Surat ul Mujadala

Surah: 58

Verse: 10

سورة المجادلة

اِنَّمَا النَّجۡوٰی مِنَ الشَّیۡطٰنِ لِیَحۡزُنَ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَ لَیۡسَ بِضَآرِّہِمۡ شَیۡئًا اِلَّا بِاِذۡنِ اللّٰہِ ؕ وَ عَلَی اللّٰہِ فَلۡیَتَوَکَّلِ الۡمُؤۡمِنُوۡنَ ﴿۱۰﴾

Private conversation is only from Satan that he may grieve those who have believed, but he will not harm them at all except by permission of Allah . And upon Allah let the believers rely.

۔ ( بر ی ) سرگوشیاں پس شیطانی کام ہے جس سے ایمانداروں کو رنج پہنچے گو اللہ تعالٰی کی اجازت کے بغیر وہ انہیں کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتا اور ایمان والوں کو چاہیے کہ اللہ ہی پر بھروسہ رکھیں ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

An-Najwa are only from the Shaytan, in order that he may cause grief to the believers. But he cannot harm them in the least, except as Allah permits. And in Allah let the believers put their trust. Allah states that secret talks, where the believers feel anxious, are مِنَ الشَّيْطَانِ لِيَحْزُنَ الَّذِينَ امَنُوا (only from Shaytan, in order that he may cause grief to the believers). meaning, that those who hold such counsels do so because of the lures of the devil, لِيَحْزُنَ الَّذِينَ امَنُوا (in order that he may cause grief to the believers). The devil seeks to bother the believers, even though his plots will not harm the believers, except if Allah wills it. Those who are the subject of evil Najwa, should seek refuge in Allah and put his trust in Him, for none of it will harm them, Allah willing. The Sunnah also forbids the Najwa so that no Muslim is bothered by it. Imam Ahmad recorded that Abdullah bin Mas`ud said that the Messenger of Allah said, إِذَا كُنْتُمْ ثَلَثَةً فَلَ يَتَنَاجَى اثْنَانِ دُونَ صَاحِبِهِمَا فَإِنَّ ذلِكَ يُحْزِنُه If you were three, then two of you should not hold a secret counsel in the presence of the third person, because that would cause him to be worried. This Hadith is collected in the Two Sahihs using a chain of narration that contained Al-A`mash. Abdur-Razzaq narrated that Abdullah bin Umar said that Allah's Messenger said, إِذَا كُنْتُمْ ثَلَثَةً فَلَ يَتَنَاجَى اثْنَانِ دُونَ الثَّالِثِ إِلاَّ بِإِذْنِهِ فَإِنَّ ذلِكَ يُحْزِنُه If you were three, then two of you should not hold a secret counsel in the presence of the third person, except with his permission, because that would cause him to be worried. Muslim collected this Hadith.

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

10۔ 1 یعنی اثم وعدوان اور معصیت رسول پر مبنی سرگوشیاں یہ شیطانی کام ہیں، کیونکہ شیطان ہی ان پر آمادہ کرتا ہے، تاکہ وہ اس کے ذریعے سے مومنوں کو غم میں مبتلا کرے۔ 10۔ 2 لیکن یہ سرگوشیاں اور شیطانی حرکتیں مومنوں کو کچھ نقصان نہیں پہنچا سکتیں الا یہ کہ اللہ کی مشیت ہو اس لیے تم اپنے دشمنوں کی ان اوچھی حرکتوں سے پریشان نہ ہوا کرو بلکہ اللہ پر بھروسہ رکھو اس لیے کہ تمام معاملات کا اختیار اسی کے ہاتھ میں ہے اور وہی ہر چیز پر قادر ہے نہ کہ یہود اور منافقین جو تمہیں تباہ و برباد کرنا چاہتے ہیں سرگوشی کے سلسلے میں ہی مسلمانوں کو ایک اخلاقی ہدایت یہ دی گئی ہے کہ جب تم تین آدمی اکٹھے ہو تو اپنے میں سے ایک کو چھوڑ کردو آدمی آپس میں سرگوشی نہ کریں کیونکہ یہ طریقہ اس ایک آدمی کو غم ڈال دے گا۔ صحیح بخاری۔ البتہ اس کی رضامندی اور اجازت سے ایسا کرنا جا‏ئز ہے کیونکہ اس صورت میں دو آدمیوں کا سرگوشی کرنا کسی کے لیے تشویش کا باعث نہیں ہوگا۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[ ا ١] منافقوں کی ان سرگوشیوں سے غرض ہی یہ ہوتی تھی کہ مسلمان رنجیدہ اور دلگیر ہوں اور گھبرا جائیں۔ اور یہ کام ان سے شیطان کرا رہا تھا۔ مگر مسلمانوں کو یاد رکھنا چاہیے کہ شیطان ان کا کچھ بھی نہیں بگاڑ سکتا اور نہ ہی اس کے یہ چیلے کچھ بگاڑ سکتے ہیں۔ نفع و نقصان تو صرف اللہ کے ہاتھ میں ہے لہذا انہیں صرف اللہ پر اعتماد رکھنا چاہیے اور منافقوں کی ان ناپاک سرگوشیوں کی پروا تک نہ کرنی چاہیے۔ یہ اعتماد ان کے دل میں ایسی قوت پیدا کر دے گا کہ بہت سے فضول خطروں اور خیالی اندیشوں سے نجات مل جائے گی۔ انہیں چاہیے کہ منافقوں کو ان کے حال پر چھوڑ دیں۔ غلط کار لوگوں کے مقابلے میں آپے سے باہر نہ ہوں اور اطمینان و سکون کے ساتھ اپنے کام میں لگے رہیں۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

اِنَّمَا النَّجْوٰی مِنَ الشَّیْطٰنِ لِیَحْزُنَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا ۔۔۔۔۔:” حزن یحزن “ (س) غمگین ہونا اور ” حزن یحزن “ (ن) غمگین کرنا ۔ اس میں مسلمانوں کی تسلی دلائی ہے کہ یہود و منافقین کی یہ سرگوشیاں دراصل شیطان کی کار ستانی ہے ، جس سے وہ ایمان والوں کو غمگین کرنا چاہتا ہے ۔ اگر تم ایسی کوئی بات دیکھو تو زیادہ پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ، کیونکہ اللہ تعالیٰ کا حکم نہ ہو تو شیطان تمہارا کچھ نہیں بگاڑ سکتا اور نہ ان سرگوشیوں سے تمہارا کچھ نقصان ہوسکتا ہے ، اس لیے اللہ ہی پر توکل رکھو اور غمگین ہو کر شیطان کو خوش رہونے کا موقع نہ دو ۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

اِنَّمَا النَّجْوٰى مِنَ الشَّيْطٰنِ لِيَحْزُنَ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَلَيْسَ بِضَاۗرِّہِمْ شَـيْـــــًٔا اِلَّا بِـاِذْنِ اللہِ۝ ٠ ۭ وَعَلَي اللہِ فَلْيَتَوَكَّلِ الْمُؤْمِنُوْنَ۝ ١٠ شطن الشَّيْطَانُ النون فيه أصليّة «3» ، وهو من : شَطَنَ أي : تباعد، ومنه : بئر شَطُونٌ ، وشَطَنَتِ الدّار، وغربة شَطُونٌ ، وقیل : بل النون فيه زائدة، من : شَاطَ يَشِيطُ : احترق غضبا، فَالشَّيْطَانُ مخلوق من النار کما دلّ عليه قوله تعالی: وَخَلَقَ الْجَانَّ مِنْ مارِجٍ مِنْ نارٍ [ الرحمن/ 15]: الشّيطان اسم لكلّ عارم من الجنّ والإنس والحیوانات . قال تعالی: شَياطِينَ الْإِنْسِ وَالْجِنِّ [ الأنعام/ 112] ( ش ط ن ) الشیطان اس میں نون اصلی ہے اور یہ شطن سے مشتق ہے جس کے معنی دور ہونیکے ہیں اور بئر شطون ( بہت گہرا کنوآں ) شطنت الدار ۔ گھر کا دور ہونا غربۃ شطون ( بطن سے دوری ) وغیرہ محاوارت اسی سے مشتق ہیں بعض نے کہا ہے کہ لفظ شیطان میں نون زائدہ ہے اور یہ شاط یشیط سے مشتق ہے جس کے معنی غصہ سے سوختہ ہوجانے کے ہیں ۔ اور شیطان کو بھی شیطان اسی لئے کہا جاتا ہے کہ وہ آگ سے پیدا ہوا ہے جیسا کہ آیت : ۔ وَخَلَقَ الْجَانَّ مِنْ مارِجٍ مِنْ نارٍ [ الرحمن/ 15] اور جنات کو آگ کے شعلہ سے پیدا کیا ۔ سے معلوم ہوتا ہے ۔ ابو عبیدہ نے کہا ہے کہ شیطان ہر سر کش کو کہتے ہیں خواہ وہ جن وانس سے ہو یا دیگر حیوانات سے ۔ قرآن میں ہے : ۔ شَياطِينَ الْإِنْسِ وَالْجِنِّ [ الأنعام/ 112] شیطان ( سیرت ) انسانوں اور جنوں کو حزن الحُزْن والحَزَن : خشونة في الأرض وخشونة في النفس لما يحصل فيه من الغمّ ، ويضادّه الفرح، ولاعتبار الخشونة بالغم قيل : خشّنت بصدره : إذا حزنته، يقال : حَزِنَ يَحْزَنُ ، وحَزَنْتُهُ وأَحْزَنْتُهُ قال عزّ وجلّ : لِكَيْلا تَحْزَنُوا عَلى ما فاتَكُمْ [ آل عمران/ 153] ( ح ز ن ) الحزن والحزن کے معنی زمین کی سختی کے ہیں ۔ نیز غم کی وجہ سے جو بیقراری سے طبیعت کے اندر پیدا ہوجاتی ہے اسے بھی حزن یا حزن کہا جاتا ہے اس کی ضد فوح ہے اور غم میں چونکہ خشونت کے معنی معتبر ہوتے ہیں اس لئے گم زدہ ہوے کے لئے خشنت بصررہ بھی کہا جاتا ہے حزن ( س ) غمزدہ ہونا غمگین کرنا ۔ قرآن میں ہے : ۔ لِكَيْلا تَحْزَنُوا عَلى ما فاتَكُمْ [ آل عمران/ 153] تاکہ جو چیز تمہارے ہاتھ سے جاتی رہے ۔۔۔۔۔ اس سے تم اندو ہناک نہ ہو ضر الضُّرُّ : سوءُ الحال، إمّا في نفسه لقلّة العلم والفضل والعفّة، وإمّا في بدنه لعدم جارحة ونقص، وإمّا في حالة ظاهرة من قلّة مال وجاه، وقوله : فَكَشَفْنا ما بِهِ مِنْ ضُرٍّ [ الأنبیاء/ 84] ، فهو محتمل لثلاثتها، ( ض ر ر) الضر کے معنی بدحالی کے ہیں خواہ اس کا تعلق انسان کے نفس سے ہو جیسے علم وفضل اور عفت کی کمی اور خواہ بدن سے ہو جیسے کسی عضو کا ناقص ہونا یا قلت مال وجاہ کے سبب ظاہری حالت کا برا ہونا ۔ اور آیت کریمہ : فَكَشَفْنا ما بِهِ مِنْ ضُرٍّ [ الأنبیاء/ 84] اور جوان کو تکلیف تھی وہ دورکردی ۔ میں لفظ ضر سے تینوں معنی مراد ہوسکتے ہیں شيء الشَّيْءُ قيل : هو الذي يصحّ أن يعلم ويخبر عنه، وعند کثير من المتکلّمين هو اسم مشترک المعنی إذ استعمل في اللہ وفي غيره، ويقع علی الموجود والمعدوم . ( ش ی ء ) الشئی بعض کے نزدیک شی وہ ہوتی ہے جس کا علم ہوسکے اور اس کے متعلق خبر دی جاسکے اور اس کے متعلق خبر دی جا سکے اور اکثر متکلمین کے نزدیک یہ اسم مشترکہ ہے جو اللہ تعالیٰ اور اس کے ماسواپر بھی بولا جاتا ہے ۔ اور موجود ات اور معدہ سب کو شے کہہ دیتے ہیں ، وأَذِنَ : استمع، نحو قوله : وَأَذِنَتْ لِرَبِّها وَحُقَّتْ [ الانشقاق/ 2] ، ويستعمل ذلک في العلم الذي يتوصل إليه بالسماع، نحو قوله : فَأْذَنُوا بِحَرْبٍ مِنَ اللَّهِ وَرَسُولِهِ [ البقرة/ 279] . ( اذ ن) الاذن اور اذن ( الیہ ) کے معنی تو جہ سے سننا کے ہیں جیسے فرمایا ۔ { وَأَذِنَتْ لِرَبِّهَا وَحُقَّتْ } ( سورة الِانْشقاق 2 - 5) اور وہ اپنے پروردگار کا فرمان سننے کی اور اسے واجب بھی ہے اور اذن کا لفظ اس علم پر بھی بولا جاتا ہے جو سماع سے حاصل ہو ۔ جیسے فرمایا :۔ { فَأْذَنُوا بِحَرْبٍ مِنَ اللهِ وَرَسُولِهِ } ( سورة البقرة 279) تو خبردار ہوجاؤ کہ ندا اور رسول سے تمہاری چنگ ہے ۔ وكل والتَّوَكُّلُ يقال علی وجهين، يقال : تَوَكَّلْتُ لفلان بمعنی: تولّيت له، ويقال : وَكَّلْتُهُ فَتَوَكَّلَ لي، وتَوَكَّلْتُ عليه بمعنی: اعتمدته قال عزّ وجلّ : فَلْيَتَوَكَّلِ الْمُؤْمِنُونَ [ التوبة/ 51] ( و ک ل) التوکل ( تفعل ) اس کا استعمال دو طرح ہوتا ہے ۔ اول ( صلہ لام کے ساتھ ) توکلت لفلان یعنی میں فلاں کی ذمہ داری لیتا ہوں چناچہ وکلتہ فتوکل لی کے معنی ہیں میں نے اسے وکیل مقرر کیا تو اس نے میری طرف سے ذمہ داری قبول کرلی ۔ ( علیٰ کے ساتھ ) توکلت علیہ کے معنی کسی پر بھروسہ کرنے کے ہیں ۔ چناچہ قرآن میں ہے ۔ فَلْيَتَوَكَّلِ الْمُؤْمِنُونَ [ التوبة/ 51] اور خدا ہی پر مومنوں کو بھروسہ رکھنا چاہئے ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

منافقین کی یہودیوں کے ساتھ سرگوشی محض شیطان کی طرف سے اور اس کے حکم سے ہے تاکہ مسلمانوں کو رنج میں ڈالے اور منافقین کی یہ سرگوشی بغیر اللہ کے ارادہ کے ان مسلمانوں کو کچھ نقصان نہیں پہنچا سکتی اور مسلمانوں کو اللہ ہی پر بھروسا کرنا چاہیے اور اس کے علاوہ کسی پر بھروسا کریں۔ شان نزول : اِنَّمَا النَّجْوٰى مِنَ الشَّيْطٰنِ (الخ) ابن جریر نے قتادہ سے روایت کیا ہے کہ منافقین آپس میں سرگوشیاں کیا کرتے تھے اور یہ چیز مسلمانوں کو غصہ دلاتی اور ان پر شاق گزرتی تھی اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت مبارکہ نازل فرمائی۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ١٠{ اِنَّمَا النَّجْوٰی مِنَ الشَّیْطٰنِ } ” یہ نجویٰ تو شیطان کی طرف سے ہے “ منفی سرگوشیاں کرنا ایک شیطانی عمل ہے۔ جو لوگ اس میں ملوث ہوتے ہیں انہیں اس کی تحریک و ترغیب شیطان ہی کی طرف سے ملتی ہے۔ { لِیَحْزُنَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا } ” تاکہ وہ اہل ایمان کو رنجیدہ کرے “ ان لوگوں کی سرگوشیوں اور خفیہ ملاقاتوں کا مقصد ہی یہ ہوتا ہے کہ وہ اہل ایمان کو نقصان پہنچا کر انہیں رنجیدہ ‘ دل گرفتہ اور پریشان کریں۔ آیت کے ان الفاظ سے یہ مفہوم بھی متبادر ہوتا ہے کہ یہ لوگ مسلمانوں کی محفل سے الگ جا کر کھسر پھسر اور سرگوشیاں اس لیے کرتے ہیں کہ ان کے اس عمل کو دیکھ کر مسلمان پریشان ہوں کہ یہ لوگ الگ بیٹھ کر ان کے خلاف نہ جانے کیا سازشیں کر رہے ہیں۔ گویا یہ لوگ ایک نفسیاتی حربے کے طور پر بھی نجویٰ کرتے تھے۔ ظاہر ہے جب بھری محفل سے تین چار لوگ الگ جا کر بیٹھ جائیں اور کھسر پھسر کرنا شروع کردیں تو اہل محفل کو فطری طور پر تجسس تو ہوگا کہ ہو نہ ہو یہ لوگ ضرور انہی کے خلاف باتیں کر رہے ہیں۔ { وَلَـیْسَ بِضَآرِّہِمْ شَیْئًا اِلَّا بِاِذْنِ اللّٰہِ } ” حالانکہ یہ (شیطان) انہیں کچھ بھی ضرر پہنچانے پر قادر نہیں مگر اللہ کے اذن سے۔ “ شیطان اپنے ارادے اور اختیار سے اہل ایمان کو کوئی ضرر نہیں پہنچا سکتا۔ البتہ اگر اللہ کی طرف سے کسی کے لیے کوئی تکلیف یا آزمائش طے ہے تو وہ ضرور آئے گی ‘ اسے کوئی نہیں روک سکتا ۔ { وَعَلَی اللّٰہِ فَلْیَتَوَکَّلِ الْمُؤْمِنُوْنَ ۔ } ” اور اہل ایمان کو صرف اللہ پر توکل ّکرنا چاہیے ۔ “ اہل ایمان کو بھروسہ رکھنا چاہیے کہ اللہ ان کے ساتھ ہے اور شیطانی حربوں یا دشمنوں کی سازشوں سے ان کا کچھ نہیں بگڑ سکتا۔ اسی بھروسے کے ساتھ انہیں ہر وقت اپنے فرائض کی بجاآوری کے لیے کمربستہ رہنا چاہیے۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

25 This has been saidso that if a Muslim watches some other people whispering, which causes him the doubt that it is directed against him, he should not feel so offended as to start planning a counter-attack on the basis of mere suspicion, or begin to nourish grief, or malice, or undue concern in his heart. He should understand that no one can harm him except by Allah's leave. This conviction would inspire him with such confidence that he would feel delivered of many a useless worry and imaginary danger and leaving the wicked to themselves would remain engaged in peacefully doing his duty. The believer who has trust in Allah is neither a faint-hearted person, whose peace of mind could be ruined by every doubt and suspicions nor so shallow and mean-minded as would lose his cool when confronted by the evildoers and start behaving in an unjust manner himself.

سورة الْمُجَادِلَة حاشیہ نمبر :25 یہ بات اس لیے فرمائی گئی ہے کہ اگر کسی مسلمان کو کچھ لوگوں کی سرگوشیاں دیکھ کر یہ شبہ بھی ہو جائے کہ وہ اسی کے خلاف کی جا رہی ہیں ، تب بھی اسے اتنا رنجیدہ نہ ہونا چاہیے کہ محض شبہ ہی شبہ پر کوئی جوابی کارروائی کرنے کی فکر میں پڑ جائے ، یا اپنے دل میں اس پر کوئی غم ، یا کینہ ، یا غیر معمولی پریشانی پرورش کرنے لگے ۔ اس کو یہ سمجھنا چاہیے کہ اللہ کے اذن کے بغیر کوئی اس کا کچھ نہیں بگاڑ سکتا ۔ یہ اعتماد اس کے قلب میں ایسی قوت پیدا کر دے گا کہ بہت سے فضول اندیشوں اور خیالی خطروں سے اس کو نجات مل جائے گی اور وہ اشرار کو ان کے حال پر چھوڑ کر پورے اطمینان و سکون کو غارت کر دے ، نہ کم ظرف ہوتا ہے کہ غلط کار لوگوں کے مقابلے میں آپے سے باہر ہو کر خود بھی خلاف انصاف حرکتیں کرنے لگے ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(58:10) انما۔ بےشک، تحقیق، سوائے اس کے نہیں۔ ان حرف مشبہ بالفعل ہے اور ما کافہ ہے جو حصر کے لئے آتا ہے اور ان کو عمل لفظی سے روک دیتا ہے۔ النجوی۔ سرگوشی ، کانا پھوسی۔ (نیز ملاحظہ ہو آیت ، متذکرہ بالا) ان کا اسم ہے ۔ من الشیطن۔ خبر ان ۔ بیشک سرگوشی ایک شیطانی فعل ہے۔ النجوی میں آل عہد کا ہے۔ مراد اس سے التناجی بالاثم والعدوان و معصیت الرسول ہے۔ لیحزن۔ خبر دوم۔ لام علت کا ہے۔ تاکہ۔ یحزن مضارع واحد مذکر غائب (منصوب بوجہ عمل لام) حزن (باب نصر) مصدر۔ وہ فمگین کرتا ہے۔ لیحزن تاکہ وہ غمگین کردے۔ یہ خبر دوم ہے ان کی :۔ خیر اخر لانما النجوی والاول من الشیطان 12 (حقانی) الذین امنوا۔ موصول وصلہ مل کر مفعول ہے یحزن کا۔ ان لوگوں کو جو ایمان لائے ہیں َ یعنی ایمان والوں کو۔ ولیس بضارھم شیئا۔ جملہ حالیہ ہے واؤ حالیہ لیس (نہیں ہے) فعل ناقص۔ ماضٰ واحد مذکر غائب اسم کو رفع اور خبر کو نصب دیتا ہے۔ لیس کا اسم کافروں کی سرگوشی یا شیطان ہے۔ ضارھم مضاف مضاف الیہ۔ ان کو نقصان پہنچانے والا۔ ان کو ضرر پہنچانے والا۔ ضار ضر سے اسم فاعل کا صیغہ واحد مذکر ” مضاف ہے “ ہم ضمیر جمع مذکر غائب مضاف الیہ ۔ بضارھم خبر ہے۔ شیئا کچھ بھی مطلب یہ کہ :۔ حال یہ ہے کہ کافروں کی سرگوشی یا شیطان ایمان والوں کو خچھ بھی نقصان نہیں پہنچا سکتا۔ الا باذن اللہ بغیر اللہ کے حکم کے۔ فلیتوکل : ف کا عطف محذوف پر ہے۔ لیتوکل امر کا صیغہ واحد مذکر غائب یہاں بمعنی جمع (المؤمنون) کے لئے آیا ہے۔ چاہیے کہ بھروسہ رکھیں۔ وعلی اللہ فلیتوکل المؤمنون : ای وعلی اللہ لاعلی غیرہ یجب ان یتوکل المؤمنون۔ مومنوں کو چاہیے کہ صرف اللہ پر نہ کہ کسی غیر پر توکل اور بھروسہ رکھیں۔ (السیرالتفاسیر)

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 1 ” کیونکہ جس کا وہ حامی و مددگار ہوگا اس کا کوئی کچھ نہ بگاڑ سکے گا کہتے ہیں کہ آنحضرت جب کوئی لشکر روانہ فرماتے تو منافقین مسلمانوں کو رنج دینے کے لئے یوں کانا پھوسیاں کرتے کہ افسوس یہ لشکر والے سب مارے گئے اس کا جواب اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں دیا (وحیدی)

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

6۔ مطلب یہ کہ اگر بالفرض وہ باغواء شیطان تمہارے ضرر ہی کی باتیں کر رہے ہوں تب بھی وہ ضرر بدون مشیت ازلیہ کے تم کو نہیں پہنچ سکتا، پھر کیوں فکر میں پڑتے ہو۔

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

پھر فرمایا ﴿ اِنَّمَا النَّجْوٰى مِنَ الشَّيْطٰنِ لِيَحْزُنَ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا ﴾ (خفیہ سرگوشی شیطان ہی کی طرف سے ہے تاکہ وہ اہل ایمان کو رنجیدہ کرے) یعنی جن لوگوں نے مسلمانوں کو تکلیف دینے کے لئے خفیہ مشورہ کرنے کا طریقہ اختیار کیا ہے اس طریقہ پر انہیں شیطان نے ڈالا ہے، شیطان کا مقصد یہ ہے کہ وہ اہل ایمان کور نجیدہ کرے۔ ﴿وَ لَيْسَ بِضَآرِّهِمْ شَيْـًٔا اِلَّا بِاِذْنِ اللّٰهِ ١ؕ وَ عَلَى اللّٰهِ فَلْيَتَوَكَّلِ الْمُؤْمِنُوْنَ ٠٠١٠﴾ (اور ان لوگوں کا یہ مشورہ اہل ایمان کو کوئی ضرر نہیں دے سکتا مگر اللہ کے حکم سے اور اہل ایمان اللہ پر بھروسہ کریں) یہ توکل علی اللہ انہیں مخلوق کی ایذا رسانیوں سے محفوظ رکھے گا۔ انشاء اللہ تعالیٰ ۔ اسلام کامل دین ہے، اس میں جیسے عبادات بتائی گئی ہیں ایسے ہی اخلاق و آداب بھی سکھائے گئے ہیں، ان آداب میں سے ایک ادب یہ بھی ہے کہ کسی ساتھ کے بیٹھنے والے کو جسمانی اور روحانی تکلیف نہ دی جائے آئندہ آیت میں جسمانی تکلیف کا ذکر ہے اور روحانی تکلیف یہ ہے کہ بعض لوگ آپس میں مل کر چپکے چپکے ایسی باتیں نہ کریں جن سے دوسرے ساتھ بیٹھنے والوں کو تکلیف پہنچے حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا کہ جب تم مجلس میں تین آدمی ہوں تو دو آدمی تیسرے آدمی کو چھوڑ کر آپس میں چپکے چپکے باتیں نہ کریں جب تک کہ دوسرے آدمی نہ آجائیں، یہ اس لئے کہ ا گردو آدمی بات کریں گے تو تیسرے آدمی کو رنج ہوگا اور وہ سمجھے گا کہ شاید میرے بارے میں باتیں کر رہے ہیں۔ (صحیح بخاری صفحہ ٦٣٢ ج ٢) ہاں اگر تین سے زائد آدمی ہوں تو دو آدمی آپس میں آہستہ بات کرسکتے ہیں کیونکہ اس سے دوسرے حاضرین کے دلوں میں کوئی وسوسہ نہ آئے گا وہ بھی آپس میں اپنی کوئی بات کرلیں گے۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

13:۔ ” انما النجوی “ الف لام عہد خارجی کیلئے ہے یعنی مشورہ جو مؤمنوں کو ایذا دینے کیلئے کیا جائے یعنی ایسے مشوروں پر شیطان اکساتا ہے، تاکہ اس سے مؤمنین کو دکھ پہنچے اور وہ آزردہ ہوں لیکن ایمان والوں کو نقصان پہنچانا شیطان کے بس کی بات نہیں، انہیں وہی ضرور پہنچ سکتا ہے جو اللہ نے مقدر فرمایا ہے اور ایمان والوں کا بھروسہ اور اعتماد ہمیشہ اللہ تعالیٰ پر ہوتا ہے کیونکہ اس کے حکم کے بغیر کچھ بھی نقصان نہیں ہوسکتا۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(10) اس قسم کی بری سرگوشی محض شیطان کا کام ہے تاکہ وہ مسلمانوں کو رنج میں ڈالے اور مبتلا کرے حالانکہ وہ مسلمانوں کو اللہ تعالیٰ کی مشیت کے بغیر کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتا اور مسلمانوں کو اللہ تعالیٰ ہی پر توکل اور بھروسہ رکھنا چاہیے۔ یعنی یہ اس قسم کی قابل اعتراض سرگوشیاں اور مشورے شیطان کے بہکانے سے ہوتے ہیں اور ان کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ مسلمان پریشان ہوں اور تردد میں پڑھ جائیں کہ خدا جانے مخالف پارٹی کیا مشورہ کررہی ہے حالانکہ اللہ تعالیٰ کی مشیت اور اس کے ارادے کے بغیر شیطان اور اس کی طاغوتی طاقتیں مسلمانوں کا کچھ نہیں بگاڑ سکتیں اور جب اللہ تعالیٰ کی مشیت کے بغیر شیطان سے کوئی ضرر نہیں پہنچ سکتا تو مسلمانوں کو اللہ تعالیٰ ہی پر بھروسہ رکھنا چاہیے۔ اب آگے مجلس کی تہذیب اور مجلس کے آداب دوسرے طریق پر مذکور ہیں۔ حدیث میں آتا ہے جب تم تین آدمی ہو تو تیسرے کو چھوڑ کردو آدمی خفیہ سرگوشی نہ کیا کریں کیونکہ اس حرکت سے تیسرے آدمی کو حزن وملال ہوگا۔