Surat ul Anaam

Surah: 6

Verse: 106

سورة الأنعام

اِتَّبِعۡ مَاۤ اُوۡحِیَ اِلَیۡکَ مِنۡ رَّبِّکَ ۚ لَاۤ اِلٰہَ اِلَّا ہُوَ ۚ وَ اَعۡرِضۡ عَنِ الۡمُشۡرِکِیۡنَ ﴿۱۰۶﴾

Follow, [O Muhammad], what has been revealed to you from your Lord - there is no deity except Him - and turn away from those who associate others with Allah .

آپ خود اس طریقہ پر چلتے رہئے جس کی وحی آپ کے رب تعالٰی کی طرف سے آپ کے پاس آئی ہے اللہ تعالٰی کے سوا کوئی لائق عبادت نہیں اور مشرکین کی طرف خیال نہ کیجئے ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

The Command to Follow the Revelation Allah commands His Messenger and those who followed his path, اتَّبِعْ مَا أُوحِيَ إِلَيْكَ مِن رَّبِّكَ ... Follow what has been inspired to you from your Lord, meaning, follow it, obey it and act according to it. What has been revealed to you from your Lord is the Truth, no doubt, and there is no deity worthy of worship except Him, ... لاا إِلَـهَ إِلااَّ هُوَ ... none has the right to be worshipped but He, ... وَأَعْرِضْ عَنِ الْمُشْرِكِينَ and turn aside from the idolators. meaning, forgive them, be forbearing and endure their harm until Allah brings relief to you, supports you and makes you triumphant over them. Know -- O Muhammad -- that there is a wisdom behind misleading the idolators, and that had Allah willed, He would have directed all people to guidance,

وحی کے مطابق عمل کرو حضور کو اور آپ کی امت کو حکم ہو رہا ہے کہ وحی الہی کی اتباع اور اسی کے مطابق عمل کرو جو وحی اللہ کی جانب سے اترتی ہے وہ سراسر حق ہے اس کے حق ہونے میں زرا سا بھی شبہ نہیں ۔ معبود برحق صرف وہی ہے ، مشرکین سے درگزر کر ، ان کی ایذاء دہی پر صبر کر ، ان کی بد زبانی برداشت کر لے ، ان کی بد زبانی سن لے ، یقین مان کر تیری فتح کا تیرے غلبہ کا تیری طاقت و قوت کا وقت دور نہیں ۔ اللہ کی مصلحتوں کو کوئی نہیں جانتا دیر گو ہو لیکن اندھیرا نہیں ۔ اگر اللہ چاہتا تو سب کو ہدایت دیتا اس کی مشیت اس کی حکمت وہی جانتا ہے نہ کوئی اس سے باز پرس کر سکے نہ اس کا ہاتھ تھام سکے وہ سب کا حاکم اور سب سے سوال کرنے پر قادر ہے تو اس کے اقوال و اعمال کا محافظ نہیں تو ان کے رزق وغیرہ امور کا وکیل نہیں تیرے ذمہ صرف اللہ کے حکم کو پہنچا دینا ہے جیسے فرمایا نصیحت کر دے کیونکہ تیرا کام یہی ہے تو ان پر داروغہ نہیں اور فرمایا تمہاری ذمہ داری تو صرف پہنچا دینا ہے حساب ہمارے ذمہ ہے ۔

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[١٠٨] پہلے بتایا جا چکا ہے کہ یہ سورة ہجرت سے تقریباً ایک سال پہلے نازل ہوئی تھی (ماسوائے چھ آیات کے) اور اس وقت مسلمانوں پر سخت آزمائش کا دور تھا۔ اس وقت یہی حکم تھا کہ مشرکوں سے کنارہ کش رہا جائے۔ لیکن جب فتح مکہ کے بعد اسلام کو غلبہ حاصل ہوگیا۔ تو پھر یہ حکم نہ رہا بلکہ ان کے ساتھ جنگ وجدال کا حکم ہوا۔ اور کعبہ میں ان کا داخلہ ممنوع قرار دیا گیا۔ جیسا کہ سورة توبہ کے آغاز میں مشرکین کے لیے احکام بیان ہوئے ہیں۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

اِتَّبِعْ مَآ اُوْحِيَ ۔۔ : یعنی ان کے اس قسم کے بےبنیاد شبہات سے متاثر ہو کر دعوت و تبلیغ ترک نہ کرو۔ اس سے مقصود آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو تسلی دینا ہے۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

In the fourth verse (106), the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) at has been guided to a specific course of action. He has been asked not to worry about the acceptance or non-acceptance of the call. For him, the best course was to keep following the way revealed to him through Wahy from his Rabb, the major element of which is the belief that no one is worthy of worship but Allah. That he should continue preaching with his message of truth is part of what has been revealed. So, believing in Allah and remaining steadfast on the way ordained for him, he should avoid feeling concerned about disbelievers and their unfortu¬nate non-acceptance of the call.

چوتھی آیت میں رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ہدایت ہے کہ آپ یہ نہ دیکھیے کہ کون مانتا ہے اور کون نہیں مانتا، آپ خود اس طریق پر چلتے رہئے جس طریق پر چلنے کے لئے آپ کے پاس آپ کے رب کی طرف سے وحی نازل ہوئی ہے، جس میں بڑی چیز یہ اعتقاد ہے کہ اللہ کے سوا کوئی لائق عبادت نہیں، نیز اس وحی میں تبلیغ کا حکم بھی داخل ہے، اس پر قائم رہ کر مشرکین کی طرف خیال نہ کیجئے کہ افسوس ! انہوں نے کیوں قبول نہ کیا۔

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

اِتَّبِعْ مَآ اُوْحِيَ اِلَيْكَ مِنْ رَّبِّكَ۝ ٠ۚ لَآ اِلٰہَ اِلَّا ہُوَ۝ ٠ۚ وَاَعْرِضْ عَنِ الْمُشْرِكِيْنَ۝ ١٠٦ تبع يقال : تَبِعَهُ واتَّبَعَهُ : قفا أثره، وذلک تارة بالجسم، وتارة بالارتسام والائتمار، وعلی ذلک قوله تعالی: فَمَنْ تَبِعَ هُدايَ فَلا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلا هُمْ يَحْزَنُونَ [ البقرة/ 38] ( ت ب ع) تبعہ واتبعہ کے معنی کے نقش قدم پر چلنا کے ہیں یہ کبھی اطاعت اور فرمانبرداری سے ہوتا ہے جیسے فرمایا ؛ فَمَنْ تَبِعَ هُدايَ فَلا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلا هُمْ يَحْزَنُونَ [ البقرة/ 38] تو جنہوں نے میری ہدایت کی پیروی کی ان کو نہ کچھ خوف ہوگا اور نہ غمناک ہونگے وحی أصل الوحي : الإشارة السّريعة، ولتضمّن السّرعة قيل : أمر وَحْيٌ ، وذلک يكون بالکلام علی سبیل الرّمز والتّعریض، وقد يكون بصوت مجرّد عن التّركيب، وبإشارة ببعض الجوارح، وبالکتابة، وقد حمل علی ذلک قوله تعالیٰ عن زكريّا : فَخَرَجَ عَلى قَوْمِهِ مِنَ الْمِحْرابِ فَأَوْحى إِلَيْهِمْ أَنْ سَبِّحُوا بُكْرَةً وَعَشِيًّا[ مریم/ 11] وقوله : وَأَوْحَيْنا إِلى مُوسی وَأَخِيهِ [يونس/ 87] فوحيه إلى موسیٰ بوساطة جبریل، ووحيه تعالیٰ إلى هرون بوساطة جبریل وموسی، ( و ح ی ) الوحی کے اصل معنی جلدی سے اشارہ کرنا کے ہیں ۔ اور اس کے معنی سرعت کو متضمن ہو نیکی وجہ سے ہر تیز رفتار معاملہ کو امر وحی کہا جاتا ہے اور یہ وحی کبھی رمزوتعریض کے طور پر بذریعہ کلام کے ہوتی ہے اور کبھی صوت مجرد کی صورت میں ہوتی ہے یعنی اس میں ترکیب الفاظ نہیں ہوتی اور کبھی بذیعہ جوارح کے اور کبھی بذریعہ کتابت کے اس بنا پر آیت : ۔ فَخَرَجَ عَلى قَوْمِهِ مِنَ الْمِحْرابِ فَأَوْحى إِلَيْهِمْ أَنْ سَبِّحُوا بُكْرَةً وَعَشِيًّا[ مریم/ 11] پھر وہ عبادت کے حجرے سے نکل کر اپنی قوم کے پاس آئے تو ان سے اشارے سے کہا کہ صبح وشام خدا کو یاد کرتے رہو ۔ اور آیت : ۔ وَأَوْحَيْنا إِلى مُوسی وَأَخِيهِ [يونس/ 87] اور ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) اور ان کے بھائی کی طرف وحی بھیجی میں موسیٰ اور ان کے بھائی کی طرف یکساں قسم کی وحی بھیجنا مراد نہیں ہے بلکہ موسیٰ علیہ اسلام کی طر وحی تو حضرت جبریل کی وسا طت سے آتی تھی مگر ہارون (علیہ السلام) کی طرف حضرت موسیٰ اور جبریل (علیہ السلام) دونوں کی وساطت سے وحی کی جاتی ہے اعرض وإذا قيل : أَعْرَضَ عنّي، فمعناه : ولّى مُبدیا عَرْضَهُ. قال : ثُمَّ أَعْرَضَ عَنْها [ السجدة/ 22] ، فَأَعْرِضْ عَنْهُمْ وَعِظْهُمْ ( ع ر ض ) العرض اعرض عنی اس نے مجھ سے روگردانی کی اعراض کیا ۔ قرآن میں ہے : ثُمَّ أَعْرَضَ عَنْها [ السجدة/ 22] تو وہ ان سے منہ پھیرے ۔ فَأَعْرِضْ عَنْهُمْ وَعِظْهُمْ [ النساء/ 63] تم ان سے اعراض بر تو اور نصیحت کرتے رہو ۔ شرك وشِرْكُ الإنسان في الدّين ضربان : أحدهما : الشِّرْكُ العظیم، وهو : إثبات شريك لله تعالی. يقال : أَشْرَكَ فلان بالله، وذلک أعظم کفر . قال تعالی: إِنَّ اللَّهَ لا يَغْفِرُ أَنْ يُشْرَكَ بِهِ [ النساء/ 48] ، والثاني : الشِّرْكُ الصّغير، وهو مراعاة غير اللہ معه في بعض الأمور، وهو الرّياء والنّفاق المشار إليه بقوله : جَعَلا لَهُ شُرَكاءَ فِيما آتاهُما فَتَعالَى اللَّهُ عَمَّا يُشْرِكُونَ [ الأعراف/ 190] ، ( ش ر ک ) الشرکۃ والمشارکۃ دین میں شریک دو قسم پر ہے ۔ شرک عظیم یعنی اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی دوسرے کو شریک ٹھہرانا اور اشراک فلان باللہ کے معنی اللہ کے ساتھ شریک ٹھہرانے کے ہیں اور یہ سب سے بڑا کفر ہے ۔ قرآن میں ہے : ۔ إِنَّ اللَّهَ لا يَغْفِرُ أَنْ يُشْرَكَ بِهِ [ النساء/ 48] خدا اس گناہ کو نہیں بخشے گا کہ کسی کو اس کا شریک بنایا جائے ۔ دوم شرک صغیر کو کسی کام میں اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی دوسرے کو بھی جوش کرنے کی کوشش کرنا اسی کا دوسرا نام ریا اور نفاق ہے جس کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا : جَعَلا لَهُ شُرَكاءَ فِيما آتاهُما فَتَعالَى اللَّهُ عَمَّا يُشْرِكُونَ [ الأعراف/ 190] تو اس ( بچے ) میں جو وہ ان کو دیتا ہے اس کا شریک مقرر کرتے ہیں جو وہ شرک کرتے ہیں ۔ خدا کا ( رتبہ ) اس سے بلند ہے ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(١٠٦) آپ اس طریقہ پر چلتے رہیے جو آپ کے پروردگار کی طرف سے آپ پر نازل کیا گیا ہے یعنی قرآن حکیم کے حلال حرام پر عمل کرتے رہیے، اللہ تعالیٰ کے علاوہ نہ کوئی خالق ہے اور نہ رازق ہے۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ١٠٦ (اِتَّبِعْ مَآ اُوْحِیَ اِلَیْکَ مِنْ رَّبِّکَ ج) ۔ اس سورة میں آپ دیکھ رہے ہیں کہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو بار بار مخاطب کیا جا رہا ہے۔ لیکن جیسا کہ پہلے بتایا گیا ہے یہ خطاب دراصل حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی وساطت سے امت کے لیے بھی ہے۔ مکی سورتوں ( دو تہائی قرآن) میں مسلمانوں سے براہ راست خطاب بہت کم ملتا ہے۔ اس کی حکمت یہ ہے کہ مکی دور میں مسلمان باقاعدہ ایک امت نہیں تھے۔ امت کی تشکیل تو تحویل قبلہ کے بعد ہوئی۔ اسی لیے تحویل قبلہ کے حکم کے فوراً بعد یہ آیت نازل ہوئی ہے : (وَکَذٰلِکَ جَعَلْنٰکُمْ اُمَّۃً وَّسَطًا لِّتَکُوْنُوْا شُہَدَآءَ عَلَی النَّاسِ وَیَکُوْنَ الرَّسُوْلُ عَلَیْکُمْ شَہِیْدًا ط) (البقرۃ : ١٤٣) اب جبکہ مسلمانوں کو باقاعدہ امت کا درجہ دے دیا گیا تو پھر ان سے خطاب بھی براہ راست ہونے لگا۔ چناچہ سورة الحجرات جو ١٨ آیات پر مشتمل مدنی سورة ہے ‘ اس میں پانچ دفعہ (یٰٓاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا) کے الفاظ سے اہل ایمان کو براہ راست مخاطب فرمایا گیا ہے۔ لیکن دوسری طرف مکی سورتوں میں اہل ایمان سے جو بھی کہا گیا ہے وہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو مخاطب کر کے واحد کے صیغے میں کہا گیا ہے۔ چناچہ آیت زیر نظر میں یہ جو فرمایا گیا ہے کہ پیروی کرو اس کی جو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر وحی کیا جا رہا ہے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے رب کی طرف سے ‘ تو یہ حکم صرف حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لیے ہی نہیں بلکہ تمام مسلمانوں کے لیے بھی ہے ۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(6:106) لا الہ الا ھو۔ جملہ معترضہ ہے جو معطوف اور معطوف علیہ کے درمیان آگیا ہے۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 8 یعنی ان کے اس قسم کے لیے بنیاد سے متاثر ہو کر دعوت وتبلغ کر ترک نہ کرو اس سے مقصد آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو تسلی دینا ہے۔ (کبیر )

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

(آیت) ” اتَّبِعْ مَا أُوحِیَ إِلَیْْکَ مِن رَّبِّکَ لا إِلَـہَ إِلاَّ ہُوَ وَأَعْرِضْ عَنِ الْمُشْرِکِیْنَ (106) ” اے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس وحی کی پیروی کئے جاؤ ‘ جو تم پر تمہارے رب کی طرف سے نازل ہوئی ہے کیونکہ اس ایک رب کے سوا کوئی اور خدا نہیں ہے ۔ اور ان مشرکین کے نہ پڑو۔ “ اگر اللہ کی مشیت یہ ہوتی کہ ان پر ہدایت لازم کردے تو اللہ نے لازم کردی ہوتی ۔ اگر اللہ یہ چاہتا کہ ان کو آغاز ہی سے فرشتوں کی طرح ہدایت پر پیدا کرتا تو وہ ایسا کردیتا ‘ لیکن اللہ نے انسان کو اس طرح پیدا کیا اور اس کے اندر ہدایت وضلالت دونون کی طاقت ودیعت کردی اور اسے آزاد چھوڑ دیا کہ وہ ہدایت اختیار کرتا ہے یا ضلالت ۔ پھر جو راستہ بھی وہ اختیار کرے اس کی سزا وجزا اسے دی جائے اور یہ تمام کام اللہ کی مشیت کے دائرے کے اندر ہو جس سے کوئی بات بھی باہر نہیں ہو سکتی ۔ البتہ اللہ کسی انسان کو ہدایت یا گمراہی پر مجبور نہیں کرتا اور یہ کام اللہ نے اپنی اس حکمت کی وجہ سے کیا ہے جس کا علم صرف اسے ہے تاکہ انسان اس کائنات میں اپنا مقررہ کردار ادا کرسکے ‘ اپنی صلاحیتوں اور تصرفات کے مطابق ۔ (آیت) ” وَلَوْ شَاء اللّہُ مَا أَشْرَکُواْ (٦ : ١٠٧) ” اگر اللہ کی مشیت ہوتی تو (وہ خود ایسا بندوبست کرسکتا تھا کہ) یہ لوگ شرک نہ کرتے ۔ “ اس لئے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان کے اعمال کے بارے میں مسئول نہیں ہیں ۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو لوگوں کے اعمال کا مختار اور پاسبان مقرر نہیں کیا ۔ یہ کام تو اللہ کا ہے ۔ یہ ہدایت حضرت نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور آپ کے خلفائے کرام اور ان کے بعد ان تمام لوگوں کے لئے حدود کار متعین کردیتی ہے جو آپ کے بعد آئیں گے ۔ ہر دور میں اور ہر قوم میں اور ہر معاشرے میں ۔ کسی داعی کے لئے یہ مناسب نہیں ہے کہ وہ اپنی دعوت ‘ اپنے دل ‘ اور اپنی سرگرمیوں کو صرف منحرفین اور معاندین کے لئے وقف کر دے حالانکہ ان کے دل اور دماغ قبول دعوت اور دلائل قبول دعوت اور شواہد حقیقت کے لئے کھلے ہی نہیں ۔ داعی کو چاہئے کہ وہ دل کھلا رکھے اور اپنی امیدیں اور اپنی سرگرمیاں ان لوگوں تک محدود رکھے جو قبول دعوت کے لئے آمادہ ہوں ۔ یہ لوگ اس بات کے مستحق ہیں کہ ان کی سیرت کی تعمیر اصول دین کی روشنی میں کی جائے ۔ یعنی اسلامی نظریہ حیات کی روشنی میں ۔ اس بات کی ضرورت ہے کہ ان کے دلوں میں اس کائنات اور اس دنیاوی زندگی کے بارے میں اسلامی نظریہ حیات کی روشنی میں ایک گہرا تصور بٹھایا جائے۔ نیز ایسے ہی لوگ اس بات کے مستحق ہیں کہ ان کے اخلاق اور ان کے طرز عمل کو صحیح طرح استوار کیا جائے اور پھر ایسے افراد کی ایک ایسی سوسائٹی تشکیل دی جائے جس کی بنیاد اس عقیدے اور نظریہ حیات پر ہو ۔ یہ کام اس قدر بھاری ہے کہ اس کے لئے زبردست جدوجہد کی ضرورت ہے اور یہ کام مسلسل جدوجہد کا مستحق بھی ہے ۔ رہے وہ لوگ جو دعوت کی مخالفت میں صف آرا ہیں تو وہ اس بات کے مستحق ہیں کہ دعوت دے کر انہیں ایک طرف چھوڑ دیا جائے ۔ جب سچائی قوت پکڑتی ہے اور غالب ہوجاتی ہے تو پھر اللہ کی سنت یہ ہے کہ سچائی برائی پر حملہ آور ہوتی ہے اور باطل مٹ جاتا ہے ضرورت اس امر کی ہے کہ سچائی موجود رہے ۔ جب سچائی مکمل شکل میں موجود ہوتی ہے تو اس کے مقابلے میں باطل نرم پڑجاتا ہے اور اس کے دن گنے جاتے ہیں ۔ رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ حکم دینے کے بعد کہ آپ مشرکین سے اعراض کریں ‘ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اور اہل اسلام کو حکم دیا گیا کہ یہ اعراض اور صرف نظر نہایت ہی شائستہ انداز میں اور پروقار طریقے سے ہو مثلا یہ کہ وہ مشرکین کے الہوں کو برا بھلا نہ کہیں کیونکہ اس کے جواب میں وہ لوگ اللہ کی شان میں گستاخی کرسکتے ہیں اس لئے کہ انہیں اللہ جل شانہ کی جلالت قدر کا کوئی علم نہیں ہے ۔ چناچہ مسلمان تو ان کے الہوں کو برا کہیں گے جو حقیر ہیں اور اس کے مقابلے میں وہ لوگ ان کے جلیل القدر الہ کو برا بھلا کہیں گے ۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

پھر فرمایا (اِتَّبِعْ مَآ اُوْحِیَ اِلَیْکَ مِنْ رَّبِّکَ ) کہ آپ اس کا اتباع کیجیے جس کی آپ کے رب کی طرف سے آپ کو وحی کی گئی۔ اس کا آپ فکر نہ کیجیے کہ کون راہ راست پر آتا ہے تکوینی طور پر کچھ لوگ ایسے ہیں جو نہیں مانیں گے اور کچھ ایسے ہیں جو مان لیں گے یہ تکوینی فیصلے اللہ تعالیٰ کی حکمت کے موافق ہیں اگر اللہ چاہتا تو یہ شرک نہ کرتے لیکن سب کچھ اس کی مشیت اور ارادہ و حکمت کے موافق ہے آپ اپنا کام کریں یعنی پہنچا دیں۔ (وَ مَا جَعَلْنٰکَ عَلَیْھِمْ حَفِیْظًا) اور ہم نے آپ کو ان کا نگران نہیں بنایا عمل کریں نہ کریں یہ جانیں۔ (وَ مَآ اَنْتَ عَلَیْھِمْ بِوَکِیْلٍ ) آپ ان پر داروغہ بنا کر مسلط نہیں کیے گئے۔ لہٰذا آپ کو اس فکر میں پڑنے کی کوئی ضرورت نہیں کہ منکرین بات نہیں مانتے اور حق کی طرف متوجہ نہیں ہوتے۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

113 یہ دوسری دلیل وحی ہے یعنی آپ کی طرف اللہ کی جانب سے یہ وحی آچکی ہے کہ اللہ کے سوا کارساز اور غیب دان کوئی نہیں۔ لہذا اسی کو پکارو۔ اس لیے آپ وحی ربانی کے پابند رہیں اور مشرین کے عقائد باطلہ اوراقوال فاسدہ سے اعراض کریں اور ان کی پروا نہ کریں۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

106 اور اے پیغمبر ! آپ اس کی پروا کئے بغیر کہ قرآن کریم پر کوئی عمل کرتا ہے یا نہیں کرتا آپ خود اس راہ پر چلتے رہئے جو آپ کے پروردگار کی جانب سے آپ کی طرف وحی کی گئی ہے دیکھو اس اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی حقیقی معبود نہیں ہے اور آپ مشرکوں سے اعراض کیجیے اور ان کی جانب کوئی التفات نہ کیجیے اور نہ ان کی باتوں کا کچھ خیال کیجیے یعنی آپ قرآنی احکام کی پیروی کیجیے اور مشرکوں کی پروا نہ کیجیے خواہ وہ مانیں یا نہ مانیں۔