابن مردویہ نے سند حسن کے ساتھ حضرت ابوبکرہ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے آیت ۉثُلَّةٌ مِّنَ الْاَوَّلِيْنَ وَثُلَّةٌ مِّنَ الْاٰخِرِيْنَ کی تفسیر میں فرمایا کہ یہ دونوں جماعتیں اسی امت محمدیہ میں سے ہوں گی |" اور حضرت ابن عباس سے بھی سند ضعیف کے ساتھ حدیث مرفوع بہت سے حضرات محدثین نے نقل کی ہے، جس کے الفاظ یہ ہیں ھما جمیعا من امتی، یعنی یہ دونوں اولین و آخرین میری ہی امت میں سے ہوں گے۔ اس تفسیر کے مطابق شروع آیت میں كُنْتُمْ اَزْوَاجًا ثَلٰثَةً کا مخاطب امت محمدیہ ہی ہوگی اور یہ تینوں قسمیں امت محمدیہ ہی کی ہوں گی (روح المعانی ) تفسیر مظہری میں پہلی تفسیر کو اس لئے بہت بعید قرار دیا ہے کہ آیات قرآن کی واضح دلالت اس پر ہے کہ امت محمدیہ تمام امم سابقہ سے افضل ہے اور ظاہر یہ ہے کہ کسی امت کی فضیلت اس کے اندر اعلیٰ طبقہ کی زیادہ تعداد ہی سے ہوتی ہے، اس لئے یہ بات بعید ہے کہ افضل الامم کے اندر سابقین مقربین کی تعداد کم ہو آیات قرآن کنتم خیر امة اخرجت للناس اور لتکونوا شھدآء علی الناس ویکون الرسول علیکم شھیدا سے امت محمدیہ کی افضلیت سب امتوں پر ثابت ہے۔ اور ترمذی، ابن ماجہ و دارمی نے حضرت بہز بن حکیم سے روایت کیا ہے اور ترمذی نے اس کی سند کو حسن قرار دیا ہے۔ حدیث کے الفاظ یہ ہیں :۔ انتم تتمون سبعین امة انتم اخیرھا واکرمھا علی اللہ تعالیٰ |" تم ستر سابقہ امتوں کا تتمہ ہوگے جن میں تم سب سے آخر میں اور اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے زیادہ اکرم و افضل ہو گے |" اور امام بخاری نے حضرت عبداللہ بن مسعود سے روایت کیا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ کیا تم اس پر راضی ہو کہ اہل جنت کے چوتھائی تم لوگ ہوجاؤ گے، ہم نے عرض کیا کہ بیشک ہم اس پر راضی ہیں تو آپ نے فرمایا : والذی نفسی بیدہ انی لارجو ان تکونوا نصف اہل الجنة (از مظہری ) |" قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ میں میری جان ہے مجھے یہ امید ہے کہ تم (یعنی امت محمدیہ) اہل جنت کے نصف ہو گے |" اور ترمذی، حاکم و بیہقی نے حضرت بریدہ سے روایت کیا ہے اور ترمذی نے اس کی سند کو حسن اور حاکم نے صحیح کہا ہے، الفاظ حدیث کے یہ ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا :۔ اہل الجنتہ مائة وعشرون صفا ثمانون منہا من ھذہ الامۃ و اربعون من سائر الامم (مظہری) |" اہل جنت کل ایک سو بیس صفوں میں ہوں گے جن میں سے اسی صفیں اس امت کی ہوں گی باقی چالیس صفوں میں ساری امتیں شریک ہوں |" مذکور الصدر روایات میں اس امت کے اہل جنت کی نسبت دوسری امتوں کے اہل جنت سے کہیں چوتھائی کہیں نصف اور اس آخری روایت میں دو تہائی مذکور ہے، اس میں کوئی تعارض اس لئے نہیں کہ یہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا اندازہ بیان کیا گیا ہے اس اندازہ میں مختلف اوقات میں زیادتی ہوتی رہی۔ واللہ اعلم
ثُـلَّۃٌ مِّنَ الْاَوَّلِيْنَ ١٣ ۙ وَقَلِيْلٌ مِّنَ الْاٰخِرِيْنَ ١٤ ۭ قل القِلَّةُ والکثرة يستعملان في الأعداد، كما أنّ العظم والصّغر يستعملان في الأجسام، ثم يستعار کلّ واحد من الکثرة والعظم، ومن القلّة والصّغر للآخر . وقوله تعالی: ثُمَّ لا يُجاوِرُونَكَ فِيها إِلَّا قَلِيلًا[ الأحزاب/ 60] ( ق ل ل ) القلۃ والکثرۃ بلحاظ اصل وضع کے صفات عدد سے ہیں جیسا کہ عظم اور صغر صفات اجسام سے ہیں بعد کثرت وقلت اور عظم وصغڑ میں سے ہر ایک دوسرے کی جگہ بطور استعارہ استعمال ہونے لگا ہے اور آیت کریمہ ؛ثُمَّ لا يُجاوِرُونَكَ فِيها إِلَّا قَلِيلًا[ الأحزاب/ 60] پھر وہاں تمہارے پڑوس میں نہیں رہ سکیں گے مگر تھوڑے دن ۔ میں قلیلا سے عرصہ قلیل مراد ہے ۔
(١٣۔ ١٤) اور وہ لوگ اللہ تعالیٰ کے ساتھ خاص قرب رکھنے والے ہیں۔ ان مقربین کا ایک بڑا گروہ تو اگلی امتوں میں سے ہوگا اور تھوڑے پچھلے لوگوں میں سے ہوں گے یعنی رسول اکرم کی امت میں سے اور کہا گیا ہے کہ یہ دونوں گروہ رسول اللہ کی امت میں سے ہوں گے۔ جس وقت یہ آیت مبارکہ نازل ہوئی تو رسول اکرم اور صحابہ کرام اس آیت کے نزول کی وجہ سے غمگین ہوئے یہاں تک کہ یہ آیت نازل ہوئی : ثُـلَّةٌ مِّنَ الْاَوَّلِيْنَ ۔ وَقَلِيْلٌ مِّنَ الْاٰخِرِيْنَ ۔ شان نزول : ثُـلَّةٌ مِّنَ الْاَوَّلِيْنَ ۔ وَقَلِيْلٌ مِّنَ الْاٰخِرِيْنَ (الخ) امام احمد بن منذر اور ابن ابی حاتم نے سند غیر معروف کے ساتھ ابوہریرہ سے روایت کیا ہے کہ جس وقت یہ آیت نازل ہوئی ُـلَّةٌ مِّنَ الْاَوَّلِيْنَ ۔ وَقَلِيْلٌ مِّنَ الْاٰخِرِيْنَ تو یہ چیز صحابہ کرام پر گراں گزری اس وقت یہ آیت نازل ہوئی ُـلَّةٌ مِّنَ الْاَوَّلِيْنَ ۔ وَقَلِيْلٌ مِّنَ الْاٰخِرِيْنَ ۔ ابن عساکر نے تاریخ دمشق میں ایسی سند کے ساتھ جس میں نظر ہے بطریق عروہ بن رویم جابر بن عبداللہ سے روایت کیا ہے کہ جس وقت سورة واقعہ نازل ہوئی اور اس میں ـلَّةٌ مِّنَ الْاَوَّلِيْنَ ۔ وَقَلِيْلٌ مِّنَ الْاٰخِرِيْنَ ۔ یہ آیت نازل ہوئی تو حضرت عمر فاروق نے عرض کیا یا رسول اللہ ایک بڑا گروہ اگلوں میں سے اور تھوڑا سا ہم میں سے تو اس پر سورت کا آخری حصہ ایک سال تک رکا رہا تب یہ آیت نازل ہوئی۔ ُـلَّةٌ مِّنَ الْاَوَّلِيْنَ ۔ وَقَلِيْلٌ مِّنَ الْاٰخِرِيْنَ ۔ تب رسول اکرم نے فرمایا عمر آؤ اور جو اللہ تعالیٰ نے نازل کیا ہے اسے سنو یعنی ـلَّةٌ مِّنَ الْاَوَّلِيْنَ ۔ وَقَلِيْلٌ مِّنَ الْاٰخِرِيْنَ ۔ اور ابن ابی حاتم نے عروہ بن رویم سے مرسلا اور سعید بن منصور نے اپنی سنن میں اور بیہقی نے بعث میں عطاء و مجاہد سے روایت نقل کی ہے۔ کہ جب اہل طائف نے اس وادی کی درخواست کی جو کہ ان کے لیے تیار کی جائے اور اس میں شہد ہو، چناچہ ایسا ہی ہوا اور وہ بہت اچھی وادی تھی تو لوگوں کو کہتے ہوئے سنا کہ جنت میں ایسی ایسی چیزیں ہیں اس پر اور لوگوں نے کہا کاش جنت میں ہمارے لیے اس وادی کی طرح وادی ہو، اس پر یہ آیت نازل ہوئی یعنی اور جو دائیں والے ہیں وہ دائیں والے کچھ اچھے ہیں۔ اور امام بیہقی نے دوسرے طریق سے مجاہد سے روایت کیا ہے کہ لوگ وادی بوج اور اس کے سایہ اور اس کے کیلوں اور بیروں پر تعجب کیا کرتے تھے اس پر یہ آیت نازل ہوئی اور جو داہنے والے ہیں۔ (الخ)
آیت ١٣{ ثُـلَّـۃٌ مِّنَ الْاَوَّلِیْنَ ۔ } ” یہ بڑی تعداد میں ہوں گے پہلوں میں سے۔ “
١٣۔ ٢٦۔ یہ مقربین کی تفصیل ہے کہ وہ پہلے لوگوں میں بہت ہیں اور پچھلوں میں تھوڑے۔ اس میں مفسرین کا اختلاف ہے ٤ ؎ کہ پہلوں سے مراد حضرت آدم (علیہ السلام) سے آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تک کے لوگ ہیں یا اسی امت کے پہلے لوگ۔ اکثر سلف کا یہی قول ہے کہ اولین و آخرین اسی امت کے پہلے اور پچھلے لوگوں کو فرمایا ہے آیت کنتم خیرا مۃ سے اور اسی مضمون کی بہز بن حکیم کی اس حدیث سے جس کو ترمذی ١ ؎ ابن ماجہ اور دارمی نے روایت کیا ہے اس قول کی پوری تائید ہوتی ہے کیونکہ جب یہ امت اور امتوں سے بہتر ہے تو یہ نہیں ہوسکتا کہ مقربین کی تعداد بہ نسبت اس امت کے اور امتوں میں زیادہ ہو۔ بہزبن حکم کی حدیث کو ترمذی نے حسن کہا ہے یہ بہزبن حکیم بن معاویہ اپنے باپ اور دادا سے روایت کرتے ہیں اگرچہ صحیح بخاری و مسلم میں ان کی کوئی روایت نہیں ہے لیکن ابن عدی نے اس سند کو قابل اعتبار ٹھہرایا ہے۔ مقربین کی جنت میں ساز و سامان یہ ہوگا کہ سونے کے تاروں کے بنے ہوئے تختوں پر ٹکیہ لگائے آمنے سامنے بیٹھے ہوں گے۔ نو عمر خوبصورت خادم پانی کے آبخورے شراب کے جام ‘ طرح طرح کے میوے کے طباق اور کباب کی رکابیاں لئے ہوئے حاضر ہوں گے۔ شراب وہ ہوگی کہ جس سے دنیا کی طرح نہ سر میں درد ہوگا نہ حواس میں کچھ فتور پڑے گا آبدار موتی کی صورت حوریں ہم نشینی کے لئے موجود ہوں گی۔ مخلدون کا یہ مطلب ہے کہ وہ نو عمر خادم ہمیشہ نو عمری کی حالت پر رہیں گے۔ صحیح قول یہی ہے کہ وہ و عمر لڑکے حوروں کی طرح جنت میں جدا پیدا کئے گئے ہیں اولاد آدم میں سے نہیں ہیں پھر یہ فرمایا کہ جنتی لوگ آپس میں سلام علیک جو کریں گے اسی کی آواز چاروں طرف سے آئے گی اور کسی طرح کی ایسی بےہودہ کوئی بات چیت نہ ہوگی جس سے جنت کے عیش میں کچھ خلل پڑے۔ سورة رحمن میں گزر چکا ہے کہ مقربین کی جنت کی منزلیں بھی بلند ہوں گی اور ان کا ساز و سامان بھی اعلیٰ درجہ کا ہوگا۔ (٤ ؎ دیکھئے تفسیر ابن کثیر ص ٢٨٤ ج ٤۔ ) (١ ؎ جامع ترمذی تفسیر سورة آل عمران ص ٤٦ ١ ج ٢۔ )
(56:13) ثلۃ : ابنوہ کثیر۔ بڑی جماعت۔ اصل میں ثلۃ لغت میں اون کے گھ بےکو کہتے ہیں کثرت اجتماع کی مناسبت سے انبوہ کثیر کے لئے بھی ثلثۃ کا استعمال ہوتا ہے ۔ اولین : اول کی جمع ہے۔ اگلے ۔ پہلے، اس سے کون مراد ہیں ؟ اس کے متعلق مختلف اقوال ہیں۔ اکثر اہل تفسیر کا قول ہے کہ : ثلۃ من الاولین سے مراد وہ تمام امتیں ہیں جو حضرت آدم (علیہ السلام) سے لے کر حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے عہد نبوت تک گزریں۔ اور قلیل من الاخرین سے مراد امت محمدیہ علی صاحبہا الصلوٰۃ والسلام ہے۔ بعض کے نزدیک اولین سے مراد صدر اول کے مسلمان یعنی تینوں قرون ، صحابہ کرام ، تابعین، تبع تابعین، (رض) تفسیر حقانی میں ہے :۔ ابن سیر کا قول ہے کہ ثلۃ من الاولین (آیت 13) وقلیل من الاخرین (آیت 14) میں اسی امت خیر الامم کے اولین و آخرین مراد ہیں۔ کہ اس کے اولین یعنی خیر القرون کے لوگوں میں سابقین بہت ہیں اور پچھلوں میں جو خیر القرون کے بعد کا زمانہ ہے ان میں کم۔ (رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا فرمان ہے میری امت کا بہترین قرن میرا قرن ہے پھر وہ لوگ ہیں جو میرے قرن والوں کے متصل ہیں۔ پھر وہ لوگ جو قرن دوم کے متصل ہیں۔۔ الخ۔ ثلۃ مبتداء قلیل معطوف (جس کا عطف ثلۃ پر ہے) علی سور اس کی خبر ہے۔
ثلة ............ الاخرین (٦ 5:4 ١) ” اگلوں میں سے بہت ہوں گے اور پچھلوں میں سے کم “ یہ محدود تعداد کے لوگ ہوں گے۔ نہایت پاک لوگ ، اگلوں میں سے یہ زیادہ ہوں گے۔ روایات میں اختلاف ہے کہ یہ لوگ کون ہیں۔ پہلا قول یہ ہے کہ وہ ایمان کی طرف لپکنے والے عالی مقام لوگ ہیں جو اسلام سے پہلے کی امتوں میں سے کسی نبی کی دعوت پر پہلے آئے اور آخرین وہ ہوں جو اسلام کی طرف پہلے لپکے اور جنہوں نے اسلام کی راہ میں آزمائش برداشت کیں۔ دوسرا قول یہ ہے کہ یہ اولین اور آخرین امت محمدیہ میں سے ہیں۔ پس اولین صدر اول کے لوگ ہیں اور آخرین بعد کے ادوار میں آنے والے لوگ ہیں۔ اس قول کو علامہ ابن کثیر نے ترجیح دی ہے۔ حسن اور ابن سیرین سے بھی اس کی ترجیح کے سلسلے میں روایات نقل کی ہیں۔ ابو حاتم نے روایت کی ہے ، حسن ابن محمد ابن صباح سے انہوں نے عفان سے انہوں نے عبداللہ ابن بکر الزنی سے کہ میں نے سنا کہ حسن جب اس آیت ۔ والسبقون السبقون (٠١) اولئک المقربون (٦ 5: ١١) ” اور اگے والے تو پھر آگے والے ہی ہیں وہی تو مقرب لوگ ہیں تلاوت کی تو انہوں نے کہا کہ سابقون تو اس جہاں سے چلے گئے ، اے اللہ میں اصحاب الیمین سے بنا دے۔ اس کے بعد انہوں نے روایت کی ، اپنے والد سے ، انہوں نے ابو الولید سے ، انہوں نے السری ابن یحییٰ سے ، کہ حسن نے پڑھا۔ والسبقون ................ الاولین (٦ 5: ٣١) تو انہوں نے فرمایا زیادہ تر وہ لوگ جو اس دنیا سے چلے گئے ہیں اور روایت کی میرے سامنے میرے والد نے ، عبدالعزیز سے ، انہوں نے ابن مغیرہالمنقری سے ، انہوں نے ابوہلال سے ، انہوں نے محمد ابن سیرین سے کہ انہوں نے آیت۔ ثلة من ............ الاخرین (٦ 5:4 ١) ” اگلوں سے بہت اور پچھلوں سے قلیل “ وہ کہتے تھے (یا یہ امید رکھتے تھے) کہ وہ سب اس امت سے ہوں گے۔ یہ تفصیلات دینے کے بعد کہ یہ لوگ کون ہوں گے ، اب ان نعمتوں کی تفصیلات دی جارہی ہیں جو جنتوں میں ان کے لئے تیار ہیں اور اللہ نے ان کو اس شکل میں دیا ہے جس میں یہ سوچ بھی سکیں اور سمجھ بھی سکیں اور لطف اندوز بھی ہوسکیں اور ان نعمتوں کے علاوہ وہاں اور نعمتیں بھی ہوں گی جن کے ادراک اور استعمال کے لئے اس وقت وہ تیار ہوں گے اور وہ ایسی نعمتیں ہیں جو کسی آنکھ نے نہیں دیکھیں ، کسی کان نے نہیں سنیں اور کسی انسان کے دل میں ان کا تصور ہی نہیں آیا۔
7:۔ ” ثلۃ من الاولین۔ الایۃ “ ثلۃ، کثیرۃ یعنی بکثرت۔ یہ مبتدا محذوف کی خبر ہے۔ خبر مبتدا محذوف ای ھم ثلۃ (مظہری ج 9 ص 167) ۔ ای ھم ثلہ والثلۃ الامۃ من الناس کثیرہ (مدارک ج 4 ص 163) ۔ اولین سے مراد امت محمدیہ کے اولین اور آخرین سے امت محمدیہ کے آخرین مراد ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ امت محمدیہ سے جو لوگ سابقین کا رتبہ پائیں گے وہ اکثر اور زیادہ تر صدر اول کے مومنین (صحابہ، تابعین اور اتباع تابعین (رض) ہوں گے اور بعد والوں میں یہ رتبہ پانے والے تھوڑے ہوں گے کیونکہ یہ مرتبہ کامل اتباع سے ملتا ہے اور کمال اتباع صدر اول ہی میں تھا اور اس کے بعد مرور ایام کے ساتھ ساتھ اتباع میں ضعف آتا چلا گیا لیکن اس کے باوجود بعد کے کچھ لوگوں کو بھی اللہ تعالیٰ اتباع کامل کی توفیق عطا فرمائے گا اور وہ سابقین میں شامل ہوں گے۔ فالقول الثانی فی ھذا المقام ھو الراجح وھو ان یکون المرد بقولہ تعالیٰ (ثلہ من الاولین) ای من صدر ھذہ الامۃ (و قلیل من الاخرین) ای من ذہ الامۃ (ابن کثیر ج 4 ص 284) ۔ یعنی من الصدر الاول من ھذہ الامۃ وھم القرون الثلاثۃ الصحابۃ والتابعین واتباعہم قال رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) خیر امتی قرنی ثم الذین یلونھم ثم الذین یلونہم الخ (مظہری ج 9 ص 167) ۔