Surat ul Anaam

Surah: 6

Verse: 26

سورة الأنعام

وَ ہُمۡ یَنۡہَوۡنَ عَنۡہُ وَ یَنۡئَوۡنَ عَنۡہُ ۚ وَ اِنۡ یُّہۡلِکُوۡنَ اِلَّاۤ اَنۡفُسَہُمۡ وَ مَا یَشۡعُرُوۡنَ ﴿۲۶﴾

And they prevent [others] from him and are [themselves] remote from him. And they do not destroy except themselves, but they perceive [it] not.

اور یہ لوگ اس سے دوسروں کو بھی روکتے ہیں اور خود بھی اس سے دور دور رہتے ہیں اور یہ لوگ اپنے ہی کو تباہ کر رہے ہیں اور کچھ خبر نہیں رکھتے ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

وَهُمْ يَنْهَوْنَ عَنْهُ وَيَنْأَوْنَ عَنْهُ ... And they prevent others from him and they themselves keep away from him, They discourage people from following the truth, believing in Muhammad and obeying the Qur'an, وَيَنْأَوْنَ عَنْهُ (and they themselves keep away from him), They thus combine both evil acts, for they neither benefit themselves, nor let others benefit from the Prophet. Ali bin Abi Talhah said that Ibn Abbas said that the Ayah, وَهُمْ يَنْهَوْنَ عَنْهُ (And they prevent others from him), means, they hinder people from believing in Muhammad. Muhammad bin Al-Hanafiyyah said, "The disbelievers of Quraysh used to refrain from meeting Muhammad and they discouraged people from coming to him." Similar was reported from Qatadah, Mujahid and Ad-Dahhak and several others. ... وَإِن يُهْلِكُونَ إِلاَّ أَنفُسَهُمْ وَمَا يَشْعُرُونَ and (by doing so) they destroy not but themselves, yet they perceive (it) not. They destroy themselves by committing this evil action, and its harm will only touch them. Yet, they do not perceive this fact!

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

26۔ 1 یعنی عام لوگوں کو آپ سے اور قرآن سے روکتے ہیں تاکہ وہ ایمان نہ لائیں اور خود بھی دور دور رہتے ہیں۔ 26۔ 2 لیکن لوگوں کو روکنا اور خود بھی دور رہنا، اس سے ہمارا یا ہمارے پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا کیا بگڑے گا ؟ اس طرح کے کام کر کے وہ خود ہی بےشعوری میں اپنی ہلاکت کا سامان کر رہے ہیں۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٣٠] گویا وہ دہرے مجرم ہیں اور جو لوگ ان کی کوششوں کی وجہ سے راہ حق سے دور رہتے ہیں۔ ان کے گناہوں میں سے حصہ رسدی گناہوں کا بوجھ اپنے اوپر لاد رہے ہیں لہذا ایسے لوگوں کی ہلاکت کس قدر شدید ہوگی ؟ اور اس بات کی انہیں سمجھ نہیں آرہی کہ وہ خود ہی اپنے ہاتھوں کیسے اپنے پاؤں پر کلہاڑی مار رہے ہیں ؟

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

وَهُمْ يَنْهَوْنَ عَنْهُ وَيَنْــــَٔـوْنَ عَنْهُ ۚ: یعنی صرف قرآن پر طعن کرنے ہی پر اکتفا نہیں کرتے بلکہ قرآن سننے سے اور لوگوں کو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس جانے سے بھی روکتے ہیں اور خود بھی دور رہتے ہیں۔ آج کل مسلمانوں میں سے بہت سے شرک و بدعت میں مبتلا مولوی بھی اہل توحید کی تقریریں سننے سے لوگوں کو منع کرتے ہیں اور خود بھی نہیں سنتے، بلکہ قرآن مجید کا ترجمہ پڑھنے سے لوگوں کو روکتے ہیں کہ کہیں حق واضح ہوجانے کے بعد اسے قبول کر کے ہمارے چنگل سے نہ نکل جائیں۔ وَاِنْ يُّهْلِكُوْنَ اِلَّآ اَنْفُسَهُمْ : یعنی ایسا کرنے سے وہ اللہ تعالیٰ اور اس کے دین کا کچھ نہیں بگاڑ سکیں گے، بلکہ اپنی ہی ہلاکت کا سامان کر رہے ہیں اور یہ سمجھتے ہی نہیں کہ ایسا کرنے سے ہم اپنا ہی نقصان کر رہے ہیں۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

The verse: وَهُمْ يَنْهَوْنَ عَنْهُ (And from it they prevent - 26), according to early commentators Dahhak, Qatadah and Muhammad ibn Hanafiyah, was revealed about the common disbelievers of Makkah who prevent¬ed people from listening to the Qur&an and following it - and saw to it that they themselves stayed away from it. It has also been reported from Sayyidna ` Abdullah ibn ` Abbas (رض) that this verse concerns the Holy Prophet&s (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) respected uncle, Abu Talib , as well as other uncles who stopped people from causing pain to him, even supported him, but would not believe in the Qur&an nor follow it. If so, the pronoun in يَنْهَوْنَ عَنْهُ will revert to the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) and not to the Qur&an. (Mazhari with narration by Ibn Abi a1-Hatim from Said ibn Abi Hilal)

وَهُمْ يَنْهَوْنَ عَنْهُ وَيَنْــــَٔـوْنَ عَنْهُ عائمہ مفسرین ضحاک رحمة اللہ علیہ، قتادہ رحمة اللہ علیہ، محمد بن حنیفہ رحمة اللہ علیہ کے نزدیک یہ آیت عام کفار مکہ کے بارے میں نازل ہوئی ہے، جو لوگوں کو قرآن سننے اور اس کا اتباع کرنے سے منع کرتے تھے۔ اور خود بھی اس سے دور دور رہتے تھے، اور حضرت عبداللہ بن عباس (رض) سے یہ بھی منقول ہے کہ یہ آیت رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے چچا ابو طالب اور دوسرے ان چچاؤں کے متعلق ہے جو لوگوں کو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ایذاء رسانی سے روکتے اور آپ کی حمایت کرتے تھے، مگر نہ قرآن پر ایمان لاتے نہ اس پر عمل کرتے، اس صورت میں يَنْهَوْنَ عَنْهُ کی ضمیر بجائے قرآن کے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف راجع ہوگی (مظہری بروایت ابن ابی حاتم عن سعید بن ابی ہلال)

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

وَہُمْ يَنْہَوْنَ عَنْہُ وَيَنْــــَٔـوْنَ عَنْہُ۝ ٠ۚ وَاِنْ يُّہْلِكُوْنَ اِلَّآ اَنْفُسَہُمْ وَمَا يَشْعُرُوْنَ۝ ٢٦ نهى النهي : الزّجر عن الشیء . قال تعالی: أَرَأَيْتَ الَّذِي يَنْهى عَبْداً إِذا صَلَّى[ العلق/ 9- 10] ( ن ھ ی ) النهي کسی چیز سے منع کردینا ۔ قرآن میں ہے : أَرَأَيْتَ الَّذِي يَنْهى عَبْداً إِذا صَلَّى[ العلق/ 9- 10] بھلاتم نے اس شخص کو دیکھا جو منع کرتا ہے ( یعنی ) ایک بندے کو جب وہ نماز پڑھنے لگتا ہے ۔ (ينهون) ، فيه إعلال بالحذف، أصله ينهاون، جاءت الألف والواو ساکنتین، حذفت الألف لالتقاء الساکنين، وزنه يفعون . (ينأون) ، فيه إعلال جری مجری ينهون . هلك الْهَلَاكُ علی ثلاثة أوجه : افتقاد الشیء عنك، وهو عند غيرک موجود کقوله تعالی: هَلَكَ عَنِّي سُلْطانِيَهْ [ الحاقة/ 29] - وهَلَاكِ الشیء باستحالة و فساد کقوله : وَيُهْلِكَ الْحَرْثَ وَالنَّسْلَ [ البقرة/ 205] ويقال : هَلَكَ الطعام . والثالث : الموت کقوله : إِنِ امْرُؤٌ هَلَكَ [ النساء/ 176] وقال تعالیٰ مخبرا عن الکفّار : وَما يُهْلِكُنا إِلَّا الدَّهْرُ [ الجاثية/ 24] . ( ھ ل ک ) الھلاک یہ کئی طرح پر استعمال ہوتا ہے ایک یہ کہ کسی چیز کا اپنے پاس سے جاتے رہنا خواہ وہ دوسرے کے پاس موجود ہو جیسے فرمایا : هَلَكَ عَنِّي سُلْطانِيَهْ [ الحاقة/ 29] ہائے میری سلطنت خاک میں مل گئی ۔ دوسرے یہ کہ کسی چیز میں خرابی اور تغیر پیدا ہوجانا جیسا کہ طعام ( کھانا ) کے خراب ہونے پر ھلک الطعام بولا جاتا ہے قرآن میں ہے : ۔ وَيُهْلِكَ الْحَرْثَ وَالنَّسْلَ [ البقرة/ 205] اور کھیتی کو بر باد اور انسانوں اور حیوانوں کی نسل کو نابود کردی ۔ موت کے معنی میں جیسے فرمایا : ۔ إِنِ امْرُؤٌ هَلَكَ [ النساء/ 176] اگر کوئی ایسا مرد جائے ۔ شعور الحواسّ ، وقوله : وَأَنْتُمْ لا تَشْعُرُونَ [ الحجرات/ 2] ، ونحو ذلك، معناه : لا تدرکونه بالحواسّ ، ولو في كثير ممّا جاء فيه لا يَشْعُرُونَ : لا يعقلون، لم يكن يجوز، إذ کان کثير ممّا لا يكون محسوسا قد يكون معقولا . شعور حواس کو کہتے ہیں لہذا آیت کریمہ ؛ وَأَنْتُمْ لا تَشْعُرُونَ [ الحجرات/ 2] اور تم کو خبر بھی نہ ہو ۔ کے معنی یہ ہیں کہ تم حواس سے اس کا ادرک نہیں کرسکتے ۔ اور اکثر مقامات میں جہاں لایشعرون کا صیغہ آیا ہے اس کی بجائے ۔ لایعقلون کہنا صحیح نہیں ہے ۔ کیونکہ بہت سی چیزیں ایسی ہیں جو محسوس تو نہیں ہوسکتی لیکن عقل سے ان کا ادراک ہوسکتا ہے ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(٢٦۔ ٢٧) حارث بن عامر نے آپ سے دلائل نبوت کا مطابلہ کیا، اس پر فرمان الہی نازل ہوا کہ اگر یہ لوگ تمام دلائل کو بھی دیکھ لیں تب بھی ایمان نہ لائیں اور یہ جب آپ کے پاس آتے ہیں تو قرآن کے نازل ہونے کے بارے میں پوچھتے ہیں اور جب انکو اس کی اطلاع کردی جاتی ہے تو خصوصا نضر بن حارث کہتا ہے کہ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جو کچھ بیان کرتے ہیں یہ تو بس گزرے ہوئے لوگوں کے کچھ جھوٹے افسانے ہیں اور ابوجہل اور اس کے ساتھی رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور قرآن کریم سے دوسروں کو بھی روکتے ہیں اور خود بھی اس سے رکتے اور دور رہتے ہیں اور یہ بھی معنی بیان کیے گئے ہیں کہ ابوطالب لوگوں کو رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو تکلیف پہنچانے سے روکتے ہیں مگر خود آپ کی پیروی نہیں کرتے مگر یہ خود ہلاک ہورہے ہیں اور یہ نہیں سمجھتے کہ جن لوگوں کو آپ کی اطاعت سے روکتے ہیں، ان سب کا گناہ ان پر ہے، اور اگر محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آپ ان کو اس وقت دیکھیں جب کہ یہ دوزخ کے پاس کھڑے ہوں گے تو دنیا میں واپسی اور آسمانی کتابوں اور رسول کی تکفیر نہ کرنے کی تمنا کریں گے اور ہر ایک طریقہ سے ایمان والوں کے ساتھ ہونے کی تمنا کریں گے۔ شان نزول : (آیت) ” وھم ینھون عنہ “۔ (الخ) امام حاکم (رح) وغیرہ نے ابن عباس (رض) سے روایت نقل کی ہے کہ یہ آیت ابو طالب کے بارے میں نازل ہوئی ہے، وہ مشرکین کو رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ایذا پہنچانے سے روکتے تھے اور خود آپ کے دین کو قبول نہیں کرتے تھے اور ابن ابی حاتم (رح) نے سعید بن ابی ہلال سے روایت کیا ہے کہ یہ آیت رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے چچاؤں کے بارے میں نازل ہوئی ہے وہ تعداد میں دس تھے علانیہ طور پر تو وہ آپ کی مدد میں لوگوں پر بھاری تھے مگر خفیہ طور پر تمام لوگوں سے آپ پر زیادہ سخت تھے۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٢٦ (وَہُمْ یَنْہَوْنَ عَنْہُ وَیَنْءَوْنَ عَنْہُ ج) ۔ یہاں آپس میں ملتے جلتے دو افعال استعمال ہوئے ہیں ‘ ایک کا مادہ ’ ن ہ ی ‘ ہے اور دوسرے کا ’ ن ء ی ‘ ہے۔ نَھٰی یَنْھٰی (روکنا) تو معروف فعل ہے اور نہی کا لفظ اردو میں بھی عام استعمال ہوتا ہے۔ لہٰذا (یَنْہَوْنَ عَنْہُ ) کے معنی ہیں وہ روکتے ہیں اس سے۔ کس کو روکتے ہیں ؟ اپنے عوام کو۔ ان کی لیڈری اور سرداری عوام کے بل پر ہی تو ہے۔ عوام برگشتہ ہوجائیں گے تو ان کی لیڈری کہاں رہے گی۔ عوام کو اپنے قابو میں کرنا اور ان کی عقل اور سمجھ پر اپنا تسلط قائم رکھنا ایسے نام نہادلیڈروں کے لیے انتہائی ضروری ہوتا ہے۔ لہٰذا ایک طرف تو وہ اپنے عوام کو راہ ہدایت اختیار کرنے سے روکتے ہیں اور دوسری طرف وہ خود اس سے گریز اور پہلو تہی کرتے ہیں۔ نَاٰی یَنْاٰی نَأْیًا کا مفہوم ہے دور ہونا ‘ کنی کترانا جیسے سورة بنی اسرائیل (آیت ٨٣) میں فرمایا : (وَاِذَآ اَنْعَمْنَا عَلَی الْاِنْسَانِ اَعْرَضَ وَنَاٰبِجَانِبِہٖ ج) اور انسان کا حال یہ ہے کہ جب ہم اس پر انعام کرتے ہیں تو منہ پھیرلیتا اور پہلوتہی کرتا ہے۔ چناچہ (یَنْءَوْنَ عَنْہُ ط) کے معنی ہیں وہ اس سے گریز کرتے ہیں ‘ کنی کتراتے ہیں۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

طبرانی اور مستدرک حاکم میں حضرت عبد اللہ بن عباس (رض) سے روایت ہے کہ ابو طالب یوں تو ہر وقت حضرت کی حمایت کرتے رہتے تھے کہ قریش میں سے کوئی شخص آنحضرت کو ایذا نہ دیوے مگر آنحضرت جب ابو طالب کو کوئی بات ہدایت کی کہتے تو اس سے ابو طالب دور بھاگتے تھے اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی ٢ ؎ طبرانی کی سند میں اگرچہ ایک راوی قیس بن ربیع کو بعض علماء نے ضعیف کہا ہے لیکن شعبہ نے اس کو ثقہ کہا ہے ٣ ؎ اس لئے یہ شان نزول کی روایت معتبر ہے بخاری میں ابو سعید خدری (رض) سے روایت ہے کہ ایک روز آنحضرت کے روبرو ابو طالب کا ذکر آیا تو آپ نے فرمایا شاید ابو طالب کو میری شفاعت کچھ نفع تخفیف عذاب پہنچادے ٤ ؎۔ اسی طرح بخاری میں عروہ (رض) سے مرسل طور پر روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ حضرت عباس (رض) نے ابو لہب کو خواب میں دیکھا کہ بری حالت میں ہے جب حضرت عباس (رض) نے ابو لہب سے پوچھا تو ابو لہب نے کہا جب سے میں مرا ہوں ہمیشہ بری حالت میں رہتا ہوں لیکن پیر کے دن محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی پیدائش کی خبر سن کر جو میں نے اسی خوشی میں اپنی لونڈی ثوبیہ کو آزاد کردیا تھا اس لئے اس روز مجھ کو ذرا سی تکلیف سے کچھ راحت ہوجاتی ہے ٥ ؎۔ علمائے اسلام کو اس شفاعت کی نسبت جس کا ذکر آپ نے ابو طالب کے حق میں فرمایا ہے اور تخفیف عذاب ابو لہب کی نسبت بڑی بحث ہے حاصل اس بحث کا یہ ہے کہ آیت قرانی { فَمَا تَنْفَہُھُمْ شَفَاعَۃُ الشَّافِعِیْنَ } (٤٨/٧٥) اور { لَا یَخَفَّفُ عَنْہُمُ الْعَذَابُ } (١٦٢/٢) سے کافروں کے حق میں نہ شفاعت ہوسکتی ہے نہ ان کا عذاب کچھ کم ہوسکتا ہے پھر یہ شفاعت اور تخفیف عذاب کسی معنی کی ہے حاصل جواب یہ ہے کہ اللہ کا وعدہ ہے کہ مشرک کی بخشش نہیں ہے اس کے سب عمل بیکار ہیں اس لئے نہ یہ شفاعت و خول جنت کی ہے نہ یہ تخفیف عذاب کسی عمل کی وجہ سے ہے بلکہ اپنی نبی کی عزت بڑھانے کی غرض سے یہ تخفیف عذاب کی شفاعت ابو طالب کے حق میں اور ایک روز کی تخفیف عذاب ابو لہب کے لئے خود اللہ تعالیٰ کی طرف سے محض اللہ کے فضل سے ہے اور یہ اللہ کا فضل کسی آیت قرآن کے مخالف نہیں ہے اور یہ خاص فضل اللہ کا ایسا ہی ہے جس طرح اللہ تعالیٰ بغیر کسی عمل کے بہت سی مخلوق کو محض اپنے فضل سے جنت میں داخل کردے گا چناچہ اس کی تصریح ابو سعید خدری (رض) کی متفق علیہ روایت میں ہے ١ ؎ آخر کو فرمایا کہ ایسی باتوں سے کسی کا کچھ نہیں بگڑتا بلکہ ایسی باتوں کا خمیازہ خود ان ہی لوگوں کو قیامت کے دن بھگتنا پڑے گا۔ لیکن یہ ان کی نادانی ہے کہ یہ لوگ عقبیٰ کے اپنے بھلے برے کو نہیں سمجھتے اور اتنا نہیں جانتے کہ دنیا میں یہ لوگ جو کام کرتے ہیں اس کا کچھ نہ کچھ نتیجہ اپنے دل میں سوچ لیتے ہیں اسی سے ان لوگوں کی سمجھ میں یہ بات آسکتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے دنیا کے پیدا کرنے میں اتنا بڑا کام بغیر نتیجہ کے نہیں کیا ہے بلکہ اس کا نتیجہ وہی ہے جو گھڑی گھڑی ان لوگوں کو سمجھایا جاتا ہے کہ اس جہان کے بعد دوسرا جہان اور قائم ہوگا جس میں دنیا کی نیکی بدی کی جزا سزا کا فیصلہ ہوگا پھر باوجود گھڑی گھڑی سمجھانے کے ایسے ظاہری نتیجہ کو جھٹلانا اور اس سے غافل رہنا بڑی نادانی ہے۔ معتبر سند کی شداد بن اوس (رض) کی حدیث ترمذی اور ابن ماجہ کے حوالہ سے گذرچ کی ہے جس میں آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا عقل مند وہ شخص ہے جو موت سے پہلے عقبیٰ کا کچھ سامان کرلیوے اور نادان وہ ہے جو عمر بھر عقبیٰ سے غافل رہے اور پھر عقبیٰ میں راحت کی توقع رکھے ٢ ؎۔ قریش کی نادانی کا ذکر جو آیت میں ہے اس کی یہ حدیث گویا تفسیر ہے۔

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(6:26) ینھون عنہ۔ مضارع جمع مذکر غائب نہی مصدر (باب فتح) وہ منع کرتے ہیں۔ وہ روکتے ہیں۔ عنہ سے مراد عن اتباع الرسول ۔ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ۔ ینئون عنہ۔ دور رہتے ہیں۔ مضارع جمع مذکر غائب۔ نای مصدر۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 8 یعنی صرف قرآن پر طعن کرنے پر ہی اکتفا نہیں کرتے بلکہ قرآن سننے اور آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر ایمان لانے سے دوسرے لوگوں کو بھی منع کرتے ہیں (کذافی الکبیر) بہت سے بدعت پرست علما اپنے مانے والوں کو اس لیے قرآن مجید کا ترجمہ پڑھنے سے منع کرتے ہیں کہ کہیں وہ عشق وجذب۔ باگل پن کی بھول بھلیوں سے نکل کر وہابی نہ بن جائیں لا حول ولا وقوۃ الا باللہ العلی العظیم،9 حضرت ابن عباس (رض) اس کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ کفر غلو اور تمادی کے سبب اپنے آپ کو ہلاکت کر گڑھے میں ڈال رہے ہیں اور یہ نہیں سمجھے س کفر و معصیت کا انجام دوزخ ہوگا۔ (کبیر )

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

(آیت) ” وَہُمْ یَنْہَوْنَ عَنْہُ وَیَنْأَوْنَ عَنْہُ وَإِن یُہْلِکُونَ إِلاَّ أَنفُسَہُمْ وَمَا یَشْعُرُونَ (26) ” وہ اس امر حق کو قبول کرنے سے لوگوں کو روکتے ہیں اور خود بھی اس سے دور بھاگتے ہیں ۔ (وہ سمجھتے ہیں کہ اس حرکت سے وہ تمہارا کچھ بگاڑ رہے ہیں) حالانکہ دراصل وہ خود اپنی ہی تباہی کا سامان کر رہے ہیں مگر انہیں اس کا شعور نہیں ہے ۔ “ وہ اچھی طرح جانتے تھے کہ قرآن کریم محض پرانے لوگوں کے قصوں پر مشتمل نہیں ہے اور اس کا پرانے قصوں کے ساتھ کوئی فائدہ نہ دے گا ۔ اگر لوگ قرآن کریم کو سنتے رہے تو اس سے متاثر ہونے والوں کی تعداد میں اضافہ ہوتا چلا جائے گا ۔ قریش کے بڑے بڑے دانشور تو خود اپنے بارے میں یہ خوف رکھتے تھے کہ تلاوت قرآن کریم خود ان کو بھی متاثر کرسکتی ہے ۔ اپنے متبعین کے بارے میں تو انہیں شدید خوف لاحق تھا ۔ اس لئے اس زور دار ‘ پھیلنے والی اور زبردست تحریک اور اہل مکہ کی کمزور اور باطل سوسائٹی کے درمیان برپا کشمکش میں صرف یہ امر کافی نہ تھا کہ نضر ابن حارث حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بالمقابل مجلس لگائے اور اس میں اہل فارس کے ادبی شہ پارے پیش کرے ۔ لہذا امتناعی تدابیر کے طور پر وہ اپنے متبعین کو قرآن کریم سننے سے منع کرتے تھے اور خود بھی اپنے آپ کو ایسے مواقع سے دور رکھتے تھے جہاں وہ قرآن کریم سنیں ۔ محض اس خوف سے کہ کہیں وہ خود ہی متاثر نہ ہوجائیں اور اسے قبول ہی نہ کرلیں ۔ اخنس ابن شریق ‘ ابو سفیان ابن حرب اور عمرو ابن ہشام کا قصہ تو بہت ہی مشہور ہے ۔ یہ لوگ قرآن کریم کی اس جاذبیت کا مقابلہ کرتے تھے لیکن قرآن کریم پھر بھی انہیں اپنی طرف کھینچ لاتا تھا۔ (دیکھئے ابن ہشام جزء اول اور ظلال القرآن پارہ ششم) یہ تمام پاپڑ وہ اس لئے بیلتے تھے کہ وہ اپنے آپ کو اور اپنے متبعین کو قرآن سننے سے بچا سکیں تاکہ وہ اس سے متاثر نہ ہوجائیں اور اسے قبول نہ کرلیں اور یہ کام درحقیقت خود ان کے لئے باعث ہلاکت تھا ۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں : ” وہ درحقیقت خود اپنی تباہی کا سامان کرتے تھے مگر انہیں اس کا شعور نہیں ہے ۔ “ جو شخص اپنے آپ کو اور دوسروں کو راہ ہدایت ‘ راہ حق اور راہ نجات سے روکے رکھتا ہے وہ دنیا وآخرت دونوں میں خود اپنے آپ کو خسارے اور ہلاکت میں ڈالتا ہے ۔ وہ لوگ جو خود اپنے آپ کو اور اپنے متبعین کو اللہ کی راہ سے روکتے ہیں ‘ دراصل وہ مساکین ہیں ۔ اگرچہ وہ بڑے قہار وجبار اور بڑے بڑے طاغوت نظر آتے ہیں ۔ وہ تو دنیا وآخرت میں صرف اپنے اوپر اختیار رکھتے ہیں ۔ اگرچہ انہیں اور ان کے متبعین کو دنیا میں بعض اوقات ایک مختصر عرصے کے لئے یہ نظر آتا ہے کہ وہ بہت ہی فائدے میں ہیں اور کامیاب ہیں ‘ لیکن دراصل وہ مفلس ہوتے ہیں ۔ اور ان کا آخری انجام کیا ہونے والا ہے تو پھر ذرا تصویر کا دوسرا رخ ملاحظہ فرمائیں :

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

پھر فرمایا (وَ ھُمْ یَنْھَوْنَ عَنْہُ وَ یَنْھَوْنَ عَنْہُ ) (وہ لوگ آپ کے پاس آنے سے روکتے ہیں اور خود بھی دور ہوتے ہیں) دو ہرے جرم کے مرتکب ہیں بعض حضرات نے اس کا یہ مطلب بتایا ہے کہ ایذاء پہنچانے والوں کو روکتے ہیں اور آپ تک پہنچنے نہیں دیتے اور خود آپ کی دعوت توحید سے دور رہتے ہیں۔ اگر یہ معنی مراد ہوں تو اس سے آپ کے چچا ابو طالب اور دوسرے اقرباء مراد ہیں ان کو یہ بھی گوارا نہ تھا کہ لوگ آپ کو تکلیف پہنچائیں لیکن آپ کے دین کو بھی قبول نہ کرتے تھے۔ قال صاحب معالم التنزیل ٢ ص ٩١ نرلت فی ابی طالب کان یَنْھی الناس عن اذی النبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) و یمنعھم وَیَنْھٰی عن الایمان بہٖ و فی تفسیر ابن کثیر ج ٢ ص ١٢٧ قال سعید بن ابی ھلال نزلت فی عمومۃ النبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کانوا عشرۃ و کانوا اشد الناس فی العلانیۃ و اشد الناس علیہ فی السّرّ ۔ آخر میں فرمایا (وَ اِنْ یُّھْلِکُوْنَ اِلَّآ اَنْفُسَھُمْ وَ مَا یَشْعُرُوْنَ ) (یہ لوگ اپنی گمراہی اور افتراء اور کذب بیانی کی وجہ سے اپنی ہی جانوں کو ہلاک کرتے ہیں اور وہ سمجھتے نہیں کہ اس طریق کار کا انجام کیا ہوگا)

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

30 یہاں کافروں کی دو بری خصلتیں بیان کی گئی ہیں۔ اول یہ کہ وہ لوگوں کو قرآن سے روکتے ہیں اور انہیں اس کے سننے سے منع کرتے ہیں۔ دوم یہ کہ وہ خود بھی قرآن سے دور بھاگتے ہیں وَ اِنْ یُّھْلِکُوْنَ الخ مگر اس طرح وہ پیغمبر (علیہ السلام) کا، قرآن کا اور مسلمانوں کا تو کچھ نہیں بگاڑ سکتے الٹا اپنے آپ ہی کو ہلاکت اور تباہی کے گڑھے میں دھکیل رہے ہیں۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

26 اور یہ منکر امر حق پر ایمان لانے سے اور قرآن کریم کو ماننے سے دوسروں کو بھی روکتے اور منع کرتے ہیں اور خود بھی اس سے دور رہتے ہیں اور یہ لوگ ان حرکات سے اپنے آپ کو ہی تباہ اور ہلاک کر رہے ہیں اور ان کی حالت یہ ہے کہ ان کو اپنی تباہی اور بربادی کا شعور اور احساس تک نہیں ہے۔