سورة الْمُجَادِلَة نام : اس سورۃ کا نام المجادَلہ بھی ہے المجادِلہ بھی ۔ یہ نام پہلی ہی آیت کے لفظ تجادِلک سے ماخوذ ہے ۔ چونکہ سورۃ کے آغاز میں ان خاتون کا ذکر آیا ہے جنہوں نے اپنے شوہر کے ظہار کا قضیہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پیش کر کے بار بار اصرار کیا تھا کہ آپ کوئی ایسی صورت بتائیں جس سے ان کی اور ان کے بچوں کی زندگی تباہ ہونے سے بچ جائے ، اور اللہ تعالیٰ نے ان کے اصرار کو لفظ مجادلہ سے تعبیر فرمایا ہے ، اس لیے یہی اس سورۃ کا نام قرار دیا گیا ۔ اس کو اگر مجادَلہ پڑھا جائے تو اس کے معنی ہوں گے بحث و تکرار اور مُجادِلہ پڑھا جائے تو معنی ہوں گے بحث و تکرار کرنے والی ۔ زمانۂ نزول : کسی روایت میں اس امر کی تصریح نہیں کی گئی ہے کہ مجادلہ کا یہ واقعہ کب پیش آیا تھا ۔ مگر ایک علامت اس سورہ کے مضمون میں ایسی ہے جس کی بنا پر یہ بات تعین کے ساتھ کہی جا سکتی ہے کہ اس کا زمانہ غزوۂ احزاب ( شوال ۵ ھ ) کے بعد کا ہے ۔ سورۂ احزاب میں اللہ تعالیٰ نے منہ بولے بیٹے کے حقیقی بیٹا ہونے کی نفی کرتے ہوئے صرف یہ اشارہ فرما کر چھوڑ دیا تھا کہ وَمَا جَعلَ اَزْوَاجَکُمُ الّیٰٔ تظٰھِرون منھنّ امّھتکم ( اور اللہ نے تمہاری ان بیویوں کو جن سے تم ظِہار کرتے ہو تمہاری مائیں نہیں بنا دیا ہے ) ۔ مگر اس میں یہ نہیں بتایا گیا تھا کہ ظِہار کرنا کوئی گناہ یا جرم ہے ، اور یہ بتایا گیا تھا کہ اس فعل کا شرعی حکم کیا ہے ۔ بخلاف اس کے اس سورہ میں ظِہار کا پورا قانون بیان کر دیا گیا ہے ۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ مفصل احکام اس مجمل ہدایت کے بعد نازل ہوئے ہیں ۔ موضوع اور مباحث : اس سورۃ میں مسلمانوں کو ان مختلف مسائل کے متعلق ہدایت دی گئی ہیں جو اس وقت درپیش تھے ۔ آغاز سورۃ سے آیت ٦ تک ظِہار کے شرعی احکام بیان کیے گئے ہیں ، اور اس کے ساتھ مسلمانوں کو پوری سختی کے ساتھ متنبہ کیا گیا ہے کہ اسلام کے بعد بھی جاہلیت کے طریقوں پر قائم رہنا اور اللہ کی مقرر کی ہوئی حدوں کو توڑنا ، یا ان کی پابندی سے انکار کرنا ، یا ان کے مقابلہ میں خود اپنی مرضی سے کچھ اور قاعدے اور قوانین بنا لینا ، قطعی طور پر ایمان کے منافی حرکت ہے ، جس کی سزا دنیا میں بھی ذلت و رسوائی ہے اور آخرت میں بھی اس پر سخت باز پرس ہونی ہے ۔ آیات ۷ تا ۱۰ میں منافقین کی اس روش پر گرفت کی گئی ہے کہ وہ آپس میں خفیہ سرگرمیاں کر کے طرح طرح کی شرارتوں کے منصوبے بناتے تھے ، اور ان کے دلوں میں جو بغض چھپا ہوا تھا اس کی بنا پر رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو یہودیوں کی طرح ایسے طریقے سے سلام کرتے تھے جس سے دعا کے بجائے بددعا کا پہلو نکلتا تھا ۔ اس سلسلہ میں مسلمانوں کو تسلی دی گئی ہے کہ منافقین کی یہ سرگوشیاں تمہارا کچھ نہیں بگاڑ سکتیں ، اس لیے تم اللہ کے بھروسے پر اپنا کام کرتے رہو ۔ اور اس کے ساتھ ان کو یہ اخلاقی تعلیم بھی دی گئی ہے کہ سچے اہل ایمان کا کام گناہ اور ظلم و زیادتی اور رسول کی نافرمانی کے لیے سرگوشیاں کرنا نہیں ہے ، وہ اگر آپس میں بیٹھ کر تخلیے میں کوئی بات کریں بھی تو وہ نیکی اور تقویٰ کی بات ہونی چاہیئے ۔ آیت ۱۱ تا ۱۳ میں مسلمانوں کو مجلسی تہذیب کے کچھ آداب سکھائے گئے ہیں اور بعض ایسے معاشرتی عیوب کو دور کرنے کے لیے ہدایات دی گئی ہیں جو پہلے بھی لوگوں میں پائے جاتے اور آج بھی پائے جاتے ہیں کہ کسی مجلس میں اگر بہت سے لوگ بیٹھے ہوئے ہوں اور باہر سے کچھ لوگ آ جائیں تو پہلے سے بیٹھے ہوئے اصحاب اتنی سی زحمت گوارا نہیں کرتے کہ ذرا سمٹ کر بیٹھ جائیں اور دوسروں کے لیے گنجائش پیدا کر دیں ۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ بعد کے آنے والے کھڑے رہ جاتے ہیں ، یا دہلیز میں بیٹھنے پر مجور ہوتے ہیں ، یا واپس چلے جاتے ہیں ، یا یہ دیکھ کر کہ مجلس میں ابھی کافی گنجائش موجود ہے ، حاضرین کے اوپر سے پھاندتے ہوئے اندر گھستے ہیں ۔ یہ صورتِ حال نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلسوں میں اکثر پیش آتی رہتی تھی ۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے لوگوں کو یہ ہدایت فرمائی کہ اپنی مجلسوں میں خود غرضی اور تنگ دلی کا مظاہرہ نہ کیا کریں بلکہ بعد کے آنے والوں کو کھلے دل سے جگہ دے دیا کریں ۔ اسی طرح ایک عیب لوگوں میں یہ بھی ہوتا ہے کہ کسی کے ہاں ( خصوصاً کسی اہم شخصیت کے ہاں ) جاتے ہیں تو جم کر بیٹھ جاتے ہیں اور اس بات کا کچھ خیال نہیں کرتے کہ ضرورت سے زیادہ اس کا وقت لینا اس کے لیے باعث زحمت ہو گا ۔ اگر وہ کہے کہ حضرت اب تشریف لے جائیے تو برا مانتے ہیں ۔ ان کو چھوڑ کر اٹھ جائے تو بد اخلاقی کی شکایت کرتے ہیں ۔ اشارے کنایے سے ان کو بتائے کہ اب کچھ دوسرے ضروری کاموں کے لیے اس کو وقت ملنا چاہئے تو سنی ان سنی کر جاتے ہیں ۔ لوگوں کے اس طرز عمل سے خود نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی سابقہ پیش آتا تھا اور آپ کی صحبت سے فائدہ اٹھانے کے شوق میں اللہ کے بندے اس بات کا لحاظ نہیں کرتے تھے کہ وہ بہت زیادہ قیمتی کاموں کا نقصان کر رہے ہیں ۔ آخر کار اللہ تعالیٰ نے یہ تکلیف دہ عادت چھڑانے کے لیے حکم دیا کہ جب مجلس برخاست کرنے کے لیے کہا جائے تو اٹھ جایا کرو ۔ ایک اور عیب لوگوں میں یہ بھی تھا کہ ایک ایک آدمی آ کر خواہ مخواہ حضور سے تخلیہ میں بات کرنے کی خواہش کرتا تھا یا مجلس عام میں یہ چاہتا تھا کہ آپ کے قریب جا کر سرگوشی کے انداز میں آپ سے بات کرے ۔ یہ چیز حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے بھی تکلیف دہ تھی اور دوسرے لوگ جو مجلس میں موجود ہوتے ، ان کو بھی ناگوار ہوتی تھی ۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے یہ پابندی لگا دی کہ جو شخص بھی آپ سے علیحدگی میں بات کرنا چاہے وہ پہلے صدقہ دے ۔ اس سے مقصود صرف یہ تھا کہ لوگوں کو اس بری عادت پر متنبہ کیا جائے تاکہ وہ اسے چھوڑ دیں ۔ چنانچہ یہ پابندی بس تھوڑی دیر تک باقی رکھی گئی اور جب لوگوں نے اپنا طرز عمل درست کر لیا تو اسے منسوخ کر دیا گیا ۔ آیت ۱٤ سے آخر سورہ تک مسلم معاشرے کے لوگوں کو جن میں مخلص اہل ایمان اور منافقین اور مذبذبین سب ملے جلے تھے ، بالکل دو ٹوک طریقے سے بتایا گیا کہ دین میں آدمی کے مخلص ہونے کا معیار کیا ہے ۔ ایک قسم کے مسلمان وہ ہیں جو اسلام کے دشمنوں سے دوستی رکھتے ہیں ، اپنے مفاد کی خاطر اس دین سے غداری کرنے میں کوئی تامل نہیں کرتے جس پر ایمان رکھنے کا دعویٰ کرتے ہیں ، اور اسلام کے خلاف طرح طرح کے شبہات اور وسوسے پھیلا کر اللہ کے بندوں کو اللہ کی راہ پر آنے سے روکتے ہیں ، مگر چونکہ وہ مسلمانوں کے گروہ میں شامل ہیں ، اس لیے ان کا جھوٹا اقرار ایمان ان کے لیے ڈھال کا کام دیتا ہے ۔ دوسری قسم کے مسلمان وہ ہیں جو اللہ کے دین کے معاملہ میں کسی اور کا لحاظ تو درکنا ، خود اپنے باپ ، بھائی ، اور اولاد اور خاندان تک کی پروا نہیں کرتے ۔ ان کا حال یہ ہے کہ جو خدا اور رسول اور اس کے دین کا دشمن ہے اس کے لیے ان کے دل میں کوئی محبت نہیں ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے ان آیات میں صاف فرما دیا ہے کہ پہلی قسم کے لوگ چاہے کتنی ہی قسمیں کھا کھا کر اپنے مسلمان ہونے کا یقین دلائیں ، درحقیقت وہ شیطان کی پارٹی کے لوگ ہیں ، اور اللہ کی پارٹی میں شامل ہونے کا شرف صرف دوسری قسم کے مسلمانوں کو حاصل ہے ۔ وہی سچے مومن ہیں ۔ ان ہی سے اللہ راضی ہے ۔ فلاح وہی پانے والے ہیں ۔
تعارف سورۃ المجادلۃ اس سورت میں بنیادی طور پر چار اہم موضوعات کا بیان ہے۔ پہلا موضوع ’’ظہار‘‘ ہے۔ اہلِ عرب میں یہ طریقہ تھا کہ کوئی شوہر اپنی بیوی سے کہہ دیتا تھا کہ ’’انت علی کظہر امی‘‘، یعنی تم میرے لئے میری ماں کی پشت کی طرح ہو۔ جاہلیت کے زمانے میں اس کے بارے میں یہ سمجھا جاتا تھا کہ ایسا کہنے سے بیوی ہمیشہ کے لئے حرام ہوجاتی ہے۔ سورت کی اِبتداء میں اسی کے احکام کا بیان ہے جس کی تفصیل ان شا اللہ ان آیتوں کی حواشی میں آنے والی ہے، دوسرا موضوع یہ ہے کہ بعض یہودی اور منافقین آپس میں اس طرح سرگوشیاں کیا کرتے تھے جس سے مسلمانوں کو یہ اندیشہ ہوتا تھا کہ وہ ان کے خلاف کوئی سازش کررہے ہیں، نیز بعض صحابہ کرامؓ حضور اقدس صلی اﷲ علیہ وسلم سے تنہائی میں کوئی مشورہ یا کوئی بات کرنا چاہتے تھے۔ اس سورت میں ان خفیہ باتوں کے اَحکام بیان فرمائے گئے ہیں۔ تیسرا موضوع اُن آداب کا بیان ہے جو مسلمانوں کو اپنی اجتماعی مجلسوں میں ملحوظ رکھنے چاہئیں۔ چوتھا اور آخری موضوع اُن منافقوں کا تذکرہ ہے جو ظاہر میں تو ایمان کا اور مسلمانوں سے دوستی کا دعویٰ کرتے تھے، لیکن در حقیقت وہ ایمان نہیں لائے تھے، اور درپردہ وہ مسلمانوں کے دُشمنوں کی مدد کرتے رہتے تھے۔ سورت کا نام ’’مجادلہ‘‘ (یعنی بحث کرنا) اس کی پہلی آیت سے لیا گیا ہے جس میں ایک خاتون کے بحث کرنے کا تذکرہ فرمایا گیا ہے۔ خاتون کا یہ واقعہ نیچے حاشیہ نمبر : ۱ میں آرہا ہے۔
تعارف سورة مجادلہ سورة نمبر 58 کل رکوع 3 آیات 22 الفاظ و کلمات 479 حروف 2103 مقام نزول مدینہ منورہ اہل ایمان کو یہ ادب سکھایا گیا ہے کہ جب وہ کسی محفل میں یا کسی کے گھر مزاج پرسی کے لئے جائیں تو اس طرح جم کر نہ بیٹھ جائیں کہ جس سے دوسرے کو تکلیف ہو اور وہ شرم کی یا اپنے اخلاق کی وجہ سے کچھ کہہ نہ سکے۔ بعض صحابہ کرام (رض) رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے فیض حاسل کرنے کے لئے دیر تک آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس بیٹھنا چاہتے لیکن نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنے اخلاق کریمانہ سے کسی کو منع نہ فرماتے جب تک صحابہ کرام (رض) بیٹھتے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بھی بیٹھے رہتے مگر اس سے آپ کو تکلیف پہنچتی تھی۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ہمارے نبی تو تم سے یہ کہتے ہوئے شرماتے ہیں لیکن ہم تمہیں بتانے میں شرم محسوس نہیں کرتے کہ جب وہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی محفل میں جائیں تو مناسب وقت تک بیٹھا کریں تاکہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو تکلیف نہ ہو۔ مجلس میں اگر کچھ زیادہ لوگ آجائیں تو سب کو اس بات کو موقع دیا کریں کہ ہر ایک آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی مجلس میں شرکت کرکے فیض حاصل کرسکے۔ عربوں میں یہ طریقہ رائج تھا کہ اگر انہوں نے اپنی بیوی کو طلاق دیدی تو اس سے رجوع کیا جاسکتا تھا لیکن اگر کسی نے ” ظہار “ کرلیا تو اس کی بیوی ہمیشہ کے لئے حرام ہوجاتی تھی۔ ” ظہار “ یہ ہے کہ اگر کسی شوہر نے اپنی بیوے سے یہ کہہ دیا ” الست علی کظھرامی “ تو مجھ پر ایسی ہے جیسے میری ماں کی پیٹھ یعنی اب تجھ سے صحبت کرنا ایسا ہی ہے جیسے میں نے اپنی ماں سے مباشرت کی۔ تو اس سے ہمیشہ کے لئے جدائی سمجھی جاتی تھی۔ اللہ تعالیٰ نے عربوں کے اس جاہلانہ تصور اور قانون کو ہمیشہ کیلئے ختم کردیا۔ فرمایا کہ اپنی بیوں کو ماں سے تشبیہ دینا انتہائی شرم ناک اور بےہودہ بات ہے لیکن اگر کسی نے یہ کہا تو اس کے کہہ دینے سے بیوی اس کی ماں نہیں بن جاتی۔ ماں تو وہی ہے جس سے وہ پیدا ہوا ہے۔ البتہ اس غیر شائستہ اور نامناسب بات کا کفارہ یہ ہے کہ (١) بیوی کو ہاتھ لگانے سے پہلے ایک غلام آزاد کرے (٢) اگر غلام میسر نہ ہو تو مسلسل دو مہینے تک روزے رکھے (مہینہ چاند کے حساب سے ہوگا) اور اس دوران بیوی سے صحبت نہ کرے (٣) اور اگر یہ بھی ممکن نہ ہو تو صحبت سے پہلے ساٹھ مسکینوں کو دو وقت پیٹ بھر کر کھانا کھلائے پکا کر کھلائے یا اتنی رقم دیدے جس سے ساٹھ آدمی دو وقت پیٹ بھر کر کھانا کھا سکیں۔ یہ کفارہ ادا کرنے کے بعد وہ شخص اپنی بیوی سے صحبت کرسکتا ہے اس سے پہلے صحبت حرام ہے۔ ان آیات کا شان نزول یہ ہے کہ قبیلہ خزرج کی ایک صحابیہ حضرت خولہ بنت ثعلبہ (رض) تھیں ان کے شوہر اوس بن صامت انصاری (رض) قبیلہ اوس کے سردار حضرت عبادہ ابن صامت (رض) کے بھائی تھے۔ حضرت خولہ (رض) بیان کرتی ہیں کہ ان کے شوہر حضرت اوس ابن صامت (رض) نے ان سے ” ظہار “ کیا۔ جب انہوں نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اس واقعہ کا اظہار کیا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ تم اپنے شوہر کے لئے ہمیشہ کے واسطے حرام ہوچکی ہو (کیونکہ اس وقت تک یہی قانون رائج تھا) ۔ حضرت خولہ (رض) نے اللہ سے فریاد کی اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آکر بار بار اصرار کیا کہ وہ اپنے شوہر سے کسی طرح جدا نہ ہوں گی ورنہ ان کی اور ان کے بچوں کی زندگی برباد ہو کر رہ جائے گی۔ دوسری طرف حضرت خولہ (رض) نے اللہ کی بارگاہ میں فریاد کی الٰہی ! میری اس مصیبت پر نظر فرمائیے اور کوئی ایسا راستہ عطا فرمائیے کہ وہ اپنے شوہر کے ساتھ ہی رہ سکیں۔ اللہ نے ان کی فریاد سن کر ” ظہار “ کے پرانے قانون کو منسوخ کردیا اور کفارہ لازم قرار دے دیا۔ ٭اس سورة میں مختلف معاشرتی مسائل کے حل کے لئے قوانین بھی بیان فرمائے گئے تاکہ ایک ایسا اسلامی معاشرہ بن سکے جس میں تہذیب و شائستگی اور دوسروں کی تکلیفوں کا خیال رکھا جاسکے۔ ٭منافقین طرح طرح کی شرارتوں کے منصوبے بنانے کے لئے چھپ چھپ کر سرگوشیاں کیا کرتے تھے تاکہ دین اسلام اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف سے جو ان کے دلوں میں بغض و حسد کی آگ لگ رہی تھی اپنی تسکین کا سامان کرسکیں۔ فرمایا کہ ان کی سرگوشیاں اور منصوبہ بندیاں اللہ کی تدبیر کے سامنے دھری رہ جائیں گی اور وہ اہل ایمان کو کسی طرح کا نقصان نہ پہنچا سکیں گے۔ مومنوں کو چاہیے کہ وہ نہایت خلوس سے دین کی جدوجہد کرتے رہیں اگر کسی سرگوشی میں کوئی گناہ، ظلم و زیادتی اور اللہ و رسول کی دشمنی نہ ہو تو اس سرگوشی میں کوئی حرج نہیں ہے۔ ٭ایک ادب یہ سکھایا گیا کہ کسی مجلس میں بہت سے لوگ بیٹھے ہوں اور باہر سے کچھ اور لوگ آکر بیٹھنا چاہیں تو آنے والوں کے لئے گنجائش پیدا کرنے کے لئے سمٹ سمٹ کر بیٹھ جائیں کیونکہ یہ آداب مجلس کے خلاف ہے کہ کچھ لوگ بیٹھے رہیں اور کچھ انتظار میں کھڑے رہیں یا ایک دوسرے کو پھاندتے پھلانگتے اندر گھسنے کی کوشش کریں۔ یہ بڑی خود غرضی اور تنگ دلی ہے کہ آنے والوں کا خیال نہ رکھا جائے۔ ٭اسی میں ایک ادب یہ بھی سکھایا گیا کہ کسی محفل میں اس طرح جا کر بیٹھ جانا کہ دوسروں کی ضروریات اور پریشانیوں کا خیال ہی نہ کیا جائے یہ بات بھی قطعاً مناسب نہیں ہے کیونکہ ہوسکتا ہے صاحب خانہ کو کوئی ایسی ضرورت ہو جس کا اظہار وہ کرنا مناسب نہ سمجھتا ہو۔ فرمایا کہ اگر وہ زبان سے یا اپنے کسی انداز سے اشارے سے سے یہ کہہ دے کہ میں مصروف ہوں تو لوگوں کو اس جگہ یا محفل سے اٹھ جانے میں اپنی بےعزتی محسوس نہیں کرنی چاہیے ۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جو اخلاق کریمانہ کا پیکر تھے اور صحابہ کرام (رض) جن کی خواہش ہوتی تھی کہ وہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے قریب ہو کر زیادہ سے زیادہ وقت گزاریں کبھی کبھی آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو کوئی ضروری کام ہوتا اور صحابہ کرام (رض) دیر تک بیٹھنا چاہتے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنے اخلاق کریمانہ کی وجہ سے ان کو منع نہ کرتے۔ اللہ تعالیٰ نے اسی بات کو فرمایا کہ ہمارے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! تو تم سے نہیں کہتے کہ شرماتے ہیں لیکن ہم یہ کہتے ہیں کہ وہ ہمارے نبی کے آرام و راحت اور ضروریات کا خیال رکھیں۔ مختصر بیٹھیں اور جب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فرما دیں کہ آنے والوں کے لئے جگہ خالی کردیں۔ گنجائش پیدا کریں یا اٹھ کر چلے جانے کے لئے فرمائیں تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ہر حکم اور اشارے کی تعمیل کی جائے اور تمام اہل ایمان کو قیامت تک اسی طرح کے مجلسی آداب کا لحاظ کرنا ضروری ہے۔ فرمایا کہ اگر کسی کو نبی کری (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کوئی بات خاموشی سے علیحدگی میں کرنا ہو تو وہ پہلے صدقہ دے پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے تنہائی میں بات کرے۔ مقصد یہ تھا کہ صحابہ کرام (رض) اس بات کو سمجھ لیں اور اس عادت کو چھوڑ دیں۔ چناچہ جب اس کی عادت پڑگئی اور صحابہ (رض) کرام سمجھ گئے تو اس حکم کو منسوخ کردیا گیا۔ علماء مفسرین نے فرمایا ہے کہ بعض لوگ ( ہوسکتا ہے ان میں منافق بھی ہوں) اپنی اہمیت جتاتے اور یہ بتانے کے لئے کہ وہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے بہت قریب ہیں اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بھی ان کا بہت لحاظ فرماتے ہیں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے تنہائی میں ملاقات کی خواہش کرتے اور پھر جم کر بیٹھ جاتے تھے جس سے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو تکلیف پہنچتی تھی مگر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کسی سے کچھ نہ فرماتے تھے۔ ٭انصار اور مہاجرین جو ایمان لے آئے تھے وہ دین کے لحاط سے تو کفار سے علیحدہ ہوچکے تھے مگر رشتہ داریاں بہرحال قائم تھیں۔ بعض صحابہ (رض) اپنے رشتہ داروں سے ملتے اور بعض صحابہ (رض) کفار کو دشمن رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سمجھ کر ان سے بات تک کرنا گوارا نہ کرتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اللہ کو ہر ایک کے ایمان و اخلاص کا پوری طرح علم ہے۔ وہ لوگ جو منافق ہیں اور دشمنان اسلام سے ملتے ہیں وہ کتنی ہی قسمیں کھا کر یقین دلائیں کہ ان کا مقصد محض رشتہ داریوں کا لحاظ کرنا تھا۔ اللہ کو معلوم ہے کہ جب وہ کفار سے ملتے ہیں تو ان کی ہاں میں ہاں ملاتے ہیں فرمایا ایسے لوگ شیطان کے گروہ میں شامل ہیں اس لئے اللہ ان کو پسند نہیں کرتا لیکن جو لوگ ایمان اور اخلاص کا پیکر ہیں وہ اللہ کی جماعت ہیں وہی ہر طرح کی کامیابیاں حاصل کرنے والے ہیں۔ اللہ ان سے راضی ہے اور وہ صحابہ کرام (رض) اللہ کی ہر رضا پر راضی ہیں۔
سورة المجادلہ کا تعارف یہ سورة تین رکوع اور بائیس (٢٢) آیات پر مشتمل ہے۔ اس کا نام اس کی پہلی آیت میں تُجَادِلُکَ کے لفظ سے لیا گیا ہے۔ یہ مدینہ منورہ میں اس وقت نازل ہوئی جب خولہ بنت ثعلبہ (رض) کو اس کے خاوند نے ماں کہہ دیا تھا۔ اس سورت میں سب سے پہلے زمانہ جاہلیت کی ایک رسم کا خاتمہ کیا گیا ہے جس میں پہلا سبق یہ ہے کہ دین میں جہالت اور رسم و رواج کی کوئی گنجائش نہیں۔ ہوایہ کہ خولہ بنت ثعلبہ (رض) کو اس کے خاوند نے ماں کہہ دیا۔ دور جہالت میں جو شخص اپنی بیوی کو ماں کہہ دیتا تھا تو وہ اس پر ہمیشہ کے لیے حرام قرار پاتی تھی اسلامی تاریخ میں یہ پہلا واقع تھا جس لیے حضرت خولہ (رض) بنی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئی اور آپ سے بار بار عرض کرتی ہیں کہ اس مسئلے کا کوئی حل نکالا جائے۔ اس کی تفصیل اس کی پہلی آیت میں دی گئی ہے۔ اس کے بعد مسلمانوں کی انفرادی اور اجتماعی اصلاح کے لیے بتلایا گیا کہ تم خلوت میں ہو یا جلوت میں ہر حال میں یہ عقیدہ اور یقین رکھو کہ تم میں کوئی شخص اکیلا ہو یا کسی مجلس میں اللہ تعالیٰ اپنے اقتدار، اختیار اور علم کے حوالے سے تمہارے ساتھ ہوتا ہے اس لیے تنہائی میں بھی اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی سے بچتے رہو کسی کو تکلیف پہنچانے کے لیے مجلس میں ایسا انداز اختیار نہ کرو جس سے اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی ہونے کا اندیشہ ہو اور نہ ہی کسی مسلمان کو اذیت پہنچاو۔ منافقین کے ساتھ قلبی محبت رکھنے سے اجتناب کرو کیونکہ یہ لوگ اپنے ایمان سے جھوٹے ہیں اور اللہ کا نام لے کر جھوٹ بولتے ہیں اور اس کے راستے سے روکنے والے ہیں۔ حقیقت میں یہ شیطان کی جماعت ہے اور بالآخر نقصان پائیں گے ان کے مقابلے میں جو لوگ حقیقی ایمان رکھتے ہیں ان کے بارے میں تم کبھی نہیں پاؤ گے کہ وہ اپنے عزیز و اقربا کو اللہ اور اس کے رسول سے مقدم رکھنے والے ہوں یہ لوگ اپنے ایمان میں سچے ہیں اور یہ اللہ کی جماعت ہیں اور یہی دنیا میں غالب آئیں گے اور ان کو جنت میں داخل کیا جائے گا۔
سورة المجادلہ ایک نظر میں اس سورت میں بلکہ اس پورے پارے میں مدنی دور کی تاریخ اسلام اور سیرۃ النبی کے واقعات وموضوعات پر بحث ہے۔ مدینہ میں اٹھنے والی اسلامی جماعت اور اسلامی سوسائٹی کی تربیت اور اصلاح اور اس مقصد کے لئے تیاری جس کے لئے اسے برپا کیا گیا ہے۔ یہ اس سورت کے موضوعات ہیں۔ تحریک کے سامنے جو ہدف تھا وہ ایک عالمی بلکہ کائناتی ہدی تھا۔ اور یہ ہدف اس تحریک کے لئے اللہ نے اپنی کائناتی اسکیم میں ازل سے مقرر کررکھا تھا۔ مختصر الفاظ میں وہ ہدف یہ تھا کہ ان لوگوں کے سامنے اس زندگی اور پھر اس تصور کی بنیاد پر ایک عملی نظام قائم کیا جائے۔ اس کے بعد یہ جماعت اس نظام کو لے کر اٹھے اور پوری دنیا پر چھاجائے اور اس نظام کو غالب کردے۔ یہ چونکہ ایک عظیم مقصد تھا اس لئے اس کے لئے ایک عظیم تیاری کی ضرورت تھی۔ وہ ابتدائی مسلمان جن کو اس مقصد کے لئے تیار کیا جارہا تھا ، وہ عظیم لوگ تھے۔ ان میں انصار اور مہاجرین کے سابقون اولون تھے جن کا ایمان پختہ تھا ، جدید نظریہ کے بارے میں جن کا تصور مکمل ہوگیا تھا ، ان کے نفوس اس کے لئے مخلص ہوگئے تھے ، وہ اس بات کو پاگئے تھے کہ ان کے وجود کی حقیقت کیا ہے اور اس عظیم کائنات کی حقیقت کیا ہے۔ ان کا وجود اس کائنات کی حقیقت میں گھل مل گیا تھا۔ یوں وہ اس کائنات میں اللہ کی تقدیر بن گئے تھے ۔ ان کے اندر کوئی ٹیڑھ پن باقی نہ رہی تھی۔ وہ اس کائنات کے ساتھ چلتے تھے اور اس کائنات کی رفتار سے ایک قدم بھی پیچھے نہ رہتے تھے۔ ان کے دلوں کے اندر اللہ کے سوا کوئی آرزو نہ تھی۔ وہ ایسے تھی جیسا کہ اس سورت میں ان کے بارے میں کہا گیا ہے۔ لاتحدقوما……………المفلحون (22:58) ” تم کبھی یہ نہ پائو گے کہ جو لوگ اللہ اور آخرت پر ایمان رکھنے والے ہیں ، وہ ان لوگوں سے محبت کرتے ہیں جنہوں نے اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت کی ہے ، خواہ وہ ان کے باپ ہوں یا ان کے بیٹے ہوں یا ان کے بھائی یا ان کے اہل خاندان۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کے دلوں میں اللہ نے ایمان ثبت کردیا ہے اور اپنی طرف سے ایک رخ عطا کرکے ان کی قوت بخش دی ہے۔ وہ ان کو ایسی جنتوں میں داخل کرے گا جن کا نیچے نہریں بہتی ہوں گی۔ ان میں وہ ہمیشہ رہیں گے۔ اللہ ان سے راضی ہوا اور وہ اللہ سے راضی ہوئے۔ وہ اللہ کی پارٹی کے لوگ ہیں۔ خبردار رہو ، اللہ کی پارٹی والے ہی فلاح پانے والے ہیں “۔ لیکن یہ السابقون الاولون جماعت اسلامی کی بڑھتی ہوئی تعداد کے پیش نظر کم تھے۔ خصوصاً ادوار میں جب اسلام ایک پر شوکت قوت تھی اور لوگ اس سے ڈرتے تھے۔ یہاں تک کہ فتح مکہ سے پہلے بھی اس میں ایسے لوگ آگئے تھے جن کی تربیت مکمل نہ تھی۔ اور جنہوں نے اسلامی فضا میں کوئی زیادہ وقت نہ گزارا تھا۔ جس طرح اس میں منافقین بھی داخل ہوگئے تھے ، محض مفادات کی خاطر جبکہ ان کے دلوں میں بیماری تھی ، وہ موقع کی تلاش میں تھے اور وہ اسلامی بلاک اور اسلام کے بالمقابل قوی تر بلاکوں کے درمیان مذبذب تھے۔ ان مخالف محاذوں میں مشرکین کا محاذ بھی تھا اور یہودیوں کا محاذ بھی تھا۔ اس عظیم کردار کے لئے مسلمانوں کو تیار کرنے کی خاطر ایک عظیم تربیت کی ضرورت تھی۔ اس کے لئے بڑی محنت اور پتہ مار کام کرنے کی ضرورت تھی ، اور یہ کام نہایت تدریج کے ساتھ کیا جانا ضروری تھا۔ یہ تربیتی کام چھوٹے چھوٹے کاموں میں بھی ضروری تھا اور بڑے بڑے معاملات میں بھی ضروری تھا۔ اسلام نے جو تحریک شروع کی تھی وہ ایک ہمہ گیر تعمیری تحریک تھی ، رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس تحریک کے سربراہ تھے۔ پہلے ان نفوس کی تعمیر کی جاتی تھی جن سے اسلامی سوسائٹی کی عمارت بننی تھی ۔ اس سوسائٹی کو اسلامی نظام حیات کے نظریہ اور اصولوں پر استوار ہونا تھا ، اس طرح کہ یہ نفوس اس نظام کو پہلے سمجھیں اور پھر اسے ٹھوس عملی شکل دیں اور پھر اسے زندہ اور متحرک شکل میں زمین کے کونے کونے میں منتقل کردیں۔ وہ محض نعرہ یا محض کتاب نہ ہو بلکہ ایک عملی حقیقت ہو۔ اس سورت اور اس پارے میں اس ہمہ گیر تربیت اور تعمیر کا خوب مشاہدہ ہوگا اور حیات نو کی تعمیر کے لئے جدوجہد کے نمونے بھی ملیں گے اور تعمیر اخلاقی کے لئے اسلامی منہاج بھی ملے گا۔ جذبات ، واقعات اور لوگوں کی عادات کا مطالعہ بھی ہوگا ، اور اسلام اور اسلام کے دشمنوں ، مشرکین ، منافقین اور یہودیوں کے درمیان مسلسل کشمکش کی جھلکیاں بھی نظر آئیں گی۔ اس سورت میں ہم مشاہدہ کریں گے کہ اس جماعت پر کس طرح اللہ کی طرف سے مسلسل مہربانیاں ہورہی ہیں۔ اللہ اپنی نگرانی میں اس جماعت کو بنا رہا ہے۔ اپنے ٹھوس منہاج کے مطابق اس کی تربیت فرمارہا ہے۔ اسے یہ شعور اور احساس بھی دیا جارہا ہے کہ اللہ کا فضل تمہارے شامل حال ہے۔ اس جماعت کے دل میں یہ یقین پیدا کیا جارہا ہے کہ اللہ تمہارے ساتھ ہے۔ اور وہ مشکل ترین حالات میں تمہارا مددگار ہے۔ تمہارے چھوٹے چھوٹے معاملات کو بھی وہ دیکھ رہا ہے۔ تمہاری خفیہ نیتوں کو بھی وہ دیکھ رہا ہے۔ اور تمہارے سب معاملات میں وہ تمہیں تمہارے دشمنوں کی سازشوں سے بچا رہا ہے ، خواہ خفیہ سازشیں ہوں ، خواہ ظاہری ہوں۔ تم اس کی نگرانی اور حفاظت میں ہو اور اس نے تمہیں اپنے جھنڈے تلے لے لیا ہے ، اپنے سایہ میں لے لیا ہے ۔ وہ تمہارے اخلاقی ، تمہاری عادات ، تمہارے رسم و رواج کی اصلاح و تربیت کررہا ہے۔ ایسی تربیت جو کہ اللہ والی جماعت کے اور حزب اللہ کے لائق ہو ، جو اللہ کی نگرانی میں ہو۔ اور جو اللہ کے جھنڈے بلند کیے ہوئے ہو اور اسی نام سے معروف ہو۔ چناچہ اس سورت کا آغاز اس عجیب دور کی ایک تصویر سے ہوتا ہے ، اس تصویر میں آسمان اور زمین کے درمیان ، عالم بالا اور انسانوں کے درمیان براہ راست رابطہ نظر آتا ہے۔ یہ رابتہ بالکل ظاہر اور محسوس ہے۔ عالم بالا اسلامی سوسائٹی کے روز مرہ کے معاملات میں شریک ہے۔ اور یہ شرکت بالکل عیاں ہے۔ قد سمع اللہ……………بصیر (1:58) ” اللہ نے سن لی اس عورت کی بات جو اپنے شوہر کے معاملہ میں تم سے تکرار کررہی ہے اور اللہ سے فریاد کئے جاتی ہے۔ اللہ تم دونوں کی گفتگو سن رہا ہے۔ وہ سب کچھ سننے اور دیکھنے والا ہے “۔ یوں نظر آتا ہے کہ ایک چھوٹے سے خاندان کے روز مرہ کے معاملات میں سے ایک معاملہ میں عالم بالا سے مداخلت ہوگئی۔ اس خاندان کے لئے بڑی مشکل صورت حالات پیدا ہوگئی تھی۔ اس کے معاملے میں اللہ کا فیصلہ آجاتا ہے۔ اللہ نے اس عورت کی گفتگو سن لی تھی ، جو حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے تکرار کررہی تھی۔ حضرت عائشہ (رض) نے بھی یہ باتیں نہ سنی تھیں حالانکہ وہ آپ سے قریب تھیں۔ یہ ایک ایسی تصویر ہے جس سے اللہ کا وجود ، اللہ کا قرب ، اللہ کی مہربانی اور اللہ کی نگرانی اس پوری فضا پر چھائی ہوئی نظر آتی ہے۔ واللہ علی……………شھید (6:58) ” اللہ ہر چیز پر گواہ ہے “۔ اس کے بعد تاکید مزید یہ کہا جاتا ہے کہ اللہ ہر قسم کے نجویٰ کو سن رہا ہے۔ تمام وہ لوگ جو نجویٰ کرتے ہیں اور یہ سمجھتے ہیں کہ وہ اکیلے ہیں ، اللہ ان کے ساتھ ہوتا ہے ۔ وہ جہاں بھی ہوں اللہ ان کے ساتھ ہوتا ہے۔ ثم ینبئھم……………شیء علیم (7:58) ” پھر قیامت کے روز وہ ان کو بتادے گا کہ انہوں نے کیا کچھ کیا ہے۔ اللہ ہر چیز کا علم رکھتا ہے “؎ یہ بھی ایک تصویر ہے جو دکھاتی ہے کہ اللہ ہمارے ساتھ ہے اور اسے سب کچھ معلوم ہے۔ یہ تمہید تھی ان لوگوں کو تنبیہ کرنے کے لئے جو چھپ چھپ کر مسلمانوں کے خلاف سازشیں کرتے تھے۔ اس سے ان کو پریشان ، غمگیں اور خوفزدہ کرنا مطلوب ہے۔ اور ان کو یہ دھمکی دینا مطلوب ہے کہ ان کی تمام کارستانیاں اللہ کو معلوم ہیں۔ اللہ دیکھ رہا ہے کہ تمہارے مشورے گناہ ، دست درازی اور رسول اللہ کی نافرمانی میں ہیں ، اور اللہ اس پر تمہیں پکڑنے والا ہے اور عذاب دینے والا ہے۔ اس مناسبت سے مسلمانوں کو بھی ہدایت کی جاتی ہے کہ وہ صرف نیک کاموں میں نجویٰ کرسکتے ہیں۔ جن کا تعلق تربیت نقوس اور اپنے معاملات کی بہتری ہو۔ تربیت اور تہذیب کے کچھ مزیداصول دیتے ہوئے مسلمانوں کو آداب مجلس رسول سکھائے جاتے ہیں ، کہ رسول کی مجلس میں رسول کی اطاعت کریں اور اچھا رویہ اختیار کریں۔ اسی طرح مجالس علم اور ذکر میں بھی یہی رویہ اختیار کریں۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سوال کرنے کے آداب اور ایسے معاملات میں بہت ہی سنجیدگی اختیار کرنے کے آداب۔ باقی سورة میں ان منافقین کے رویوں پر تبصرہ ہے جو یہودیوں کے ساتھ محبت رکھتے ہیں۔ ان کے ساتھ مل کر اسلامی تحریک کے خلاف سازشیں کرتے ہیں اور مسلمانوں اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنے جھوٹی قسمیں کھا کر اپنی صفائی پیش کرتے ہیں۔ یہ قسمیں کھانے والے جھوٹے ہیں۔ دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی۔ یہ لوگ اپنی قسموں کی آڑ میں اللہ کے عذاب سے بچنا چاہتے ہیں ، جس طرح دنیا میں قسموں کے ذریعہ رسول اللہ اور مسلمانوں کی ناراضگی سے بچنا چاہتے ہیں۔ فیصلہ سنا دیا جاتا ہے کہ جو اللہ اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے دشمنی کرتا ہے اللہ نے لکھ دیا ہے کہ وہ ذلیل لوگوں میں سے ہوگا۔ اور ایسے لوگ آخر کار سخت خسارے میں رہیں گے۔ جس طرح اللہ نے یہ بھی لکھ دیا ہے کہ وہ اور اس کے رسول غالب رہیں گے۔ یہ بات اللہ نے ان کی حیثیت کو کم کرنے کے لئے بیان کی ہے کیونکہ بعض نادان مسلمان اب بھی ان لوگوں کو اہمیت دیتے تھے۔ اس لئے وہ ایسے منافقوں کے ساتھ تعلقات قائم رکھے ہوئے تھے۔ مقصد یہ تھا کہ ایسے لوگوں کے تعلق کا مرکز اور محور اسلامی سوسائٹی ہوجائے۔ اور اس طرح اسلامی صفیں مکمل طور پر ان منافقین سے ممتاز ہوجائیں۔ وہ صرف اللہ کی مہربانی پر بھروسہ کریں اور صرف اس بات پر اطمینان کریں کہ اس جماعت اور امت کو اللہ نے کسی عظیم مقصد کے لئے اٹھایا ہے اور اس کی تربیت اللہ انہی اہداف کو پیش نظر رکھ کر کررہا ہے اور ان کو نہ صرف اس دنیا میں بلکہ پوری کائنات میں ایک مقصد کے لئے تیار کررہا ہے۔ اس سورت کے آخر میں حزب اللہ کی خوبصورت تصویر ، یہ تصویر السابقون الاولون کی تھی جو مدینہ کی گلیوں میں چلتی پھرتی تھی ، مہاجرین میں بھی تھی اور انصار میں سے بھی۔ اور اس دور میں مسلمانوں کی اکثریت کو یہ اشارہ دیا جاتا ہے کہ وہ اس مقام بلند تک پہنچنے کی کوشش کریں جس تک ابھی وہ نہیں پہنچے۔ ان کو بتانا مقصود تھا کہ تمہارا آئیڈیل منافق نہیں بلکہ یہ لوگ ہیں۔ لا تحد……………رسولہ (22:58) ” تم کبھی یہ نہ پائو گے کہ جو لوگ اللہ اور آخرت پر ایمان رکھنے والے ہیں ، وہ ان لوگوں سے محبت کرتے ہوں جنہوں نے اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت کی ہو…“۔