Commentary Previous verses contained a description of the call given by the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) in which he addressed the disbelievers of Arabia and appealed to them that they should forsake the worship of idols and believe in a single object of worship: Allah. The present verses support this call of truth in a particular way which could be naturally acceptable to the people of Arabia who have Sayyidna Ibrahim (علیہ السلام) as their patriarch and the whole Arabia stood united in paying homage to him almost always. These verses re¬fer to the debate against the worship of idols and stars led by him before his people and to whom he had then given a lesson as to what a true belief in the Oneness of Allah should be. The first verse (74) opens with Sayyidna Ibrahim (علیہ السلام) telling his father, &Azar that he had taken idols made with his own hands as his object of worship, and that he saw him and his entire people in mani¬fest error. It is commonly held that &Azar is the name of Sayyidna Ibrahim&s father while most historians give his name as Tarakh and identify &Azar as his title. Imam al-Razi and a group of early scholars hold that Tarakh was the name of Sayyidna Ibrahim&s father and &Azar was the name of his uncle. After becoming a minister of Nimrud, his uncle, &Azar had become a polytheist. Since calling an uncle as father is com¬mon in Arab usage, &Azar has been named here as Sayyidna Ibrahim&s father. In Sharh al-Mawahib, Zarqani has reported several proofs to this effect. Reform Begins at Home &Azar, whether a father or uncle of Sayyidna Ibrahim (علیہ السلام) ، was a re¬spectable elder of the family. Thus, it was from his home that Sayyid¬na Ibrahim (علیہ السلام) gave the first call to truth - as was commanded the Holy Prophet too: وَأَنذِرْ عَشِيرَتَكَ الْأَقْرَبِينَ ﴿٢١٤﴾ (26:214) that is, warn your near relatives (of the Divine punishment). It was in obedience to this command that the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) had first gathered his own family to hear him when he stood at the hill of Safa to deliver his call of truth. According to Tafsir Al-Bahr al-Muhit, from here we also learn that inviting a respected elder of the family, who may not be on the right path of faith, to the right path is not contrary to the norms of rever¬ence. In fact, it is a matter of wishing well for him. In addition to that, this also tells us that starting the work of da&wah, the mission of inviting people to the true faith and the seeking of reforms that lead to it, from one&s home, family and immediate circle, is a Sunnah (way) of the prophets (علیہم السلام) . Two-Nation Theory: Believers are One People - Disbelievers, another. It will be noted that Sayyidna Ibrahim (علیہ السلام) has elected not to identify his family and his people with himself in this verse when he said to his father that ` his& people were in error. This indicates the great sacrifice Sayyidna Ibrahim offered in the way of Allah by cutting off his bonds with his disbelieving brotherhood. Thus, by his deed, he demonstrated that Muslim nationality is founded through the bonds of Islam. When nationalities based on concepts of race or homeland clash against it, all these deserve to be forsaken. By mentioning this event relating to Sayyidna Ibrahim (علیہ السلام) ، the Holy Qur&an has asked all communities to come after him that they too should follow in his footsteps. It was said: دْ كَانَتْ لَكُمْ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ فِي إِبْرَاهِيمَ وَالَّذِينَ مَعَهُ إِذْ قَالُوا لِقَوْمِهِمْ إِنَّا بُرَآءُ مِنكُمْ وَمِمَّا تَعْبُدُونَ مِن دُونِ اللَّـهِ. It means: Definitely good and worthy of being emulated and followed by the Muslim community is the way and conduct of Sayyidna Ibrahim (علیہ السلام) and of those with him who frankly told their lineal, racial and geographical brotherhood that they were wary of them and their false objects of worship and that the wall of discord between them shall remain standing until such time that they do become believers and submit to none but Allah. This tells us that the two-nation theory which brought Pakistan into existence - was first proclaimed by Sayyidna Ibrahim (علیہ السلام) . The Ummah of the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) and other communities, fol¬lowed this guidance and moved ahead. Among Muslims, Islam as the identity of their nationhood became well-recognized. During his journey undertaken to perform his Last Hajj, the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) met a caravan on the way. He asked them: ` Which nationality do you come from?& They replied: نحنُ قومُ مُّسلِمُونَ (al-Bukhari) (We are [ a ] nation [ of ] Muslims). Here, in accordance with the early practice in Arabia, they did not name a tribe or a lineally identified family, instead, called themselves: ` muslimun& (Muslims) - and by doing so, they declared what was their real nationality, a nationality which will hold good in all time frames right to the end of time well through the trials of the Akhirah. At this particular place when Sayyidna Ibrahim (علیہ السلام) addressed his father, he proclaimed his distaste for the doings of ` his& people - attributing the people he came from to his father - but, at the place where he had to proclaim his principled disassociation from the same people, he addressed them as his, as appears in the next verse: يَا قَوْمِ إِنِّي بَرِيءٌ مِّمَّا تُشْرِكُونَ (0 my people, I am free of what you associate with Allah). The hint given here is: ` Though, you are my people in terms of race and homeland, but your deeds of disbelief and polytheism have compelled me to cut off my relations with your brotherhood.& The brotherhood of Sayyidna Ibrahim and his father were involved in a two-fold Shirk: They worshipped idols as well as stars. So, Sayy¬idna Ibrahim (علیہ السلام) debated both issues with his father and with his people.
خلاصہ تفسیر اور وہ وقت بھی یاد کرنے کے قابل ہے جب ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنے باپ آزر (نام) سے فرمایا کہ کیا تو بتوں کو معبود قرار دیتا ہے، بیشک میں تجھ کو اور تیری ساری قوم کو (جو اس اعتقاد میں تیرے شریک ہیں) صریح غلطی میں دیکھ رہا ہوں (اور ستاروں کے متعلق آگے گفتگو آئے گی، درمیان میں ابراہیم (علیہ السلام) کا صحت نظر کے ساتھ موصوف ہونا کہ ما قبل و ما بعد دونوں سے اس کا تعلق ہے فرماتے ہیں) اور ہم نے ایسی ہی (کامل) طور پر ابراہیم (علیہ السلام) کو آسمانوں اور زمین کی مخلوقات (بچشم معرفت) دکھلائیں، تاکہ وہ (خالق کی ذات وصفات کے) عارف ہوجاویں اور تاکہ (ازدیار معرفت سے) کامل یقین کرنے والوں سے ہوجاویں (آگے ستاروں کے متعلق گفتگو کہ تتمہ مناظرہ کا ہے مذکور ہے کہ اوپر کی گفتگو تو بتوں کے متعلق ہوچکی) پھر (اسی دن یا کسی اور دن) جب رات کی تاریکی ان پر (اسی طرح اور سب پر) چھا گئی تو انہوں نے ایک ستارہ دیکھا (کہ چمک رہا ہے) آپ نے (اپنی قوم سے مخاطب ہوکر) فرمایا کہ (تمہارے خیال کے موافق) یہ میرا (اور تمہارا) رب (اور میرے احوال میں متصرف) ہے (بہت اچھا، اب تھوڑی دیر میں حقیقت معلوم ہوئی جاتی ہے، چناچہ تھوڑے عرصہ کے بعد وہ افق میں جا چھپا) سو جب وہ غروب ہوگیا تو آپ نے فرمایا کہ میں غروب ہوجانے والوں سے محبت نہیں رکھتا (اور محبت لوازم اعتقاد ربوبیت سے ہے پس حاصل یہ ہوا کہ میں رب نہیں سمجھتا) پھر (اسی شب میں یا کسی دوسری شب میں) جب چاند کو دیکھا (کہ) چمکتا ہوا (نکلا ہے) تو (پہلے ہی کی طرح) فرمایا کہ (تمہارے خیال کے موافق) یہ میرا (اور تمہارا) رب (اور متصرف فی الاحوال) ہے (بہتر اب تھوڑی دیر میں اس کی کیفیت بھی دیکھنا چناچہ وہ بھی غروب ہوگیا) سو جب وہ غروب ہوگیا تو آپ نے فرمایا کہ اگر مجھ کو میرا رب (حقیقی) ہدایت نہ کرتا رہے (جیسا اب تک ہدایت کرتا رہتا ہے) تو میں بھی (تمہاری طرح) گمراہ لوگوں میں شامل ہوجاؤں پھر (یعنی اگر چاند کا قصہ اسی قصہ کو کب کی شب کا تھا تب تو کسی شب کو صبح کو اور اگر چاند کا قصہ اسی قصہ کو کب کی شب کا نہ تھا تو قصہ قمر کی شب کی صبح کو یا اس کے علاوہ کسی اور شب کی صبح کو) جب آفتاب دیکھا (کہ بڑی آب و تاب سے) چمکتا ہوا (نکلا ہے) تو (پہلی دو بار کی طرح پھر) فرمایا کہ (تمہارے خیال کے موافق) یہ میرا (اور تمہارا) رب (اور متصرف فی الاحوال) ہے (اور) یہ تو سب (مذکورہ ستاروں) میں بڑا ہے (اس پر خاتمہ کلام کا ہوجاوے گا، اگر اس کی ربوبیت باطل ہوگئی تو چھوٹوں کی بدرجہ اولیٰ باطل ہوجاوے گی، غرض شام ہوئی تو وہ بھی غروب ہوگیا) سو جب وہ غروب ہوگیا تو آپ نے فرمایا کہ بیشک میں تمہارے شرک سے بیزار (اور نفور) ہوں (یعنی برأت ظاہر کرتا ہوں، اعتقاداً تو ہمیشہ سے بیزار ہی تھے) میں (سب طریقوں سے) یک سو ہو کر اپنا رخ (ظاہر کا اور دل کا) اس (ذات) کی طرف (کرنا تم سے ظاہر) کرتا ہوں جس نے آسمانوں کو اور زمین کو پیدا کیا اور میں (تمہاری طرح) شرک کرنے والوں سے نہیں ہوں (نہ اعتقاداً نہ قولاً نہ عملاً ) اور ان سے ان کی قوم نے (بیہودہ) حجت کرنا شروع کی (وہ یہ کہ رسم قدیم ہے (آیت) وجدنا اباءنا لھا عابدین، اور معبودان باطلہ کے انکار پر ڈرایا بھی کہ کبھی تم کو یہ کسی آفت میں نہ پھنسا دیں کما یدل علیہ الجواب بقولہ ولا اخاف الخ) آپ نے (پہلی بات کے جواب میں تو یہ) فرمایا کہ کیا تم اللہ (کی توحید) کے معاملہ میں مجھ سے (باطل) حجت کرتے ہو، حالانکہ اس نے مجھ کو (استدلال صحیح کا) طریقہ بتلا دیا ہے (جس کو میں تمہارے روبرو پیش کرچکا ہوں، اور محض رسم قدیم ہونا اس استدلال کا جواب نہیں ہو سکتا، پھر اس سے احتجاج تمہارے لئے بیکار اور میرے نزدیک غیر قابل التفات) اور (دوسری بات کے جواب میں یہ فرمایا کہ) میں ان چیزوں سے جن کو تم اللہ تعالیٰ کے ساتھ (استحقاق عبادت میں) شریک بناتے ہو نہیں ڈرتا (کہ وہ مجھ کو کوئی صدمہ پہنچا سکتے ہیں کیونکہ ان میں خود صفت قدرت ہی مفقود ہے اور اگر کسی چیز میں ہو بھی تو استقلال قدرت مفقود ہے) ہاں لیکن اگر پروردگار ہی کوئی امر چاہے (تو وہ دوسری بات ہے وہ ہوجاوے گی لیکن اس سے آلہہ دار باب باطلہ کی قدرت کا ثبوت یا ان سے خوف کی ضرورت کب لازم آئی اور) میرا پروردگار (جس طرح قادر مطلق ہے جیسا ان اشیاء سے معلوم ہوا اسی طرح وہ) ہر چیز کو اپنے (احاطہ) علم میں (بھی) گھیرے ہوئے ہے (غرض قدرت و علم دونوں اسی کے ساتھ مختص ہیں، اور تمہارے آلہہ کو نہ قدرت ہے نہ علم ہے) کیا تم (سنتے ہو اور) پھر (بھی) خیال نہیں کرتے اور (جس طرح میرے نہ ڈرنے کی وجہ یہ ہے کہ وہ تمہارے معبود علم وقدرت سے محض معریٰ ہیں، اسی طرح یہ بات بھی تو ہے کہ میں نے کوئی کام ڈر کا کیا بھی تو نہیں تو پھر) میں ان چیزوں سے کیسے ڈروں جن کو تم نے (اللہ تعالیٰ کے ساتھ استحقاق عبادت اور اعتقاد ربوبیت میں) شریک بنایا ہے، حالانکہ (تم کو ڈرنا چاہئے دو وجہ سے، اول تم نے ڈرکا کام یعنی شرک کیا ہے، جس پر عذاب مرتب ہوتا ہے، دوسرے خدا کا عالم اور قادر ہونا معلوم ہوچکا ہے، مگر) تم اس بات (کے وبال) سے نہیں ڈرتے کہ تم نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ ایسی چیزوں کو شریک ٹھہرایا ہے جن (کے معبود ہونے) پر اللہ تعالیٰ نے تم پر کوئی دلیل (لفظاً یا معنیً ) نازل نہیں فرمائی (مطلب یہ کہ ڈرنا چاہئے تم کو پھر الٹا مجھ کو ڈراتے ہو) سو (بعد اس تقریر کے انصاف سے سوچ کر بتلاؤ کہ) ان دو (مذکورہ) جماعتوں میں سے (یعنی مشرکین و موحدین میں سے) امن کا (یعنی اس کا کہ اس پر خوف کا) اگر تم (کچھ) خبر رکھتے ہو۔ معارف و مسائل ان سے پہلی آیات میں رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا مشرکین عرب کو خطاب اور بت پرستی چھوڑ کر صرف خدا پرستی کی دعوت کا بیان تھا۔ ان آیات میں اسی دعوت حق کی تائید ایک خاص انداز میں فرمائی گئی ہے، جو طبعی طور پر اہل عرب کے لئے دلنشین ہو سکتی ہے، وہ یہ کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) تمام عرب کے جدِّ امجد ہیں اور اسی لئے سارا عرب ان کی تعظیم پر ہمیشہ سے متفق چلا آیا ہے، ان آیات میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے اس مناظرہ کا ذکر کیا گیا ہے جو انہوں نے بت پرستی کے خلاف اپنی قوم کے ساتھ کیا تھا، اور پھر سب کو توحید حق کا سبق دیا تھا۔ پہلی آیت میں ہے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنے باپ آزر سے کہا کہ تم نے اپنے ہاتھوں کے بنائے ہوئے بتوں کو اپنا معبود بنا لیا ہے، میں تم کو اور تمہاری ساری قوم کو گمراہی میں دیکھتا ہوں۔ مشہور یہ ہے کہ آزر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے والد کا نام ہے اور اکثر مورخین نے ان کا نام تارخ بتلایا ہے اور یہ کہ آزر ان کا لقب ہے، اور امام رازی رحمة اللہ علیہ اور علماء سلف میں سے ایک جماعت کا کہنا یہ ہے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے والد کا نام تارخ اور چچا کا نام آزر ہے، ان کا چچا آزر نمرود کی وزارت کے بعد شرک میں مبتلا ہوگیا تھا، اور چچا کو باپ کہنا عربی محاورات میں عام ہے، اسی محاورہ کے تحت آیت میں آزر کو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا باپ فرمایا گیا ہے، زرقانی نے شرح مواہب میں اس کے کئی شواہد بھی نقل کئے ہیں۔ اصلاح عقائد و اعمال کی دعوت اپنے گھر اور خاندان سے شروع کرنی چاہئے آزر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے والد ہوں یا چچا بہر حال نسبی طور پر ان کے قابل احترام بزرگ تھے، حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے سب سے پہلے دعوت حق اپنے گھر سے شروع فرمائی، جیسا کہ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو بھی اس کا حکم ہوا ہے (آیت) وانذر عشیرتک الاقربین، یعنی اپنے قریبی رشتہ داروں کو خدا کے عذاب سے ڈرائیے۔ اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کے ماتحت سب سے پہلے اپنے خاندان ہی کو کوہ صفا پر چڑھ کر دعوت حق کے لئے جمع فرمایا۔ تفسیر بحر محیط میں ہے کہ اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ اگر خاندان کے کوئی واجب الاحترام بزرگ دین کے صحیح راستہ پر نہ ہوں تو ان کو صحیح راستہ کی طرف دعوت دینا احترام کے خلاف نہیں بلکہ ہمدردی و خیر خواہی کا تقاضا ہے، اور یہ بھی معلوم ہوا کہ دعوت حق اور اصلاح کا کام اپنے قریبی لوگوں سے شروع کرنا سنت انبیاء ہے۔ دو قومی نظرئیے، مسلمان ایک قوم اور کافر دوسری قوم نیز اس آیت میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنے خاندان اور قوم کی نسبت اپنی طرف کرنے کے بجائے باپ سے یہ کہا کہ تمہاری قوم گمراہی میں ہے، اس میں اس عظیم قربانی کی طرف اشارہ ہے جو ابراہیم (علیہ السلام) نے خدا کی راہ میں اپنی مشرک برادری سے قطع تعلق کرکے ادا کی اور اپنے عمل سے بتلا دیا کہ مسلم قومیت رشتہ اسلام سے قائم ہوتی ہے، نسبی اور وطنی قومیتیں اگر اس سے متصادم ہوں تو وہ سب چھوڑ دینے کے قابل ہیں ہزار خویش کہ بیگانہ از خدا باشد فدائے یک تن بیگانہ کاشنا باشد قرآن کریم نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے اس واقعہ کو ذکر کرکے آئندہ آنے والی امتوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ بھی ان کے نقش قدم پر چلیں، ارشاد ہے : (آیت) قد کانت لکم اسوة حسنة، یعنی امت محمدیہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لئے اسوہ حسنہ اور قابل اقتداء ہے، حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور ان کے ساتھیوں کا یہ عمل کہ انہوں نے اپنی نسبی اور وطنی برادری سے صاف کہہ دیا کہ ہم تم سے اور تمہارے غلط معبودوں سے بیزار ہیں، اور ہمارے تمہارے درمیان بغض و عداوت کی دیوار اس وقت تک حائل ہے جب تک تم ایک اللہ کی عبادت اختیار نہ کرلو۔ معلوم ہوا کہ یہ دو قومی نظرئیے ہیں جس نے پاکستان بنوایا ہے، اس کا اعلان سب سے پہلے خلیل اللہ ابراہیم (علیہ السلام) نے فرمایا ہے، امّتِ محمدیہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور دوسری تمام امتوں نے حسب ہدایت یہی طریقہ اختیار کیا، اور عام طور پر مسلمانوں میں قومیت اسلام معروف ہوگئی، حجة الوداع کے سفر میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ایک قافلہ ملا، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پوچھا کہ تم کس قوم سے ہو، تو جواب دیا نحن قوم مسلمون (بخاری) اس میں عرب کے سابقہ دستور کے مطابق کسی قبیلہ یا خاندان کا نام لینے کے بجائے مسلمون کہہ کر اس حقیقی قومیت کا بتلا دیا جو دنیا سے لے کر آخر تک چلنے والی ہے، حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اس جگہ اپنے باپ سے خطاب کے وقت تو برادری کی نسبت ان کی طرف کرکے اپنی بیزاری کا اعلان فرمایا اور جس جگہ قوم سے اپنی بیزاری اور قطع تعلقی کا اعلان کرنا تھا وہاں اپنی طرف منسوب کرکے خطاب کیا، جیسے اگلی آیت میں ہے اِنِّىْ بَرِيْۗءٌ مِّمَّا تُشْرِكُوْنَ ، یعنی اے میری قوم ! میں تمہارے شرک سے بیزار ہوں۔ اس میں اس کی طرف اشارہ ہے کہ اگرچہ نسب و وطن کے لحاظ سے تم میری قوم ہو، لیکن تمہارے مشرکانہ افعال نے مجھے تمہاری برادری سے قطع تعلق کرنے پر مجبور کردیا۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی برادری اور ان کے باپ دوہرے شرک میں مبتلا تھے کہ بتوں کی بھی پرستش کرتے تھے، اور ستاروں کی بھی، اسی لئے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے انہی دونوں مسئلوں پر اپنے باپ اور اپنی قوم سے مناظرہ کیا