Surat ul Waqiya

Surah: 56

Verse: 96

سورة الواقعة

فَسَبِّحۡ بِاسۡمِ رَبِّکَ الۡعَظِیۡمِ ﴿۹۶﴾٪  16

So exalt the name of your Lord, the Most Great.

پس تو اپنے عظیم الشان پروردگار کی تسبیح کر ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

So, glorify with praises the Name of your Lord, the Most Great. Jabir narrated that the Messenger of Allah said, مَنْ قَالَ سُبْحَانَ اللهِ الْعَظِيمِ وَبِحَمْدِهِ غُرِسَتْ لَهُ نَخْلَةٌ فِي الْجَنَّة He who says, "Glory be to Allah the Magnificent and with His praise!" then a date tree will be planted for him in Paradise. This Hadith was collected by At-Tirmidhi and An-Nasa'i; At-Tirmidhi said, "Hasan Gharib." Al-Bukhari recorded in his book (Sahih) that Abu Hurayrah said that the Messenger of Allah said, كَلِمَتَانِ خَفِيفَتَانِ عَلَى اللِّسَانِ ثَقِيلَتَانِ فِي الْمِيزَانِ حَبِيبَتَانِ إِلَى الرَّحْمنِ سُبْحَانَ اللهِ وَبِحَمْدِهِ سُبْحَانَ اللهِ الْعَظِيم (There are) two statements that are light on the tongue, but heavy on the Balance, and most beloved to Ar-Rahman: "Glory be to Allah and with His praise, glory be to Allah the Magnificent." The Group, with the exception of Abu Dawud, collected this. This is the end of the Tafsir of Surah Al-Waqi`ah, all praise and thanks are due to Allah and all the favors come from Him.

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

961حدیث میں آتا ہے کہ دو کلمے اللہ کو بہت محبوب ہیں، زبان پر ہلکے اور وزن میں بھاری۔ سُبْحَان اللّٰہِ وَ بِحَمْدِہِ سُبْحَان اللّٰہِ الْعَظِیْمِ (صحیح بخاری) ۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٤٤] تسبیح وتحمید کی فضیلت اور فوائد :۔ تسبیح وتحمید میں مشغول رہنا ہی آخرت کی سب سے بڑی تیاری ہے۔ اس نیک مشغلہ سے جھٹلانے والوں کی دل آزار بیہودگی سے بھی یکسوئی رہتی ہے اور ان کے باطل خیالات کا رد بھی ہوتا ہے اور سیدنا عقبہ بن عامر جہنی (رض) کہتے ہیں کہ جب یہ آیت نازل ہوئی تو رسول اللہ نے حکم دیا کہ اس کو تم لوگ اپنے رکوع میں رکھو یعنی (سُبْحَانَ رَبِّیَ الْعَظِیْمِ ) پڑھا کرو اور جب سبح اسم ربک الاعلٰی نازل ہوئی تو آپ نے فرمایا اسے اپنے سجدے میں رکھو یعنی (سُبْحَانَ رَبِّیَ الاَعْلٰی) کہا کرو۔ (مسند احمد، ابو داؤد) گویا آپ نے نماز کا جو طریقہ مقرر فرمایا اس کے چھوٹے چھوٹے اجزاء بھی قرآن کریم کے اشاروں سے ماخوذ ہیں۔ تسبیح وتحمید کی فضیلت میں وہ حدیث نہایت جامع ہے جو امام بخاری نے اپنی کتاب کے آخر میں درج فرمائی ہے جو یہ ہے۔ سیدنا ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ نے فرمایا دو کلمے ہیں جو اللہ تعالیٰ کو بہت محبوب ہیں۔ زبان سے ادائیگی کے لحاظ سے ہلکے پھلکے مگر میزان اعمال میں بہت وزنی ہیں اور وہ ہیں (سُبْحَان اللّٰہِ وَبِحَمْدِہِ سُبْحَان اللّٰہِ الْعَظِیْمِ ) (بخاری۔ کتاب التوحید باب قولہ تعالیٰ وَنَضَعُ الْمَوَازِ یْنَ الْقِسْطَ )

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

فَسَبِّحْ بِاسْمِ رَ‌بِّكَ الْعَظِيمِ (So, proclaim the purity of the name of your Lord, the Magnificent... 56:96). The Surah concludes with an imperative addressed to the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) to pronounce the tasbih of His Lord. This includes all kinds of tasbihat (rememberances)- within salah and outside salah. Salah itself is sometimes referred to as tasbih. Thus this verse enjoins to keep up the regular performance of salah. Al-hamdulillah The Commentary on Surah Al-Waqi` ah Ends here.

فَسَبِّحْ باسْمِ رَبِّكَ الْعَظِيْمِ ، ختم سورة پر نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو خطاب ہے کہ آپ اپنے رب کے نام کی تسبیح پڑھتے رہئے، یعنی اس کی پاکی تمام ان چیزوں سے جو اس کے لائق شان ہیں بیان کرتے رہئے، اس میں نماز کی تسبیحات بھی داخل ہیں اور خارج نماز کی تسبیحات بھی اور خود نماز کو بھی بعض اوقات تسبیح سے تعبیر کردیا جاتا ہے تو یہ حکم نماز کے اہتمام کا بھی ہوگیا، واللہ سبحانہ و تعالیٰ اعلم۔ تمت سورة الواقعة بحمد اللہ وعونہ لیلة الثلاثاء لعشرین من ربیع الثانی س 1391 ھ ویتلوہ انشآء اللہ تعالیٰ سورة الحدید

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

فَسَبِّحْ بِاسْمِ رَبِّكَ الْعَظِيْمِ۝ ٩٦ ۧ سبح السَّبْحُ : المرّ السّريع في الماء، وفي الهواء، يقال : سَبَحَ سَبْحاً وسِبَاحَةً ، واستعیر لمرّ النجوم في الفلک نحو : وَكُلٌّ فِي فَلَكٍ يَسْبَحُونَ [ الأنبیاء/ 33] ، ولجري الفرس نحو : وَالسَّابِحاتِ سَبْحاً [ النازعات/ 3] ، ولسرعة الذّهاب في العمل نحو : إِنَّ لَكَ فِي النَّهارِ سَبْحاً طَوِيلًا[ المزمل/ 7] ، والتَّسْبِيحُ : تنزيه اللہ تعالی. وأصله : المرّ السّريع في عبادة اللہ تعالی، وجعل ذلک في فعل الخیر کما جعل الإبعاد في الشّرّ ، فقیل : أبعده الله، وجعل التَّسْبِيحُ عامّا في العبادات قولا کان، أو فعلا، أو نيّة، قال : فَلَوْلا أَنَّهُ كانَ مِنَ الْمُسَبِّحِينَ [ الصافات/ 143] ، ( س ب ح ) السبح اس کے اصل منعی پانی یا ہوا میں تیز رفتار ری سے گزر جانے کے ہیں سبح ( ف ) سبحا وسباحۃ وہ تیز رفتاری سے چلا پھر استعارہ یہ لفظ فلک میں نجوم کی گردش اور تیز رفتاری کے لئے استعمال ہونے لگا ہے ۔ جیسے فرمایا : ۔ وَكُلٌّ فِي فَلَكٍ يَسْبَحُونَ [ الأنبیاء/ 33] سب ( اپنے اپنے ) فلک یعنی دوائر میں تیز ی کے ساتھ چل رہے ہیں ۔ اور گھوڑے کی تیز رفتار پر بھی یہ لفظ بولا جاتا ہے جیسے فرمایا : ۔ وَالسَّابِحاتِ سَبْحاً [ النازعات/ 3] اور فرشتوں کی قسم جو آسمان و زمین کے درمیان ) تیر تے پھرتے ہیں ۔ اور کسی کام کو سرعت کے ساتھ کر گزرنے پر بھی یہ لفظ بولا جاتا ہے جیسے فرمایا : ۔ إِنَّ لَكَ فِي النَّهارِ سَبْحاً طَوِيلًا[ المزمل/ 7] اور دن کے وقت کو تم بہت مشغول کا رہے ہو ۔ التسبیح کے معنی تنزیہ الہیٰ بیان کرنے کے ہیں اصل میں اس کے معنی عبادت الہی میں تیزی کرنا کے ہیں ۔۔۔۔۔۔ پھر اس کا استعمال ہر فعل خیر پر ہونے لگا ہے جیسا کہ ابعاد کا لفظ شر پر بولا جاتا ہے کہا جاتا ہے ابعد اللہ خدا سے ہلاک کرے پس تسبیح کا لفظ قولی ۔ فعلی اور قلبی ہر قسم کی عبادت پر بولا جاتا ہے ۔ قرآن میں ہے : ۔ فَلَوْلا أَنَّهُ كانَ مِنَ الْمُسَبِّحِينَ [ الصافات/ 143] قو اگر یونس (علیہ السلام) اس وقت ( خدا کی تسبیح ( و تقدیس کرنے والوں میں نہ ہوتے ۔ یہاں بعض نے مستحین کے معنی مصلین کئے ہیں لیکن انسب یہ ہے کہ اسے تینوں قسم کی عبادت پر محمول کیا جائے اسْمُ والِاسْمُ : ما يعرف به ذات الشیء، وأصله سِمْوٌ ، بدلالة قولهم : أسماء وسُمَيٌّ ، وأصله من السُّمُوِّ وهو الذي به رفع ذکر الْمُسَمَّى فيعرف به، قال اللہ : بِسْمِ اللَّهِ [ الفاتحة/ 1] ، وقال : ارْكَبُوا فِيها بِسْمِ اللَّهِ مَجْراها [هود/ 41] ، بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمنِ الرَّحِيمِ [ النمل/ 30] ، وَعَلَّمَ آدَمَ الْأَسْماءَ [ البقرة/ 31] ، أي : لألفاظ والمعاني مفرداتها ومرکّباتها . وبیان ذلک أنّ الاسم يستعمل علی ضربین : أحدهما : بحسب الوضع الاصطلاحيّ ، وذلک هو في المخبر عنه نحو : رجل وفرس . والثاني : بحسب الوضع الأوّليّ. ويقال ذلک للأنواع الثلاثة المخبر عنه، والخبر عنه، والرّابط بينهما المسمّى بالحرف، وهذا هو المراد بالآية، لأنّ آدم عليه السلام کما علم الاسم علم الفعل، والحرف، ولا يعرف الإنسان الاسم فيكون عارفا لمسمّاه إذا عرض عليه المسمّى، إلا إذا عرف ذاته . ألا تری أنّا لو علمنا أَسَامِيَ أشياء بالهنديّة، أو بالرّوميّة، ولم نعرف صورة ما له تلک الأسماء لم نعرف الْمُسَمَّيَاتِ إذا شاهدناها بمعرفتنا الأسماء المجرّدة، بل کنّا عارفین بأصوات مجرّدة، فثبت أنّ معرفة الأسماء لا تحصل إلا بمعرفة المسمّى، و حصول صورته في الضّمير، فإذا المراد بقوله : وَعَلَّمَ آدَمَ الْأَسْماءَ كُلَّها [ البقرة/ 31] ، الأنواع الثلاثة من الکلام وصور المسمّيات في ذواتها، وقوله : ما تَعْبُدُونَ مِنْ دُونِهِ إِلَّا أَسْماءً سَمَّيْتُمُوها [يوسف/ 40] ، فمعناه أنّ الأسماء التي تذکرونها ليس لها مسمّيات، وإنما هي أسماء علی غير مسمّى إذ کان حقیقة ما يعتقدون في الأصنام بحسب تلک الأسماء غير موجود فيها، وقوله : وَجَعَلُوا لِلَّهِ شُرَكاءَ قُلْ سَمُّوهُمْ [ الرعد/ 33] ، فلیس المراد أن يذکروا أساميها نحو اللّات والعزّى، وإنما المعنی إظهار تحقیق ما تدعونه إلها، وأنه هل يوجد معاني تلک الأسماء فيها، ولهذا قال بعده : أَمْ تُنَبِّئُونَهُ بِما لا يَعْلَمُ فِي الْأَرْضِ أَمْ بِظاهِرٍ مِنَ الْقَوْلِ [ الرعد/ 33] ، وقوله : تَبارَكَ اسْمُ رَبِّكَ [ الرحمن/ 78] ، أي : البرکة والنّعمة الفائضة في صفاته إذا اعتبرت، وذلک نحو : الكريم والعلیم والباري، والرّحمن الرّحيم، وقال : سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى [ الأعلی/ 1] ، وَلِلَّهِ الْأَسْماءُ الْحُسْنى [ الأعراف/ 180] ، وقوله : اسْمُهُ يَحْيى لَمْ نَجْعَلْ لَهُ مِنْ قَبْلُ سَمِيًّا [ مریم/ 7] ، لَيُسَمُّونَ الْمَلائِكَةَ تَسْمِيَةَ الْأُنْثى [ النجم/ 27] ، أي : يقولون للملائكة بنات الله، وقوله : هَلْ تَعْلَمُ لَهُ سَمِيًّا [ مریم/ 65] أي : نظیرا له يستحقّ اسمه، وموصوفا يستحقّ صفته علی التّحقیق، ولیس المعنی هل تجد من يتسمّى باسمه إذ کان کثير من أسمائه قد يطلق علی غيره، لکن ليس معناه إذا استعمل فيه كما کان معناه إذا استعمل في غيره . الاسم کسی چیز کی علامت جس سے اسے پہچانا جائے ۔ یہ اصل میں سمو ہے کیونکہ اس کی جمع اسماء اور تصغیر سمی آتی ہے ۔ اور اسم کو اسم اس لئے کہتے ہیں کہ اس سے مسمیٰ کا ذکر بلند ہوتا ہے اور اس کی معرفت حاصل ہوتی ہے ۔ قرآن میں ہے :۔ ارْكَبُوا فِيها بِسْمِ اللَّهِ مَجْراها [هود/ 41] اور ( نوح (علیہ السلام) نے ) کہا کہ خدا کا نام لے کر ( کہ اس کے ہاتھ میں ) اس کا چلنا ( ہے ) سوار ہوجاؤ۔ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمنِ الرَّحِيمِ [ النمل/ 30] وہ سلیمان کی طرف سے ہے اور مضمون یہ ہے ) کہ شروع خدا کا نام لے کر جو بڑا مہربان اور نہایت رحم والا ہے ۔ اور آیت : وَعَلَّمَ آدَمَ الْأَسْماءَ [ البقرة/ 31] اور اس آدم کو سب ( چیزوں کے ) نام سکھائے ۔ میں اسماء سے یہاں الفاظ و معانی دونوں مراد ہیں ۔ خواہ مفردہوں خواہ مرکب اس اجمال کی تفصیل یہ ہے ۔ کہ لفظ اسم دو طرح استعمال ہوتا ہے ۔ ایک اصطلاحی معنی میں اور اس صورت میں ہمیشہ مخبر عنہ بنتا ہے ۔ جیسے رجل وفرس دوم وضع اول کے لحاظ سے اس اعتبار سے ( کلمہ کی ) انواع ثلاثہ یعنی مخبر عنہ ( اسم ) خبر اور رابطہ ( حرف ) تینوں پر اس معنی مراد ہیں ۔ کیونکہ آدم (علیہ السلام) نے جس طرح اسماء کی تعلیم حاصل کی تھی ۔ اسی طرح افعال وحروف کا علم بھی نہیں حاصل ہوگیا تھا اور یہ ظاہر ہے کہ جب تک کسی چیز کی ذات کا علم حاصل نہ ہو محض نام کے جاننے سے انسان اسے دیکھ کر پہچان نہیں سکتا ہے مثلا اگر ہم ہندی یا رومی زبان میں چند چیزوں کے نام حفظ کرلیں تو ان چیزوں کے اسماء کے جاننے سے ہم ان کے مسمیات کو نہیں پہچان سکیں گے ۔ بلکہ ہمار علم انہیں چند اصوات تک محدود رہے گا اس سے ثابت ہوا کہ اسماء کی معرفت مسمیات کی معرفت کو مستلزم نہیں ہے اور نہ ہی محض اسم سے مسمی ٰ کی صورت ذہن میں حاصل ہوسکتی ہے ۔ لہذا آیت : وَعَلَّمَ آدَمَ الْأَسْماءَ كُلَّها [ البقرة/ 31] میں اسماء سے کلام کی انواع ثلاثہ اور صورۃ مسمیات بمع ان کی ذوات کے مراد ہیں اور آیت ما تَعْبُدُونَ مِنْ دُونِهِ إِلَّا أَسْماءً سَمَّيْتُمُوها [يوسف/ 40] جن چیزوں کی تم خدا کے سوا پرستش کرتے ہو وہ صرف نام ہی نام ہیں جو تم نے رکھ لئے ہیں ۔ کے معنی یہ ہیں ک جن اسماء کی تم پرستش کرتے ہو ان کے مسمیات نہیں ہیں ۔ کیونکہ و اصنام ان اوصاف سے عاری تھے ۔ جن کا کہ وہ ان اسماء کے اعتبار سے ان کے متعلق اعتقاد رکھتے تھے ۔ اور آیت : وَجَعَلُوا لِلَّهِ شُرَكاءَ قُلْ سَمُّوهُمْ [ الرعد/ 33] اور ان لوگوں نے خدا کے شریک مقرر کر رکھے ہیں ۔ ان سے کہو کہ ( ذرا ) انکے نام تولو ۔ میں سموھم سے یہ مراد نہیں ہے کہ لات ، عزی وغیرہ ان کے نام بیان کرو بلکہ آیت کے معنی پر ہیں کہ جن کو تم الاۃ ( معبود ) کہتے ہو ان کے متعلق تحقیق کرکے یہ تو بتاؤ کہ آیا ان میں ان اسماء کے معانی بھی پائے جاتے ہیں ۔ جن کے ساتھ تم انہیں موسوم کرتے ہو ( یعنی نہیں ) اسی لئے اس کے بعد فرمایا أَمْ تُنَبِّئُونَهُ بِما لا يَعْلَمُ فِي الْأَرْضِ أَمْ بِظاهِرٍ مِنَ الْقَوْلِ [ الرعد/ 33] ( کہ ) کیا تم اسے ایسی چیزیں بتاتے ہو جس کو وہ زمین میں ( کہیں بھی ) معلوم نہیں کرتا یا ( محض ) ظاہری ( باطل اور جھوٹی ) بات کی ( تقلید کرتے ہو ۔ ) اور آیت : تَبارَكَ اسْمُ رَبِّكَ [ الرحمن/ 78] تمہارے پروردگار ۔۔ کا نام برا بابر کت ہے ۔ میں اسم رب کے بابرکت ہونے کے معنی یہ ہیں ک اس کی صفات ۔ الکریم ۔ العلیم ۔ الباری ۔ الرحمن الرحیم کے ذکر میں برکت اور نعمت پائی جاتی ہے جیسا ک دوسری جگہ فرمایا : سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى [ الأعلی/ 1] ( اے پیغمبر ) اپنے پروردگار جلیل الشان کے نام کی تسبیح کرو ۔ وَلِلَّهِ الْأَسْماءُ الْحُسْنى [ الأعراف/ 180] اور خدا کے نام سب اچھے ہی اچھے ہیں ۔ اور آیت : اسْمُهُ يَحْيى لَمْ نَجْعَلْ لَهُ مِنْ قَبْلُ سَمِيًّا[ مریم/ 7] اسمہ یحیٰ لم نجعل لہ من قبل سمیا َ (719) جس کا نام یحیٰ ہے ۔ اس سے پہلے ہم نے اس نام کا کوئی شخص پیدا نہیں کیا ۔ میں سمیا کے معنی ہم نام ، ، کے ہیں اور آیت :۔ هَلْ تَعْلَمُ لَهُ سَمِيًّا[ مریم/ 65] بھلا تم اس کا کوئی ہم نام جانتے ہو ۔ میں سمیا کے معنی نظیر کے ہیں یعنی کیا اس کی کوئی نظیر ہے جو اس نام کی مستحق ہوا اور حقیقتا اللہ کی صفات کے ساتھ متصف ہو اور اس کے یہ معنی نہیں ہیں کہ کیا تم کسی بھی پاتے ہو جو اس کے نام سے موسوم ہوکیون کہ ایسے تو اللہ تعالیٰ کے بہت سے اسماء ہیں جن کا غیر اللہ پر بھی اطلاق ہوسکتا ہے یا ہوتا ہے لیکن اس سے یہ لازم نہیں آتا ہے کہ ان سے معافی بھی وہی مراد ہوں جو اللہ تعالیٰ پر اطلاق کے وقت ہوتے ہیں ۔ اور آیت : لَيُسَمُّونَ الْمَلائِكَةَ تَسْمِيَةَ الْأُنْثى[ النجم/ 27] اور وہ فرشتوں کو ( خدا کی ) لڑکیوں کے نام سے موسوم کرتے ہیں ۔ میں لڑکیوں کے نام سے موسوم کرنے کے معنی یہ ہیں ۔ کہ وہ فرشتوں کو بنات اللہ کہتے ہیں ۔ عظیم وعَظُمَ الشیء أصله : كبر عظمه، ثم استعیر لكلّ كبير، فأجري مجراه محسوسا کان أو معقولا، عينا کان أو معنی. قال : عَذابَ يَوْمٍ عَظِيمٍ [ الزمر/ 13] ، قُلْ هُوَ نَبَأٌ عَظِيمٌ [ ص/ 67] ، ( ع ظ م ) العظم عظم الشئی کے اصل معنی کسی چیز کی ہڈی کے بڑا ہونے کے ہیں مجازا ہر چیز کے بڑا ہونے پر بولا جاتا ہے خواہ اس کا تعلق حس سے یو یا عقل سے اور عام اس سے کہ وہ مادی چیز ہو یا معنو ی قرآن میں ہے : ۔ عَذابَ يَوْمٍ عَظِيمٍ [ الزمر/ 13] بڑے سخت دن کا عذاب ) تھا ۔ قُلْ هُوَ نَبَأٌ عَظِيمٌ [ ص/ 67] کہہ دو کہ وہ ایک سخت حادثہ ہے ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٩٦{ فَسَبِّحْ بِاسْمِ رَبِّکَ الْعَظِیْمِ ۔ } ” پس آپ تسبیح کیجیے اپنے رب کے نام کی جو کہ بہت عظمت والا ہے۔ “ اس کے جواب میں امتثالِ امر کے طور پر کہا جائے گا : سُبْحَانَ رَبِّیَ الْعَظِیْمِ ! یہ آیت اس سورت میں دو مرتبہ آئی ہے۔ جب یہ آیت نازل ہوئی تو حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : (اِجْعَلُوْھَا فِیْ رُکُوْعِکُمْ ) (١) (١) سنن ابی داوٗد ‘ کتاب الصلاۃ ‘ باب ما یقول الرجل فی رکوعہ وسجودہ ‘ ح : ٨٦٩ و صحیح ابن حبان ‘ ح : ١٨٩٨۔۔۔۔۔۔۔ اسی طرح جب آیت { سَبِّحِ اسْمَ رَبِّکَ الْاَعْلٰی ۔ } (الاعلیٰ ) نازل ہوئی تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : (اِجْعَلُوْھَا فِیْ سُجُُوْدِکُمْ ) کہ اس کو تم لوگ اپنے سجدوں میں رکھ دو ۔ کہ اس کو تم لوگ اپنے رکوع میں رکھ دو ۔ چناچہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اس فرمان کے مطابق رکوع کی تسبیح سُبْحَانَ رَبِّیَ الْعَظِیْم اس آیت سے اخذ کی گئی ہے۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

42 Hadrat `Uqbah bin `Amir Juhni relates that when this verse was sent down the Holy Prophet (upon whom be Allah's peace) commanded that the people put it in their ruku`, i.e. they should recite Subhana Rabbi -yal-`Azim in ruku ' position in the Prayer. And when the verse Sabbih-ismi-Rabb-i- kal-A'la was Sent down, he enjoined that they put it in their sajdah, i.e. they should recite Subhana Rabb-i -yal-A 7a in sajdah. (Musnad Ahmad, Abu Da'ud, Ibn Majah, Ibn Hibban, Hakim). This show that even the most minor details of the procedure enjoined by the Holy Prophet (upon whom be Allah's peace) for the Prayer are derived from the allusions given in the Qur'an. and pious, for they were most worthy and deserving of aII mankind. Here also it was not said that the news was being given only abut those who were believers among them. Then in the initial sentences also of this verse itself the characteristics mentioned arc of alI those people who were with the Holy Prophet Muhammad (upon whom be Allah's peace and blessings). The words are to the effect that aII the people who are with him have this and this quality and characteristic. After this, suddenly in the last sentence there could be no excuse to say that some of them were the believers and others were not.

سورة الْوَاقِعَة حاشیہ نمبر :42 حضرت عقبہ بن عامر جہنی کی روایت ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ اس کو تم لوگ اپنے رکوع میں رکھ دو ، یعنی رکوع میں سُبْحَانَ رَبِّیَ الْعَظِیْم کہا کرو ۔ اور جب آیت سَبِّحِ اسْمَ رَبِّکَ الْاَعْلیٰ نازل ہوئی تو آپ نے فرمایا اسے اپنے سجدے میں رکھو ، یعنی سُبْحَانَ رَبِّیَ الْاَعْلیٰ کہا کرو ( مسند احمد ، ابوداؤد ، ابن ماجہ ، ابن حبان ، حاکم ) ۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز کا جو طریقہ مقرر فرمایا ہے اس کے چھوٹے سے چھوٹے اجزاء تک قرآن پاک کے اشاروں سے ماخوذ ہیں ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(56:96) فسبح : ف ترتیب کا ہے سبح فعل امر واحد مذکر حاضر تسبیح (تفعیل) مصدر۔ تو تسبیح بیان کر۔ تو پاکی بیان کر۔ تسبیح اصل میں ہر اس چیز سے جو اس کے کمال و جلال کے شایان شان نہیں پاکی ہے۔ باسم میں ب کو اسم پر جو کہ مفعول ہے داخل کیا گیا۔ حالانکہ فعل فسبح بذات خود فعل متعدی ہے۔ اور اس کے بغیر عبارت فسبح اسم ربک العظیم کے بھی وہی معنی ہیں جو فسبح باسم ربک العظیم کے ہیں۔ اس کی وضاحت قرآن مجید کی اس آیت سے ہوتی ہے سبح اسم ربک الاعلی (87:1) اپنے پروردگار کے نام کی تسبیح کرو۔ لیکن مفعول پر ب تعدیہ کا داخل کرنا قرآن مجید میں اکثر آیا ہے۔ جیسے ارشاد باری تعالیٰ ہے وھزی الیک بحذح النخلۃ (19:25) اور کھجور کے تنے کو پکڑ کر اپنی طرف ہلاؤ ۔ اس کے بھی وہی معنی ہیں جو وھزی الیک جذع النخلۃ کے ہیں۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 7 حضرت عائشہ سے روایت ہے کہ جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر آیت فسبح باسم ربک العظیم نازل ہوئی تو آپ نے فرمایا :” اسے اپنے رکوع میں پڑھا کرو۔ “ اور جب ’ دسبح اسم ربک الاعلیٰ نازل ہوئی تو آپ نے فرمایا ” اسے اپنے سجدہ میں پڑھا کرو۔ “ (شوکانی)

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

یہ آیت سورة الواقعہ کی آخری آیت ہے اس سے پہلا رکوع بھی انہیں الفاظ پر ختم ہوا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی نعمتیں دنیاوی واخروی بیان کرنے اور کافروں کو تذکیر و تنبیہ فرمانے کے بعد ارشاد فرمایا کہ آپ اپنے رب کی تسبیح بیان کیجئے جو عظیم ہے ہر عیب اور ہر نقص سے پاک ہے اس کی طرف سے جو اخبار اور تبشیر ہے سب صحیح ہے یوں تو ہمیشہ ہی اللہ تعالیٰ کی تسبیح بیان کی جائے اور اس کی حمدوثناء میں لگے رہیں۔ لیکن جن مواقع میں خصوصیت کے ساتھ تسبیح اور تحمید کا خصوصی اہتمام کرنے کو فرمایا ہے ان مواقع میں خاص طور سے اسکا خیال رکھنا چاہئے۔ حضرت عقبہ بن عامر (رض) سے روایت ہے کہ جب ﴿ فَسَبِّحْ باسْمِ رَبِّكَ الْعَظِيْمِ (رح) ٠٠٩٦﴾ نازل ہوئی تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : ( اجعلوھا فی رکو عكم) کہ اسے اپنے رکوع میں مقرر کرلو (یعنی رکوع میں (سبحان ربی العظیم) کہا کرو پھر جب ﴿سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْاَعْلَىۙ٠٠١﴾ نازل ہوئی تو فرمایا کہ اسے اپنے سجدے میں پڑھنے کے لیے مقرر کرلو (یعنی سجدہ میں سبحان ربی الاعلی کہا کرو)ـ (مشکوۃ المصابیح : ص ٨٢) فائدہ : حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا کہ جو شخص ہر رات کو سورة واقعہ پڑھ لے اسے کبھی بھی فاقہ نہ ہوگا یعنی تنگدستی لاحق نہ ہوگی۔ حضرت ابن مسعود (رض) اپنی لڑکیوں کو حکم دیتے تھے کہ روزانہ ہر رات کو اس سورة کو پڑھا کریں۔ (راجع شعب الایمان ص ٤٩٢: ج ٢) حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کے مرض وفات میں حضرت عثمان غنی (رض) عیادت کے لیے تشریف لے گئے۔ حضرت عثمان (رض) نے پوچھا : فما تشتھی (یعنی آپ کیا چاہتے ہیں) فرمایا رحمۃ ربی (یعنی اپنے رب کی رحمت چاہتا ہوں) پھر حضرت عثمان (رض) نے فرمایا میں آپ کے لیے کسی طبیب (معالج) کو بلالوں ؟ فرمایا : (الطبیب امرضنی) مجھے طبیب ہی نے بیمار کیا ہے یعنی طبیب حقیقی اللہ تعالیٰ ہی ہے اسی نے مجھے بیماری دی ہے اس کے سوا کس طبیب کو بلاؤ گے پھر حضرت عثمان (رض) نے فرمایا کہ میں آپ کے لیے کوئی عطیہ بھیج دوں، فرمایا مجھے کوئی حاجت نہیں، حضرت عثمان نے فرمایا قبول کرلو اپنے گھر والوں کے لیے چھوڑ جانا، فرمایا میں نے انہیں ایک چیز سکھا دی ہے اسے پڑھتے رہیں گے تو کبھی محتاج نہ ہوں گے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے میں نے سنا ہے کہ (من قراء الواقعة كل لیلة لم یفتقر) (جو شخص ہر رات سورة واقعہ پڑھ لے گا کبھی محتاج نہ ہوگا) ۔ (البیہقی فی شعب الایمان صفحہ ٤٩١: ج ٤) علموا نسائكم سورة الواقعة فانھا سورة الغنی۔ (کہ اپنی عورتوں کو سورة واقعہ سکھاؤ، کیونکہ وہ غنی (یعنی مالداری) لانے والی سورت ہے) ۔ (کنزالعمال صفحہ ٥٩٢: ج ١) ولقد تم تفسیر سورة الواقعة بفضل اللہ تعالیٰ فالحمدلہ اولاوآخرًا و باطنا وظاھرًا

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

33:۔ ” فسبح باسم ربک العظیم “ آخر میں دعوی سورت کا اعادہ ہے۔ برکات دہندہ صرف اللہ تعالیٰ ہی ہے اور کوئی نہیں اسلیے برکت دینے میں اس کو شریکوں سے پاک سمجھو اور ہر قسم کے شرک سے اس کی پاکیزگی اور تنزیہ بیان کرو۔ واخر دعوانا ان الحمد للہ رب العالمین۔ سورة واقعہ میں آیات توحید اور اس کی خصوصیات : ” فسبح باسم ربک العظیم دو مرتبہ۔ سورة واقعہ ختم ہوئی

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(96) سوائے پیغمبر آپ اپنے عظیم الشان پروردگار کے نام کی پاکی بیان کیجئے۔ حدیث میں ہے فرمایا رسول خدا (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جو شخص ہر رات میں سورة واقعہ پڑھ لیا کرے گا اس کو فاقے کی تکلیف کبھی نہیں ہوگی۔ حدیث میں ہے دو کلمے ہیں جو زبان پر ہلکے میزان میں بھاری اور رحمان کو محبوب ہیں وہ دونوں کلمے سبحان اللہ وبحمدہ سبحان اللہ العظیم ہیں تم تفسیر سورة الواقعۃ