Surat ul Anaam

Surah: 6

Verse: 10

سورة الأنعام

وَ لَقَدِ اسۡتُہۡزِئَ بِرُسُلٍ مِّنۡ قَبۡلِکَ فَحَاقَ بِالَّذِیۡنَ سَخِرُوۡا مِنۡہُمۡ مَّا کَانُوۡا بِہٖ یَسۡتَہۡزِءُوۡنَ ﴿۱۰﴾٪  7

And already were messengers ridiculed before you, but those who mocked them were enveloped by that which they used to ridicule.

اور واقعی آپ سے پہلے جو پیغمبر ہوئے ہیں ان کے ساتھ بھی مذاق کیا گیا ہے ۔ پھر جن لوگوں نے ان سےاستہزا کیا تھا ان کو اس عذاب نے آگھیرا جس کا تمسخر اڑاتے تھے ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

And indeed Messengers were mocked before you, but their scoffers were surrounded by the very thing that they used to mock at. comforts the Messenger concerning the denial of him by his people. 'The Ayah also promises the Messenger, and his believers, of Allah's victory and the good end in this life and the Hereafter. Allah said next, قُلْ سِيرُواْ فِي الاَرْضِ ثُمَّ انظُرُواْ كَيْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُكَذِّبِينَ

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[١٠] ان اعتراضات کا جواب دینے کے بعد اللہ تعالیٰ نے آپ کو تسلی دیتے ہوئے فرمایا کہ یہ کوئی نئی بات نہیں۔ ہٹ دھرم کافروں کا ہمیشہ یہی وطیرہ رہا ہے پہلے رسولوں سے بھی یہی کچھ ہوتا رہا لہذا آپ ان کی پروا نہ کیجئے اور انجام کار انہیں اسی قسم کے عذاب سے ہلاک کیا گیا جس کا وہ مذاق اڑایا کرتے تھے۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

وَلَقَدِ اسْتُهْزِئَ بِرُسُلٍ مِّنْ قَبْلِكَ ۔۔ : اس آیت میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو تسلی دی ہے کہ آپ کو جھٹلانے اور اللہ کے عذاب کا مذاق اڑانے کا جو معاملہ آپ کے ساتھ ہو رہا ہے، پہلے رسولوں کے ساتھ بھی ہوا، آخر کار اسی عذاب نے کفار کو آگھیرا جس کا مذاق اڑاتے ہوئے وہ کہا کرتے تھے کہ کوئی عذاب نہیں آئے گا، یہ محض دھمکی ہے۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

وَلَقَدِ اسْتُہْزِئَ بِرُسُلٍ مِّنْ قَبْلِكَ فَحَاقَ بِالَّذِيْنَ سَخِرُوْا مِنْہُمْ مَّا كَانُوْا بِہٖ يَسْتَہْزِءُوْنَ۝ ١٠ۧ اسْتِهْزَاءُ : ارتیاد الْهُزُؤِ وإن کان قد يعبّر به عن تعاطي الهزؤ، کالاستجابة في كونها ارتیادا للإجابة، وإن کان قد يجري مجری الإجابة . قال تعالی: قُلْ أَبِاللَّهِ وَآياتِهِ وَرَسُولِهِ كُنْتُمْ تَسْتَهْزِؤُنَ [ التوبة/ 65] ، وَحاقَ بِهِمْ ما کانوا بِهِ يَسْتَهْزِؤُنَ [هود/ 8] ، ما يَأْتِيهِمْ مِنْ رَسُولٍ إِلَّا كانُوا بِهِ يَسْتَهْزِؤُنَ [ الحجر/ 11] ، إِذا سَمِعْتُمْ آياتِ اللَّهِ يُكْفَرُ بِها وَيُسْتَهْزَأُ بِها[ النساء/ 140] ، وَلَقَدِ اسْتُهْزِئَ بِرُسُلٍ مِنْ قَبْلِكَ [ الأنعام/ 10] والِاسْتِهْزَاءُ من اللہ في الحقیقة لا يصحّ ، كما لا يصحّ من اللہ اللهو واللّعب، تعالیٰ اللہ عنه . وقوله : اللَّهُ يَسْتَهْزِئُ بِهِمْ وَيَمُدُّهُمْ فِي طُغْيانِهِمْ يَعْمَهُونَ [ البقرة/ 15] أي : يجازيهم جزاء الهزؤ . ومعناه : أنه أمهلهم مدّة ثمّ أخذهم مغافصة «1» ، فسمّى إمهاله إيّاهم استهزاء من حيث إنهم اغترّوا به اغترارهم بالهزؤ، فيكون ذلک کالاستدراج من حيث لا يعلمون، أو لأنهم استهزء وا فعرف ذلک منهم، فصار كأنه يهزأ بهم كما قيل : من خدعک وفطنت له ولم تعرّفه فاحترزت منه فقد خدعته . وقد روي : [أنّ الْمُسْتَهْزِئِينَ في الدّنيا يفتح لهم باب من الجنّة فيسرعون نحوه فإذا انتهوا إليه سدّ عليهم فذلک قوله : فَالْيَوْمَ الَّذِينَ آمَنُوا مِنَ الْكُفَّارِ يَضْحَكُونَ [ المطففین/ 34] «2» وعلی هذه الوجوه قوله عزّ وجلّ : سَخِرَ اللَّهُ مِنْهُمْ وَلَهُمْ عَذابٌ أَلِيمٌ [ التوبة/ 79] . الا ستھزاء اصل میں طلب ھزع کو کہتے ہیں اگر چہ کبھی اس کے معنی مزاق اڑانا بھی آجاتے ہیں جیسے استجا بۃ کے اصل منعی طلب جواب کے ہیں اور یہ اجابۃ جواب دینا کے معنی میں استعمال ہوتا ہے چناچہ قرآن میں ہے : ۔ قُلْ أَبِاللَّهِ وَآياتِهِ وَرَسُولِهِ كُنْتُمْ تَسْتَهْزِؤُنَ [ التوبة/ 65] کہو کیا تم خدا اور اس کی آیتوں اور اس کے رسول سے ہنسی کرتے تھے ۔ وَحاقَ بِهِمْ ما کانوا بِهِ يَسْتَهْزِؤُنَ [هود/ 8] اور جس چیز کے ساتھ یہ استہزاء کیا کرتے ۔ تھے وہ ان کو گھر لے گی ۔ ما يَأْتِيهِمْ مِنْ رَسُولٍ إِلَّا كانُوا بِهِ يَسْتَهْزِؤُنَ [ الحجر/ 11] اور ان کے پاس کوئی پیغمبر نہیں آتا تھا مگر اس کے ساتھ مذاق کرتے تھے ۔إِذا سَمِعْتُمْ آياتِ اللَّهِ يُكْفَرُ بِها وَيُسْتَهْزَأُ بِها[ النساء/ 140] کہ جب تم ( کہیں ) سنو کہ خدا کی آیتوں سے انکار ہوراہا ہے ا اور ان کی ہنسی ارائی جاتی ہے ۔ وَلَقَدِ اسْتُهْزِئَ بِرُسُلٍ مِنْ قَبْلِكَ [ الأنعام/ 10] اور تم سے پہلے بھی پیغمبروں کے ساتھ تمسخر ہوتے ہے ۔ حقیقی معنی کے لحاظ سے استزاء کی نسبت اللہ تعالیٰ کی طرف صحیح نہیں ہے جیسا کہ لہو ولعب کا استعمال باری تعالیٰ کے حق میں جائز نہیں ہے لہذا آیت : ۔ اللَّهُ يَسْتَهْزِئُ بِهِمْ وَيَمُدُّهُمْ فِي طُغْيانِهِمْ يَعْمَهُونَ [ البقرة/ 15]( ان ) منافقوں سے ) خدا ہنسی کرتا ہے اور انہیں مہلت دیئے جاتا ہے کہ شرارت وسر کشی میں پڑے بہک رہے ہیں ۔ میں یستھزئ کے معنی یا تو استھزاء کی سزا تک مہلت دی اور پھر انہیں دفعتہ پکڑ لیا یہاں انہوں نے ھزء کی طرح دھوکا کھا یا پس یا اس مارج کے ہم معنی ہے جیسے فرمایا : ۔ ان کو بتریج اس طرح سے پکڑیں گے کہ ان کو معلوم ہی نہ ہوگا ۔ اور آہت کے معنی یہ ہیں کہ جس قدر وہ استہزار اڑا رہے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ ان کے استہزار سے باخبر ہے تو گو یا اللہ تعالیٰ بھی ان کا مذاق اڑارہا ہے ۔ مثلا ایک شخص کسی کو دھوکہ دے ۔ اور وہ اس کے دھوکے سے باخبر ہوکر اسے اطلاع دیئے بغیر اسے سے احتراز کرے تو کہا جاتا ہے ۔ خدعنہ یعنی وہ اس کے دھوکے سے باخبر ہے ۔ ایک حدیث میں ہے ۔ ان للستھزبین فی الدنیا الفتح لھم باب من الجنتہ فیسر عون نحوہ فاذا انتھرا الیہ سد علیھم ۔ کہ جو لوگ دنیا میں دین الہٰی کا مذاق اڑاتے ہیں قیامت کے دن ان کے لئے جنت کا دروازہ کھولا جائیگا جب یہ لوگ اس میں داخل ہونے کے لئے سرپ دوڑ کر وہاں پہنچیں گے تو وہ دروازہ بند کردیا جائیگا چناچہ آیت : ۔ فَالْيَوْمَ الَّذِينَ آمَنُوا مِنَ الْكُفَّارِ يَضْحَكُونَ [ المطففین/ 34] تو آج مومن کافروں سے ہنسی کریں گے ۔ میں بعض کے نزدیک ضحک سے یہی معنی مراد ہیں اور آیت سَخِرَ اللَّهُ مِنْهُمْ وَلَهُمْ عَذابٌ أَلِيمٌ [ التوبة/ 79] خدا ان پر ہنستا ہے اور ان کے لئے تکلیف دینے والا عذاب تیار ہے ۔ میں بھی اسی قسم کی تاویل ہوسکتی ہے ۔ حاق قوله تعالی: وَحاقَ بِهِمْ ما کانوا بِهِ يَسْتَهْزِؤُنَ [هود/ 8] . قال عزّ وجلّ : وَلا يَحِيقُ الْمَكْرُ السَّيِّئُ إِلَّا بِأَهْلِهِ [ فاطر/ 43] ، أي : لا ينزل ولا يصيب، قيل : وأصله حقّ فقلب، نحو : زلّ وزال، وقد قرئ : فَأَزَلَّهُمَا الشَّيْطانُ [ البقرة/ 36] ، وأزالهما وعلی هذا : ذمّه وذامه . ( ح ی ق ) ( الحیوق والحیقان) ( ض ) کے معنی کسی چیز کو گھیر نے اور اس پر نازل ہونے کے ہیں ۔ اور یہ باء کے ساتھ متعدی ہوتا ہے قرآن میں ہے : ۔ : وَلا يَحِيقُ الْمَكْرُ السَّيِّئُ إِلَّا بِأَهْلِهِ [ فاطر/ 43] اور بری چال کا وبال اسکے چلنے والے پر ہی پڑتا ہے وحاق بِهِمْ ما کانوا بِهِ يَسْتَهْزِؤُنَ [هود/ 8] اور جس چیز سے استہزاء کیا کرتے تھے اس نے ان کو آگھیرا ۔ سخر التَّسْخِيرُ : سياقة إلى الغرض المختصّ قهرا، قال تعالی: وَسَخَّرَ لَكُمْ ما فِي السَّماواتِ وَما فِي الْأَرْضِ [ الجاثية/ 13] ( س خ ر ) التسخیر ( تفعیل ) کے معنی کسی کو کسی خاص مقصد کی طرف زبر دستی لیجانا کے ہیں قرآن میں ہے وَسَخَّرَ لَكُمْ ما فِي السَّماواتِ وَما فِي الْأَرْضِ [ الجاثية/ 13] اور جو کچھ آسمان میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے اس نے ( اپنے کرم سے ) ان سب کو تمہارے کام میں لگا رکھا ہے ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(١٠) اور دیگر انبیاء کرام کے ساتھ بھی ان کی قوموں نے وہی تمسخر کیا ہے جو آپ کی قوم آپ کے ساتھ کررہی ہے، ان کے تمسخر کے انجام میں آخرکار ان کافروں کو عذاب نے آگھیرا۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ١٠ (وَلَقَدِ اسْتُہْزِئَ بِرُسُلٍ مِّنْ قَبْلِکَ ) نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو تسلی دی جا رہی ہے کہ آپ دل گرفتہ نہ ہوں ‘ یہ ایسا پہلی مرتبہ نہیں ہو رہا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے پہلے بھی انبیاء (علیہ السلام) کے ساتھ ایسا ہی سلوک ہوتا رہا ہے۔ جیسے سورة الاحقاف (آیت ٩) میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی زبان سے کہلوایا گیا : (قُلْ مَا کُنْتُ بِدْعًا مِّنَ الرُّسُلِ ) یعنی آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) انہیں کہہ دیجیے کہ میں کوئی انوکھارسول نہیں ہوں ‘ مجھ سے پہلے بھی بہت سے رسول آ چکے ہیں۔ آیت زیر نظر میں اللہ تعالیٰ خودفرما رہے ہیں کہ اس سے پہلے بھی انبیاء و رسل (علیہ السلام) کے ساتھ ان کی قومیں اسی طرح غیر سنجیدگی کا مظاہرہ کرتی رہی ہیں۔ حضرت نوح (علیہ السلام) ساڑھے نو سوبرس تک ایسا سب کچھ جھیلتے رہے۔ (فَحَاق بالَّذِیْنَ سَخِرُوْا مِنْہُمْ مَّا کَانُوْا بِہٖ یَسْتَہْزِءُوْنَ ۔ ) ۔ اگرچہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خواہش ہے کہ انہیں کوئی معجزہ دکھا دیا جائے تاکہ ان کی زبانیں تو بند ہوجائیں ‘ لیکن ابھی ایسا کرنا ہماری حکمت کا تقاضا نہیں ہے ‘ ابھی ان کی مہلت کا وقت ختم نہیں ہوا۔ یعنی یہ سارا معاملہ وقت کے تعین کا ہے ‘ یہاں time factor ہی اہم ہے ‘ جس کا فیصلہ مشیت الٰہی کے مطابق ہونا ہے۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(6:10) استھزی۔ ب اس سے ٹھٹھا کیا گیا۔ (رسولوں کے ساتھ ٹھٹھا کیا گیا تھا اور ان کا مذاق اڑایا گیا تھا) ماضی مجہول کا صیغہ واحد مذکر غائب۔ حاق۔ حاق یحیق (ضرب) اس نے گھیر لیا۔ وہ الٹ پڑا۔ وہ نازل ہوا۔ حیق مادہ۔ سخروا ۔ سخر انہوں نے ٹھٹھا کیا۔ مذاق کیا۔ انہوں نے ہنسی کی۔ فحاق ۔۔ یستھزء ون۔ حاق فعل ما کانوا بہ یستھزء ون فاعل۔ الذین سخروا منہم۔ مفعول۔ جس حقیقت کا وہ مذاق اڑایا کرتے تھے اس نے ان مذاق اڑانے والوں کو (سزا دینے کے لئے آگھیرا ۔ نیز ملاحظہ ہو (21:41)

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 9 یعن خرکار انہیں اسی عذاب نے آگھیرا جس کا وہ مذاق اڑاتے ہوئے کہا کرتے تھے کہ کوئی عذاب نہیں آسکتا یہ محض دھمکی ہے اس سے آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی تسلی دی ہے (قرطبی)

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : کفار کا انبیاء ( علیہ السلام) کے ساتھ مذاق اور اس کا انجام۔ اہل کفر انبیاء کرام (علیہ السلام) سے صرف اوٹ پٹانگ مطالبات ہی نہیں کیا کرتے تھے بلکہ انھیں ہر طرح زچ اور پریشان کرنے کے ہتھکنڈے بھی استعمال کرتے تھے۔ ان ہتھکنڈوں اور کٹ حجتوں میں ایک بات یہ بھی تھی کہ ان کی شخصیات کو تضحیک کا نشانہ بنانے کے ساتھ ساتھ ان کی نبوت کو مذاق اور ان کے کام کو کھیل تماشا سمجھتے تھے۔ جس طرح ابراہیم (علیہ السلام) کی قوم ان سے کہنے لگی کہ کیا تو ہمارے پاس کوئی حق اور سچ کی بات لایا ہے یا کہ محض کھیل تماشا کر رہا ہے۔ اس کے جواب میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے توحید کے دلائل دیتے ہوئے فرمایا کہ تمہارے رب کی ہی بات کہہ رہا ہوں وہ رب جس نے زمین و آسمان کو پیدا فرمایا اور میں تم پر شہادت قائم کر رہا ہوں۔ (الانبیاء : ٥٦، ٥٥) حضرت نوح (علیہ السلام) کی قوم نے ساڑھے نو سو سال آپ کو ستایا چند لوگوں کے سوا باقی لوگ ان کی مخالفت اور کفر پر ڈٹے رہے۔ حضرت نوح (علیہ السلام) نے ان الفاظ میں بد دعا کی اے میرے رب اب ایسا عذاب نازل فرما کہ کفار کا ایک فرد بھی نہ بچے۔ اس کے جواب میں حضرت نوح (علیہ السلام) کو حکم ہوا آپ ہماری نگرانی اور وحی کے مطابق ایک کشتی تیار کریں۔ جب نوح (علیہ السلام) کشتی تیار کر رہے تھے تو ان کی قوم کے بڑے لوگ دیکھ کر انھیں مذاق کرتے تھے۔ جس کے جواب میں جناب نوح (علیہ السلام) فرماتے کہ وقت آنے والا ہے۔ جس طرح ہمیں مذاق کرتے ہو ہم بھی تمہیں اسی طرح مذاق کریں گے۔ پہلی اقوام کی طرح کافر اور منافق بھی نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو مذاق کرتے تھے۔ منافقوں کے بارے میں تو یہاں تک موجود ہے جب آپ پر کسی نئی سورت کا نزول ہوتا تو منافق آپ کو استہزاء کا نشانہ بناتے۔ جب آپ انھیں سمجھاتے تو وہ کہتے ہم تو محض شغل اور دل لگی کے لیے ایسی بات کر رہے ہیں۔ اس کے جواب میں فرمایا گیا کہ کیا تم اللہ کی ذات اور اس کے ارشادات اور اس کے معزز رسول سے مذاق کرتے ہو ؟ (التوبۃ : ٦٤ تا ٦٥) یہاں ایسے لوگوں کا جواب دیتے ہوئے فرمایا کہ اے رسول ! اپنا عزم اور حوصلہ بلند رکھیے آپ سے مذاق ہونا کوئی عجب کی بات نہیں آپ سے پہلے انبیاء کا تمسخر اڑایا جاتا رہا ہے جس طرح پہلے لوگوں کو ان کے کردار کی سزا ملی اسی طرح آپ کو مذاق کرنے والے بھی اپنے انجام سے دو چار ہوں گے۔ لہٰذا آپ فرما دیجیے کہ زمین میں چل پھر کر دیکھو۔ کہ اللہ تعالیٰ کی آیات کو جھٹلانے اور انبیاء کو مذاق کرنے والوں کا کیا انجام ہوا۔ مسائل ١۔ پہلی اقوام کے انجام سے عبرت و نصیحت حاصل کرنی چاہیے۔ ٢۔ انبیاء کرام (علیہ السلام) کو جھٹلانے والوں کو نشانۂ عبرت بنا دیا گیا۔ تفسیر بالقرآن انبیاء اور ” اللہ “ کی آیات کو جھٹلانے والے لوگ : ١۔ اگر انھوں نے آپ کو جھٹلا دیا ہے تو آپ سے پہلے بھی کئی رسول جھٹلائے گئے۔ (آل عمران : ١٨٤) ٢۔ آپ کو اگر انھوں نے جھٹلادیا ہے آپ فرما دیں میرے لیے میرے عمل اور تمہارے لیے تمہارا عمل ہے۔ (یونس : ٤١) ٣۔ اگر انھوں نے آپ کو جھٹلا دیا ہے تو آپ فرما دیں تمہارا رب وسیع رحمت والا ہے۔ (الانعام : ١٤٧) ٤۔ اگر انھوں نے آپ کو جھٹلا دیا ہے تو جھٹلائے گئے ان سے پہلے حضرت نوح وغیرہ۔ (الحج : ٤٢) ٥۔ اگر انھوں نے آپ کو جھٹلایا ہے۔ تو ان سے پہلے لوگوں نے بھی جھٹلایا تھا۔ (الفاطر : ٢٥) ٦۔ وہ لوگ جو ہماری آیات کے ساتھ کفر کرتے ہیں اور ان کی تکذیب کرتے ہیں وہ ہمیشہ جہنم میں رہیں گے۔ (البقرۃ : ٣٩) ٧۔ انہوں نے کہا کیا بشر ہم کو ہدایت دے گا انہوں نے کفر کیا اور ایمان لانے سے اعراض کیا۔ (التغابن : ٦) ٨۔ انہوں نے شعیب (علیہ السلام) کو جھٹلایا تو انہیں ہلاک کردیا گیا۔ (العنکبوت : ٣٧)

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

(آیت) ” نمبر ١٠ تا ١١۔ یہ ایک جھلکی ہے ‘ جو ان لوگوں کی روگردانی اور ہٹ دھرمی کے بعد اور ان کی جاہلانہ اور احمقانہ مطالبات کے بعد آتی ہے۔ اور اس کے بعد کہ ان کے اس چیلنج اور ان کے مطالبات کو اللہ تعالیٰ نے نہایت مہربانی اور نہایت ہی بربادی کر کے قبول نہ کیا ورنہ وہ ہلاک ہوجاتے ‘ تو اس موقعہ پر اس جھلکی سے دو مقاصد مطلوب ہیں ۔ پہلا مقصد تو یہ ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو تسلی دی جائے اور ان کے دل سے غبار غم چھٹ جائے کوئی روگردانی کرنے والوں اور مذاق اڑانے والوں کے رویے کی وجہ سے اور مسلسل ہٹ دھرمی کی وجہ سے آپ بہت ہی پریشان ہوجاتے تھے ۔ اس طرح حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا دل مطمئن ہوجاتا کہ جھٹلانے والوں اور مذاق اڑانے والوں کا انجام آخر کار خراب ہی ہوتا ہے ۔ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ سمجھایا جاتا ہے کہ تاریخ دعوت وتاریخ رسل میں یہ رویہ کوئی انوکھی بات نہیں ہے ۔ آپ سے پہلے بھی رسولوں کے ساتھ یہی رویہ اختیار کیا گیا ۔ مذاق اڑانے والوں کا یہی انجام رہا ہے اور وہ جس چیز سے مذاق کرتے تھے آخر کار اسی چیز نے انہیں گھیر لیا اور جس کو دھمکی سمجھتے تھے وہ عذاب ان پر آکر رہا اور حق کو باطل پر آخر کار غلبہ نصیب ہوا۔ دوسرا مقصد یہ تھا کہ ان جھٹلانے والوں اور مذاق کرنے والوں کے دلوں کو بھی ذرا جھنجوڑا جائے اور انہیں اس طرح متوجہ کیا جائے کہ وہ ذرا اپنے اسلام کی تاریخ پر نگاہ ڈالیں جنہوں نے نبیوں کو جھٹلایا اور ان کا مذاق اڑایا اور اس کی وجہ سے اللہ کے عذاب نے انہیں گھیرا ۔ یہ لوگ قوت اور شوکت کے اعتبار سے تم سے زیادہ قوی اور پرشوکت تھے ۔ وہ زیادہ آسودہ حال اور ترقی یافتہ تھے ۔ اس طرح انہیں اس طرح متوجہ کیا ۔ شاید کہ وہ ہدایت قبول کرلیں جس طرح سورة کے آغاز میں بھی انہیں واقعات تاریخ سے عبرت حاصل کرنے کا حکم دیا گیا تھا۔ قرآن کریم کے درج ذیل الفاظ قابل غور ہیں : (آیت) ” قُلْ سِیْرُواْ فِیْ الأَرْضِ ثُمَّ انظُرُواْ کَیْْفَ کَانَ عَاقِبَۃُ الْمُکَذِّبِیْنَ (11) ” ان سے کہو ‘ ذرا زمین پر چل پھر کر دیکھو جھٹلانے والوں کا کیا انجام ہوا ہے ؟ ۔ زمین میں سیروسیاحت کے مقاصد یہ ہیں کہ پھرنے والے کو علم حاصل ہو ‘ وہ حالات پر غور کرے اور ان سے عبرت حاصل کرے ۔ اور پھر تدبر کے بعد پھرنے والا یہ معلوم کرے کہ سنن الہیہ حوادث وواقعات میں کس طرح کار فرما ہوتی ہیں ۔ سنن الہیہ آثار قدیمہ سے بھی معلوم ہو سکتی ہیں جو نظر آتے ہیں اور ابھی تک کھڑے ہیں ۔ ان تاریخی واقعات کے اندر بھی معلوم کی جاسکتی ہیں جو ہر خطے اور ہر قوم کی روایتی تاریخ کے اندر منضبط ہوتے ہیں ۔ زمین کے اندر اس غرض کے لئے اور اس نہج پر سیاحت کرنا عربوں کے لئے ایک انوکھی بات تھی ۔ اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ عربوں جیسی بدوی اور سادہ قوم میں قرآن مجید فکر ونظر کا کس قدر عظیم انقلاب لارہا ہے ۔ وہ اہل جاہل اور ان پڑھ قوم کو فلسفہ تاریخ پڑھا رہا ہے ۔ وہ زمین میں پھرتے تھے ‘ سیاحت کے عادی تھے ۔ وہ زندگی گزارنے اور تجارت کے لئے قافلوں کی صورت میں پھرنے کے عادی تھے لیکن ان کے پیش نظر صرف وہ امور تھے جن کا تعلق صرف تجارت اور شکار وغیرہ سے تھا ۔ تربیتی مقاصد کے لئے سیر و سیاحت کبھی ان کا مقصود نہیں رہی تھی ۔ یہ سفر ان کے لئے بالکل جدید تھا ۔ یہ جدید نظام حیات انہیں سچ کی یہ نئی لائن دے رہا تھا اور بچوں کی طرح انہیں ہاتھ سے پکڑ کر جاہلیت کی گہرائیوں اور تاریکیوں سے نکال رہا تھا ۔ انہیں ایک بلند اور کھلی شاہراہ پر ڈال کر مقام سربلندی تک لے جا رہا تھا اور تاریخ شاہد ہے کہ قرآن پر عمل کرکے ہی وہ اس بلند مقام تک پہنچے ۔ مطالعہ تاریخ کا یہ منہاج جو قرآن کریم عربوں کو سکھا رہا تھا اپنے اول اور آخر سے یہ انسانی تاریخ کے مطالعے کا بالکل ایک نیا منہاج تھا جس کے مطابق اس دور میں اسلامی نظام زندگی نے انسانی عقل کے سامنے انسانی تاریخ کو پیش کیا ۔ اس طرز مطالعہ سے صاف صاف معلوم ہوجاتا ہے کہ جب کچھ اسباب اللہ کی مشیت کے مطابق جمع ہوجاتے ہیں تو ان کے نتائج لازما ظہور پذیر ہوتے ہیں اور انسانی کھلی آنکھوں سے تاریخ میں واقعات واحداث کو سنن الہیہ کے مطابق ظاہر ہوتا دیکھتا ہے ۔ اسلامی نظام سے پہلے انسان اور ان کی روایات میں سے محض چند واقعات گنوائے گئے تھے اور کچھ مشاہدات اور لوگوں کے کچھ رسوم اور رواجات کو قلم بند کیا گیا تھا ۔ کہیں بھی واقعات کے اسباب اور وجوہات کے بارے میں کوئی بحث اور تبصرہ نہیں ہوا تھا اور نہ ان کا تجزیہ کیا گیا تھا کہ یہ اسباب اور یہ ان کے نتائج نکلے ۔ یہ تھے تاریخ کے مراحل اور انقلابات ۔ یہ اسلامی نظام اور قرآن تھا جس نے انسان کو فلسفہ تاریخ دیا اور اسے یہ سکھایا کہ تاریخی واقعات کے اندر اسباب ونتائج کا مطالعہ کرو۔ قرآن نے فلسفہ تاریخ کا کوئی مرحلہ پیش نہیں کیا اور نہ کسی پرانی فکر کو آگے بڑھایا ہے بلکہ قرآن نے انسان کو تاریخی تجزیہ کا ایک منہاج دیا ہے اور صرف اس منہاج کے مطابق ہی انسانی تاریخ کا تجزیہ کیا جاسکتا ہے ۔ بعض لوگ اس امر پر تعجب کرتے ہیں کہ اسلامی نظام نے اور رسالت محمدیہ نے صرف ربع صدی کے ایک مختصر عرصے میں عربوں کی زندگی میں ایک عظیم اور بےمثال ثقافتی اور اقتصادی انقلاب برپا کردیا ۔ یہ عرصہ بظاہر اس قدر عظیم اور ہمہ گیر انقلاب کے لئے نہایت ہی قلیل ہے ۔ اگر وہ اقصادی انقلاب کے اصل عوامل کا مطالعہ کریں تو وہ ہر گز یہ تعجب نہ کریں گے ۔ انہیں معلوم ہوجائے گا کہ وہ عوامل کیا تھا جو حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) خدائے علیم وخبیر کی طرف سے لے کر آئے تھے ۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ اقتصادی انقلاب بھی اسلامی نظام زندگی کا دکھایا ہوا معجزہ تھا اور اس کا راز اسی نظام میں پنہاں ہے جو لوگ دور جدید کے جدید اقتصادی نظریات اور کھوئے ہوئے اقتصادی اصولوں کے اندر جو چیز تلاش کر رہے ہیں اور اس کے لئے تاریخ کی مادی تعبیر کرتے ہیں انہیں چاہیے کہ یہ راز اسلامی نظام کے اندر تلاش کریں ۔ اگر وہ اس کے اسباب نظام زندگی کے اندر تلاش نہیں کرتے تو رسالت محمدیہ کے نتیجے میں پسماندہ اور بدوی عربوں میں جو اقتصادی انقلاب برپا ہوا ‘ اس کے نتیجے میں لوگوں کو ایک نظریہ اور تصور حیات ملا ‘ ایک نظام حکومت ملا ‘ فکر ونظر کا نیا انداز ملا ‘ اخلاق ملا ‘ اقدار ملیں ‘ اجتماعی اوضاع واطوار ملے اور نہایت ہی مختصر عرصے یعنی ربع صدی میں ملے ان کے وہ کیا اسباب اور عوامل بتا سکیں گے ؟ (ھاتوا برھانکم انکنتم صادقین) اس جھلکی پر ذرا دوبارہ غور کیجئے ۔ (آیت) ” قُلْ سِیْرُواْ فِیْ الأَرْضِ ثُمَّ انظُرُواْ کَیْْفَ کَانَ عَاقِبَۃُ الْمُکَذِّبِیْنَ (11) ” ان سے کہو ‘ ذرا زمین پر چل پھر کر دیکھو جھٹلانے والوں کا کیا انجام ہوا ہے ؟ ۔۔۔۔ ۔۔۔ اور اس لہر کے ابتدائی حصہ میں آنے والے ریمارک کو ذرا دوبارہ ذہن میں تازہ کریں۔ (آیت) ” أَلَمْ یَرَوْاْ کَمْ أَہْلَکْنَا مِن قَبْلِہِم مِّن قَرْنٍ مَّکَّنَّاہُمْ فِیْ الأَرْضِ مَا لَمْ نُمَکِّن لَّکُمْ وَأَرْسَلْنَا السَّمَاء عَلَیْْہِم مِّدْرَاراً وَجَعَلْنَا الأَنْہَارَ تَجْرِیْ مِن تَحْتِہِمْ فَأَہْلَکْنَاہُم بِذُنُوبِہِمْ وَأَنْشَأْنَا مِن بَعْدِہِمْ قَرْناً آخَرِیْنَ (6) ” کیا انہوں نے دیکھا نہیں کہ ان سے پہلے کتنی ایسی قوموں کو ہم ہلاک کرچکے ہیں جن کا اپنے زمانے میں دور دورہ رہا ہے ؟ ان کو ہم نے زمین میں وہ اقتدار بخشا جو تمہیں نہیں بخشا ‘ ان پر ہم نے آسمان سے خوب بارشیں برسائیں اور ان کے نیچے نہریں بہا دیں (مگر انہوں نے کفران نعمت کیا) تو آخر کار ہم نے ان کے گناہوں کی پاداش میں انہیں تباہ کردیا اور ان کی جگہ دوسرے دور کی قوموں کو اٹھایا ۔ “ یہ آیات اور ایسی ہی آیات اس سورة میں اور پورے قرآن میں پائی جاتی ہیں اور انسانیت کو فکر ونظر کا ایک جدید منہاج عطا کرتی ہیں ۔ یہ زندہ رہنے والا منہاج ہے اور یہ بےمثال اور لاثانی نظام زندگی ہے ۔ (تفصیلات کے لئے دیکھئے میری کتاب خصائص التصور الاسلامی وتومانہ کی ” فصل “ اسلام کا فلسفہ تاریخ) درس نمبر ٥٧ ایک نظر میں : یہ لہر نہایت ہی اونچی ہے اور اس کا ٹکراؤ بھی بہت خوفناک ہے ۔ جھٹلانے ‘ روگردانی کرنے ‘ مذاق اڑانے اور دعوت اسلامی کے ساتھ استہزاء کرنے بحث کے بعد متصلا یہ لہر اٹھتی ہے ۔ روگردانی اور استہزاء کی گزشتہ بحث کے درمیان لوگوں کے لئے ڈراوا اور انجام بد سے ان کے دلوں میں خوف پیدا کیا گیا تھا اور لوگوں کو اس طرف متوجہ کیا گیا تھا کہ وہ جھٹلانے والوں اور مذاق اڑانے والوں کی اس تاریخی انجام پر بھی غور کریں ‘ جس سے وہ دوچار ہوئے ۔ مکذبین کے متعلق لہر نمبر ٢ ، سے پہلے اس سورت کی افتتاحی لہر میں اس پوری کائنات میں حقیقت الٰہی اور اس کی شان حاکمیت سے بحث کی گئی تھی ۔ یہ شان پوری کائنات کے ساتھ ساتھ خود نفس انسانی کی اندر بھی دکھائی گئی تھی ۔ اب اس لہر میں بھی ذات باری کے اقتدار اعلی اور اس کے تصرفات کے کچھ اور پہلو دکھائے گئے ہیں ۔ ایک نئے زیروبم اور کچھ نئے فیکٹرز کے ساتھ ۔ گویا افتتاحی لہر اور اس لہر کا مضمون ایک ہی ہے ‘ فرق صرف یہ ہے ان دونوں کے درمیان مکذبین اور مذاق اڑانے والوں کے لئے ایک سخت تنبیہ آگئی ہے اور جس سے یہ بتانا مقصود ہے کہ معترضین کا یہ فعل نہایت ہی شنیع فعل ہے ۔ جو لوگ دعوت سے منہ موڑتے ہیں وہ بہت ہی بری حرکت کر رہے ہیں ۔ پہلی لہر میں شان الہی کو زمین و آسمان کی تخلیق میں دکھایا گیا کہ کس طرح ظلمت ونور کا نظام پیدا کیا گیا اور پھر اس کائنات کے اندر کیچڑ سے انسان کو کس طرح پیدا کیا گیا ‘ پہلا مرحلہ اس کی عمر کا طے کیا گیا اور دوسرا مرحلہ اس کی قیامت اور بعث کے لئے مقرر کیا گیا ۔ یہ بھی بتایا گیا کہ خدا کی خدائی زمین وآسمانوں سب پر حاوی ہے ۔ زمین پر اس مخلوق یعنی حضرت انسان کی تمام سرگرمیوں پر بھی حاوی ہے چاہے وہ ظاہر ہوں یا پوشیدہ ‘ بلند آواز سے ہوں یا خفیہ ‘ ان کے افعال کھلے بندوں ہوں یا پوشیدگی کے ساتھ ۔ یہ سب امور اس لئے نہ لائے گئے کہ قرآن کے پیش نظر کوئی لاہوتی یا نظریاتی بحث نہ تھی بلکہ اس لئے کہ ان حقائق کے تقاضے انسانی زندگی میں عملا نمودار ہوں ۔ انسان کی پوری کی پوری زندگی الہ واحد کے سامنے سرنگوں ہو اور انسان الہ العالمین کے سوا کسی اور کے آگے نہ جھکے اور توحید میں کوئی شک وشبہ نہ رہے ۔ وہ یہ سمجھے اور اقرار کرے کہ اللہ کی حاکمیت اس پوری کائنات اور انسان کی ظاہری وباطنی زندگی پر حاوی ہے اور یوں انسان کو چاہئے کہ وہ اپنی پوری زندگی کو حاکمیت الہیہ کے تابع کر دے ۔ جس طرح کہ اس کی تکوینی زندگی حاکمیت الہیہ کے تابع ہے ۔ اس جدید بلند لہر کا مقصد بھی حقیقت الوہیت اور حاکمیت الہیہ کا اظہار ہے وہ اس طرح کہ اس پوری کائنات کا مالک اللہ ہی ہے ۔ فعال بھی وہی ہے ۔ رزق بھی وہی دیتا ہے اور کفالت بھی وہی کرتا ہے ۔ وہ قادر اور قہار ہے ‘ وہ نافع اور ضار ہے ‘ لیکن یہ عقائد محض سلبی اور نظریاتی نہیں ہیں بلکہ ضروری ہے کہ ان عقائد کی روشنی میں اللہ وحدہ کو ولی تسلیم کیا جائے اور اس کی طرف رجوع کیا جائے ۔ اس کی مکمل بندگی کی جائے اور اس کا مطیع فرمان رہا جائے ۔ ان تمام امور کا اظہار اس طرح ہوگا کہ اللہ ہی کو اپنا دوست اور حاکم تسلیم کیا جائے ‘ اس لئے کہ وہی تو ہے جو ہمارا رب اور مطعم ہے جبکہ ہماری جانب سے اسے کچھ نہیں دیا جاتا ۔ دوسرے یہ کہ خود اس نے اس بات سے منع کیا ہے کہ اللہ کے سوا کسی اور کو ولی حاکم اور دوست بنایا جائے یا ان امور میں اس کے ساتھ کسی اور کو شریک کیا جائے ۔ اس مقصد کے لئے اس شکل میں ‘ حقیقت الوہیت کے بیان کے ساتھ ساتھ ان مؤثرات اور فیکٹرز کو بھی بیان کردیا گیا ہے جو دل کو پریشان کرتے ہیں ۔ آغاز اس سے کیا جاتا ہے ۔ اللہ تعالیٰ تمام چیزوں کا مالک ہے ‘ پھر وہی رب ہے لیکن اس طرح کہ وہ تمام لوگوں کو کھلاتا ہے اور اسے کوئی نہیں کھلاتا اور نہ وہ محتاج ہے ۔ پھر اللہ کے اس عذاب کا تذکرہ کیا جاتا ہے کہ اگر کسی سے وہ عذاب ٹل جائے تو گویا اس نے عظیم کامیابی حاصل کرلی ۔ پھر یہ کہ اللہ تعالیٰ خیر وشر پر قادر ہیں۔ اور یہ کہ وہ ہر فعل پر قادر ہیں اور قہار ہیں ‘ وہ حکیم اور تجربہ کار ہیں ۔ ان تمام امور کو ایک موثر انداز بیان ساتھ لایا جاتا ہے اور نہایت ہی بلند شان سے کہا جاتا ہے ۔ کہہ دو ‘ کہہ دو ‘ کہہ دو ۔ حقیقت حاکمیت الہیہ کے اس گہرے اور موثر بیان کا خاتمہ نہایت ہی بلند آہنگی کے ساتھ ہوتا ہے اور عقیدہ توحید اور رد شرک اور ان کے درمیان فرق و امتیاز کو نہایت ہی پرزور انداز میں بیان کر کے اس کی شہادت دی جاتی ہے اور یہ شہادت بھی نہایت ہی شاہانہ انداز میں دی جاتی ہے ۔ کہا جاتا ہے ۔ (آیت) ” قل ای شیء اکبر شھادۃ “ سب سے بڑی شہادت کیا ہے ؟ قل للہ کہو اللہ ‘ کہو میں تو شرک پر شہادت نہیں دیتا ۔ اس لئے کہ اللہ تو صرف ایک ہی ذات ہے جو الہ واحد ہے ۔ ان فقروں اور تنبیہ آمیز سوال و جواب کی وجہ سے ایک پر خطر اور خوفناک فضا پیدا ہوجاتی ہے اور ماحول یکلخت سنجیدہ ہوجاتا ہے ۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

استہزا کرنے والوں کے لئے وعید پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو تسلی دیتے ہوئے فرمایا (وَ لَقَدِ اسْتُھْزِئَ بِرُسُلٍ مِّنْ قَبْلِکَ فَحَاق بالَّذِیْنَ سَخِرُوْا مِنْھُمْ مَّا کَانُوْا بِہٖ یَسْتَھْزِءُ وْنَ ) (اور بلاشبہ آپ سے پہلے رسولوں کے ساتھ بھی استہزا کیا گیا۔ پھر جن لوگوں نے استہزا کیا ان کو اس چیز نے گھیر لیا جس کا وہ مذاق اڑایا کرتے تھے۔ ) اس میں اول تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو تسلی ہے کہ تکذیب کرنے والے جو کچھ آپ کے ساتھ استہزا کرتے ہیں مذاق بناتے ہیں ہے یہ کوئی نئی چیزیں نہیں ہے آپ سے پہلے جو رسول گذرے ہیں ان کے ساتھ بھی ایسا ہوتا رہا ہے لہٰذا آپ بھی صبر کریں جیسا ان حضرات نے صبر کیا پھر انجام یہ ہوا کہ جن لوگوں نے ایسی حرکتیں کی تھیں وہ ان کے وبال میں مبتلا ہوئے اور استہزاء اور مسخرہ پن کی سزا میں ان کو عذاب نے گھیر لیا۔ ان معاندین و مستہزئین کا بھی ایسا ہی انجام ہونے والا ہے۔ قال صاحب الروح فکانہ سبحانہ وتعالیٰ وعدہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بعقوبۃ من استھزابہٖ (علیہ السلام) ان اصرعلی ذلک ج ٧ ص ١٠١

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

12: یہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لیے تسلی ہے۔ ابو جہل، امیہ بن خلف، ولید بن مغیرہ اور دیگر مشرکین آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے استہزاء کرتے تھے۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے آپ کو تسلی دی کہ آپ سے پہہلے انبیاء (علیہم السلام) سے بھی ان کی قوم کے سرکش اور معاند لوگ اسی طرح استہزاء اور تمسخر کیا کرتے تھے۔ آخر ان کو ان کی شرارتوں کی سزا مل گئی۔ تسلیۃ لرسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) عما یلقاہ من قومہ کالولید ابن المغیرۃ وامیۃ بن خلف وابی جہل واضرابھم (روح ج 7 ص 101) حَاقَ بمعنی نزل یعنی نازل ہوا۔ اور منھم میں من بمعنی باء ہے اور ھُم ضمیر سے رسل اور مؤمنین مراد ہیں۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

10 اور اے پیغمبر ! بلا شبہ آپ سے پہلے رسولوں کا بھی مذاقاڑایا جا چکا ہے اور ان کی بھی ہنسیاڑائی گئی ہے پھر ان ہنسی اڑانے والوں کا یہ انجام ہوا کہ جس عذاب کا وہ مذاق اور ہنسی اڑاتے تھے اسی عذاب نے ان کو گھیر لیا یعنی پیغمبروں کی جن باتوں کا مذاق اڑاتے تھے انہی باتوں نے ایک دن عذاب الٰہی بن کر آگھیرا اور سب کو موت کے گھاٹ اتار دیا گیا۔