Surat ul Waqiya
Surah: 56
Verse: 36
سورة الواقعة
فَجَعَلۡنٰہُنَّ اَبۡکَارًا ﴿ۙ۳۶﴾
And made them virgins,
اور ہم نے انہیں کنواریاں بنا دیا ہے ۔
فَجَعَلۡنٰہُنَّ اَبۡکَارًا ﴿ۙ۳۶﴾
And made them virgins,
اور ہم نے انہیں کنواریاں بنا دیا ہے ۔
3 6 1اس سے مراد اہل جنت کو ملنے والی بیویاں اور حور عین ہیں۔ حوریں، ولادت کے عام طریقے سے پیدا شدہ نہیں ہونگی، بلکہ اللہ تعالیٰ خاص طور پر انہیں جنت میں اپنی قدرت خاص سے بنائے گا، اور جو دنیاوی عورتیں ہونگی، تو وہ بھی حوروں کے علاوہ اہل جنت کی بیویوں کے
[١٩] أنْشَاْنَاھُنَّ میں ھُنَّ کا مرجع ان کی دنیا میں ساتھ دینے والی بیویاں بھی ہوسکتی ہیں۔ اور جنت میں ملنے والی حوریں بھی۔ ان دونوں قسم کی عورتوں کو اللہ تعالیٰ نوجوان اور نوخیز بنادیں گے اور وہ کنواری بھی ہوں گی۔ وہ ہمیشہ خوبصورت اور جوان ہی رہیں گی جن کی باتوں اور طرز و ادا پر بےساختہ پیار آجائے گا۔ شمائل ترمذی میں روایت ہے کہ ایک بڑھیا رسول اللہ کے پاس آئی اور کہنے لگی کہ میرے حق میں جنت کی دعا فرمایئے۔ آپ نے فرمایا : جنت میں کوئی بڑھیا داخل نہ ہوگی۔ وہ روتی ہوئی واپس چلی گئی تو آپ نے لوگوں سے فرمایا : اسے بتاؤ کہ وہ بڑھاپے کی حالت میں جنت میں داخل نہ ہوگی۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ ہم انہیں خاص طور پر نئے سرے سے پیدا کریں گے اور انہیں باکرہ بنادیں گے۔
فَجَعَلْنٰـہُنَّ اَبْکَارًا :” ابکارا “ ” بکر “ کی جمع ہے ، کنواریاں ۔ جمع دنیا میں شوہر والی مومن عورتوں کو بھی اللہ تعالیٰ باکرہ بنا دے گا ۔ اس کے علاوہ دنیا کی عورتیں ہوں یا جنتیوں کے لیے پیدا کی گئی نئی عورتیں سب ہمیشہ باکرہ رہیں گی ، ان کے خاوند جب بھی ان سے ملاپ کریں گے انہیں باکرہ پائیں گے۔
أَبْكَارًا - 56:36). The word abkaran, being the plural of bikr, means &virgins&. The sense is the creation of the maidens of Paradise will be of such a nature that, even after every sexual intercourse, they will remain like virgins.
اَبْكَارًا۔ بکر، بکسر الباء کی جمع ہے، کنواری لڑکی کو کہا جاتا ہے، مراد یہ ہے کہ جنت کی عورتوں کی تخلیق اس شان کی ہوگی کہ ہر صحبت و مباشرت کے بعد پھری کنواری جیسی ہوجاویں گی۔
فَجَــعَلْنٰہُنَّ اَبْكَارًا ٣٦ ۙ جعل جَعَلَ : لفظ عام في الأفعال کلها، وهو أعمّ من فعل وصنع وسائر أخواتها، ( ج ع ل ) جعل ( ف ) یہ لفظ ہر کام کرنے کے لئے بولا جاسکتا ہے اور فعل وصنع وغیرہ افعال کی بنسبت عام ہے ۔ بكر أصل الکلمة هي البُكْرَة التي هي أوّل النهار، فاشتق من لفظه لفظ الفعل، فقیل : بَكَرَ فلان بُكُورا : إذا خرج بُكْرَةً ، والبَكُور : المبالغ في البکرة، وبَكَّر في حاجته وابْتَكَر وبَاكَرَ مُبَاكَرَةً. وتصوّر منها معنی التعجیل لتقدمها علی سائر أوقات النهار، فقیل لكلّ متعجل في أمر : بِكْر، قال الشاعر بكرت تلومک بعد وهن في النّدى ... بسل عليك ملامتي وعتاب وسمّي أول الولد بکرا، وکذلك أبواه في ولادته [إيّاه تعظیما له، نحو : بيت الله، وقیل : أشار إلى ثوابه وما أعدّ لصالحي عباده ممّا لا يلحقه الفناء، وهو المشار إليه بقوله تعالی: وَإِنَّ الدَّارَ الْآخِرَةَ لَهِيَ الْحَيَوانُ ] «3» [ العنکبوت/ 64] ، قال الشاعر يا بکر بكرين ويا خلب الکبد «4» فبکر في قوله تعالی: لا فارِضٌ وَلا بِكْرٌ [ البقرة/ 68] . هي التي لم تلد، وسمّيت التي لم تفتضّ بکرا اعتبارا بالثيّب، لتقدّمها عليها فيما يراد له النساء، وجمع البکر أبكار . قال تعالی:إِنَّا أَنْشَأْناهُنَّ إِنْشاءً فَجَعَلْناهُنَّ أَبْکاراً [ الواقعة/ 35- 36] . والبَكَرَة : المحالة الصغیرة، لتصوّر السرعة فيها . ( ب ک ر ) اس باب میں اصل کلمہ بکرۃ ہے جس کے معنی دن کے ابتدائی حصہ کے ہیں پھر اس سے صیغہ فعل مشتق کرکے کہا جاتا ہے ۔ بکر ( ن ) فلان بکورا کسی کام کو صبح سویرے نکلنا ۔ البکور ( صیغہ مبالغہ ) بہت سویرے جانے والا ۔ بکر ۔ صبح سورے کسی کام کے لئے جانا اور بکرۃ دن کا پہلا حصہ ) چونکہ دن کے باقی حصہ پر متقدم ہوتا ہے اس لئے اس سے شتابی کے معنی لے کر ہر اس شخص کے معلق بکدرس ) فعل استعمال ہوتا ہے جو کسی معاملہ میں جلد بازی سے کام نے شاعر نے کہا ہے وہ کچھ عرصہ کے بعد جلدی سے سخاوت پر ملامت کرنے لگی میں نے کہا کہ تم پر مجھے ملامت اور عتاب کرنا حرام ہے ۔ بکر پہلا بچہ اور جب ماں باپ کے پہلا بچہ پیدا ہو تو احتراما انہیں بکر ان کہا جاتا ہے جیسا کہ بیت اللہ بولا جاتا ہے اور بعض نے کہا ہے کہ یہ ثواب الہی اور ان غیر فانی نعمتوں کی طرف اشارہ ہے جو اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کے لئے تیار کی ہیں جس کی طرف آیت کریمہ : ۔ وَإِنَّ الدَّارَ الْآخِرَةَ لَهِيَ الْحَيَوانُ ] «3» [ العنکبوت/ 64] اور ( ہمیشہ کی زندگی ( کا مقام تو آخرت کا گھر ہے میں اشارہ فرمایا ہے شاعر نے کہا ہے ع ( رجز ) ( 23 ) اے والدین کے اکلوتے بیٹے اور جگر گوشے ۔ پس آیت کریمہ : ۔ لا فارِضٌ وَلا بِكْرٌ [ البقرة/ 68] نہ تو بوڑھا ہو اور نہ بچھڑا ۔ میں بکر سے نوجوان گائے مراد ہے جس نے ابھی تک کوئی بچہ نہ دیا ہو ۔ اور ثیب کے اعتبار سے دو شیزہ کو بھی بکر کہا جاتا ہے کیونکہ اسے مجامعت کے لئے ثیب پر ترجیح دی جاتی ہے بکر کی جمع ابکار آتی ہے ۔ قرآن میں ہے : ۔ إِنَّا أَنْشَأْناهُنَّ إِنْشاءً فَجَعَلْناهُنَّ أَبْکاراً [ الواقعة/ 35- 36] ہم نے ان ( حوروں ) کو پیدا کیا تو ان کو کنوار یاں بنایا ۔ البکرۃ چھوٹی سی چرخی ۔ کیونکہ وہ تیزی کے ساتھ گھومتی ہے ۔
آیت ٣٦{ فَجَعَلْنٰہُنَّ اَبْکَارًا ۔ } ” پس ہم نے بنایا ہے انہیں کنواریاں۔ “
17 This signifies the virtuous women of the world, who will enter Paradise on the basis of their faith and good works. Allah will make them young no matter how aged they might have died in the world; will make them beautiful whether or not they were beautiful in the world; and will make them virgins whether they died virgins in the world or after bearing children. If their husbands also entered Paradise with them, they would be joined with them, otherwise AIIah will wed them to another dweller in Paradise. This very explanation of this verse has been reported from the Holy Prophet (upon whom be peace) in several Ahadith. According to Shama il Tirmidhi, an old woman requested the Holy Prophet to pray for her admission to Paradise. The Holy Prophet replied: "No old woman will enter Paradise." Hearing this the woman went back crying. Thereupon the Holy Prophet said to the people: "Tell her that she will not enter Paradise as an old woman, for Allah says: `We shall create them anew and make them virgins'." Ibn Abi Hatim has related, on the authority of Hadrat Salamah bin Yazid, that he heard the Holy Prophet ( upon whom be peace) explain this verse, thus: "This implies the women of the world; whether they died virgins or married." Tabarani contains a lengthy tradition related from Hadrat Umm Salamah according to which she asked the Holy Prophet the meaning of the several references in the Qur'an to the women of Paradise. In answer, he explained this very verse and said: "These are the women who died as aged and decayed women, with sticky eyes and gray hair; alter this old age Allah will again make them young and virgins." Hadrat Umm Salamah asked: "If a woman had several husbands in the world, one after the other, to whom will she belong in Paradise ?'' The Holy Prophet replied "She will he asked to make her own choice, and she will choose the one who had the best moral character. She will say: O my Lord, make me his wife, for he was the best in his conduct and dealings with me. O Umm Salamah, good moral conduct has carried off all the good of this world and the Hereafter." (For further explanation, see E.N. 51 of Surah Ar-Rahman).
سورة الْوَاقِعَة حاشیہ نمبر :17 اس سے مراد دنیا کی وہ نیک خواتین ہیں جو اپنے ایمان و عمل صالح کی بنا پر جنت میں جائیں گی ۔ اللہ تعالیٰ ان سب کو وہاں جوان بنا دے گا ، خواہ وہ کتنی ہی بوڑھی ہو کر مری ہوں ۔ نہایت خوبصورت بنا دے گا ، خواہ دنیا میں وہ حسین رہی ہوں یا نہ رہی ہوں ۔ باکرہ بنا دیگا ، خواہ دنیا میں وہ کنواری مری ہوں یا بال بچوں والی ہو کر ۔ ان کے شوہر بھی اگر ان کے ساتھ جنت میں پہنچیں گے تو وہ ان سے ملا دی جائیں گی ، ورنہ اللہ تعالیٰ کسی اور جنتی سے ان کو بیاہ دے گا ۔ اس آیت کی یہی تشریح متعدد احادیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول ہے ۔ شمائیل ترمذی میں روایت ہے کہ ایک بڑھیا نے حضور سے عرض کیا میرے حق میں جنت کی دعا فرمائیں ۔ آپ نے فرمایا جنت میں کوئی بڑھیا داخل نہ ہوگی ۔ وہ روتی ہوئی واپس چلی گئی تو آپ نے لوگوں سے فرمایا کہ اسے بتاؤ ، وہ بڑھاپے کی حالت میں داخل جنت نہیں ہوگی ، اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ ہم انہیں خاص طور پر نئے سرے سے پیدا کریں گے اور باکرہ بنا دیں گے ۔ ابن ابی حاتم نے حضرت سلمہ بن یزید کی یہ روایت نقل کی ہے کہ میں نے اس آیت کی تشریح میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا ، اس سے مراد دنیا کی عورتیں ہیں ، خواہ وہ باکرہ مری ہوں یا شادی شدہ ۔ طبرانی میں حضرت ام سلمہ کی ایک طویل روایت ہے جس میں وہ جنت کی عورتوں کے متعلق قرآن مجید کے مختلف مقامات کا مطلب حضور سے دریافت فرماتی ہیں ۔ اس سلسلہ میں حضور اس آیت کی تشریح کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ : ھن اللواتی قبضن فی دار الدنیا عجائز رمصاً شمطاً خلقھن اللہ بعد الکبر فجعلھن عذاریٰ ۔ یہ وہ عورتیں ہیں جو دنیا کی زندگی میں مری ہیں ۔ بوڑھی پھونس ، آنکھوں میں چیپڑ ، سر کے بال سفید ۔ اس بڑھاپے کے بعد اللہ تعالیٰ ان کو پھر سے باکرہ پیدا کر دے گا ۔ حضرت ام سلمہ پوچھتی ہیں اگر کسی عورت کے دنیا میں کئی شوہر رہ چکے ہوں اور وہ سب جنت میں جائیں تو وہ ان میں سے کس کو ملے گی؟ حضور فرماتے ہیں : انھا تُخیَّر فتختار احسنہم خلقا فتقول یا رب ان ھٰذا کان احسن خلقاً معی فزوجنیھا ، یا ام سلمہ ، ذھب حسن الخلق بخیر الدنیا والاٰخرۃ ۔ اس کو اختیار دیا جائے گا کہ وہ جسے چاہے چن لے ، اور وہ اس شخص کو چنے گی جو ان میں سب سے زیادہ اچھے اخلاق کا تھا ۔ وہ اللہ تعالیٰ سے عرض کرے گی کہ اے رب ، اس کا برتاؤ میرے ساتھ سب سے اچھا تھا اس لیے مجھے اسی کی بیوی بنا دے ۔ اے ام سلمہ ، حسن اخلاق دنیا اور آخرت کی ساری بھلائی لوٹ لے گیا ہے ۔ ( مزید تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن ، جلد پنجم ، تفسیر سورہ رحمٰن ، حاشیہ 51 ) ۔
9: بعض احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کا کنوار پن کبھی ختم نہیں ہوگا۔
(56:36) فجعلنھن ای فصیرنھن۔ پس ہم نے ان کو بنادیا۔ ھن ضمیر مفعول جمع مؤنث غائب۔ ابکارا : مفعول ثانی۔ کنواریاں۔ بکر کی جمع۔
ف 10 ان سے مراد دنیا کی عوتریں ہیں جو چاہے بوڑھی ہو کر مری ہوں لیکن انہیں جوان بنا کر جنت میں داخل کیا جائے گا۔ ایک حدیث میں آنحضرت نے اس آیت کو یہی تفسیر بیان فرمائی ہے۔ (ابن کثیر)
فجعلنھن ابکارا (٦ 5: ٦٣) ” اور ان کو باکرہ بنادیں گے۔ “ یعنی ان کو کسی انشان نے چھوا تک نہ ہوگا۔ عربا (شوہروں پر عاشق) شوہروں کے ساتھ محبت کرنے والیاں۔ اترابا (عمر میں ہم سن) برابر درجے کی۔ بحساب مادہ سال اور بحساب شباب اور قوت ، لا صحاب الیمین (یہ کچھ دائیں بازو والوں کے لئے ہے) یعنی یہ تمام چیزیں ان کے لئے مخصوص ہیں تاکہ وہ ان کے اونچے فرشوں کے ساتھ مناسب ہوں اور یہ اصحاب الیمین کون ہیں۔