Surat ul Anaam

Surah: 6

Verse: 59

سورة الأنعام

وَ عِنۡدَہٗ مَفَاتِحُ الۡغَیۡبِ لَا یَعۡلَمُہَاۤ اِلَّا ہُوَ ؕ وَ یَعۡلَمُ مَا فِی الۡبَرِّ وَ الۡبَحۡرِ ؕ وَ مَا تَسۡقُطُ مِنۡ وَّرَقَۃٍ اِلَّا یَعۡلَمُہَا وَ لَا حَبَّۃٍ فِیۡ ظُلُمٰتِ الۡاَرۡضِ وَ لَا رَطۡبٍ وَّ لَا یَابِسٍ اِلَّا فِیۡ کِتٰبٍ مُّبِیۡنٍ ﴿۵۹﴾

And with Him are the keys of the unseen; none knows them except Him. And He knows what is on the land and in the sea. Not a leaf falls but that He knows it. And no grain is there within the darknesses of the earth and no moist or dry [thing] but that it is [written] in a clear record.

اور اللہ تعالٰی ہی کے پاس ہیں غیب کی کنجیاں ( خزانے ) ان کو کوئی نہیں جانتا بجز اللہ تعالٰی کے اور وہ تمام چیزوں کو جانتا ہے جو کچھ خشکی میں ہے اور جو کچھ دریاؤں میں ہے اور کوئی پتا نہیں گرتا مگر وہ اس کو بھی جانتا ہے اور کوئی دانا زمین کے تاریک حصوں میں نہیں پڑتا اور نہ کوئی تر اور نہ کوئی خشک چیز گرتی ہے مگر یہ سب کتاب مبین میں ہیں ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

وَعِندَهُ مَفَاتِحُ الْغَيْبِ لاَ يَعْلَمُهَا إِلاَّ هُوَ ... And with Him are the keys of the Ghayb (all that is hidden), none knows them but He. Al-Bukhari recorded that Salim bin Abdullah said that his father said that the Messenger of Allah said, مَفَاتِيحُ الْغَيْبِ خَمْسٌ لاَ يَعْلَمُهُنَّ إِلاَّ الله The keys of the Unseen are five and none except Allah knows them: إِنَّ اللَّهَ عِندَهُ عِلْمُ السَّاعَةِ وَيُنَزِّلُ الْغَيْثَ وَيَعْلَمُ مَا فِى الاٌّرْحَامِ وَمَا تَدْرِى نَفْسٌ مَّاذَا تَكْسِبُ غَداً وَمَا تَدْرِى نَفْسٌ بِأَىِّ أَرْضٍ تَمُوتُ إِنَّ اللَّهَ عَلَيمٌ خَبِيرٌ Verily, Allah! With Him (Alone) is the knowledge of the Hour, He sends down the rain, and knows that which is in the wombs. No person knows what he will earn tomorrow, and no person knows in what land he will die. Verily, Allah is All-Knower, All-Aware." (31:34) Allah's statement, ... وَيَعْلَمُ مَا فِي الْبَرِّ وَالْبَحْرِ ... And He knows whatever there is on the land and in the sea; means, Allah's honored knowledge encompasses everything, including the creatures living in the sea and on land, and none of it, not even the weight of an atom on earth or in heaven, ever escapes His knowledge. Allah's statement, ... وَمَا تَسْقُطُ مِن وَرَقَةٍ إِلاَّ يَعْلَمُهَا ... not a leaf falls, but He knows it. means, He knows the movements of everything including inanimate things. Therefore, what about His knowledge of the living creatures, especially, those whom the Divine laws have been imposed upon such as mankind and the Jinns. In another Ayah, Allah said; يَعْلَمُ خَأيِنَةَ الاٌّعْيُنِ وَمَا تُخْفِى الصُّدُورُ Allah knows the fraud of the eyes, and all that the breasts conceal. (40:19) ... وَلاَ حَبَّةٍ فِي ظُلُمَاتِ الاَرْضِ وَلاَ رَطْبٍ وَلاَ يَابِسٍ إِلاَّ فِي كِتَابٍ مُّبِينٍ There is not a grain in the darkness of the earth nor anything fresh or dry, but is written in a Clear Record.

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

59۔ 1 ' کتاب مُبِین ' سے مراد لوح محفوظ ہے۔ اس آیت سے بھی معلوم ہوا کہ عالم الغیب صرف اللہ کی ذات ہے غیب کے سارے خزانے اسی کے پاس ہیں اس لئے کفار و مشرکین اور معاندین کو کب عذاب دیا جائے ؟ اس کا علم بھی صرف اسی کو ہے اور وہی اپنی حکمت کے مطابق فیصلہ کرنے والا ہے۔ حدیث میں آتا ہے کہ مفاتح الغیب پانچ ہیں قیامت کا علم، بارش کا نزول، رحم مادر میں پلنے والا بچہ، آئندہ کل میں پیش آنے والے واقعات اور موت کہاں آئے گی۔ ان پانچوں کا علم اللہ کے سوا کسی کو نہیں (صحیح بخاری)

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٦٣] غیب کی خبریں بتانے والے :۔ میں جو ظالموں پر عذاب آنے کی بات کرتا ہوں تو یہ بھی وحی الٰہی کی بنا پر کرتا ہوں۔ رہی یہ بات کہ وہ عذاب کب آئے گا اس کا مجھے کچھ علم نہیں الا یہ کہ اللہ مجھے اس سے آگاہ فرما دے کیونکہ غیب کے تمام تر وسائل و ذرائع صرف اسی کے قبضہ قدرت میں ہیں جنہیں اس کے سوا کوئی نہیں جان سکتا اور اگر کوئی شخص غیب جاننے کا دعویٰ کرے وہ جھوٹا ہے اور اللہ کی اس صفت کا منکر ہے اور جو شخص کسی غیب کی خبر دینے والے کی تصدیق کرتا ہے یا اس پر یقین رکھتا ہے وہ بھی برابر کا مجرم ہے جس پر درج ذیل احادیث شاہد ہیں۔ ١۔ آپ نے فرمایا && جو شخص کسی عراف (غیب کی خبریں بتانے والے) کے پاس جائے اور اس سے کچھ پوچھے اس کی چالیس دن تک نماز قبول نہیں ہوتی۔ && (مسلم۔ باب السلام۔ باب تحریم الکہانۃ و اتیان الکھان) ٢۔ آپ نے فرمایا && جو شخص کسی کاہن کے پاس جا کر اس سے کچھ دریافت کرے، پھر اس کی تصدیق کرے تو اس نے اس چیز سے کفر کیا جو محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر نازل ہوئی۔ && (ابو داؤد باب الکھانت والتفسیر۔ باب النھی عن اتیان الکھان ) ٣۔ سیدنا ابن عباس (رض) کہتے ہیں کہ آپ نے فرمایا && نجومی کاہن ہے اور کاہن جادوگر ہے اور جادوگر کافر ہے۔ && (بخاری کتاب المناقب۔ باب ایام الجاھلیۃ۔۔ ) ٤۔ آپ نے فرمایا && کہ غیب کی کنجیاں پانچ ہیں جنہیں اللہ ہی جانتا ہے (یعنی) قیامت کب آئے گی ؟ وہی بارش برساتا ہے اور وہی جانتا ہے کہ ارحام میں کیا کچھ (تغیر و تبدل) ہوتا رہتا ہے۔ نیز کوئی نہیں جانتا کہ وہ کل کو کیا کرے گا اور نہ ہی وہ یہ جانتا ہے کہ وہ کس جگہ مرے گا۔ اللہ ہی ان باتوں کو جاننے والا اور باخبر ہے (بخاری۔ کتاب التفسیر) خ اللہ تعالیٰ کے علم کی وسعت :۔ اس آیت سے یہ معلوم ہوا کہ غیب کے سب علوم ایک مخصوص مقام پر خزانوں کی صورت میں سربمہر بند ہیں۔ اور مقفل ہیں اور ان تالوں کی چابیاں صرف اللہ کے پاس ہیں۔ اسی مقام پر ہر چیز کی مقادیر اللہ تعالیٰ نے پہلے سے لکھ رکھی ہیں اسی مقام کو قرآن میں کسی جگہ لوح محفوظ (٨٥ : ٢٢) کسی جگہ ام الکتاب (٤٣ : ٤) کسی جگہ امام مبین (٢٦ : ١٢٧) کسی جگہ کتاب مکنون (٥٦ : ٧٨) اور کسی جگہ کتاب مبین فرمایا ہے اور سب اس مقام یا ان غیب کے خزانوں کے صفاتی نام ہیں۔ ان خزانوں تک ان خزانوں کے مالک حق سبحانہ کے علاوہ اور کسی کی رسائی ممکن نہیں گویا یہی لکھی ہوئی مقادیر تمام مخلوقات کا مبدا یا نقطہ آغاز ہیں۔ پھر ان خزانوں کی وسعت کو عام لوگوں کے ذہن نشین کرانے کے لیے اس کے چند پہلوؤں پر روشنی ڈالی مثلاً اللہ ہی خشکی اور سمندروں کی سب اشیاء کو جانتا ہے خشکی میں جنگل بھی ہیں آبادیاں بھی، پہاڑ بھی، غاریں بھی۔ بیشمار درخت اور جڑی بوٹیاں بھی اور لاتعداد مخلوق حیوانات بھی اور انسان بھی اور سمندروں کی مخلوق تو اس سے بھی کہیں زیادہ ہے یہ تو اللہ تعالیٰ کے اجمالی علم سے متعلق تھا اور تفصیلی یہ ہے کہ وہ مثلاً کسی درخت کے پتوں تک انفرادی علم رکھتا ہے کہ اس کی نشوونما کیسے ہو رہی ہے اور کب وہ جھڑ کر اپنے درخت سے نیچے گرپڑے گا اسی طرح جو غلہ زمین سے پیدا ہو رہا ہے اس کے ایک ایک دانے کا اسے علم ہے۔ علاوہ ازیں وہ زمین کے اندر کی مخفی چیزوں تک کو جانتا ہے پھر وہ یہ بھی جانتا ہے کہ کائنات میں اب تک کیا کچھ ہوچکا ہے اور آئندہ کیا کچھ ہونے والا ہے اور ان باتوں کے متعلق بھی وہ تفصیلی علم رکھتا ہے اجمالی نہیں گویا کتاب مبین یا لوح محفوظ ایسا نورانی تختہ ہے جس میں ازل سے کائنات کا نقشہ کھینچ دیا گیا ہے اسی کے مطابق اسی عالم میں واقعات ظہور پذیر ہو رہے ہیں اسی کے مطابق اس عالم کا خاتمہ ہوگا اور پھر روز آخرت قائم ہوگا۔ [٦٤] لکھی ہوئی تقدیر :۔ عبداللہ بن عمرو بن العاص ص کہتے ہیں کہ میں نے آپ کو یہ کہتے سنا && اللہ تعالیٰ نے مخلوقات کی تقدیریں آسمان و زمین سے پچاس ہزار سال پہلے لکھ لی تھیں جبکہ اس کا عرش پانی پر تھا۔ && (مسلم۔ کتاب القدر۔ باب حجاج آدم و موسیٰ علیہ السلام)

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

وَعِنْدَهٗ مَفَاتِحُ الْغَيْبِ ۔۔ : یعنی خلق میں سے کسی ایک کو بھی غیبی امور کا علم نہیں ہے، یہ اللہ تعالیٰ کا خاصہ ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ نجومی یا پنڈت یا رمال اور جفار جو اپنی غیب دانی کا دعویٰ کرتے ہیں اور لوگوں کو آئندہ پیش آنے والی باتیں بتاتے ہیں، وہ سب جھوٹے اور ٹھگ ہیں اور ان کے پاس جانا کسی مسلمان کا کام نہیں ہے۔ مزید دیکھیے سورة نمل (٦٥) ۔ عبداللہ بن عمر (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” غیب کی کنجیاں پانچ ہیں، انھیں اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا : (اِنَّ اللّٰهَ عِنْدَهٗ عِلْمُ السَّاعَةِ ۚ وَيُنَزِّلُ الْغَيْثَ ۚ وَيَعْلَمُ مَا فِي الْاَرْحَامِ ۭ وَمَا تَدْرِيْ نَفْسٌ مَّاذَا تَكْسِبُ غَدًا ۭ وَمَا تَدْرِيْ نَفْسٌۢ بِاَيِّ اَرْضٍ تَمُوْتُ ۭ ) [ لقمان : ٣٤ ] ” بیشک اللہ اسی کے پاس قیامت کا علم ہے اور وہی بارش اتارتا ہے اور وہ جانتا ہے جو کچھ ماؤں کے پیٹوں میں ہے اور کوئی شخص نہیں جانتا کہ وہ کل کیا کرے گا اور کوئی شخص نہیں جانتا کہ وہ کس زمین میں مرے گا۔ “ [ بخاری، التفسیر، باب : (وعندہ مفاتح الغیب۔۔ ) : ٤٦٢٧ ] اِلَّا فِيْ كِتٰبٍ مُّبِيْنٍ : یعنی اس کائنات کی چھوٹی سے چھوٹی اور پوشیدہ سے پوشیدہ چیز لوح محفوظ میں درج ہے۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Commentary How to Stay Safe from Sins - The Master Prescription Of all the religions of the world, belief in Tauhid, monotheism in its pure and applied form, is the distinctive feature of Islam. It is also ob¬vious that Tauhid is not limited to taking the being of Allah Ta` ala as one. Instead, Tauhid is “ believing in Him” as being unique and without equal in all His attributes of perfection and in not taking any created being, other than Him, to be a sharer or partner in these attributes of perfection. Some of these attributes of Divine perfection are: Life, Knowledge, Power, Hearing, Seeing, Will, Creation, Sustenance. Allah is so per¬fect in all His attributes that no created being can be equal to Him in any of the attributes. Then, out of these, two attributes are most dis¬tinct. These are Knowledge (` Ilm) and Power (Qudrah). His Knowledge encompasses and embraces all existents and non-existents, open and secret, large or small, atoms and particles. So it is with His Power which surrounds and controls everything fully and conclusively. The two verses (59 & 60) cited above describe these two attributes - and these two attributes are mysteriously unique. If anyone were to bring himself around to believe in these two attributes strongly and com¬pletely, and thereby start imagining them as being present before him, then, he just cannot ever even think of committing a crime or sin. It goes without saying that here is a person who, in all states of word and deed, rest and movement, remains conscious of the presence and knows that there is someone All-Knowing, All-Aware, All-Powerful watching over him all the time, and Who knows him outside in and in-side out and Who is aware of even the intention of the heart and the passing thought of the mind, then, how would he ever be able to take even a tiny step towards any disobedience to his All-Powerful Master? This is the legendary philosopher&s stone of what is known as Istihdar in religious terminology [ or, to make it more recent, it is like building a web site in your heart with this frame of reference being always online, just click and connect! - Tr.] In the end, we can say that these two verses are sovereign pre¬scriptions which can make one a model human being, correct and groom deeds and morals, and keep them that way all along. It was said in the first verse (59): وَعِندَهُ مَفَاتِحُ الْغَيْبِ لَا يَعْلَمُهَا إِلَّا هُوَ :(And with Him are the keys of the Unseen. No one knows them but He). The word, ` مَفَاتِحُ & (Mafatih : keys) is plural. Its singular can be: مِفتَاح : Maf¬tah, pronounced with a vowel point a on the letter Mim, which denotes treasure; and it could also be: مِفتَاح Miftah, pronounced with a vowel point i on the letter Mim, which means key. The word, Mafatih accom¬modates both meanings. Therefore, some commentators and transla¬tors have rendered it as treasures while some others take it as keys. The outcome, however, is the same because owning the keys to the treasures is taken as the owning of the treasures. Knowledge of the Unseen and Absolute Power: Two Attributes of Allah, not shared by anyone Al-Ghayb& means things which have not come into existence, or in existence they have come but Allah Ta` ala has not let anyone know them (Mazhari). The first kind relates to conditions and events about Qiyamah, or future happenings in the universe - for example, who will be born when and where? Who will do what? Who will live how long? Who will have how many breath counts? Who will take how many steps? Who will die where and buried where? Who will get what suste¬nance, and how much, and at what time? When will it rain, and where, and how much? The example of the second kind is the fetus which has come to ex¬ist in the womb of a woman, but no one can be certain in the absolute sense, as universally applicable with inevitable reliability and accessi¬bility, about the fetus being good natured or bad tempered, handsome or ugly, even a male or female (the radiological determination of which at the later trimesters of pregnancy is a different matter and does not affect the premises of the present discussion). Similar is the case of many other things which, despite having come into existence, remain unseen and unknown to the created beings. So, the sentence: عِندَهُ مَفَاتِحُ الْغَيْبِ means that with Allah are the keys (or treasures) of the Unseen. The sense of being ` with him& (عِندَهُ ) is that they are owned by Him and are in His possession. The outcome is that He is the One who has control of the treasures of the Unseen and it is He who has the exclusive power to bring them into existence and make them manifest as and when He has determined. This is as has been said in another verse of the Holy Qur&an: وَإِن مِّن شَيْءٍ إِلَّا عِندَنَا خَزَائِنُهُ وَمَا نُنَزِّلُهُ إِلَّا بِقَدَرٍ‌ مَّعْلُومٍ ﴿٢١﴾ which means: We have treasures of everything, but We send them down in a particular measure (15:21). In short, from this one sentence, it stands proved that the knowl¬edge of Allah is perfect, and so is His power, and also that this all-encompassing knowledge and absolute power is the exclusive attribute of Allah Jalla Sha&nuhu, and that no one can acquire or have it. By putting the word, عِندَهُ (` indahu: with Him) before, according to the rules of the Arabic grammar, a pointed reference has been made towards this restriction and particularity. Immediately after, this hint has been changed into full clarity when, to drive the point home, it was said: لَا يَعْلَمُهَا إِلَّا هُوَ (No one knows them but He). So, this sentence proves two things: (1) The awareness of Allah about everything Unseen by virtue of His all-encompassing knowledge, and His being dominant over all of them by virtue of His perfect pow¬er; and (2) The inability of any created being or thing, other than Al-lah Jalla Sha&nuhu, to acquire or have such knowledge and power. The meaning of the word, ` Al-Ghayb& (Unseen), as in the terminolo¬gy of the Qur&an, which has been stated above (with reference to Tafsir Ma¬zhari) - that it means things which have not yet come into existence, or have come into existence but have not yet been fully unveiled to any created being - was to be kept in sight, the common doubts which both¬er people when they take a shallow view of the question of Ghayb, would be automatically removed. Usually what happens is that people take the word, Al-Ghayb (Unseen) in a literal sense, that is, that which is absent from our knowledge and perception - whether the sources of acquiring its knowledge be present in the sight of others - thus, they would start calling that too as the Ghayb. As a result, all sorts of doubts abound. Take the example of astrology, divination of fortunes mathematically (` Ilmul-Jafr The knowledge of Jafr; vulgur ` Jafar& ), geomancy (` Ilmur-Raml: The knowledge of Raml; vulgur ` Ramal&, meaning divination by means of figures and lines in the sand), or palmistry and things like that which are harnessed to acquire the knowledge of future events. Or, there may be someone who gets to know about future events through Kashf (illumination) and Ilham (inspiration). Or, there are our weather forecasters who by examining things like the drift, power and velocity of the monsoons predict rains and storms a lot hasten to take all these to be out to be right too. But, common people hasten to take all these to be the Knowledge of the Unseen. Therefore, they start doubting about these verses of the Holy Qur&an thinking that the Qur&an attribute of the ` Ilm of the Ghayb, the knowledge of the Unseen, an Allah Jalla Sha&nuhu, while observation shows that others too get to acquire it. The answer is clear. If Allah Ta` ala has made one of His servants informed on some future event, that then, in the terminology of the Qur&an, does not remain what the ` Ilm of Ghayb or the knowledge of the Unseen is. Similarly, in accordance with the Qur&anic terminology, knowledge (` Ilm) which can be acquired through means and instru¬ments (technology) is no Knowledge of the Unseen (` Ilm al-Ghayb). Ex¬amples of this could be the weather reports of the meteorological de¬partments and bureaus, or the diagnosis instrumentally). The reason patient by feeling the pulse (manually or is that the weather forecaster or the physician got the chance to an¬nounce such information only when the substance of these events comes into existence and becomes obvious. The only difference is that it does not manifest itself openly until that time; it reveals itself, through technical instruments, to experts. People at large remain un¬aware. And when this substance becomes stronger, its manifestation becomes common. For this reason, weather forecasters cannot come up with what would be the breaking news of rains that will come one or two months from now - because the substantial evidence of rains has not presented itself before them. Similarly, no physician can diagnose the status of medicine or food taken a year or two ago, or a year or two after, by feeling the pulse (manually or instrumentally) today - because that does not habitually leave any effect on the pulse. In short, these are things the existence of which is foretold by ex¬amining their traces and signs. Now, when the traces, signs and substances of these have come into existence that, does not remain part of the Knowledge of the Unseen (` Ilm al-Ghayb); rather, it has become a matter of observation. However, because of its being refined or weak, it has not become public knowledge. When it becomes stronger, it will become a matter of common observation too. In addition to this, the awareness acquired from all these things, despite that so much has taken place, still remains in the class of esti¬mation and calculation. The real Ilm or Knowledge is the name of Certitude. That does not come out of any of these. That is why events attesting to the error of such information are many and frequent. As for astrology and other disciplines, whatever there is based on mathematical computation is knowledge, but not Al-Ghayb (Unseen). It is like someone computes existing data and says that the sun will rise today at the hour of five and forty one minutes; or, there will be a solar or lunar eclipse on such and such date in such and such a month. It is obvious that determining time by calculating the speed of that which is perceptible through the senses is very much like announcing the news of planes and trains reaching airports and stations. Moreo¬ver, the claim to be able to know things through astrology etc. is noth¬ing but deception. The emergence of one truth out of a hundred lies is no knowledge. When X-Ray equipment was invented, it was hoped that the deter¬mination of the sex of the fetus will be possible, but it did not serve the purpose satisfactorily (besides being radio logically harmful). Ex¬perts in our time (specially those associated with digital imaging who study the fetus in section view, or use water-induced method to let the fetus float in the womb which helps determine digitally if it is a boy) too are helpless as far as the first trimester of pregnancy is con¬cerned. Nothing can be known at that stage.1 But, during the later trimesters, predictions are made which can be called technical approx¬imations at best and cannot be classed as certain knowledge and abso¬lute awareness. Sometimes predictions can be correct, at others faulty or misread. This is not the Certitude of ` Ilm al-Ghayb, nor qualifies as such. 1. Even the test of genes to determine the gender of a child, cannot work before a certain stage of pregnancy which again is a matter of observation, and not the knowledge of the unseen. (Muhammad Taqi Usmani) The gist of the assertion is: That which is Al-Ghayb in the termi¬nology of the Qur&an is something no one knows but the most sacred Allah. As for what people habitually get to know through causation or intrumentation is not really the Ghayb - though, it may be so called be-cause of not having been manifested openly. Similarly, when part of the knowledge of what belongs to the Ghayb has been given to some prophet or messenger, through Wahy (revelation), or to a man of Allah (Waliy) through Kashf (illumination) and Ilham (inspiration), that then, does not remain Ghayb. This is called أَنبَاءِ الْغَيْبِ (the reports or news of the Unseen) in the Holy Qur&an, and not Al-Ghayb. This appears in several verses of the Qur&an, for example: تِلْكَ مِنْ أَنبَاءِ الْغَيْبِ نُوحِيهَا إِلَيْكَ (These are some reports from the Unseen [ events ] which We reveal to you - 11:49). Therefore, when it is said: لَا يَعْلَمُهَا إِلَّا هُوَ (No one knows them but He) in the present verse, there is no room for any doubt or exemption in it. In this particular sentence, a special attribute of Allah has been pointed out - that He is the Knower of the Unseen (` Alim al-Ghayb). The sentences that follow contain a description of the knowledge of the Seen (` Ilmush-Shahadah), that is, the knowledge of things present and existing, in sharp contrast to the knowledge of the Unseen (` Ilmul-Ghayb). They too establish that the knowledge of Allah Jalla Sha&nuhu is all encompassing leaving not the minutest particle outside its reach. It was said: And He knows what is in the land and the sea. Not a leaf ever falls but He knows it, nor a grain in the dark hol¬lows of the earth, which too is within His knowledge; and so is, in His knowledge, everything fresh or wet or dry in the whole universe - and all of which lies recorded in writing on al-Lawh al-Mahfuz, the Preserved Tablet. To sum up, it can be said that Allah Ta` ala has two unique attrib¬utes of knowledge in which no angel or prophet or another created be¬ing shares with Him. These are: the Knowledge of the Unseen (Ilm al-Ghayb) and the All-Encompassing Knowledge of existents (al-Ilm al-Muhit). These attributes have been described with a system. The first sentence says: وَعِندَهُ مَفَاتِحُ الْغَيْبِ لَا يَعْلَمُهَا إِلَّا هُوَ (And with Him are the keys of the Unseen. No one knows them but He). This was about the first at-tribute. In the sentences that follow, the all-encompassing knowledge of Allah about His universe of existents was identified first by saying: وَيَعْلَمُ مَا فِي الْبَرِّ‌ وَالْبَحْرِ‌ (And He knows what is in the land and the sea). It means the whole universe and all existents. This is like saying morn¬ing and evening in the sense of all the time or saying the East and the West in the sense of the whole world. Thus, by saying land and sea the sense given is that of the whole universe with its existents. So, the knowledge of Allah Jalla Sha&nuhu covers whatever there is. Further on, this was explained by saying that the knowledge of Al¬lah Ta` ala is not limited to what is big, He also knows what is the mi¬nutest and the most concealed: وَمَا تَسْقُطُ مِن وَرَ‌قَةٍ إِلَّا يَعْلَمُهَا (Not a leaf ever falls but He knows it). It means that the falling of every leaf in the whole wide world - before it falls, when it falls and after it falls - remains within His knowledge. He knows how many times each leaf on a tree will swing and sway and when and where it will fall and through what circumstances it will go through. The mention of ` fall& at this place is perhaps indicative of the life cycle of the leaf. Its fall from the tree is the end of its growth and botanical life. Its last condition has been pointed out here as a mirror to the rest of its conditions. After that it was said: وَلَا حَبَّةٍ فِي ظُلُمَاتِ الْأَرْ‌ضِ (Nor a grain in the dark hol¬lows of the earth). Mentioned first was a leaf which falls in common sight. After that, it was a grain which is sowed in fields by a farmer, or gets buried somewhere in the dark and deep belly of the earth. Then, the same all-surrounding knowledge of Allah has been pointed out through things fresh and dry. In the end it was said that with Allah all these things were present in writing. According to some commenta¬tors, كِتَابٍ مُّبِينٍ (a manifest book) means al-Lawh al-Mahfuz, the Preserved Tablet. Some others say that it denotes Divine Knowledge. It has been identified with a manifest book& because what is written stays preserved leaving nothing to chance or mistake or forgetting. This is similar to the all-encompassing knowledge of Allah Jalla Sha&nuhu, which is not based on conjecture - it is certain. Many verses of the Holy Qur&an confirm that the kind of all-encompassing knowledge from which nothing, neither a particle nor its condition, remains excluded is but that of Allah Subhanuhu wa Ta` ala. It was said in Sarah Lugman: إِنَّهَا إِن تَكُ مِثْقَالَ حَبَّةٍ مِّنْ خَرْ‌دَلٍ فَتَكُن فِي صَخْرَ‌ةٍ أَوْ فِي السَّمَاوَاتِ أَوْ فِي الْأَرْ‌ضِ يَأْتِ بِهَا اللَّـهُ ۚ إِنَّ اللَّـهَ لَطِيفٌ خَبِيرٌ‌. If it be (anything) even equal to the weight of a grain of mus¬tard-seed, and though it be in a rock, or (anywhere) in the heavens or in the earth, Allah will bring it forth: for Allah is subtle and aware - 31:16 . It appears in the Ayatul-Kursi of Surah al-Baqarah: يَعْلَمُ مَا بَيْنَ أَيْدِيهِمْ وَمَا خَلْفَهُمْ ۖ وَلَا يُحِيطُونَ بِشَيْءٍ مِّنْ عِلْمِهِ إِلَّا بِمَا شَاءَ He knows what is before them and what is behind them. And they encompass nothing of His knowledge except what He wills - 2:255 In Surah Yunus, it was said: وَمَا يَعْزُبُ عَن رَّ‌بِّكَ مِن مِّثْقَالِ ذَرَّ‌ةٍ فِي الْأَرْ‌ضِ وَلَا فِي السَّمَاءِ And not hidden from your Lord is (anything even) the weight of an atom in the earth or in the heaven - 10:61 And it appears in Surah At-Talaq: وَأَنَّ اللَّـهَ قَدْ أَحَاطَ بِكُلِّ شَيْءٍ عِلْمًا And that Allah encompasses all things in (His) Knowledge - 65:12 This subject has been dealt with in the Holy Qur&an at many more places where it has been made very clear that the ` Jim of Al-Ghayb (as determined in the Qur&an and explained earlier) or the all-encompassing knowledge of everything in the universe is the exclusive attribute of Allah Jalla Sha&nuhu. Taking the knowledge of an angel or messenger to be as all-compassing amounts to giving a messenger of Allah the status of Allah Himself and declaring him to be equal to Him - which is Shirk according to the Holy Qur&an. This aspect of Shirk has been pointed out in Surah Al-Shu` ara&: تَاللَّـهِ إِن كُنَّا لَفِي ضَلَالٍ مُّبِينٍ ﴿٩٧﴾ إِذْ نُسَوِّيكُم بِرَ‌بِّ الْعَالَمِينَ ﴿٩٨﴾ That is (the Mushriks will say in Qiyamah), By Allah, we were in an error manifest when we held you (objects of worship) as equals with the Lord of the Worlds - 6:97, 98

خلاصہ تفسیر اور اللہ تعالیٰ کے پاس (یعنی اسی کی قدرت میں) ہیں خزانے تمام مخفی اشیاء (ممکنہ) کے (ان میں سے جس چیز کو جس وقت اور جس قدر چاہیں ظہور میں لاتے ہیں، ان اشیاء میں عذاب کی قسمیں بھی آگئیں، مطلب یہ کہ اور کسی کو ان چیزوں پر قدرت نہیں اور جس طرح قدرت کاملہ ان کی ساتھ خاص ہے، اسی طرح ان کا علم تام اور کامل بھی چنانچہ) ان خزائنِ مخفیہ کو کوئی نہیں جانتا بجز اللہ تعالیٰ کے، اور وہ ان تمام چیزوں کو بھی جانتا ہے جو خشکی میں ہیں اور جو دریا میں ہیں اور کوئی پتہ (تک درخت سے) نہیں گرتا مگر وہ اس کو بھی جانتا ہے اور کوئی دانہ (تک) زمین کے تاریک حصوں میں نہیں پڑتا اور نہ کوئی تر اور خشک چیز (مثل پھل وغیرہ کے) گرتی ہے، مگر یہ سب کتاب مبین (یعنی لوح محفوظ) میں (مرقوم) ہیں، اور وہ (اللہ تعالیٰ ) ایسا ہے کہ (اکثر) رات میں (سونے کے وقت) تمہاری روح (نفسانی) کو (جس سے احساس و ادراک متعلق ہے) ایک گونہ قبض کرلیتا ہے (یعنی معطل کردیتا ہے) اور جو کچھ تم دن میں کرتے ہو اس کو (دواماً ) جانتا ہے پھر تم کو دن میں جگا اٹھاتا ہے تاکہ (اسی سونے جاگنے کے دوران سے) میعاد معین (دینوی زندگی کی) تمام کردی جاوے پھر اسی (اللہ) کی طرف (مڑکر) تم کو جانا ہے۔ پھر تم کو بتلا دے گا جو کچھ تم (دنیا میں) کیا کرتے تھے، (اور اس کے مناسب جزاء و سزاء جاری کرے گا) اور وہی (اللہ تعالیٰ قدرت سے) اپنے بندوں کے اوپر غالب ہیں برتر ہیں اور (اے بندو) تم پر (تمہارے اعمال اور جان کی) نگرانی کرنے والے (فرشتے) بھیجے ہیں (جو زندگی بھر تمہارے اعمال کو بھی دیکھتے ہیں اور تمہاری جان کی بھی حفاظت کرتے ہیں) یہاں تک کہ جب تم میں سے کسی کو موت آپہنچتی ہے تو (اس وقت) اس کی روح ہمارے بھیجے ہوئے (فرشتے) قبض کرلیتے ہیں اور ذرا کوتاہی نہیں کرتے (بلکہ جس وقت حفاظت کا حکم تھا حفاظت کرتے رہے، جب موت کا حکم ہوگیا تو یہی محافظ روح قبض کرنے والے فرشتوں کے ساتھ مل جاتے ہیں) پھر سب اپنے مالک حقیقی کے پاس لائے جاویں گے، خوب سن لو (اس وقت) فیصلہ اللہ ہی کا ہوگا (اور کوئی دخل نہ دے سکے گا) اور وہ بہت جلد حساب لے لے گا۔ معارف و مسائل گناہوں سے بچنے کا نسخہ اکسیر تمام دنیا کے مذاہب میں اسلام کا طغرائے امتیاز اور اس کا رکن اعظم عقیدہ توحید ہے اور یہ بھی ظاہر ہے کہ صرف اللہ تعالیٰ کی ذات کو ایک اور اکیلا جاننے کا نام توحید نہیں، بلکہ اس کو تمام صفات کمال میں یکتا و بےمثل ماننے اور اس کے سوا کسی مخلوق کو ان صفات کمال میں اس کا سہیم و شریک نہ سمجھنے کو توحید کہتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کی صفات کمال ؛ حیات، علم، قدرت، سمع، بصر، ارادہ، مشیت، خلق، رزق وغیرہ وہ ان سب صفات میں ایسا کامل ہے کہ اس کے سوا کوئی مخلوق کسی صفات میں اس کے برابر نہیں ہوسکتی۔ پھر ان صفات میں بھی دو صفتیں سب سے زیادہ ممتاز ہیں۔ ایک علم، دوسرے قدرت، اس کا علم بھی تمام موجود وغیر موجود، ظاہر اور مخفی، بڑے اور چھوٹے ہر ذرہ ذرہ پر حاوی اور محیط ہے، اور اس کی قدرت بھی ان سب پر پوری پوری محیط ہے، مذکورہ دو آیتوں میں انہی دو صفتوں پر مکمل یقین اور اس کے استحضار کی کیفیت پیدا کرے تو اس سے کوئی جرم و گناہ سرزد ہو ہی نہیں سکتا۔ ظاہر ہے کہ اگر ایک انسان کو اپنے پر قول و عمل اور نشست و برخاست میں ہر قدم پر یہ مستحضر رہے کہ ایک علیم وخبیر قادر مطلق مجھے ہر وقت دیکھ رہا ہے، اور میرے ظاہر و باطن اور دل کے ارادہ اور خیال تک سے واقف ہے تو یہ استحضار کبھی اس کا قدم اس قادر مطلق کی نافرمانی کی طرف نہ اٹھنے دے گا، اس لئے یہ دونوں آیتیں انسان کو انسان کامل بنانے اور اس کے اعمال و اخلاق کو درست کرنے اور درست رکھنے میں نسخہ اکسیر ہیں۔ پہلی آیت میں ارشاد فرمایا : وَعِنْدَهٗ مَفَاتِحُ الْغَيْبِ لَا يَعْلَمُهَآ اِلَّا هُوَ لفظ مفاتح جمع ہے، اس کا مفرد مفتح بفتح میم بھی ہوسکتا ہے، جو خزانہ کے لئے بولا جاتا ہے، اور مفتح بکسر میم بھی ہوسکتا ہے۔ جس کے معنی ہیں کنجی، لفظ مفاتح میں دونوں معنی کی گنجائش ہے، اس لئے بعض مفسرین اور مترجمین نے اس کا ترجمہ خزانوں سے کیا ہے، اور بعض نے کنجیوں سے اور حاصل دونوں کا ایک ہی ہے، کیونکہ کنجیوں کا مالک ہونے سے بھی خزانوں کا مالک ہونا مراد ہوتا ہے۔ قرآنی اصطلاح میں علم غیب اور قدرت عامہ مطلقہ صرف اللہ تعالیٰ کی صفت خاص ہے کوئی مخلوق اس میں شریک نہیں اور لفظ غیب سے مراد وہ چیزیں ہیں جو ابھی وجود میں نہیں آئیں، یا وجود میں تو آچکی ہیں، مگر اللہ تعالیٰ نے ان پر کسی کو مطلع نہیں ہونے دیا (مظہری) ۔ پہلی قسم کی مثال وہ تمام حالات و واقعات ہیں جو قیامت سے متعلق ہیں یا کائنات میں آئندہ پیش آنے والے واقعات سے تعلق رکھتے ہیں، مثلاً یہ کہ کون، کب، اور کہاں پیدا ہوگا، کیا کیا کام کرے گا۔ کتنی عمر ہوگی، عمر میں کتنے سانس لے گا، کتنے قدم اٹھائے گا، کہاں مرے گا، کہاں دفن ہوگا، رزق کس کو کتنا اور کس وقت ملے گا، بارش کس وقت کہاں اور کتنی ہوگی۔ اور دوسری قسم کی مثال وہ حمل جو عورت کے رحم میں وجود تو اختیار کرچکا ہے مگر یہ کسی کو معلوم نہیں کہ لڑکا ہے یا لڑکی۔ خوب صورت ہے یا بدصورت، نیک طبیعت ہے یا بدخصلت، اسی طرح اور ایسی چیزیں جو وجود میں آجانے کے باوجود مخلوق کے علم و نظر سے غائب ہیں۔ وَعِنْدَهٗ مَفَاتِحُ الْغَيْبِ کے معنی یہ ہوئے کہ اللہ کے پاس ہیں خزانے غیب کے۔ اس کے پاس ہونے سے مراد اس کی ملک اور قبضہ میں ہونا ہے۔ مطلب یہ ہوا کہ غیب کے خزانوں کا علم بھی اس کے قبضہ میں ہے، اور ان کو وجود و ظہور میں لانا بھی اسی کی قدرت میں ہے کہ کب کب اور کتنا کتنا وجود میں آئے گا۔ جیسا کہ قرآن کریم کی ایک دوسری آیت میں مذکور ہے : (آیت) وان من شیء الا عندنا، یعنی ہمارے پاس ہر چیز کے خزانے ہیں مگر ہم ہر چیز کو ایک خاص انداز سے نازل کرتے ہیں۔ خلاصہ یہ ہے کہ اس جملہ سے حق تعالیٰ کا بےمثال کمال علمی بھی ثابت ہوگیا اور کمال قدرت بھی، اور یہ بھی کہ یہ علم محیط اور قدرت مطلقہ صرف اللہ جل شانہ کی صفت ہے اور کسی کو حاصل نہیں ہوسکتی، آیت میں لفظ عندہ کو مقدم کرکے قواعد عربیت کے مطابق اس حصر اور اختصاص کی طرف اشارہ کردیا گیا ہے، آگے اس اشارہ کو صراحت میں تبدیل کر کے پوری طرح دلنشین کرنے کے لئے ارشاد فرمایا : لَا يَعْلَمُهَآ اِلَّا هُوَ ، یعنی ان خزائنِ غیب کو اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ اس لئے اس جملہ سے دو باتیں ثابت ہوئی، اول حق تعالیٰ کا تمام غیب کی چیزوں پر علم محیط کے ساتھ مطلع اور ان سب پر قدرت کامل کے ساتھ قادر ہونا، دوسرے ذات حق جل شانہ کے سوا کسی مخلوق یا کسی چیز کو ایسا علم وقدرت حاصل نہ ہونا۔ قرآن کی اصطلاح میں لفظ غیب کے جو معنی (بحوالہ تفسیر مظہری) اوپر بیان کئے گئے ہیں، کہ وہ چیزیں جو ابھی وجود میں نہیں آئیں یا آچکی ہیں مگر ابھی تک کسی مخلوق پر ان کا ظہور نہیں ہوا۔ اگر ان کو پیش نظر رکھا جائے تو مسئلہ غیب پر سطحی نظر میں جو جو شبہات عوام کو پیش آیا کرتے ہیں خود بخود ختم ہوجائیں۔ لیکن عام طور پر لوگ لفظ غیب کے لغوی معنی لیتے ہیں کہ جو چیز ہمارے علم و نظر سے غائب ہو، خواہ دوسروں کے نزدیک اس کا علم حاصل کرنے کے ذرائع موجود ہوں اس کو بھی غیب کہنے لگتے ہیں، اس کے نتیجہ میں طرح طرح کے شبہات سامنے آتے ہیں، مثلاً علم، نجوم، جفر، رمل، یا ہتھیلی کی لکیروں وغیرہ سے جو آئندہ واقعات کا علم حاصل کیا جاتا ہے یا کشف والہام کے ذریعہ کسی شخص کو واقعات آئندہ کا علم ہوجاتا ہے، یا مان سون کا رخ اور اس کی قوت و رفتار کو دیکھ کر موسمیات کے ماہرین ہونے والے بادو باراں کے متعلق پیشین گوئیاں کرتے ہیں، اور ان میں بہت سی باتیں صحیح بھی ہوجاتی ہیں، یہ سب چیزیں عوام کی نظر میں علم غیب ہوتی ہیں، اس لئے آیت مذکورہ پر یہ شبہات ہونے لگتے ہیں کہ قرآن حکیم نے تو علم غیب کو ذات حق جل شانہ کی خصوصیت بتلایا ہے، اور مشاہدہ یہ ہے کہ وہ دوسروں کو بھی حاصل ہوجاتا ہے۔ جواب واضح ہے کہ کشف والہام یا وحی کے ذریعہ اگر اللہ تعالیٰ نے اپنے کسی بندہ کو کسی آئندہ واقعہ کی اطلاع دے دیتو قرآنی اصطلاح میں وہ علم غیب نہ رہا۔ اسی طرح اسباب و آلات کے ذریعہ جو علم حاصل کیا جاسکے وہ بھی اصطلاح قرآنی کے لحاظ سے علم غیب نہیں۔ جیسے محکمہ موسمیات کی خبریں، یا نبض دیکھ کر مریض کے مخفی حالات بتلا دینا۔ وجہ یہ ہے کہ محکمہ موسمیات کو یا کسی حکیم ڈاکٹر کو ایسی خبریں دینے کا موقع جب ہی ہاتھ آیا جب ان واقعات کا مادہ پیدا ہو کر ظاہر ہوجاتا ہے، فرق اتنا ہے کہ ابھی اس کا ظہور عام نہیں ہوتا آلات کے ذریعہ اہل فن کو ظاہر ہوتا ہے، عوام بیخبر رہتے ہیں اور جب یہ مادہ قوی ہوجاتا ہے تو اس کا ظہور عام ہوجاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ محکمہ موسمیات مہینہ دو مہینہ بعد ہونے والی بارش کی خبر آج نہیں دے سکتا۔ کیونکہ ابھی اس بارش کا مادہ سامنے نہیں آیا، اسی طرح کوئی حکیم ڈاکٹر سال دو سال پہلے کی کھائی ہوئی یا دو سال بعد کھائی جانے والی دوا یا غذا وغیرہ کا پتہ آج نبض دیکھ کر نہیں دے سکتا، کیونکہ اس کا کوئی اثر عادةً نبض میں نہیں ہوتا۔ خلاصہ یہ ہے کہ یہ سب چیزیں وہ ہیں کہ کسی چیز کے آثار و نشانات دیکھ کر اس کے وجود کی خبر دے دیجاتی ہے۔ اور جب اس کے آثار و نشانات اور مادہ ظاہر ہوچکا تو اب وہ غیب میں شامل نہ رہا بلکہ مشاہدہ میں آگیا۔ البتہ لطیف یا ضعیف ہونے کی وجہ سے عام مشاہدہ میں ابھی نہیں آیا، جب قوت پکڑے گا تو عام مشاہدہ میں بھی آجائے گا۔ اس کے علاوہ ان سب چیزوں سے حاصل ہونے والی واقفیت سب کچھ ہونے کے بعد بھی تخمینہ و اندازہ ہی کی حیثیت رکھتی ہی، علم جو یقین کا نام ہے وہ ان میں سے کسی چیز سے کسی کو حاصل نہیں ہوتا۔ یہی وجہ ہے کہ ان خبروں کے غلط ہونے کے بیشمار واقعات آئے دن پیش آتے رہتے ہیں۔ رہا علم نجوم وغیرہ سو اس میں جو چیزیں حسابات سے متعلق ہیں ان کا علم تو علم ہے۔ مگر وہ غیب نہیں۔ جیسے حساب لگا کر کوئی یہ کہے کہ آج ٥ بج کر اکتالیس منٹ پر آفتاب طلوع ہوگا یا فلاں مہینہ فلاں تاریخ کو چاند گرہن ہوگا۔ ظاہر ہے کہ یہ ایک محسوس چیز کی رفتار کا حساب لگا کر وقت کا تعین کرنا ایسا ہی ہے جیسے ہم ہوائی جہازوں اور ریلوں کے کسی پورٹ یا اسٹیشن پر پہنچنے کی خبر دیدتے ہیں۔ اس کے علاوہ نجوم وغیرہ سے جو خبریں معلوم کرنے کا دعویٰ کیا جاتا ہے وہ دھوکہ کے سوا کچھ نہیں سو جھوٹ میں ایک سچ نکل آنا کوئی علم نہیں۔ حمل میں لڑکا ہے یا لڑکی، اس کے بارے میں بھی بہت سے اہل فن کچھ کہا کرتے ہیں، مگر تجربہ شاہد ہے کہ اس کا درجہ بھی وہی تخمینہ و اندازے کا ہے یقینی نہیں اور سو میں دو چار کا صحیح ہوجانا ایک طبعی امر ہے، وہ کسی علم و آگہی سے تعلق نہیں رکھتا۔ ہاں جب ایکسرے کے آلات ایجاد ہوئے تو بعض لوگوں کا خیال تھا کہ شاید اس کے ذریعہ حمل کا نر یا مادہ ہونا معلوم ہوجایا کرے گا۔ مگر تجربہ نے ثابت کردیا کہ ایکسرے کے آلات بھی یہ متعین نہیں کرسکتے کہ حمل میں لڑکا ہے یا لڑکی۔ خلاصہ یہ ہے کہ جو چیز قرآنی اصطلاح میں غیب ہے اس کا سوائے خدائے قدوس کے کسی کو علم نہیں، اور جن چیزوں کا علم لوگوں کو بعض اسباب و آلات کے ذریعہ عادةً حاصل ہوجاتا ہے وہ در حقیقت غیب نہیں، گو ظہور عام نہ ہونے کی وجہ سے اس کو غیب کہتے ہوں۔ اسی طرح کسی رسول و نبی کو بذریعہ وحی یا کسی ولی کو بذریعہ کشف والہام جو غیب کی کچھ چیزوں کا علم دے دیا گیا تو وہ غیب کی حدود سے نکل گیا، اس کو قرآن میں غیب کی بجائے انباء الغیب کہا گیا ہے۔ جیسا کہ متعدد آیات میں مذکور ہے : (آیت) تلک من انباء الغیب نوحیھا الیک، اس لئے آیت مذکورہ میں لَا يَعْلَمُهَآ اِلَّا هُوَ ، یعنی غیب کے خزانوں کو بجز اللہ تعالیٰ کے کوئی نہیں جانتا، اس میں کسی شبہ یا استثناء کی گنجائش نہیں۔ اس جملہ میں تو حق جل شانہ کی یہ خصوصی صفت بتلائی ہے کہ وہ عالم الغیب ہے، ہر غیب کو جانتا ہے، بعد کے جملوں میں غیب کے بالمقابل علم شہادت یعنی حاضر و موجود چیزوں کے علم کا بیان ہے کہ ان کا علم میں بھی اللہ جل شانہ کی یہ خصوصیت ہے کہ اس کا علم محیط ہے کوئی ذرہ اس سے باہر نہیں، ارشاد فرمایا کہ وہی جانتا ہے ہر اس چیز کو جو خشکی میں ہے اور اس چیز کو جو دریا میں ہے اور کوئی پتہ کسی درخت کا نہیں گرتا جس کا علم اس کو نہ ہو، اسی طرح کوئی دانہ جو زمین کے تاریک حصہ میں مستور ہے وہ بھی اس کے علم میں ہے، اور ہر تر و خشک میں کل کائنات کا ذرہ ذرہ اس کے علم میں ہے اور لوح محفوظ میں لکھا ہوا ہے۔ خلاصہ یہ ہے کہ علم کے متعلق دو چیزیں حق تعالیٰ کی خصوصیات میں سے ہیں، جن میں کوئی فرشتہ یا رسول یا کوئی دوسری مخلوق شریک نہیں، ایک علم غیب، دوسرے موجودات کا علم محیط جس سے کوئی ذرہ مخفی نہیں، پہلی آیت میں انہی دونوں مخصوص صفات کا بیان اس طرح ارشاد فرمایا گیا ہے کہ اس کے پہلے جملہ میں پہلی خصوصیت کا بیان ہے، وَعِنْدَهٗ مَفَاتِحُ الْغَيْبِ لَا يَعْلَمُهَآ اِلَّا هُوَ اور بعد کے جملوں میں تمام کائنات و موجودات کے علم محیط کا ذکر اس طرح فرمایا کہ پہلے ارشاد ہوا وَيَعْلَمُ مَا فِي الْبَرِّ وَالْبَحْرِ ، یعنی اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے ہر اس چیز کو جو خشکی میں ہے اور جو دریا میں ہے۔ مراد اس سے کل کائنات و موجودات ہے، جیسے صبح و شام کا لفظ بول کر پورا زمانہ اور مشرق و مغرب کا لفظ بول کر پوری زمین مراد لی جاتی ہے، اسی طرح بر و بحر یعنی خشکی و دریا بول کر مراد اس سے پورے عالم کی کائنات و موجودات ہیں اس سے معلوم ہوا کہ اللہ جل شانہ کا علم تمام کائنات پر محیط ہے۔ آگے اس کی مزید تشریح و تفصیل اس طرح بیان فرمائی کہ اللہ تعالیٰ کا تمام کائنات پر احاطہ علمی صرف یہی نہیں کہ بڑی بڑی چیزوں کا اس کو علم ہو، بلکہ ہر چھوٹی سے چھوٹی مخفی سے مخفی چیز بھی اس کے علم میں ہے، فرمایا وَمَا تَسْقُطُ مِنْ وَّرَقَةٍ اِلَّا يَعْلَمُهَا یعنی سارے جہان میں کسی درخت کا کوئی پتہ نہیں گرتا جو اس کے علم میں نہ ہو، مراد یہ ہے کہ ہر درخت کا ہر پتہ گرنے سے پہلے اور گرنے کے وقت اور گرنے کے بعد اس کے علم میں ہے، وہ جانتا ہے کہ ہر پتہ درخت پر لگا ہوا کتنی مرتبہ الٹ پلٹ ہوگا، اور کب اور کہاں گرے گا، اور پھر وہ کس کس حال سے گزرے گا۔ گرنے کا ذکر شاید اسی لئے کیا گیا ہے کہ اس کے تمام حالات کی طرف اشارہ ہوجائے، کیونکہ پتے کا درخت سے گرنا اس کے نشوونما اور نباتی زندگی کا آخری حال ہے۔ آخری حال کا ذکر کرکے تمام حالات کی طرف اشارہ کردیا گیا۔ اس کے بعد ارشاد فرمایا وَلَا حَبَّةٍ فِيْ ظُلُمٰتِ الْاَرْضِ ، یعنی ہر وہ دانہ جو زمین کی گہرائی اور اندھیری میں کہیں پڑا ہے وہ بھی اس کے علم میں ہے، پہلے درخت کے پتہ کا ذکر کیا جو عام نظروں کے سامنے گرتا ہے، اس کے بعد دانہ کا ذکر کیا، جو کاشتکار زمین میں ڈالتا ہے، یا خودبخود کہیں زمین کی گہرائی اور اندھیری میں مستور ہوجاتا ہے، اس کے بعد پھر تمام کائنات پر علم باری تعالیٰ کا حادی ہونا تر اور خشک کے عنوان سے ذکر فرمایا، اور فرمایا کہ یہ سب چیزیں اللہ کے نزدیک کتاب مبین میں لکھی ہوئی ہیں، کتاب مبین سے مراد بعض حضرات مفسرین کے نزدیک لوح محفوظ ہے، اور بعض نے فرمایا کہ اس سے مراد علم الٓہی ہے، اور اس کو کتاب مبین سے اس لئے تعبیر کیا گیا ہے کہ جیسے لکھی ہوئی چیز محفوظ ہوجاتی ہے، اس میں سہو و نسیان کی راہ نہیں رہتی اسی طرح اللہ جل شانہ کا یہ علم محیط تمام کائنات کے ذرہ ذرہ کا صرف تخمینی نہیں بلکہ یقینی ہے۔ قرآن مجید کی بہت سی آیات اس پر شاید ہیں کہ اس طرح کا علم محیط جس سے کائنات کا کوئی ذرہ اور اس کا کوئی حال خارج نہ ہو یہ صرف ذات حق جل شانہ کے ساتھ مخصوص ہے۔ سورة لقمان میں ہے : (آیت) انھا ان تک مثقال حبة من۔ یعنی اگر کوئی دانہ رائی کے برابر پھر وہ پتھر کے جگر میں پیوست ہو یا آسمانوں میں یا زمین میں کہیں ہو اللہ تعالیٰ ان سب کو جمع کرلیں گے، بیشک اللہ تعالیٰ لطیف اور ہر چیز سے خبردار ہے “۔ آیة الکرسی میں ہے : (آیت) یعلم ما بین ایدھم وما خلفھم۔ ” یعنی اللہ تعالیٰ سب انسانوں کے اگلے اور پچھلے سب حالات سے واقف ہیں اور سارے انسان مل کر اس کے علم میں سے کسی ایک چیز کا بھی احاطہ نہیں کرسکتے، بجز اتنے علم کے اللہ تعالیٰ کسی کو دینا چاہیں “۔ سورة یونس میں ہے : (آیت) وما یعزب عن ربک من مثقال ” یعنی ایک ذرّہ کے برابر بھی کوئی چیز زمین و آسمان میں آپ کے رب کے علم سے جدا نہیں ہے “۔ اور سورة طلاق میں ہے : (آیت) وان اللّٰہ قد احاط بکل شیء علما ” یعنی اللہ تعالیٰ کا علم ہر چیز پر محیط ہے “۔ اسی طرح بیشمار آیات میں یہ مضمون مختلف عنوانات سے آیا ہوا ہے، خلاصہ یہ ہے کہ ان آیات میں بڑی وضاحت اور صراحت کے ساتھ یہ بیان فرما دیا گیا ہے کہ غیب کا علم (جس کو قرآن میں غیب کہا گیا ہے اور اس کی تفسیر اوپر گزر چکی ہے) یا تمام کائنات کا علم محیط صرف اللہ جل شانہ کی مخصوص صفت ہے، کسی فرشتہ یا رسول کے علم کو اسی طرح ہر ذرّہ کائنات پر محیط سمجھنا وہ عیسائیوں کی طرح رسول کو خدا کا درجہ دیدینا ہے اور خدا تعالیٰ کے برابر قرار دیدینا ہے جو بتصریح قرآن کریم شرک ہے، سورة شعراء میں شرک کی یہی حقیقت بیان فرمائی گئی ہے : (آیت) تاللّٰہ ان کنا لفی ضلل مبین ” یعنی قیامت کے روز مشرکین کہیں گے کہ بخدا ہم سخت گمراہی میں تھے کہ تم کو یعنی بتوں کو رب العالمین کے برابر کرتے تھے “۔ بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے اپنے انبیاء (علیہم السلام) کو اور بالخصوص حضرت خاتم الانبیاء (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو غیب کی ہزاروں لاکھوں چیزوں کا علم عطا فرمایا ہے اور سب فرشتوں اور انبیاء سے زیادہ عطا فرمایا ہے، لیکن یہ ظاہر ہے کہ خدا تعالیٰ کی برابر کسی کا علم نہیں، نہ ہوسکتا ہے، ورنہ پھر یہ رسول کی تعظیم کا وہ غلو ہوگا جو عیسائیوں نے اختیار کیا، کہ رسول کو خدا کے برابر ٹھہرا دیا، اسی کا نام شرک ہے، نعوذ باللہ منہ۔

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

وَعِنْدَہٗ مَفَاتِحُ الْغَيْبِ لَا يَعْلَمُہَآ اِلَّا ہُوَ۝ ٠ۭ وَيَعْلَمُ مَا فِي الْبَرِّ وَالْبَحْرِ۝ ٠ۭ وَمَا تَسْقُطُ مِنْ وَّرَقَۃٍ اِلَّا يَعْلَمُہَا وَلَا حَبَّۃٍ فِيْ ظُلُمٰتِ الْاَرْضِ وَلَا رَطْبٍ وَّلَا يَابِسٍ اِلَّا فِيْ كِتٰبٍ مُّبِيْنٍ۝ ٥٩ مِفْتَاحُ والمِفْتَحُ وَالمِفْتَاحُ : ما يفتح به، وجمعه : مَفَاتِيحُ ومَفَاتِحُ. وقوله : وَعِنْدَهُ مَفاتِحُ الْغَيْبِ [ الأنعام/ 59] ، يعني : ما يتوصّل به إلى غيبه المذکور في قوله : فَلا يُظْهِرُ عَلى غَيْبِهِ أَحَداً إِلَّا مَنِ ارْتَضى مِنْ رَسُولٍ [ الجن/ 26- 27] . وقوله : ما إِنَّ مَفاتِحَهُ لَتَنُوأُ بِالْعُصْبَةِ أُولِي الْقُوَّةِ [ القصص/ 76] ، قيل : عنی مفاتح خزائنه . وقیل : بل عني بالمفاتح الخزائن أنفسها . وباب فَتْحٌ: مَفْتُوحٌ في عامّة الأحوال، وغلق خلافه . وروي : ( من وجد بابا غلقا وجد إلى جنبه بابا فتحا) «2» وقیل : فَتْحٌ: واسع . المفتح والمفتاح ( کنجی ) وہ چیزیں جس کے ساتھ کسی چیز کو کھولا جائے اس کی جمع مفاتح ومفاتیح آتی ہے اور آیت وَعِنْدَهُ مَفاتِحُ الْغَيْبِ [ الأنعام/ 59] اور اسی کے پاس غیب کی کنجیاں ہیں ۔ میں مفاتح سے وہ سائل مراد ہیں جن کے ذریعہ اس غیب تک رسائی ہوتی ہے جس کا ذکر آیت فَلا يُظْهِرُ عَلى غَيْبِهِ أَحَداً إِلَّا مَنِ ارْتَضى مِنْ رَسُولٍ [ الجن/ 26- 27] اور کسی پر اپنے غیب کو ظاہر نہیں کرتا ہاں جس پیغمبر کو پسند فرمائے ۔ میں ہے اور آیت کریمہ : ما إِنَّ مَفاتِحَهُ لَتَنُوأُ بِالْعُصْبَةِ أُولِي الْقُوَّةِ [ القصص/ 76] اتنے خزانے دیئے تھے کہ ان کی کنجیاں ایک طاقتور جماعت کو اٹھانی مشکل ہوتیں ۔ میں مفاتح سے بعض کے نزیدیک خزانوں کی چابیاں مراد ہیں اور بعض نے خزانے ہی مراد لئے ہیں ۔ عام طور پر باب فتح کے معنی مفتوح کے آتے ہیں اور یہ غلق کی ضد ہے ۔ ایک روایت میں ہے کہ جس سے ایک دروازہ بند ہوجائے تو اس کے لئے دوسرا دروازہ کھلا ہے اور بعض کے نزدیک فتح بمعنی واسع ہے ۔ بحر أصل البَحْر : كل مکان واسع جامع للماء الکثير، هذا هو الأصل، ثم اعتبر تارة سعته المعاینة، فيقال : بَحَرْتُ كذا : أوسعته سعة البحر، تشبيها به، ومنه : بَحرْتُ البعیر : شققت أذنه شقا واسعا، ومنه سمیت البَحِيرَة . قال تعالی: ما جَعَلَ اللَّهُ مِنْ بَحِيرَةٍ [ المائدة/ 103] ، وذلک ما کانوا يجعلونه بالناقة إذا ولدت عشرة أبطن شقوا أذنها فيسيبونها، فلا ترکب ولا يحمل عليها، وسموا کلّ متوسّع في شيء بَحْراً ، حتی قالوا : فرس بحر، باعتبار سعة جريه، وقال عليه الصلاة والسلام في فرس ركبه : «وجدته بحرا» «1» وللمتوسع في علمه بحر، وقد تَبَحَّرَ أي : توسع في كذا، والتَبَحُّرُ في العلم : التوسع واعتبر من البحر تارة ملوحته فقیل : ماء بَحْرَانِي، أي : ملح، وقد أَبْحَرَ الماء . قال الشاعر : 39- قد عاد ماء الأرض بحرا فزادني ... إلى مرضي أن أبحر المشرب العذب «2» وقال بعضهم : البَحْرُ يقال في الأصل للماء الملح دون العذب «3» ، وقوله تعالی: مَرَجَ الْبَحْرَيْنِ هذا عَذْبٌ فُراتٌ وَهذا مِلْحٌ أُجاجٌ [ الفرقان/ 53] إنما سمي العذب بحرا لکونه مع الملح، كما يقال للشمس والقمر : قمران، وقیل السحاب الذي كثر ماؤه : بنات بحر «4» . وقوله تعالی: ظَهَرَ الْفَسادُ فِي الْبَرِّ وَالْبَحْرِ [ الروم/ 41] قيل : أراد في البوادي والأرياف لا فيما بين الماء، وقولهم : لقیته صحرة بحرة، أي : ظاهرا حيث لا بناء يستره . ( ب ح ر) البحر ( سمندر ) اصل میں اس وسیع مقام کو کہتے ہیں جہاں کثرت سے پانی جمع ہو پھر کبھی اس کی ظاہری وسعت کے اعتبار سے بطور تشبیہ بحرت کذا کا محارہ استعمال ہوتا ہے جس کے معنی سمندر کی طرح کسی چیز کو وسیع کردینا کے ہیں اسی سے بحرت البعیر ہے یعنی میں نے بہت زیادہ اونٹ کے کان کو چیز ڈالا یا پھاڑ دیا اور اس طرح کان چر ہے ہوئے اونٹ کو البحیرۃ کہا جا تا ہے قرآن میں ہے ما جَعَلَ اللَّهُ مِنْ بَحِيرَةٍ [ المائدة/ 103] یعنی للہ تعالیٰ نے بحیرہ جانور کا حکم نہیں دیا کفار کی عادت تھی کہ جو اونٹنی دس بچے جن چکتی تو اس کا کان پھاڑ کر بتوں کے نام پر چھوڑ دیتے نہ اس پر سواری کرتے اور نہ بوجھ لادیتے ۔ اور جس کو کسی صنعت میں وسعت حاصل ہوجائے اسے بحر کہا جاتا ہے ۔ چناچہ بہت زیادہ دوڑ نے والے گھوڑے کو بحر کہہ دیا جاتا ہے ۔ آنحضرت نے ایک گھوڑے پر سواری کے بعد فرمایا : ( 26 ) وجدتہ بحرا کہ میں نے اسے سمندر پایا ۔ اسی طرح وسعت علمی کے اعتبار سے بھی بحر کہہ دیا جاتا ہے اور تبحر فی کذا کے معنی ہیں اس نے فلاں چیز میں بہت وسعت حاصل کرلی اور البتحرفی العلم علم میں وسعت حاصل کرنا ۔ اور کبھی سمندر کی ملوحت اور نمکین کے اعتبار سے کھاری اور کڑوے پانی کو بحر انی کہد یتے ہیں ۔ ابحرالماء ۔ پانی کڑھا ہوگیا ۔ شاعر نے کہا ہے : ( 39 ) قدعا دماء الا رض بحر فزادنی الی مرض ان ابحر المشراب العذاب زمین کا پانی کڑوا ہوگیا تو شریں گھاٹ کے تلخ ہونے سے میرے مرض میں اضافہ کردیا اور آیت کریمہ : مَرَجَ الْبَحْرَيْنِ هذا عَذْبٌ فُراتٌ وَهذا مِلْحٌ أُجاجٌ [ الفرقان/ 53] بحرین ھذا عذاب فرات ولھذا وھذا ملح اجاج ( 25 ۔ 53 ) دو دریا ایک کا پانی شیریں ہے پیاس بجھانے والا اور دوسرے کا کھاری ہے چھاتی جلانے والا میں عذاب کو بحر کہنا ملح کے بالمقابل آنے کی وجہ سے ہے جیسا کہ سورج اور چاند کو قمران کہا جاتا ہے اور بنات بحر کے معنی زیادہ بارش برسانے والے بادلوں کے ہیں ۔ اور آیت : ظَهَرَ الْفَسادُ فِي الْبَرِّ وَالْبَحْرِ [ الروم/ 41] کی تفسیر میں بعض نے کہا ہے کہ بحر سے سمندر مراد نہیں ہے بلکہ بر سے جنگلات اور بحر سے زرخیز علاقے مراد ہیں ۔ لقیتہ صحرۃ بحرۃ میں اسے ایسے میدان میں ملا جہاں کوئی اوٹ نہ تھی ؟ سقط السُّقُوطُ : طرح الشیء، إمّا من مکان عال إلى مکان منخفض کسقوط الإنسان من السّطح، قال تعالی: أَلا فِي الْفِتْنَةِ سَقَطُوا[ التوبة/ 49] ، وسقوط منتصب القامة، وهو إذا شاخ وکبر، قال تعالی: وَإِنْ يَرَوْا كِسْفاً مِنَ السَّماءِ ساقِطاً [ الطور/ 44] ، وقال : فَأَسْقِطْ عَلَيْنا كِسَفاً مِنَ السَّماءِ [ الشعراء/ 187] ، والسِّقَطُ والسُّقَاطُ : لما يقلّ الاعتداد به، ومنه قيل : رجل سَاقِطٌ لئيم في حَسَبِهِ ، وقد أَسْقَطَهُ كذا، وأسقطت المرأة اعتبر فيه الأمران : السّقوط من عال، والرّداءة جمیعا، فإنه لا يقال : أسقطت المرأة إلا في الولد الذي تلقيه قبل التمام، ومنه قيل لذلک الولد : سقط «1» ، وبه شبّه سقط الزّند بدلالة أنه قد يسمّى الولد، وقوله تعالی: وَلَمَّا سُقِطَ فِي أَيْدِيهِمْ [ الأعراف/ 149] ، فإنه يعني النّدم، وقرئ : تُساقِطْ عَلَيْكِ رُطَباً جَنِيًّا[ مریم/ 25] «2» ، أي : تسّاقط النّخلة، وقرئ : تُساقِطْ «3» بالتّخفیف، أي : تَتَسَاقَطُ فحذف إحدی التاء ین، وإذا قرئ ( تَسَاقَطْ ) فإنّ تفاعل مطاوع فاعل، وقد عدّاه كما عدّي تفعّل في نحو : تجرّعه، وقرئ : يَسَّاقَطْ عليك «4» أي : يسّاقط الجذع . ( س ق ط ) السقوط ( ن ) اس کے اصل معنی کسی چیز کے اوپر سے نیچے گرنے کے ہیں مثلا کسی انسان کا چھت سے گر پڑنا یا اس کا بوڑھا ہو کر نیچے جھک جانا ۔ قرآن میں ہے : ۔ وَإِنْ يَرَوْا كِسْفاً مِنَ السَّماءِ ساقِطاً [ الطور/ 44] اور اگر یہ آسمان ( سے عذاب ) کا کوئی ٹکڑا گرتا ہوا دیکھیں ۔ فَأَسْقِطْ عَلَيْنا كِسَفاً مِنَ السَّماءِ [ الشعراء/ 187] تو ہم پر آسمان سے ایک ٹکڑا لا گراؤ اور اس کے معنی قدر و قیمت اور مرتبہ کے لحاظ سے گر جانا بھی آتے ہیں ۔ جیسے فرمایا : ۔ أَلا فِي الْفِتْنَةِ سَقَطُوا[ التوبة/ 49] دیکھو یہ آفت میں پڑے گئے ۔ السقط والسقاطۃ ناکاری اور ردی چیز کو کہتے ہیں اور اسی سے رجل ساقط ہے جس کے معنے کمینے آدمی کے ہیں ۔ اسقطہ کذا : فلاں چیز نے اس کو ساقط کردیا ۔ اور اسقط المرءۃ ( عورت نے نا تمام حمل گرا دیا ) میں اوپر سے نیچے گرنا اور ردی ہونا دونوں معنی اکٹھے پائے جاتے ہیں ۔ کیونکہ اسقطت المرءۃ اس وقت بولتے ہیں جب عورت نا تمام بچہ گرا دے اور اسی سے نا تمام بچہ کو سقط یا سقط کہا جاتا ہے ۔ پھر اس کے ساتھ تشبیہ دے کر چقماق کی ہلکی سی ( ناقص ) چنگاری کو سقط الزند کہا جاتا ہے اس کی دلیل یہ ہے کہ کبھی اس کے ساتھ بچہ کو بھی موسوم کیا جاتا ہے اور آیت کریمہ : ۔ وَلَمَّا سُقِطَ فِي أَيْدِيهِمْ [ الأعراف/ 149] اور جب وہ نادم ہوئے ۔ میں پشیمان ہونا مراد ہے ۔ اور آیت : ۔ تُساقِطْ عَلَيْكِ رُطَباً جَنِيًّا[ مریم/ 25] تم پر تازہ کھجوریں جھڑ پڑیں گی ۔ میں ایک قراءت تساقط بھی ہے اور اس کا فاعل نخلۃ ہے اور ایک قراءت میں تساقط ہے جو اصل میں تتساقط فعل مضارع کا صیغہ ہے اس میں ایک تاۃ محذوف ہے اس صورت میں یہ باب تفاعل سے ہوگا اور یہ اگرچہ فاعل کا مطاوع آتا ہے لیکن کبھی متعدی بھی ہوجاتا ہے جیسا کہ تجرعہ میں باب تفعل متعدی ہے ۔ اور ایک دوسری قرات میں یساقط ( صیغہ مذکر ) ہے اس صورت میں اس کا فاعل جذع ہوگا ۔ ورق وَرَقُ الشّجرِ. جمعه : أَوْرَاقٌ ، الواحدة : وَرَقَةٌ. قال تعالی: وَما تَسْقُطُ مِنْ وَرَقَةٍ إِلَّا يَعْلَمُها [ الأنعام/ 59] ، ووَرَّقْتُ الشّجرةَ : أخذت وَرَقَهَا، والوَارِقَةُ : الشّجرةُ الخضراءُ الوَرَقِ الحسنةُ ، وعامٌ أَوْرَقُ : لا مطر له، وأَوْرَقَ فلانٌ:إذا أخفق ولم ينل الحاجة، كأنه صار ذا وَرَقٍ بلا ثمر، ألا تری أنه عبّر عن المال بالثّمر في قوله : وَكانَ لَهُ ثَمَرٌ [ الكهف/ 34] قال ابن عباس رضي اللہ عنه : هو المال «1» . وباعتبار لونه في حال نضارته قيل : بَعِيرٌ أَوْرَقُ : إذا صار علی لونه، وبعیرٌ أَوْرَقُ : لونه لون الرّماد، وحمامةٌ وَرْقَاءُ. وعبّر به عن المال الکثير تشبيها في الکثرة بالوَرَقِ ، كما عبّر عنه بالثّرى، وکما شبّه بالتّراب وبالسّيل كما يقال : له مال کالتّراب والسّيل والثری، قال الشاعر : واغفر خطایاي وثمّر وَرَقِي«2» والوَرِقُ بالکسر : الدّراهم . قال تعالی: فَابْعَثُوا أَحَدَكُمْ بِوَرِقِكُمْ هذِهِ [ الكهف/ 19] وقرئ : بِوَرِقِكُمْ «3» و ( بِوِرْقِكُمْ ) «4» ، ويقال : وَرْقٌ ووَرِقٌ ووِرْقٌ ، نحو كَبْد وكَبِد، وكِبْد . ( و ر ق ) الورق ۔ درخت کے پتے اس کی جمع اوراق اور واحد ورقتہ آتا ہے ۔ قرآن پاک میں ہے : ۔ وَما تَسْقُطُ مِنْ وَرَقَةٍ إِلَّا يَعْلَمُها [ الأنعام/ 59] اور کوئی پتہ نہیں جھڑ تا مگر وہ اس کو جانتا ہے ۔ اور ورقت الشجرۃ کے معنی درخت کا پتے دار ہونا کے ہیں اور سر سبز خوبصورت پتے دار درخت کو وارقتہ کہا جاتا ہے ۔ عام اورق کے معنی قحط سالی کے ہیں ۔ اور اورق فلان کے معنی ناکام ہونے کے ہیں گویا وہ پتے دار درخت ہے جو بدوں ثمر کے ہے اور اس کے بالمقابل آیت : ۔ وَكانَ لَهُ ثَمَرٌ [ الكهف/ 34] اور اس کو پیدا وار ( ملتی رہتی) تھی ۔ میں مال کو ثمر کہا ہے جیسا کہ ابن عباس سے مروی ہے اور رنگ کی ترو تازگی کے لحاظ سے خاکستری رنگ کے اونٹ کو بعیر اورق کہا جاتا ہے ۔ اسی طرح حمامتہ ورقاء کا محاورہ ہے جس کے معنی خاکی رنگ کی کبوتری یا فاختہ کے ہیں ۔ اورق ( ایضا ) مال دار ہونا گویا کثرت کے لحاظ گئی ہے جیسا کہ مال کو ثٰری تراب یاسیل کے ساتھ تشبیہ دے کر اس معنی میں کہا جاتا ہے ۔ چناچہ محاورہ ہے ۔ لہ مال کالتراب اوالسیل اوالترٰی : یعنی وہ بہت زیادہ مالدار ہے ۔ شاعر نے کہا ہے ۔ ( الرجز ) ( 447 ) واغفر خطایای وثمرورنی میری خطائیں معاف فرما اور میرا مال بڑھا دے اور الورق ( بکسر الراء ) خصوصیت کے ساتھ دراہم کو کہتے ہیں ۔ چناچہ قرآن پاک میں ہے : ۔ فَابْعَثُوا أَحَدَكُمْ بِوَرِقِكُمْ هذِهِ [ الكهف/ 19] تو اپنے میں سے کسی کو یہ سکہ دے کر شہر بھیجو ۔ ایک قرات میں بورقکم وبورقکم ہے اور یہ ورق وورق دونوں طرح بولاجاتا ہے ۔ جیسے کبد وکبد ۔ حب والمحبَّة : إرادة ما تراه أو تظنّه خيرا، وهي علی ثلاثة أوجه : - محبّة للّذة، کمحبّة الرجل المرأة، ومنه : وَيُطْعِمُونَ الطَّعامَ عَلى حُبِّهِ مِسْكِيناً [ الإنسان/ 8] . - ومحبّة للنفع، کمحبة شيء ينتفع به، ومنه : وَأُخْرى تُحِبُّونَها نَصْرٌ مِنَ اللَّهِ وَفَتْحٌ قَرِيبٌ [ الصف/ 13] . - ومحبّة للفضل، کمحبّة أهل العلم بعضهم لبعض لأجل العلم . ( ح ب ب ) الحب والحبۃ المحبۃ کے معنی کسی چیز کو اچھا سمجھ کر اس کا ارادہ کرنے اور چاہنے کے ہیں اور محبت تین قسم پر ہے : ۔ ( 1) محض لذت اندوزی کے لئے جیسے مرد کسی عورت سے محبت کرتا ہے ۔ چناچہ آیت : ۔ وَيُطْعِمُونَ الطَّعامَ عَلى حُبِّهِ مِسْكِيناً [ الإنسان/ 8] میں اسی نوع کی محبت کی طرف اشارہ ہے ۔ ( 2 ) محبت نفع اندوزی کی خاطر جیسا کہ انسان کسی نفع بخش اور مفید شے سے محبت کرتا ہے ۔ چناچہ اسی معنی میں فرمایا : وَأُخْرى تُحِبُّونَها نَصْرٌ مِنَ اللَّهِ وَفَتْحٌ قَرِيبٌ [ الصف/ 13 اور ایک چیز کو تم بہت چاہتے ہو یعنی تمہیں خدا کی طرف سے مدد نصیب ہوگی اور فتح حاصل ہوگی ۔ ( 3 ) کبھی یہ محبت یہ محض فضل وشرف کی وجہ سے ہوتی ہے جیسا کہ اہل علم وفضل آپس میں ایک دوسرے سے محض علم کی خاطر محبت کرتے ہیں ۔ ظلم) تاریکی) الظُّلْمَةُ : عدمُ النّور، وجمعها : ظُلُمَاتٌ. قال تعالی: أَوْ كَظُلُماتٍ فِي بَحْرٍ لُجِّيٍ [ النور/ 40] ، ظُلُماتٌ بَعْضُها فَوْقَ بَعْضٍ [ النور/ 40] ، وقال تعالی: أَمَّنْ يَهْدِيكُمْ فِي ظُلُماتِ الْبَرِّ وَالْبَحْرِ [ النمل/ 63] ، وَجَعَلَ الظُّلُماتِ وَالنُّورَ [ الأنعام/ 1] ، ويعبّر بها عن الجهل والشّرک والفسق، كما يعبّر بالنّور عن أضدادها . قال اللہ تعالی: يُخْرِجُهُمْ مِنَ الظُّلُماتِ إِلَى النُّورِ [ البقرة/ 257] ، أَنْ أَخْرِجْ قَوْمَكَ مِنَ الظُّلُماتِ إِلَى النُّورِ [إبراهيم/ 5] ( ظ ل م ) الظلمۃ ۔ کے معنی میں روشنی کا معدوم ہونا اس کی جمع ظلمات ہے ۔ قرآن میں ہے : أَوْ كَظُلُماتٍ فِي بَحْرٍ لُجِّيٍ [ النور/ 40] ان کے اعمال کی مثال ایسی ہے ) جیسے دریائے عشق میں اندھیرے ۔ ظُلُماتٌ بَعْضُها فَوْقَ بَعْضٍ [ النور/ 40] ( غرض ) اندھیرے ہی اندھیرے ہوں ایک پر ایک چھایا ہوا ۔ أَمَّنْ يَهْدِيكُمْ فِي ظُلُماتِ الْبَرِّ وَالْبَحْرِ [ النمل/ 63] بتاؤ برو بحری کی تاریکیوں میں تمہاری کون رہنمائی کرتا ہے ۔ وَجَعَلَ الظُّلُماتِ وَالنُّورَ [ الأنعام/ 1] اور تاریکیاں اور روشنی بنائی ۔ اور کبھی ظلمۃ کا لفظ بول کر جہالت شرک اور فسق وفجور کے معنی مراد لئے جاتے ہیں جس طرح کہ نور کا لفظ ان کے اضداد یعنی علم وایمان اور عمل صالح پر بولا جاتا ہے ۔ قرآن میں ہے : يُخْرِجُهُمْ مِنَ الظُّلُماتِ إِلَى النُّورِ [ البقرة/ 257] ان کو تاریکیوں سے نکال کر روشنی میں لے جاتا ہے ۔ أَنْ أَخْرِجْ قَوْمَكَ مِنَ الظُّلُماتِ إِلَى النُّورِ [إبراهيم/ 5] کہ اپنی قوم کو تاریکیوں سے نکال کر روشنی میں لے جاؤ رطب الرَّطْبُ : خلاف الیابس، قال تعالی: وَلا رَطْبٍ وَلا يابِسٍ إِلَّا فِي كِتابٍ مُبِينٍ [ الأنعام/ 59] ، وخصّ الرُّطَبُ بالرَّطْبِ من التّمر، قال تعالی: وَهُزِّي إِلَيْكِ بِجِذْعِ النَّخْلَةِ تُساقِطْ عَلَيْكِ رُطَباً جَنِيًّا [ مریم/ 25] ، وأَرْطَبَ النّخلُ «1» ، نحو : أتمر وأجنی، ورَطَبْتُ الفرس ورَطَّبْتُهُ : أطعمته الرّطب، فَرَطَبَ الفرس : أكله . ورَطِبَ الرّجل رَطَباً : إذا تكلّم بما عنّ له من خطإ وصواب «2» ، تشبيها برطب الفرس، والرَّطِيبُ : عبارة عن النّاعم . ( ر ط ب ) الرطب ( تر ) یہ یابس ( خشک ) کی ضد ہے ۔ قرآن میں ہے : ۔ وَلا رَطْبٍ وَلا يابِسٍ إِلَّا فِي كِتابٍ مُبِينٍ [ الأنعام/ 59] اور ( دنیا کی ) تر اور خشک چیزیں ( سب ہی تو ) کتاب واضح ( یعنی لوح محفوظ میں ) لکھی ہوئی موجود ہیں ۔ اور رطب کا لفظ ( پختہ اور ) تازہ کھجور کے ساتھ مخصوص ہے چناچہ قرآن میں ہے : ۔ وَهُزِّي إِلَيْكِ بِجِذْعِ النَّخْلَةِ تُساقِطْ عَلَيْكِ رُطَباً جَنِيًّا [ مریم/ 25] اور کھجور کی شاخ کو اپنی طرف ہلا تجھ پر تازہ پکی کھجوریں جھڑ پڑیں گی ۔ ارطب النخل کے معنی ہیں درخت خرما پکی کھجوروں والا ہوگیا ۔ اس میں صاحب ماخذ ہونے کا خاصہ پایا جاتا ہے ۔ جیسے اثمر واجنی میں ہے عام محاورہ ہے : ارطبت الفرس ورطبتہ : میں نے گھوڑے کو تازہ گھاس کھلائی اور رطب الفرس ( باب علم سے لازمی ہے اور اس ) کے معنی گھوڑے کا تر گھاس کھانا کے ہیں ۔ رطب الرجل ۔ تر و خشک ہر قسم کی باتیں کرنا ۔ خوش گپیاں اڑانا ۔ یہ محاورہ رطب الفرس کے ساتھ بطور تشبیہ استعمال ہوتا ہے : ۔ الرطیب نرم وملائم کو کہتے ہیں ۔ يبس يَبِسَ الشیءُ يَيْبَسُ ، واليَبْسُ : يَابِسُ النّباتِ ، وهو ما کان فيه رطوبة فذهبت، واليَبَسُ : المکانُ يكون فيه ماء فيذهب . قال تعالی: فَاضْرِبْ لَهُمْ طَرِيقاً فِي الْبَحْرِ يَبَساً [ طه/ 77] والأَيْبَسَانِ «1» : ما لا لحم عليه من الساقین إلى الکعبین . ( ی ب س ) یبس ( س ) الشئی کے معنی کسی چیز کا خشک ہوجانا کے ہیں ۔ اور ترگھاس جب خشک ہوجائے تو اسے یبس ( بسکون الباء ) کہاجاتا ہے اور جس جگہ پر پانی ہو اور پھر خشک ہوجائے اسے یبس ( بفتح الباء ) کہتے ہیں ۔ چناچہ قرآن میں ہے : فَاضْرِبْ لَهُمْ طَرِيقاً فِي الْبَحْرِ يَبَساً [ طه/ 77] تو انکے لیے دریا میں لائٹس مارکر خشک راستہ بنادو ۔ كتب) حكم) قوله : لِكُلِّ أَجَلٍ كِتابٌ [ الرعد/ 38] ، وقوله : إِنَّ عِدَّةَ الشُّهُورِ عِنْدَ اللَّهِ اثْنا عَشَرَ شَهْراً فِي كِتابِ اللَّهِ [ التوبة/ 36] أي : في حكمه . ويعبّر عن الإيجاد بالکتابة، وعن الإزالة والإفناء بالمحو . قال : لِكُلِّ أَجَلٍ كِتابٌ [ الرعد/ 38] ، يَمْحُوا اللَّهُ ما يَشاءُ وَيُثْبِتُ [ الرعد/ 39] نبّه أنّ لكلّ وقت إيجادا، وهو يوجد ما تقتضي الحکمة إيجاده، ويزيل ما تقتضي الحکمة إزالته، ودلّ قوله : لِكُلِّ أَجَلٍ كِتابٌ [ الرعد/ 38] علی نحو ما دلّ عليه قوله : كُلَّ يَوْمٍ هُوَ فِي شَأْنٍ [ الرحمن/ 29] وقوله : وَعِنْدَهُ أُمُّ الْكِتابِ [ الرعد/ 39] ، ( ک ت ب ) الکتب ۔ اور نحو سے کسی چیز کا زائل اور فناکر نامراد ہوتا ہے چناچہ آیت : لِكُلِّ أَجَلٍ كِتابٌ [ الرعد/ 38] میں تنبیہ ہے کہ کائنات میں ہر لمحہ ایجاد ہوتی رہتی ہے اور ذات باری تعالیٰ مقتضائے حکمت کے مطابق اشیاء کو وجود میں لاتی اور فنا کرتی رہتی ہے ۔ لہذا اس آیت کا وہی مفہوم ہے ۔ جو کہ آیت كُلَّ يَوْمٍ هُوَ فِي شَأْنٍ [ الرحمن/ 29] وہ ہر روز کام میں مصروف رہتا ہے اور آیت : وَعِنْدَهُ أُمُّ الْكِتابِ [ الرعد/ 39] میں اور اس کے پاس اصل کتاب ہے کا ہے اور آیت : وَما کانَ لِنَفْسٍ أَنْ تَمُوتَ إِلَّا بِإِذْنِ اللَّهِ كِتاباً مُؤَجَّلًا[ آل عمران/ 145] اور کسی شخص میں طاقت نہیں کہ خدا کے حکم کے بغیر مرجائے ( اس نے موت کا ) وقت مقرر کرکے لکھ رکھا ہے ۔ میں کتابا موجلا سے حکم الہی مراد ہے ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(٥٩) غیب کے تمام خزانے مثلا بارشوں کا نازل ہونا، پھلوں اور سبزیوں کا اگنا اور اس کا عذاب نازل ہونا، جس کا تم مطالبہ کرتے ہو یہ سب اللہ تعالیٰ ہی کے پاس ہیں، تمام مخلوقات اور مخفی چیزیں اور کون خشکی میں ہلاک ہوگا اور کس کی موت سمندر میں آئے گی اور درخت سے کون سا پتہ کب جھڑرہا ہے، اور سب سے نچلی زمین پتھر کے نیچے کیا ہے، سب کو وہ جانتا ہے، تر اور خشک چیزیں سب کی مقدار اور وقت لوح محفوظ میں لکھا ہوا ہے۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٥٩ (وَعِنْدَہٗ مَفَاتِحُ الْغَیْبِ لاَ یَعْلَمُہَآ اِلاَّ ہُوَط وَیَعْلَمُ مَا فِی الْبَرِّ وَالْبَحْرِ ط) (وَمَا تَسْقُطُ مِنْ وَّرَقَۃٍ الاَّ یَعْلَمُہَا) (وَلاَحَبَّۃٍ فِیْ ظُلُمٰتِ الْاَرْضِ وَلاَ رَطْبٍ وَّلاَ یَابِسٍ الاَّ فِیْ کِتٰبٍ مُّبِیْنٍ ۔ ) یہ کتاب مبین اللہ کا علم قدیم ہے ‘ جس میں ہر شے ( مَا کَانَ وَ مَایَکُوْن) آن واحد کی طرح موجود ہے۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

بخاری کی روایت میں خود آنحضرت نے ان غیب کی کنجیوں کی تفسیر ان پانچ چیزوں سے فرمائی ہے جن کا ذکر صراحت سے سورة لقمان میں آوے گا وہ پانچ چیزیں ایک قیامت کا وقت ہے کہ کب آوے گی دوسرے مینہ کا حال کہ کب برسے گا تیسرے یہ کہ حاملہ عورت کے پیٹ میں کیا ہے لڑکا ہے یالڑ کی چوتھے یہ کہ کل کیا ہوگا پانچویں یہ کہ کون شخص کس سرزمین میں مریگا ١ ؎ ١ ؎ صحیح بخاری ج ١ ص ١٢ کتاب الدیان و ج ٢ ص ٦٦٦ کتاب التفسیر۔ شارحین کتب حدیث نے اور مفسرین نے لکھا ہے کہ اور علم غیب کی باتیں اللہ تعالیٰ انبیاء کو بذر یعہ وحی کے اور اولیا۔ کو بذریعہ الہام یا خواب کے ظاہر فرما دیتا ہے چناچہ انبیاء نے عذاب قبر عذاب حشر کا احوال دوزخ و جنت کا حال جو علم غیب میں سے ہے صراحب سے بیان کیا ہے حضرت عیسیٰ لوگوں کی گھر کی رکھی ہوئی چیزیں بغیر دیکھے اور لوگوں کا کھایا پیا بتلا دیا کرتے تھے اور حضرت یوسف ( علیہ السلام) نے ایک قیدی کا رہا جا ہونا اور دوسرے کا سولی پر چڑھایا جانا بتلا دیا تھا اور بعض اولیاء بھی بعضی آئندہ کی باتوں کو کرامت کے طور پر بیان کردیتے ہیں فرق اسی قدر ہے کہ نبی کو جو غیب کا حال معلوم ہوتا ہے وہ وحی سے معلوم ہوتا ہے جو یقینی علم ہے اور اولیاء کو جو کچھ غیب کا حال معلوم ہوتا ہے وہ الہام یا خواب کے ذریعہ سے معلوم ہوتا ہے جس میں مجتہد کے اجتہاد کی طرح غلطی کا احتمال ہے کس لیے کہ نبی کی وحی میں اس بات کی حفاظت کے لیے کہ اس میں شیطان کا کچھ تصرف نہ ہونے پاوے خدا کی طرف سے فرشتے ہمیشہ خبرداری کیا کرتے ہیں جس کا ذکر سورة جن میں آوے گا اور کبھی موقعہ پاکر نبی کی وحی میں اگر شیطان کچھ تصرف کرتا ہے تو خدا کی طرف سے فورا اس کی اصلاح ہوجاتی ہے چناچہ اس کا ذکر سورة حج اور سورة نجم میں آویگا ولی کے الہام اور خواب میں یہ حفاظت اور اصلاح نہیں ہے۔ غرض یہ پانچ باتیں اللہ تعالیٰ نے اپنے علم خاص میں رکھی ہیں اسی واسطے یہ پانچ باتیں غیب کی کنجیاں کہلاتی ہیں چناچہ اسی بخاری کی روایت میں ہے کہ حضرت جبرئیل نے اجنبی شخص کی صورت میں آنحضرت کے پاس آن کر ایمان واسلام کی چند باتیں پوچھیں آپ نے سب کے جواب دیے جب حضرت جبرئیل قیامت کا حال پوچھا تو آپ نے فرمایا کر پوجنے والا اور بتلانے والا دونوں اس سے بیخبر ہیں ١ ؎ ١ ؎ صحیح بخاری ج ١ ص ١٢ کتاب الایمان حاصل کلام یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے علم غیب کا ذکر اور دنیا کے ذرہ ذرہ کا حال لوح محفوظ میں لکھے ہونے کا ذکر فرما کر یہ آیت اس تنبیہ کے لیے نازل فرمائی ہے کہ وہ غیب دان بھی ہے اور اس کے دفتر میں ذرہ ذرہ کا حساب بھی ہے ایک دن اس حساب کی جانچ ہونے والی ہے ہر شخص کو چاہئے جو کچھ دنیا میں کرے ذرا حساب کا انجام یادرکھ کر کرلے حاصل مطلب یہ ہے کہ جنگل اور دریا میں جو کچھ ہوچکا اور جو کچھ ہونے والا ہے وہ سب اللہ تعالیٰ کے علم اور ارادہ کے موافق ہے اور بیتی یا جنگل میں چھوٹے بڑے جو پیڑ میں ان کے ایک ایک پتے اور گٹھلی یا دانہ کا حال اور دنیا کی ہر ایک خشک وترسب چیزوں کا حال یہ سب کچھ اس کے علم سے باہر نہیں ہے اور یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ نے علم کے موافق لوح محفوظ میں لکھا ہوا ہے۔ اس آیت سے ارسطو وغیرہ کا یہ قول غلط قرارپاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کو سوا اپنی ذات کے اور دوسری چیزوں کا علم نہیں ہے اسی طرح وہ قول بھی غلط قرار پاتا ہے جو ارسطو کے بعد شیخ ابوعلی بن سینا نے قرار دیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کو اپنی ذات اور کلیات کا علم ہے جزئیات کا علم نہیں ہے۔ یہ دونوں قول اس لیے غلط قرار پاتے ہیں کہ اس آیت کے موافق ایک ذرہ بھی اللہ کے علم سے باہر نہیں ہے۔ بعضے علماء کو یہ شبہ جو پیدا ہوا ہے کہ جب اللہ تعالیٰ کو ذرہ ذرہ معلوم ہے اور اللہ تعالیٰ کے علم میں بھول چوک بھی ممکن نہیں ہے تو پھر معلوم نہیں لوح محفوظ میں سب چیزوں کا حال لکھنے میں کیا حکمت ہے اس کا جواب اور علماء نے یہ دیا ہے کہ لوح محفوظ میں سب چیزوں کا حال لکھنے میں بڑی بڑی حکمتیں ہیں مثلا یہ ایک کتنی بڑی حکمت ہے کہ جو فرشتے لوگوں کا نامہ اعمال لکھنے پر تعینات ہیں جب یہ فرشتے اس نامہ اعمال کو آسمان پر لیجاتے ہیں اور اس کا مقابلہ لوح محفوظ کے نوشتہ سے کرتے ہیں اور دونوں تحریروں میں مطابقت پاتے ہیں تو اللہ تعالیٰ کے علم غیب کی تصدیق انہیں زیادہ ہوجاتی علاوہ اس کے اس میں اور بھی حکمتیں ہیں جو بڑی کتابوں میں ہیں۔ کھلی کتاب جو لوح محفوظ کو فرمایا اس کا مطلب یہ ہے کہ علم الٰہی کے موافق اس میں ہر چیز کی کھلی کھلی تفصیل لکھی ہوئی ہے۔ عبداللہ بن عمر وبن العاض (رض) کی حدیث صحیح مسلم کے حوالہ سے ایک جگہ گذر چکی ہے ١ ؎ ١ ؎ ص ١٢٣ جس میں آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا دنیا کے پیدا کرنے سے پچاس ہزار برس پہلے اپنے علم ازلی کے موافق دنیا کا تمام حال اللہ تعالیٰ نے لوح محفوظ میں لکھ لیا ہے۔ یہ حدیث آیت کی گویا تفسیر ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ کوئی چیز اللہ تعالیٰ کے علم ازلی سے باہر نہیں ہے کیونکہ لوح محفوظ میں جو کچھ لکھا گیا ہے وہ اللہ کے علم کا نتیجہ ہے :۔

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(6:59) تسقط۔ مضارع واحد مؤنث غائب (باب نصر) وہ گرتی ہے۔ سقوط بمعنی گرنا ہے۔ ورقۃ۔ اسم مفرد۔ نکرہ۔ کوئی ایک پتہ۔ ورق چاندی کا سکہ۔ فابعثوا احدکم بورقکم ھذہ۔ تو اپنے میں سے کسی کو یہ سکہ دے کر شہر میں بھیجو (18:19) حبۃ۔ وانہ۔ غلہ۔ اناج۔ گندم۔ جو وغیرہ اناج کے دانہ کو حب اور حبۃ کہتے ہیں۔ حبوب جمع۔ رطب ہرا۔ یابس خشک۔ دونوں مجرور بوجہ حرف جار۔ من کے ہیں۔ کتب مبین۔ لوح محفوظ۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 8 یعنی خلق میں سے کسی ایک کو بھی تو امور غیبہ کا علم حاصل نہیں ہے یہ خاصہ خدا ہے۔ (سلفیہ) اس سے معلوم ہوا کہ جو نجومی یا پنڈت یار تال یا جفار اپنی غیب دامی کا دعوی کرتے اور لوگوں کو آئندہ پیش آنے والی باتیں بتاتے ہیں ہو سب جھوٹے اور ٹھگ ہیں اور ان کے پاس جانا کسی مسلمان کا کام نہیں ہے اس لیے ایک حدیث میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا یہ ارشاد ہے من اتی کاھنا او منجما فقد کفر یما انزل علی محمد کہ جو کسی کاہن یا نجومی کے پاس گیاہ اس نے اس چیز کا انکار کردیا جو محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر نازل کی گئی (از شوکانی) مزید دیکھئے (لقمان آیت 34)9 یعنی اس کائنات کی چھوٹی سے چھوٹی اور پوشیدہ سے پوشیدہ ہر چیز لوح محفوظ میں درج ہے۔ (رازی )

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

لغات القرآن : آیت نمبر 59 : مفاتح الغیب (غیب کی کنجیاں۔ غیب کے خزانے) ماتسقط ( نہیں گرتی۔ نہیں گرتا) ورقۃ ( پتہ) حبۃ ( دانہ) رطب ( تر) یا بس (خشک) ۔ تشریح : آیت نمبر 59 : مفتح یعنی میم پر زبر ڈال کر اور مفتح یعنی میم پر زیر ڈال کر مفتح کے معنی خزانہ اور مفتح کے معنی چابی ‘ لفظ مفاتیح جمع مفتح کی بھی اور مفتح کی بھی اور دونوں کا مطلب ایک ہے۔ لفظ غیب کے دو معنی ہیں۔ اول وہ چیزیں جو ابھی وجود میں نہیں آئیں لیکن اپنے وقت پر آئیں گی۔ دوسرے وہ چیزیں جو وجود میں آچکی ہیں لیکن اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ وہ چیزیں جو وجود میں آچکی ہیں یا جو اپنے وقت پر اپنی کسی مخلوق کو دے گا اور وہ بھی اتنی ہی جتنی اس کی مصلحت اجازت دے دوسرے وہ چیزیں جو وجود میں آچکی ہیں یا جو اپنے وقت پر اپنی کسی مخلوق کو دے گا اور وہ بھی اتنی ہی جتنی اس کی مصلحت اجازت دے دوسرے وہ چیزیں جو وجود میں آچکی ہیں یا جو اپنے وقت پر وجود میں آئیں گی جن کی معلومات اللہ کسی مخلوق کو نہیں دے گا۔ وحی کے ذریعہ نبی کو غیب کی چند معلومات دی جاتی ہیں۔ بزرگان دین کو کشف و کرامات کے ذریعہ چند معلومات دی جاتی ہیں ۔ سائنس دان ‘ اہل ایجاد ‘ شعراء ‘ حکماء وغیرہ کو یہ معلومات مشاہدہ کے ذریعہ دی جاتی ہیں۔ اور عام انسانوں کو یہ معلومات حواس خمسہ کے ذریعہ دی جاتی ہیں۔ غیر نبی کے لئے جب وحی کا لفظ استعمال کیا گیا ہے تو اس کے معنی الہام کے ہیں۔ قرآن میں کہا گیا ہے کہ ہم نے انسان پر فجور اور تقویٰ دونوں راہیں الہام کردی ہیں۔ یہ کہہ کر کہ ” اسی کے پاس غیب کی چابیاں ہیں “۔ کسی بند اور محفوظ خزانہ کی طرف اشارہ کیا گیا ہے چابی والا جب چاہتا ہے اور جتنا چاہتا ہے اندر سے باہر اور باہر سے اندر چیز کو لے آتا ہے۔ اس کی مثال و ہ بشارتیں ‘ وہ پیش گوئیاں اور وہ معلومات ہیں جو صرف پیغمبر اسلام (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو بذریعہ وحی جلی یا وحی خفی دی گئیں اور دوسرے انسانوں کو بذریعہ قرآن و حدیث دی گئیں۔ ان میں قبر و قیامت کی معلومات بھی شامل ہیں۔ یہ کہہ کر اسی کے پاس غیب کی چابیاں ہیں شرک کی جڑیں کاٹ دی گئی ہیں اللہ کے سوا کوئی علام الغیوب نہیں ہے بلکہ نبی کے پاس بھی وہی معلومات ہیں اور اتنی ہی معلومات ہیں جو اسے وقتاً فوقتاً عطا کی گئی ہیں اور بس۔ اب اگر کوئی نجومی ‘ فال گیریا مست ملنگ غیب بتانے کا دعویٰ کرتا ہے تو وہ جھوٹا ہے۔ رہیں وہ پیشن گوئیاں جو قیافہ ‘ قرینہ ‘ سائنس یا خصوصی آلات کے بل پر کی جاتی ہیں تو ان کا تعلق غیب سے نہیں ہے بلکہ حواس ‘ مطالعہ اور مشاہدہ سے ہے۔ مگر وہ بھی کبھی صحیح اور کبھی غلط نکلتی ہیں۔ اس لئے وہ یقینی نہیں ہیں اور جب بات عقل و دانس یا سائنسی آلات پر آگئی تو وہ غیب نہ رہی۔ اس آیت نے غیب کی تعریف انتہائی جامع و مانع طور پر کردی ہے ” وہ راز جنہیں اس کے سوا کوئی نہیں جانتا “ اور جب کوئی راز یا اس کا ایک حصہ کسی غیر کی طرف منتقل کردیا جائے تو وہ غیب نہیں رہتا۔ وہ وحی یا الہام یا عام مشاہدہ بن جاتا ہے۔ غیب بیشمار بےاندازہ بےقیاس ہے اس کے مقابلے میں مشاہدہ ایک مختصر ‘ پتلی ‘ تنگ ‘ کمزور اور بےحقیقت جھلی ہے۔ غیب وسیع بھی ہے اور گہرا بھی۔ مشاہد زمان و مکان میں محدود ہے اور ہر شخص کا اپنا اپنا مشاہدہ اپنے اپنے طرز کے مطابق ہے۔ اسی بات کو اس آیت میں اس طرح ادا کیا گیا ہے کہ ” اور وہ جانتا ہے جو کچھ خشکیوں میں ہے او جو کچھ پانیوں میں ہے “ کیا اس سے زیادہ وسیع و عریض اور عمیق و دبینر تصور ممکن ہے ؟ اس سے یہ بات بھی ظاہر ہوئی کہ ہماری یہ دنیا اور نہ جانے کتنی دوسری دنیائیں خشکیوں اور پانیوں سے بنی ہیں اور ہماری اس دنیا کی ہر چیز کا تعلق خشکی سے ہے یا پانی سے۔ انسانی جسم نوے فی صد سیال ہے یعنی بہنے والے مادہ پر مشتمل ہے۔ ہر چیز مختلف حالتوں اور منزلوں سے گزرتی ہے۔ اللہ کا علیم غیب نہ صر ف ہر چیز پر محیط ہے بلکہ اس کی ہر حالت اور ہر منزل پر بھی۔ یہ آیت آگے چل کر رہنمائی کرتی ” کوئی پتہ نہیں گرتا مگر اسے معلوم ہوتا ہے۔ اور نہیں ہے کوئی دانہ زمین کی گہرائیوں میں۔ اور نہیں ہے کوئی خشک اور نہیں ہے کوئی تر جو ایک روشن کتاب میں درج نہ ہو “۔ کون سا پتہ کس درخت میں ہے۔ کہاں ہے ‘ کب نکلا ‘ کس حال میں ہے ‘ کب گرے گا ‘ پھر گر کر کیا کیا بنے گا۔ کس غلہ کا کون سادانہ کس زمین میں ہے۔ کتنی گہرائی میں ہے ‘ کیا بنرہا ہے یا نہیں بن رہا ہے۔ کس منزل میں ہے ہر وہ چیز جس کا تعلق زمین سے ہے یا ہوا سے ہے یا پانی سے ہے کس منزل میں ہے۔ اس کا ماضی کیا تھا۔ حال کیا ہے ‘ مستقبل کیا ہوگا ‘ یہ سب اسے معلوم ہے یعنی اللہ تعالیٰ کا علم صرف ظنی یا تخمینی نہیں بلہ یقینی ہے۔ اور ہر ایک شئے کی تقدیر لکھی ہوئی ہے۔

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

4۔ ان میں سے جس چیز کو جس وقت چاہیں ظہور میں لے آتے ہیں ان اشیاء میں عذاب بھی آگیا مطلب یہ کہ اور کسی کو ان پر قدرت نہیں اور جس طرح قدرت تامہ ان کے ساتھ خاص ہے اسی طرح علم تام بھی۔ 5۔ کتاب مبین یعنی لوح محفوظ یعنی اس میں ہر چیز جو قیامت تک ہونے والی ہے لکھی ہے اور ظاہر ہے کہ بدون علم کے لکھنا ممکن نہیں ہے پس حاصل یہ ہوا کہ سب چیزیں اللہ کے احاطہ علمی میں ہیں اور یہ نہ سمجھو کہ اللہ کے تمام معلومات لوح محفوظ ہی میں منحصر ہیں بلکہ اس کی تو کہیں انتہا ہی نہیں۔

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : کفار نے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے عذاب لانے کا مطالبہ کیا جس کا جواب دیا گیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی آپ کو بتلا دیا گیا ہے اللہ ہی جانتا ہے کہ کس کس نے ہدایت قبول کرنا ہے اور کس نے گمراہی میں مرنا ہے۔ اسی سورة کی آیت نمبر ٥٠ میں کفار کے ایک مطالبہ کا یہ جواب دیا گیا تھا کہ اے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آپ فرما دیں کہ میں اللہ تعالیٰ کے خزانوں کا مالک، غیب جاننے اور فرشتہ ہونے کا دعویٰ نہیں کرتا۔ یہاں دوسرے زاویے سے جواب دیا گیا ہے کہ عذاب نازل کرنے یا اللہ کے خزانوں کی ملکیت کا معاملہ ہو۔ اللہ تعالیٰ کے سوا انھیں کوئی نہیں جانتا۔ غیب کے پردوں اور دروازوں کے پیچھے جو کچھ چھپا ہے اس کی چابیاں اللہ تعالیٰ ہی کے پاس ہیں۔ وہ زمین کے ذرّے ذرّے اور پانی کے ایک ایک قطرے سے واقف ہے وہ زمین پر پیدا ہونے والے اربوں درخت اور ان پر لگنے والے کھربوں پتوں کو جانتا ہے اور کروڑوں کی تعداد میں بیک وقت زمین پر گرنے والے پتوں کا اسے علم ہوتا ہے۔ اسی طرح زمین کی تہوں اور اندھیروں میں زندہ، مردہ خشک اور تر کروڑ ہا قسم کے بیجوں کو نہ صرف جانتا ہے بلکہ اس کے ہاں لوح محفوظ میں ہر چیز کا ریکارڈ ثبت ہے۔ اللہ تعالیٰ انسانوں کو رات کے وقت فوت کرتا ہے اور وہ سوتے اور جاگتے ہوئے جو حرکات کرتے ہیں وہ ان سے اچھی طرح باخبر ہے۔ اسی طرح جو دن کی روشنی میں لوگ اعمال کرتے ہیں وہ سب کے سب اس کے احاطہ علم میں ہوتے ہیں۔ وہی اللہ لوگوں کو نیند سے بیدار کرتا ہے۔ اسی طرح صبح و شام، رات اور دن، سونے اور جاگنے کے عمل سے ہر انسان کی زندگی کے دن پورے ہوتے ہیں۔ جس طرح سونے اور جاگنے کا معاملہ ہے ایسے ہی انسان موت کے بعد اٹھائے جائیں گے۔ پھر ہر کسی کو اسی کی بارگاہ میں پیش ہونا ہے پھر وہ ہر انسان کو اس کے اچھے برے اعمال اور اس کے انجام سے آگاہ فرمائے گا یہاں نیند کو موت کے ساتھ تشبیہ دی گئی ہے کیونکہ جب انسان گہری نیند سو جاتا ہے تو اسے گرد و پیش میں ہونے والے واقعات کی کوئی خبر نہیں ہوتی۔ نیند اور موت کے درمیان یہ فرق ہے کہ نیند کی حالت میں آدمی زندہ ہونے کی وجہ سے تھوڑی بہت آواز سے جاگ اٹھتا ہے، موت دنیاوی زندگی کے خاتمے کا نام ہے۔ مرنے والے کو قیامت کا شدید ہنگامہ ہی بیدار کرسکے گا۔ جب انسان موت کے بعد اٹھائے جائیں گے تو پھر سب کو اللہ تعالیٰ کی عدالت عظمیٰ میں پیش ہونا ہوگا اور اللہ تعالیٰ ہی ہر کسی کو اس کے اعمال اور انجام سے باخبر فرمائے گا۔ مسائل ١۔ عالم الغیب صرف اور صرف اللہ تعالیٰ کی ذات ہے۔ ٢۔ بحر و بر میں ہونے والی تمام حرکات و سکنات اللہ تعالیٰ کے علم میں ہوتی ہیں۔ تفسیر بالقرآن ” اللہ “ کے سوا کوئی غیب نہیں جانتا : ١۔ اللہ ہی کے پاس غیب کی چابیاں ہیں اس کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ ( الانعام : ٥٩) ٢۔ آپ فرما دیں کہ غیب اللہ ہی کے لیے ہے۔ ( یونس : ٢٠) ٣۔ نہ ہی میں غیب جانتا ہوں اور نہ ہی میرے پاس اللہ کے خزانے ہیں۔ ( ھود : ٣١) ٤۔ آپ فرما دیں کہ زمین اور آسمانوں کے غیب اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ (النمل : ٦٥)

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

(آیت) ” نمبر ٥٩۔ اللہ کے کامل اور محیط علم کی یہ نہایت خوبصورت تصویر ہے ۔ یہ علم اس قدر محیط ہے کہ زمان ومکان کا ایک ذرہ بھی اس سے باہر نہیں ہے ۔ زمین و آسمان کی ہر چیز اس کے علم میں ہے ۔ بروبحر کے تمام موجودات اس کے علم کے دائرے کے اندر ہیں ۔ فضاؤں اور زمین کی گہرائیوں میں پائے جانے والے تمام ذرات بھی اس کے دائرہ علم کے اندر ہیں ۔ خشک وتر اور زندہ و مردہ ہر چیز اس کے علم میں ہے ۔ ہمارے اس بیان اور آیت زیر بحث کے اسلوب بیان میں بھی زمین و آسمان کا فرق ہے ۔ قرآن کا انداز نہایت ہی منفرد ‘ شامل وکامل ‘ گہرا وعمیق اور نہایت ہی موثر اور معنی آفریں ہے ۔ ہمارا را ہوار خیال اس مختصر آیت کے پیچھے سرپٹ بھاگتا ہے ۔ ہمارا خیال عالم معلومات اور عالم مجہولات میں گھوڑے دوڑاتا ہے ۔ انسان عالم غیب وعالم شہادت پر غور وفکر کرتا ہے تو اس کا وجدان اور مشاہدہ کانپ اٹھتا ہے کہ ہر وادی میں اور ہر طرف اسے مشاہدات ومظاہر کی نئی نئی شکلیں نظر آتی ہیں ۔ انسان کی جدوجہد بڑی تیزی سے اپنی تلاش نامعلوم کے لئے جاری ہے ۔ وہ غیب کے پردوں کو پھاڑ کر سب کچھ عیاں کرنا چاہتا ہے ۔ وہ ماضی اور مستقبل کے تمام پردے ہٹانا چاہتا ہے ۔ زمان ومکان کے آفاق اور گہرائیوں میں وہ دور تک جھانکنا چاہتا ہے لیکن وہ جس سمت سے آگے بڑھتا ہے اسے نظر آتا ہے کہ غیب کی چابیاں تو اللہ ہی کے ہاتھ میں ہیں ۔ ایک حد پر جاکر اس کو علم واکتشافات کے دروازے مقفل نظرآتے ہیں اور آگے کی چابیاں اللہ کے پاس ہیں ۔ غرض انسان کا وجدان کائنات کی تاریک وادیوں اور سمندر کی گہرائیوں میں دوڑتا ہے ۔ یہ سب جگہیں اللہ کے علم کے زاویے سے عیاں ہیں ۔ پھر ہمارا شعور دنیا کے ہر خزاں میں گرنے والے پتوں کی طرف جاتا ہے ‘ جن کی تعداد سے انسان بیخبر ہیں لیکن اللہ کی آنکھ ایک ایک کو دیکھ رہی ہے کہ کس طرح وہ امر ربی سے گرتا ہے اور اس پوری کائنات میں یہ علم ان پتوں تک وسیع ہے ۔ اس کائنات میں اگنے والے بیشمار پودوں سے نکلنے والے چھوٹے چھوٹے بیج اور ان کا ایک ایک دانہ جو ظلمات ارض میں کہیں پڑا ہے وہ بھی اللہ کی نظر میں ہے ۔ اس وسیع و عریض کائنات کا ہر خشک وتر اللہ کی نظروں میں ہے اور کوئی بھی چیز علم الہی سے باہر نہیں ہے ۔ غرض یہ تصور سر کو چکرا دیتا ہے اور اس سے عقل مبہوت ہوجاتی ہے ۔ یہ تصور اور شعور ہمیں تاریخ اور زمانوں کی طوالتوں میں لے جاتا ہے ۔ یہ آفاق کائنات کی دوریوں کا تصور دلاتا ہے ۔ عالم معلوم اور مشاہد اور عالم غیب اور مجہول کا تصور انسان کرتا ہے تو اس میں ہر طرف وسعت ہی وسعت نظر آتی ہے ۔ را ہوار خیال تھک کر چور چور ہوجا تا ہے لیکن قرآن کریم کے چند کلمات ان وسعتوں اور دوریوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیتے ہیں ۔ یہ ہے قرآن کا اعجاز ‘ اعجاز عبارت اور اعجاز خیال جس پہلو سے بھی ہم اس مختصر آیت پر نگاہ ڈالیں یہ معجز ہے اور یہ اعجاز ہمیں واضح طور پر اس طرف لے جاتا ہے کہ اس عظیم کلام کا مصدر اور منبع کیا ہے ؟ قرآن کریم جو اسلامی تصور حیات کا مصدر اور سرچشمہ ہے اور جس سے اسلامی ذہنیت پیدا ہوتی ہے ‘ وہ اس بات کی وضاحت کرتا ہے کہ اس کائنات کے دو جہان ہیں ‘ ایک عالم غیب ہے اور دوسرا عالم مشاہدہ یا عالم شہادت ۔ لہذا انسان جس جہان میں رہتا ہے اس کے تمام حقائق غیبی نہیں ہیں اور نہ اس کا واسطہ عالم مجہولاتا سے ہے بلکہ یہاں عالم شہادت بھی ہے ۔ اس کائنات کے اندر بعض ناقابل تغیر قوانین اور سنن ہیں اور انسان کو اللہ تعالیٰ نے یہ صلاحیت دی ہے کہ وہ سنن کائنات میں سے ضروری کا علم حاصل کرسکتا ہے ۔ اپنی اس صلاحیت اور ضرورت کے مطابق اسے یہ صلاحیت اس لئے دی گئی ہے کہ وہ یہاں خلافت ارضی کے منصب سے وابستہ فرائض ادا کرسکے اور اپنی زندگی کو سنن کائنات کے ساتھ ہم آہنگ کرسکے ۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کو اس قدر صلاحیت دی ہے جس قدر اسے منصب خلافت کے تقاضے پورے کرنے کے لئے درکار ہے ، تاکہ انسان کائناتی قوتوں کو مسخر کر کے اس زمین کو آباد کرسکے ‘ یہاں زندگی کو ترقی دے سکے اور انسانی زندگی کی بہتری کے لئے اللہ نے اس کائنات کے اندر جو ذخائر ودیعت کئے ہیں انہیں کام میں لا سکے ۔ لیکن ان قوانین قدرت کے ساتھ ساتھ مشیت الہی بھی بطور ایک حقیقت کے موجود ہے ۔ اگرچہ یہ تمام قوانین قدرت مشیت ایزدی کا نتیجہ ہیں لیکن یہ قوانین قدرت مشیت الہیہ کے بجائے تقدیر الہی کے مطابق کام کرتے ہیں ۔ یہ تمام قوانین قدرت الہیہ کے تحت چلتے ہیں ۔ یہ کوئی خود مختار یا کنٹرول سے باہر مشینری نہیں ہے ۔ اللہ کی قدرت اور اس کی تقدیر ان قوانین پر پوری طرح محیط ہے ۔ اس کائنات کی ہر حرکت اس کے دائرہ قدرت میں ہے ۔ اگرچہ بظاہر یہ کائنات ایک ناموس کے مطابق رواں دواں ہے لیکن یہ ناموس اللہ کا پیدا کردہ ہے ۔ اللہ کا نظام قضا وقدر ان قوانین قدرت کو نافذ کرتا ہے ۔ نظام قضا وقدر عالم غیب کا حصہ ہے اور اس کے بارے میں علم صرف اللہ کو ہوتا ہے ۔ لوگوں نے جو سائنسی اصول وضع کر رکھے ہیں وہ بھی ظنی اور احتمالی ہوتے ہیں اور آج تک انسان نے اس کائنات کے جو راز معلوم کئے ہیں اور ان کے بھی یہ اعتراف موجود ہے ۔ ذرا انسان کے اس مختصر وجود پر غور کیجئے ۔ اس کے اندر ہر لحظہ لاکھوں ذرات سرگرداں ہیں ۔ ہی سب تصرفات انسانی نقطہ نظر سے غیب ہیں ۔ اگرچہ یہ تمام حرکات اور مؤثرات خود اس کے وجود کے اندر روبعمل رہتے ہیں ۔ پھر اس عظیم کائنات کے اندر جو مؤثرات کام کر رہے ہیں وہ تو لاتعدد الا تحصی ہیں۔ انسان ان میں سے کچھ بھی نہیں جانتا ۔ عالم غیب انسان کے ماضی پر بھی محیط ہے اور اس کائنات کے ماضی پر بھی محیط ہے ۔ انسان اور اس کے اردگرد پھیلی ہوئی اس کائنات اور اس کی موجودہ حالت پر بھی عالم غیب محیط ہے ۔ نیز ان کے مستقبل پر بھی عالم غیب محیط ہے ۔ یہ سب امور سنن الہیہ کے مطابق روبعمل ہیں جن میں سے نہایت ہی قلیل مقدار کا علم ابھی تک انسان کو ہوسکا ہے ۔ انسان ان سے فائدہ اٹھا رہا ہے اور انہیں منظم اور مربوط طریقے سے فریضہ خلافت کی ادائیگی میں استعمال کر رہا ہے ۔ انسان اس کائنات میں اپنی خواہش کے مطابق نہیں آتا ۔ نہ اسے یہ علم ہوتا ہے کہ اب وہ اس جہان میں وارد ہوگا ۔ جب وہ اس جہان سے رخصت ہوتا ہے تب بھی اس رخصتی میں اس کی خواہش شامل نہیں ہوتی اور نہ اسے علم ہوتا ہے کہ کب اسے جانا ہے یہی صورت حال ہر زندہ مخلوق کی ہے ۔ انسان جس قدر علم بھی حاصل کرلے اور اس کی معرفت اور آگاہی کا دائرہ کتنا ہی وسیع تر کیوں نہ ہوجائے وہ اس صورت حالات میں کوئی تبدیلی نہیں لاسکتا ۔ اسلامی ذہنیت اور اسلامی ماہیت کے اعتبار سے ” غیبی علمی “ نوعیت رکھتی ہے ۔ اس لئے کہ غیب اور عدم علم اسائنسی اعتبار سے بھی بھی حقیقی علم ہے ۔ جو لوگ غیب کا انکار کرتے ہیں وہ جاہل ہیں حالانکہ وہ دعوی کرتے ہیں کہ وہ بہت کچھ جاننے والے ہیں ۔ اسلامی فکر کی اساس یہ ہے کہ ایک مسلمان ایسے غیبی حقائق کے وجود کا اقرار کرتا ہے جس کا حقیقی علم صرف اللہ کو ہے ۔ اس علم کی کنجیاں اللہ کے ہاتھ میں ہیں ۔ پھر اسلامی فکر یہ بھی یقین رکھتی ہے کہ یہ کائنات سنن الہیہ کے مطابق چل رہی ہے ۔ اور ان سنن الہیہ میں سے بعض ایسے ہیں جن کا علم فریضہ خلافت فی الارض کے لئے ضروری ہے ۔ ان اصولوں کے ساتھ مضبوط اساسوں پر ہم آہنگی اختیار کرنا بھی ضروری ہے ۔ چناچہ اسلامی ذہنیت اور اسلامی فکر کی وجہ سے انسان نہ علم ومعرفت سے محروم ہوتا ہے اور نہ حقیقت واقعیہ کے ادراک سے محروم ہوتا ہے ۔ اس عالم شہادت سے آگے ایک عالم غیب ہے اور اس عالم مغیبات کا علم صرف اللہ کو ہے اور اپنے بندوں میں سے اگر اللہ چاہے تو کسی قدر علم کسی کو عطا کر دے ۔ ایمان بالغیب وہ دشوار گزار گھاٹی ہے جس کو انسان نے ضرور عبور کرنا ہے ۔ جب تک وہ اس مقام پر فائز نہیں ہوتا وہ حیوانی مقام سے بلند ہو کر انسانی مقام تک پہنچ ہی نہیں سکتا ۔ کیونکہ حیوان صرف ان امور کا ادراک کرسکتا ہے جو اس کے حواس کے دائرے میں آتے ہیں ۔ اس حقیقت کا ادراک صرف انسان ہی کرسکتا ہے کہ یہ کائنات صرف اسی قدر محدود نہیں ہے جو اس کے حواس میں آتی ہے یہ بہت ہی وسیع ہے بلکہ اس سے بھی وسیع تر ہے جو بذریعہ آلات اس کے ترقی دادہ حواس کے دائرہ ادراک میں آرہی ہے ۔ یہ اسلامی تصور اس کائنات کے تصور سے کہیں وسیع تر تصور ہے بلکہ اس کائنات کے بارے میں انسان سوچ کے اندر یہ ایک دور رس تبدیلی ہے ۔ یہ انسانی شخصیت کے بارے میں بھی انسانی سوچ میں ایک دور رس تبدیلی ہے ۔ انسانی شخصیت کے اندر جو قوتیں کار فرما ہیں ان کے بارے میں بھی انقلابی سوچ ہے ۔ اس سوچ کے تحت ایک انسان کے اندر اس کائنات کے بارے میں اور اس کے پیچھے کام کرنے والی قوتوں کے بارے میں ایک نیا احساس پیدا ہوتا ہے ۔ اس تصور کے اثرات اس کرہ ارض پر انسان کی عملی زندگی پر بھی پڑتے ہیں اس لئے کہ وہ انسان جو صرف ماحول کا اپنے حواس کے ساتھ ایک محدود مشاہدہ کرتا ہے اس انسان کے مساوی نہیں ہو سکتا جو اپنی بصیرت اور اپنے نظریات کی وجہ سے اس کائنات کے بارے میں وسیع تر سوچ رکھتا ہے ۔ یہ عقلمند انسان فطرت کائنات کی آواز کو اپنی شخصیت کے نہاں خانے سے سنتا ہے اور اپنے دل کی گہرائیوں سے اشارات پاتا ہے ۔ وہ یہ شعور رکھتا ہے کہ اس کا دائرہ کار زمان ومکان کی قید سے زیادہ وسیع ہے ۔ اور اس کی شخصیت اس سے کہیں وسیع ہے جو وہ سمجھتا ہے یا اپنی عمر کے ایک مختصر عرصے میں وہ سمجھ سکتا ہے ۔ وہ اس بات کا شعور رکھتا ہے کہ اس ظاہری اور پوشیدہ کائنات کے پس پست ایک عظیم حقیقت ہے اور یہ حقیقت اس کائنات سے بڑی اور اس کی خالق ہے ۔ اس عظیم حقیقت کے وجود ہی سے تمام کائنات کا وجود مستعاد ہے ۔ یہ ہے حقیقت باری تعالیٰ جسے آنکھیں نہیں پا سکتیں اور جو انسانی کی عقل کے احاطے میں نہیں آسکتی ۔ ایمان بالغیب وہ یونٹ ہے جہاں سے انسان اور حیوان کے راستے جدا ہوتے ہیں اور انسان عالم حیوانیت سے بلند ہوتا ہے ۔ لیکن ہر زمانے کی طرح ہمارے دور کے مادہ پرست بھی یہ چاہتے ہیں کہ انسان کو انسانیت کے مقام بلند سے گرا کر عالم حیوانیت کی طرف لوٹا کرلے آئیں جہاں وہی چیز حقیقت سمجھی جاتی ہے جو حواس کے دائرے میں آتی ہے ۔ یہ مادیت پسند اس بات کو ترقی پسندی کہتے ہیں حالانکہ یہ دراصل رجعت پسندی اور ناکامی ہے جس سے اللہ نے مسلمانوں کو ابھی تک بچایا ہے ۔ لہذا ان کی امتیازی صفت ہی یہ قرار دی گئی کہ یومنون بالغیب (جو غیب پر ایمان لاتے ہیں) اور یہ اللہ کی بہت بڑی نعمت ہے ۔ جس پر ہم اللہ کا شکر ادا کرتے ہیں ۔ یہ نکتہ گرنے والوں اور منہ موڑنے والوں کے لئے ہلکات اور تباہی کا مقام ہے ۔ جو لوگ غیب اور سائنس کا باہم تقابل کرکے بحث کرتے ہیں وہ تاریخی واقعات کی فیصلہ کن تعبیر کرتے ہیں ۔ ان کے نزدیک گویا مستقبل ان کے سامنے یقینی صورت میں موجود ہے حالانکہ جدید ترین سائنسی انکشافات یہ ہیں کہ مستقبل کا دارومدار محض احتمالات پر ہے ۔ مستقبل کے بارے میں انسان کوئی حتمی بات نہیں کہہ سکتا ۔ مارکس کی یہ عادت تھی کہ وہ تاریخی اسباب کی روشنی میں مستقبل کے لئے قطعی فیصلے کرتا تھا ۔ لیکن آج کا انسان بچشم سردیکھ سکتا ہے کہ مارکس کی ان تمام پیشین گوئیوں کا حشر کیا ہوا ؟ مارکس نے یہ نتیجہ اخذ کیا تھا کہ سب سے پہلے انگلستان میں کمیونزم نافذ ہوگا کیونکہ انگلستان صنفی اعتبار سے چوٹی پر پہنچ چکا ہے ۔ وہاں ایک طرف سرمایہ دار عروج پر ہے اور دوسری جانب جانب مزدور فقر وفاقے کے اعتبار سے اپنی آخری منزل تک پہنچ چکا ہے ۔ لیکن بعد کے ادوار میں ہم نے دیکھا کہ نہایت ہی پسماندہ اقوام کے اندر کمیونزم کامیاب ہوا ‘ مثلا روس اور چین میں اور صنعتی اعتبار سے ترقی یافتہممالک میں سے کسی ایک میں بھی کمیونسٹ انقلاب برپا نہ ہوا۔ لینن اور اسٹالن نے یہ پیشین گوئی کی تھی کہ سوشلسٹ دنیا اور سرمایہ دار دنیا کے درمیان کسی وقت بھی عالمگیر جنگ ہوگی ‘ لیکن ان دونوں کے خلیفہ خرد شیف باہم سلامتی اور دیانت کے جھنڈے اٹھائے ہوئے ہیں ۔۔۔۔ ۔۔ میرا خیال ہے کہ ان لوگوں کی پیشین گوئیوں پر مزید بحث کرکے اپنا وقت ضائع نہیں کرنا چاہئے کیونکہ ان لوگوں کی یہ یقینی پیشین گویاں اس لائق نہیں کہ ان پر کوئی سنجیدہ بحث کی جائے ۔ یقینی حقیقت اگر کوئی ہے تو یہی غیبی حقیقت ہے اور اس کے سوا تمام باتیں محض احتمالات ہیں ۔ اگر کوئی حتمی بات ہے تو وہی ہے جس کا فیصلہ اللہ کی قضا وقدر نے کردیا ہے اور مستقبل کے بارے میں اللہ نے کیا فیصلہ کیا ہے ‘ اس کا کسی کو علم نہیں ہے سوائے اللہ کے ۔ ہاں تقدیر الہی کے اٹل حقیقت ہونے کے باوجود اس کائنات کے بارے میں کچھ سنن الہیہ ایسی بھی ہیں جو اٹل ہیں اور جو تقدیر الہیہ کا حصہ ہیں ۔ ان میں سے بعض سنن الہیہ تک انسان کی رسائی بھی ممکن ہے اور ان تک رسائی حاصل کرکے انسان اپنے منصب خلافت الہیہ کے فرائض کو بہت ہی اچھی طرح ادا کرسکتا ہے ۔ لیکن ان وسائل کے باوجود اللہ کا فیصلہ اور اس کی تقدیر سپریم ہے اور تقدیر الہی نامعلوم ہے ۔ یہ اس کائنات کی اصل حقیقت ہے اور (ان ھذا القرآن یھدی للتی ھی اقوم) (١٧ : ٩) یہ قرآن کریم اس بات کی طرف راہنمائی کرتا ہے جو نہایت ہی سیدھی ہے ۔ اب روئے سخن غیب کے علوم کی کنجیوں سے اس کائنات کے ایک خاص پہلو کی طرف مر جاتا ہے ۔ یعنی ذات انسانی کی طرف جو اس کائنات ہی کا ایک حصہ ہے اور اللہ کی قدرت کے کرشموں میں سے اہم کرشمہ ہے جس سے اللہ کے علم محیط کا بہت ہی اچھی طرح اظہار ہوتا ہے ۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

اللہ ہی کے پاس غیب کی کنجیاں ہیں، بروبحر میں جو کچھ ہے وہ سب اس کے علم میں ہے۔ پہلی آیت میں اللہ جل شانہٗ کے علم کی وسعت قدرے تفصیل کے ساتھ بیان فرمائی ہے۔ اجمالی طور پر علم الٰہی کو بہت سی جگہ بیان فرمایا ہے اور (وَ ھُوَ بِکُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمٌ) کا عموم ہر چیز کے علم کو شامل ہے۔ اس کا عموم موجودات، معدومات، ممکنات ممتنعات سب کے علم کو شامل ہے۔ اور سورة تغابن میں فرمایا (یَعْلَمُ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَیَعْلَمُ مَا تُسِرُّونَ وَمَا تُعْلِنُوْنَ وَاللّٰہُ عَلِیْمٌ بِذَات الصُّدُوْرِ ) اور سورة یونس میں فرمایا (وَ لَا یَعْزُبُ عَنْ رَّبِکَ مِنْ مِّثْقَالِ ذَرَّۃٍ فِی الْاَرْضِ وَلَا فِی السَّمَآء) اور سورة مائدہ میں فرمایا (اَنَّ اللّٰہَ یَعْلَمُ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَمَا فِی الْاَرْضِ ) اور سورة طلاق میں ہے۔ (وَ اَنَّ اللّٰہَ قَدْ اَحَاطَ بِکُلِّ شَیْءٍ عِلْمًا) یعنی اللہ تعالیٰ کا علم ہر چیز پر محیط ہے۔ سورة نمل میں فرمایا (قُلْ لَّا یَعْلَمُ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ الْغَیْبَ اِلَّا اللّٰہُ وَ مَا یَشْعُرُوْنَ اَیَّانَ یُبَعَثُوْنَ ) آیت بالا میں یہ بیان فرمایا کہ غیب کی کنجیاں صرف اللہ ہی کے پاس ہیں انہیں صرف وہی جانتا ہے۔ خشکی اور سمندر میں جو کچھ ہے سب کو جانتا ہے۔ ہزاروں قسم کی مخلوق ان کی اجناس اور انواع و اصناف اور ان کے افراد اسے ان سب کا علم ہے۔ نیز یہ بھی فرمایا کہ جو بھی کوئی پتا گرتا ہے اسے اس کا علم ہے اور زمین کی اندھیریوں میں (زمین کے اندر ساتویں زمین کی منتہیٰ تک) اور زمین کے اوپر جو بھی کوئی چیز ہے تر ہو یا خشک ہو اور جہاں بھی ہو وہ سب کتاب مبین یعنی لوح محفوظ میں موجود ہے۔ حضرت ابن عباس (رض) نے فرمایا کہ رطب سے مراد وہ ہے جو اگتا ہے اور یابس سے مراد وہ ہے جو اگتا نہیں بعض علماء نے فرمایا ہے کہ رطب ویا بس سے تمام اجسام مراد ہیں اس لیے کہ اجسام کی دو قسمیں ہیں یعنی رطب اور یابس، اور ایک قول یہ بھی ہے کہ رطب سے حی یعنی زندہ اور یا بس بےجان چیزیں مراد ہیں۔ مفسرین کی ایک جماعت نے کتاب مبین سے لوح محفوظ کو مراد لیا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا علم ازلی ہے اور ابدی ہے اسے جاننے یاد رکھنے کے لیے کسی کتاب کی ضرورت نہیں لوح محفوظ میں لکھنے کا ایک فائدہ تو یہ ہے کہ جو کچھ وجود میں آتا رہے فرشتوں کو اس کا علم ہوتا رہے کہ یہ سب معلومات الٰہیہ میں سے ہے اور مخلوقات الٰہیہ میں سے ہے اور ایک یہ حکمت بھی ہے کہ جو لوگ مکلف ہیں وہ یہ یقین کرلیں کہ ہمارے اعمال میں سے کوئی چیز ایسی نہیں ہے جو لکھنے سے رہ گئی ہو۔ اس کتاب کو لوح محفوظ اس لیے کہا جاتا ہے کہ وہ تحریف سے اور شیاطین کے وہاں تک پہنچنے سے محفوظ ہے کوئی اسے بدل نہیں سکتا۔ (روح المعانی ج ٧ ص ١٧٢) علم غیب صرف اللہ ہی کے لیے مخصوص ہے وہ جس مخلوق کو جتنا علم عطا فرما دے اسی قدر علم حاصل ہوجاتا ہے۔ آلات کے ذریعہ جو علم ہو وہ علم غیب نہیں بعض بےعلم لوگ جو یہ کہتے ہیں کہ بارش آنے کا علم پہلے سے ہوجاتا ہے یا رحم مادر میں جو ہے اس کے نر مادہ ہونے کا عمل ماہروں کو ہوجاتا ہے اس لیے یہ علم غیب ہوا۔ یہ جاہلانہ بات ہے۔ بارش کا جو پتہ چل جاتا ہے وہ آلات کے ذریعہ ہواؤں کا رخ دیکھ کر پتہ چلاتے ہیں اور وہ بھی حتمی نہیں ہوتا اللہ تعالیٰ کا علم ہمیشہ سے ہے اور آلات کے بغیر ہے آلات نہیں تھے جب بھی سب کچھ جانتا تھا اسی طرح مادہ منویہ کے تجربات سے اور ایکسرے وغیرہ سے نر و مادہ کا معلوم ہوجانا بھی علم غیب نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ کو علم کے لیے نہ آلات کی ضرورت ہے نہ تجربات کی اسے تو ابو البشر سیدنا آدم (علیہ السلام) کی پیدائش سے پہلے معلوم ہے کہ ان کی کتنی نسل ہوگی اور ان کی نسل میں کس کس مرد اور کس کس عورت سے کون کون پیدا ہوگا۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

66 یہ توحید پر آٹھویں عقلی دلیل ہے۔ نیز عذاب نہیں لاسکتے تو یہ بتاؤ کہ عذاب کب آئے گا۔ اس کا جواب دیا کہ اس کا علم اللہ کے سوا کسی کو نہیں۔ یہ قاعدہ کلیہ ہے اور عندہ ظرف کی تقدیم افادہ حصر کے لیے و یعلم ما فی البر والبحر یہ قاعدہ کلیہ کی جزئیات ہیں اور یہاں بھی حصر ہے وَ مَا تَسْقُطُ مِنْ وَّرَقَۃً الخ یعنی ان اشیاء اور جزئیات کے احوال متغیرہ کو بھی صرف اللہ ہی جانتا ہے اور کوئی نہیں جانتا۔ کِتٰبٍ مُّبِیْن اس سے مراد اعمال نامے ہیں جو فرشتوں کے پاس ہوتے ہیں یا اس سے لوح محفوظ یعنی علم الٰہی مراد ہے اور یہی اولی اور راجح ہے۔ اِلَّا فِیْ کِتَاب مُّبِیْنٌ۔ وھو علم اللہ او اللوح المحفوظ (مدارک ج 2 ص 13) ۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

59 اور اللہ تعالیٰ ہی کے پاس تمام اشیائے مخفیہ کے خزانے ہیں اور ان اشیائے مخفیہ کے خزانوں کو سوائے اس کے اور کوئی نہیں جانتا یعنی جملہ اشیائے ممکنہ کے خزانوں کا بھی وہی مالک ہے اور ان جملہ اشیاء کا علم بھی اسی کے پاس ہے اور وہ ان تمام اشیاء کو بھی جانتا ہے جن کو خشکی اور تری کے دونوں دامن سمیٹے ہوئے ہیں یعنی خشکی اور تری کی ہر چیز کو جانتا ہے اور کوئی پتہ تک درخت سے نہیں گرتا مگر یہ کہ وہ جانتا ہے اور کوئی دانہ زمین کی تاریکیوں میں نہیں پڑتا مگر یہ کہ وہ اس کو بھی جانتا ہے اور نہ کوئی تر اور خشک چیز گرتی ہے مگر یہ کہ وہ کتاب واضح ینی لوح محفوظ میں موجود و مرقوم ہے یعنی خزانہ ہائے غیب کی کنجیاں اسی کے پاس ہیں اور ان خزانہ ہائے مغیبات کا علم سوائے اس کے کسی کو نہیں اور تری اور خشکی کی تمام اشیاء کا علم بھی اسی کو ہے خواہ کوئی چیز بیاباں میں ہو یا دریا میں اور سمندروں میں ہو درخت سے کوئی پتہ تک نہیں گرتا اور زمین کے اندر کوئی بیج نہیں پڑتا مگر اس سب کو بھی جانتا ہے اور ہر تر اور خشک چیز لوح محفوظ میں مرقوم اور مکتوب ہے۔