Surat ul Hadeed

Surah: 57

Verse: 24

سورة الحديد

الَّذِیۡنَ یَبۡخَلُوۡنَ وَ یَاۡمُرُوۡنَ النَّاسَ بِالۡبُخۡلِ ؕ وَ مَنۡ یَّتَوَلَّ فَاِنَّ اللّٰہَ ہُوَ الۡغَنِیُّ الۡحَمِیۡدُ ﴿۲۴﴾

[Those] who are stingy and enjoin upon people stinginess. And whoever turns away - then indeed, Allah is the Free of need, the Praiseworthy.

جو ( خود بھی ) بخل کریں اور دوسروں کو بھی بخل کی تعلیم دیں ۔ سنو! جو بھی منہ پھیرے اللہ بے نیاز اور سزاوار حمد و ثنا ہے ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

الَّذِينَ يَبْخَلُونَ وَيَأْمُرُونَ النَّاسَ بِالْبُخْلِ ... Those who are misers and enjoin miserliness upon people. meaning those who commit evil and encourage people to commit it, ... وَمَن يَتَوَلَّ ... And whosoever turns away, from abiding by Allah's commandments and obeying Him, ... فَإِنَّ اللَّهَ هُوَ الْغَنِيُّ الْحَمِيدُ then Allah is Rich, Worthy of all praise. As Musa, peace be upon him, said, إِن تَكْفُرُواْ أَنتُمْ وَمَن فِى الاٌّرْضِ جَمِيعًا فَإِنَّ اللَّهَ لَغَنِىٌّ حَمِيدٌ If you disbelieve you and all on earth together, then verily, Allah is Rich, Owner of all praise. (14:8)

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

241یعنی انفاق فی سبیل اللہ سے، کیونکہ اصل بخل یہی ہے۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

١۔ نِالَّذِیْنَ یَبْخَلُوْنَ وَیَاْمُرُوْنَ النَّاسَ بِالْبُخْلِ ط : مراد اس سے منافقین ہیں جو کلمہ پڑھ کر مسلمان ہوچکے تھے ، مگر جب جہاد کا موقع آتا تو جنگ میں شرکت سے گریز کرتے اور خرچ کرنے سے بخل کرتے ، بلکہ اپنے ہم نواؤں کو بھی خرچ کرنے سے منع کرتے تھے ، جیسا کہ دوسری جگہ فرمایا :(ھُمُ الَّذِیْنَ یَقُوْلُوْنَ لَا تُنْفِقُوْا عَلٰی مَنْ عِنْدَ رَسُوْلِ اللہ ِ حَتّٰی یَنْفَضُّوْاط وَ ِﷲِ خَزَآئِنُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَلٰـکِنَّ الْمُنٰـفِقِیْنَ لَا یَفْقَھُوْنَ (المنافقون : ٧)” یہ وہی ہیں جو کہتے ہیں کہ ان لوگوں پر خرچ نہ کرو جو اللہ تعالیٰ کے رسول کے پاس ہیں ، یہاں تک کہ وہ منتشر ہوجائیں ، حالانکہ آسمانوں کے اور زمین کے خزانے اللہ ہی کے ہیں اور لیکن منافق نہیں سمجھتے۔ “ ٢۔ وَمَنْ یَّتَوَلَّ فَاِنَّ اللہ ہُوَ الْغَنِیُّ الْحَمِیْدُ : ضمیر فصل ” ھو “ لانے سے اور خبر ” الغنی الحمید “ پر الف لام لانے سے حصر پیدا ہو رہا ہے کہ اللہ ہی غنی وحمید ہے ، کوئی اور نہیں ۔ یعنی جو شخص اتنی نصیحت سن کر بھی جہاد خرچ کرنے سے منہ موڑے اور سمجھے کہ اس کے خرچ نہ کرنے سے اسلام اور مسلمانوں کا کوئی نقصان ہوجائے گا تو اس کا یہ خیال باطل ہے ، کیونکہ آسمان و زمین کے تمام خزانوں کا مالک تو صرف اللہ تعالیٰ ہے ( جیسا کہ پچھلے فائدے میں گزرا) اور غنی وہ اکیلا ہی ہے ، دوسرے سب اس کے محتاج ہیں ، جو کوئی بھی خرچ کرتا ہے اس کے دیے میں سے خرچ کرتا ہے اور اپنے فائدہ کے لیے خرچ کرتا ہے ، اللہ تعالیٰ اس کے خرچ کرنے سے بےنیاز ہے ۔ غنی کے ساتھ حمید کی صفت بیان فرمائی ، کیونکہ بہت سے اغنیاء عارضی غنی کے مالک ہونے کے باوجود اپنی غنی کو مذموم کاموں میں استعمال کرتے ہیں مگر اللہ ایسا غنی ہے کہ وہ ہر مذموم صفت اور فعل سے پاک ہے اور تمام کمالات اور خوبیوں کا مالک ہے۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

الَّذِيْنَ يَبْخَلُوْنَ وَيَاْمُرُوْنَ النَّاسَ بِالْبُخْلِ۝ ٠ ۭ وَمَنْ يَّتَوَلَّ فَاِنَّ اللہَ ہُوَالْغَنِيُّ الْحَمِيْدُ۝ ٢٤ بخل البُخْلُ : إمساک المقتنیات عمّا لا يحق حبسها عنه، ويقابله الجود، يقال : بَخِلَ فهو بَاخِلٌ ، وأمّا البَخِيل فالذي يكثر منه البخل، کالرحیم من الراحم . والبُخْلُ ضربان : بخل بقنیات نفسه، وبخل بقنیات غيره، وهو أكثرها ذمّا، دلیلنا علی ذلک قوله تعالی: الَّذِينَ يَبْخَلُونَ وَيَأْمُرُونَ النَّاسَ بِالْبُخْلِ [ النساء/ 37] . ( ب خ ل ) البخل ( دس ) اپنے جمع کردہ ذخائر کو ان جگہوں سے روک لینا جہاں پر خرچ کرنے سے اسے روکنا نہیں چاہیئے ۔ اس کے بالمقابل الجواد ہے بخل اس نے بخیل کیا باخل ۔ بخل کرنے والا ۔ البخیل ( صیغہ مبالغہ ) جو بہت زیادہ بخل سے کام لیتا ہو جیسا کہ الراحم ( مہربان ) سے الرحیم مبالغہ کے لئے آتا جاتا ہے ۔ البخیل ۔ دو قسم پر ہے ایک یہ ہے کہ انسان اپنی چیزوں کو خرچ کرنے سے روک لے اور دوم یہ کہ دوسروں کو بھی خرچ کرنے سے منع کرے یہ پہلی قسم سے بدتر ہے جیسے فرمایا : { الَّذِينَ يَبْخَلُونَ وَيَأْمُرُونَ النَّاسَ بِالْبُخْلِ } ( سورة النساء 37) یعنی جو خود بھی بخل کریں اور لوگوں کو بھی بخل کی تعلیم دیں ۔ نوس النَّاس قيل : أصله أُنَاس، فحذف فاؤه لمّا أدخل عليه الألف واللام، وقیل : قلب من نسي، وأصله إنسیان علی إفعلان، وقیل : أصله من : نَاسَ يَنُوس : إذا اضطرب، قال تعالی: قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ [ الناس/ 1] ( ن و س ) الناس ۔ بعض نے کہا ہے کہ اس کی اصل اناس ہے ۔ ہمزہ کو حزف کر کے اس کے عوض الف لام لایا گیا ہے ۔ اور بعض کے نزدیک نسی سے مقلوب ہے اور اس کی اصل انسیان بر وزن افعلان ہے اور بعض کہتے ہیں کہ یہ اصل میں ناس ینوس سے ہے جس کے معنی مضطرب ہوتے کے ہیں ۔ قرآن میں ہے : ۔ قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ [ الناس/ 1] کہو کہ میں لوگوں کے پروردگار کی پناہ مانگنا ہوں ۔ ولي وإذا عدّي ب ( عن) لفظا أو تقدیرا اقتضی معنی الإعراض وترک قربه . فمن الأوّل قوله : وَمَنْ يَتَوَلَّهُمْ مِنْكُمْ فَإِنَّهُ مِنْهُمْ [ المائدة/ 51] ، وَمَنْ يَتَوَلَّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ [ المائدة/ 56] . ومن الثاني قوله : فَإِنْ تَوَلَّوْا فَإِنَّ اللَّهَ عَلِيمٌ بِالْمُفْسِدِينَ [ آل عمران/ 63] ، ( و ل ی ) الولاء والتوالی اور جب بذریعہ عن کے متعدی ہو تو خواہ وہ عن لفظوں میں مذکورہ ہو ایا مقدرو اس کے معنی اعراض اور دور ہونا کے ہوتے ہیں ۔ چناچہ تعد یہ بذاتہ کے متعلق فرمایا : ۔ وَمَنْ يَتَوَلَّهُمْ مِنْكُمْ فَإِنَّهُ مِنْهُمْ [ المائدة/ 51] اور جو شخص تم میں ان کو دوست بنائے گا وہ بھی انہیں میں سے ہوگا ۔ وَمَنْ يَتَوَلَّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ [ المائدة/ 56] اور جو شخص خدا اور اس کے پیغمبر سے دوستی کرے گا ۔ اور تعدیہ بعن کے متعلق فرمایا : ۔ فَإِنْ تَوَلَّوْا فَإِنَّ اللَّهَ عَلِيمٌ بِالْمُفْسِدِينَ [ آل عمران/ 63] تو اگر یہ لوگ پھرجائیں تو خدا مفسدوں کو خوب جانتا ہے ۔ غنی الغِنَى يقال علی ضروب : أحدها : عدم الحاجات، ولیس ذلک إلا لله تعالی، وهو المذکور في قوله : إِنَّ اللَّهَ لَهُوَ الْغَنِيُّ الْحَمِيدُ [ الحج/ 64] ، الثاني : قلّة الحاجات، وهو المشار إليه بقوله : وَوَجَدَكَ عائِلًا فَأَغْنى[ الضحی/ 8] ، وذلک هو المذکور في قوله عليه السلام : «الغِنَى غِنَى النّفس» والثالث : كثرة القنيّات بحسب ضروب الناس کقوله : وَمَنْ كانَ غَنِيًّا فَلْيَسْتَعْفِفْ [ النساء/ 6] ، ( غ ن ی ) الغنیٰ ( تو نگری ) بےنیازی یہ کئی قسم پر ہے کلی طور پر بےنیاز ہوجانا اس قسم کی غناء سوائے اللہ کے کسی کو حاصل نہیں ہے چناچہ آیت کریمہ : ۔ إِنَّ اللَّهَ لَهُوَ الْغَنِيُّ الْحَمِيدُ [ الحج/ 64] اور بیشک خدا بےنیاز اور قابل ستائش ہے ۔ 2 قدرے محتاج ہونا اور یا تیسر پر قانع رہنا چناچہ آیت کریمہ : ۔ وَوَجَدَكَ عائِلًا فَأَغْنى[ الضحی/ 8] اور تنگ دست پا یا تو غنی کردیا ۔ میں اغنیٰ سے اس قسم کی غنا مراد ہے اور اس قسم کی غنا ( یعنی قناعت ) کے متعلق آنحضرت نے فرمایا ( 26 ) الغنٰی غنی النفس ۔ کہ غنی درحقیقت قناعت نفس کا نام اور غنیٰ کے تیسرے معنی کثرت ذخائر کے ہیں اور لوگوں کی ضروریات کئے لحاظ سے اس کے مختلف درجات ہیں جیسے فرمایا : ۔ وَمَنْ كانَ غَنِيًّا فَلْيَسْتَعْفِفْ [ النساء/ 6] جو شخص آسودہ حال ہو اس کو ایسے مال سے قطعی طور پر پرہیز رکھنا چاہئے ۔ حمید إذا حُمِدَ ، ومُحَمَّد : إذا کثرت خصاله المحمودة، ومحمد : إذا وجد محمودا «2» ، وقوله عزّ وجلّ :إِنَّهُ حَمِيدٌ مَجِيدٌ [هود/ 73] ، يصحّ أن يكون في معنی المحمود، وأن يكون في معنی الحامد، ( ح م د ) حمید اور جس کی تعریف کی جائے اسے محمود کہا جاتا ہے ۔ مگر محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) صرف اسی کو کہہ سکتے ہیں جو کثرت قابل ستائش خصلتیں رکھتا ہو نیز جب کوئی شخص محمود ثابت ہو تو اسے بھی محمود کہہ دیتے ہیں ۔ اور آیت کریمہ ؛ إِنَّهُ حَمِيدٌ مَجِيدٌ [هود/ 73] وہ سزاوار تعریف اور بزرگوار ہے ۔ میں حمید بمعنی محمود بھی ہوسکتا ہے اور حامد بھی ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٢٤{ الَّذِیْنَ یَبْخَلُوْنَ وَیَاْمُرُوْنَ النَّاسَ بِالْـبُخْلِ } ” جو لوگ بخل سے کام لیتے ہیں اور لوگوں کو بھی بخل کا مشورہ دیتے ہیں۔ “ جو شخص اپنی دولت پر اتراتا ہے وہ اسے بہت سنبھال سنبھال کر بھی رکھتا ہے ‘ کیونکہ اسی دولت کے بل پر تو اس کی اکڑ قائم ہوتی ہے۔ چناچہ وہ اس دولت کو بچا بچا کر رکھتا ہے اور نہ صرف خود بخل سے کام لیتا ہے بلکہ دوسروں کو بھی اللہ کی راہ میں خرچ کرنے سے روکتا ہے ۔ دراصل اسے یہ اندیشہ لاحق ہوتا ہے کہ جب دوسرے لوگ اللہ کی راہ میں بڑھ چڑھ کر خرچ کریں گے تو اس کے بخل کا بھانڈا پھوٹ جائے گا۔ اس لیے وہ دوسروں کو بڑے مخلصانہ انداز میں سمجھاتا ہے کہ میاں ذرا اپنی ضروریات کا بھی خیال رکھو ‘ تم نے تو اپنے دونوں ہاتھ کھلے چھوڑ رکھے ہیں۔ آخر تمہارے ہاں چار بیٹیاں ہیں ‘ ان کے ہاتھ بھی تم نے پیلے کرنے ہیں۔ آج کی بچت ہی کل تمہارے کام آئے گی… ! { وَمَنْ یَّـتَوَلَّ فَاِنَّ اللّٰہَ ھُوَ الْغَنِیُّ الْحَمِیْدُ ۔ } ” اور جو کوئی رخ پھیرے گا تو (وہ سن رکھے کہ) اللہ بےنیاز اور اپنی ذات میں خود ستودہ صفات ہے۔ “ وہ غنی ہے ‘ اسے کسی کی احتیاج نہیں ہے۔ کوئی یہ نہ سمجھے کہ اگر وہ اقامت دین کی جدوجہد میں اپنے جان و مال سے شریک نہ ہوگا تو یہ کام نہیں ہوگا۔ اسے کسی کی حمد و ثنا کی بھی کوئی احتیاج نہیں ہے ‘ وہ اپنی ذات میں خودمحمود ہے۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

43 The allusion is to the trait of character that everyone could experience among the hypocrites in the Muslim society itself. As regards the outward affirmation of the Faith, they could not be distinguished from the true Muslims. But owing to lack of sincerity they were not receiving the sort of training that was being given to the sincere Muslims. Therefore, the little prosperity and leadership that they were enjoying in an ordinary town of Arabia, was causing them to be swollen with pride. As for their stinginess, not only were they fhcmsc1vee unwilling to give away a penny in the cause of God Whom they professed to believe in and the Messenger whom they professed to follow and the Faith which they professed to have accepted, but tried to prevent others also from making any contribution, for, they thought, it was a useless cause. Obviously, if there had been no trials and tribulations, these worthless people, who were of no use to Allah, could not be separated from the sincere and worthy believers, and without weeding them out a mixed crowd of sincere and insincere Muslims could not be entrusted with the high office of leadership of the world, the great blessings of which the world subsequently witnessed in the rightly-guided Caliphate. 44 That is, "Even if after hearing these words of admonition a person does not adopt the way of sincerity, faithfulness and sacrifice for the sake of AIIah and His Religion, and wishes to persist in his stubbornness, which Allah disapproves, then AIlah has no use for him, for AIIah is AII-Sufficient and Independent of His creatures: He does not stand in need of their help in any way. And He is All-Praiseworthy: people of good qualities only arc acceptable to Him; people of evil character cannot be entitled to receive any favour from Him. "

سورة الْحَدِیْد حاشیہ نمبر :43 یہ اشارہ ہے اس سیرت کی طرف جو خود مسلم معاشرے کے منافقین میں اس وقت سب کو نظر آ رہی تھی ۔ ظاہری اقرار ایمان کے لحاظ سے ان میں اور مخلص مسلمانوں میں کوئی فرق نہ تھا ۔ لیکن اخلاص کے فقدان کی وجہ سے وہ اس تربیت میں شامل نہ ہوئے تھے جو مخلصین کو دی جا رہی تھی ، اس لیے ان کا حال یہ تھا کہ جو ذرا سی خوشحالی اور مشیخت ان کو عرب کے ایک معمولی قصبے میں میسر آئی ہوئی تھی وہی ان کے چھوٹے سے ظرف کو پھلائے دے رہی تھی ، اسی پر وہ پھٹے پڑتے تھے ، اور دل کی تنگی اس درجے کی تھی کہ جس خدا پر ایمان لانے اور جس رسول کے پیرو ہونے اور جس دین کو ماننے کا دعویٰ کرتے تھے اس کے لیے خود ایک پیسہ تو کیا دیتے ، دوسرے دینے والوں کو بھی یہ کہہ کہہ کر روکتے تھے کہ کیوں اپنا پیسہ اس بھاڑ میں جھونک رہے ہو ۔ ظاہر بات ہے کہ اگر مصائب کی بھٹی گرم نہ کی جاتی تو اس کھوٹے مال کو ، جو اللہ کے کسی کام کا نہ تھا ، زر خالص سے الگ نہ کیا جا سکتا تھا ، اور اس کو الگ کیے بغیر کچے پکے مسلمانوں کی ایک مخلوط بھیڑ کو دنیا کی امامت کا وہ منصب عظیم نہ سونپا جا سکتا تھا جس کی عظیم الشان برکات کا مشاہدہ آ خرکار دنیا نے خلافت راشدہ میں کیا ۔ سورة الْحَدِیْد حاشیہ نمبر :44 یعنی یہ کلمات نصیحت سننے کے بعد بھی اگر کوئی شخص اللہ اور اس کے دین کے لیے خلوص ، فرمانبرداری اور ایثار و قربانی کا طریقہ اختیار نہیں کرتا اور اپنی اسی کجروی پر اڑا رہنا چاہتا ہے جو اللہ کو سخت ناپسند ہے ، تو اللہ کو اس کی کچھ پروا نہیں ۔ وہ غنی ہے ، اس کی کوئی حاجت ان لوگوں سے اٹکی ہوئی نہیں ہے ۔ اور وہ ستودہ صفات ہے ، اس کے ہاں اچھی صفات رکھنے والے لوگ ہی مقبول ہو سکتے ہیں ، بد کردار لوگ اس کی نگاہ التفات کے مستحق نہیں ہو سکتے ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

19: چونکہ اس سورت میں لوگوں کو اللہ تعالیٰ کے راستے میں اپنا مال خرچ کرنے کی ترغیب دی گئی ہے، اس لئے یہاں فرمایا جارہا ہے کہ جو لوگ تقدیر پر ایمان نہیں رکھتے، وہ اپنے مال کو تنہا اپنی کوشش کا پھل سمجھ کر شیخی بگھارتے ہیں اور نیک کاموں کے لئے کچھ خرچ کرنے میں کنجوسی سے کام لیتے ہیں۔

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(57:24) الذین ۔۔ بالبخل۔ یہ مختال فخور کی لغت میں ہے۔ یبخلون مضارع کا صیغہ جمع مذکر غائب۔ بخل (باب سمع) مصدر سے جو بخل کرتے ہیں۔ بخل کے معنی۔ بخل کرنا۔ کنجوسی کرنا۔ مال و متاع کو ایسی جگہ خرچ کرنے سے روک رکھنا جہاں خرچ کرنا چاہیے۔ بخل کی دو قسمیں ہیں :۔ (1) ایک یہ کہ خود مناسب جگہ خرچ نہ کرنا۔ (2) دوسرے یہ کہ دوسروں کو اس خرچ کرنے سے بھی روک دینا۔ یہ اور بھی زیادہ قابل مذمت ہے۔ آیت ہذا میں دونوں قسم کے بخل مذکور ہیں۔ بخل سے باخل بخل کرنے والا۔ اور بخیل مبالغہ کا صیغہ ہے بہت بخل کرنے والا جیسے الراحم (رحم کرنے والا) اور الرحیم (بہت رحم کرنے والا) ۔ ومن یتول : واؤ عاطفہ من شرطیہ۔ یتول مضارع واحد مذکر غائب، تولی (تفعل) مصدر سے۔ اور جو منہ موڑے گا۔ اعراض کرے گا۔ یعنی جو اللہ کی راہ میں خرچ کرنے سے اعراض کرے گا۔ فان اللہ ھو الغنی الحمید : ف جواب شرط کے لئے ہے ھو الغنی تو وہ اللہ اس کے اعراض سے (یعنی اس کے راہ میں خرچ نہ کرنے سے) بےپرواہ ہے۔ الحمید : محمود فی ذاتہ۔ یعنی وہ بذاتہ مستحق حمد ہے کوئی اس کی حمد کرے یا نہ کرے۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 9 کیونکہ انہیں اللہ تعالیٰ پر نہیں بلکہ اپنی کوشش اور تدبیر پر بھروسا ہوتا ہے اس لئے سمجھتے ہیں کہ اگر ہمارے ہاتھ سے کوئی چیز چلی گی تو معلوم نہیں وہ ہمیں دوبارہ مل سکے گی یا نہیں اس کے برعکس جن لوگوں کو خدا پر اعتماد ہوتا ہے وہ دنیا کی چیزوں سے ایسی محبت نہیں کرتے کہ ان کا جدا ہونا ان پر شاق گزرتا ہو بلکہ وہ انہیں دل کھول کر اللہ تعالیٰ کی یوں میں صرف کرتے ہیں۔10 یعنی اس یکسی کی تعریف پامال و دولت کی ضرورت نہیں ہے تم اگر اس کی راہ میں خرچ کرو گے تو اپنے ہی بھلے کے لئے کرو گے اور اگر نہیں کرو گے تو اپنا نقصان آپ کرو گے۔

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

2۔ اوپر اعملوا سے حمید تک دنیا کا غیر مہتم بالشان ہونا اور اس کے درمیان میں وفی الاخرات سے آخرت کا مہتم بالشان ہونا ارشاد ہوا ہے، آگے بھی اس کے اہتمام شان کو اس طرح بیان فرماتے ہیں کہ اصل میں ہم نے اسی آخرت کو درست کرنے کے لئے رسولوں کو بھیجا اور احکام مقرر کیئے اور نصرت دین کے لئے بالخصوص حدید پیدا کیا اور تبعا ان چیزوں میں تمہارے دنیوی منافع بھی رکھ دیئے، پس دنیا مقصود بالعرض اور آخرت مقصود بالذات ہوئی۔

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : جو لوگ کوئی چیز کھو بیٹھنے پر حد سے زیادہ افسوس کرتے ہیں اور جب انہیں کچھ میسر آتا ہے تو اس پر اتراتے ہیں ایسے لوگوں کی اکثریت بخل میں مبتلا ہوا کرتی ہے۔ اس لیے یہاں بخل کی مذمت کی گئی ہے۔ مال کے چھن جانے پر حد سے زیادہ دل گرفتہ ہونا اور اس کے حاصل ہونے پر اپنے آپ سے باہر ہوجانا اخلاقی کمزوریاں ہیں، ان کمزوریوں میں ایک کمزوری بخل ہے جس کا پہلا تعلق دل کے ساتھ ہوتا ہے دل میں استغنٰی اور اللہ پر توکل ختم ہوجائے تو آدمی نہ صرف خود بخل کا شکار ہوتا ہے بلکہ دوسروں کو بھی اچھے کاموں پر خرچ کرتے ہوئے دیکھ نہیں سکتا۔ یہاں تک اس کا بس چلتا ہے وہ عزیز و اقارب اور اپنے احباب کو صدقہ کرنے سے روکتا ہے کیونکہ وہ اسے مال ضائع کرنے کے مترادف سمجھتا ہے۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے دور میں منافقوں کی یہی حالت تھی۔ منافق نہ صرف خود صدقہ نہیں کرتے تھے بلکہ اپنے گردوپیش کے لوگوں کو صدقہ کرنے سے روکتے تھے۔ اس کے کچھ منفی اثرات نئے مسلمانوں پر پڑ رہے تھے جس پر یہ فرمان نازل ہوا کہ جو لوگ بخل کرتے ہیں اور دوسروں کو صدقہ کرنے سے روکتے ہیں یا ان کے لیے بخل کا ماحول پیدا کرتے ہیں انہیں صدقہ کرنے کا حکم دیا جاتا ہے تو استطاعت رکھنے کے باوجود خرچ نہیں کرتے ان کا انجام برا ہوگا۔ (وَ لَا یَحْسَبَنَّ الَّذِیْنَ یَبْخَلُوْنَ بِمَآ اٰتٰہُمُ اللّٰہُ مِنْ فَضْلِہٖ ہُوَ خَیْرًا لَّہُمْ بَلْ ہُوَ شَرٌّ لَّہُمْ سَیُطَوَّقُوْنَ مَا بَخِلُوْا بِہٖ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ وَ لِلّٰہِ مِیْرَاث السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ اللّٰہُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرٌ) (آل عمران : ١٨٠) ” جنہیں اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے کچھ دے رکھا ہے وہ اپنے لیے بخل کو بہتر نہ سمجھیں بلکہ بخل کرنا ان کے لیے برا ہے عنقریب قیامت کے دن بخل والی چیز ان کے گلے میں ڈال دی جائے گی۔ اللہ ہی کے لیے آسمانوں اور زمین کی ملکیت ہے اور جو کچھ تم کر رہے ہو اس سے اللہ تعالیٰ باخبر ہے۔ “ (عَنْ أَبِيْ ھُرَیْرَۃَ (رض) قَالَ ضَرَبَ رَسُوْلُ اللّٰہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مَثَلَ الْبَخِیْلِ وَالْمُتَصَدِّقِ کَمَثَلِ رَجُلَیْنِ عَلَیْھِمَا جُبَّتَانِ مِنْ حَدِیْدٍ قَدِ اضْطُرَّتْ أَیْدِیْھِمَا إِلٰی ثَدِیِّھِمَا وَتَرَاقِیْھِمَا فَجَعَلَ الْمُتَصَدِّقُ کُلَّمَا تَصَدَّقَ بِصَدَقَۃٍ انْبَسَطَتْ عَنْہُ حَتّٰی تَغْشٰی أَنَامِلَہٗ وََتَعْفُوَ أَثَرَہٗ وَجَعَلَ الْبَخِِیْلُ کُلَّمَا ھَمَّ بِصَدَقَۃٍ قَلَصَتْ وَأَخَذَتْ کُلُّ حَلْقَۃٍ بِمَکَانِھَا قَالَ أَبُوْ ھُرَیْرَۃَ (رض) فَأَنَا رَأَیْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) یَقُوْلُ بِإِصْبَعِہٖ ھٰکَذَا فِيْ جَیْبِہٖ فَلَوْ رَأَیْتَہٗ یُوَسِّعُھَا وَلَا تَتَوَسَّعُ ) (رواہ البخاری : کتاب اللباس، باب جیب القمیص من عند الصدر وغیرہ) ” حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بخیل اور صدقہ دینے والے کی مثال بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ اس کی مثال دو آدمیوں کی طرح ہے جو ہاتھ، سینے اور گلے تک لوہے کی قمیض پہنے ہوئے ہوں۔ صدقہ دینے والا صدقہ کرتا ہے تو اس کی قمیض کشادہ ہوجاتی ہے اور وہ اس کی انگلیوں تک بڑھ جاتی ہے اور اس کے قدموں کو ڈھانپ لیتی ہے۔ جب بخیل صدقہ کرنے کا ارادہ کرتا ہے تو اس کی قمیض اس سے چمٹ جاتی ہے یہاں تک ہر حلقہ اپنی جگہ پر کس جاتا ہے۔ حضرت ابوہریرہ (رض) نے بیان کیا کہ میں نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو دیکھا آپ اپنی انگلیوں سے اپنے گریبان کی طرف اشارہ کر رہے تھے کہ تم دیکھو گے کہ وہ اس کو کھولنا چاہے گا لیکن وہ نہیں کھلے گی۔ “ مسائل ١۔ اللہ تعالیٰ غنی اور صاحب تعریف ہے۔ ٢۔ کچھ لوگ خود بخیل ہونے کے ساتھ دوسروں کو بھی بخل پر آمادہ کرتے ہیں۔ ٣۔ جو شخص استطاعت رکھنے کے باوجود اللہ کی راہ ہیں مال خرچ نہیں کرتا اللہ تعالیٰ کو اس کی کوئی پرواہ نہیں ہوتی۔ تفسیر بالقرآن بخل کی سزا : ١۔ خزانے جمع کرنے والوں کو عذاب کی خوشخبری دیجئے۔ (التوبہ : ٣٤) ٢۔ بخیل اپنا مال ہمیشہ باقی نہیں رکھ سکتا۔ (لہمزہ : ٣) ٣۔ بخیل کے مال کے ذریعے ہی اسے سزادی جائے گی۔ (التوبہ : ٣٥) ٤۔ مالدار اپنے لیے بخل کو اچھا خیال کرتے ہیں حالانکہ بخل کرنا ان کے لیے برا ہے۔ (آل عمران : ١٨٠)

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

چونکہ مال پر فخر کرنے والے مال سے محبت بھی کرتے ہیں اور یہ محبت ان کو کنجوسی پر آمادہ کرتی ہے اس لیے ﴿ا۟لَّذِيْنَ يَبْخَلُوْنَ ﴾ بھی فرمایا کہ یہ لوگ بخل کرتے ہیں (جو اللہ تعالیٰ کے نزدیک مبغوض چیز ہے) ﴿وَ يَاْمُرُوْنَ النَّاس بالْبُخْلِ ١ؕ﴾ (اور یہی نہیں کہ خود بخل کرتے ہیں بلکہ لوگوں کو بھی خرچ نہیں کرنے دیتے انکو بھی خیر کے کاموں میں خرچ کرنے سے منع کرتے ہیں دوسرے لوگ اگر اپنا مال اللہ کی رضا کے لیے خرچ کریں تو اس سے بھی کنجوس آدمی کا دل دکھتا ہے اور یہ جانتے ہوئے کہ اس کا مال مجھے نہیں مل جائے گا پھر بھی خیر کے کاموں میں خرچ کرنے سے روکتے ہیں بعض اہل خیر کو دیکھا گیا ہے کہ ہ اپنے کیشیئر اور خزانچی سے کہہ کر چلے گئے کہ فلاں مدرسے کا جو سفیر آیا ہے اس کو اتنے روپے دے دو ، کیشیئر نے تجوری سے روپے تو نکال لیے لیکن اس کی انگلیاں نوٹ چھوڑنے کو تیار نہیں ایسا محسوس ہوتا ہے کہ گویا دکھے دل سے آگے بڑھا رہا ہے حالانکہ مال دوسرے کا ہے جو فی سبیل اللہ خرچ کرنے کا حکم دے چکا ہے۔ ﴿وَ مَنْ يَّتَوَلَّ فَاِنَّ اللّٰهَ هُوَ الْغَنِيُّ الْحَمِيْدُ ٠٠٢٤ ﴾ (اور جو شخص روگردانی کرے اللہ تعالیٰ اس سے بےنیاز ہے کیونکہ وہ غنی ہے محمود ہے) ہمیشہ لائق حمد ہے کسی کے خرچ کرنے نہ کرنے سے اسے کوئی نفع یا ضرر نہیں پہنچتا جو بخل کرے گا اپنا ہی برا کرے گا اور جو اللہ کے لیے خرچ کرے گا اس کا اجر وثواب پالے گا۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(24) جو ایسے ہیں کہ خود بھی بخل کرتے ہیں اور دوسرے لوگوں کو بھی بخل کرنے کی تعلیم دیتے ہیں اور جو کوئی روگردانی کرے گا تو بیشک اللہ تعالیٰ بےنیاز اور سب خوبیوں سے متصف ہے۔ چونکہ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا تقاضہ یہ تھا کہ مخلوق کی آگے جھکتا یعنی تواضع کرتا اور مخلوق کی خدمت کرتا لیکن کسی نے اگر بخل کیا اور اللہ تعالیٰ کے شکر سے روگردانی کی اور دین حق کے قبول کرنے سے پھر تو اللہ تعالیٰ کا کوئی ضرر اور نقصان نہ ہوگا کیونکہ وہ غنی بھی ہے اور حمید بھی ہے یعنی غیر محتاج اور سب صفات کمالیہ سے متصف اگر نقصان ہوگا تو اس روگردانی کرنے اور پھر کر چلے جانے والے ہی کا ہوگا۔