تفسیر سورۃ الانعام
یہ سورت مکے میں اتری ہے ۔ حضرت ابن عباس فرماتے ہیں یہ پوری سورت ایک ہی مرتبہ ایک ساتھ ہی ایک ہی رات میں مکہ شریف میں نازل ہوئی ہے ، اس کے اردگرد ستر ہزار فرشتے تھے جو تسبیح پڑھ رہے تھے ایک روایت میں ہے کہ اس وقت حضور کہیں جا رہے تھے فرشتوں کی کثرت زمین سے آسمان تک تھی ، یہ ستر ہزار فرشتے اس سورت کے پہنچانے کے لئے آئے تھے ، مستدرک حاکم میں ہے ، اس سورت کے نازل ہونے پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، اس مبارک سورت کو پہنچانے کیلئے اس قدر فرشتے آئے تھے کہ آسمان کے کنارے دکھائی نہیں دیتے تھے ، ابن مردویہ میں یہ بھی ہے کہ فرشتوں کی اس وقت کی تسبیح نے ایک گونج پیدا کر دی تھی زمین گونج رہی تھی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سبحان اللہ العظیم سبحان اللہ العظیم پڑھ رہے تھے ۔ ابن مردویہ کی ایک مرفوع حدیث میں ہے کہ مجھ پر سورہ انعام ایک دفعہ ہی اتری ۔ اس کے ساتھ ستر ہزار فرشتے تھے جو تسبیح و حمد بیان کر رہے تھے ۔