Surat ul Anaam

Surah: 6

Verse: 123

سورة الأنعام

وَ کَذٰلِکَ جَعَلۡنَا فِیۡ کُلِّ قَرۡیَۃٍ اَکٰبِرَ مُجۡرِمِیۡہَا لِیَمۡکُرُوۡا فِیۡہَا ؕ وَ مَا یَمۡکُرُوۡنَ اِلَّا بِاَنۡفُسِہِمۡ وَ مَا یَشۡعُرُوۡنَ ﴿۱۲۳﴾

And thus We have placed within every city the greatest of its criminals to conspire therein. But they conspire not except against themselves, and they perceive [it] not.

اور اسی طرح ہم نے ہر بستی میں وہاں کے رئیسوں ہی کو جرائم کا مرتکب بنایا تاکہ وہ لوگ وہاں فریب کریں اور وہ لوگ اپنے ہی ساتھ فریب کر رہے ہیں اور ان کو ذرا خبر نہیں ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

Evil Plots of the Leaders of the Criminals and their Subsequent Demise Allah says: وَكَذَلِكَ جَعَلْنَا فِي كُلِّ قَرْيَةٍ أَكَابِرَ مُجَرِمِيهَا لِيَمْكُرُواْ فِيهَا ... And thus We have set up in every town great ones of its wicked people to plot therein. Allah says: Just as We appointed chiefs and leaders for the criminals who call to disbelief, hinder from the path of Allah, and oppose and defy you in your town, O Muhammad. Such was also the case with the Messengers before you, who were tested with the same. But the good end was always theirs.' Allah said in other Ayat, وَكَذَلِكَ جَعَلْنَا لِكُلِّ نَبِىٍّ عَدُوّاً مِّنَ الْمُجْرِمِينَ Thus have We made for every Prophet an enemy among the criminals. (25:31) Allah said, وَإِذَا أَرَدْنَأ أَن نُّهْلِكَ قَرْيَةً أَمَرْنَا مُتْرَفِيهَا فَفَسَقُواْ فِيهَا And when We decide to destroy a town, We send a definite order to those among them who lead a life of luxury, and they transgress therein. (17:16) meaning, We command them to obey Us, but they defy the command and as a consequence, We destroy them. It was also said that, "We send a definite order", in the last Ayah means, "We decree for them," as Allah stated here لِيَمْكُرُواْ فِيهَا (to plot therein). Ibn Abi Talhah reported that Ibn Abbas explained the Ayah أَكَابِرَ مُجَرِمِيهَا لِيَمْكُرُواْ فِيهَا (...great ones of its wicked people to plot therein), "We give the leadership to these wicked ones and they commit evil in it. When they do this, We destroy them with Our torment." Mujahid and Qatadah said that; in the Ayah, أَكَابِرَ مُجَرِمِيهَا (great ones) refers to leaders. I say that this is also the meaning of Allah's statements, وَمَأ أَرْسَلْنَا فِى قَرْيَةٍ مِّن نَّذِيرٍ إِلاَّ قَالَ مُتْرَفُوهَأ إِنَّا بِمَأ أُرْسِلْتُمْ بِهِ كَـفِرُونَ وَقَالُواْ نَحْنُ أَكْثَـرُ أَمْوَلاً وَأَوْلَـداً وَمَا نَحْنُ بِمُعَذَّبِينَ And We did not send a warner to a township, but those who were given the worldly wealth and luxuries among them, said: "We believe not in what you have been sent with." And they say: "We have too much wealth and too many children and we are not going to suffer punishment." (34:34-35) And, وَكَذَلِكَ مَأ أَرْسَلْنَا مِن قَبْلِكَ فِى قَرْيَةٍ مِّن نَّذِيرٍ إِلاَّ قَالَ مُتْرَفُوهَأ إِنَّا وَجَدْنَأ ءَابَأءَنَا عَلَى أُمَّةٍ وَإِنَّا عَلَى ءَاثَـرِهِم مُّقْتَدُونَ And similarly, We sent not a warner before you to any town but the luxurious ones among them said: "We found our fathers following a certain way and religion, and we will indeed follow their footsteps." (43:23) `Plot' in the Ayah (6:123) refers to beautified speech and various actions with which the evil ones call to misguidance. Allah said about the people of Prophet Nuh, peace be upon him, وَمَكَرُواْ مَكْراً كُبَّاراً And they have plotted a mighty plot. (71:22) Allah said, وَقَالَ الَّذِينَ كَفَرُواْ لَن نُّوْمِنَ بِهَـذَا الْقُرْءَانِ وَلاَ بِالَّذِى بَيْنَ يَدَيْهِ وَلَوْ تَرَى إِذِ الظَّـلِمُونَ مَوْقُوفُونَ عِندَ رَبِّهِمْ يَرْجِعُ بَعْضُهُمْ إِلَى بَعْضٍ الْقَوْلَ يَقُولُ الَّذِينَ اسْتُضْعِفُواْ لِلَّذِينَ اسْتَكْبَرُواْ لَوْلاَ أَنتُمْ لَكُنَّا مُوْمِنِينَ قَالَ الَّذِينَ اسْتَكْبَرُواْ لِلَّذِينَ اسْتُضْعِفُواْ أَنَحْنُ صَدَدنَـكُمْ عَنِ الْهُدَى بَعْدَ إِذْ جَأءَكُمْ بَلْ كُنتُمْ مُّجْرِمِينَ وَقَالَ الَّذِينَ اسْتُضْعِفُواْ لِلَّذِينَ اسْتَكْبَرُواْ بَلْ مَكْرُ الَّيْلِ وَالنَّهَارِ إِذْ تَأْمُرُونَنَأ أَن نَّكْفُرَ بِاللَّهِ وَنَجْعَلَ لَهُ أَندَاداً But if you could see when the wrongdoers will be made to stand before their Lord, how they will cast the (blaming) word one to another! Those who were deemed weak will say to those who were arrogant: "Had it not been for you, we should certainly have been believers." And those who were arrogant will say to those who were deemed weak: "Did we keep you back from guidance after it had come to you! Nay, but you were criminals." Those who were deemed weak will say to those who were arrogant: "Nay, but it was your plotting by night and day, when you ordered us to disbelieve in Allah and set up rivals for Him!" (34:31-33) Ibn Abi Hatim reported that Ibn Abi Umar said that Sufyan said, "Every `plot' mentioned in the Qur'an refers to actions." Allah's statement, ... وَمَا يَمْكُرُونَ إِلاَّ بِأَنفُسِهِمْ وَمَا يَشْعُرُونَ But they plot not except against themselves, and they perceive (it) not. means, the harm of their wicked plots, as well as misguiding those whom they lead astray, will only strike them. Allah said in other Ayat, وَلَيَحْمِلُنَّ أَثْقَالَهُمْ وَأَثْقَالاً مَّعَ أَثْقَالِهِمْ And verily, they shall bear their own loads, and other loads besides their own. (29:13) and, وَمِنْ أَوْزَارِ الَّذِينَ يُضِلُّونَهُمْ بِغَيْرِ عِلْمٍ أَلاَ سَأءَ مَا يَزِرُونَ And also of the burdens of those whom they misled without knowledge. Evil indeed is that which they shall bear! (16:25) Allah said;

بستیوں کے رئیس گمراہ ہو جائیں تو تباہی کی علامت ہوتے ہیں ان آیتوں میں بھی اللہ تعالیٰ اپنے نبی کی تسکین فرماتا ہے اور ساتھ ہی کفار کو ہوشیار کرتا ہے ، فرماتا ہے کہ جیسے آپ کی اس بستی میں روسائے کفر موجود ہیں جو دوسروں کو بھی دین برحق سے روکتے ہیں اسی طرح ہر پیغمبر کے زمانے میں اس کی بستی میں کفر کے ستون اور مرکز رہے ہیں لیکن آخر کار و غارت اور تباہ ہوتے ہیں اور نتیجہ ہمیشہ نبیوں کا ہی اچھا رہتا ہے جیسے فرمایا کہ ہر نبی کے دشمن ان کے زمانے کے گنہگار رہے اور آیت میں ہے ہم جب کسی بستی کو تباہ کرنا چاہتے ہیں تو وہاں کے رئیسوں کو کچھ حکم احکام دیتے ہیں جس میں وہ کھلم کھلا ہماری نافرمانی کرتے ہیں پس اطاعت سے گریز کرنے پر عذابوں میں گھر جاتے ہیں ، وہاں کے شریر لوگ اوج پر آ جاتے ہیں پھر بستی ہلاک ہوتی ہے اور قسمت کا ان مٹ لکھا سامنے آ جاتا ہے ، چنانچہ اور آیتوں میں ہے کہ جہاں کہیں کوئی پیغمبر آیا وہاں کے رئیسوں اور بڑے لوگوں نے جھٹ سے کہہ دیا کہ ہم تمہارے رسالت کے منکر ہیں ، مال میں اولاد میں ہم تم سے زیادہ ہیں اور ہم اسے بھی مانتے نہیں کہ ہمیں سزا ہو اور آیت میں ہے کہ ہم نے جس بستی میں جس رسول کو بھیجا وہاں کے بڑے لوگوں نے جواب دیا کہ ہم نے تو جس طریقے پر اپنے بڑوں کو پایا ہے ہم تو اسی پر چلے چلیں گے ، مکر سے مراد گمراہی کی طرف بلانا ہے اور اپنی چکنی چپڑی باتوں میں لوگوں کو پھنسانا ہے جیسے کہ قوم نوح کے بارے میں ہے آیت ( وَمَكَرُوْا مَكْرًا كُبَّارًا ) 71 ۔ نوح:22 ) قیامت کے دن بھی جبکہ یہ ظالم اللہ کے سامنے کھڑے ہوں گے ایک دوسرے کو مورد الزام ٹھہرائیں گے جھوٹے لوگ بڑے لوگوں سے کہیں گے کہ اگر تم نہ ہوتے تو ہم تو مسلمان ہو جاتے وہ جواب دیں گے کہ ہم نے تمہیں ہدایت سے کب روکا تھا ؟ تم تو خود گنہگار تھے ، یہ کہیں گے تمہاری دن رات کی فتنہ انگیزیوں نے اور کفر و شرک کی دعوت نے ہمیں گمراہ کر دیا ، مکر کے معنی حضرت سفیان نے ہر جگہ عمل کے کئے ہیں پھر فرماتا ہے کہ ان کے مکر کا وبال انہی پر پڑے گا لیکن انہیں اس کا شعور نہیں ، جن لوگوں کو انہوں نے بہکایا ان کا وبال بھی انہیں کے دوش پر ہو گا جیسے فرمان ہے آیت ( وَلَيَحْمِلُنَّ اَثْــقَالَهُمْ وَاَثْــقَالًا مَّعَ اَثْقَالِهِمْ ۡ وَلَيُسْـَٔــلُنَّ يَوْمَ الْقِيٰمَةِ عَمَّا كَانُوْا يَفْتَرُوْنَ ) 29 ۔ العنکبوت:13 ) یعنی اپنے بوجھ کے ساتھ ان کے بوجھ بھی ڈھوئیں گے ، جن کو بےعلمی کے ساتھ انہوں نے بہکایا تھا ۔ جب کوئی نشان اور دلیل دیکھتے ہیں تو کہہ دیتے ہیں کہ کچھ بھی ہو جب تک اللہ کا پیغام فرشتے کی معرفت خود ہمیں نہ آئے ہم تو باور کرنے والے نہیں ۔ کہا کرتے تھے کہ ہم پر فرشتے کیوں نازل نہیں ہوتے ؟ اللہ ہمیں اپنا دیدار کیوں نہیں دکھاتا ؟ حالانکہ رسالت کے مستحق کی اصلی جگہ کو اللہ ہی جانتا ہے ۔ ان کا ایک اعتراض یہ بھی تھا کہ ان دونوں بستیوں میں کسی بڑے رئیس پر یہ قرآن کیوں نہ اترا ؟ جس کے جواب میں اللہ عز وجل نے فرمایا کیا تیرے رب کی رحمت کے تقسیم کرنے والے وہ ہیں؟ پس مکے یا طائف کے کسی رئیس پر قرآن کے نازل نہ ہونے سے وہ آنحضرت کی تحقیر کا ارادہ کرتے تھے اور یہ صرف ضد اور تکبر کی بنا پر تھا ، جیسے فرمان ہے کہ تجھے دیکھتے ہی یہ لوگ مذاق اڑاتے ہیں اور کہدیتے ہیں کہ کیا یہی ہے جو تمہارے معبودوں کا ذکر کیا کرتا ہے؟ یہ لوگ ذکر رحمن کے منکر ہیں ، کہا کرتے تھے کہ اچھا یہی ہیں جنہیں اللہ نے اپنا رسول بنایا ؟ نتیجہ یہ ہوا کہ ان مسخروں کا مسخرا پن انہی پر الٹا پڑا ، انہیں ماننا ہی پڑا تھا کہ آپ شریف النسب ہیں آپ سچے اور امین ہیں یہاں تک کہ نبوت سے پہلے قوم کی طرف سے آپ کو امین کا خطاب ملا تھا ۔ ابو سفیان جیسے ان کافر قریشیوں کے سردار نے بھی دربار ہرقل میں بھی حضور کے عالی نسب ہونے اور سچے ہونے کی شہادت دی تھی ۔ جس سے شاہ روم نے حضور کی صداقت طہارت نبوت وغیرہ کو مان لیا تھا ، مسند کی حدیث میں ہے حضور فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ نے اولاد ابراہیم سے اسمعیل کو پسند فرمایا ۔ اولاد اسماعیل سے بنو کنانہ کو پسند فرمایا ۔ بنو کنانہ سے قریش کو قریش میں سے بنو ہاشم کو اور بنو ہاشم میں سے مجھے ۔ فرمان ہے کہ یکے بعد دیگرے قرنوں میں سے میں سب سے بہتر زمانے میں پیغمبر بنایا گیا ۔ ایک مرتبہ جبکہ آپ کو لوگوں کی بعض کہی ہوئی باتیں پہنچیں تو آپ منبر پر تشریف لائے اور لوگوں سے پوچھا میں کون ہوں؟ انہوں نے کہا آپ اللہ کے رسول ہیں ۔ فرمایا میں محمد بن عبداللہ بن عبد المطلب ہوں اللہ تعالیٰ نے اپنی تمام مخلوق میں مجھے بہتر بنایا ہے مخلوق کو جب دو حصوں میں تقسیم کیا تو مجھے ان دونوں میں جو بہتر حصہ تھا اس میں کیا پھر قبیلوں کی تقسیم کے وقت مجھے سب سے بہتر قیبلے میں کیا پھر جب گھرداریوں میں تقسیم کیا تو مجھے سب سے اچھے گھرانے میں بنایا پس میں گھرانے کے اعتبار سے اور ذات کے اعتبار سے تم سب سے بہتر ہوں صلوات اللہ وسلامیہ علیہ حضرت جبرائیل نے ایک مرتبہ آپ سے فرمایا میں نے تمام مشرق و مغرب ٹٹول لیا لیکن آپ سے زیادہ افضل کسی کو نہیں پایا ( حاکم بہیقی ) مسند احمد میں ہے اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کے دلوں کو دیکھا اور سب سے بہتر دل حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا پایا ۔ پھر مخلوق کے دلوں پر نگاہ ڈالی تو سب سے بہتر دل والے اصہاب رسول پائے پس حضور کو اپنا خاص چیدہ رسول بنایا اور اصہاب کو آپ کا وزیر بنایا جو آپ کے دین کے دشمنوں کے دشمن ہیں ۔ پس یہ مسلمان جس چیز کو بہتر سمجھیں وہ اللہ وحدہ لاشریک کے نزدیک بھی بہتر ہے اور جسے یہ برا سمجھیں وہ اللہ کے نزدیک بھی بری ہے ۔ ایک باہر کے شخص نے حضرت عبداللہ بن عباس کو مسجد کے دروازے سے آتا ہوا دیکھ کر مرعوب ہو کر لوگوں سے پوچھا یہ کون بزرگ ہیں؟ لوگوں نے کہا یہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا کے لڑکے حضرت عبداللہ بن عباس ہیں رضی اللہ تعالیٰ عنہ ۔ تو ان کے منہ سے بےساختہ یہ آیت نکلی کہ نبویت کی جگہ کو اللہ ہی بخوبی جانتا ہے ، پھر فرماتا ہے کہ جو لوگ اس عظیم الشان نبی کی نبوت میں شک شبہ کر رہے ہیں اطاعت سے منہ پھیر رہے ہیں انہیں اللہ کے سامنے قیامت کے دن بڑی ذلت اٹھانی پڑے گی دنیا کے تکبر کی سزا خواری کی صورت میں انہیں ملے گی جو ان پر دائمی ہو گی ۔ جیسے فرمان ہے کہ جو لوگ میری عبادت سے جی چراتے ہیں وہ ذلیل و خوار ہو کر جہنم میں جائیں گے ۔ انہیں ان کے مکر کی سزا اور سخت سزا ملے گی چونکہ مکاروں کی چالیں خفیہ اور ہلکی ہوتی ہیں اس کے بدلے میں عذاب علانیہ اور سخت ہوں گے ۔ یہ اللہ کا ظلم نہیں بلکہ ان کا پورا بدلہ ہے اس دن ساری چھپی عیاریاں کھل جائیں گی حضور کا ارشاد ہے کہ ہر بد عہد کی رانوں کے پاس قیامت کے دن ایک جھنڈا لہراتا ہو گا اور اعلان ہوتا ہو گا کہ یہ فلاں بن فلاں کی غداری ہے پس اس دنیا کی پوشیدگی اس طرح قیامت کے دن ظاہر ہو گی ۔ اللہ ہمیں بچائے ۔

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

123۔ 1 اکابر اکبر کی جمع ہے مراد کافروں اور فاسقوں کے سرغنے اور کھڑپینچ ہیں کیونکہ یہی انبیاء اور داعیان حق کی مخالفت میں پیش پیش ہوتے ہیں اور عام لوگ تو صرف ان کے پیچھے لگنے والے ہوتے ہیں۔ علاوہ ازیں ایسے لوگ عام طور پر دنیاوی دولت اور خاندانی وجاہت کے اعتبار سے بھی نمایاں ہوتے ہیں۔ اس لیے مخالفت حق میں بھی ممتاز ہوتے ہیں یہی مضمون سورة سبا کی آیات 31 تا 33 سورة زخرف 23 سورة نوح 22 وغیرھا میں بھی بیان کیا گیا ہے۔ 123۔ 2 یعنی ان کی اپنی شرارت کا وبال اور اسی طرح ان کے پیچھے لگنے والے کا وبال، انہی پر پڑے گا (مزید دیکھے سورة عنکبوت 13 سورة نحل 25)

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[١٣٠] کفار کے مکر انہی پر الٹ پڑتے ہیں :۔ یعنی جس طرح مکہ کے قریشی سردار مسلمانوں کے خلاف ظلم و ستم کر رہے ہیں اور دوسروں کی انگے خت پر مکروفریب کر رہے ہیں۔ تو یہ بات صرف مکہ کے سرداروں سے ہی مختص نہیں بلکہ ہر بستی کے سرداروں کا یہی حال ہوتا ہے وہ حق کے راستہ میں روڑے اٹکاتے اور مکر و فریب کرتے ہی رہتے ہیں اور یہی لوگ اللہ کے نزدیک سب سے بڑے مجرم ہوتے ہیں اور وہ یہ کام اس لیے کرتے ہیں کہ حق کی دعوت سے ان کی سرداری پر کاری ضرب لگتی ہے جیسے فرعون نے موسیٰ (علیہ السلام) کے معجزات دیکھ کر کہہ دیا تھا کہ یہ تو صریح جادو ہے اور اس کا مقصد حکومت پر قبضہ کرنا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں جتنے مکر و فریب یہ چاہیں کر دیکھیں آخر خود ہی وہ اس جال میں پھنس جائیں گے مگر اس وقت انہیں اس بات کی سمجھ نہیں آرہی۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

وَكَذٰلِكَ جَعَلْنَا فِيْ كُلِّ قَرْيَةٍ ۔۔ : ” اَکَابِرَ “ یہ ” اَکْبَرُ “ کی جمع ہے، ” مُجْرِمِیْنَ “ کا نون ” ہَا “ کی طرف اضافت کی وجہ سے گرگیا، یعنی مکہ کی طرح پہلے بھی ہم نے ہر بستی کے اکابر اور چودھری اور کھڑپینچ اس کے مجرموں کو بنادیا، جس کے نتیجے میں وہ اپنے مکر و فریب اور قوت و اقتدار کے ذریعے سے لوگوں کو ایمان سے روکتے رہے اور فسق و فجور میں پڑے رہے۔ انبیاء کے مقابلے میں بھی یہی لوگ آتے رہے، مگر آخر انجام ایمان والوں کے غلبے پر ہوا۔ شاہ عبد القادر (رض) لکھتے ہیں، ہمیشہ کافروں کے سردار حیلے نکالتے ہیں، تاکہ عوام الناس پیغمبر کے مطیع نہ ہوجائیں، جیسے فرعون نے معجزہ دیکھا تو حیلہ نکالا کہ جادو کے زور سے سلطنت لینا چاہتا ہے۔ (موضح) ۭوَمَا يَمْكُرُوْنَ اِلَّا بِاَنْفُسِهِمْ : یعنی اس کا وبال خود ان پر پڑے گا، تو گویا اپنے آپ کو فریب دے رہے ہیں۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Commentary Mentioned in the previous verse was that this world is a place of trial. Good deeds here are tied with some effort. This is a way laid out with hurdles. The same is true about evil deeds. They come with a web of deception laced with unending desires and their short-lived gratifications, a way of living which makes these evil deeds look good in the sight of human beings who are unaware of their reality and heedless to their ultimate end. Such is their pull that the smartest of the smart in this world would not hesitate to jump into the bandwagon. In the first (123) of the present verses, it is said that this trial can be seen as an ongoing spectacle of life since the beginning of the universe of our existence. Usually, it is the big people of a community, the rich, the influential, the holders of clout and access who, when they get used to the taste of money, power and recognition, start committing crimes in one or the other form, never bothering to reflect on the ulti¬mate end of what they were doing. As for the common people, they become accustomed to following the example set by these big people. They copy them with the conviction that it is good for them and that they are on the obvious road to success. In contrast, there are the blessed prophets and their deputies charged with learning, teaching and preaching. They try to stop people from their evil deeds and warn them of the consequences of what they were doing. Then, these big people open a front of hostility and conspiracy against them, which is obviously to harass or harm these pious souls, but in the ultimate analysis, the curse of what they do against them recoils back on them alone. And this can happen to them even within their life in the present world. In this statement of guidance, Muslims have been warned against aspiring to be like the big, the rich, the wealthy of the world. They should leave the habit of looking at them as role-models and stop following them mob-like. For them, the ideal is that they should make a habit of seeing everything in perspective making sure that they are aware of the final end of their deeds, and that they should themselves learn to figure out as to what is good or bad for them. In addition to that, the purpose here is to comfort the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) when he has been asked not to grieve about the hostility of the chiefs of Quraysh, for it was nothing new. Prophets in the past had also faced such people. But, in the end, they (the people) were disgraced and the word of Allah reigned supreme.

خلاصہ تفسیر اور (یہ کوئی نئی بات نہیں، جس طرح مکہ کے روساء ان جرائم کے مرتکب ہو رہے ہیں اور ان کے اثر سے دوسرے لوگ شامل ہوجاتے ہیں) اسی طرح ہم نے (پہلی امتوں میں بھی) ہر بستی میں وہاں کے رئیس ہی کو (اول) جرائم کا مرتکب بنایا، (پھر ان کے اثر سے اور عوام بھی ان سے مل گئے) تاکہ وہ لوگ وہاں (انبیاء کو ضرر پہنچانے کے لئے) شرارتیں کیا کریں، (جن سے ان کا مستحق سزا ہونا خوب ثابت ہوجاوے) اور وہ لوگ (گو اپنے خیال میں دوسروں کو ضرر پہنچاتے ہیں لیکن واقع میں) اپنے ہی ساتھ شرارت کر رہے ہیں (کیونکہ اس کا وبال تو انہی کو بھگتا پڑے گا) اور (غایت جہل سے) ان کو (اس کی) ذرا خبر نہیں اور (ان کفار مکہ کا جرم یہاں تک بڑھ گیا ہے کہ) جب ان کو کوئی آیت پہنچتی ہے تو (باوجود اس کے کہ وہ اپنے اعجاز کی وجہ سے دلالة علی النبوة میں کافی ہوتی، مگر یہ لوگ پھر بھی) یوں کہتے ہیں کہ ہم (ان نبی پر) ہرگز ایمان نہ لاویں گے، جب تک کہ ہم کو بھی ایسی ہی چیز نہ دی جائے جو اللہ کے رسولوں کو دی جاتی ہے (یعنی وحی و خطاب یا صحیفہ و کتاب جس میں ہم کو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر ایمان لانے کا حکم ہو، اور اس قول کا جرم عظیم ہونا ظاہر ہے، کہ تکذیب اور عناد اور استکبار اور گستاخی سب اس کو جامع ہے، آگے اللہ تعالیٰ اس قول کو رد فرماتے ہیں کہ) اس موقع کو تو خدا ہی خوب چانتا ہے جہاں اپنا پیغام (وحی کے ذریعہ سے) بھیجتا ہے (کیا ہر کس و ناکس اس شرف کے قابل ہوگیا، ” تانجشد خدائے بخشدہ “ آگے اس جرم کی سزا کا بیان ہے کہ) عنقریب ان لوگوں کو جنہوں کے یہ جرم کیا ہے خدا کے پاس پہنچ کر (یعنی آخرت میں) ذلت پہنچے گی (جیسا انہوں نے اپنے کو نبی کا مقابلہ میں عزت و نبوت کا مستحق سمجھا تھا) اور سزائے سخت (ملے گی) ان کی شرارتوں کے مقابلہ میں سو (اوپر جو مومن و کافر کا حال مذکور ہے، اس سے یہ معلوم ہوا کہ) جس شخص کو اللہ تعالیٰ (نجات کے) راستہ پر ڈالنا چاہتے ہیں اس کے سینہ ( یعنی قلب) کو اسلام (کے قبول کرنے) کے لئے کشادہ کردیتے ہیں (کہ اس کے قبول کرنے میں پس و پیش نہیں کرتا اور وہ نور مذکور یہی ہے) اور جس کو (تکویناً و تقدیراً ) بےراہ رکھنا چاہتے ہیں اس کے سینہ (یعنی قلب) کو (اسلام کے قبول کرنے سے) تنگ (اور) بہت تنگ کردیتے ہیں (اور اس کو اسلام لانا ایسا مصیبت نظر آتا ہے) جیسے کوئی (فرض کرو) آسمان میں چڑھنا چاہتا ہو (اور چڑھا نہیں جاتا اور جی تنگ ہوتا ہے اور مصیبت کا سامنا ہوتا ہے، پس جیسا اس شخص سے چڑھا نہیں جاتا) اسی طرح اللہ تعالیٰ ایمان نہ لانے والوں پر (چونکہ ان کے کفر اور شرارت کے سبب) پھٹکار ڈالتا ہے (اس لئے ان سے ایمان نہیں لایا جاتا) ۔ معارف و مسائل پچھلی آیت کے آخر میں یہ ذکر تھا کہ یہ دنیا دارالامتحان ہے، یہاں جس طرح اچھے اور نیک اعمال کے ساتھ کچھ محنت و مشقت لگی ہوئی ہے ان کی راہ میں یہاں رکاوٹیں پیش آتی ہیں اسی طرح برے اعمال کے ساتھ چند روزہ نفسانی لذات اور خواہشات کا ایک فریب ہوتا ہے جو حقیقت اور انجام سے غافل انسان کی نظر میں ان برے اعمال ہی کو مزین کردیتا ہے، اور دنیا کے بڑے بڑے ہوشیار اس میں مبتلا ہوجاتے ہیں۔ آیات مذکورہ میں سے پہلی آیت میں اس کا بیان ہے کہ اسی امتحان اور آزمائش کا ایک رخ یہ بھی ہے کہ ابتداء عالم سے یوں ہی ہوتا چلا آیا ہے کہ ہر بستی کے رئیس و مالدار اور بڑے لوگ ہی حقیقت اور انجام سے غافل چند روز کی فانی لذتوں میں مست ہو کر جرائم کے مرتکب ہوا کرتے ہیں، اور عوام کی عادت یہ ہوتی ہے کہ بڑے لوگوں کے پیچھے چلنے اور ان کی نقل اتارنے ہی کو اپنی سعادت اور کامیابی سمجھتے ہیں، اور انبیاء (علیہم السلام) اور ان کے نائب علماء و مشائخ جو ان کو ان کے برے اعمال سے روکنا اور اس کے انجام کی طرف متوجہ کرتا چاہتے ہیں، یہ بڑے لوگ ان کے خلاف طرح طرح کی شرارتیں اور سازشیں اور ان کی دل آزاری کا سامان ہوتا ہے، لیکن انجام کے اعتبار سے ان سب کا وبال خود انہی کی طرف لوٹتا ہے، اور اکثر دنیا میں بھی اس کا ظہور ہوجاتا ہے۔ اس ارشاد میں مسلمانوں کو اس پر تنبیہ کی گئی ہے کہ دنیا کے بڑوں اور رئیسوں، مالداروں کی ریس نہ کریں، ان کے پیچھے چلنے کی عادت چھوڑیں، انجام بینی کو شعار بنائیں اور بھلے برے کو خود پہچانیں۔ نیز رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ تسلی دینا مقصود ہے کہ رؤ سائے قریش جو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی مخالفت پر لگے ہوئے ہیں اس سے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) دل گیر نہ ہوں کہ یہ کوئی نئی بات نہیں، پچھلے انبیاء (علیہم السلام) کو بھی ایسے لوگوں سے سابقہ پڑا ہے، اور انجام کار وہ رسوا اور ذلیل ہوئے اور اللہ کا کلمہ بلند ہوا۔

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

وَكَذٰلِكَ جَعَلْنَا فِيْ كُلِّ قَرْيَۃٍ اَكٰبِرَ مُجْرِمِيْہَا لِيَمْكُرُوْا فِيْہَا۝ ٠ ۭ وَمَا يَمْكُرُوْنَ اِلَّا بِاَنْفُسِہِمْ وَمَا يَشْعُرُوْنَ۝ ١٢٣ قرية الْقَرْيَةُ : اسم للموضع الذي يجتمع فيه الناس، وللناس جمیعا، ويستعمل في كلّ واحد منهما . قال تعالی: وَسْئَلِ الْقَرْيَةَ [يوسف/ 82] قال کثير من المفسّرين معناه : أهل القرية . ( ق ر ی ) القریۃ وہ جگہ جہاں لوگ جمع ہو کر آباد ہوجائیں تو بحیثیت مجموعی ان دونوں کو قریہ کہتے ہیں اور جمع ہونے والے لوگوں اور جگہ انفراد بھی قریہ بولا جاتا ہے ۔ اور آیت کریمہ : ۔ وَسْئَلِ الْقَرْيَةَ [يوسف/ 82] بستی سے دریافت کرلیجئے ۔ میں اکثر مفسرین نے اہل کا لفظ محزوف مان کر قریہ سے وہاں کے با شندے مرے لئے ہیں جرم أصل الجَرْم : قطع الثّمرة عن الشجر، ورجل جَارِم، وقوم جِرَام، وثمر جَرِيم . والجُرَامَة : ردیء التمر المَجْرُوم، وجعل بناؤه بناء النّفاية، وأَجْرَمَ : صار ذا جرم، نحو : أثمر وألبن، واستعیر ذلک لکل اکتساب مکروه، ولا يكاد يقال في عامّة کلامهم للكيس المحمود، ومصدره : جَرْم، قوله عزّ وجل : إِنَّ الَّذِينَ أَجْرَمُوا کانُوا مِنَ الَّذِينَ آمَنُوا يَضْحَكُونَ [ المطففین/ 29] ومن جَرَم، قال تعالی: لا يَجْرِمَنَّكُمْ شِقاقِي أَنْ يُصِيبَكُمْ [هود/ 89] ، فمن قرأ بالفتح فنحو : بغیته مالا، ومن ضمّ فنحو : أبغیته مالا، أي أغثته . وقوله عزّ وجلّ : وَلا يَجْرِمَنَّكُمْ شَنَآنُ قَوْمٍ عَلى أَلَّا تَعْدِلُوا [ المائدة/ 8] ، وقوله عزّ وجل : فَعَلَيَّ إِجْرامِي[هود/ 35] ، فمن کسر فمصدر، ومن فتح فجمع جرم . واستعیر من الجرم۔ أي : القطع۔ جَرَمْتُ صوف الشاة، وتَجَرَّمَ اللیل ( ج ر م ) الجرم ( ض) اس کے اصل معنی درخت سے پھل کاٹنے کے ہیں یہ صیغہ صفت جارم ج جرام ۔ تمر جریم خشک کھجور ۔ جرامۃ روی کھجوریں جو کاٹتے وقت نیچے گر جائیں یہ نفایۃ کے وزن پر ہے ـ( جو کہ ہر چیز کے روی حصہ کے لئے استعمال ہوتا ہے ) اجرم ( افعال ) جرم دلا ہونا جیسے اثمر واتمر والبن اور استعارہ کے طور پر اس کا استعمال اکتساب مکروہ پر ہوتا ہے ۔ اور پسندیدہ کسب پر بہت کم بولا جاتا ہے ۔ اس کا مصدر جرم ہے چناچہ اجرام کے متعلق فرمایا : إِنَّ الَّذِينَ أَجْرَمُوا کانُوا مِنَ الَّذِينَ آمَنُوا يَضْحَكُونَ [ المطففین/ 29] جو گنہگار ( یعنی کفاب میں وہ دنیا میں) مومنوں سے ہنسی کیا کرتے تھے ۔ اور جرم ( ض) کے متعلق فرمایا :۔ لا يَجْرِمَنَّكُمْ شِقاقِي أَنْ يُصِيبَكُمْ [هود/ 89] میری مخالفت تم سے کوئی ایسا کا م نہ کر اور کہ ۔۔ تم پر واقع ہو ۔ یہاں اگر یجرمنکم فتہ یا کے ساتھ پڑھا جائے تو بغیتہ مالا کی طرح ہوگا اور اگر ضمہ یا کے ساتھ پر ھا جائے تو ابغیتہ مالا یعنی میں نے مال سے اس کی مدد کی ) کے مطابق ہوگا ۔ وَلا يَجْرِمَنَّكُمْ شَنَآنُ قَوْمٍ عَلى أَلَّا تَعْدِلُوا [ المائدة/ 8] اور لوگوں کی دشمنی تم کو اس بات پر آمادہ نہ کرے ۔ کہ انصاف چھوڑ دو ۔ اور آیت کریمہ ؛۔ فَعَلَيَّ إِجْرامِي[هود/ 35] تو میرے گناہ کا وبال مجھ پر ۔ میں ہوسکتا ہے کہ اجرام ( بکسرالہمزہ ) باب افعال سے مصدر ہو اور اگر اجرام ( بفتح الہمزہ ) پڑھا جائے تو جرم کی جمع ہوگی ۔ اور جرم بمعنی قطع سے بطور استعارہ کہا جاتا ہے ۔ حرمت صوف الشاۃ میں نے بھیڑ کی اون کاٹی تجرم اللیل رات ختم ہوگئی ۔ مكر المَكْرُ : صرف الغیر عمّا يقصده بحیلة، وذلک ضربان : مکر محمود، وذلک أن يتحرّى بذلک فعل جمیل، وعلی ذلک قال : وَاللَّهُ خَيْرُ الْماكِرِينَ [ آل عمران/ 54] . و مذموم، وهو أن يتحرّى به فعل قبیح، قال تعالی: وَلا يَحِيقُ الْمَكْرُ السَّيِّئُ إِلَّا بِأَهْلِهِ [ فاطر/ 43] ( م ک ر ) المکر ک ے معنی کسی شخص کو حیلہ کے ساتھ اس کے مقصد سے پھیر دینے کے ہیں یہ دو قسم پر ہے ( 1) اگر اس سے کوئی اچھا فعل مقصود ہو تو محمود ہوتا ہے ورنہ مذموم چناچہ آیت کریمہ : ۔ وَاللَّهُ خَيْرُ الْماكِرِينَ [ آل عمران/ 54] اور خدا خوب چال چلنے والا ہے ۔ پہلے معنی پر محمول ہے ۔ اور دوسرے معنی کے متعلق فرمایا : ۔ وَلا يَحِيقُ الْمَكْرُ السَّيِّئُ إِلَّا بِأَهْلِهِ [ فاطر/ 43] اور بری چال کا وبال اس کے چلنے والے پر ہی پڑتا ہے : شعور الحواسّ ، وقوله : وَأَنْتُمْ لا تَشْعُرُونَ [ الحجرات/ 2] ، ونحو ذلك، معناه : لا تدرکونه بالحواسّ ، ولو في كثير ممّا جاء فيه لا يَشْعُرُونَ : لا يعقلون، لم يكن يجوز، إذ کان کثير ممّا لا يكون محسوسا قد يكون معقولا . شعور حواس کو کہتے ہیں لہذا آیت کریمہ ؛ وَأَنْتُمْ لا تَشْعُرُونَ [ الحجرات/ 2] اور تم کو خبر بھی نہ ہو ۔ کے معنی یہ ہیں کہ تم حواس سے اس کا ادرک نہیں کرسکتے ۔ اور اکثر مقامات میں جہاں لایشعرون کا صیغہ آیا ہے اس کی بجائے ۔ لایعقلون کہنا صحیح نہیں ہے ۔ کیونکہ بہت سی چیزیں ایسی ہیں جو محسوس تو نہیں ہوسکتی لیکن عقل سے ان کا ادراک ہوسکتا ہے ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(١٢٣) جیسا کہ ہم نے اہل مکہ میں ابوجہل اور اس کے ساتھیوں کو استہزاء کرنے والا بنایا ہے، اسی طرح ہم ہر بستی میں ان کے سرداروں اور مالداروں کو پہلے مجرم بناتے ہیں تاکہ وہ وہاں گناہ اور فساد برپا کریں یا یہ کہ وہ انبیاء کرام کی تکذیب کریں اور جو کچھ وہ گناہ اور فساد برپا کرتے ہیں اس کا وبال بالآخر ان ہی کی جانوں پر پڑتا ہے۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ١٢٣ (وَکَذٰلِکَ جَعَلْنَا فِیْ کُلِّ قَرْیَۃٍ اَکٰبِرَ مُجْرِمِیْہَا لِیَمْکُرُوْا فِیْہَا ط) یہ وہی فلسفہ ہے جو قبل ازیں آیت ١١٢ میں بیان ہوا ہے۔ وہاں فرمایا گیا تھا کہ شیاطین انس و جن کو ہم خودہی انبیاء کی دشمنی کے لیے مقرر کرتے ہیں۔ یہاں پر اس سے ملتی جلتی بات کہی گئی کہ ہم ہر بستی کے اندر وہاں کے سرداروں اور بڑے بڑے چودھریوں کو ڈھیل دیتے ہیں کہ وہ حق کے مقابلے میں کھڑے ہوں ‘ لوگوں کو سیدھے راستے سے روکیں ‘ اپنی چالبازیوں اور مکاریوں سے حق پرستوں کو آزمائش میں ڈالیں تاکہ اس عمل سے صاحب صلاحیت لوگوں کی صلاحیتیں مزید اجاگر ہوں ‘ ان کے جوہر کھلیں اور ان کی غیرت ایمانی کو جلا ملے۔ (وَمَا یَمْکُرُوْنَ الاَّ بِاَنْفُسِہِمْ وَمَا یَشْعُرُوْنَ ) انہیں یہ شعور ہی نہیں کہ ان کی چالبازیوں کا سارا وبال تو بآلاخر خود انہی پر پڑے گا۔ جیسے حضرت یاسر اور حضرت سمیہ (رض) کے ساتھ ابو جہل نے جو کچھ کیا تھا اس کا وبال جب اس کے سامنے آئے گا تب اس کی آنکھ کھلے گی اور اس وقت تو یہ عالم ہوگا کہ ع جب آنکھ کھلی گل کی تو موسم تھا خزاں کا !

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

55: یہ مسلمانوں کو تسلی دی جارہی ہے کہ کافر لوگ ان کے خلاف جو سازشیں کررہے ہیں ان سے گھبرائیں نہیں اس قسم کی سازشیں ہر دور میں انبیاء کرام اور ان کے ماننے والوں کے خلاف ہوتی رہی ہیں ؛ لیکن بالآخر انجام اہل ایمان ہی کا بہتر ہوتا ہے اور دشمنوں کی سازشیں آخر کار خود انہی کو نقصان پہنچاتی ہیں، کبھی تواسی دنیا میں ان کا یہ نقصان ظاہر ہوجاتا ہے اور کبھی دنیا میں ظاہر نہیں ہوتا ؛ لیکن آخرت میں ان کو پتہ چل جائے گا کہ انہوں نے خود اپنے حق میں کانٹے بوئے تھے۔

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

(123 ۔ 124) ۔ معتبر مفسرین سلف مثل مجاہد اور مقاتل نے ان آیتوں کی تفسیر میں لکھا ہے کہ وعید بن مغیرہ اور ابوجہل نے مکہ کے ناکوں اور راستوں پر کئی آدمی اس غرض سے بٹھا رکھے تھے کہ وہ مکہ کے لوگوں سے اور موسم حج میں جو باہر کے لوگ مکہ کو آتے تھے ان سے آنحضرت کی مذمت کریں اور کہیں کہ یہ شخص جادوگر ہے جھوٹا ہے نبی نہیں ہے اور اسی قدر شرارت پر ولید بن مغیرہ نے کفایت نہیں کی بلکہ ایک روز آنحضرت سے آن کر بڑی بحث کی اور کہا کہ اگر نبوت سچی چیز ہوتی تو مجھ کو ہونی چاہئے تھی کہ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے عمر میں بڑا ہوں اور مالدار بھی ہوں اور عرب میں میرا کہنا سننا بھی زیادہ ہے اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیتیں نازل فرما کر دو مطلب بیان فرمائے ایک تو آنحضرت کی یہ تسلی اور تسکین فرمائی کہ ہر نبی کے ساتھ ہر بستی میں پہلے بھی اسی طرح شریر لوگ ہم نے پیدا کئے ہیں تاکہ ان کی شرارت پر کمزوری کے زمانہ تلک نبی وقت کو صبر کرنے سے اجر ملے اور آخر کو وہ شریر سرکش غارت ہوجاویں اور انکا غارت ہوجانا اور لوگوں کو عبرت کا سبب ہو اور لوگ دین الٰہی کی طرف رجوع ہوں دوسرے ولیدبن مغیرہ نے جو آنحضرت سے بحث کی تھی کہ بجائے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے نبوت اس کو ہونی چاہیے تھی اس کا جواب یہ دیا کہ جو شخص اللہ کی پیغمبری ادا کرنے کے لائق ہے وہ اللہ کو ہی خوب معلوم ہے۔ معتبر سند سے مسند امام احمد بن حنبل میں حضرت عبداللہ بن معسود (رض) سے روایت ہے کہ اللہ تعالیٰ نے عالم مثال میں سب خلقت کے دلوں پر نظر فرمائی آنحضرت کے دل کو سزاوار اس خدمت کا پاکر اس خدمت سے سرفراز فرمایا اور جن دلوں کو صحابہ ہونے کا سزاوار پایا ان کو صحابہ بنایا عبداللہ بن مسعود (رض) کی اس روایت کی سند کے ابوبکر بن عیاش اور عاصم بن بہدلہ دو راویوں میں اگرچہ بعضے علماء نے کلام کیا ہے لیکن امام احمد نے ان دونوں کو ثقہ کہا ہے حاصل کلام یہ ہے کہ دنیا کے پیدا ہونے سے پہلے نبوت اور صحابیت کی قرار داد اللہ کے نزدیک ٹھہر چکی ہے اب ولید بن مغیرہ یا ابوجہل حسد کے طور پر کچھ جدید تمنا کریں تو کیا ہوسکتا ہے اور ان آیات مکیہ میں اخبار غیب کے طور پر جو کچھ فرمایا تھا تھوڑے عرصہ میں وہی ہوا کہ بدر کی لڑائی میں اکثر مکہ کے سرکش غارت ہوگئے اور انکے غارت ہونے سے بڑی عبرت مکہ میں پھیلی اور فتح مکہ کے بعد کوئی مخالف دین الٰہی مکہ میں باقی نہ رہا علمائے مفسرین نے یہ بھی ان آیتوں کی تفسیر میں لکھا ہے کہ پہلے نبی صاحب شریعت نوح ( علیہ السلام) سے لے کر آنحضرت تک انبیاء کے حال پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ نبوت سے پہلے قوم میں جو شخص سر برآوردہ تھا اس کو نبوت اللہ تعالیٰ نے نہیں دی اور ہر نبی کی امت کے لوگ ابتدا میں بلا ثروت لوگ قرار پائے تاکہ یہ دھوکہ لوگوں کو نہ رہے کہ یہ دین الٰہی نہیں ہے بلکہ ثروت دنیاوی کے سبب سے یہ دین پھیل گیا ہے صحیح مسلم کے حوالہ سے انس (رض) بن مالک کی حدیث گذر چکی ہے جس میں آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا بڑے بڑے مالدار اور صاحب ثروت دوزخیوں کو جب دوزخ میں ڈالا جاوے گا تو دوزخ کے پہلے ہی جھونکے کے بعد اللہ کے حکم سے اللہ کے فرشتے ان لوگوں سے پوچھیں گے کہ جس مالداری اور ثروت کے سبب سے تم لوگ دنیا میں عقبے سے غافل رہے اور انبیاء کی نصیحت کو تم نے نہ مانا آج اس عذاب کے آگے تمہیں دنیا کی وہ مالداری اور ثروت کچھ یاد ہے تفسیر ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ ولید بن مغیرہ ابوجہل وغیرہ اپنی دنیا کی جس مالداری اور ثروت کی وجہ سے اللہ کے رسول سے طرح طرح کی مخالفت دنیا میں کرتے رہے اس مخالفت کی سزا میں قیامت کے دن ایسے لوگوں پر جو عذاب ہوگا اس عذاب کے آگے اپنی وہ مالداری اور ثروت ان لوگوں کو بالکل یاد بھی نہ رہے گی اور ان لوگوں کو بڑا پچھتاوا ہوگا کہ ایسی بھولی ہوئی چیز کے غرور میں اس طرح کا سخت عذاب ہم نے اپنے سر کیوں لیا اس لیے فرمایا وما یمکرون الا بانفسھم کرتے ہیں اس کا وبال ایک دن ان ہی کی جان پر پڑنے والا ہے غرض صغار عند اللہ کی بدر کی ان لوگوں کی حالت اور عذاب شدید دیا بما کانوا یمکرون کی یہ حدیث ان لوگوں کی دنیوی اور آخری حال کی پوری تفسیر ہے :۔

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(6:123) وکذلک۔ ای وکما جعلنا فی مکۃ صنا ویدھا (اکابرھا) لیمکروا فیہا۔ یعنی جس طرح مکہ میں ہم نے وہاں کے بڑے لوگوں کو (مسلمانوں اور اسلام کے خلاف) شرارت کرنے والا بنا رکھا تھا اسی طرح ہم نے ہر بستی میں ۔۔ جعلنا۔ ہم نے بنایا۔ ہم نے پیدا کیا۔ اکابر۔ اکبر کی جمع ہے رئیس لوگ۔ مجرمیھا۔ اسم فاعل جمع مذکر منصوب مضاف ھا مضاف الیہ ۔ اصل میں مجرمین تھا۔ اضافت کی وجہ سے نون ساقط ہوگیا۔ اکابر مجرمیھا کی مندرجہ ذیل صورتیں ہوسکتی ہیں :۔ (1) اکابر مضاف مجرمیھا (مضاف مضاف الیہ مل کر) مضاف الیہ۔ اور مضاف مضاف الیہ مل کر مفعول جعلنا کا۔ اس صورت میں جعلنا کا مفعول اول فی کل قریۃ ہوگا۔ اور ترجمہ یوں ہوگا : جس طرح مکہ میں ہم نے بڑے بڑے مجروموں کو (رسول ۔ مسلمانوں اور اسلام کے خلاف) شرارتیں کرنے والا بنایا ہے۔ اسی طرح ہم ہر بستی میں اس کے بڑے بڑے مجرموں کو (رسول۔ مسلمانوں اور اسلام کے خلاف) وہاں تدبیریں کرنے کے لئے کھڑے کردیتے ہیں ۔ (2) مجرمیھا۔ اکبر کا بدل ہے۔ اس صورت میں معنی یہ ہوں گے :۔ جس طرح ہم نے بڑے بڑے لوگوں یعنی مجرموں کو (رسول ، مسلمانوں اور اسلام کے خلاف) شرارتیں کرنے کے لئے مکہ میں بناتا ہے اسی طرح ہم ہر بستی میں بڑے لوگوں یعنی مجرموں کو (رسول ، مسلمانوں اور اسلام کے خلاف) تدبیریں کرنے کے لئے بنا دیتے ہیں۔ (3) اکبر اور مجرمیھا دونوں جعلنا کے مفعول ہیں۔ اور مطلب آیت یوں ہوگا :۔ جس طرح ہم نے مکہ میں رئیسوں کو اس بستی میں بڑے لوگوں کو وہاں کے مجرم بنا دیتے ہیں تاکہ وہ (رسول ، مسلمانوں اور اسلام کے خلاف) شرارتیں کریں اسی طرح ہم ہر بستی میں بڑے لوگوں کو وہاں کے مجرم بنا دیتے ہیں تاکہ وہ (رسول ، مسلمانوں اور اسلام کے خلاف) وہاں شرارتیں کریں۔ (4) مجرمیھا۔ مفعول اول ہے جعلنا کا اور اکابر مفعول ثانی اور یہاں مفعول ثانی کو مقدم کیا گیا ہے ہے ۔ اس صورت میں معنی یہ ہوں گے : جس طرح ہم نے مکہ میں یہاں کے مجرموں کو بڑے لوگ بنادیا ہے کہ (رسول ، مسلمانوں اور اسلام کے خلاف) تدبیریں کریں اسی طرح ہم ہر بستی میں مجرموں کو بڑے لوگ بنا دیتے ہیں۔ تاکہ وہ وہاں (رسول، مسلمانوں اور اسلام کے خلاف) وہاں تدبیریں کریں۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 1 یعنی صنادید قریش کی طرح ہر قریہ ارشہر میں بڑے لوگ اپنی قوت اور اقتدار کے ذریعے لوگوں کو زبر دستی ایمان سے روکیں اور فسق وفجور میں پڑے رہیں (رازی) رازی حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں ہمیشہ کافروں کے سردار حیلے نکالتے ہیں تاکہ عوام الناس پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے مطیع نہ ہوجائیں جیس فرعون نے معجزہ دیکھاتو حیلہ نکالا کہ سحر کے زور سے سلطنت لینا چاہتا ہے۔ ( موضح)2 کیونکہ اس کا وبال خود ان پر پڑے گا تو گویا اپنے آپ کو فریب دے رہے ہیں

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

رکوع نمبر 15 ۔ آیات 123 ۔ تا ۔ 130 ۔ اسرار و معارف : اور کافر و مشرک تو مردہ ہیں جن کے مقابل مومن کی مثال ایسی ہے جیسے مردوں میں زندہ۔ قرآن حکیم جو ارشاد فرماتا ہے وہ شاعرانہ تعلی نہیں ہوتی بلکہ عین حق ہوتا ہے اسے محض مثال نہ سمجھا جائے زندگی اس صلاحیت سے عبارت ہے جو مقصد تخلیق کو حاصل کرنے کے لیے کسی بھی چیز میں پایا جاتا ہے اسی اصول کے تحت ہر شے اپنی ذمہ داری پوری کرنے میں مصروف ہے خواہ وہ آسمانی مخلوق ہے یا زمینی سورج چاند ستاروں سے لے کر ہوا بادل پانی مٹی نباتات اور حیوانات وغیرہ ان میں سے جو چیز اپنی صفت کھو بیٹھے وہ مردہ ہی شمار ہوگی جیسے سورج روشنی سے محروم ہوجائے یا کوئی جانور اپنے کام کا اہل نہ رہے تو وہ مردہ اور بیکار شمار ہوگا اسی طرح انسان بھی ایک مخلوق ہے اور اس کی ذمہ داری بہت اہم ہے اور وہ یہ کہ دنیا کی زندگی کہاں سے شروع ہوئی اس کا خاتمہ کیا ہے اور سب کاروبار حیات کا نتیجہ کیا ہوگا اس سب پر نگاہ کرکے ایسا کردار اپنائے جو اسے انجام کار کامیابی سے ہمکنار کردے اور ایسے لوگوں کا دامن تھامے جو اس موضوع پر صحیح رہنمائی کرسکتے ہوں یہی وجہ ہے کہ نبوت پر ایمان ضروری ہے کہ انبیاء کے بغیر اس وسیع میدان کی پہنایوں میں کسی کی نگاہ کام نہیں کرسکتی اسی عظیم مقصد نے انسانیت کو ساری مخلوق میں فضیلت عطا کردی ورنہ جن بےدین دانشور کہلانے والوں نے انسان کو محض ایک ہوشیار جانور قرار دیا ہے انہوں نے انسان کو گدھے اور درندوں کی صف میں لا کھڑا کیا ہے اگر انسان کا مقصد حیات صرف کھانا پینا گھر بنانا یا اولاد پیدا کرنا اور مرجانا ہی ہے تو پھر اس میدان میں بیشمار جانور اس سے بازی لے جاسکتے ہیں کہ بہترین قدرتی لباس میں ملبوس ہوتے ہیں اس سے زیادہ صحت مند اور طاقتور ہوتے ہیں اچھی خوراک پسند کرکے کھاتے ہیں گھر بناتے اور بچے پالتے ہیں جب کہ یہ ہزار قسم کی مشینوں کا متاہج ہے وہ بےتکلف زندگی بسر کرتے ہیں اور اپنے بھلے برے یعنی نفع یا نقصان دینے والی چیزوں سے واقف ہوتے ہیں علاوہ ازیں جانوروں کا گوشت کھال ہڈیاں تک دوسروں کے کام آتی ہیں حتی کہ نباتات میں بھی یہ اوصاف موجود ہیں کہ پھل پھول لکڑی اور چھال تک مفید ہوتی ہے ان سب چیزوں کی منفعت صرف دنیا کی زندگی کے لیے ہے جب کہ انسان کا کردار خالق کائنات کے قرب کو پانے کی اہلیت رکھتا ہے دنیا کی ساری مخلوق کی زندگی صرف دنیا کے ساتھ ہے جب کہ انسان ہمیشہ کے لیے ہے اگر وہ ابدی کامیابی کے لیے کام نہیں کر رہا جس کی بنیاد ایمان ہے تو اس کی روح ایک مردہ لاش ہے جسے جسم کی قبر گھسیٹ رہی اور ایمان ایک نور ہے اس اعتبار سے بھی کہ راہ حیات روشن کردیتا ہے اور انسان اس طویل سفر کے نشیب و فراز دیکھ سکتا ہے پھر گڑھوں میں گرنے کی بجائے درست راستہ اختیار کرسکتا ہے جب کہ کافر نور ایمان سے محرومی کے باعث ضلالت و گمراہی کے گڑھوں میں گرتا رہتا ہے اور بالآخر تباہ ہوجاتا ہے اور اس معنی میں بھی نور ہے کہ نبی رحمت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے قلب اطہر کی نورانیت قبول ایمان کے سبب مومن کے قلب سے رابطہ پیدا کرتی ہے پھر جس قدر اطاعت کرتا ہے یہ روشنی بڑھتی رہتی ہے حتی کہ وہ قوت پیدا کرلیتا ہے کہ اس سے ملنے والے بھی راستہ پانے لگتے ہیں یعنی وہ اس نور کو لیکر امور دنیا میں سرگرم رہتا ہے اور میدان عمل میں راہ حق کو واضح کرتا چلا جاتا ہے محض گوشہ گیری میں اختیار نہیں کرتا اگر کشفاً دیکھا جائے تو ہر مومن کے دل کی تار رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے قلب اطہر سے جڑی ہوئی ہوتی ہے اور اس میں کمی یا زیادتی کا مدار اتباع اور اطاعت پر ہوتا ہے۔ نور ایمان اور تصوف : جن لوگوں کو ایمان کے ساتھ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے شرف صحبت نصیب ہوا۔ ان کے قلوب روشنی کے مینار بن گئے اور وہ شرف صحابیت سے مشرف ہوئے جو نبوت کے بعد اعلی ترین درجہ ہے اسی کے طفیل انہیں کمال اطاعت بھی نصیب ہوا یہ دولت سینہ بسینہ تابعین تبع تابعین اور مشائخ عظام نے مجالس سے ہی حاصل کی یہی سارا تصوف ہے اور تمام مجاہدوں کا ماحصل۔ اور یہی سب سے بڑا فائدہ ہے جو مومن سے انسانیت کو نصیب ہوتا ہے کہ اس کے ہمنشین بھی دلوں کی روشنی حاصل کرتے رہتے ہیں۔ اس کے مقابل جو اس روشنی سے محروم ہیں یعنی کفار اور اسی تاریکی میں سرگرداں ہیں اس سے نکل بھی نہیں پار ہے وہ ہرگز ان کے برابر نہیں ہوسکتے بلکہ کفر کی تاریکی نے ان کے مزاج ہی بدل دئیے ہیں اور انہیں یہ غلط فہمی ہوگئی ہے کہ اس تاریکی پر مزید سیاہی چڑھانا ہی بہت بڑا کام ہے ان کے گناہوں کی وجہ سے اللہ نے یہی بات ان کے مزاجوں میں پیدا کردی ہے لہذا وہ اسی میں غرق ہوتے جا رہے ہیں اور اس مرض کا شکار عموماً امرا ہوتے ہیں اس لیے کہ ان کے پاس وسائل زیادہ ہوتے ہیں چناچہ جب وہ گناہوں میں ڈوب گئے تو اللہ نے ان کے دلوں میں ٹیڑھا پن پیدا فرما دیا جو اس امت میں نہیں پہلے بھی ہوتا رہا ہے چناچہ انہوں نے اپنی برائیوں کو پھیلانے کی چالیں چلیں تو غریب اور عام لوگ بھی ان کی دیکھا دیکھی اس برائی اور کفر میں مبتلا ہوتے چلے گئے اس لیے نہ تو لوگوں کی کثرت کو دیکھا جائے گا اور نہ یہ خیال کرنا چاہئے کہ بڑے بڑے لوگ کیا کہتے ہیں بلکہ معیار صرف اور صرف حق ہے جو بھی حق پر ہو اس کا ساتھ اختیار کرنا چاہئے کفار بظاہر تو سب کچھ حق کو مٹانے کے لیے کرتے ہیں مگر یہ تدبیریں خود ان کے خلاف پڑتی ہیں کہ ان کی کوششوں کی وجہ سے یہ اپنی دائمی زندگی کو ناکامیوں اور نامرادیوں سے بھر رہے ہیں۔ ذرا ان کا حال دیکھئے جب ان کے پاس اللہ کریم کا پیغام پہنچا اور اللہ کا نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نوید حیات لایا تو کہنے لگے بھئی ہم جب مانیں گے جب وہی بات جو آپ سے ہوتی ہے ہم سے کبھی ہو آخر ہم بھی تو انسان ہیں پھر کیا وجہ ہے کہ ہم آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی وساطت سے ہی بات سنیں۔ نبوت و رسالت : یہ نادان اور جاہل لوگ نبوت و رسالت کی عظمت سے نا آشنا ہیں ان کا خیال خام ہے کہ ہم مالدار سردار ہیں یا ہمارے پاس اقتدار ہے یا اور کوئی خاندانی یا نسبی وجاہت ہے تو ہم سے بھی بات ہوجائے حالانکہ مکالمہ الہی کے سزاوار صر ف انبیا ہوتے ہیں اور یہ عہدہ انعام باری ہے جو وہ اپنی پسند سے عطا فرماتے ہیں کوئی بھی انسان خاندانی وجاہت یا اقتدار یا علم و فن اور محنت و مجاہدہ سے نبی نہیں بن سکتا یہ اللہ ہی خوب جانتا ہے کہ وہ رسالت کیسے عطا فرماتا ہے اور نبی کیسے بناتا ہے یعنی انبیاء بیشک انسان ہی ہوتے ہیں مگر وہ معیار انسانیت ہوتے ہیں تخلیقی طور پر ایک خاص استعداد کے مالک ہوتے ہیں اور معصوم عن الخطا یعنی ان کے مقدس وجودوں میں خطا کا مادہ ہی نہیں ہوتا غیر معصوم ساری زندگی خطا نہ کرے خطا کا امکان تو موجود رہتا ہے۔ اس لیے وہ حامل وحی نہیں ہوسکتا یہ دولت صرف ان کو نصیب ہوتی ہے جنہیں اللہ کریم عطا فرمائیں تم بھی انسان ہو تو پھر اپنا بچپن لڑکپن اور جوانی اللہ کریم کے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے مقابل لاؤ دیکھو کتنے فاصلے ہیں یہی دھوکا ان حضرات کو بھی لگتا ہے جو اپنے کو انسان سمجھ کر بشریت انبیاء کا انکار کردیتے ہیں اور واقعی اگر ہم اپنی اس حالت کے ساتھ انسان ہیں تو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو بہرحال افضل ہونا چاہئے مگر حق یہ ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) انسان کامل ہیں اور ہم میں جو ادا آپ کی غلامی اور نسبت کی ہے وہ انسانیت ہے اور جو عقیدہ یا کردار آپ کے نور سے محروم ہے وہ مھض حیوانیت ہے ان کا یہ مطالبہ نہ صرف انکار ہے بلکہ اللہ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی گستاخی جیسا جرم عظیم ہے اس کے بدلے انہیں سخت عزاب کے ساتھ نہایت ذلت بھی ملے گی اور ان کی ساری اکڑ خاک میں مل جائے گی آخرت میں تو ایسا یقیناً ہوگا تاریخ عالم نے اس دنیا میں بھی گستاخان رسالت کا غرور خاک میں ملتے دیکھا ہے بعض لوگ تو محض دیکھا دیکھی ان کے ساتھ شامل تھے آخر توبہ نصیب ہوئی اور خدام رسالت میں پناہ ملی مگر جو لوگ ہر حال میں مخالفت پہ تل گئے تھے وہ سب ذلت کی موت سے دو چار ہو کر باعث عبرت بن گئے۔ شرح صدر فیضان صحبت کا اثر ہے : اللہ کریم جسے ہدایت دینا چاہیں اس کا سینہ قبول اسلام کے لیے کھول دیتے ہیں مراد یہ ہے کہ جو بھی انسان اللہ سے ہدایت کا طالب ہو یا اس کے دل میں ہدایت کی طلب پیدا ہو تو اللہ کریم اسے ایسے اسباب مہیا فرما دیتے ہیں جن کی وجہ سے اس کا دل روشن ہو کر اس قابل ہوجاتا ہے کہ اللہ کی بات قبول کرسکے اس کی مثال صحابہ کرام ہیں جنہیں حق تعالیٰ نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی صحبت نصیب فرمائی تو ان کے سینے احکام الہی کو اس طرح قبول کرتے تھے کہ کبھی کسی کو نہ وسوسہ پیدا ہوا اور نہ اعتراض ان کے سوالات تشریح اور وضاحت کے لیے تو ہوتے تھے مگر انہیں کبھی اعتراض پیدا نہ ہوا اس کی وجہ ان کا شرح صدر تھا یعنی دل کی وہ حالت کہ حق کو فوراً قبول کرلیتا تھا اور باطل کو رد کردیتا تھا اسی لیے اللہ نے انہیں معیار حق قرار دے دیا یہی نعمت وارثان نبوت کی مجالس میں تقسیم ہوتی ہے اور اس کے حصول کے لیے جو محنت و مجاہدہ شیخ کی صحبت میں رہ کر یا اس کے طریقے سے کیا جاتا ہے اسے اصطلاح میں تصوف کہا جاتا ہے اور یہی معیار بھی ہے کہ اگر دل میں نیکی کی طلب اور خشوع خضوع پیدا ہورہا ہے تو جس شخص کی مجلس میں یہ دولت ملے وہ اکسیر ہے ورنہ محض کشف اور عجائبات کا ظہور کوئی مقصد نہیں۔ اور شبہات دور کرنے کا طریقہ بھی اسی نعمت کا حصول ہے ورنہ محض دلائل اور مباحثہ سے کبھی یقین کی دولت نہیں ملتی یہی حال اس کے برعکس کا ہے اگر اللہ کریم ناراض ہوں جس کا سبب بھی انسان کی اختیار کردہ راہ اور اس کا عمل ہی ہوتا ہے تو پھر سینہ اسلام کے لیے تنگ ہوجاتا ہے اتنا تنگ کہ قبول اسلام ہی اسے دنیا میں مشکل ترین کام نظر آتا ہے اور اطاعت الہی دشوار ترین محسوس ہوتی ہے اور اس کے دل پر نجاست اور تاریکی کی تہ بڑھتی چلی جاتی ہے یہ وہ نامرادی ہے جو اہل اللہ کی مخالفت کا ثمر ہے کہ دل تباہ ہو کر گناہوں میں غرق ہوجاتے ہیں۔ اس لیے مذکورہ راستہ ہی آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے رب کا پسندیدہ اور سیدھا راستہ ہے یعنی نیک لوگوں کا ساتھ ہی نیک عمل تک پہنچانے کا باعث بنتا ہے اور اہل ھق سے ہی ہدایت ملتی ہے اگر کسی شخص کے اپنے عقاید یا اعمال درست نہ ہوں تو وہ خود اس دولت سے محروم ہونے کی وجہ سے دوسروں کو اس سے کیا حصہ دے سکتا ہے لہذا اہل اللہ کی مجالس میں حصول حق کی خاطر حاضری ضروری ہے محض دنیاوی فوائد کو مقصد بنا لینے والے صحیح راستے پر نہیں ہوسکتے اگر کوئی نصیحت حاصل کرنا چاہے تو باتیں بہت واضح کرکے ارشاد فرما دی گئی ہیں لیکن محض کج بحثی کرنے والوں کو کچھ حاصل نہ ہوگا۔ کشف بہت بڑا انعام بھی ہے : ایسے ہی لوگوں کے لیے اللہ کے پاس سلامتی کے گھر ہیں یعنی آخرت میں جنت اور دنیا میں رضائے الہی کی طلب اور ان کے اس کردار کی وجہ سے کہ انہوں نے ایمان قبول کیا اور اہل حق کی مجلس اختیار کی انہیں اللہ کی مدد حاصل ہوتی ہے وہ دنیا میں بھی پریشان نہیں ہوتے یہاں صاحب معارف القرآن نے لکھا ہے کہ دنیا میں اللہ کریم آخرت کی نعمتوں کو مستحضر فرما دیتے ہیں جس کی وجہ سے اگر دنیا میں تکلیف بھی آئے تو ان نعمتوں کے مقابل ہیچ نظر آتی ہے جیسے دنیا کی نعمتوں کو حاصل کرنے کے لیے لوگ کس قدر تکالی فبرداشت کرلیتے ہیں مہینہ بھر کی تھکن کو تنخواہ کی امید پر برداشت کرتے ہیں اور منصب و اقتدار کے لیے کیسے کیسے جتن کرتے ہیں اسی طرح اگر اللہ کسی پر آخرت اور اس کی نعمتوں کو منکشف فرما دیں تو دنیاوی تکالیف کی کوئی حیثیت نہیں رہ جاتی جب کہ یہ صرف نور ایمان اور فیوضات نبوت سے ہی ممکن ہے۔ دوسرا انعام انہیں معیت باری کا نصیب ہتا ہے اور تمام امور میں اللہ کی تائید اور مدد شامل ہوتی ہے اگر بظاہر تکلیف یا ناکامی بھی ہو تو رضائے دوست ہونے کی وجہ سے لذت سے خالی نہیں ہوتی۔ صورتا مصیبت مگر حقیقتاً ایک گونہ انبساط لیے ہوئے ہوتی ہے۔ شیطان سے رابطہ : رہا دوسر فریق یعنی کفار تو یہ اکیلے نہیں بلکہ دل کی سیاہی شیطان کے ساتھ رابطہ پیدا کرتی ہے اور یہ لوگ اس سے راہنمائی بھی حاصل کرتے ہیں اور بعض خواہشات کی تکمیل بھی چاہتے ہیں اس کی وضاحت اس روز ہوجائے گی جب ہم ان سب کو اکٹھا جمع کریں گے اور جنوں سے یعنی شیاطین سے سوال ہوگا کہ تم نے تو بہت سے انسان اپنے تابع کرلیے تو ان کے دوست انسان پکار اٹھیں گے کہ بیشک ہم نے ایک دوسرے سے فائدے حاصل کئے شیطان الجن نے یہ فائدہ حاصل کیا کہ بہت سے انسانوں کو گمراہ کرکے اپنے پیچھے لگا لیا اور انسانوں میں سے جو شیطان بن گئے انہوں نے تکمیل خواہشات کی راہیں سیکھیں اور شیطان کے اثر سے مختلف شعبدے حاصل کرکے لوگوں پر رعب جمایا اور ان کے مال عزتیں برباد کیں یہی بدکاروں سے عجائبات کے ظاہر ہونے کا راز ہے چناچہ دونوں آخرت سے محروم ہو کر اور گناہوں سے لد کر کفر کی ظلمت لیے اس انجام کو پہنچ گئے ہیں جو ان اعمال پر مقرر تھا تو ارشاد ہوگا کہ اب تم دونوں گروہوں کا ٹھکانہ جہنم ہے جہاں تمہیں ہمیشہ رہنا ہوگا اللہ کے سوا کوئی وہاں سے نکال نہیں سکتا اور اللہ نے کافر کے حق میں فیصلہ دے دیا ہے کہ اسے جہنم سے کبھی نہ نکالے گا اور اس کے فیصلے بہت درست ہوتے ہیں کہ وہ حکمت والا بھی ہے اور دانا تر بھی۔ آخرت کا ساتھ : ہم ظالموں کو ظالموں کے ساتھ ملا دیتے ہیں کہ ان کے اعمال ایک جیسے ہوتے ہیں اس کی کوئی صورتیں مفسرین کرام نے نقل فرمائی ہیں ایک مفہوم تو یہ ہے آخرت کا حشر نسل رنگ وطن یا زبان وغیرہ کی بنیاد پر نہ ہوگا بلکہ عقائد اور اعمال کی بنیاد پر ہوگا کافر کافر کے ساتھ جمع ہوگا اور مومن مومن کے ساتھ خواہ دنیا میں ان کا رنگ ونسل کا فرق ہو یا زمانے کا اسی لیے بعض گناہوں پر فرعون اور ہامان کے ساتھ حشر ہونے کی وعید حدیث شریف میں ملتی ہے پھر کافروں کے بھی درجے ہوں گے اپنے اپنے اعمال کے اعتبار سے اور عموماً سب ہی ایک جیسے ہوں گے کہ سب کا تعلق شیطان سے تھا جس نے انہیں پوری طرح تباہ کرنے میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھی ایسے ہی مومن بھی اپنے اپنے درجے کے لوگوں کے ساتھ کوئی عبادت گذاروں سے ہوگا تو کوئی مجاہدین میں سے کسی نے علمی خدمات انجام دی ہوں گی تو دوسروں نے مال قربان کئے ہوں گے غرض یہ کہ دنیا کی تقسیم اور پارٹی بندی یا رنگ و نسل کا اعتبار نہیں نہ اس کی کوئی حیثیت ہوگی۔ دوسرا مفہوم اس کا دنیا میں بھی نگاہوں کے سامنے ہے کہ ہر مزاج کے آدمی کو ایسے ہی افراد کی مجلس نصیب ہوتی ہے اگر دل میں نیکی کی طلب پیدا ہوجائے تو اللہ کریم نیک لوگوں کی صحبت میں پہنچا دیتا ہے جس کے باعث مزید توفیق ارزاں ہوتی ہے اور شرح صدر اور دل کی روشنی نصیب ہوتی ہے مگر دل میں کھوٹ ہو تو مجالس بھی بری ملتی ہیں جو مزید گمراہی میں دھکیلنے کا سبب بنتی ہیں ایک حدیث پاک کا مفہوم ہے کہ اللہ کسی حاکم پر راضی ہو تو اسے نیک عامل اور وزراء عطا کرتا ہے اور حکومت میں انصاف اور ترقی کا دور دورہ ہوتا ہے اگر خفا ہو تو برا عملہ دیتا ہے جو اسے چاہے بھی تو اچھا کام کرنے نہیں دیتے۔ یہی حال قوموں کا ہے کہ بدکاروں پر برے حاکم مسلط کردئیے جاتے ہیں تیسرا مفہوم یہی ہے کہ ظالموں پر ظالم ہی مسلط کرکے انہیں سزا دی جاتی ہے پھر ان پر کوئی اور مسلط ہوجاتا ہے یا بڑا ظالم عذاب الہی کی گرفت میں آجاتا ہے دنیا بھی اخروی انجام کا شیشہ دکھاتی ہے فرق اتنا ہے کہ یہاں توبہ کی فرصت موجود ہے اگر کوئی واپس آنا چاہے تو راستہ بند نہیں جبکہ آخرت میں واپسی کا راستہ نہیں ہوگا۔

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

لغات القرآن : آیت نمبر 123 : قریۃ ( بستی۔ شہر) اکبر ( بڑے) مجرمی (مجرمین) ۔ جرم کرنیوالے) مایمکرون (وہ شرارت نہیں کرتے) ۔ تشریح : آیت نمبر 123 : یہ آیت ایک بہت بڑی حقیقت پیش کررہی ہے۔ ہر فرد جماعت اور تنظیم کا محتاج ہے اسی طرح ہر جماعت ایک رہنما کی محتاج ہے۔ عوام تو خواص کے پیچھے چلتے ہیں ہر بھیڑ بکر یا سی راستہ پر چلتی ہے جو اس کی قطار کی سب سے آگے والے نے مقرر کردی ہے۔ معاملہ خواہ نیکی پھیلانے کا ہو یا بدی پھیلانے کا ‘ اصول یہی ہے۔ اکیلا چنا بھاڑ نہیں پھوڑ سکتا۔ باطل منظم ہے۔ وہ اس گر کو پہچان گیا ہے۔ اب اگر حق منظم نہ ہو تو باطل کو شکست نہیں دے سکتا۔ اس نکتے کو اسلام کے وہ علم بردار خوب سمجھ لیں جو صرف انفرادی پہچان گیا ہے۔ اب اگر حق منظم نہ ہوت و باطل کو شکست نہیں دے سکتا۔ اس نکتے کو اسلام کے وہ علم بردار خوب سمجھ لیں جو صرف انفرادی نجی عبادتوں میں غرق ہیں لیکن اجتماعی عوامی عبادتوں ‘ تبلیغ حق ‘ تنظیم اور جہاد سے دور بھاگتے ہیں۔ جنت اللہ کے داموں نہیں ‘ اپنے داموں خرید نا چاہتے ہیں۔ یہ آیت کہہ رہی ہے کہ کفر ہر قریہ میں نہ صرف ایک تنظیم بلکہ ایک تحریک کی صورت اختیار کرچکی ہے ” اکبر مجرمیھا “ کے الفاظ تنظیم کی طرف اور ” لیمکروا فیھا “ کے الفاظ تحریک کی طرف روشن ترین اشارہ کررہے ہیں۔ رسول مقبول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کافروں کی تنظیم کا علاج مومنوں کی تنظیم سے اور کافروں کی تحریک کا علاج مومنوں کی تحریک سے کیا ہے۔ ہجرت نہیں ہوسکتی تھی۔ جنگ بدر اور احد نہیں ہوسکتی تھی۔ اگرچہ آپ اللہ کا پیغام پہنچانے میں صحابہ کرام (رض) یا کسی کے محتاج نہ تھے لیکن بظاہر یہ حقیقت سمجھ میں آتی ہے کہ مدینہ کی سلطنت نہیں چل سکتی تھی اگر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پیچھے تنظیم و تحریک نہ ہوتی ‘ اگر ایک حکم دینے والا اور بقیہ حکم لینے والے نہ ہوتے۔ اور یہ سب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے فیض صحبت کا نتیجہ تھا۔ ہر نبی کی مخالفت میں افراد نہیں اٹھے ہیں بلکہ جماعتیں اٹھی ہیں جو اپنے اپنے سرغنوں کے ماتحت کام کررہی تھیں۔ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ بھی یہی ہوا۔ اور ہر اس شخص کے ساتھ ہوگا جو اسلام کا کام کرنے کے لئے میدان عمل میں آئے گا۔

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

2۔ جس سے ان کا مستحق سزا ہونا خوب ثابت ہوجائے۔ 3۔ کیونکہ اس کا وبال تو خود انہیں کو بھگتنا پڑے گا۔

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : جرائم پیشہ لوگ نور توحید کو مٹانے اور بجھانے کے لیے ہمیشہ سرگرم رہے ہیں۔ اس فرمان الٰہی میں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو تسلی دینے کے ساتھ اطلاع دی گئی ہے کہ آپ کو گھبرانے اور ڈگمگانے کی ضرورت نہیں یہ تو ہمیشہ سے ہوتا آرہا ہے کہ معاشرے کے سماجی، سیاسی، معاشی اور نام نہاد مذہبی رہنما دعوت حق کی مخالفت اور انبیاء کی مخاصمت میں پیش پیش رہے ہیں۔ جو ملک و قوم کے مفاد کے نام پر مکر و فریب کے جال بنتے ہیں۔ جب انھیں اللہ تعالیٰ کے احکام کو ماننے اور اس کے ارشادات کے سامنے سر تسلیم خم کرنے کے لیے کہا جاتا تو تکبر، رعونت میں آکر کہتے ہیں کہ ہم اس وقت تک ہرگز نہیں مانیں گے جب تک ہمارے پاس براہ راست یہ احکام نہیں آجاتے۔ اللہ تعالیٰ اس شخص سے ہم کلام ہوسکتا ہے تو ہمارے ساتھ کیوں کلام نہیں کرسکتا۔ بعض اس سے آگے بڑھ کر کہتے کہ اس شخص سے ہم نبوت کے زیادہ اہل اور حق دار ہیں۔ حالانکہ وہ جانتے تھے کہ ان کے کردار کی نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے کردار سے کوئی نسبت نہیں ہوسکتی۔ اس کے باوجود اپنے مکرو فریب سے لوگوں کو دھوکہ دیتے تھے۔ عنقریب مکار اور مجرموں کو رب ذوالجلال کی طرف سے ذلت و رسوائی کا سامنا کرنا پڑئے گا اور یہ شدید ترین عذاب میں مبتلا ہونگے۔ مسائل ١۔ نبوت، مال و دولت، جاہ و حشمت یا کسی بڑے پن کی وجہ سے نہیں ملتی۔ ٢۔ نبوت سراسر اللہ تعالیٰ کی رحمت اور اس کا انتخاب ہوتا ہے اور جسے چاہتا ہے عطا کرتا ہے۔ ٣۔ نبوت کا انکار اور رسول کی مخالفت کرنے والے دنیا میں ذلیل اور آخرت میں شدید ترین عذاب میں مبتلا ہوں گے۔ تفسیر بالقرآن شدید عذاب کے مستحق مجرم : ١۔ اللہ تعالیٰ کفار کو شدید عذاب دے گا۔ (حم السجدۃ : ٢٧) ٢۔ اللہ سے منہ موڑنے والوں کو شدید عذاب ہوگا۔ (المجادلۃ : ١٥) ٣۔ اے لوگو ! اگر تم ناشکری کرو گے تو اللہ کا عذاب شدید ہے۔ (ابراہیم : ٧) ٤۔ جان بوجھ کر بیوی کو نان و نفقہ نہ دینے والے کو شدید عذاب ہوگا۔ (الطلاق : ١٠) ٥۔ اللہ تعالیٰ کی آیات کو جھٹلانے والے شدید عذاب سے دوچار ہونگے۔ (آل عمراٰن : ١١) ٦۔ مجرم لوگ ذلت اور سخت عذاب میں مبتلا ہو نگے۔ (الانعام : ١٢٤) ٧۔ اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت کرنے والے کے لیے شدید ترین عذاب ہے۔ (الانفال : ١٣) ٨۔ کفار کے لیے دنیا میں تھوڑا سا فائدہ ہے پھر انکا ہماری طرف لوٹنا ہوگا پھر ہم انہیں سخت عذاب میں مبتلا کریں گے۔ (یونس : ٧٠) ٩۔ وہ لوگ جنہوں نے کفر کیا ان کے لیے شدید عذاب ہے۔ (فاطر : ٧) ١٠۔ لوگوں کو اللہ کی راہ سے بھٹکانے والوں کے لیے شدید عذاب ہے۔ (صٓ: ٢٦) ١١۔ اللہ تعالیٰ کے ساتھ شریک ٹھہرانے والوں کو شدید عذاب میں مبتلا کیا جا ئیگا۔ (آ : ٢٦) ١٢۔ کفار کو دنیا اور آخرت میں سخت عذاب سے دوچار کیا جائیگا۔ (آل عمراٰن : ٥٦)

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

(آیت) ” وَکَذَلِکَ جَعَلْنَا فِیْ کُلِّ قَرْیَۃٍ أَکَابِرَ مُجَرِمِیْہَا لِیَمْکُرُواْ فِیْہَا وَمَا یَمْکُرُونَ إِلاَّ بِأَنفُسِہِمْ وَمَا یَشْعُرُونَ (123) ” اور اسی طرح ہم نے ہر بستی میں اس کے بڑے بڑے مجرموں کو لگا دیا ہے کہ وہاں اپنے مکروفریب کا جال پھیلائیں ۔ دراصل وہ اپنے فریب کے جال میں خود پھنسے ہیں مگر انہیں اس کا شعور نہیں ہے ۔ “ یہ اللہ کی سنت ہے کہ وہ ہر بستی ‘ شہر یا دارالخلافہ میں بڑے بڑے مجرمین میں کچھ لوگوں کو مقتدر بنا دیتا ہے ۔ یہ جرائم پیشہ لوگ ایسے ہوتے ہیں جو دین کے دشمن ہوتے ہیں اور یہ دین کے دشمن اس لئے ہوتے ہیں کہ بستیوں کے اوپر اقتدار حاصل کرکے اسے اپنے مقاصد کے لئے استعمال کرتے ہیں ۔ دین ان سے اس اقتدار کو چھین کر اسے اپنے مقاصد کے لئے استعمال کرتا ہے ۔ یوں دین ان سے ربوبیت اور حاکمیت کی حیثیت چھین لیتا ہے اور لوگوں کو آزادی حاصل ہوجاتی ہے ۔ یوں دین تمام لوگوں کو اللہ کی غلامی میں دے دیتا ہے اور اللہ ہی رب الناس اور ملک الناس قرار پاتا ہے ۔ یہ سنت الہیہ ہے کہ اللہ سچائی کے ساتھ رسولوں کو بھیجے اور یہ سچائی تمام مدعیان ربوبیت سے ان کی ربوبیت چھین لے اور تمام مدعیان حاکمیت سے ان کا حق اقتدار چھین لے ۔ چناچہ سچائی کے باوجود یہ اکابر مجرمین رسولوں اور سچائی کے دشمن ہوجاتے ہیں اور بستیوں اور دارالحکومتوں میں اپنی مکاری کے جال پھیلاتے ہیں ۔ تمام لوگ اپنے اپنے دارالخلافوں سے ایک دوسرے کو ہدایت اور رپورٹیں دیتے ہیں جو فریب پر مبنی ہوتی ہیں اور یہ لوگ معرکہ حق و باطل میں شیاطین کے معاون بنتے ہیں ۔ باطل اور گمراہی کو پھیلانے کی سعی کرتے رہتے ہیں اور اپنی اس ظاہری اور خفیہ سازش کی وجہ سے لوگوں کو حقیر سمجھتے ہیں ۔ یہ سنت جاریہ اور ہمہ گیر معرکہ ہے ۔ اس لئے کہ دونوں قوتوں کے درمیان اصل اول ہی کی بنا پر تضاد ووجود میں آگیا ہے ۔ اصل اول یہ ہے کہ حاکمیت اور اقتدار اعلیٰ صرف اللہ جل شانہ کے ساتھ مخصوص ہے جبکہ کسی بھی بستی کے مجرمین کی خواہش یہ ہوتی ہے کہ اس بستی میں ان کی بات کی چلت ہو اس کے علاوہ اہل حق اور ان اکابر مجرمین کے درمیان ذاتی تضاد بھی ہوتا ہے ۔ ہر نبی کو اس معرکے سے دوچار ہونا پڑتا ہے ۔ کوئی نبی اس سے بچ نہیں سکتا ۔ نبی اور اہل ایمان کے لئے لازمی ہے کہ وہ اس معرکے میں کو دیں اور آخر کار میں اس میں سے سرخروئی کے ساتھ نکلیں ۔ اللہ اپنے دوستوں کو اطمینان دلاتے ہیں کہ ان مجرمین کا مکر و فریب کتنا ہی عظیم کیوں نہ ہو اور ان کا حال طویل سے طویل ترکیوں نہ ہو ؟ آخر کار یہ مکر خود ان پر آکر پڑے گا ۔ اس لئے کہ اہل ایمان صرف تنہا اس معرکے میں نہیں کودتے اللہ ان کے ساتھ ہوتا ہے اور وہ ان کے لئے کافی مددگار ہے ۔ وہ کافرین کی سازش کو خود ان پر لوٹاتا ہے ۔ ” دراصل وہ خود اپنے فریب کے جال میں پھنستے ہیں مگر انہیں اس کا شعور نہیں ۔ (آیت) ” وَمَا یَمْکُرُونَ إِلاَّ بِأَنفُسِہِمْ وَمَا یَشْعُرُونَ (123) ” لہذا اہل ایمان کو پوری طرح مطمئن رہنا چاہیے ۔ “ اب قرآن کریم یہ بتاتا ہے کہ اللہ کے رسولوں اور اللہ کے دین کے دشمنوں کے مزاج میں کبر و غرور کا مادہ بھرا ہوتا ہے ۔ اور یہی کبر اس بات کا سبب بنتا ہے کہ وہ اسلام سے دور رہیں اور یہ اس لئے اس نظریہ سے دور بھاگتے ہیں کہ اس میں جس طرح یہ اکابر اللہ کے بندے ہوتے ہیں اس طرح تمام عوام بھی اللہ کے بندے ہوتے ہیں ‘ کوئی طبقاتی فرق باقی نہیں رہتا ۔ چونکہ یہ لوگ اپنے اس طبقاتی فرق و امتیاز کو قائم رکھنا چاہتے ہیں اس لئے ایسے لوگوں کے لئے یہ ایک بڑا کڑوا گھونٹ ہے کہ یہ ایمان لے آئیں اور نبی کے سامنے اطاعت کریں حالانکہ وہ اس بات کے عادی ہیں کہ وہ خود مطاع بنیں اور الوہیت اور ربوبیت کے مقام پر فائز ہوں ‘ قانون سازی کریں اور ان کے قوانین کو تسلیم کیا جائے ۔ وہ احکام دیں اور لوگ ان کے احکام کی اطاعت کریں ۔ یہی وجہ ہے کہ وہ ایسی باتیں کرتے ہیں جو کرنے کی نہیں ہیں ۔ نہایت ہی بےبنیاد بات کرتے ہیں ۔ کہ ہم اس وقت تک ایمان نہ لائیں گے جب تک ہمیں وہ تعلیم نہ دی جائے جو نبیوں کو دی گئی : (آیت) ” وَإِذَا جَاء تْہُمْ آیَۃٌ قَالُواْ لَن نُّؤْمِنَ حَتَّی نُؤْتَی مِثْلَ مَا أُوتِیَ رُسُلُ اللّہِ “ (٦ : ١٢٤) جب ان کے سامنے کوئی آیت آتی ہے تو وہ کہتے ہی ہم نہ مانیں گے جب تک کہ وہ چیز خود ہم کو نہ دی جائے جو اللہ کے رسولوں کو دی گئی ہے۔ “ ولید ابن مغیرہ نے ایک بار کہا : ” کہ اگر نبوت حق بات ہوتی تو میں زیادہ مستحق تھا کہ میں نبی ہوتا ‘ کیونکہ میں عمر میں ’ اے محمد ‘ تم سے بڑا ہو ۔ مال میں تم سے زیادہ ہوں ۔ “ اور ابو جہل نے کہا ’ خدا کی قسم ہم اس تحریک پر راضی نہ ہوں گے اور نہ ہی اس کی اطاعت کریں گے الا یہ کہ ہم پر بھی اسی طرح جبرئیل وحی لے کر آئیں جس طرح اس پر لاتے ہیں ۔ یہ بات کسی سے پوشیدہ نہیں ہے کہ کبر نفس اور اس قسم کے لوگ جس طرح کے عادی ہوتے ہیں کہ یہ احکام صادر کرتے ہیں اور دوسرے لوگ اطاعت کرتے ہیں ایسے امور ہیں جن کی وجہ سے لوگوں کے لئے ضلالت کو مزین کردیا جاتا ہے اور یوں یہ لوگ دین اور داعیان دین (رسل) کے مقابلے میں دشمنی پر اتر آتے ہیں ۔ چناچہ اللہ ایسے لوگوں کے ان اقوال کی تردید فرماتے ہیں ۔ اول یہ کہ کسی کو رسول مقرر کرنا یہ اللہ کے علم محیط پر موقوف ہے کہ کون اس لائق ہے کیونکہ نبوت ایک نہایت ہی اہم کائناتی منصب ہے ۔ اور دوسری بات یہ کہ یہاں اللہ تعالیٰ ان کی تردید سختی ‘ تحقیر اور دھمکی سے کرتے ہیں کہ تمہارا انجام بہت ہی برا ہونے والا ہے ۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

ہر بستی میں وہاں کے بڑے مجرم ہوتے ہیں : اس کے بعد فرمایا (وَ کَذٰلِکَ جَعَلْنَافِیْ کُلِّ قَرْیَۃٍ اَکٰبِرَ مُجْرِمِیْھَا) (اور اس طرح ہم نے ہر بستی میں وہاں کے بڑوں کو مجرم بنا دیا) مطلب یہ ہے کہ جیسے اہل مکہ میں دنیاوی اعتبار سے بڑے لوگ مجرم بنے ہوئے ہیں اسی طرح ہم نے ہر بستی میں آپ سے پہلے ایسے لوگ مقرر کیے جو ان لوگوں کے سردار تھے اور گناہوں میں پیش پیش تھے۔ (لِیَمْکُرُوْا فِیْھَا) تاکہ یہ لوگ مکر کریں یعنی اللہ کی ہدایت نہ پھیلنے دیں اور اس کے خلاف شرارتیں کریں۔ (وَ مَا یَمْکُرُوْنَ اِلَّا بِاَنْفُسِھِمْ وَ مَا یَشْعُرُوْنَ ) (اور ان کا مکر ان کی جانوں ہی کے ساتھ ہے اور انہیں اس کا شعور نہیں ہے۔ اسلام کے خلاف شرارتیں کرتے ہیں اور یہ نہیں جانتے کہ اس کا وبال انہیں پر پڑتا ہے۔ صاحب معالم التنزیل (لِیَمْکُرُوْا فِیْھَا) کے ذیل میں لکھتے ہیں کہ اہل مکہ نے مکہ کے اطراف و جوانب میں ہر راستہ پر چار چار آدمی بٹھا دیئے تھے۔ تاکہ وہ لوگوں کو سیدنا محمد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر ایمان لانے سے روکتے رہیں۔ جو شخص باہر سے آتا اور مکہ میں داخل ہونا چاہتا تھا۔ اس سے یہ لوگ کہتے تھے کہ دیکھنا اس شخص سے بچ کر رہنا کیونکہ وہ جادو گر ہے جھوٹا ہے۔ درحقیقت ہر بستی اور علاقہ کے رئیس اور چودھری اور اہل اقتدار اور اہل مال ہی عوام الناس کو ہدایت پر نہیں آنے دیتے۔ نہ خود ہدایت قبول کرتے ہیں نہ اپنے عوام کو حق قبول کرنے دیتے ہیں۔ جیسا کہ پورے عالم میں اس کا مظاہرہ ہے۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

123 اور جس طرح مکہ کے سردار اور رئوسا قریش اپنے اثر کو اسلام کے خلاف استعمال کر رہے ہیں اسیطرح ہم نے ہر بستی کے بڑے بڑے لوگوں کو مجرم بنایا اور وہاں کے مجرم اور فساقکو سردار اور پارٹی کا لیڈر بنایا تاکہ وہ مخالفانہ تدابیر اور جارحانہ سازشیں کیا کریں اور وہ جو سازش اور مکرو فریب کرتے ہیں وہ درحقیقت صرف اپنے ہی ساتھ کرتے ہیں اور ان رئوسا کی حالت یہ ہے کہ ان کو ان کا احساس اور شعور نہیں ہوتا۔ یعنی بڑے لوگوں کو مجرم بناتے ہیں یا مجرموں کو سردار بناتی ہیں تاکہ ان کی مخالفت اور پر فریب تدابیر زور دار اور موثر ہوں اور ان کی ان تدابیر کا وبال انہی پر لوٹتا ہے اور حق روز بروز مقبول ہوتا رہتا ہے اور کمزور و ماتحت لوگوں ک اجر وثواب میں زیادتی ہوتی ہے اور ان مجرم سرداروں کو شعور نہیں ہوتا اور نہ انہیں مصالح خداوندی کا احساس ہوتا ہے ہر بستی میں صحیح بات کی مخالفت بڑے ہی لوگ کیا کرتے ہیں۔