Surat ul Waqiya

Surah: 56

Verse: 29

سورة الواقعة

وَّ طَلۡحٍ مَّنۡضُوۡدٍ ﴿ۙ۲۹﴾

And [banana] trees layered [with fruit]

اور تہ بہ تہ کیلوں ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

and among Talh Mandud. refers to large thorny shrub that used to grow in the area of Hijaz (Western Arabia). Mujahid said that مَّنضُودٍ (Mandud) means: "Its fruits are piled on top of each other. Allah is reminding the Quraysh of these kinds of trees, since they used to like the shade that the Talh and Sidr provided for them." Ibn Abi Hatim recorded that Abu Sa`id said that وَطَلْحٍ مَّنضُودٍ (Talh Mandud) means: "The banana tree." And he (Ibn Abi Hatim) said, "Similar is reported from Ibn Abbas, Abu Hurayrah, Al-Hasan, `Ikrimah, Qasamah bin Zuhayr, Qatadah and Abu Hazrah. " Mujahid and Ibn Zayd said similalry, Ibn Zayd added, "The people of Yemen call the banana tree, Talh." Ibn Jarir mentioned no other explanation for Talh. Allah said, وَظِلٍّ مَّمْدُودٍ

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

وَّطَلْحٍ مَّنْضُوْدٍ :” طلح “ کیکر کو بھی کہتے ہیں اور کیلے کو بھی ۔” منصود “ (تہ بہ تہ) سے تعیین ہوگئی کہ یہاں کیلے مراد ہیں ۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

وَطَلْحٍ مَّنضُودٍ (and the trees of tulh, having layers one upon the other - 28:29). The word talh refers to &banana tree& and mandud means &clustered&, fruits piled on top of each other as in a bunch of bananas.

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

وَّطَلْحٍ مَّنْضُوْدٍ۝ ٢٩ ۙ طلح الطَّلْحُ شجرٌ ، الواحدةُ طَلْحَةٌ. قال تعالی: وَطَلْحٍ مَنْضُودٍ [ الواقعة/ 29] ، وإبل طِلَاحِيٌّ: منسوبٌ إليه، وطَلِحَةٌ: مشتکية من أكله . والطَّلْحُ والطَّلِيحُ : المهزولُ المجهود، ومنه : ناقة طَلِيحُ أسفارٍ والطَّلَاحُ منه، وقد يُقَابَلُ به الصّلاح . ( ط ل ح ) الطلح ( موز ) ایک درخت کا نام ہے اس کا واحد طلحۃ ہے ۔ قرآن میں ہے : ۔ وَطَلْحٍ مَنْضُودٍ [ الواقعة/ 29] اور تہ بتہ کیلوں اور اہل طلاحی یہ طلحہ کی طرف منسوب ہے اور طلاحی وطلحۃ ان اونٹوں کو کہا جاتا ہے جو طلحہ درخت کو کھا کر بیمار ہوگئے ہوں ۔ نیز طلح وطلیحاسفار محاورہ ہے یعنی کثرت سفر کی وجہ سے دیلی اونٹنی اور اسی سے الطلاح ہے جو کبھی الصلاح کے بالمقابل استعمال ہوتا ہے ۔ نضد يقال : نَضَدْتُ المتاعَ بعضه علی بعض : أَلْقَيْتُهُ ، فهو مَنْضُودٌ ونَضِيدٌ ، والنَّضَدُ : السَّريرُ الذي يُنَضِّدُ عليه المتاعُ ، ومنه اسْتُعِيرَ : طَلْعٌ نَضِيدٌ [ ق/ 10] ، وقال تعالی: وَطَلْحٍ مَنْضُودٍ [ الواقعة/ 29] ، وبه شُبِّهَ السَّحابُ المتراکم فقیل له : النَّضَدُ ، وأَنْضَادُ القومِ : جماعاتُهْم، ونَضَدُ الرَّجُلِ : مَنْ يَتَقَوَّى به من أَعْمامِهِ وأَخْوالِهِ. ( ن ض د ) نضد ت المتاع بعضہ علیٰ بعض کے منعی سامان کو قرضے سے اوپر نیچے رکھنے کے ہیں اور قرینے سے رکھے ہوئے سامان کو منضود یا نضید کہا جاتا ہے اور جس تخت پر سامان جوڑ کر رکھا جائے اسے بھی نضید کہتے ہیں ۔۔۔ ، اسی سے استعارہ فرمایا : ۔ طَلْعٌ نَضِيدٌ [ ق/ 10] اور دوسرے مقام پر فرمایا : وَطَلْحٍ مَنْضُودٍ [ الواقعة/ 29] اور تہ بہ تہ کیلوں ۔ اور مجازا گہرے بادل کو بھی نضد کہا جاتا ہے ۔ اور انضاد القوم کے معنی لوگوں کی مختلف آدمی کے اعمام واخوال کے ہیں جن کی مدد سے وہ مضبوط ہوتا ہے ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٢٩{ وَّطَلْحٍ مَّنْضُوْدٍ ۔ } ” اور تہ بر تہ کیلے۔ “

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(56:29) وطلح منضود : واؤ عاطفہ۔ طلح کا عطف سدر پر ہے طلح ایک بڑا درخت ۔ کیلا۔ منضود اسم مفعول واحد مذکر۔ تہ بر تہ، نضد (باب ضرب) مصدر۔ تہ بر تہ کیا ہوا۔ اور وہاں ایسا کیلا ہوگا جس پر پھلیوں کے گنجان گچھے لٹک رہے ہوں گے۔ طلح منضود موصوف صفت۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 7 حضرت ابوامامہ سے روایت ہے کہ صحابہ کرام اپٓس میں کہا کرتے تھے کہ بعض اوقات اللہ تعالیٰ ہمیں بد دو ئوں کے مسائل دریافت کرنے سے بڑا فائدہ پہنچاتا ہے۔ چناچہ ایک مرتبہ ایک بدو نے آنحضرت سے عرض کیا ” اے الہ کے رسول ! اللہ تعالیٰ نے قرآن میں ایک ایسے درخت کا ذکر فرمایا ہے جو جنت میں ہوگا حالانکہ وہ تکلیف دہ درخت ہے۔ “ رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دریافت فرمایا ” وہ کونسا ہے ؟ ؟ کہنے لگا ” بیری ! اس لئے کہ اس میں تو کاٹنے ہتوے ہیں جو چبھتے ہیں۔ “ فرمایا ” کیا اللہ تعالیٰ نے ” مختصود “ نہیں فرمایا یعنی یہ کہ اس بیری کے کانٹے صاف کردیئے جائیں گے ؟ اللہ تعالیٰ ہر کانٹے کی جگہ ایک بیراگائے گا اور ہر بیر میں بہتر 72 کھانوں کے مزے ہونگے۔ “ (شوکانی)

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

وطلح منضود (٦ 5: ٩٢) ” تہ بر تہ چڑھے ہوئے کیلوں “ طلح حجاز کے درختوں میں سے ایک درخت۔ (طلح کے معنی ببول ، کیکر اور کیلا تینوں آتے ہیں۔ مولانا مودودی کا ترجمہ منضود کے ساتھ زیادہ مناسب ہے جس کے معنی تہ بر تہ اور ترتیب کئے ہوئے ہیں یا ڈھیر کے ہوتے ہیں۔ کانٹے دار اور بڑا لیکن یہ درخت یہاں منضود ہے یعنی مرتب ہے یا کھانے کے لئے تیار ہے بغیر مشقت کے کھایا جاسکتا ہے۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(29) اورتہ بہ تہ کیلے ہوں گے۔ یعنی کیلوں کی گیلیں اوپر تلے لگی ہوئی ہوں گی۔