Surat ul Anaam

Surah: 6

Verse: 60

سورة الأنعام

وَ ہُوَ الَّذِیۡ یَتَوَفّٰىکُمۡ بِالَّیۡلِ وَ یَعۡلَمُ مَا جَرَحۡتُمۡ بِالنَّہَارِ ثُمَّ یَبۡعَثُکُمۡ فِیۡہِ لِیُقۡضٰۤی اَجَلٌ مُّسَمًّی ۚ ثُمَّ اِلَیۡہِ مَرۡجِعُکُمۡ ثُمَّ یُنَبِّئُکُمۡ بِمَا کُنۡتُمۡ تَعۡمَلُوۡنَ ﴿٪۶۰﴾  13

And it is He who takes your souls by night and knows what you have committed by day. Then He revives you therein that a specified term may be fulfilled. Then to Him will be your return; then He will inform you about what you used to do.

اور وہ ایسا ہے کہ رات میں تمہاری روح کو ( ایک گونہ ) قبض کر دیتا ہے اور جو کچھ تم دن میں کرتے ہو اس کو جانتا ہے پھر تم کو جگا اٹھاتا ہے تاکہ میعاد معین تمام کر دی جائے پھر اسی کی طرف تم کو جانا ہے پھر تم کو بتلائے گا جو کچھ تم کیا کرتے تھے ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

The Servants are in Allah's Hands Before and After Death Allah states that He brings death to His servants in their sleep at night, for sleep is minor death. Allah said in other Ayat, إِذْ قَالَ اللَّهُ يعِيسَى إِنِّي مُتَوَفِّيكَ وَرَافِعُكَ إِلَىَّ And (remember) when Allah said: "O `Isa! I will take you and raise you to Myself..." (3:55) and, اللَّهُ يَتَوَفَّى الاٌّنفُسَ حِينَ مِوْتِـهَا وَالَّتِى لَمْ تَمُتْ فِى مَنَامِـهَا فَيُمْسِكُ الَّتِى قَضَى عَلَيْهَا الْمَوْتَ وَيُرْسِلُ الاٍّخْرَى إِلَى أَجَلٍ مُّسَمًّى It is Allah Who takes away the souls at the time of their death, and those that die not during their sleep. He keeps those (souls) for which He has ordained death and sends the rest for a term appointed. (39:42) thus mentioning both minor and major death. Allah says, وَهُوَ الَّذِي يَتَوَفَّاكُم بِاللَّيْلِ وَيَعْلَمُ مَا جَرَحْتُم بِالنَّهَارِ ... It is He, Who takes your souls by night (when you are asleep), and has knowledge of all that you have done by day, meaning, He knows the deeds and actions that you perform during the day. This Ayah demonstrates Allah's perfect knowledge of His creation, by day and night, and in their movements and idleness. Allah said in other Ayat, سَوَاءٌ مِّنْكُمْ مَّنْ أَسَرَّ الْقَوْلَ وَمَنْ جَهَرَ بِهِ وَمَنْ هُوَ مُسْتَخْفٍ بِالَّيْلِ وَسَارِبٌ بِالنَّهَارِ It is the same (to Him) whether any of you conceal his speech or declare it openly, whether he be hid by night or go forth freely by day. (13:10) and, وَمِن رَّحْمَتِهِ جَعَلَ لَكُمُ الَّيْلَ وَالنَّهَارَ لِتَسْكُنُواْ فِيهِ وَلِتَبْتَغُواْ مِن فَضْلِهِ It is out of His mercy that He made night and day, so that you may rest therein, (by night), and that you may seek of His bounty (by day). 28:73) Allah said, وَجَعَلْنَا الَّيْلَ لِبَاساً وَجَعَلْنَا النَّهَارَ مَعَاشاً And (We) have made the night as a covering. And (We) have made the day for livelihood. (78:10-11) Allah said here, وَهُوَ الَّذِي يَتَوَفَّاكُم بِاللَّيْلِ وَيَعْلَمُ مَا جَرَحْتُم بِالنَّهَارِ ... It is He, Who takes your souls by night (when you are asleep), and has knowledge of all that you have done by day, (6:60) Then said, ... ثُمَّ يَبْعَثُكُمْ فِيهِ ... then he raises (wakes) you up again, According to Mujahid, Qatadah and As-Suddi, by day. Allah's statement, ... لِيُقْضَى أَجَلٌ مُّسَمًّى ... that a term appointed be fulfilled. refers to the life span of every person, ... ثُمَّ إِلَيْهِ مَرْجِعُكُمْ ... then (in the end), unto Him will be your return. on the Day of Resurrection. ... ثُمَّ يُنَبِّيُكُم بِمَا كُنتُمْ تَعْمَلُونَ Then He will inform you of what you used to do. He will reward you, good for good, and evil for evil. Allah's statement,

نیند موت کی چھوٹی بہن وفاۃ صغریٰ یعنی چھوٹی موت کا بیان ہو رہا ہے اس سے مراد نیند ہے ، جیسے اس آیت میں ہے آیت ( اِذْ قَالَ اللّٰهُ يٰعِيْسٰٓى اِنِّىْ مُتَوَفِّيْكَ وَرَافِعُكَ اِلَيَّ وَمُطَهِّرُكَ مِنَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا وَجَاعِلُ الَّذِيْنَ اتَّبَعُوْكَ فَوْقَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْٓا اِلٰى يَوْمِ الْقِيٰمَةِ ۚثُمَّ اِلَيَّ مَرْجِعُكُمْ فَاَحْكُمُ بَيْنَكُمْ فِيْمَا كُنْتُمْ فِيْهِ تَخْتَلِفُوْنَ ) 3 ۔ آل عمران:55 ) یعنی جبکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اے عیسیٰ میں تجھے فوت کرنے والا ہوں ( یعنی تجھ پر نیند ڈالنے والا ہوں ) اور اپنی طرف چڑھا لینے والا ہوں اور جیسے اس آیت میں ہے آیت ( اَللّٰهُ يَتَوَفَّى الْاَنْفُسَ حِيْنَ مَوْتِهَا وَالَّتِيْ لَمْ تَمُتْ فِيْ مَنَامِهَا ۚ فَيُمْسِكُ الَّتِيْ قَضٰى عَلَيْهَا الْمَوْتَ وَيُرْسِلُ الْاُخْرٰٓى اِلٰٓى اَجَلٍ مُّسَمًّى ۭ اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ لَاٰيٰتٍ لِّــقَوْمٍ يَّتَفَكَّرُوْنَ ) 39 ۔ الزمر:42 ) یعنی اللہ تعالیٰ نفسوں کو ان کی موت کے وقت مار ڈالتا ہے اور جن کی موت نہیں آئی انہیں نیند کے وقت فوت کر لیتا ہے ( یعنی سلا دیتا ہے ) موت والے نفس کو تو اپنے پاس روک لیتا ہے اور دوسرے کو مقررہ وقت پورا کرنے کے لئے پھر بھیج دیتا ہے ، اس آیت میں دونوں وفاۃ بیان کر دی ہیں ۔ وفاۃ کبریٰ اور وفاۃ صغریٰ اور جس آیت کی اس وقت تفسیر ہو رہی ہے اس میں بھی دونوں وفاتوں کا ذکر ہے ، وفاۃ صغری ٰ یعنی نیند کا پہلے پھر وفاۃ کبریٰ یعنی حقیقی موت کا ۔ بیچ کا جملہ آیت ( وَيَعْلَمُ مَا جَرَحْتُمْ بِالنَّهَارِ ثُمَّ يَبْعَثُكُمْ فِيْهِ لِيُقْضٰٓى اَجَلٌ مُّسَمًّى ) 6 ۔ الانعام:60 ) جملہ معترضہ ہے جس سے اللہ کے وسیع علم کی دلالت ہو رہی ہے کہ وہ دن رات کے کسی وقت اپنی مخلوق کی کسی حالت سے بےعلم نہیں ، ان کی حرکات و سکنات سب جانتا ہے ، جیسے فرمان ہے آیت ( سَوَاۗءٌ مِّنْكُمْ مَّنْ اَسَرَّ الْقَوْلَ وَمَنْ جَهَرَ بِهٖ وَمَنْ هُوَ مُسْتَخْفٍۢ بِالَّيْلِ وَسَارِبٌۢ بِالنَّهَارِ ) 13 ۔ الرعد:10 ) یعنی چھپا کھلا رات کا دن کا سب باتوں کا اسے علم ہے اور آیت میں ہے ( وَمِنْ رَّحْمَتِهٖ جَعَلَ لَكُمُ الَّيْلَ وَالنَّهَارَ لِتَسْكُنُوْا فِيْهِ وَلِتَبْتَغُوْا مِنْ فَضْلِهٖ وَلَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ ) 28 ۔ القصص:73 ) یعنی یہ بھی رب کی رحمت ہے کہ اس نے تمہارے سکون کا وقت رات کو بنایا اور دن کو تلاش معاش کا وقت بنایا اور آیت میں ارشاد ہے آیت ( وَّجَعَلْنَا الَّيْلَ لِبَاسًا ) 78 ۔ النبأ:10 ) رات کو ہم نے لباس اور دن کو سبب معاش بنایا یہاں فرمایا رات کو وہ تمہیں سلا دیتا ہے اور دنوں کو جو تم کرتے ہو اس سے وہ آگاہ ہے ، پھر دن میں تمہیں اٹھا بٹھا دیتا ہے ۔ ایک معنی یہ بھی بیان کئے گئے ہیں کہ وہ نیند میں یعنی خواب میں تمہیں اٹھا کھڑا کرتا ہے لیکن اول معنی ہی اولی ہیں ، ابن مردویہ کی ایک مرفوع روایت میں ہے کہ ہر انسان کے ساتھ ایک فرشتہ مقرر ہے جو سونے کے وقت اس کی روح کو لے جاتا ہے پھر اگر قبض کرنے کا حکم ہوتا ہے تو وہ اس روح کو نہیں لوٹاتا ورنہ بحکم الہی لوٹا دیتا ہے ، یہی معنی اس آیت کے جملے آیت ( وَهُوَ الَّذِيْ يَتَوَفّٰىكُمْ بِالَّيْلِ وَيَعْلَمُ مَا جَرَحْتُمْ بِالنَّهَارِ ) 6 ۔ الانعام:60 ) کا ہے تاکہ اس طرح عمر کا پورا وقت گزرے اور جو اجل مقرر ہے وہ پوری ہو ، قیامت کے دن سب کا لوٹنا اللہ ہی کی طرف ہے پھر وہ ہر ایک کو اس کے عمال کا بدلہ دے گا نیکوں کو نیک اور بدوں کو برا ، وہی ذات ہے جو ہر چیز پر غالب و قادر ہے اس کی جلالت عظمت عزت کے سامنے ہر کوئی پست ہے بڑائی اس کی ہے اور سب اس کے سامنے عاجز و مسکین ہیں وہ اپنے محافظ فرشتوں کو بھیجتا ہے جو انسان کی دیکھ بھال رکھتے ہیں جیسے فرمان عالیشان ہے آیت ( لَهٗ مُعَقِّبٰتٌ مِّنْۢ بَيْنِ يَدَيْهِ وَمِنْ خَلْفِهٖ يَحْفَظُوْنَهٗ مِنْ اَمْرِ اللّٰهِ ) 13 ۔ الرعد:11 ) پس یہ فرشتے تو وہ ہیں جو انسان کی جسمانی حفاظت رکھتے ہیں اور دائیں بائیں آگے پیچھے سے اسے بحکم الہی بلاؤں سے بچاتے رہتے ہیں ، دوسری قسم کے وہ فرشتے ہیں جو اس کے اعمال کی دیکھ بھال کرتے ہیں اور ان کی نگہبانی کرتے رہتے ہیں جیسے فرمایا آیت ( وَاِنَّ عَلَيْكُمْ لَحٰفِظِيْنَ ) 82 ۔ الانفطار:10 ) ان ہی فرشتوں کا ذکر آیت ( اِذْ يَتَلَقَّى الْمُتَلَقِّيٰنِ عَنِ الْيَمِيْنِ وَعَنِ الشِّمَالِ قَعِيْدٌ ) 50 ۔ ق:17 ) میں ہے پھر فرمایا یہاں تک کہ تم میں سے کسی کی موت کا وقت آ جاتا ہے تو سکرات کے عالم میں اس کے پاس ہمارے وہ فرشتے آتے ہیں جو اسی کام پر مقرر ہیں ۔ حضرت ابن عباس فرماتے ہیں ملک الموت کے بہتے مددگار فرشتے ہیں جو روح کو جسم سے نکالتے ہیں اور حلقوم تک جب روح آ جاتی ہے پھر ملک الموت اسے قبض کر لیتے ہیں ۔ اس کا مفصل بیان آیت ( یثبت اللہ میں آئے گا انشاء اللہ تعالیٰ ۔ پھر فرمایا وہ کوئی کمی نہیں کرتے یعنی روح کی حفاظت میں کوتاہی نہیں کرتے ۔ اسے پوری حفاظت کے ساتھ یا تو علین میں یک روحوں سے ملا دیتے ہیں یا سجبین میں بری روحوں ڈال دیتے ہیں ۔ پھر وہ سب اپنے سچے مولی کی طرف بلا لئے جائیں گے ۔ مسند احمد میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ مرنے والے کی روح کو نکالنے کے لئے فرشتے آتے ہیں اور اگر وہ نیک ہے تو اس سے کہتے ہیں اے مطمئن روح جو پاک جسم میں تھی تو نہایت اچھائیوں اور بھلائیوں سے چل تو راحت و آرام کی خوسخبری سن تو اس رب کی طرف چل جو تجھ پر کبھی خفا نہ ہو گا ، وہ اسے سنتے ہی نکلتی ہے اور جب تک وہ نکل نہ چکے تب تک یہی مبارک صدا اسے سنائی جاتی ہے پھر اسے آسمانوں پر لے جاتے ہیں اس کیلئے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں اور فرشتے اس کی آؤ بھگت کرتے ہیں مرحبا کہتے ہوئے ہاتھوں ہاتھ لیتے ہیں اور جو موت کے فرشتوں نے کہا تھا وہی خوشخبری یہ بھی سناتے ہیں یہاں تک کہ اسی طرح نہایت تپاک اور گرم جوشی سے فرشتوں کے استقبال کے ساتھ یہ نیک روح اس آسمان تک پہنچتی ہے جس میں اللہ تعالیٰ ہے ، ( اللہ تعالیٰ ہماری موت بھی نیک پر کرے ) اور جب کوئی برا آدمی ہوتا ہے تو موت کے فرشتے اس سے کہتے ہیں کہ اے خبیث روح جو گندے جسم میں تھی تو بری بن کر چل گرم کھولتے ہوئے پانی اور سڑی بھسی غذا اور طرح طرح کے عذابوں کی طرف چل ، پھر وہ اس روح کو نکالتے ہیں اور یہی کہتے رہے ہیں پھر اسے آسمان کی طرف چڑھاتے ہیں دروازہ کھولنا چاہتے ہیں ، آسمان کے فرشتے پوچھتے ہیں کون ہے؟ یہ اس کا نام بتاتے ہیں تو وہ کہتے ہیں اس خبیث نفس کے لئے مرحبا نہیں ، یہ تھا بھی ناپاک جسم میں تو برائی کے ساتھ لوٹ جا ، تیرے لئے آسمانوں کے دروازے نہیں کھلتے ، چنانچہ اسے زمین کی طرف پھینک دیا جاتا ہے ، پھر قبر پر لائی جاتی ہے ، پھر قبر میں ان دونوں روحوں سے سوال جواب ہوتے ہیں جیسے پہلی حدیثیں گزر چکیں ۔ پھر اللہ کی طرف لوٹائے جاتے ہیں اس سے مطلب یہ بھی ہو سکتا ہے کہ فرشتے لوٹائے جاتے ہیں ۔ اس سے مطلب یہ بھی ہو سکتا ہے کہ فرشتے لوٹائے جاتے ہیں یا یہ کہ مخلوق لوٹائی جاتی ہے یعنی قیامت کے دن ، پھر جناب باری ان میں عدل و انصاف کرے گا اور احکام جاری فرمائے گا ، جیسے فرمایا آیت ( قُلْ اِنَّ الْاَوَّلِيْنَ وَالْاٰخِرِيْنَ ) 56 ۔ الواقعہ:49 ) یعنی کہدے کہ اول آخر والے سب قیامت کے دن جمع ہوں گے اور آیت میں ہے آیت ( وحشرنا ھم فلم نغادر من ھم احدا ) ہم سب کو جمع کریں گے اور کسی کو بھی باقی نہ چھوڑیں گے یہاں بھی فرمایا کہ اپنے سچے مولی کی طرف سب کو لوٹنا ہے ۔ جو بہت جلدی حساب لینے والا ہے ۔ اس سے زیادہ جلدی حساب میں کوئی نہیں کر سکتا ۔

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

60۔ 1 یہاں نیند کو وفات سے تعبیر کیا گیا ہے، اسی لئے اسے وفات اصغر اور موت کو وفات اکبر کہا جاتا ہے (وفات کی وضاحت کے لئے دیکھئے (آل عمران کی آیت 55 کا حشیہ) 60۔ 2 یعنی دن کے وقت روح واپس لوٹا کر زندہ کردینا ہے۔ 60۔ 3 یعنی یہ سلسلہ شب و روز اور وفات اصغر سے ہمکنار ہو کر دن کو پھر اٹھ کر کھڑے ہونے کا معمول، انسان کی وفات اکبر تک جاری رہے گا 61۔ 4 یعنی پھر قیامت والے دن زندہ ہو کر سب کو اللہ کی بارگاہ میں حاضر ہونا ہے۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٦٥] روح کی قسمیں اور حشر ونشر پر دلیل :۔ روح دو قسم کی ہوتی ہے ایک حیوانی دوسرے روحانی یا نفسانی۔ رات کو یا نیند کے دوران روح نفسانی جسم سے نکل جاتی ہے۔ جس کے متعلق اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ وہ اسے قبض کرلیتا ہے۔ اس روح کے جسم سے علیحدہ ہونے کا اثر یہ ہوتا ہے کہ انسان کی سماعت، بصارت اور قلب و دماغ اپنا کام کرنا چھوڑ دیتے ہیں لیکن حیوانی روح جسم میں موجود رہتی ہے جس کی وجہ سے انسان میں دوران خون جاری رہتا ہے اور وہ سانس بھی لیتا رہتا ہے اور نیند پوری ہونے کے بعد یا سوئے ہوئے کو جگانے سے روح نفسانی بھی جسم میں واپس لوٹ آتی ہے اور ان دونوں قسم کی روحوں کا آپس میں تعلق یہ ہوتا ہے کہ کسی ایک روح کے خاتمہ سے یا قبض کرنے سے دوسرے کا از خود خاتمہ ہوجاتا ہے اور انسان پر موت واقع ہوجاتی ہے گویا سوئے ہوئے انسان پر آدھی موت طاری ہوچکی ہوتی ہے اسی لیے رسول اللہ نے نیند کو موت کی بہن قرار دیا ہے اسی حقیقت کو اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں بیان فرمایا اور اس حقیقت سے ایک دوسری بڑی حقیقت پر استدلال کیا ہے جو یہ ہے کہ جس طرح اللہ تمہاری نفسانی روح رات کو قبض کر کے صبح واپس تمہارے جسم میں بھیج دیتا ہے اسی طرح موت کے وقت تمہاری روح قبض کرلیتا ہے اور جب قیامت قائم ہوگی تو وہی روح واپس بھیج کر تمہیں تمہاری قبروں سے اٹھا کھڑا کرے گا۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

يَتَوَفّٰىكُمْ بالَّيْلِ یہاں قبض کرنے سے مراد نیند ہے۔ ” تَوَفِّیْ “ کی تشریح کے لیے دیکھیے سورة زمر (١٢) ۔ ثُمَّ يَبْعَثُكُمْ فِيْهِ : یعنی دن کے وقت تمہاری روح لوٹا دیتا ہے، معلوم ہوا کہ نیند بھی ایک طرح کی موت ہے۔ لِيُقْضٰٓى اَجَلٌ مُّسَمًّى ۚ : یعنی تم میں سے ہر ایک کے لیے جو رزق اور عمر متعین ہے وہ پوری کی جاتی ہے۔ ثُمَّ اِلَيْهِ مَرْجِعُكُمْ ۔۔ : یعنی دن میں تمہاری روح لوٹا کر زندہ کردیتا ہے اور اسے معلوم ہے کہ تم نے اچھے عمل کیے یا برے، پھر اچھا کام کیا ہوگا تو اچھا بدلہ دے گا اور برا کیا ہوگا تو برا بدلہ دے گا۔ اوپر کی آیت میں کمال علم کا بیان تھا اور اس سے کمال قدرت ثابت ہوتی ہے۔ (رازی)

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

No doubt, Allah Ta’ ala had blessed His Messengers (علیہم السلام) spe¬cially the Last among them (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) with the knowledge of many things from the Unseen, more than the knowledge of all angels and prophets, but it is obvious that the knowledge of anyone cannot be equal to that of Allah, nor it can ever be. Otherwise, this will become the kind of excess the Christians committed in their reverence for the prophet when they started equating the prophet with God. This is Shirk. May Allah keep all of us protected from it. Covered this far was the subject of the first verse as explained above. The second verse (60) describes Allah&s attribute of power which is also exclusive to Him. It is said: وَهُوَ الَّذِي يَتَوَفَّاكُم بِاللَّيْلِ وَيَعْلَمُ مَا جَرَ‌حْتُم بِالنَّهَارِ‌ ثُمَّ يَبْعَثُكُمْ فِيهِ لِيُقْضَىٰ أَجَلٌ مُّسَمًّى And He is the One who takes you away by night and knows what you do by day, then He makes you rise therein, so that a fixed term may be fulfilled. Hence, at work here is nothing but the most perfect power of Allah Ta` ala which has opened a window to what happens to human beings in life, in death and in rising again. Everyone sees it every day. According to Hadith, sleep is similar to death in that it does suspend the human body as it would be in death. By giving an example of sleeping then waking up in this verse, Al¬lah Ta` ala has alerted human beings that the way everyone, every night and every morning, witnesses the spectacle of personally rising up from simulated death (sleep), so it should not be difficult to visual¬ise the certainty of collective death, and then, collective rising after it, which is called Qiyamah or the Last Day. The argument is: The Supreme Being who can make this happen, could make that happen too. With His most perfect Power, this is as it shall be. Therefore, towards the end of the verse it was said: ثُمَّ إِلَيْهِ مَرْ‌جِعُكُمْ ثُمَّ يُنَبِّئُكُم بِمَا كُنتُمْ تَعْمَلُونَ (Thereafter, to Him you are to return; then He will tell you what you have been doing) meaning thereby that there will be the reckoning of deeds, then, will come their rewards and punishments.

یہاں تک پہلی آیت کا بیان تھا، جس میں اللہ جل شانہ کی صفت علم کی خصوصیات کا بیان ہے کہ وہ ہر غیب و شہادت اور ہر ذرہ ذرہ کائنات پر حاوی ہے، دوسری آیت میں اسی طرح حق تعالیٰ کی صفت قدرت اور اس کے قادر مطلق ہونے کا بیان ہے جو اسی کی ذات کے ساتھ مخصوص ہے، ارشاد ہے : وَهُوَ الَّذِيْ يَتَوَفّٰىكُمْ بالَّيْلِ وَيَعْلَمُ مَا جَرَحْتُمْ بالنَّهَارِ ” یعنی اللہ تعالیٰ ہر رات میں تمہاری روح کو ایک گونہ قبض کرلیتا ہے، اور پھر صبح کو جگا دیتا ہے تاکہ تمہاری مقررہ عمر پوری کر دے، اور پھر دن میں بھی تم جو کچھ کرتے رہتے ہو وہ سب اس کے علم میں ہے، یہ اللہ تعالیٰ ہی کی قدرت کاملہ ہے کہ انسان کے جینے، مرنے اور مر کر دوبارہ زندہ ہونے کا ایک نمونہ ہر روز اس کے سامنے آتا رہتا ہے، حدیث میں نیند کو موت کا بھائی فرمایا ہے، اور یہ حقیقت ہے کہ نیند انسان کے تمام قوی کو ایسا ہی معطل کردیتی ہے جیسے موت۔ اس آیت میں حق تعالیٰ نے نیند اور پھر اس کے بعد بیداری کی مثال پیش فرما کر انسان کو اس پر متنبہ فرمایا ہے کہ جس طرح ہر رات اور ہر صبح میں ہر شخص شخصی طور پر مر کر جینے کی ایک مثال کا مشاہدہ کرتا ہے، اسی طرح پورے عالم کی اجتماعی موت اور پھر اجتماعی زندگی کو سمجھ لو، جس کو قیامت کہا جاتا ہے، جو ذات اس پر قادر ہے اس کی قدرت کاملہ سے وہ بھی مستبعد نہیں، اسی لئے آخر آیت میں فرمایا، ثُمَّ اِلَيْهِ مَرْجِعُكُمْ ثُمَّ يُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ ، یعنی پھر تم کو اللہ تعالیٰ ہی کی طرف لوٹ کر جانا ہے، پھر وہ تم کو جتلائے گا جو تم عمل کیا کرتے تھے “۔ مراد یہ ہے کہ اعمال کا حساب ہوگا، پھر اس پر جزاء و سزاء ہوگی۔

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

وَہُوَالَّذِيْ يَتَوَفّٰىكُمْ بِالَّيْلِ وَيَعْلَمُ مَا جَرَحْتُمْ بِالنَّہَارِ ثُمَّ يَبْعَثُكُمْ فِيْہِ لِيُقْضٰٓى اَجَلٌ مُّسَمًّى۝ ٠ۚ ثُمَّ اِلَيْہِ مَرْجِعُكُمْ ثُمَّ يُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ۝ ٦٠ۧ وفی ( موت) وتَوْفِيَةُ الشیءِ : بذله وَافِياً ، وقد عبّر عن الموت والنوم بالتَّوَفِّي، قال تعالی: اللَّهُ يَتَوَفَّى الْأَنْفُسَ حِينَ مَوْتِها[ الزمر/ 42] ، وَهُوَ الَّذِي يَتَوَفَّاكُمْ بِاللَّيْلِ [ الأنعام/ 60] يا عِيسى إِنِّي مُتَوَفِّيكَ وَرافِعُكَ إِلَيَ [ آل عمران/ 55] ، وقدقیل : تَوَفِّيَ رفعةٍ واختصاص لا تَوَفِّيَ موتٍ. قال ابن عباس : تَوَفِّي موتٍ ، لأنّه أماته ثمّ أحياه اور توفیتہ الشیئ کے معنی بلا کسی قسم کی کمی پورا پورادینے کے ہیں اور کبھی توفی کے معنی موت اور نیند کے بھی آتے ہیں ۔ چناچہ قرآن پاک میں ہے : ۔ اللَّهُ يَتَوَفَّى الْأَنْفُسَ حِينَ مَوْتِها[ الزمر/ 42] خدا لوگوں کی مرنے کے وقت ان کی روحیں قبض کرلیتا ہے ۔ وَهُوَ الَّذِي يَتَوَفَّاكُمْ بِاللَّيْلِ [ الأنعام/ 60] اور وہی تو ہے جو رات کو ( سونے کی حالت میں ) تمہاری روح قبض کرلیتا ہے ۔ اور آیت : ۔ يا عِيسى إِنِّي مُتَوَفِّيكَ وَرافِعُكَ إِلَيَ [ آل عمران/ 55] عیسٰی (علیہ السلام) میں تمہاری دنیا میں رہنے کی مدت پوری کرکے تم کو اپنی طرف اٹھا لوں گا ۔ میں بعض نے کہا ہے کہ توفی بمعنی موت نہیں ہے ۔ بلکہ اس سے مدراج کو بلند کرنا مراد ہے ۔ مگر حضرت ابن عباس رضہ نے توفی کے معنی موت کئے ہیں چناچہ ان کا قول ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسٰی (علیہ السلام) کو فوت کر کے پھر زندہ کردیا تھا ۔ ليل يقال : لَيْلٌ ولَيْلَةٌ ، وجمعها : لَيَالٍ ولَيَائِلُ ولَيْلَاتٌ ، وقیل : لَيْلٌ أَلْيَلُ ، ولیلة لَيْلَاءُ. وقیل : أصل ليلة لَيْلَاةٌ بدلیل تصغیرها علی لُيَيْلَةٍ ، وجمعها علی ليال . قال اللہ تعالی: وَسَخَّرَ لَكُمُ اللَّيْلَ وَالنَّهارَ [إبراهيم/ 33] ( ل ی ل ) لیل ولیلۃ کے معنی رات کے ہیں اس کی جمع لیال ولیا ئل ولیلات آتی ہے اور نہایت تاریک رات کو لیل الیل ولیلہ لیلاء کہا جاتا ہے بعض نے کہا ہے کہ لیلۃ اصل میں لیلاۃ ہے کیونکہ اس کی تصغیر لیلۃ اور جمع لیال آتی ہے ۔ قرآن میں ہے : ۔ إِنَّا أَنْزَلْناهُ فِي لَيْلَةِ الْقَدْرِ [ القدر/ 1] ہم نے اس قرآن کو شب قدر میں نازل ( کرنا شروع ) وَسَخَّرَ لَكُمُ اللَّيْلَ وَالنَّهارَ [إبراهيم/ 33] اور رات اور دن کو تمہاری خاطر کام میں لگا دیا ۔ جرحتم ۔ تم نے کمایا۔ ( باب فتح) جرح سے جس کے معنی زخمی کرنے کمانے اور کسی میں طعن کرنے کے ہیں۔ یہاں کمانے کے معنی میں استعمال ہوا ہے۔ یقال فلان یجرح لعیالہ۔ وہ اپنے کنبے کے لئے کماتا ہے۔ نهار والنهارُ : الوقت الذي ينتشر فيه الضّوء، وهو في الشرع : ما بين طلوع الفجر إلى وقت غروب الشمس، وفي الأصل ما بين طلوع الشمس إلى غروبها . قال تعالی: وَهُوَ الَّذِي جَعَلَ اللَّيْلَ وَالنَّهارَ خِلْفَةً [ الفرقان/ 62] ( ن ھ ر ) النھر النھار ( ن ) شرعا طلوع فجر سے لے کر غروب آفتاب کے وقت گو نھار کہاجاتا ہے ۔ لیکن لغوی لحاظ سے اس کی حد طلوع شمس سے لیکر غروب آفتاب تک ہے ۔ قرآن میں ہے : وَهُوَ الَّذِي جَعَلَ اللَّيْلَ وَالنَّهارَ خِلْفَةً [ الفرقان/ 62] اور وہی تو ہے جس نے رات اور دن کو ایک دوسرے کے پیچھے آنے جانے والا بیانا ۔ بعث أصل البَعْث : إثارة الشیء وتوجيهه، يقال : بَعَثْتُهُ فَانْبَعَثَ ، ويختلف البعث بحسب اختلاف ما علّق به، فَبَعَثْتُ البعیر : أثرته وسيّرته، وقوله عزّ وجل : وَالْمَوْتى يَبْعَثُهُمُ اللَّهُ [ الأنعام/ 36] ، أي : يخرجهم ويسيرهم إلى القیامة، فالبعث ضربان : - بشريّ ، کبعث البعیر، وبعث الإنسان في حاجة . - وإلهي، وذلک ضربان : - أحدهما : إيجاد الأعيان والأجناس والأنواع لا عن ليس وذلک يختص به الباري تعالی، ولم يقدر عليه أحد . والثاني : إحياء الموتی، وقد خص بذلک بعض أولیائه، كعيسى صلّى اللہ عليه وسلم وأمثاله، ومنه قوله عزّ وجل : فَهذا يَوْمُ الْبَعْثِ [ الروم/ 56] ، يعني : يوم الحشر ( ب ع ث ) البعث ( ف ) اصل میں بعث کے معنی کسی چیز کو ابھارنے اور کسی طرف بیجھنا کے ہیں اور انبعث در اصل مطاوع ہے بعث کا مگر متعلقات کے لحاظ سے اس کے معنی مختلف ہوتے رہتے ہیں مثلا بعثت البعیر کے معنی اونٹ کو اٹھانے اور آزاد چھوڑ دینا کے ہیں اور مردوں کے متعلق استعمال ہو تو قبروں سے زندہ کرکے محشر کی طرف چلانا مراد ہوتا ہے ۔ جیسے فرمایا : ۔ وَالْمَوْتى يَبْعَثُهُمُ اللَّهُ [ الأنعام/ 36] اور مردوں کو تو خدا ( قیامت ہی کو ) اٹھایا جائے گا پس بعث دو قمخ پر ہے بعث بشری یعنی جس کا فاعل انسان ہوتا ہے جیسے بعث البعیر ( یعنی اونٹ کو اٹھاکر چلانا ) کسی کو کسی کام کے لئے بھیجنا ) دوم بعث الہی یعنی جب اس کی نسبت اللہ تعالیٰ کی طرف ہو پھر اس کی بھی دوقسمیں ہیں اول یہ کہ اعیان ، اجناس اور فواع کو عدم سے وجود میں لانا ۔ یہ قسم اللہ تعالیٰ کے ساتھ مخصوص ہے اور اس پر کبھی کسی دوسرے کو قدرت نہیں بخشی ۔ دوم مردوں کو زندہ کرنا ۔ اس صفت کے ساتھ کبھی کبھی اللہ تعالیٰ اپنے خاص بندوں کو بھی سرفراز فرمادیتا ہے جیسا کہ حضرت عیسٰی (علیہ السلام) اور ان کے ہم مثل دوسری انبیاء کے متعلق مذکور ہے اور آیت کریمہ : ۔ فَهذا يَوْمُ الْبَعْثِ [ الروم/ 56] اور یہ قیامت ہی کا دن ہے ۔ بھی اسی قبیل سے ہے یعنی یہ حشر کا دن ہے أجل الأَجَل : المدّة المضروبة للشیء، قال تعالی: لِتَبْلُغُوا أَجَلًا مُسَمًّى [ غافر/ 67] ، أَيَّمَا الْأَجَلَيْنِ قَضَيْتُ [ القصص/ 28] . ( ا ج ل ) الاجل ۔ کے معنی کسی چیز کی مدت مقررہ کے ہیں ۔ قرآن میں ہے : ۔ { وَلِتَبْلُغُوا أَجَلًا مُسَمًّى } [ غافر : 67] اور تاکہ تم ( موت کے ) وقت مقررہ تک پہنچ جاؤ ۔ نبأ خبر ذو فائدة عظیمة يحصل به علم أو غَلَبَة ظنّ ، ولا يقال للخبر في الأصل نَبَأٌ حتی يتضمّن هذه الأشياء الثّلاثة، وحقّ الخبر الذي يقال فيه نَبَأٌ أن يتعرّى عن الکذب، کالتّواتر، وخبر اللہ تعالی، وخبر النبيّ عليه الصلاة والسلام، ولتضمُّن النَّبَإِ معنی الخبر قال اللہ تعالی: قُلْ هُوَ نَبَأٌ عَظِيمٌ أَنْتُمْ عَنْهُ مُعْرِضُونَ [ ص/ 67 68] ، ( ن ب ء ) النبا ء کے معنی خیر مفید کے ہیں جو علم یا غلبہ ظن کا فائدہ دے اور حقیقی منعی کے لحاظ سے کسی خبر تک اس میں تین چیزیں موجود نہ ہوں ۔ یعنی نہایت مفید ہونا اور اس سے علم یا غلبہ ظن کا حاصل ہونا اور نبا صرف اس خبر کو کہا جاتا ہے جس میں کذب کا احتمال نہ ہو ۔ جیسے خبر متواتر خبر الہیٰ اور خبر نبوی جیسے فرمایا : ۔ قُلْ هُوَ نَبَأٌ عَظِيمٌ أَنْتُمْ عَنْهُ مُعْرِضُونَ [ ص/ 67 68] کہہ دو کہ یہ ایک بڑی ( ہولناک چیز کی ) خبر ہے جس کو تم دھیان میں نہیں لاتے

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(٦٠) وہ رات کے وقت نیند کی حالت میں تمہاری روحوں کو ایک خاص انداز سے قبض کرلیتا ہے اور پھر دن میں تمہاری روحوں کو واپس کردیتا ہے تاکہ سب لوگ اپنی مدت اور روزی پورا کرلیں اور مرنے کے بعد اسی کے سامنے حاضر ہوتا ہے اور وہ تمہیں تمہاری نیکی اور بدی سب سے آگاہ کر دے گا۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٦٠ (وَہُوَ الَّذِیْ یَتَوَفّٰٹکُمْ بالَّیْلِ ) سورۂ آل عمران کی آیت ٥٥ کی تشریح کے سلسلے میں یُوَفِّیْ ‘ یَتَوَفّٰی اور مُتَوَفِّیوغیرہ الفاظ کی وضاحت ہوچکی ہے ‘ جس سے قادیانیوں کی ساری خباثت کا توڑ ہوجاتا ہے۔ ذرا غور کیجئے ! یہاں وفات دینے کے کیا معنی ہیں ؟ کیا نیند کے دوران انسان مرجاتا ہے ؟ نہیں ‘ جان تو بدن میں رہتی ہے ‘ البتہ شعور نہیں رہتا۔ اس سلسلے میں تین چیزیں الگ الگ ہیں ‘ جسم ‘ جان اور شعور۔ فارسی کا ایک بڑا خوبصورت شعر ہے ؂ جاں نہاں در جسم ‘ اُو در جاں نہاں اے نہاں ‘ اندر نہاں ‘ اے جان جاں ! جان جسم کے اندر پنہاں ہے اور جان میں وہ پنہاں ہے۔ اے کہ جو پنہاں شے کے اندر پنہاں ہے ‘ تو ہی تو جان جاں ہے ! اس شعر میں او (وہ) سے مراد کچھ اور ہے ‘ جس کی تفصیل کا یہ موقع نہیں۔ اس وقت صرف یہ سمجھ لیجیے کہ ان تین چیزوں (یعنی جسم ‘ جان اور شعور ) میں سے نیند میں صرف شعور جاتا ہے جبکہ موت میں شعور بھی جاتا ہے اور جان بھی چلی جاتی ہے۔ حضرت عیسیٰ ( علیہ السلام) کا تَوَفِّی مکمل صورت میں وقوع پذیر ہوا تھا ‘ یعنی جسم ‘ جان اور شعور تینوں چیزوں کے ساتھ۔ عام آدمی کی موت کی صورت میں یہ تَوَفِّی ادھورا ہوتا ہے ‘ یعنی جسم یہیں رہ جاتا ہے ‘ جان اور شعور چلے جاتے ہیں ‘ جب کہ نیند کی حالت میں صرف شعور جاتا ہے۔ (وَیَعْلَمُ مَا جَرَحْتُمْ بالنَّہَارِ ثُمَّ یَبْعَثُکُمْ فِیْہِ لِیُقْضٰٓی اَجَلٌ مُّسَمًّی ج) ۔ یعنی روزانہ ہم ایک طرح سے موت کی آغوش میں چلے جاتے ہیں ‘ کیونکہ نیند آدھی موت ہوتی ہے۔ جیسے صبح کے وقت اٹھنے کی مسنون دعا میں مذکور ہے : اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِیْ اَحْیَانِیْ بَعْدَ مَا اَمَاتَنِیْ وَاِلَیْہِ النُّشُوْرِ (کل شکر اور کل تعریف اس اللہ کے لیے ہے جس نے مجھے دوبارہ زندہ کیا ‘ اس کے بعد کہ مجھ پر موت وارد کردی تھی اور اسی کی طرف جی اٹھنا ہے) ۔ اس دعا سے ایک بڑاعجیب نکتہ ذہن میں آتا ہے۔ وہ یہ کہ ہر روز صبح اٹھتے ہی جس شخص کی زبان پر یہ الفاظ آتے ہوں : اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِیْ اَحْیَانِیْ بَعْدَ مَا اَمَاتَنِیْ وَاِلَیْہِ النُّشُوْرِ قیامت کے دن جب وہ قبر سے اٹھے گا تو دنیا میں اپنی عادت کے سبب اس کی زبان پر خود بخود یہی ترانہ جاری ہوجائے گا ‘ جو اس وقت لفظی اعتبار سے صد فی صد درست ہوگا ‘ کیونکہ وہ اٹھنا حقیقی موت کے بعد کا اٹھنا ہوگا۔ اس لیے ضروری ہے کہ زندگی میں روزانہ اس کی ریہرسل کی جائے تاکہ یہ عادت پختہ ہوجائے۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

(60 ۔ 64) ۔ ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے پہلے ہر انسان کے سونے اور جاگنے کا ذکر فرمایا ہے اور پھر مرنے اور پھر مر کر جینے کا ذکر فرمایا ہے تاکہ روز کے سونے اور جاگنے سے ہر عقلمند آدمی مرنے اور مر کر جینے کا قیاس کرلے کیونکہ غور کیا جاوے تو روز کا سونا چھوٹی موت سو کر پھر جاگنا روز کا ایک چھوٹا حشر ہے کس لیے کہ جس طرح موت کے بعد آدمی کے مثلا کان آنکھیں بیکار ہوجاتے ہیں وہی حال آدمی کا سونے میں ہوجاتا ہے ہے پھر جس طرح جاگنے کے بعد آدمی کے حواس قائم ہوجاتے ہیں وہی حالت اس کی حشر میں ہوگی تفسیر ابن مردو یہ میں حضرت عبداللہ بن عباس (رض) سے روایت ہے کہ آنحضرت نے فرمایا ہر سوتے آدمی پر اللہ کی طرف سے ایک فرشتہ مقرر کیا جاتا ہے جو سانس کی آمد ورفت کی خبر رکھتا ہے اور اگر اسی نیند کی حالت میں قبض روح کا حکم اللہ کا ہوجاتا ہے تو وہ فرشتہ باہر کا آیا ہوا سانس پھر اندر نہیں جانے دیتا جس سے روح قبض ہوجاتی ہے ٢ ؎ ٢ ؎ تفسیر ابن کثیر ج ٢ ص ١٣٨ و تفسیر ورنثورج ٣ ص ١٥ مسلمان اور کافر کی روح قبض کی حالت کے بیان میں بہت سی حدیثیں ٣ ؎ ہیں ٣ ؎ تفسیر ابن کثرج ٢ ص ١٣٨ و مشکوۃ شریف باب مایقال عند من حضر الموت۔ فصل تیسری۔ جن کا حاصل یہ ہے کہ مسلمان کی قبض روح کے لیے رحمت کے فرشتے آتے ہیں اور مرنے والے شخص کو یہیں دنیا میں سے آثار رحمت الٰہی معلوم ہونے لگتے ہیں اس لیے وہ تمنا کرنے لگتا ہے کہ جلدی سے اس کی جان نکل جاوے تاکہ اللہ تعالیٰ اور ارواح مؤمنین سے ملاقات نصیب ہو اور ملک الموت اور ان کے ساتھ کے فرشتے اس روح کو خوشخبری دیتے ہیں کہ اے پاکیزہ روح جلدی نکل اللہ تجھ سے راضی ہے اس حالت میں روح اس طرح جسم سے نکل جاتی ہے جس طرح گوندھے ہوئے آٹے میں سے بال یابھری مشک میں سے پانی نکل جاتا ہے اور کافر اور منافق کی قبض روح کا معاملہ اس کے برعکس ہے اور دونوں طرح کی روحوں کی قبر وحشر کا حال ہر ایک کے نیچے آگے آویگا تفسیر ابن منذر اور تفسیر ابن ابی حاتم میں حضرت عبداللہ بن عباس (رض) کا قول ہے کہ آدمی کے جسم میں ایک نفس ہے اور ایک روح سونے کی حالت میں نفس آدمی کے جسم سے نکل جاتا ہے اور روح قائم رہتی ہے ١ ؎ ١ ؎ فتح البیان ج ٤ ص ٧٠۔ ٧١ لیکن صحیح مسلم میں ابوہریرہ (رض) کی سونے کے وقت دعا پڑھنے کی ایک بڑی حدیث ہے جس کے ایک ٹکڑے کا حاصل یہ ہے کہ یا اللہ سونے کی حالت میں جان جو جسم سے الگ ہوئی ہے اگر اس کو تو روک رکھے تو اس پر تو رحم کر اور اگر وہ جان سونے کی حالت کے بعد پھر جسم میں آوے تو اس کو نیک کام کے ارادہ کی توفیق عنایت فرما ٢ ؎ اسی طرح صحیح مسلم اور نسائی میں عبداللہ بن عمر (رض) سے روایت ہے ٢ ؎ صحیح بخاری ج ٢ ص ٩٣٥ کتاب الدعوات و صحیح مسلم ج ٢ ص ٣٤٩ اس دعا کے الفاظ یہ ہیں ‘ بِاسْمِکَ رَبِیْ وَضَعْتُ جنَبْیِْ وَبِکَ اَرُفَعُہٗ اِنْ اَمْتَکْتَ نَضْیِْ فَاغْفِرْ لَھَا وَاِنْ اَرْسَلْتَہَا فَاحُفَظْہَا بِمَا تَحْفَظُ بِہٖ عِبَادَکَ الصَّالحِیْنَ باب الدعاء عند النوم و تفسیر ابن کثیرج ٤ ص ٥٥ جس کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک شخص سے فرمایا سوتے وقت یوں کہنا چاہیے کہ یا اللہ تو نے ہی میری جان کو پیدا کیا ہے اور تو ہی اس کو کھینچتا ہے اور تیرے ہی حکم میں موت وحیات ہے سونے کے بعد اگر تو اس جان کو زندوں میں رکھتے تو اس کو اپنی حفاظت میں رکھ اور اگر تو اس کو مردوں میں رکھے تو اس پر اپنی رحمت کر ٣ ؎ ابن حبان نے اس حدیث کو صحیح کہا ہے۔ ٣ ؎ صحیح مسلم ج ٢ ص ٣٤٨ باب الدعاء عند النوم وتحفۃ الذاکرین ص ٩٩۔ اس دعا کے الفاظ یہ ہیں :۔ اَللّٰھُمَّ اَنْتَ خَلَفْتَ نَفْسِیْ وَاَنْتَ تَتَوَفَّا ھَا لَکَ مَمَا تُھَلوَ مَحْیَاھَا اِنَ احْیَیْتَھَا فَاْحْقِطْہٰاَ قَرانْ اَمَتَّھَا فَاغْفِرْ لَھَا اَللّٰھُمَّ اِنِّی اَسْئَالُکَ الُفَافِیَۃَ ۔ ابن حبان نے اس حدیث کو صحیح کہا ہے۔ ان حدیثوں کے موافق اکثر مفسرین نے اس قول کو قوی قرار دیا ہے کہ آدمی کے جسم میں فقط ایک روح ہے جو سونے کی حالت میں جسم سے الگ ہوجاتی ہے پھر اگر اس سونے کی حالت میں اللہ تعالیٰ نے اس روح کو روک رکھا تو آدمی سوتے میں امر جاتا ہے اور اگر سونے کی حالت کے بعد اللہ کے حکم سے وہ روح پھر انسان کے جسم میں آگئی تو وہ زندہ جاگ اٹھتا ہے رہی یہ بات کہ سوتے آدمی اور مردہ میں تو فرق ہے سوتے آدمی کی نبض چلتی رہتی ہے سانس چلتا رہتا ہے کھانا ہضم ہوتا ہے سوتے وقت جان کنی کی تکلیف آدمی کو نہیں ہوتی پھر موت اور نیند کی ایک سی حالت کیونکہ ہوسکتی ہے خازن وغیرہ میں حضرت علی (رض) کا قول ہے جس میں حضرت علی (رض) نے اس کا جواب یہ دیا ہے کہ سونے کی حالت میں روح کا تعلق جسم سے اس طرح باقی رہتا ہے جس طرح آفتاب آسمان پر ہے اور اس شعاع زمین پر پڑتی ہے اور موت کے وقت یہ تعلق اس طرح باقی نہیں رہتا جس طرح قیامت کے دن آفتاب کا نور آفتاب سے بالکل الگ کردیا جاویگا ١ ؎ ١ ؎ تفسیر خازن ج ٤ ص ٦٠ و معالم ج ٧ ص ٢٤٧ اس سے زیادہ تفصیل اس مسئلہ کی سورة زمر میں آوے گی حاصل مطلب ان آیتوں کا یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے منکر حشر مشرک لوگوں کو ان آیتوں میں یوں قائل کیا ہے کہ جس صاحب قدرت نے سونے اور جاگنے کی حالت کو سب کی آنکھوں کے سامنے مرلے اور حشر کے نمونے کے طور پر پیدا کیا ہے وہی ان حشر کے منکروں کی وقت مقررہ پر مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کرے گا اور فوری حساب کتاب کے بعد ان کے اعمال کی ان کو سزا دیویگا اس لیے اس نے دو روزنامچہ نویس اعمال کی حفاظت کے لیے اپنے زبردست حکم سے ہر شخص کے پیچھے لگا رکھے ہیں اور جس طرح اب ‘ ان کی خلاف مرضی اللہ کے فرشتے موت کے وقت ان کی جان نکال لیتے ہیں اسی طرح ان کی خلاف مرضی دوبارہ ان کے جسم تیار ہو کر ان میں جن پڑجاوے گی پھر فرمایا کہ جس طرح جنگل اور دریا کے سفر کی مصیبت کے وقت خالص اللہ سے مدد مانگنے اور راحت کے وقت ان بتوں کو اللہ کے ساتھ شریک ٹھہرانے کا شیوہ جو ان لوگوں نے اختیار کیا ہے انکا یہ شیوہ عقبے کی مصیبتوں کے وقت کچھ کام نہ آویگا کیونکہ یہ اللہ کا وعدہ ہے کہ وہاں مشرک کا کوئی مددگار نہ ہوگا۔ کیونکہ یہ اللہ کا وعدہ ہے کہ وہاں مشرک کا کوئی مددگار نہ ہوگا۔ اللہ کے حکم سے آدمی کی روح قبض کیجاتی ہے۔ ملک الموت کو یہ کام اللہ تعالیٰ نے سونپا ہے ملک الموت کی مدد کے لیے اور فرشتے بھی مقرر ہیں ان ہی حالتوں کے سبب سے قرآن شریف کی آیتوں میں قبض روح کا ذکر کئی طرح سے آیا ہے لیکن درحقیقت ان آیتوں میں کچھ اختلاف نہیں ہے کیونکہ کسی آیت میں ایک حالت کا ذکر ہے اور کسی میں دوسری حالت کا :۔

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(6:60) یتوفکم۔ مضارع واحد مذکر غاین توفی مصدر۔ (باب تفعل) کم ضمیر مفعول ۔ تمہاری جانوں کو لے لیتا ہے۔ یا لے لیگا۔ یہاں توفی کا لفظ نیند کے معنی میں استعمال ہوا ہے کیونکہ نیند بھی موت کی بہن ہے۔ جرحتم۔ تم نے کمایا۔ (باب فتح) جرح سے جس کے معنی زخمی کرنے کمانے اور کسی میں طعن کرنے کے ہیں۔ یہاں کمانے کے معنی میں استعمال ہوا ہے۔ یقال فلان یجرح لعیالہ۔ وہ اپنے کنبے کے لئے کماتا ہے۔ (6:58) ثم یبعثکم فیہ پھر اٹھاتا ہے تم کو (نیند سے) دن کے وقت ہ ضمیر النھار کی طرف راجع ہے۔ لیقضی اجل مسمی۔ تاکہ پوری کردی جائے (اس نیند اور بیداری کے تسلسل سے تمہاری عمر کی) میعاد مقررہ۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 10 یعنی تمہیں دن کو نیند سے اٹھاتا ہے۔ بعض نے قبروں سے اٹھانا بھی مراد لیا ہے (ابن کثیر11 یعنی تم میں ہر ایک کے لیے جو رزق اور مدت عمر معین ہے وہ پوری ہو (رازی)12 یعنی اچھا کیا ہوگا تو اچھا بدلہ دے گا اور برا کیا ہوگا تو برا بدلہ دے گا اوپر کی آیت میں کمال علم کا بیان تھا اور اس سے کمال قدرت ثابت ہوتی ہے۔ (رازی)

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

لغات القرآن : آیت نمبر 60 : یتوفی ( وہ لے لیتا ہے۔ وہ وفات دیتا ہے) ‘ جرحتم ( تم نے عمل کیا) ‘ لیقضی (تاکہ فیصلہ کردیا جائے) ۔ تشریح : آیت نمبر 60 : جاگ اور نیند ‘ کام اور آرام ‘ دن اور رات ‘ زندگی اور موت کا ایک سلسلہ ہے جو ہر انسان کے ساتھ لگا ہوا ہے تاکہ انسان ان تبدیلیوں اور انقلابات سے عبرت حاصل کرسکے۔ وہ لوگ جو آئندہ زندگی پر یقین نہیں کرتے وہ اس پر غور کریں کہ کس طرح نیند انہیں ہر روز آدبوچتی ہے۔ وہ نیند پر قابو نہیں پا سکتے۔ اسی طرح موت ان پر قابو پا لے گی۔ اور وہ موت پر قابو نہیں پا سکیں گے۔ کس طرح وہ ہر نیند کے بعد جاگ اٹھتے ہیں۔ اسی طرح وہ موت کی نیند کے بعد بھی جاگ اٹھیں گے اور حساب و کتاب کے لئے اللہ کے سامنے پیش کردیئے جائیں گے۔ اور قیامت کے دن جب دوسرا صور پھونکا جائے گا ‘ سارے مردے اپنی اپنی قبروں سے نکل پڑیں گے۔ پہلا جملہ جو وہ کہیں گے یہی ہوگا ” ہمیں کس نے نیند سے جگا دیا “۔

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

6۔ روح انسانی من جملہ تین ارواح طیبہ کے ہے ابن عباس نے اللہ یتوفی الانفس میں اس کو نفس تمیز فرمایا ہے اور روح حیوانی کو جس کے نکلنے سے موت آجاتی ہے نفس حیوة فرمایا ہے قرآن میں لفظ نفس دونوں کو شامل ہے مناسب ہر مقام کے تفسیر کی جائے گی۔

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

(آیت) ” نمبر ٦٠۔ یہ چند مزید الفاظ ہیں ‘ اس سے پہلے چند کلمات میں عالم غیب کے طویل و عریض آفاق کے خطوط کھینچ دیئے گئے تھے اور سابق آیت کے محدود کلمات نے یہ واضح کردیا تھا کہ باری تعالیٰ کا علم کس قدر کامل اور شامل ہے ۔ اب ان زیر بحث چند کلمات اور محدود فقروں سے یہ بات واضح کردی گئی ہے کہ انسان کی پوری زندگی مکمل طور پر اللہ کے قبضہ قدرت میں ہے ۔ تمام امور اللہ کے علم ‘ اللہ کی تقدیر اور اللہ کی تدبیر کے مطابق طے پا رہے ہیں ۔ انسان کا جاگنا اور سونا ‘ اس کا مرنا اور پیدا ہونا ‘ اس کا دوبارہ اٹھنا اور حساب و کتاب سب کے سب امر الہی کے مطابق طے ہو رہے ہیں اور آئندہ بھی اس کے مطابق ہی طے ہوں گے ۔ یہ حقیقت قرآن کے مخصوص طرز ادا اور نہایت ہی ایجداز اور نہایت ہی موثر پیرائے میں بیان کی جاتی ہے ۔ طرز ادا نہایت ہی محسوس ‘ متحرک اور ایسے انداز میں ہے کہ پورا منظر اسکرین پر چلتا پھرتا نظر آتا ہے اور انسانی شعور اور جذبات کو ساتھ لئے ہوئے ہے ‘ نہایت ہی تعجب خیز طرز تعبیر میں ۔ (آیت) ” وھو الذی یتوفکم بالیل “۔ (٦ : ٦٠) وہی ہے جو رات کو تمہاری روحیں قبض کرتا ہے ۔ جب انسان نیند کی آغوش میں ڈوب جاتا ہے تو گویا وہ مر جاتا ہے ۔ حالت نوم بھی دراصل موت کی ایک قسم ہے ۔ جس طرح حالت موت میں انسان کے حواس معطل ہوجاتے ہیں اسی طرح خواب میں بھی حواس معطل ہوجاتے ہیں اور انسان غافل ہوتا ہے ۔ حواس مردہ ہوجاتے ہیں ‘ عقل رک جاتی ہے اور انسان کا فہم وادراک بھی ختم جاتا ہے ۔ یہ ایک راز ہے جو ابھی تک انسانی فہم سے باہر ہے کہ انسانی قوتیں حالت خواب میں کس طرح رک جاتی ہیں ۔ اگرچہ ہم حالت خواب کے آثار کو جانتے ہیں لیکن اس کی حقیقت تک انسان نہیں پہنچ سکا کہ یہ حالت کس طاری ہوجاتی ہے ۔ یہ بھی ایک حالت غیبی ہے جس طرح دوسری غیبی حالات انسان کے اردگرد پھیلے ہوئے ہیں ۔ لیکن جب انسان اس حالت میں پہنچتا ہے تو اس کی تمام قوتیں اس سے سلب ہوجاتی ہیں ۔ یہاں تک کہ فہم وادراک کی قوت سے بھی انسان محروم ہوجاتا ہے ۔ ایک مخصوص وقت تک کے لئے انسان آثار حیات سے محروم ہوجاتا ہے اور اللہ کے قبضہ قدرت میں جا پہنچتا ہے ۔ حقیقت بھی یہی ہے کہ جب انسان خواب میں چلا جائے تو صرف اور صرف ارادہ الہی اسے حالت بیداری میں لاتا ہے ۔ ذرا غور کیجئے ! کہ انسان جب اللہ کے قبضہ قدرت میں ہو تو وہ کس قدر کمزور وناتواں ہے ۔ (آیت) ” ویعلم ما جرحتم بالنھار “۔ (٦ : ٦٠) ” اور دن کو جو کچھ تم کرتے ہو ‘ اسے جانتا ہے ۔ “ انسانوں کے اعضاء حالت بیداری میں پورا دن جو حرکات کرتے ہیں جو پکڑتے ہیں اور جو چھوڑتے ہیں ‘ جو اچھے کام کرتے ہیں اور جو برے کام کرتے ہیں ‘ سب کے سب اللہ کے علم میں ہیں ۔ تمام کے تمام انسانوں کی حرکات و سکنات اللہ کی نگرانی میں ہوتی ہیں اور ان کی حرکات و سکنات میں سے کوئی چیز اللہ کے علم سے باہر نہیں جاتی ۔ (آیت) ” ثم یبعثکم فیہ لیقضی اجل مسمی “۔ (٦ : ٦٠) ” پھر دوسرے روز وہ تمہیں اسی کاروبار کے عالم میں واپس بھیج دیتا ہے تاکہ زندگی کی مقرر مدت پوری ہو۔ “ یعنی جب تم رات سوتے میں گزارتے ہو تو وہ اس ٹھہراؤ اور انقطاع کی حالت سے تمہیں جگاتا ہے تاکہ تم حقیقی موت تک اپنی مقررہ مدت حیات پوری کرسکو۔ تو گویا یہ سب انسان ان تمام حالات میں اللہ کی قدرت اور تقدیر میں داخل ہوتے ہیں ۔ وہ تقدیر الہی سے باہر نکل نہیں سکتے ۔ نہ یہ تقدیر کہیں جا کر رکتی ہے ۔ (آیت) ” ثم الیہ مرجعکم “۔ (٦ : ٦٠) ” پھر دوسرے روز وہ تمہیں اسی کاروبار کے عالم میں واپس بھیج دیتا ہے تاکہ زندگی کی مقرر مدت پوری ہو۔ “ یعنی جب تم رات سوتے میں گزارتے ہو تو وہ اس ٹھہراؤ اور انقطاع کی حالت سے تمہیں جگاتا ہے تاکہ تم حقیقی موت تک اپنی مقررہ مدت حیات پوری کرسکو۔ تو گویا یہ سب انسان ان تمام حالات میں اللہ کی قدرت اور تقدیر میں داخل ہوتے ہیں ۔ وہ تقدیر الہی سے باہر نکل نہیں سکتے ۔ نہ یہ تقدیر کہیں جا کر رکتی ہے ۔ (آیت) ” ثم الیہ مرجعکم “۔ (٦ : ٦٠) ” آخر کار اسی کی طرف تمہاری واپسی ہے ۔ “ جس طرح ایک ریوڑ چرنے چگنے کے بعد واپس اپنی جائے قیام اور اپنے مالک کی طرف لوٹتا ہے اسی طرح انسان واپس اپنے مالک حقیقی کی طرف لوٹتا ہے ۔ (آیت) ” ثم ینبکم بما کنتم تعملون “۔ (٦ : ٦٠) ” پھر وہ تمہیں بتا دے گا کہ تم کیا کرتے رہے ہو ؟ “ اس وقت ان کا وہ اعمال نامہ پیش ہوگا جس کے اندر ان کا ہر فعل درج ہوگا ۔ اور اس پر اس قدر حقیقی انصاف ہوگا جس میں ظلم کا شائبہ تک نہ ہوگا۔ غرض یہ آیت چند کلمات پر مشتمل ہے لیکن ان کلمات کے اندر ایک طویل ریل لپٹی ہوئی ہے ۔ اس کے اندر مختلف تصاویر اور مناظر پنہاں ہیں ۔ مختلف فیصلے ‘ مختلف اشارات اور ہدایت ثبت ہیں ۔ مختلف شیڈ اور رنگ ہیں ‘ کون ہے جو اس قدرت مختلف کلمات میں یہ رنگ بھر سکتا ہے ۔ اگر یہ آیات معجز نہیں ہیں تو پھر کون سا کلام معجز ہو سکتا ہے ۔ لیکن تعجب ہے کہ تکذیب کرنے والے اور کفر کا رویہ اپنانے والے ان سے غافل ہیں اور مادی معجزات اور خوارق کے طلبگار ہیں اور اللہ کے عذاب الیم کو دعوت دے رہے ہیں ۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

پھر فرمایا (وَ ھُوَ الَّذِیْ یَتَوَفّٰکُمْ بالَّیْلِ ) (اللہ وہی ہے جو تمہیں اٹھا لیتا ہے رات کو) اس سے سلا دینا مراد ہے۔ اللہ تعالیٰ نیند کو طاری فرما دیتا ہے جو ایک گو نہ روح قبض کرنے کا ذریعہ ہے۔ حدیث شریف میں فرمایا (اَلنَّوْمُ اَخُو الْمَوْتِ ) (مشکوٰۃ المصابیح ص ٥٠٠) کہ نیند موت کا بھائی ہے۔ یہ سلانا اور پھر جلا دینا سب اللہ ہی کی قدرت اور مشیت سے ہے جو دو بارہ زندہ ہونے کا نمونہ ہے۔ (وَ یَعْلَمُ مَا جَرَحْتُمْ بالنَّھَارِ ) اور وہ جانتا ہے جو دن میں تم اعمال کرتے ہو، چونکہ عام طور پر رات ہی کو سوتے ہیں اور دن کو کام کرتے ہیں اس لیے نیند کو رات کی طرف اور کسب عمل کو دن کی طرف منسوب فرما دیا۔ ورنہ جو لوگ دن کو سوتے ہیں رات کو کام کرتے ہیں۔ ان کا بھی ہر عمل اللہ کی مشیت و ارادہ سے ہے اور سب کچھ اس کے علم میں ہے۔ سونا اور جاگنا انفرادی موت وحیات ہے اور وقوع قیامت اجتماعی موت ہے۔ اور اس کے بعد زندہ ہوجانے کا نام بعث و نشور ہے۔ دنیاوی زندگی گزر رہی ہے کبھی خواب ہے کبھی بیداری۔ خواب عارضی موت ہے اور ہر شخص کو حقیقی موت بھی آنی ہے اس حیات دنیوی کے لیے باری تعالیٰ شانہٗ کے علم میں ایک مدت مقرر ہے جب یہ مدت پوری ہوجائے گی تو مقرر اجل آئے گی۔ (ثُمَّ یَبْعَثُکُمْ فِیْہِ لِیُقْضٰٓی اَجَلٌ مُّسَمًّی) پھر وہ تمہیں دن میں اٹھاتا ہے یعنی بیدار کرتا ہے تاکہ وقت مقررہ پورا کردیا جائے، دنیا کی بیداری اور خواب اور موت وحیات اور اکتساب اعمال کو بیان فرمانے کے بعد قیامت کی حاضری کا ذکر فرمایا (ثُمَّ اِلَیْہِ مَرْجِعُکُمْ ثُمَّ یُنَبِّءَکُمْ بِمَا کُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ ) (پھر اس کی جانب تم کو لوٹ کرجانا ہے پھر تم کو بتادے گا جو تم کرتے تھے) ۔ مطلب یہ ہے کہ دنیاوی زندگی کا گزرنا یونہی نہیں ہے، اس میں جو اعمال کرتے ہو قیامت کے دن وہ سامنے آئیں گے اور ان کا نتیجہ بھی سامنے آئے گا۔ ہر شخص کو وہاں کی فوز و فلاح اور کامیابی کے لیے فکر مند ہونا چاہیے۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

67 جَرَحْتُمْ کے معنی کَسَبْتُمْ کے ہیں اور بالنھار میں باء بمعنی فی ہے یعنی جو کچھ تم دن میں کرتے ہو اللہ تعالیٰ کو وہ سب معلوم ہے۔ یَبْعَثُکُمْ فِیْہِ ۔ فیہ کی ضمیر سے نہار ثانی مراد ہے۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

60 اور وہ اللہ تعالیٰ ایسا ہے جو رات میں تم کو سلا دیتا ہے اور تمہاری روح نفسانی کو معطل کردیتا ہے اور جو کچھ تم دن میں کیا کرتے ہو وہ اس کو جانتا ہے پھر وہ تم کو دن میں اٹھا کھڑا کرتا ہے تاکہ مقررہ مدت حیات پوری کردی جائے پھر تم سب کی بازگشت اور واپسی اسی کی طرف ہے پھر وہ تم کو ان تمام اعمال کی حقیقت سے آگاہ کر دے گا اور تم کو بتادے گا جو تم کیا کرتے تھے۔