Surat ul Waqiya

Surah: 56

Verse: 82

سورة الواقعة

وَ تَجۡعَلُوۡنَ رِزۡقَکُمۡ اَنَّکُمۡ تُکَذِّبُوۡنَ ﴿۸۲﴾

And make [the thanks for] your provision that you deny [the Provider]?

اور اپنے حصے میں یہی لیتے ہو کہ جھٹلاتے پھرو ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

And you make your provision your denial! some of them said that provision here has the meaning of gratitude, meaning: you deny without any gratitude. Ali bin Abi Talhah reported from Ibn Abbas that he recited it as: وَتَجْعَلُونَ شُكْركُمْ أَنَّكُمْ تُكَذِّبُونَ And your show of your gratitude by denying! Ibn Jarir narrated from Muhammad bin Bashshar, who narrated from Muhammad bin Ja`far, who narrated from Shu`bah, from Abu Bishr, from Sa`id bin Jubayr who said that Ibn Abbas said, "It has never rained upon a people except that some of them became disbelievers by saying, `Such and such position of a star sent rain!"' And Ibn Abbas recited: وَتَجْعَلُونَ شُكْركُمْ أَنَّكُمْ تُكَذِّبُونَ (And you show of your gratitude by denying). This chain of narration is Sahih to Ibn Abbas. In his Muwatta', Malik reported from Salih bin Kaysan, from Ubaydullah bin Abdullah bin Utbah bin Mas`ud, from Zayd bin Khalid Al-Juhani who said, "The Prophet led us in the Subh (dawn) prayer at Al-Hudaybiyah after a rainy night. On completion of the prayer, he faced the congregation and said, هَلْ تَدْرُونَ مَاذَا قَالَ رَبُّكُمْ Do you know what your Lord has said (revealed)? Those present replied, `Allah and His Messenger know best.' He said, قَالَ أَصْبَحَ مِنْ عِبَادِي مُوْمِنٌ بِي وَكَافِرٌ فَأَمَّا مَنْ قَالَ مُطِرْنَا بِفَضْلِ اللهِ وَرَحْمَتِهِ فَذلِكَ مُوْمِنٌ بِي كَافِرٌ بِالْكَوْكَبِ وَأَمَّا مَنْ قَالَ مُطِرْنَا بِنَوْءِ كَذَا وَكَذَا فَذلِكَ كَافِرٌ بِي وَمُوْمِنٌ بِالْكَوْكَب Allah has said, "During this morning some of my servants remained as true believers in Me and some became disbelievers. Whoever said that the rain was due to the blessings and the mercy of Allah, had belief in Me, and he disbelieves in the stars; and whoever said that it rained because of a particular star, had no belief in Me, but believes in that star." This Hadith is recorded in the Two Sahihs, Abu Dawud and An-Nasa'i, all using a chain of narration in which Imam Malik was included. Qatadah said, "Al-Hasan used to say, `How evil is that all that some people have earned for themselves from the Book of Allah, is denying it!"' Al-Hasan's statement means that such people gained no benefit from the Book of Allah because they denied it, as Allah said: أَفَبِهَذَا الْحَدِيثِ أَنتُم مُّدْهِنُونَ وَتَجْعَلُونَ رِزْقَكُمْ أَنَّكُمْ تُكَذِّبُونَ Is it such a talk that you Mudhinun, And you make your provision that you deny!

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٣٩] اس آیت کے بھی کئی مطالب ہیں۔ ایک یہ کہ جس طرح روزانہ کھانا کھاناتمہارا معمول ہے اسی طرح قرآن کو جھٹلانا بھی تم نے روز مرہ کا معمول بنا رکھا ہے۔ دوسرا یہ کہ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا شکر ادا کرنے کی بجائے اس کی کوئی اور توجیہ تلاش کرکے اللہ کی اس نعمت کو بھی جھٹلا دینا تمہارا معمول بن گیا ہے۔ چناچہ سیدنا علی اس آیت کی تفسیر مرفوعاً روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ نے فرمایا : تم اپنے رزق کا شکر یوں ادا کرتے ہو کہ اللہ کو جھٹلاتے ہو اور کہتے ہو کہ مینہ ہم پر فلاں نچھتر اور فلاں ستارے کے سبب سے برسا ہے۔ (ترمذی۔ ابو اب التفسیر) اور یہ قرآن بھی اللہ تعالیٰ کی طرف سے روحانی بارش اور بہت بڑی نعمت ہے اور تم اس نعمت کی شکرگزاری یوں کرتے ہو کہ اسے جھٹلا دیتے ہو۔ اور تیسرا مطلب یہ ہے کہ تم یہ سمجھتے ہو کہ قرآن کو مان لینے سے تمہارا رزق بند ہوجائے گا۔ کعبہ کی سرپرستی اور تولیت چھن جائے گی۔ نذریں نیازیں بند ہوجائیں گی اور کعبہ کی وجہ سے عرب بھر میں جو تمہارا عزت و وقار بنا ہوا ہے سب ختم ہوجائے گا۔ لہذا تم اپنے رزق اور عز وجاہ کا ثبات اسی بات میں دیکھتے ہو کہ تم قرآن کو جھٹلاتے رہو۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

وَتَجْعَلُوْنَ رِزْقَكُمْ اَنَّكُمْ تُكَذِّبُوْنَ۝ ٨٢ جعل جَعَلَ : لفظ عام في الأفعال کلها، وهو أعمّ من فعل وصنع وسائر أخواتها، ( ج ع ل ) جعل ( ف ) یہ لفظ ہر کام کرنے کے لئے بولا جاسکتا ہے اور فعل وصنع وغیرہ افعال کی بنسبت عام ہے ۔ رزق الرِّزْقُ يقال للعطاء الجاري تارة، دنیويّا کان أم أخرويّا، وللنّصيب تارة، ولما يصل إلى الجوف ويتغذّى به تارة «2» ، يقال : أعطی السّلطان رِزْقَ الجند، ورُزِقْتُ علما، قال : وَأَنْفِقُوا مِنْ ما رَزَقْناكُمْ مِنْ قَبْلِ أَنْ يَأْتِيَ أَحَدَكُمُ الْمَوْتُ [ المنافقون/ 10] ، أي : من المال والجاه والعلم، ( ر ز ق) الرزق وہ عطیہ جو جاری ہو خواہ دنیوی ہو یا اخروی اور رزق بمعنی نصیبہ بھی آجاتا ہے ۔ اور کبھی اس چیز کو بھی رزق کہاجاتا ہے جو پیٹ میں پہنچ کر غذا بنتی ہے ۔ کہاجاتا ہے ۔ اعطی السلطان رزق الجنود بادشاہ نے فوج کو راشن دیا ۔ رزقت علما ۔ مجھے علم عطا ہوا ۔ قرآن میں ہے : وَأَنْفِقُوا مِنْ ما رَزَقْناكُمْ مِنْ قَبْلِ أَنْ يَأْتِيَ أَحَدَكُمُ الْمَوْتُ [ المنافقون/ 10] یعنی جو کچھ مال وجاہ اور علم ہم نے تمہیں دے رکھا ہے اس میں سے صرف کرو كذب وأنه يقال في المقال والفعال، قال تعالی: إِنَّما يَفْتَرِي الْكَذِبَ الَّذِينَ لا يُؤْمِنُونَ [ النحل/ 105] ، ( ک ذ ب ) الکذب قول اور فعل دونوں کے متعلق اس کا استعمال ہوتا ہے چناچہ قرآن میں ہے ۔ إِنَّما يَفْتَرِي الْكَذِبَ الَّذِينَ لا يُؤْمِنُونَ [ النحل/ 105] جھوٹ اور افتراء تو وہی لوگ کیا کرتے ہیں جو خدا کی آیتوں پر ایمان نہیں لاتے

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٨٢{ وَتَجْعَلُوْنَ رِزْقَکُمْ اَنَّکُمْ تُکَذِّبُوْنَ ۔ } ” اور تم نے اپنا نصیب یہ ٹھہرا لیا ہے کہ تم اس کو جھٹلا رہے ہو ! “ اس حوالے سے یہ نکتہ بھی یاد رکھیں کہ قرآن کا جھٹلانا ایک تو زبانی ہے اور دوسرا عملی۔ زبانی اور نظریاتی طور پر تو قرآن مجید کو مشرکین عرب جھٹلاتے تھے یا ہر زمانے کے بہت سے غیر مسلم جھٹلاتے ہیں کہ یہ اللہ کا کلام نہیں بلکہ خود محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی تصنیف ہے۔ جبکہ عملی طور پر اسے ہم مسلمان جھٹلاتے ہیں ۔ ہم نظریاتی طور پر تو اسے اللہ کا کلام مانتے ہیں اور زبان سے اس کا اقرار بھی کرتے ہیں مگر اس کے احکام ماننے سے کھلم کھلا اعراض کرتے ہیں۔ ہماری اس کیفیت کی مثال اللہ تعالیٰ نے یہودیوں کے حوالے سے ان الفاظ میں بیان فرمائی ہے : { مَثَلُ الَّذِیْنَ حُمِّلُوا التَّوْرٰٹۃَ ثُمَّ لَمْ یَحْمِلُوْہَا کَمَثَلِ الْحِمَارِ یَحْمِلُ اَسْفَارًا } (الجمعۃ : ٥) کہ جو لوگ حامل تورات بنائے گئے اور پھر انہوں نے اس کی ذمہ داریوں کو ادا نہ کیا ‘ ان کی مثال اس گدھے کی سی ہے جس پر کتابوں کا بوجھ لدا ہوا ہو۔ اگر آپ ایک گدھے پر مکالماتِ افلاطون اور انسائیکلوپیڈیا برٹانیکا کی تمام جلدیں لاد دیں تو ان کتابوں کو اٹھا لینے سے وہ ان کا عالم تو نہیں بن جائے گا۔ اس آیت کی روشنی میں یہودیوں کے طرزعمل کا جائزہ لیں تو انہوں نے زبان سے کبھی تورات کی تکذیب نہیں کی ‘ بلکہ وہ ابھی تک اسے اپنے سینوں سے لگائے بیٹھے ہیں۔ اس لیے قرآن مجید نے مذکورہ آیت میں ان کی جس تکذیب کا ذکر کیا ہے وہ عملی تکذیب ہے ۔ بالکل اسی طرح ہم بھی آج قرآن مجید کو سینے سے لگائے بیٹھے ہیں ‘ لیکن عملی طور پر اس کے احکام کی تعمیل سے روگردانی کرکے مذکورہ بالا مثال کے مصداق بنے ہوئے ہیں۔ ایک حدیث کے مطابق تو ہمارے اس طرزعمل سے قرآن مجید پر ہمارے زبانی ایمان کی بھی تکذیب ہوتی ہے۔ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : (مَا آمَنَ بِالْقُرْآنِ مَنِ اسْتَحَلَّ مَحَارِِمَہٗ ) (١) (١) سنن الترمذی ‘ ابواب فضائل القرآن ‘ باب ما جاء فیمن قرأ حرفاً من القرآن مالہ من الاجر ‘ ح : ٢٩١٨ ۔ والمعجم الاوسط للطبرانی : ٤/٣٣٧۔ ” جس نے قرآن کی حرام کردہ اشیاء کو اپنے لیے حلال ٹھہرا لیا اس کا قرآن پر کوئی ایمان نہیں۔ “ قرآن مجید کی اس عملی تکذیب کے علاوہ آج ہم مسلمان اس کی ” تکذیب حالی “ کے بھی مرتکب ہو رہے ہیں۔ تکذیب حالی یہ ہے کہ کسی شخص کا حال اس حقیقت کی گواہی دے رہا ہو کہ اس کے نزدیک فلاں چیز کی کوئی اہمیت نہیں ہے۔ قرآن مجید کے حوالے سے اپنی تکذیب حالی کو سمجھنے کے لیے آپ اپنے ہاں کے ایک عام ڈاکٹر کی مثال لے لیں۔ اس نے رات دن ایک کر کے پچیس سال کی عمر میں ایم بی بی ایس کیا۔ پھر FRCS کا امتحان پاس کیا ۔ اس کے بعد وہ امریکہ گیا ‘ وہاں جا کر امتحان دیا۔ وہاں کے بورڈز سے یہ ڈپلومہ ‘ وہ ڈپلومہ…! اس پڑھائی میں اس نے اپنی زندگی کے پینتیس چالیس سال کھپا دیے۔ اس کے بعد وہیں ملازمت اختیار کرلی … یا واپس آکر اپنی ملازمت اور پریکٹس میں کو ہلو کے بیل کی طرح جت گیا۔ مشن کیا ہے ؟ معاش اچھی ہوجائے اور معیارِ زندگی بلند ہوجائے ! یہ مشن تو اس نے حاصل کرلیا ‘ لیکن اپنی زندگی کے ماہ و سال میں سے اس نے قرآن مجید سیکھنے کے لیے کوئی وقت نکالا اور اس کے لیے کوئی محنت کی ؟ اگر اس سوال کا جواب نفی میں ہے تو اس کا حال گویا چیخ چیخ کر گواہی دے رہا ہے کہ اس شخص کی زندگی میں قرآن مجید کی کوئی اہمیت نہیں۔ اور اس کی اصل وجہ یہ ہے کہ اس کے دل کی گہرائیوں میں قرآن مجید کے کلام اللہ ہونے کے بارے میں یقین نہیں۔ یاد رہے کہ سورة الرحمن کی ابتدائی آیات میں قرآن کے حقوق ادا کرنے کی ترغیب مثبت انداز میں دلائی گئی تھی ‘ جبکہ یہاں سورة الواقعہ کے اختتام پر اسی ترغیب کے لیے منفی انداز اپنایا گیا ہے۔ یعنی سورة الرحمن کی چار ابتدائی آیات کے بین السطور میں یہ پیغام مضمر تھا کہ اگر رحمن نے اپنا کلام ” قرآن “ تمہارے پاس بھیجا ہے اور تمہیں ” بیان “ کی صلاحیت سے بھی نوازا ہے تو تمہاری اس طلاقت لسانی کا بہترین اور لازمی مصرف یہی ہے کہ تم اس صلاحیت کو قرآن کے لیے وقف کر دو ۔ جبکہ یہاں سورة الواقعہ کی ان آیات میں یہ تنبیہہ مضمر ہے کہ جو لوگ قرآن کے حقوق کماحقہ ادا نہیں کرتے آخرت میں انہیں اس کے لیے جواب دہ ہونا پڑے گا اور کوتاہی ثابت ہونے پر ان کی سخت گرفت ہوگی۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

41 In his commentary of taj `aluna rizqa-kum, Imam Razi has expressed the view that probably the word rizq here means livelihood. Since the disbelieving Qaraish regarded the message of the Qur'an as harmful to their economic interests and feared that if it succeeded it would deprive them of their means of livelihood, the verse may also mean this: "You have made the denial of this Qur'an a question of your economic interests, and for you the question of the right and wrong is of no consequence; the only thing of real importance in your sight is the bread for the sake of which you would least hesitate to oppose the truth and adhere to the falsehood. "

سورة الْوَاقِعَة حاشیہ نمبر :41 امام رازی نے تَجْعَلُوْنَ رِزْقَکُمْ کی تفسیر میں ایک احتمال یہ بھی ظاہر کیا ہے کہ یہاں لفظ رزق معاش کے معنی میں ہو ۔ چونکہ کفار قریش قرآن کی دعوت کو اپنے معاشی مفاد کے لیے نقصان دہ سمجھتے تھے اور ان کا خیال یہ تھا کہ یہ دعوت اگر کامیاب ہو گئی تو ہمارا رزق مارا جائے گا ، اس لیے اس آیت کا یہ مطلب بھی ہو سکتا ہے کہ تم نے اس قرآن کی تکذیب کو اپنے پیٹ کا دھندا بنا رکھا ہے ۔ تمہارے نزدیک حق اور باطل کا سوال کوئی اہمیت نہیں رکھتا ، اصل اہمیت تمہاری نگاہ میں روٹی کی ہے اور اس کی خاطر حق کی مخالفت کرنے اور باطل کا سہارا لینے میں تمہیں کوئی تامل نہیں ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(56:82) وتجعلون : میں واؤ عاطفہ ہے اور اس کا عطف مدھنون پر ہے۔ رزقکم مضاف مضاف الیہ مل کر مفعول اول تجعلون کا انکم تکذبون الجملہ مفعول ثانی اور تم نے اپنی روزی بنا لی کہ تم جھٹلایا کرو۔ (تفسیر حقانی) رزق بمعنی حصہ، نصیب۔ ترجمہ اس صورت میں ہوگا :۔ قرآن کریم سے تم اپنا حصہ اور نصیب تکذیب کو قرار دیتے ہو (تفسیر مظہری)

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 13 جیسے مینہ برسائے لیکن تم یہ کہو کہ فلاں ستارہ فلاں برج میں آگیا تھا اس لئے بارش ہوگئی۔ حدیث میں ہے کہ یہ کفر یا اللہ تعالیٰ کی نا شکری ہے۔

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

وتجعلون ................ تکذبون (٦ 5: ٢٨) ” کہ تم تکذیب کو اپنا رزق بنا رہے ہو۔ “ اور اس کو توشہ آخرت بنا رہے ہو اور زندگی بھی تم اس تکذیب پر بسر کرتے ہو یا یہ تمہاری خوراک بن گئی ہے۔ کس قدر گندی خوراک ہے یہ۔ جب تمہاری روح حلقوم تک آجاتی ہے اور تم دنیا اور آخرت کے کنارے اور دورا ہے پر کھڑے ہوئے ہو تو تم کیا کرنے والے ہوتے ہو ، تم کر ہی کیا کرسکتے ہو .... پھر قرآن کا انداز تصویر کشی آتا ہے اور اس موقع کی بہترین تصویر کشی کی جاتی ہے۔ یہ تصویر کئی جھلکیوں کے انداز میں ہے اور مختصر جھلکیوں میں سب کچھ دکھا دیا جاتا ہے۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(82) اور کیا تم نے اپنا یہ وظیفہ مقرر کرلیا ہے کہ ہر نعمت کی تکذیب کرتے ہو۔ یعنی تم نے تکذیب اپنی غذا بنا لیا ہے کہ جس طرح کھانا ضروری ہے اسی طرح کلام کی تکذیب کرنا ضروری ہے یہ ایک محاورہ اردو میں بولا کرتے ……ہیں فلاں شخص نے تو میری مخالفت کو روٹی رزق بنا لیا ہے یہاں مطلب یہ ہے کہ قرآن اور قیامت اور پیغمبر کی تکذیب کو غذا اور رزق بنارکھا ہے۔ مطلب کا خلاصہ یہ ہے کہ اس قرآن کو سرسری سمجھتے ہو اور اس سے بڑھ کر یہ کہ ہر نعمت کی تکذیب کو اپنا شیوہ اور روٹی رزق بنا لیا ہے بجائے اس کے کہ نعمت کا شکر بجا لائو تکذیب کرتے ہو اور اسی وجہ سے توحید اور وقوع قیامت کا انکار کرتے ہو اور جھٹلاتے ہو ، آگے تنبیہہ ہے۔