Surat ul Waqiya
Surah: 56
Verse: 15
سورة الواقعة
عَلٰی سُرُرٍ مَّوۡضُوۡنَۃٍ ﴿ۙ۱۵﴾
On thrones woven [with ornament],
یہ لوگ سونے کے تاروں سے بنے ہوئے تختوں پر ۔
عَلٰی سُرُرٍ مَّوۡضُوۡنَۃٍ ﴿ۙ۱۵﴾
On thrones woven [with ornament],
یہ لوگ سونے کے تاروں سے بنے ہوئے تختوں پر ۔
on Thrones, Mawdunah. Ibn Abbas said, "Woven with gold." Similar was reported from Mujahid, Ikrimah, Sa`id bin Jubayr, Zayd bin Aslam, Qatadah, Ad-Dahhak and others. Allah said, مُتَّكِيِينَ عَلَيْهَا مُتَقَابِلِينَ
[٩] مَوْضُوْنَۃٍ ۔ وَضَنٌ کے اصل معنی زرہ بافی کے ہیں اور استعارۃً کسی چیز کو مضبوطی کے ساتھ بننے پر بولا جاتا ہے اور مَوْضُوْنٌ یا مَوْضُوْنَۃٌ یعنی باریک بنی ہوئی یا سونے کے تاروں سے بنی ہوئی چیز۔
عَلٰی سُرُرٍ مَّوْضُوْنَۃٍ :” سرر “ ” سریر “ کی جمع ہے ، جس کا معنی تخت بھی ہے اور چار پائی بھی اور ” وضنن بضن وضنا “ ( ض) بننا ، مضبوطی اور باریکی سے بننا ، سونے اور جواہر کے ساتھ بننا ۔ طبری نے مجاہد کے طریق سے صحیح سند کے ساتھ ابن عباس (رض) کا قول ذکر فرمایا ہے :” مرمولۃ بالذھب ، ای منسوجۃ بالذھب “ یعنی سونے کے تاروں کے ساتھ بنے ہوئے “۔
The reward of As-Sabiqun عَلَىٰ سُرُرٍ مَّوْضُونَةٍ ([ They will be sitting ] on thrones woven with gold...56:15) The word مَّوْضُونَةٍ mawdunah, according to Ibn ` Abbas (رض) ، as recorded by Ibn Jarir, Ibn Abi Hatim, Baihaqi and others, means &fabric woven or inwrought with gold thread&. وِلْدَانٌ مُّخَلَّدُونَ (...by Immortal boys...56:17) meaning that the boys will never grow up, get old or change in shape. The preferred opinion is that the youths of Paradise, like the fair damsels of Paradise, will have been born in Paradise. They will be the servants of the inmates of Paradise. Hadith narratives indicate that there will be thousands of such servants for each of the inmates of Paradise.
عَلٰي سُرُرٍ مَّوْضُوْنَةٍ ، موضونۃ کے متعلق حضرت ابن عباس سے ابن جریر، ابن ابی حاتم اور بیہقی وغیرہ نے یہ نقل کیا ہے کہ وہ کپڑا جس پر سونے کے تاروں سے کام بنایا گیا ہو۔ وِلْدَانٌ مُّخَلَّدُوْنَ سے مراد یہ ہے کہ یہ لڑکے ہمیشہ اسی حالت میں لڑکے ہی رہیں گے، ان میں کوئی تغیر عمر وغیرہ کا نہ ہوگا، ان جنت کے غلمان کے متعلق راجح تحقیق یہ ہے کہ حوروں کی طرح یہ بھی جنت ہی میں پیدا ہوئے ہوں گے اور یہ سب اہل جنت کے خادم ہوں گے، روایات حدیث سے ثابت ہے کہ ایک ایک جنتی کے پاس ہزاروں خادم ہوں گے (مظہری )
عَلٰي سُرُرٍ مَّوْضُوْنَۃٍ ١٥ ۙ سَّرِيرُ : الذي يجلس عليه من السّرور، إذ کان ذلک لأولي النّعمة، وجمعه أَسِرَّةٌ ، وسُرُرٌ ، قال تعالی: مُتَّكِئِينَ عَلى سُرُرٍ مَصْفُوفَةٍ [ الطور/ 20] ، فِيها سُرُرٌ مَرْفُوعَةٌ [ الغاشية/ 13] ، وَلِبُيُوتِهِمْ أَبْواباً وَسُرُراً عَلَيْها يَتَّكِؤُنَ [ الزخرف/ 34] ، وسَرِيرُ الميّت تشبيها به في الصّورة، وللتّفاؤل بالسّرور الذي يلحق الميّت برجوعه إلى جوار اللہ تعالی، وخلاصه من سجنه المشار إليه بقوله صلّى اللہ عليه وسلم : «الدّنيا سجن المؤمن» «1» . السریر ( تخت ) وہ جس کی ( ٹھاٹھ سے ) بیٹھا جاتا ہے یہ سرور سے مشتق ہے کیونکہ خوشحال لوگ ہی اس پر بیٹھتے ہیں اس کی جمع اسرۃ اور سرر آتی ہے ۔ قرآن نے اہل جنت کے متعلق فرمایا : مُتَّكِئِينَ عَلى سُرُرٍ مَصْفُوفَةٍ [ الطور/ 20] تختوں پر جو برابر بچھے ہوئے ہیں تکیہ لگائے ہوئے ۔ فِيها سُرُرٌ مَرْفُوعَةٌ [ الغاشية/ 13] وہاں تخت ہوں گے اونچے بچھے ہوئے ۔ وَلِبُيُوتِهِمْ أَبْواباً وَسُرُراً عَلَيْها يَتَّكِؤُنَ [ الزخرف/ 34] اور ان کے گھروں کے دروازے بھی ( چاندی بنادئیے ) اور تخت بھی جن پر تکیہ لگاتے ۔ اور میت کے جنازہ کو اگر سریر المیت کہاجاتا ہے تو یہ سریر ( تخت) کے ساتھ صوری شابہت کی وجہ سے ہے ۔ یا نیک شگون کے طور پر کہ مرنے والا دنیا کے قید خانہ سے رہائی پاکر جوار الہی میں خوش وخرم ہے جس کی طرف کہ آنحضرت نے اشارہ کرتے ہوئے فرمایا : الدنیا سجن المومن کہ مومن کو دنیا قید خانہ معلوم ہوتی ہے ۔ وضن الوَضْنُ : نسج الدّرع، ويستعار لكلّ نسج محکم . قال تعالی: عَلى سُرُرٍ مَوْضُونَةٍ [ الواقعة/ 15] ومنه : الوَضِينُ ، وهو حزام الرّحل، وجمعه : وُضُنٌ. ( وض ن ) الوضن : اس کے اصل معنی زرہ بافی کے ہیں اور استعارہ کسی چیز کو مضبوطی کے ساتھ بننے پر بولا جاتا ہے ۔ چناچہ قرآن پاک میں ہے ۔ عَلى سُرُرٍ مَوْضُونَةٍ [ الواقعة/ 15] جواہرات سے مرصع پلنگوں پر اور اسی سے وضین الناقۃ ہے جس کے معنی حزام یعنی پالان کسنے کی رسی کے ہیں اس کی جمع وضعن ہے ۔
(١٥۔ ١٦) او وہ مقرب لوگ سونے اور چاندی کے تاروں سے بنے ہوئے تختوں پر جن پر موتی اور یاقوت جڑے ہوئے ہوں گے تکیہ لگائے آمنے سامنے خوشی کے ساتھ بیٹھے ہوں گے۔
آیت ١٥ ‘ ١٦{ عَلٰی سُرُرٍ مَّوْضُوْنَۃٍ - مُّتَّکِئِیْنَ عَلَیْہَا مُتَقٰبِلِیْنَ ۔ } ” جڑائو تختوں پر ‘ ٹیک لگائے بیٹھے ہوں گے آمنے سامنے۔ “
(56:15) سرر جمع ہے۔ سریر کی ، بمعنی تخت ، چارپائی۔ پلنگ وغیرہ موصوف۔ مرضونۃ صفت، اسم مفعول کا صیغہ مؤنث، وضن (باب ضرب) مصدر سے سونے کے پتروں اور تاروں سے بنے ہوئے ۔ جڑاؤ۔ (محلی) زرہ کی کڑیوں کی طرح بنے ہوئے (بغوی) قطار در قطار رکھے ہوئے (ضحاک) ۔ سونے کے تاروں سے گھنی بناوٹ والے۔ جواہرات سے جڑے ہوئے (عام اہل تفسیر)
فہم القرآن ربط کلام : نیکیوں میں سبقت کرنے والوں کا صلہ۔ نیکیوں میں سبقت کرنے والے جنتی ہیرے جواہرات سے مزین تختوں پر ٹیک لگائے ایک دوسرے کے سامنے تشریف فرما ہوں گے۔ ان کی خدمت کرنے کے لیے چھوٹی عمر کے خدام ہوں گے جو ہمیشہ ایک ہی عمر میں رہیں گے جو جنتی کے آگے پیچھے پھریں گے، معصوم اور پیارے پیارے خدام جنتی کے سامنے شراب کے جام پیش کریں گے۔ جس شراب سے نہ سرچکرائے گا نہ ہی دماغ میں کوئی فتور پیدا ہوگا۔ جنتی کو کھانے کے لیے ان پرندوں کا گوشت پیش کیا جائے گا جس کا وہ پسند فرمائیں گے اور پھلوں میں جس پھل کی چاہت کریں گے وہ ان کے حضور پیش کیے جائیں گے۔ شرمیلی اور موٹی موٹی آنکھوں والی حوریں ہوں گی جن کے چہرے اور وجود اس طرح روشن ہوں گے جس طرح چمکدار موتی ہوتے ہیں۔ یہ جنتی کے اعمال کی جزا ہوگی۔ سورۃ الرحمن کی آیت باسٹھ میں ہر جنتی کے لیے دو جنتوں کا ذکر کیا گیا ہے جن کے بارے میں مفسرین کا خیال ہے کہ ایک جنت میں جنتی کے اہل و عیال رہیں گے اور دوسری جنت میں جنتی اپنے دوست و احباب کے ساتھ ایک دوسرے کے سامنے بیٹھ کر خوش گپیاں کیا کریں گے۔ سورۃ الرحمن میں دونوں جنتوں کی نعمتوں کا الگ الگ ذکر کیا گیا ہے اور حوروں کو یاقوت اور مرجان کے ساتھ تشبیہ دیتے ہوئے فرمایا ہے کہ نیکی کا بدلہ نیکی ہی ہوسکتا ہے۔ (الرحمن : ٦٠) جنتی میں جنت کسی قسم کی بےہودہ بات اور گالی گلوچ نہیں سنیں گے۔ ان کا آپس میں کلام سلام دعا ہوگا۔ دنیا میں کئی مرتبہ نیک آدمی کو ایسے ماحول سے واسطہ پڑتا ہے کہ جہاں لغویات کا ماحول ہوتا ہے، صالح اور پاکیزہ طبیعت کے مومن کے لیے یہ ماحول بڑا ہی اذّیت ناک ہوتا ہے مگر کسی مجبوری کی وجہ سے اسے یہ ماحول برداشت کرنا پڑتا ہے۔ جنت کی خوبیوں میں ایک خوبی یہ بھی ہوگی کہ وہاں اس قسم کی بےہودگی کا تصور نہیں پایا جائے گا۔ جنتی جہاں رہیں اور جہاں جائیں گے ہر جگہ ان کے لیے سلامتی ہی سلامتی ہوگی ان کے گھروں اور دوست و احباب کا ماحول اتنا پاک اور بابرکت ہوگا جس میں ایک دوسرے کے لیے خیرخواہی، محبت اور پیار کے سوا کوئی اور بات نہیں ہوگی۔ جنتی ایک دوسرے کو سلامتی کی دعائیں اور مبارک دیں گے۔ (وَعَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ (رض) اَنَّ النَّبِیَّ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کَانَ یَتَحَدَّثُ ‘ وَعِنْدَہٗ رَجُلٌ مِّنْ اَھْلِ الْبَادِیَۃِ ‘ اِنَّ رَجُلًا مِّنْ اَھْلِالْجَنَّۃِ اسْتَأذَنَ رَبَّہٗ فِیْ الزَّرْعِ فَقَالَ لَہٗ اَلَسْتَ فِیْمَا شِءْتَ قَالَ بَلٰی وَلٰکِنِّیْ اُحِبُّ اَنْ اَزْرَعَ فَبَذَرَ فَبَادَ رَالطَّرْفَ نَبَاتُہٗ وَاسْتِوَاءُ ہٗ وَاسْتِحْصَادُہٗ فَکَانَ اَمْثَالَ الْجِبَالِ فَیَقُوْلُ اللّٰہُ تَعَالٰی دُوْنَکَ یَابْنَ اٰدَمَ فَاِنَّہٗ لَایُشْبِعُکَ شَیْءٌ فَقَالَ الْاَعْرَابِیُّ وَاللّٰہِ لَاتَجِدُہُ اِلَّا قُرَشِیًا اَوْ اَنْصَارِیًّافَاِنَّھُمْ اَصْحاَبُ زَرْعٍ وَاَمَّا نَحْنُ فَلَسْنَا بِاَصْحَابِ زَرْعٍٍٍ فَضَحِکَ رَسُوْلُ اللّٰہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) (رواہ البخاری : باب کلاَمِ الرَّبِّ مَعَ أَہْلِ الْجَنَّۃِ ) حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی گرامی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس ایک دیہاتی بیٹھا ہوا تھا اور آپ فرما رہے تھے کہ جنتیوں میں سے ایک بندے نے اپنے رب سے کھیتی باڑی کی اجازت مانگی اللہ رب العزت نے فرمایا۔ کیا تیرے پاس تیری پسند کی ہر چیز نہیں ہے ؟ اس دیہاتی نے کہا کیوں نہیں ؟ لیکن مجھے یہ پسند ہے کہ میں کھیتی باڑی کروں چناچہ وہ بیج ڈالے گا۔ پلک جھپکتے ہی فصل اگ آئے گی کھیتی بڑی ہوجائے گی، اور کٹ جائے گی، پہاڑ کے برابر انبار لگ جائے گا اللہ تعالیٰ فرمائیں گے کہ اے ابن آدم ! لے تیری خواہش پو ری ہوگئی۔ حقیقتاً تیرا پیٹ کوئی چیز نہیں بھر سکتی۔ دیہاتی کہنے لگا، اللہ کی قسم ! وہ شخص قریشی یا انصاری ہوگا کیونکہ وہی لوگ کھیتی باڑی کرتے ہیں۔ جہاں تک ہمارا تعلق ہے ہم تو کھیتی باڑی کرنے والے نہیں۔ اس پر نبی مکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مسکرادیے۔ مسائل ١۔ جنتی ہیرے جواہرات سے مزین تختوں پر بیٹھے ہوئے ایک دوسرے کے سامنے تشریف فرما ہوں گے۔ ٢۔ جنتی کی خدمت کرنے کے لیے معصوم اور پیارے پیارے چھوٹی عمر کے نوجوان ہوں گے جو ہمیشہ ان کی خدمت میں رہیں گے۔ ٣۔ جنتی کو پینے کے لیے ایسی شراب دی جائے گی جس میں کسی قسم کا نشہ اور کڑواہٹ نہیں ہوگی۔ ٤۔ جنتی کو ان کے مَن پسند پھل اور پرندوں کا گوشت دیا جائے گا۔ ٥۔ جنتی کو شرم و حیا والی اور موتیوں جیسی حوریں پیش کی جائیں گی۔ ٦۔ جنتی کو ان کے نیک اعمال کی پوری پوری جزادی جائے گی۔ تفسیر بالقرآن جنت کی نعمتوں کی ایک جھلک : ١۔ ایمان والوں اور عمل صالح کرنے والوں کے لیے جنت الفردوس ہے۔ (الکہف : ١٠٧) ٢۔ جنتی کے لیے جنت میں وہ کچھ ہوگا جو تم چاہو گے۔ (حٰم السجدۃ : ٣١) ٣۔ یقیناً متقین سایوں اور چشموں اور پسندیدہ میوہ جات میں رہیں گے۔ (المرسلات : ٤١۔ ٤٢) ٤۔ اللہ کے مخلص بندے نعمتوں والی 3 میں ہوں گے ایک دوسرے کے سامنے تختوں پر بیٹھے ہونگے۔ (الصّٰفّٰت : ٤٣، ٤٤) ٥۔ پرہیزگاروں کے لیے عمدہ مقام ہے۔ ہمیشہ رہنے کے باغ ہیں جن کے دروازے ان کے لیے کھلے ہوں گے اور وہ ان میں تکیے لگا کر بیٹھے ہوں گے۔ (ص : ٤٩ تا ٥٠) ٦۔ جنت میں سونے اور لولو کے زیور پہنائے جائیں گے۔ (فاطر : ٣٣) ٧۔ جنت میں بےخار بیریاں، تہہ بہ تہہ کیلے، لمبا سایہ، چلتا ہوا پانی، اور کثرت سے میوے ہوں گے۔ (الواقعہ : ٢٨ تا ٣٠)
علی ............ موضونة (٦ 5: ٦١) ” مرصع تختوں پر “ جن کے اندر نہایت ہی قیمتی موتی اور دھاتیں لگی ہوں گی۔
سابقین اولین کی مزید نعمتیں : سابقین اولین کی مزید نعمتیں بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا ﴿ عَلٰى سُرُرٍ مَّوْضُوْنَةٍۙ٠٠١٥﴾ (یہ حضرات ایسے تختوں پر ہوں گے جو بنے ہوئے ہوں گے) قرآن کریم میں صرف لفظ موضونة ہے کس چیز سے بنے ہوئے ہوں گے اس کا ذکر نہیں ہے۔ مفسرین نے لکھا ہے کہ سونے کے تاروں سے اور جواہر سے ان کی بناوٹ ہوگی ﴿ مُّتَّكِـِٕيْنَ عَلَيْهَا مُتَقٰبِلِيْنَ ٠٠١٦﴾ (ان تختوں پر تکیے لگائے ہوئے آمنے سامنے ہوں گے) اہل جنت کا تختوں پر بیٹھنا اس طرح سے ہوگا کہ کوئی کسی کی پشت نہیں دیکھ پائے گا۔ ﴿يَطُوْفُ عَلَيْهِمْ وِلْدَانٌ مُّخَلَّدُوْنَۙ٠٠١٧﴾ (ان کے پاس ایسے لڑکے جو ہمیشہ لڑکے ہی رہیں گے یہ چیزیں لے کر آمدورفت کیا کریں گے) ﴿ بِاَكْوَابٍ وَّ اَبَارِيْقَ ١ۙ۬ وَ كَاْسٍ مِّنْ مَّعِيْنٍۙ٠٠١٨﴾ (آبخورے اور آفتابے اور ایسا جام شراب جو بہتی ہوئی شراب سے بھرا جائے گا) اول تو خدام کے بارے میں فرمایا کہ وہ لڑکے ہوں گے اور ہمیشہ لڑکے ہی رہیں گے اور ہمیشہ خادم بنے رہیں گے نہ انہیں موت آئے گی اور نہ بڑھاپا۔ ﴿ وِلْدَانٌ مُّخَلَّدُوْنَۙ٠٠١٧﴾ کو سورة الطور میں ﴿ غِلْمَانٌ لَّهُمْ كَاَنَّهُمْ لُؤْلُؤٌ ﴾ فرمایا ہے۔ یہ وِلْدَان اہل جنت کے پاس چھوٹے بڑے برتنوں میں پینے کی چیزیں لے کر آئیں گے۔ اکواب کو ب کی جمع ہے گول منہ کا پیالہ جس میں پکڑنے کا کڑا نہ ہو اسے کو ب کہا جاتا ہے اور اباریق ابریق کی جمع ہے ان سے وہ برتن مراد ہیں جن میں ٹونٹیاں لگی ہوئی ہوں، ان پینے کی چیزوں میں شراب بھی ہوگی جس کا سورة محمد کی آیت ﴿ خَمْرٍ لَّذَّةٍ لِّلشّٰرِبِيْنَ ﴾ میں تذکرہ فرمایا ہے لفظ خمر سے کسی کو نشہ آنے کا شبہ نہ ہو اس شبہ کو دور کرتے ہوئے ﴿ لَّا يُصَدَّعُوْنَ عَنْهَا وَ لَا يُنْزِفُوْنَۙ٠٠١٩﴾ فرمایا (نہ اس سے ان کو درد سر ہوگا اور نہ عقل میں فتور آئے گا) پینے کی چیزوں کے بعد کھانے کی چیزوں کا تذکرہ فرمایا ﴿ وَ فَاكِهَةٍ مِّمَّا يَتَخَيَّرُوْنَۙ٠٠٢٠﴾ (اور میوے جن کو وہ پسند کریں گے) ﴿ وَ لَحْمِ طَيْرٍ مِّمَّا يَشْتَهُوْنَؕ٠٠٢١﴾ (اور پرندوں کا گوشت جو ان کو مرغوب ہوگا) ۔ کھانے کی چیزوں کے تذکرہ کے بعداہل جنت کی بیویوں کا تذکرہ فرمایا ﴿ وَ حُوْرٌ عِيْنٌۙ٠٠٢٢ كَاَمْثَال اللُّؤْلُؤِ الْمَكْنُوْنِۚ٠٠٢٣﴾ (اور ان کے لیے گوری گوری بڑی بڑی آنکھوں والی عورتیں ہوں گی جیسے پوشیدہ رکھا ہوا موتی ہو) لفظ حور حوراء کی جمع ہے (اگرچہ اردو والے اس کو مفرد ہی سمجھتے ہیں) جس کا معنی ہے گوری سفید رنگت والی عورت اور عین عیناء کی جمع ہے جس کا ترجمہ ہے بڑی آنکھوں والی عورت ان دو لفظوں میں جنتی عورتوں کی خوبصورتی بیان فرمائی ہے پھر ان کے رنگ کی صفائی بیان کرتے ہوئے ﴿ كَاَمْثَال اللُّؤْلُؤِ الْمَكْنُوْنِۚ٠٠٢٣﴾ فرمایا یعنی وہ چھپے ہوئے موتیوں کی طرح سے ہوں گی۔ ﴿ جَزَآءًۢ بِمَا كَانُوْا يَعْمَلُوْنَ ٠٠٢٤﴾ (یہ ان کے اعمال کے صلہ میں ملے گا) ۔
8:۔ ” علی سرر “ یہ ضمیر مقدر کی خبر بعد خبر ہے۔ موضونۃ، زر بافتہ ایسی چارپائیاں جو سونے کی تاروں سے بنی ہوں اور ان میں ہیرے جو ہرات جڑے ہوں۔ خبر اخر للضمیر المحذوف والموضونۃ المنسوجۃ بالذھب مشبکۃ بالدر والیاقوت (بیضاوی) ۔ متکئین اور متقابلین، دونوں علی سرر کے متعلق کے فاعل سے حال ہیں۔ وہ جنت میں زر بافتہ چارپائیوں پر تکیہ لگائے آمنے سامنے بیٹھیں گے۔ ” یطوف علیہم ولدان مخلدون “ ان کی خدمت کیلئے اور انہیں کھلانے پلانے پر جو خدام مقرر ہیں وہ نہایت خوبصورت کم عمر لڑکے ہوں گے اور ہمیشہ اسی عمر میں رہیں گے بڑے نہیں ہوں گے انہم یبقون دائما فی سن الولد ان لا یکبرون ولا یتحولون عن شکل الوصافۃ (بحر ج 8 ص 205) ۔ ” باکواب واباریق۔ الایۃ “ جار مجرور یطوف کے متعلق ہے۔ اکواب، کو ب کی جمع ہے یعنی پیالے جن کے ٹونٹی بھی نہ ہو اور دستہ بھی۔ اباریق، ابریق کی جمع ہے وہ برتن جس کے ٹونٹنی بھی ہو اور دستہ بھی۔ یہ شراب پینے کے مخصوس برتن ہیں (باکواب) باینۃ لاعری لھا ولا خراطیم والظاھر انھا الاقداح وبذالک فسرھا عکرمۃ وھی جمع کو ب (واباریق) جمع قبریق وھو انء لہ خرطوم قیل وعروۃ وفی البحر انہ من اوانی الخمر (روح ج 27 ص 136) ۔ ” معین “ جار ی، مراد شراب ہے جس کے جنت میں چشمے جاری ہوں گے اور اگر معن سے فعیل ہو تو بمعنی کثیر اور وافر ہوگا۔ المراد ھذا الموضع الخمر الجاریۃ من العیون۔ وقیل ھو فعیل من المعن وھو الکثرۃ (قرطبی ج 17 ص 203) ۔