Surat ul Anaam

Surah: 6

Verse: 74

سورة الأنعام

وَ اِذۡ قَالَ اِبۡرٰہِیۡمُ لِاَبِیۡہِ اٰزَرَ اَتَتَّخِذُ اَصۡنَامًا اٰلِہَۃً ۚ اِنِّیۡۤ اَرٰىکَ وَ قَوۡمَکَ فِیۡ ضَلٰلٍ مُّبِیۡنٍ ﴿۷۴﴾

And [mention, O Muhammad], when Abraham said to his father Azar, "Do you take idols as deities? Indeed, I see you and your people to be in manifest error."

اور وہ وقت بھی یاد کرنے کے قابل ہے جب ابراہیم ( علیہ السلام ) نے اپنے باپ آزر سے فرمایا کہ کیا تو بتوں کو معبود قرار دیتا ہے؟ بے شک میں تجھ کو اور تیری ساری قوم کو صریح گمراہی میں دیکھتا ہوں ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

Ibrahim Advises his Father Ibrahim advised, discouraged and forbade his father from worshipping idols, just as Allah stated, وَإِذْ قَالَ إِبْرَاهِيمُ لاَبِيهِ ازَرَ أَتَتَّخِذُ أَصْنَامًا الِهَةً ... And (remember) when Ibrahim said to his father Azar: "Do you take idols as gods!" meaning, do you worship an idol instead of Allah. ... إِنِّي أَرَاكَ وَقَوْمَكَ ... Verily, I see you and your people..., who follow your path, ... فِي ضَلَلٍ مُّبِينٍ in manifest error. wandering in confusion unaware of where to go. Therefore, you are in disarray and ignorance, and this fact is clear to all those who have sound reason. Allah also said, وَاذْكُرْ فِى الْكِتَـبِ إِبْرَهِيمَ إِنَّهُ كَانَ صِدِّيقاً نَّبِيّاً إِذْ قَالَ لاًّبِيهِ يأَبَتِ لِمَ تَعْبُدُ مَا لاَ يَسْمَعُ وَلاَ يَبْصِرُ وَلاَ يُغْنِى عَنكَ شَيْياً يأَبَتِ إِنِّى قَدْ جَأءَنِى مِنَ الْعِلْمِ مَا لَمْ يَأْتِكَ فَاتَّبِعْنِى أَهْدِكَ صِرَاطاً سَوِيّاً يأَبَتِ لاأَ تَعْبُدِ الشَّيْطَـنَ إِنَّ الشَّيْطَـنَ كَانَ لِلرَّحْمَـنِ عَصِيّاً يأَبَتِ إِنِّى أَخَافُ أَن يَمَسَّكَ عَذَابٌ مِّنَ الرَّحْمَـنِ فَتَكُونَ لِلشَّيْطَـنِ وَلِيّاً قَالَ أَرَاغِبٌ أَنتَ عَنْ الِهَتِى يإِبْرَهِيمُ لَيِن لَّمْ تَنتَهِ لاَرْجُمَنَّكَ وَاهْجُرْنِى مَلِيّاً قَالَ سَلَـمٌ عَلَيْكَ سَأَسْتَغْفِرُ لَكَ رَبِّي إِنَّهُ كَانَ بِى حَفِيّاً وَأَعْتَزِلُكُمْ وَمَا تَدْعُونَ مِن دُونِ اللَّهِ وَأَدْعُو رَبِّى عَسَى أَلاَّ أَكُونَ بِدُعَأءِ رَبِّى شَقِيًّا And mention in the Book (the Qur'an, the story of) Ibrahim. Verily! He was a man of truth, a Prophet. When he said to his father: "O my father! Why do you worship that which hears not, sees not and cannot avail you in anything O my father! Verily! There has come to me of knowledge that which came not unto you. So follow me. I will guide you to a straight path. O my father! Worship not Shaytan. Verily! Shaytan has been a rebel against the Most Beneficent (Allah). O my father! Verily! I fear lest a torment from the Most Beneficent (Allah) overtakes you, so that you become a companion of Shaytan (in the Hell-fire)." He (the father) said: "Do you reject my gods, O Ibrahim If you stop not (this), I will indeed stone you. So get away from me safely before I punish you." Ibrahim said: "Peace be on you! I will ask forgiveness of my Lord for you. Verily! He is unto me, Ever Most Gracious. And I shall turn away from you and from those whom you invoke besides Allah. And I shall call on my Lord; and I hope that I shall not be unanswered in my invocation to my Lord." (19:41-48) Ibrahim continued asking for forgiveness for his father for the rest of his father's life. When his father died an idolator and Ibrahim realized this fact, he stopped asking Allah for forgiveness for him and disassociated himself from him. Allah said, وَمَا كَانَ اسْتِغْفَارُ إِبْرَهِيمَ لاًّبِيهِ إِلاَّ عَن مَّوْعِدَةٍ وَعَدَهَأ إِيَّاهُ فَلَمَّا تَبَيَّنَ لَهُ أَنَّهُ عَدُوٌّ لِلَّهِ تَبَرَّأَ مِنْهُ إِنَّ إِبْرَهِيمَ لاَوَّاهٌ حَلِيمٌ And invoking for his father's forgiveness was only because of a promise he had made to him. But when it became clear to him that he was an enemy to Allah, he dissociated himself from him. Verily Ibrahim was patient in supplication and forbearing. (9:114) It was recorded in the Sahih that; Ibrahim will meet his father Azar on the Day of Resurrection and Azar will say to him, "My son! This Day, I will not disobey you." Ibrahim will say, "O Lord! You promised me not to disgrace me on the Day they are resurrected; and what will be more disgraceful to me than cursing and dishonoring my father!" Then Allah will say, "O Ibrahim! Look behind you!" He will look and there he will see (that his father was changed into) a male hyena covered in dung, which will be caught by the legs and thrown in the (Hell) Fire." Tawhid Becomes Apparent to Ibrahim Allah's statement,

ابراہیم علیہ السلام اور آزر میں مکالمہ حضرت عباس کا قول ہے کہ حضرت ابراہیم علیہم السلام کے والد کا نام آزر نہ تھا بلکہ تارخ تھا ۔ آزر سے مراد بت ہے ۔ آپ کی والدہ کا نام مثلے تھا آپ کی بیوی صاحبہ کا نام سارہ تھا ۔ حضرت اسماعیل کی والدہ کا نام ہاجرہ تھا یہ حضرت ابراہیم کی سریہ تھیں ۔ علماء نسب میں سے اوروں کا بھی قول ہے کہ آپ کے والد کا نام تارخ تھا ۔ مجاہد اور سدی فرماتے ہیں آزر اس بت کا نام تھا جس کے پجاری اور خادم حضرت ابراہیم علیہ السلام کے والد تھے ہو سکتا ہے کہ اس بت کے نام کی وجہ سے انہیں بھی اسی نام سے یاد کیا جاتا ہو اور یہی نام مشہور ہو گیا ہو ۔ واللہ اعلم ۔ ابن جریر فرماتے ہیں کہ آزر کا لفظ ان میں بطور عیب گیری کے استعمال کیا جاتا تھا اس کے معنی ٹیڑھے آدمی کے ہیں ۔ لیکن اس کلام کی سند نہیں نہ امام صاحب نے اسے کسی سے نقل کیا ہے ۔ سلیمان کا قول ہے کہ اس کے معنی ٹیڑھے پن کے ہیں اور یہی سب سے سخت لفظ ہے جو خلیل اللہ کی زبان سے نکلا ۔ ابن جریر کا فرمان ہے کہ ٹھیک بات یہی ہے کہ حضرت ابراہیم کے والد کا نام آزر تھا اور یہ جو عام تاریخ داں کہتے ہیں کہ ان کا نام تارخ تھا اس کا جواب یہ ہے کہ ممکن ہے دونوں نام ہوں یا ایک تو نام ہو اور دوسرا لقب ہو ۔ بات تو یہ ٹھیک اور نہایت قوی ہے واللہ اعلم ۔ آزَر اور آزُر دونوں قرأت یں ہیں پچھلی قرأت یعنی راء کے زبر کے ساتھ تو جمہور کی ہے ۔ پیش والی قرأت میں ندا کی وجہ سے پیش ہے اور زبر والی قرأت لابیہ سے بدل ہونے کی ہے اور ممکن ہے کہ عطف بیان ہو اور یہی زیادہ مشابہ ہے ۔ یہ لفظ علمیت اور عجمیت کی بنا پر غیر منصرف ہے بعض لوگ اسے صفت بتلاتے ہیں اس بنا پر بھی یہ غیر منصرف رہے گا جیسے احمر اور اسود ۔ بعض اسے اتتخذ کا معمول مان کر منصوب کہتے ہیں ۔ گویا حضرت ابراہیم یوں فرماتے کہ ہم لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے جب ہم مدینہ شریف سے باہر نکل گئے تو ہم نے دیکھا کہ ایک اونٹ سوار بہت تیزی سے اپنے اونٹ کو دوڑتا ہوا آ رہا ہے حضور نے فرمایا تمہاری طرف ہی آ رہا ہے اس نے پہنچ کر سلام کیا ہم نے جواب دیا حضور نے ان سے پوچھا کہاں سے آ رہے ہو؟ اس نے کہا اپنے گھر سے ، اپنے بال بچوں میں سے ، اپنے کنبے قبیلے میں سے ۔ دریافت فرمایا کیا ارادہ ہے؟ کیسے نکلے ہو؟ جواب دیا اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی جستجو میں ۔ آپ نے فرمایا پھر تو تم اپنے مقصد میں کامیاب ہو گئے میں ہی اللہ کا رسول ہوں ۔ اس نے خوش ہو کر کہا یا رسول اللہ مجھے سمجھائیے کہ ایمان کیا ہے؟ آپ نے فرمایا یہ کہہ دو کہ اللہ ایک ہے اور محمد اللہ کے رسول ہیں اور نمازوں کو قائم رکھے اور زکوٰۃ ادا کرتا رہے اور رمصان کے روزے رکھے اور بیت اللہ کا حج کرے اس نے کہا مجھے سب باتیں منظور ہیں میں سب اقرار کرتا ہوں ، اتنے میں ان کے اونٹ کا پاؤں ایک سوراخ میں گر پڑا اور اونٹ ایک دم سے جھٹکالے کر جھک گیا اور وہ اوپر سے گرے اور سر کے بل گرے اور اسی وقت روح پرواز کر گئی حضور نے ان کے گرتے ہی فرمایا کہ دیکھو انہیں سنبھالو اسی وقت حضرت عمار بن یاسر اور حضرت حذیفہ بن یمان اپنے اونٹوں سے کود پڑے اور انہیں اٹھا لیا دیکھا تو روح جسم سے علیحدہ ہو چکی ہے حضور سے کہنے لگے یا رسول اللہ یہ تو فوت ہو گئے آپ نے منہ پھیر لیا پھر ذرا سی دیر میں فرمانے لگے تم نے مجھے منہ موڑتے ہوئے دیکھا ہو گا اس کی وجہ یہ تھی کہ میں نے دیکھا دو فرشتے آئے تھے اور مرحوم کے منہ میں جنت کے پھول دے رہے تھے اس سے میں نے جان لیا کہ بھوکے فوت ہوئے ہیں ۔ سنو یہ انہیں لوگوں میں سے ہیں جن کی بابت اللہ تبارک و تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے کہ جو لوگ ایمان لائے اور اپنے ایمان کو ظلم سے نہ ملایا ان کے لئے امن و امان ہے اور وہ راہ یافتہ ہیں ۔ اجھا اپنے پیارے بھائی کو دفن کرو چنانچہ ہم انہیں پانی کے پاس اٹھا لے گئے غسل دیا خوشبو ملی اور قبر کی طرف جنازہ لے کر چلے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم قبر کے کنارے بیٹھ گئے اور فرمانے لگے بغلی قبر بناؤ سیدھی نہ بناؤ بغلی قبر ہمارے لئے ہے اور سیدھی ہمارے سوا اوروں کے لئے ہے ، لوگو یہ وہ شخص ہے جس نے عمل بہت ہی کم کیا اور ثواب زیادہ پایا ۔ یہ ایک اعرابی تھے انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس سلسلہ کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے میں اپنے گھر سے اپنے بال بجوں سے اپنے مال سے اپنے کنبے قبیلے سے اس لئے اور صرف اس لئے الگ ہوا ہوں کہ آپ کی ہدایت کو قبول کروں آپ کی سنتوں پر علم کروں آپ کی حدیثیں لوں ۔ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں گھاس پھوس کھاتا ہوا آپ تک پہنچا ہوں ۔ آپ مجھ اسلام سکھائیے حضور نے سکھایا اس نے قبول کیا ہم سب ان کے ارد گرد بھیڑ لگائے کھڑے تھے اتنے میں جنگلی چوہے کے بل میں ان کے اونٹ کا پاؤں پڑ گیا یہ گر پڑے اور گردن ٹوٹ گئی آپ نے فرمایا اس اللہ کی قسم جس نے مجھے حق کے ساتھ مبعوث فرمایا یہ سچ مچ فی الواقع اپنے گھر سے اپنی اہل و عیال سے اور اپنے مال مویشی سے صرف میری تابعداری کی دھن میں نکلا تھا اور وہ اس بات میں بھی سچے تھے کہ وہ میرے پاس نہیں پہنچے یہاں تک کہ ان کا کھانا صرف سبز پتے اور گھاس رہ گیا تھا تم نے ایسے لوگ بھی سنے ہوں گے جو عمل کم کرتے ہیں اور ثواب بہت پاتے ہیں ۔ یہ بزرگ انہی میں سے تھے ۔ تم نے سنا ہو گا کہ باری تعالیٰ فرماتا ہے جو ایمان لائیں اور ظلم نہ کریں وہ امن و ہدایت والے ہیں یہ انہی میں سے تھے ( رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) پھر فرمایا ابراہیم علیہ السلام کو یہ دلیلیں ہم نے سکھائیں جن سے وہ اپنی قوم پر غالب آ گئے جیسے انہوں نے ایک اللہ کے پرستار کا امن اور اس کی ہدایت بیان فرمائی اور خود اللہ کی طرف سے اس بات کی تصدیق کی گئی آیت ( نَرْفَعُ دَرَجٰتٍ مَّنْ نَّشَاۗءُ ۭاِنَّ رَبَّكَ حَكِيْمٌ عَلِيْمٌ ) 6 ۔ الانعام:83 ) کی یہی ایک قرأت ہے ، اضافت کے ساتھ اور بے اضافت دونوں طرح پڑھا یا گیا ہے جیسے سورۃ یوسف میں ہے اور معنی دونوں قرأت وں کے قریب قریب برابر ہیں ۔ تیرے رب کے اقوال رحمت والے اور اس کے کام بھی حکمت والے ہیں ۔ وہ صحیح راستے والوں کو اور گمراہوں کو بخوبی جانتا ہے جیسے فرمان ہے جن پر تیرے کی ٹھنڈک میں نے اپنے سینے میں محسوس کی پھر تو تمام چیزیں میرے سامنے کھل گئیں اور میں نے اسے پہچان لیا ولیکون کا واؤ زائدہ ہے ۔ جیسے ولتستبین میں اور کہا گیا ہے کہ وہ اپنی جگہ پر ہے یعنی اس لئے کہ وہ عالم اور یقین والے ہو جائیں ، رات کے اندھیرے میں خلیل اللہ ستارے کو دیکھ کر فرماتے ہیں کہ یہ میرا رب ہے جب وہ غروب ہو جاتا ہے تو آپ سمجھ لیتے ہیں کہ یہ پروردگار نہیں کیونکہ رب دوام والا ہوتا ہے وہ زوال اور انقلاب سے پاک ہوتا ہے ۔ پھر جب چاند چڑھتا ہے تو یہی فرماتے ہیں جب وہ بھی غروب ہو جاتا ہے تو اس سے بھی یکسوئی کر لیتے ہیں ۔ پھر سورج کے طلوع ہونے پر اسے سب سے بڑا پا کر سب سے زیادہ روشن دیکھ کر یہی کہتے ہیں جب وہ بھی ڈھل جاتا ہے تو اللہ کے سوا تمام معبودوں سے بیزار ہو جاتے ہیں ۔ اور پکار اٹھتے ہیں کہ میں تو اپنی عبادت کے لئے اللہ کی ذات کو مخصوص کرتا ہوں جس نے ابتداء میں بغیر کسی نمونے کے آسمانوں اور زمینوں کو پیدا کیا ہے میں شرک سے ہٹ کر توحید کی طرف لوٹتا ہوں اور میں مشرکوں میں شامل رہنا نہیں چاہتا ، مفسرین ان آیتوں کی بابت دو خیال ظاہر کرتے ہیں ۔ ایک تو یہ کہ یہ بطور نظر اور غور و فکر کے تھا دوسرے یہ کہ یہ سب بطور مناظرہ کے تھا ۔ ابن عباس سے دوسری بات ہی مروی ہے ابن جریر میں بھی اسی کو پسند کیا گیا ہے اس کی دلیل میں آپ کا یہ قول لاتے ہیں کہ اگر مجھے میرا رب ہدایت نہ کرتا تو میں گمراہ میں ہو جاتا ۔ امام محمد بن اسہاق رحمتہ اللہ علیہ نے ایک لمبا قصہ نقل کیا ہے جس میں ہے کہ نمرود بن کنعان بادشاہ سے یہ کہا گیا تھا کہ ایک بچہ پیدا ہونے والا ہے جس کے ہاتھوں تیرا تخت تارج ہو گا تو اس نے حکم دے دیا تھا کہ اس سال میری مملکت میں جتنے بچے پیدا ہوں سب قتل کر دیئے جائیں حضرت ابراہیم علیہ السلام کی والدہ نے جب یہ سنا تو کجھ وقت قبل شہر کے باہر ایک غار میں چلی گئیں ، وہیں حضرت خلیل اللہ پیدا ہوئے ، تو جب آپ اس غار سے باہر نکلے تب آپ نے یہ سب فرمایا تھا جس کا ذکر ان آیتوں میں ہے ، بالکل صحیح بات یہ ہے کہ یہ گفتگو اللہ کے خلیل حضرت ابراہیم علیہ السلام کی مناظرانہ تھی اپنی قوم کی باطل پرستی کا احوال اللہ کو سمجھا رہے تھے ، اول تو آپ نے اپنے والد کی خطا ظاہر کی کہ وہ زمین کے ان بتوں کی پوجا کرتے تھے جنہیں انہوں نے فرشتوں وغیرہ کی شکل پر بنا لیا تھا اور جنہیں وہ سفارشی سمجھ رہے تھے ۔ یہ لوگ بزعم خود اپنے آپ کو اس قابل نہیں جانتے تھے کہ براہ راست اللہ تعالیٰ کی عبادت کریں ۔ اس لئے بطور وسیلے کے فرشتوں کو پوجتے تھے کہ وہ اللہ تعالیٰ سے ان کے بارہ میں کہہ سن کر ان کی روزی وغیرہ بڑھوا دیں اور ان کی حاجتیں پوری کرا دیں پھر جن آسمانی چیزوں کو یہ پوجتے تھے ان میں ان کی خطا بیان کی ۔ یہ ستارہ پرست بھی تھے ساتوں ستاروں کو جو چلنے پھرنے والے ہیں ۔ پوجتے تھے ، چاند ، عطارد ، زہرہ ، سورج ، مریخ ، مستری ، زحل ۔ ان کے نزدیک سب سے زیادہ روشن سورج ہے ، پھر چاند پھر زہرہ پس آپ نے آدنیٰ سے شروع کیا اور اعلی تک لے گئے ۔ پہلے تو زہرہ کی نسبت فرمایا کہ وہ پوجا کے قابل نہیں کیونکہ یہ دوسرے کے قابو میں ہیں ۔ یہ مقررہ جال سے چلتا ۔ مقررہ جگہ پر چلتا ہے دائیں بائیں ذرا بھی کھسک نہیں سکتا ۔ تو جبکہ وہ خود بیشمار چیزوں میں سے ایک چیز ہے ۔ اس میں روشنی بھی اللہ کی دی ہوئی ہے یہ مشرق سے نکلتا ہے پھر چلتا پھرتا رہتا ہے اور ڈوب جاتا ہے پھر دوسری رات اسی طرح ظاہر ہوتا ہے تو ایسی چیز معبود ہونے کی صلاحیت کیا رکھتی ہے؟ پھر اس سے زیادہ روشن چیز یعنی چاند کو دیکھتے ہیں اور اس کو بھی عبادت کے قابل نہ ہونا ظاہر فرما کر پھر سورج کو لیا اور اس کی مجبوری اور اس کی غلامی اور مسکینی کا اظہار کیا اور کہا کہ لوگو میں تمہارے ان شرکاء سے ، ان کی عبادت سے ، ان کی عقیدت سے ، ان کی محبت سے دور ہوں ۔ سنو اگر یہ سچے معبود ہیں اور کچھ قدرت رکھتے ہیں تو ان سب کو ملا لو اور جو تم سب سے ہو سکے میرے خلاف کر لو ۔ میں تو اس اللہ کا عابد ہوں جو ان مصنوعات کا صانع جو ان مخلوقات کا خالق ہے جو ہر چیز کا مالک رب اور سچا معبود ہے جیسے قرآنی ارشاد ہے کہ تمہارا رب صرف وہی ہے جس نے چھ دن میں آسمان و زمین کو پیدا کیا پھر عرش پر مستوی ہو گیا رات کو دن سے دن کو رات سے ڈھانپتا ہے ایک دوسرے کے برابر پیچھے جا آ رہا ہے سورج چاند اور تارے سب اس کے فرمان کے تحت ہیں خلق و امر اسی کی ملکیت میں ہیں وہ رب العالمین ہے بڑی برکتوں والا ہے ، یہ تو بالکل ناممکن سا معلوم ہوتا ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ اسللام کے یہ سب فرمان بطور واقعہ کے ہوں اور حقیقت میں آپ اللہ کو پہچانتے ہی نہ ہوں ۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے آیت ( وَلَـقَدْ اٰتَيْنَآ اِبْرٰهِيْمَ رُشْدَهٗ مِنْ قَبْلُ وَكُنَّا بِهٖ عٰلِمِيْنَ ) 21 ۔ الانبیآء:51 ) یعنی ہم نے پہلے سے حضرت ابراہیم کو سیدھا راستہ دے دیا تھا اور ہم اس سے خوب واقف تھے جبکہ اس نے اپنے باپ سے اور اپنی قوم سے فرمایا یہ صورتیں کیا ہیں جن کی تم پرستش اور مجاورت کر رہے ہو؟ اور آیت میں ہے آیت ( اِنَّ اِبْرٰهِيْمَ كَانَ اُمَّةً قَانِتًا لِّلّٰهِ حَنِيْفًا ۭ وَلَمْ يَكُ مِنَ الْمُشْرِكِيْنَ ) 16 ۔ النحل:120 ) ابراہیم تو بڑے خلوص والے اللہ کے سچے فرمانبردار تھے وہ مشرکوں میں سے نہ تھے اللہ کی نعمتوں کے شکر گزار تھے اللہ نے انہیں پسند فرما لیا تھا اور صراط مستقیم کی ہدایت دی تھی دنیا کی بھلائیاں دی تھیں اور آخرت میں بھی انہیں صالح لوگوں میں ملا دیا تھا اب ہم تیری طرف وحی کر رہے ہیں کہ ابراہیم حنیف کے دین کا تابعدار رہ وہ مشرک نہ تھا ، بخاری و مسلم میں ہے ، حضور علیہ السلام فرماتے ہیں کہ ہر بچہ فطرت پر پیدا ہوتا ہے ۔ صحیح مسلم کی حدیث قدسی میں ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے میں نے اپنے بندوں کو موحد پیدا کیا ہے ۔ کتاب اللہ میں ہے آیت ( فِطْرَتَ اللّٰهِ الَّتِيْ فَطَرَ النَّاسَ عَلَيْهَا ۭ لَا تَبْدِيْلَ لِخَلْقِ اللّٰهِ ۭ ذٰلِكَ الدِّيْنُ الْـقَيِّمُ ڎ وَلٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُوْنَ ) 30 ۔ الروم:30 ) اللہ تعالیٰ نے لوگوں کو فطرت اللہ پر پیدا کیا ہے ، اللہ کی خلق کی تبدیلی نہیں اور آیت میں ہے تیرے رب نے آدم کی پیٹھ سے ان کی اولاد نکال کر انہیں ان کی جانوں پر گواہ کیا کہ کیا میں تمہارا سب کا رب نہیں ہوں؟ سب نے اقرار کیا کہ ہاں بیشک تو ہمارا رب ہے پس یہی فطرت اللہ ہے جیسے کہ اس کا ثبوت عنقریب آئے گا ان شاء اللہ پس جبکہ تمام مخلوق کی پیدائش دین اسلام پر اللہ کی سچی توحید پر ہے تو ابراہیم خلیل اللہ علیہ السلام جن کی توحید اور اللہ پرستی کا ثنا خواں خود کلام رحمان ہے ان کی نسبت کون کہہ سکتا ہے کہ آپ اللہ جل شانہ سے آگاہ نہ تھے اور کبھی تارے کو اور کبھی چاند سورج کو اپنا اللہ سمجھ رہے تھے ۔ نہیں نہیں آپ کی فطرت سالم تھی آپ کی عقل صحیح تھی آپ اللہ کے سچے دین پر اور خالص توحید پر تھے ۔ آپ کا یہ تمام کلام بحیثیت مناظرہ تھا اور اس کی زبر دست دلیل اس کے بعد کی آیت ہے ۔

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

74۔ 1 مورخین حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے باپ کے دو نام ذکر کرتے ہیں، آزر اور تارخ۔ ممکن ہے دوسرا نام لقب ہو۔ بعض کہتے ہیں کہ آزر آپ کے چچا کا نام تھا، لیکن یہ صحیح نہیں، اس لئے کہ قرآن نے آزر کو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے باپ کے طور پر ذکر کیا ہے، لہذا یہ صحیح ہے۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٨١] یعنی جس دن اللہ تعالیٰ اس جہان کو درہم برہم کرنا چاہے گا۔ تو فرشتہ اسرافیل صور میں پھونک مارے گا۔ اس سے زمین پر آباد تمام مخلوق مرجائے گی۔ پھر کچھ مدت کے بعد دوبارہ صور میں پھونکا جائے گا جیسا کہ درج ذیل حدیث سے واضح ہے۔ خ نفخہ صور دو بار ہوگا۔ اور عجب الذنب :۔ سیدنا ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں کہ صور دو بار پھونکا جائے گا اور ان دونوں میں چالیس کا فاصلہ ہوگا۔ لوگوں نے پوچھا & چالیس دن کا ؟ & کہنے لگے & میں نہیں کہہ سکتا & لوگوں نے کہا & چالیس ماہ کا ؟ & کہنے لگے & میں نہیں کہہ سکتا & پھر لوگوں نے پوچھا & چالیس برس کا ؟ & کہنے لگے & میں نہیں کہہ سکتا & اس کے بعد ابوہریرہ (رض) نے کہا : اللہ تعالیٰ آسمان سے بارش برسائے گا تو لوگ زمین سے اس طرح اگ آئیں گے جسیے سبزہ اگ آتا ہے۔ دیکھو ! آدمی کے بدن کی ہر چیز گل سڑ جاتی ہے مگر ایک ہڈی (کی نوک) وہ اس مقام کی ہڈی ہے جہاں جانور کی دم ہوتی ہے قیامت کے دن اسی ہڈی سے مخلوق کو جوڑ جاڑ دیا جائے گا۔ (بخاری۔ کتاب التفسیر سورة النبا آیت نمبر ١٨) خ معبود حقیقی کی چند صفات :۔ معبودان باطل اور ان کے پرستاروں کی تردید کے بعد اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں معبود حق کی یعنی اپنی ایسی چھ صفات بیان فرمائیں جو صرف اللہ تعالیٰ میں پائی جاتی ہیں۔ دوسرے کسی باطل معبود میں ان کا پایا جانا ناممکن ہے اور وہ یہ ہیں (١) اللہ تعالیٰ نے آسمانوں اور زمین یعنی اس کائنات کو تعمیری نتائج کا حامل بنا کر پیدا کیا ہے (٢) پھر وہ اس کائنات میں وسعت بھی پیدا کرتا رہتا ہے اور تغیر و تبدل بھی۔ جب اسے کچھ کرنا منظور ہوتا ہے تو وہ اس کے ہوجانے کا حکم دے دیتا ہے اور وہ چیز یا حادثہ وجود میں آنا شروع ہوجاتا ہے۔ (٣) اس کی ہر بات کا ہر حکم سچا اور ٹھوس حقیقت پر مبنی ہوتا ہے۔ (٤) جس دن اسے اس کائنات کو ختم کر کے روز آخرت میں لانا منظور ہوگا۔ تو اس عالم آخرت میں بھی اسی کی مکمل طور پر فرمانروائی ہوگی۔ (٥) اس کے لیے غیب اور شہادت سب کچھ یکساں، اس کی نظروں کے سامنے اور اس کے علم میں ہے شہادت سے مراد وہ اشیاء ہیں جو کسی انسان کے سامنے موجود ہیں یا ان تک انسان کی دسترس ہوچکی ہے یا ایسے طبعی قوانین جو انسان کے علم میں آ چکے ہیں اور غیب سے مراد ایسی اشیاء ہیں جو انسان کے علم میں نہیں آئیں خواہ وہ ماضی سے تعلق رکھتی ہوں یا مستقبل سے یا ایسے تمام قوانین جن تک تاحال انسان کی رسائی نہیں ہوسکی ایسی سب باتیں اللہ کے علم میں ہیں۔ (٦) اس کے ہر کام میں اور ہر حکم میں کوئی نہ کوئی حکمت ضرور موجود ہوتی ہے خواہ انسان کو اس کا علم ہو یا نہ ہو۔ اس لیے کہ وہ ہر چیز کی قلیل سے قلیل مقدار تک سے بھی پوری طرح باخبر ہے۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

وَاِذْ قَالَ اِبْرٰهِيْمُ لِاَبِيْهِ اٰزَرَ ۔۔ : اوپر کی آیات میں توحید کے حق ہونے اور شرک کے باطل ہونے کے دلائل بیان کرتے ہوئے مشرکین مکہ کے غلط عقائد پر تنقید کی گئی اور اب شرک کی تردید کے لیے ابراہیم (علیہ السلام) کا قصہ بطور تائید بیان فرمایا کہ وہ توحید کے سب سے بڑے داعی اور شرک سے بےزار تھے اور مسلمانوں کو سمجھایا کہ دیکھو انھوں نے کس طرح قوم سے علیحدگی اختیار کی۔ مشرکین مکہ ابراہیم (علیہ السلام) کے دین پر ہونے کے دعوے دار تھے، جب ابراہیم (علیہ السلام) موحد تھے تو اب شرک کے جواز پر تمہارے پاس کیا دلیل رہ جاتی ہے۔ اس آیت سے معلوم ہوا کہ ابراہیم (علیہ السلام) کے والد کا نام آزر تھا۔ اب پہلی کتابوں میں اگر ان کا نام آرخ یا تارخ لکھا ہو تو قرآن کی بات ہی حق ہوگی۔ زیادہ سے زیادہ یہ کہا جاسکتا ہے کہ آرخ یا تارخ اس کا لقب ہوگا، مگر یہ کہنا کہ ان کے باپ کا نام آزر نہیں تھا بلکہ یہ نام چچا کا تھا، بالکل ہی بےدلیل ہے۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Commentary Previous verses contained a description of the call given by the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) in which he addressed the disbelievers of Arabia and appealed to them that they should forsake the worship of idols and believe in a single object of worship: Allah. The present verses support this call of truth in a particular way which could be naturally acceptable to the people of Arabia who have Sayyidna Ibrahim (علیہ السلام) as their patriarch and the whole Arabia stood united in paying homage to him almost always. These verses re¬fer to the debate against the worship of idols and stars led by him before his people and to whom he had then given a lesson as to what a true belief in the Oneness of Allah should be. The first verse (74) opens with Sayyidna Ibrahim (علیہ السلام) telling his father, &Azar that he had taken idols made with his own hands as his object of worship, and that he saw him and his entire people in mani¬fest error. It is commonly held that &Azar is the name of Sayyidna Ibrahim&s father while most historians give his name as Tarakh and identify &Azar as his title. Imam al-Razi and a group of early scholars hold that Tarakh was the name of Sayyidna Ibrahim&s father and &Azar was the name of his uncle. After becoming a minister of Nimrud, his uncle, &Azar had become a polytheist. Since calling an uncle as father is com¬mon in Arab usage, &Azar has been named here as Sayyidna Ibrahim&s father. In Sharh al-Mawahib, Zarqani has reported several proofs to this effect. Reform Begins at Home &Azar, whether a father or uncle of Sayyidna Ibrahim (علیہ السلام) ، was a re¬spectable elder of the family. Thus, it was from his home that Sayyid¬na Ibrahim (علیہ السلام) gave the first call to truth - as was commanded the Holy Prophet too: وَأَنذِرْ‌ عَشِيرَ‌تَكَ الْأَقْرَ‌بِينَ ﴿٢١٤﴾ (26:214) that is, warn your near relatives (of the Divine punishment). It was in obedience to this command that the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) had first gathered his own family to hear him when he stood at the hill of Safa to deliver his call of truth. According to Tafsir Al-Bahr al-Muhit, from here we also learn that inviting a respected elder of the family, who may not be on the right path of faith, to the right path is not contrary to the norms of rever¬ence. In fact, it is a matter of wishing well for him. In addition to that, this also tells us that starting the work of da&wah, the mission of inviting people to the true faith and the seeking of reforms that lead to it, from one&s home, family and immediate circle, is a Sunnah (way) of the prophets (علیہم السلام) . Two-Nation Theory: Believers are One People - Disbelievers, another. It will be noted that Sayyidna Ibrahim (علیہ السلام) has elected not to identify his family and his people with himself in this verse when he said to his father that ` his& people were in error. This indicates the great sacrifice Sayyidna Ibrahim offered in the way of Allah by cutting off his bonds with his disbelieving brotherhood. Thus, by his deed, he demonstrated that Muslim nationality is founded through the bonds of Islam. When nationalities based on concepts of race or homeland clash against it, all these deserve to be forsaken. By mentioning this event relating to Sayyidna Ibrahim (علیہ السلام) ، the Holy Qur&an has asked all communities to come after him that they too should follow in his footsteps. It was said: دْ كَانَتْ لَكُمْ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ فِي إِبْرَ‌اهِيمَ وَالَّذِينَ مَعَهُ إِذْ قَالُوا لِقَوْمِهِمْ إِنَّا بُرَ‌آءُ مِنكُمْ وَمِمَّا تَعْبُدُونَ مِن دُونِ اللَّـهِ. It means: Definitely good and worthy of being emulated and followed by the Muslim community is the way and conduct of Sayyidna Ibrahim (علیہ السلام) and of those with him who frankly told their lineal, racial and geographical brotherhood that they were wary of them and their false objects of worship and that the wall of discord between them shall remain standing until such time that they do become believers and submit to none but Allah. This tells us that the two-nation theory which brought Pakistan into existence - was first proclaimed by Sayyidna Ibrahim (علیہ السلام) . The Ummah of the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) and other communities, fol¬lowed this guidance and moved ahead. Among Muslims, Islam as the identity of their nationhood became well-recognized. During his journey undertaken to perform his Last Hajj, the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) met a caravan on the way. He asked them: ` Which nationality do you come from?& They replied: نحنُ قومُ مُّسلِمُونَ (al-Bukhari) (We are [ a ] nation [ of ] Muslims). Here, in accordance with the early practice in Arabia, they did not name a tribe or a lineally identified family, instead, called themselves: ` muslimun& (Muslims) - and by doing so, they declared what was their real nationality, a nationality which will hold good in all time frames right to the end of time well through the trials of the Akhirah. At this particular place when Sayyidna Ibrahim (علیہ السلام) addressed his father, he proclaimed his distaste for the doings of ` his& people - attributing the people he came from to his father - but, at the place where he had to proclaim his principled disassociation from the same people, he addressed them as his, as appears in the next verse: يَا قَوْمِ إِنِّي بَرِ‌يءٌ مِّمَّا تُشْرِ‌كُونَ (0 my people, I am free of what you associate with Allah). The hint given here is: ` Though, you are my people in terms of race and homeland, but your deeds of disbelief and polytheism have compelled me to cut off my relations with your brotherhood.& The brotherhood of Sayyidna Ibrahim and his father were involved in a two-fold Shirk: They worshipped idols as well as stars. So, Sayy¬idna Ibrahim (علیہ السلام) debated both issues with his father and with his people.

خلاصہ تفسیر اور وہ وقت بھی یاد کرنے کے قابل ہے جب ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنے باپ آزر (نام) سے فرمایا کہ کیا تو بتوں کو معبود قرار دیتا ہے، بیشک میں تجھ کو اور تیری ساری قوم کو (جو اس اعتقاد میں تیرے شریک ہیں) صریح غلطی میں دیکھ رہا ہوں (اور ستاروں کے متعلق آگے گفتگو آئے گی، درمیان میں ابراہیم (علیہ السلام) کا صحت نظر کے ساتھ موصوف ہونا کہ ما قبل و ما بعد دونوں سے اس کا تعلق ہے فرماتے ہیں) اور ہم نے ایسی ہی (کامل) طور پر ابراہیم (علیہ السلام) کو آسمانوں اور زمین کی مخلوقات (بچشم معرفت) دکھلائیں، تاکہ وہ (خالق کی ذات وصفات کے) عارف ہوجاویں اور تاکہ (ازدیار معرفت سے) کامل یقین کرنے والوں سے ہوجاویں (آگے ستاروں کے متعلق گفتگو کہ تتمہ مناظرہ کا ہے مذکور ہے کہ اوپر کی گفتگو تو بتوں کے متعلق ہوچکی) پھر (اسی دن یا کسی اور دن) جب رات کی تاریکی ان پر (اسی طرح اور سب پر) چھا گئی تو انہوں نے ایک ستارہ دیکھا (کہ چمک رہا ہے) آپ نے (اپنی قوم سے مخاطب ہوکر) فرمایا کہ (تمہارے خیال کے موافق) یہ میرا (اور تمہارا) رب (اور میرے احوال میں متصرف) ہے (بہت اچھا، اب تھوڑی دیر میں حقیقت معلوم ہوئی جاتی ہے، چناچہ تھوڑے عرصہ کے بعد وہ افق میں جا چھپا) سو جب وہ غروب ہوگیا تو آپ نے فرمایا کہ میں غروب ہوجانے والوں سے محبت نہیں رکھتا (اور محبت لوازم اعتقاد ربوبیت سے ہے پس حاصل یہ ہوا کہ میں رب نہیں سمجھتا) پھر (اسی شب میں یا کسی دوسری شب میں) جب چاند کو دیکھا (کہ) چمکتا ہوا (نکلا ہے) تو (پہلے ہی کی طرح) فرمایا کہ (تمہارے خیال کے موافق) یہ میرا (اور تمہارا) رب (اور متصرف فی الاحوال) ہے (بہتر اب تھوڑی دیر میں اس کی کیفیت بھی دیکھنا چناچہ وہ بھی غروب ہوگیا) سو جب وہ غروب ہوگیا تو آپ نے فرمایا کہ اگر مجھ کو میرا رب (حقیقی) ہدایت نہ کرتا رہے (جیسا اب تک ہدایت کرتا رہتا ہے) تو میں بھی (تمہاری طرح) گمراہ لوگوں میں شامل ہوجاؤں پھر (یعنی اگر چاند کا قصہ اسی قصہ کو کب کی شب کا تھا تب تو کسی شب کو صبح کو اور اگر چاند کا قصہ اسی قصہ کو کب کی شب کا نہ تھا تو قصہ قمر کی شب کی صبح کو یا اس کے علاوہ کسی اور شب کی صبح کو) جب آفتاب دیکھا (کہ بڑی آب و تاب سے) چمکتا ہوا (نکلا ہے) تو (پہلی دو بار کی طرح پھر) فرمایا کہ (تمہارے خیال کے موافق) یہ میرا (اور تمہارا) رب (اور متصرف فی الاحوال) ہے (اور) یہ تو سب (مذکورہ ستاروں) میں بڑا ہے (اس پر خاتمہ کلام کا ہوجاوے گا، اگر اس کی ربوبیت باطل ہوگئی تو چھوٹوں کی بدرجہ اولیٰ باطل ہوجاوے گی، غرض شام ہوئی تو وہ بھی غروب ہوگیا) سو جب وہ غروب ہوگیا تو آپ نے فرمایا کہ بیشک میں تمہارے شرک سے بیزار (اور نفور) ہوں (یعنی برأت ظاہر کرتا ہوں، اعتقاداً تو ہمیشہ سے بیزار ہی تھے) میں (سب طریقوں سے) یک سو ہو کر اپنا رخ (ظاہر کا اور دل کا) اس (ذات) کی طرف (کرنا تم سے ظاہر) کرتا ہوں جس نے آسمانوں کو اور زمین کو پیدا کیا اور میں (تمہاری طرح) شرک کرنے والوں سے نہیں ہوں (نہ اعتقاداً نہ قولاً نہ عملاً ) اور ان سے ان کی قوم نے (بیہودہ) حجت کرنا شروع کی (وہ یہ کہ رسم قدیم ہے (آیت) وجدنا اباءنا لھا عابدین، اور معبودان باطلہ کے انکار پر ڈرایا بھی کہ کبھی تم کو یہ کسی آفت میں نہ پھنسا دیں کما یدل علیہ الجواب بقولہ ولا اخاف الخ) آپ نے (پہلی بات کے جواب میں تو یہ) فرمایا کہ کیا تم اللہ (کی توحید) کے معاملہ میں مجھ سے (باطل) حجت کرتے ہو، حالانکہ اس نے مجھ کو (استدلال صحیح کا) طریقہ بتلا دیا ہے (جس کو میں تمہارے روبرو پیش کرچکا ہوں، اور محض رسم قدیم ہونا اس استدلال کا جواب نہیں ہو سکتا، پھر اس سے احتجاج تمہارے لئے بیکار اور میرے نزدیک غیر قابل التفات) اور (دوسری بات کے جواب میں یہ فرمایا کہ) میں ان چیزوں سے جن کو تم اللہ تعالیٰ کے ساتھ (استحقاق عبادت میں) شریک بناتے ہو نہیں ڈرتا (کہ وہ مجھ کو کوئی صدمہ پہنچا سکتے ہیں کیونکہ ان میں خود صفت قدرت ہی مفقود ہے اور اگر کسی چیز میں ہو بھی تو استقلال قدرت مفقود ہے) ہاں لیکن اگر پروردگار ہی کوئی امر چاہے (تو وہ دوسری بات ہے وہ ہوجاوے گی لیکن اس سے آلہہ دار باب باطلہ کی قدرت کا ثبوت یا ان سے خوف کی ضرورت کب لازم آئی اور) میرا پروردگار (جس طرح قادر مطلق ہے جیسا ان اشیاء سے معلوم ہوا اسی طرح وہ) ہر چیز کو اپنے (احاطہ) علم میں (بھی) گھیرے ہوئے ہے (غرض قدرت و علم دونوں اسی کے ساتھ مختص ہیں، اور تمہارے آلہہ کو نہ قدرت ہے نہ علم ہے) کیا تم (سنتے ہو اور) پھر (بھی) خیال نہیں کرتے اور (جس طرح میرے نہ ڈرنے کی وجہ یہ ہے کہ وہ تمہارے معبود علم وقدرت سے محض معریٰ ہیں، اسی طرح یہ بات بھی تو ہے کہ میں نے کوئی کام ڈر کا کیا بھی تو نہیں تو پھر) میں ان چیزوں سے کیسے ڈروں جن کو تم نے (اللہ تعالیٰ کے ساتھ استحقاق عبادت اور اعتقاد ربوبیت میں) شریک بنایا ہے، حالانکہ (تم کو ڈرنا چاہئے دو وجہ سے، اول تم نے ڈرکا کام یعنی شرک کیا ہے، جس پر عذاب مرتب ہوتا ہے، دوسرے خدا کا عالم اور قادر ہونا معلوم ہوچکا ہے، مگر) تم اس بات (کے وبال) سے نہیں ڈرتے کہ تم نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ ایسی چیزوں کو شریک ٹھہرایا ہے جن (کے معبود ہونے) پر اللہ تعالیٰ نے تم پر کوئی دلیل (لفظاً یا معنیً ) نازل نہیں فرمائی (مطلب یہ کہ ڈرنا چاہئے تم کو پھر الٹا مجھ کو ڈراتے ہو) سو (بعد اس تقریر کے انصاف سے سوچ کر بتلاؤ کہ) ان دو (مذکورہ) جماعتوں میں سے (یعنی مشرکین و موحدین میں سے) امن کا (یعنی اس کا کہ اس پر خوف کا) اگر تم (کچھ) خبر رکھتے ہو۔ معارف و مسائل ان سے پہلی آیات میں رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا مشرکین عرب کو خطاب اور بت پرستی چھوڑ کر صرف خدا پرستی کی دعوت کا بیان تھا۔ ان آیات میں اسی دعوت حق کی تائید ایک خاص انداز میں فرمائی گئی ہے، جو طبعی طور پر اہل عرب کے لئے دلنشین ہو سکتی ہے، وہ یہ کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) تمام عرب کے جدِّ امجد ہیں اور اسی لئے سارا عرب ان کی تعظیم پر ہمیشہ سے متفق چلا آیا ہے، ان آیات میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے اس مناظرہ کا ذکر کیا گیا ہے جو انہوں نے بت پرستی کے خلاف اپنی قوم کے ساتھ کیا تھا، اور پھر سب کو توحید حق کا سبق دیا تھا۔ پہلی آیت میں ہے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنے باپ آزر سے کہا کہ تم نے اپنے ہاتھوں کے بنائے ہوئے بتوں کو اپنا معبود بنا لیا ہے، میں تم کو اور تمہاری ساری قوم کو گمراہی میں دیکھتا ہوں۔ مشہور یہ ہے کہ آزر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے والد کا نام ہے اور اکثر مورخین نے ان کا نام تارخ بتلایا ہے اور یہ کہ آزر ان کا لقب ہے، اور امام رازی رحمة اللہ علیہ اور علماء سلف میں سے ایک جماعت کا کہنا یہ ہے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے والد کا نام تارخ اور چچا کا نام آزر ہے، ان کا چچا آزر نمرود کی وزارت کے بعد شرک میں مبتلا ہوگیا تھا، اور چچا کو باپ کہنا عربی محاورات میں عام ہے، اسی محاورہ کے تحت آیت میں آزر کو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا باپ فرمایا گیا ہے، زرقانی نے شرح مواہب میں اس کے کئی شواہد بھی نقل کئے ہیں۔ اصلاح عقائد و اعمال کی دعوت اپنے گھر اور خاندان سے شروع کرنی چاہئے آزر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے والد ہوں یا چچا بہر حال نسبی طور پر ان کے قابل احترام بزرگ تھے، حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے سب سے پہلے دعوت حق اپنے گھر سے شروع فرمائی، جیسا کہ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو بھی اس کا حکم ہوا ہے (آیت) وانذر عشیرتک الاقربین، یعنی اپنے قریبی رشتہ داروں کو خدا کے عذاب سے ڈرائیے۔ اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کے ماتحت سب سے پہلے اپنے خاندان ہی کو کوہ صفا پر چڑھ کر دعوت حق کے لئے جمع فرمایا۔ تفسیر بحر محیط میں ہے کہ اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ اگر خاندان کے کوئی واجب الاحترام بزرگ دین کے صحیح راستہ پر نہ ہوں تو ان کو صحیح راستہ کی طرف دعوت دینا احترام کے خلاف نہیں بلکہ ہمدردی و خیر خواہی کا تقاضا ہے، اور یہ بھی معلوم ہوا کہ دعوت حق اور اصلاح کا کام اپنے قریبی لوگوں سے شروع کرنا سنت انبیاء ہے۔ دو قومی نظرئیے، مسلمان ایک قوم اور کافر دوسری قوم نیز اس آیت میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنے خاندان اور قوم کی نسبت اپنی طرف کرنے کے بجائے باپ سے یہ کہا کہ تمہاری قوم گمراہی میں ہے، اس میں اس عظیم قربانی کی طرف اشارہ ہے جو ابراہیم (علیہ السلام) نے خدا کی راہ میں اپنی مشرک برادری سے قطع تعلق کرکے ادا کی اور اپنے عمل سے بتلا دیا کہ مسلم قومیت رشتہ اسلام سے قائم ہوتی ہے، نسبی اور وطنی قومیتیں اگر اس سے متصادم ہوں تو وہ سب چھوڑ دینے کے قابل ہیں ہزار خویش کہ بیگانہ از خدا باشد فدائے یک تن بیگانہ کاشنا باشد قرآن کریم نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے اس واقعہ کو ذکر کرکے آئندہ آنے والی امتوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ بھی ان کے نقش قدم پر چلیں، ارشاد ہے : (آیت) قد کانت لکم اسوة حسنة، یعنی امت محمدیہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لئے اسوہ حسنہ اور قابل اقتداء ہے، حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور ان کے ساتھیوں کا یہ عمل کہ انہوں نے اپنی نسبی اور وطنی برادری سے صاف کہہ دیا کہ ہم تم سے اور تمہارے غلط معبودوں سے بیزار ہیں، اور ہمارے تمہارے درمیان بغض و عداوت کی دیوار اس وقت تک حائل ہے جب تک تم ایک اللہ کی عبادت اختیار نہ کرلو۔ معلوم ہوا کہ یہ دو قومی نظرئیے ہیں جس نے پاکستان بنوایا ہے، اس کا اعلان سب سے پہلے خلیل اللہ ابراہیم (علیہ السلام) نے فرمایا ہے، امّتِ محمدیہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور دوسری تمام امتوں نے حسب ہدایت یہی طریقہ اختیار کیا، اور عام طور پر مسلمانوں میں قومیت اسلام معروف ہوگئی، حجة الوداع کے سفر میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ایک قافلہ ملا، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پوچھا کہ تم کس قوم سے ہو، تو جواب دیا نحن قوم مسلمون (بخاری) اس میں عرب کے سابقہ دستور کے مطابق کسی قبیلہ یا خاندان کا نام لینے کے بجائے مسلمون کہہ کر اس حقیقی قومیت کا بتلا دیا جو دنیا سے لے کر آخر تک چلنے والی ہے، حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اس جگہ اپنے باپ سے خطاب کے وقت تو برادری کی نسبت ان کی طرف کرکے اپنی بیزاری کا اعلان فرمایا اور جس جگہ قوم سے اپنی بیزاری اور قطع تعلقی کا اعلان کرنا تھا وہاں اپنی طرف منسوب کرکے خطاب کیا، جیسے اگلی آیت میں ہے اِنِّىْ بَرِيْۗءٌ مِّمَّا تُشْرِكُوْنَ ، یعنی اے میری قوم ! میں تمہارے شرک سے بیزار ہوں۔ اس میں اس کی طرف اشارہ ہے کہ اگرچہ نسب و وطن کے لحاظ سے تم میری قوم ہو، لیکن تمہارے مشرکانہ افعال نے مجھے تمہاری برادری سے قطع تعلق کرنے پر مجبور کردیا۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی برادری اور ان کے باپ دوہرے شرک میں مبتلا تھے کہ بتوں کی بھی پرستش کرتے تھے، اور ستاروں کی بھی، اسی لئے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے انہی دونوں مسئلوں پر اپنے باپ اور اپنی قوم سے مناظرہ کیا

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

وَاِذْ قَالَ اِبْرٰہِيْمُ لِاَبِيْہِ اٰزَرَ اَتَتَّخِذُ اَصْنَامًا اٰلِہَۃً۝ ٠ۚ اِنِّىْٓ اَرٰىكَ وَقَوْمَكَ فِيْ ضَلٰلٍ مُّبِيْنٍ۝ ٧٤ أخذ ( افتعال، مفاعله) والاتّخاذ افتعال منه، ويعدّى إلى مفعولین ويجري مجری الجعل نحو قوله تعالی: لا تَتَّخِذُوا الْيَهُودَ وَالنَّصاری أَوْلِياءَ [ المائدة/ 51] ، أَمِ اتَّخَذُوا مِنْ دُونِهِ أَوْلِياءَ [ الشوری/ 9] ، فَاتَّخَذْتُمُوهُمْ سِخْرِيًّا [ المؤمنون/ 110] ، أَأَنْتَ قُلْتَ لِلنَّاسِ : اتَّخِذُونِي وَأُمِّي إِلهَيْنِ مِنْ دُونِ اللَّهِ [ المائدة/ 116] ، وقوله تعالی: وَلَوْ يُؤاخِذُ اللَّهُ النَّاسَ بِظُلْمِهِمْ [ النحل/ 61] فتخصیص لفظ المؤاخذة تنبيه علی معنی المجازاة والمقابلة لما أخذوه من النعم فلم يقابلوه بالشکر ( اخ ذ) الاخذ الاتخاذ ( افتعال ) ہے اور یہ دو مفعولوں کی طرف متعدی ہوکر جعل کے جاری مجری ہوتا ہے جیسے فرمایا :۔ { لَا تَتَّخِذُوا الْيَهُودَ وَالنَّصَارَى أَوْلِيَاءَ } ( سورة المائدة 51) یہود اور نصاریٰ کو دوست نہ بناؤ ۔ { وَالَّذِينَ اتَّخَذُوا مِنْ دُونِهِ أَوْلِيَاءَ } ( سورة الزمر 3) جن لوگوں نے اس کے سوا اور دوست بنائے ۔ { فَاتَّخَذْتُمُوهُمْ سِخْرِيًّا } ( سورة المؤمنون 110) تو تم نے اس تمسخر بنالیا ۔ { أَأَنْتَ قُلْتَ لِلنَّاسِ اتَّخِذُونِي وَأُمِّيَ إِلَهَيْنِ } ( سورة المائدة 116) کیا تم نے لوگوں سے کہا تھا کہ مجھے اور میری والدہ کو معبود بنا لو ۔ اور آیت کریمہ : { وَلَوْ يُؤَاخِذُ اللهُ النَّاسَ بِظُلْمِهِمْ } ( سورة النحل 61) میں صیغہ مفاعلہ لاکر معنی مجازات اور مقابلہ پر تنبیہ کی ہے جو انعامات خدا کی طرف سے انہیں ملے ان کے مقابلہ میں انہوں نے شکر گذاری سے کام نہیں لیا ۔ صنم الصَّنَمُ : جُثَّةٌ متّخذة من فضّة، أو نحاس، أو خشب، کانوا يعبدونها متقرّبين به إلى اللہ تعالی، وجمعه : أَصْنَامٌ. قال اللہ تعالی: أَتَتَّخِذُ أَصْناماً آلِهَةً [ الأنعام/ 74] ، لَأَكِيدَنَّ أَصْنامَكُمْ [ الأنبیاء/ 57] ، قال بعض الحکماء : كلّ ما عبد من دون الله، بل کلّ ما يشغل عن اللہ تعالیٰ يقال له : صَنَمٌ ، وعلی هذا الوجه قال إبراهيم صلوات اللہ عليه : اجْنُبْنِي وَبَنِيَّ أَنْ نَعْبُدَ الْأَصْنامَ [إبراهيم/ 35] ، فمعلوم أنّ إبراهيم مع تحقّقه بمعرفة اللہ تعالی، واطّلاعه علی حکمته لم يكن ممّن يخاف أن يعود إلى عبادة تلک الجثث التي کانوا يعبدونها، فكأنّه قال : اجنبني عن الاشتغال بما يصرفني عنك . ( ص ن م ) الصنم کے معنی بت کے ہیں جو کہ چاندی پیتل یا لکڑی وغیرہ کا بنا ہوا ہو ۔ عرب لوگ ان چیزوں کے مجم سے بناکر ( ان کی پوچا کرتے اور انہیں تقرب الہیٰ کا ذریعہ سمجھتے تھے صنم کی جمع اصنام آتی ہے ۔ قرآن میں ہے : أَتَتَّخِذُ أَصْناماً آلِهَةً [ الأنعام/ 74] کہ تم بتوں کو کیوں معبود بناتے ہو۔ لَأَكِيدَنَّ أَصْنامَكُمْ [ الأنبیاء/ 57] میں تمہارے بتوں سے ایک چال چلو نگا ۔ بعض حکماء نے کہا ہے کہ ہر وہ چیز جسے خدا کے سوا پوجا جائے بلکہ ہر وہ چیز جو انسان کو خدا تعالیٰ سے بیگانہ بنادے اور اس کی توجہ کو کسی دوسری جانب منعطف کردے صنم کہلاتی ہے چناچہ ابراہیم اعلیہ السلام نے دعا مانگی تھی کہ : اجْنُبْنِي وَبَنِيَّ أَنْ نَعْبُدَ الْأَصْنامَ [إبراهيم/ 35] بازرکھنا کہ ہم اصنام کی پرستش اختیار کریں ۔ تو اس سے بھی واپسی چیزوں کی پرستش مراد ہے کیونکہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو معرفت الہی کے تحقق اور اسکی حکمت پر مطلع ہونے کے بعد یہ اندیشہ نہیں ہوسکتا تھا کہ وہ اور ان کی اولاد بت پرستی شروع کردے گی ۔ ضَلل وإذا کان الضَّلَالُ تركَ الطّريق المستقیم عمدا کان أو سهوا، قلیلا کان أو كثيرا، صحّ أن يستعمل لفظ الضَّلَالِ ممّن يكون منه خطأ ما، ولذلک نسب الضَّلَالُ إلى الأنبیاء، وإلى الكفّار، وإن کان بين الضَّلَالَيْنِ بون بعید، ألا تری أنه قال في النّبي صلّى اللہ عليه وسلم : وَوَجَدَكَ ضَالًّا فَهَدى[ الضحی/ 7] ، أي : غير مهتد لما سيق إليك من النّبوّة . وقال في يعقوب : إِنَّكَ لَفِي ضَلالِكَ الْقَدِيمِ [يوسف/ 95] ، وقال أولاده :إِنَّ أَبانا لَفِي ضَلالٍ مُبِينٍ [يوسف/ 8] ، إشارة إلى شغفه بيوسف وشوقه إليه، وکذلك : قَدْ شَغَفَها حُبًّا إِنَّا لَنَراها فِي ضَلالٍ مُبِينٍ [يوسف/ 30] ، وقال عن موسیٰ عليه السلام : فَعَلْتُها إِذاً وَأَنَا مِنَ الضَّالِّينَ [ الشعراء/ 20] ، تنبيه أنّ ذلک منه سهو، وقوله : أَنْ تَضِلَّ إِحْداهُما[ البقرة/ 282] ، أي : تنسی، وذلک من النّسيان الموضوع عن الإنسان . جب کہ ضلال کے معنی سیدھی راہ سے ہٹ جانا کے ہیں خواہ وہ ہٹنا عمدا ہو یا سہوا تھوڑا ہو یا زیادہ تو جس سے بھی کسی قسم کی غلطی سرزد ہوگی اس کے متعلق ہم ضلالت کا لفظ استعمال کرسکتے ہیں یہی وجہ ہے کہ انبیاء اور کفار دونوں کی طرف ضلالت کی نسبت کی گئی ہے گو ان دونوں قسم کی ضلالت میں بون بعید پایا جاتا ہے ۔ دیکھئے آنحضرت کو آیت کریمہ : وَوَجَدَكَ ضَالًّا فَهَدى[ الضحی/ 7] میں ضالا میں فرمایا ہے جس کے معنی یہ ہیں ک ہدایت نبوت کے عطا ہونے سے قبل تم اس راہ نمائی سے محروم تھے اور حضرت یعقوب (علیہ السلام) کے بارے میں ان کی اولاد کا کہنا إِنَّكَ لَفِي ضَلالِكَ الْقَدِيمِ [يوسف/ 95] کہ آپ اسی پرانی غلطی میں مبتلا ) ہیں ۔ یا یہ کہنا :إِنَّ أَبانا لَفِي ضَلالٍ مُبِينٍ [يوسف/ 8] کچھ شک نہیں کہ اباصریح غلطی پر ہیں ۔ تو ان آیات میں ضلال سے مراد یہ ہے کہ وہ یوسف ( (علیہ السلام) ) کی محبت اور ان کے اشتیاق میں سرگردان ہیں اسی طرح آیت کریمہ : قَدْ شَغَفَها حُبًّا إِنَّا لَنَراها فِي ضَلالٍ مُبِينٍ [يوسف/ 30] اس کی محبت اس کے دل میں گھر کرگئی ہے ہم دیکھتے ہیں کہ وہ صریح گمراہی میں ہیں ۔ میں بھی ضلال مبین سے والہانہ محبت مراد ہے ۔ اور آیت کریمہ :إِذاً وَأَنَا مِنَ الضَّالِّينَ [ الشعراء/ 20] اور میں خطا کاروں میں تھا ۔ میں موسیٰ ٰ (علیہ السلام) نے اپنے ضال ہونے کا اعتراف کرکے اشارہ کیا ہے کہ قتل نفس کا ارتکاب مجھ سے سہوا ہوا تھا ۔ اور آیت : أَنْ تَضِلَّ إِحْداهُما[ البقرة/ 282] اور اگر ان میں سے ایک بھول جائے گی ۔ میں تضل کے معنی بھول جانا کے ہیں اور یہی وہ نسیان ہے جسے عفو قرار دیا گیا ہے

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(٧٤۔ ٧٥) اور اسی طرح ہم نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو آسمان و زمین کی تمام مخلوقات مثلا چاند، سورج، ستارے بچشم معرفت دکھلائے تاکہ وہ اس بات پر کامل یقین رکھنے والے ہوجائیں کہ اللہ تعالیٰ وحدہ لاشریک ہے، وہی تمام آسمان و زمین کا اور جو کچھ ان میں مخلوقات ہیں، اس کا خالق ہے یا یہ کہ جس رات ان کو آسمان پر بلایا، اس رات ساتویں آسمان پر سے تمام چیزیں دکھائیں حتی کہ ساتویں زمین تک کی انہوں نے ساری چیزوں کو دیکھا تاکہ ان کو خطرات پر کامل یقین ہوجائے۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٧٤ (وَاِذْ قَالَ اِبْرٰہِیْمُ لِاَبِیْہِ اٰزَرَ اَتَتَّخِذُ اَصْنَامًا اٰلِہَۃً ج) یہاں پر خصوصی طور پر لفظ آزر جو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے والد کے نام کے طور پر آیا ہے ‘ یہ میرے نزدیک تورات میں مندرج نام کی نفی کرنے کے لیے آیا ہے۔ تورات میں آپ ( علیہ السلام) کے والد کا نام تارخ لکھا گیا ہے اور اس کی یہاں تصحیح کی گئی ہے ‘ ورنہ یہاں یہ فقرہ لفظ آزر کے بغیر بھی کافی تھا۔ اس واضح نشاندہی کے باوجود بھی بعض لوگ مغالطے میں پڑگئے ہیں اور انہوں نے تورات میں مذکور نام ہی اختیار کیا ہے۔ جیسے اہل تشیع حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے باپ کا نام تارخ ہی کہتے ہیں اور آزر جس کا ذکر یہاں آیا ہے اس کو آپ ( علیہ السلام) کا چچا کہتے ہیں۔ انہوں نے یہ موقف کیوں اختیار کیا ہے ‘ اس کی ایک خاص وجہ ہے ‘ جو پھر کسی موقع پر بیان ہوگی۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

50. The incident relating to Abraham (peace be on him) is adduced in order to confirm and reinforce the view that just as Muhammad (peace he on him) and his Companions - thanks to the guidance vouchsafed by God - had denounced polytheism and had turned away from all false gods, bowing their heads in obedience to the One True Lord of the universe, so had been done by Abraham in his time. In the same way as ignorant people were then opposing the Prophet Muhammad (peace be on him) and those who believed in him, Abraham, too, had been opposed in his day by the people among whom he lived. Furthermore, the answer Abraham gave to his people in the past can also be given by Muhammad (peace be on him) and his followers, for he was on the same path as Noah, Abraham and the other Prophets who had descended from Abraham. Those who had refused to follow the Prophet (peace be on him) should therefore take note that they had deviated from the way of the Prophets and were lost in error. At this point it should also be noted that Abraham was generally acknowledged by the Arabs to be their patriarch and their original religious leader. The Quraysh, in particular, were proud of their devotion to Abraham, of being his progeny and of being servants to the shrine built by him. Hence, the mention of Abraham's doctrine of monotheism, of his denunciation of polytheism and his remonstration with his polytheistic people, amounted to demolishing the very basis on which the Quraysh had prided themselves. It also amounted to destroying the confidence of the people of Arabia in their polytheistic religion. This also proved to them that the Muslims stood in the shoes of Abraham himself, whereas their own position was that of an ignorant nation which had remonstrated with Abraham out of ignorance and folly.

سورة الْاَنْعَام حاشیہ نمبر :50 یہاں حضرت ابراہیم علیہ السلام کے واقعہ کا ذکر اس امر کی تائید اور شہادت میں پیش کیا جا رہا ہے کہ جس طرح اللہ کی بخشی ہوئی ہدایت سے آج محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھیوں نے شرک کا انکار کیا ہے اور سب مصنوعی خداؤں سے منہ موڑ کر صرف ایک مالک کائنات کے آگے سر اطاعت خم کر دیا ہے اسی طرح کل یہی کچھ ابراہیم علیہ السلام بھی کر چکے ہیں ۔ اور جس طرح آج محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور ان پر ایمان لانے والوں سے ان کی جاہل قوم جھگڑ رہی ہے اسی طرح کل حضرت ابراہیم علیہ السلام سے بھی ان کی قوم یہی جھگڑا کر چکی ہے ۔ اور کل جو جواب حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنی قوم کو دیا تھا آج محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کے پیرووں کی طرف سے ان کی قوم کو بھی وہی جواب ہے ۔ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس راستہ پر ہیں جو نوح علیہ السلام اور ابراہیم علیہ السلام اور نسل ابراہیمی کے تمام انبیاء کا راستہ رہا ہے ۔ اب جو لوگ ان کی پیروی سے انکار کر رہے ہیں انہیں معلوم ہو جانا چاہیے کہ وہ انبیاء کے طریقہ سے ہٹ کر ضلالت کی راہ پر جا رہے ہیں ۔ یہاں یہ بات اور سمجھ لینی چاہیے کہ عرب کے لوگ بالعموم حضرت ابراہیم علیہ السلام کو اپنا پیشوا اور مقتدا مانتے تھے ۔ خصوصاً قریش کے تو فخر و ناز کی ساری بنیاد ہی یہ تھی کہ وہ ابراہیم علیہ السلام کی اولاد اور ان کے تعمیر کردہ خانہ خدا کے خادم ہیں ۔ اس لیے ان کے سامنے حضرت ابراہیم علیہ السلام کے عقیدہ توحید کا اور شرک سے ان کا انکار اور مشرک قوم سے ان کی نزاع کا ذکر کرنے کے معنی یہ تھے کہ قریش کا سارا سرمایہ فخر و ناز اور کفار عرب کا اپنے مشرکانہ دین پر سارا اطمینان ان سے چھین لیا جائے اور ان پر ثابت کر دیا جائے کہ آج مسلمان اس مقام پر ہیں جس پر حضرت ابراہیم علیہ السلام تھے اور تمہاری حیثیت وہ ہے جو حضرت ابراہیم علیہ السلام سے لڑنے والی جاہل قوم کی تھی ۔ یہ بالکل ایسا ہی ہے جیسے کوئی شیخ عبدالقادر جیلانی رحمہ اللہ کے معتقدوں اور قادری النسب پیرزادوں کے سامنے حضرت شیخ کی اصل تعلیمات اور ان کی زندگی کے واقعات پیش کر کے یہ ثابت کر دے کہ جن بزرگ کے تم نام لیوا ہو ، تمہارا اپنا طریقہ ان کے بالکل خلاف ہے اور تم نے آج انہی گمراہ لوگوں کی حیثیت اختیار کر لی ہے جن کے خلاف تمہارے مقتدا تمام عمر جہاد کرتے رہے ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(6:74) ارک۔ اری۔ مضارع واحد متکلم رأی یری رأیا ورؤبۃ (فتح مھموز العین ناقص یائی) میں دیکھتا ہوں۔ ک مفعول واحد مذکر حاضر۔ میں تجھے دیکھتا ہوں۔ میں تجھے پاتا ہوں۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 5 اوپر کی آیات میں توحید کا اثبات اور شرک کا بطال کرتے ہوئے مشرکین مکہ کے غلط عقا ئد پر تبقید کی گئی اب شرک کی تردید کے لیے حضرت ابراہیم کا قصہ بطور تائید بیان فرمایا ہے کہ وہ توحید کے سب سے بڑے داعی اور شرک سے بیزار تھے اور مسلمانوں کے سجھایا کہ دیکھو انہوں نے کسی طرح قوم سے علحدگی اختیار کی، مشرکین مکہ حضرت ابراہیم کے دین پر ہونے کے دعویدار تھے جب ابراہیم موحد تھے تو اب شرک کے جواز پر تمہارے پاس کون سی دلیل باقی رہ جاتی ہے حضرت ابراہیم کے قصہ کا ماقبل سے ربط بیان کرتے ہوئے حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں کہ اوپر جو فرمایا کہ مسلمان کو چاہیے کہ کافروں سے کہیں کہ ہم دیوانے کی طرح بہکتے نہیں اس پر آگے قصہ فرمایا حضرت ابراہیم کا کہ جب اپنے نزدیک معبود برحق پالیا پھر قوم کے بہکائے نہ بہکے (مو ضح) علمانے انسان کی اکثریت نے حضرت ابراہیم کے والد کا نام آرخ یا تارخ لکھا ہے ممکن ہے آرخ نام اور آزر لقب ہو مجاہد کہتے ہیں کہ آزر ایک بت کا نام تھا شاید اس کی خدمت میں زیادہ رہنے کی وجہ سے خوان کا نام بھی آزر پڑگیا ہو واللہ اعلم ( ابن کثیر )

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

لغات القرآن : آیت نمبر 74 : اصناما (صنم) بت ‘ ضلل (گمراہی) ۔ تشریح : آیت نمبر 74 : قرآن نے پچھلی آیات میں مشرکین مکہ کو ہر طرح سمجھایا۔ علم ‘ خبر ‘ عقل ‘ نصیحت ‘ بشارت ‘ تہدید سارے طریقے آزمادیکھے۔ اب ایک تاریخی مثال پیش کی جارہی ہے کہ مثال کبھی کبھی خوب کام کرجاتی ہے۔ چونکہ اہل عرب مناظرہ کے بہت دلدادہ تھے اس لئے وہ مناظر ہ پیش کیا جارہا ہے کہ گھر سے اور کنبہ کے سب سے بڑے بزرگ سے تبلیغ کا کام شروع کرنا عین سنت ابراہیمی ہے۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے واقعات کو تاریخ نے محفوظ نہیں رکھا۔ ہاں ادھر ادھر منتشر غیر یقینی واقعات مل جاتے ہیں۔ یہ تو قرآن ہی ہے جس نے انبیاء کرام سے متعلق تمام ضروری تفصیلات مہیا کی ہیں۔ قصہ کہانی کے لئے نہیں۔ بلکہ نصیحت اور سبق کے لئے۔ اور صرف ان ہی پہلوؤں کو لیا ہے جو نصیحت اور امثال کے لئے ضروری ہیں۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے واقعات کا انتخاب یوں ہے کہ وہ بہت سے پیغمبروں کے مورث اعلیٰ تھے۔ یہودی ‘ عیسائی اور مسلمان سب ان کو یکساں واجب الاحترام مانتے ہیں۔ مشرکین مکہ بھی ان کو واجب الاحترام مانتے تھے۔ شرک کے خلاف انہوں نے کس طرح جہاد کیا اور کیسی کیسی آزمائشوں سے گزرے اس کے لئے ان کی زندگی ایک مثال ہے۔ مندرجہ بالا آیت ظاہر کرتی ہے کہ نسل یا عہدہ یا قومیت کوئی چیز نہیں ورنہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) آزر سے اختلاف نہ کرتے جو ان کا باپ بھی تھا اور ملک کا معزز ترین آدمی بھی۔ اصل چیز ایمان ہے۔ یہ آیت اللہ کا دین دوسروں تک پہنچانے کے ایک طریقہ کی طرف رہنمائی بھی کرتی ہے۔ یعنی ابتدا ایسے سوال سے کرنا چاہیے جو ہلکا پھلکا ہو لیکن نفس معاملہ پر چوٹ کرجائے۔ اور بات کی تہہ تک پہنچنے میں ہیر پھیر اور فضول گفتگو سے پرہیزکرے۔ ملکی اور قومی معاملات کے اندر ہر شخص کا دل دھڑکتا ہے۔ جیسا کہ آئندہ آیات سے ظاہر ہے ‘ تبلیغ کے لئے حکمت ضروری ہے۔ ایک بڑی حکمت یہ ہے کہ ملکی قومی ٹھوس روز مرہ اور نازک احساسات کے معاملات کی طرف مشاہدے اور غور فکر کی دعوت دی جائے۔ اس طرح دعوت دی جائے کہ ہر چون و چرا کا جواب اسلام کے حق میں نکلے۔ ہدف کا دل خود پکارا ٹھے کہ لبیک۔ اس آیت سے یہ بھی معلوم ہوا کہ اگر خاندان کا بڑابزرگ غلط راستے پر ہو تو اسے طریقے سے دین کی دعوت دینا ادب و احترام کے خلاف نہیں ہے۔ اس آیت سے یہ بھی معلوم ہوا کہ اسلام کی نگاہ میں قومیت کا مقام کیا ہے ؟ اسلام عالمگیر ملت اور اخوت ہے قومیت چند مصلحتوں کی خاطر اپنی انفرادیت بر قرار رکھ سکتی ہے مگر عالمگیر ملت اور اخوت کے اندر ضم ہو کر۔ یہاں جو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے کہا ہے ” میں دیکھتا ہوں تو اور تیری قوم کھلی گمراہی میں مبتلا ہے “۔ یہ کہہ کر انہوں نے اپنے آپ کو کافر انہ اور مشرکانہ قومیت سے الگ کرلیا حالانکہ نسلی طور پر اور وطنی طور پر وہ اسی قوم میں پیدا ہوئے تھے ۔ یہ کہہ کر انہوں نے دو قومی نظریہ پیش کردیا اور بتادیا کہ اسلام نسل اور وطن کو نہیں مانتا۔ صرف نظریہ کو مانتا ہے۔

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

2۔ ان آیات کی تفسیر سے پہلے چند امور ضروریہ کا لحاظ رکھنا تفسیر میں معین فہم ہوگا۔ اول ابراہیم کی قوم کے احوال مذکورہ فی القرآن سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ بت پرستی بھی کرتی تھی اور ستاروں کو بھی عالم میں متصرفات جانتی تھی پس وہ دو دو طور پر مشرک تھی اعتقاد الوہیت اصنام و ربوبیت کواکب اسی واسطے ابراہیم (علیہ السلام) کے مناظرات میں دونوں پر کلام ہے دوم ابراہیم (علیہ السلام) ہوش سنبھالتے ہی کے وقت سے توحید کے عارف ومحقق تھے۔ سوم آپ کی قوم خدا کی بھی قائل تھی یا نہیں دونوں احتمال ہیں۔

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : شرک کی بےثباتی ثابت کرنے کے لیے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے حوالے سے ایک مشاہدہ اور ایک عملی مثال کا بیان کی تاکہ دنیا بھر کے مذاہب سے تعلق رکھنے والے وہ لوگ جو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے ساتھ اپنا رشتہ ناتہ جوڑتے ہیں انہیں معلوم ہوجائے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا عقیدہ کیا تھا۔ مؤرخین اور تورات نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے والد کا نام تارخ بتایا ہے اور قرآن مجید نے آزر لیا ہے۔ اس لیے مؤرخین کے خیالات میں فرق ختم کرنے کے لیے مختلف راہیں اختیار کی گئیں۔ ایک مفسر کا خیال ہے۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے والد آپ کی پیدائش کے بعد جلد دنیا سے رخصت ہوگئے۔ آپ کی تربیت آپ کے چچا نے کی۔ چچا بمنزلہ باپ کے ہے۔ اسی لیے قرآن حکیم نے آزر کو ابیہ کے نام سے پکارا ہے۔ دوسرے صاحب قلم کا عندیہ ہے کہ آپ کے والد کا اصلی نام تارخ تھا۔ لیکن وہ محب صنم ہونے کی وجہ سے آزر کہلایا۔ کیونکہ عربی میں محب صنم کو آزر کہا جاتا ہے۔ تیسرے مؤرخ نے تطبیق کا راستہ تلاش کرتے ہوئے لکھا کہ آپ کے باپ کا اصلی نام تارخ اور وصفی (پیشہ وارانہ) نام آزر تھا۔ لیکن قرآن مجید ان تکلفات سے پاک ہے اور واضح طور پر ابراہیم (علیہ السلام) کے والد کا نام آزربتارہا ہے لہٰذا ہم ابراہیم (علیہ السلام) کے باپ کو آزر ہی کہیں گے۔ بعض لوگوں نے لکھا ہے کہ ابراہیم (علیہ السلام) کے والد بت تراش کر بازار میں فروخت کیا کرتے تھے یہ بات غلط ہے کیونکہ جدید تحقیقات سے ثابت ہوچکا ہے کہ آپ کے والد مذہبی پیشوا اور اس زمانے کی حکومت میں مرکزی کابینہ کے رکن ہونے کی بنا پر حاکم وقت اور عوام الناس میں انتہائی احترام کی نگاہوں سے دیکھے جاتے تھے۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی ولادت باسعادت : تورات کے نسخہ سجینہ کا جو ترجمہ عبرانی سے یونانی میں تین سو سال قبل مسیح کیا گیا اور جس میں نامور دانشور یہودی شریک تحقیق ہوئے ان کے حوالے سے ماہر اثریات سر چارلس مارسٹن نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا سن ولادت ٢١٦٠ قبل مسیح تحریر کیا ہے۔ آپ کی عمر مبارک ١٧٥ سال تھی چناچہ مذکورہ تحقیق کے مطابق آپ کی وفات پر ملال ١٩٨٥ قبل مسیح قرار پائی۔ تاہم یہ تحقیق حتمی حیثیت نہیں رکھتی۔ جدیدتحقیق میں نہ صرف وہ شہر معلوم ہوگیا ہے جس میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی ولادت ہوئی بلکہ آپ کے دور کے حالات و واقعات قدرے تفصیل کے ساتھ سامنے آئے ہیں۔ آپ جنوبی عراق میں دریائے فرات کے کنارے واقع شہر ار میں پیدا ہوئے جس کو موجودہ جغرافیہ کی زبان میں تل ابیب کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے پیدائشی شہر کی آبادی کا ڈھائی لاکھ سے لے کر پانچ لاکھ تک اندازہ کیا گیا ہے۔ آثار قدیمہ کے کھنڈرات سے معلوم ہوتا ہے کہ ان لوگوں کی زندگی کا مقصد دولت کمانا، سود خوری اور مقدمہ بازی مشغلہ تھا۔ گویا کہ اخلاقی اور اعتقادی اعتبار سے یہ قوم تباہی کے گڑھے پر کھڑی تھی۔ اس وقت کے مذہبی حالات کا آپ اندازہ اس بات سے لگائیں کہ آپ کے شہر ار میں پانچ ہزار خداؤں کے نام دریافت کیے گئے ہیں۔ دوسرے شہروں اور قصبات کے الگ الگ خدا مقرر تھے۔ ہر شہر کا ایک خاص خدا ہوتا تھا، جس کو رب البلد یعنی خدائے شہر کہتے تھے۔ ظاہر ہے لوگ اس کا احترام دوسرے خداؤں سے زیادہ کرتے تھے۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے پیدائشی شہر ار کا بڑا خدا ننار تھا (چاند دیوتا) اسی وجہ سے بعض مؤرخین نے اس شہر کا نام قمرینہ بھی لکھا ہے۔ ننار کا بت شہر میں سب سے اونچی جگہ رکھا گیا تھا۔ جس کے ساتھ ہی اس کی بیوی (نن گل) کا معبد تھا۔ لوگ بتوں، مزاروں کے سامنے مراقبے کرتے، سجدہ ریز ہوتے اور طواف کرتے تھے۔ ننار کی شان شاہی محل سرا کی تھی۔ یہاں ہر وقت نئی عورتیں آکر ٹھہرتی۔ یہاں بہت سی عورتوں نے اپنے آپ کو وقف کر رکھا تھا۔ وہ عورت بڑی محترم سمجھی جاتی تھی جو اپنی چادر عفت کو یہاں قربان کردیتی۔ اس مزار کے نام بہت سے رقبے وقف تھے جن کی آمدنی مجاور ہی استعمال کرسکتے تھے۔ اس شرک و خرافات کی یلغار اور بھرمار میں رب کریم کا فضل و کرم جوش میں آیا۔ اس نے شرک ورسومات کے مرکز میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو پیدا فرمایا۔ اس کی قدرت کا کرشمہ اور سنت قدیمہ ہے کہ جب بھی برائی حد سے بڑھنے لگتی ہے تو رب کبریا حق و باطل کا معرکہ برپا کرتا ہے۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا چہرۂ مبارک : واقعہ معراج کا ذکر کرتے ہوئے نبی مکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ مجھے جبرائیل (علیہ السلام) ساتویں آسمان پر لے گئے۔ میں کیا دیکھتا ہوں کہ ایک بزرگ شخصیت بیت المعمور کے ساتھ ٹیک لگائے ہوئے تشریف فرما ہے۔ جبرائیل (علیہ السلام) نے تعارف کرواتے ہوئے فرمایا۔ (ہٰذَا اَبُوْکَ اِبْرَاہِیْمُ فَسَلِّمْ عَلَیْہِ فَسَلَّمْتُ عَلَیْہِ )[ مشکوۃ : باب فی المعراج ] ” یہ آپ کے والد گرامی ابراہیم (علیہ السلام) ہیں آپ آگے بڑھ کر سلام عرض کریں چناچہ میں نے سلام کیا۔ “ جواباً حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے سلام کہتے ہوئے ارشاد فرمایا۔ (قَالَ مَرْحَبًا لاِبْنِ الصَّالِحِ وَالنَّبِیّ الصَّالِح) ِ [ مشکوۃ : باب فی المعراج ] ” خوش آمدید (جی آیاں نوں) نیک بیٹا اور نبی صالح بھی۔ “ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے صحابہ (رض) کا ذوق و شوق دیکھتے ہوئے مزید فرمایا کہ جس نے ابراہیم (علیہ السلام) کے رخ زیبا کا اندازہ لگانا ہو وہ مجھے دیکھ لے۔ (قَالَ أَمَّا إِبْرَاہِیمُ فَانْظُرُوا إِلَی صَاحِبِکُمْ ) [ رواہ البخاری : کتاب احادیث الانبیاء ] جیسا کہ ابھی ابھی ذکر کیا گیا ہے حضرت خلیل (علیہ السلام) کی قوم کے لوگ صنم پرستی کے ساتھ ساتھ ستارہ پرستی کے بھی قائل تھے۔ سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) نے مناسب جانا کہ اب وقت آگیا ہے کہ معبود ان ارضی کے ساتھ معبودان فلکی (چاند سورج، ستاروں) کی پر زور تردید کی جائے۔ لیکن اسلوب بیان ایسا اختیار فرمایا۔ کہ شرک کا مریض، یکایک بدک نہ جائے، کیونکہ مریض شرک بہت جلد باز اور ہلکی طبیعت کا واقع ہوا ہے۔ جب بھی اس کو محسوس ہوجائے کہ نسخہ توحید کے ساتھ میرا علاج ہونے والا ہے تو پہلے ہی بھاگنا اور منہ بسورنا شروع کردیتا ہے۔ (وإِذَا ذُکِرَ اللّٰہُ وَحْدَہُ اشْمَاَزَّتْ قُلُوْبُ الَّذِیْنَ لاَ یُؤْمِنُونَ بِا لْاٰ خِرَۃِ وَإِذَا ذُکِرَ الَّذِیْنَ مِنْ دُوْنِہٖٓ إِذَا ھُمْ یَسْتَبْشِرُوْنَ ) [ الزمر : ٤٥] ” جب ایک اللہ کا ذکر کیا جاتا ہے تو آخرت کے منکروں کے دل کڑھنے لگتے ہیں۔ جب اس کے علاوہ دوسروں کا تذکرہ ہوتا ہے تو یکایک خوشی سے کھل جاتے ہیں۔ “ حضرت خلیل (علیہ السلام) نے نہایت اچھے اور دلچسپ انداز میں توحید سمجھانے کی کوشش فرمائی۔ یہ انداز بیان ان کی زبردست معجزانہ فصاحت و بلاغت اور حکمت و دانائی کا مرقع ہے۔ جب شام ہوئی تو پردۂ ظلمت سے ستارے درخشاں ہوئے تو اپنی قوم کا عقیدہ نقل کرتے ہوئے فرمایا۔ یہ میرا رب ہے۔ لیکن تھوڑی دیر کے بعد چمکتا ہوا ستارہ ڈوب گیا۔ فرمایا ڈوبنے والا رب نہیں ہوسکتا۔ پھر چاند نمودار ہوا، فرمایا یہ ہے میرا رب، لیکن چاند بھی آنکھوں سے اوجھل ہوگیا۔ صبح ہوئی اور مہر جہاں روشن ہوا، فرمایا یہ میرا رب ہے یہ ان سب سے بڑا ہے، لیکن سورج کو دوام اور روشنی کو بھی قرار نہیں۔ پہلے بڑھ رہی تھی، دوپہر کے بعد ڈھلنے لگی شام کو سورج غروب ہوگیا حضرت ابراہیم (علیہ السلام) پکارا ٹھے یہ سب محکوم و مجبور اور بےبس ہیں ان کو لانے اور لے جانے والا حقیقی مالک اللہ ہی عبادت کے لائق ہے۔ اب ان کا مکالمہ قرآن کے الفاظ میں سنیے ! ” اس طرح ابراہیم (علیہ السلام) کو ہم نے زمین و آسمان کا نظام حکومت دکھایا تاکہ وہ یقین کرنے والوں میں ہوجائے۔ چناچہ جب رات چھاگئی، تو اس نے ایک تارا دیکھا کہا یہ میرا رب ہے۔ لیکن جب وہ تارا ڈوب گیا تو کہنے لگے میں ڈوبنے والے کو بالکل پسند نہیں کرتا۔ جب چمکتے ہوئے چاند کی طرف دیکھا تو کہا یہ میرا رب ہے۔ جب وہ بھی ڈوب گیا تو فرمایا۔ اگر میرا رب مجھے ہدایت سے نہ نوازتا تو میں بھی گمراہ لوگوں میں شامل ہوتا۔ پھر سورج کو چمکتا ہوا دیکھا تو فرمایا یہ میرا رب ہے۔ اور یہ ان سب سے بڑا ہے۔ مگر جب وہ بھی غروب ہوگیا تو فرمایا اے برادران قوم میں بری ہوں، ان سے جن کو تم شریک بناتے ہو۔ میں نے تو اپنا چہرہ اس ہستی کی طرف کرلیا ہے، جس نے زمین و آسمان کو پیدا فرمایا اور میں مشرکوں کا سا تھی نہیں ہوں۔ اس کی قوم اس سے جھگڑنے لگی۔ فرمایا کیا اللہ تعالیٰ کے بارے میں میرے ساتھ جھگڑتے ہو۔ حالانکہ اس نے مجھے صراط مستقیم دکھائی، میں تمہارے بنائے ہوئے معبودان باطل سے نہیں ڈرتا، ہاں اگر میرا رب میرا نقصان چاہے تو ضرور نقصان ہوجائے گا۔ میرے رب کا علم ہر چیز پر محیط ہے کیا اب بھی تم نصیحت حاصل نہیں کرو گے ؟ آخر تمہارے ٹھہرائے ہوئے شریکوں سے کیوں ڈروں ؟ اللہ نے تم پر کوئی دلیل نہیں اتاری۔ ہم دونوں فریقوں میں کون امن و سلامتی کا حق دار ہے۔ بتاؤ اگر کچھ علم رکھتے ہو۔ بعض مفسرین کا خیال ہے کہ یہ ابراہیم (علیہ السلام) کے ایمان کا تدریجی عمل تھا، حالانکہ اس خطاب کے سیاق وسباق سے یہ بات بالکل واضح ہوجاتی ہے کہ نہ ابراہیم (علیہ السلام) کے ایمان کا تدریجی عمل تھا اور نہ ہی ایک لمحہ کے لیے ان کو معبود تصور کرتے تھے۔ کیونکہ قرآن مجید واقعہ کے آخر میں واشگاف الفاظ میں اعلان کرتا ہے۔ کہ ہم نے ابراہیم کو ان کی قوم کے خلاف دلائل دیے۔ ہم جس کے چاہتے ہیں درجات بلند کرتے ہیں یقیناً تیرا رب حکیم وعلیم ہے۔ (وَلَقَدْ اٰتَیْنَآ اِبْرَاھِیْمَ رُشْدَہٗ مِنْ قَبْلُ وَکُنَّا بِہٖ عٰلِمِیْن)[ الانبیاء : ٥١] ” ہم نے ابراہیم کو ابتداء ہی سے ہدایت سے نوازا تھا اور ہم اس کو خوب جاننے والے تھے۔ “ ارشاد الٰہی سے یہ بالکل واضح ہوجاتا ہے کہ ابراہیم (علیہ السلام) کو ابتدا سے ہی رشد و ہدایت حاصل ہوچکی تھی، بقول بعض مفسرین، اگر پھر بھی وہ ستارے اور چاند سورج ہی کو معبود تصور کر رہے تھے تو وہ ہدایت کیا تھی جو پہلے سے اللہ تعالیٰ نے عطا فرما رکھی تھی۔ چاند، سورج کی حیثیت : (وَالْقَمَرَ قَدَّرْنَاہُ مَنَازِلَ حَتَّی عَادَ کَالْعُرْجُونِ الْقَدِیمِ لَا الشَّمْسُ یَنْبَغِی لَہَا أَنْ تُدْرِکَ الْقَمَرَ وَلَا اللَّیْلُ سَابِقُ النَّہَارِ وَکُلٌّ فِی فَلَکٍ یَسْبَحُونَ )[ یٰس : ٣٩۔ ٤٠] ” سورج اپنے ٹھکانے کی طرف چلا جا رہا ہے۔ جو زبردست علیم ہستی کا مقرر کیا ہوا ہے۔ اور چاند کے لیے بھی ہم نے منزلیں مقرر کر رکھی ہیں، یہاں تک کہ ان منزلوں سے گزرتا ہوا بالآخر وہ کھجور کی سوکھی ہوئی ٹہنی کی مانند پتلا ہوجاتا ہے نہ سورج کے بس میں ہے کہ وہ چاند کو پکڑے اور نہ رات دن سے آگے نکل سکتی ہے ہر ایک اس فضا میں تیر رہا ہے۔ (یٰسین : ٣٨ تا ٤٠) (قُلْ أَرَأَیْتُمْ إِن جَعَلَ اللّٰہُ عَلَیْکُمُ اللَّیْلَ سَرْمَدًا إِلٰی یَوْمِ الْقِیَامَۃِ مَنْ إِلَہٌ غَیْرُ اللّٰہِ یَأْتِیْکُم بِضِیَآء أَفَلَا تَسْمَعُوْنَ قُلْ أَرَأَیْتُمْ إِن جَعَلَ اللَّہُ عَلَیْکُمُ النَّہَارَ سَرْمَدًا إِلٰی یَوْمِ الْقِیَامَۃِ مَنْ إِلٰہٌ غَیْرُ اللّٰہِ یَأْتِیْکُمْ بِلَیْلٍ تَسْکُنُوْنَ فیہِ أَفَلَا تُبْصِرُوْنَ )[ القصص : ٧١، ٧٢] ” آپ فرما دیں کیا تم نے غور نہیں کیا اگر اللہ تعالیٰ قیامت تک تم پر رات کو لمبا کر دے۔ کون ہے جو اللہ کے سوا رات کو بدل کر دن کی روشنی لے آئے ؟ کیا تم سنتے نہیں ہو ؟ آپ اعلان کردیں ! غور کرو اگر اللہ تعالیٰ قیامت تک تم پر دن چڑھائے رکھے کون ہے جو اس کے بغیر دن کو رات میں بدل دے، جس میں تم آرام کرتے ہو ؟ کیا پھر بھی تم نہیں دیکھتے ؟ “ (وَمِنْ اٰیٰتِہٖ الَّیْلُ وَالنَّھَارُ وَالشَّمْسُ وَالْقَمَرُ لاَ تَسْجُدُوْا للشَّمْسِ وَلاَ لِلْقَمَرِ وَاسْجُدُوْا لِلّٰہِ الَّذِیْ خَلَقَھُنَّ إِنْ کُنْتُمْ إِیَّاہُ تَعْبُدُوْنَ ) (حٰمٓ السجدۃ : ٣٧) ” رات اور دن، سورج اور چاند اللہ کی نشانیاں ہیں۔ سورج چاند کو سجدہ نہ کر وبل کہ اس ذات کبریاء کو سجدہ کرو جس نے ان کو پیدا کیا ہے اگر واقعتا تم اسی کی عبادت کرنے والے ہو۔ “ مسائل ١۔ اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کو معبود بنانا کھلی گمراہی ہے۔ ٢۔ اللہ تعالیٰ نے ابراہیم (علیہ السلام) کو زمین و آسمان کی بادشاہت دکھائی۔ ٣۔ شرک اور مشرکوں سے برأت کا اعلان کرنا سیرت ابراہیم (علیہ السلام) کا روشن باب ہے۔ ٤۔ اللہ تعالیٰ ہی سیدھے راستے کی طرف ہدایت دیتا ہے۔ تفسیر بالقرآن حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا تذکرہ : ١۔ آپ ابراہیم کا قرآن سے تذکرہ فرمائیں وہ سچے نبی تھے۔ (مریم : ٤١) ٢۔ اللہ تعالیٰ نے ابراہیم کو اپنا دوست بنا لیا۔ (النساء : ١٢٥) ٣۔ تمہارے لیے ابراہیم کی زندگی بہترین نمونہ ہے۔ (الممتحنۃ : ٤) ٤۔ اے نبی ابراہیم کے دین کی پیروی کرو۔ (النساء : ١٢٥) ٥۔ ہم نے آپ کو وحی کی کہ ابراہیم کے دین کی پیروی کرو۔ (النحل : ١٢٣) ٦۔ آپ ابراہیم کے مہمانوں کے متعلق بتلائیں۔ (الحجر : ٥١) ٧۔ یقیناً ابراہیم (علیہ السلام) تحمل مزاج، آہ وزاریاں کرنے والے اور اللہ کی طرف رجوع کرنے والے تھے۔ (ہود : ٧٥) ٨۔ بیشک ابراہیم (علیہ السلام) آہ وزاریاں کرنے والے اور متحمل مزاج تھے۔ ( التوبۃ : ١١٤)

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

(آیت) ” ٧٤ تا ٧٩۔ ان آیات میں قرآن کریم نے جس منظر کی تصویر کشی کی ہے وہ ایک عجیب منظر ہے ۔ یہ فطرت انسانی کا مظاہرہ ہے ۔ فطرت انسانی دیکھتے ہیں تمام جاہلی تصورات اور شرکیہ بت پرستانہ عقائد کو رد کردیتی ہے ۔ ان غلط تصورات کو دیکھتے ہیں فطرت دامن جھاڑنی ہے اور تلاش الہ حق کی راہ میں نکل کھڑی ہوتی ہے ۔ یہ حقیقی سچائی خود اس کے ضمیر میں موجود ہے لیکن انسان کو اس کا ادراک نہیں ہے اور فطرت اس پر متنبہ نہیں ہے ۔ لیکن یہ فطرت تلاش حق میں ہر اس چیز سے ربط قائم کرتی ہے جو بظاہر الہ ہو سکتی ہو ‘ لیکن جب ملاحظہ عمیق کرتی ہے تو وہ کھوٹے خداؤں کو رد کردیتی ہے کیونکہ فطرت کے اندر حقیقی الہ کی جو ذات وصفات ودیعت ہیں وہ چیز اس کے ساتھ ٹیلی نہیں کرتی ۔ جب تلاش کرتے کرتے یہ فطرت کے اندر حقیقی الہ کی جو ذات وصفات ودیعت ہیں وہ چیز اس کے ساتھ ٹیلی نہیں کرتی ۔ جب تلاش کرتے کرتے یہ فطرت اللہ کی ذات تک جا پہنچتی ہے ۔ تو وہ حقیقت اسے واضح نظر آرہی ہوتی ہے جس سے اسے بےحد خوشی ہوتی ہے ۔ اس کے جوش و خروش پیدا ہوجاتا ہے ‘ اس لئے کہ وہ اس منزل تک بدلائل پہنچ جاتی ہے وہ خود اس کے اندر پنہاں ہوتی ہے ۔ یہ ہے وہ فطری منظر جو قلب ابراہیم (علیہ السلام) کو دکھایا جاتا ہے ۔ وہ جس تجربے سے گزرے اسے ان مختصر آیات میں بیان کردیا جاتا ہے ۔ حق و باطل کے بارے میں فطری سوچ کی یہ عجیب کہانی ہے جسے یہاں اس اسلوب میں لایا گیا ہے ۔ یہ ایک نظریہ حیات کا معاملہ ہے جس کا اظہار ایک مومن ببانگ دہل کرتا ہے اور اس معاملے میں وہ کوئی رکھ رکھاؤ نہیں کرتا ۔ اس راہ میں وہ باپ ‘ خاندان اور قوم کسی کے ساتھ کوئی نرمی نہیں کرتا جیسا کہ ایسا ہی رویہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنے باپ اور اپنی قوم کے معاملے میں اختیار کیا انہوں نے ناقابل تغیر اور بالکل غیر لچک دار اختیار کیا اور اپنے موقف کو بالکل واضح کر کے بیان کیا ۔ (آیت) ” وَإِذْ قَالَ إِبْرَاہِیْمُ لأَبِیْہِ آزَرَ أَتَتَّخِذُ أَصْنَاماً آلِہَۃً إِنِّیْ أَرَاکَ وَقَوْمَکَ فِیْ ضَلاَلٍ مُّبِیْنٍ (74) یہ وہ فطری پکار ہے جو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی زبانی ظاہر ہوتی ہے ۔ اگرچہ اپنی فہم و فراست کے ذریعے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو الہ حقیقی تک رسائی حاصل نہ ہوئی تھی لیکن آپ کی فطرت سلیمہ ابتدا ہی سے اس بات کا انکار کر رہی تھی کہ اس کی قوم جن بتوں کی پوجا کرتی ہے وہ حقیقی الہ ہوسکتے ہیں ۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی قوم عراق کے کلدانی تھے ۔ وہ بتوں ‘ ستاروں اور سیاروں کے پجاری تھے لیکن حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی فطرت یہ جانتی تھی کہ وہ رب ‘ معبود اور وہ ذات باری جس کی طرف لوگ خوشحالی اور بدحالی میں متوجہ ہوتے ہیں اور جس نے تمام لوگوں اور تمام زندہ مخلوق کو پیدا کیا ہے ۔ وہ ذات یہ بت نہیں ہیں ۔ بتوں کی ظاہری حالت ہی بتا رہی تھی کہ نہ وہ خالق ہیں ‘ نہ رازق ہیں ‘ نہ سنتے ہیں اور نہ جواب دیتے ہیں لہذا یہ حقیقی الہ نہیں ہو سکتے ۔ اس لئے ان کی فطرت تلاش حق کی راہ پر نکل پڑی اور فیصلہ دے دیا کہ یہ الہ جن کی تم پوجا کرتے ہو نہ یہ الہ حقیقی ہیں اور نہ ہی وہ اس قابل ہیں کہ انہیں الہ حقیقی تک رسائی کا واسطہ اور ذریعہ بنایا جائے ۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی فطرت اس صورت حال کو واضح طور پر گمراہی کی صورت حال پاتی ہے اور انہیں صحیح فیصلے تک پہنچنے میں کوئی دیر نہیں لگتی ۔ یہ ہے اس فطرت کا نمونہ کامل جس پر اللہ نے اپنی تمام مخلوق کو پیدا کیا ہے ۔ پھر یہ وہ رد عمل ہے فطرت سلیمہ کا جب اس کا مقابلہ کسی واضح گمراہی کے ساتھ ہوتا ہے ۔ وہ فورا اس کا انکار کردیتی ہے اور اسے اس سے نفرت ہوجاتی ہے ۔ اس باطل بین کے معاملے میں پھر فطرت سلیمہ اعلان حق کرنے میں ذرہ بھر دیر نہیں کرتی ‘ خصوصا جب معاملہ عقیدے اور نظریات کا ہو۔ ” کیا تو بتوں کو خدا بناتا ہے ؟ میں تجھے اور تیری قوم کو کھلی گمراہی میں پاتا ہوں۔ “ یہ بات حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اپنے باپ کے سامنے کرتے ہیں ‘ حالانکہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اپنے مزاج کے اعتبار سے نہایت ہی نرم مزاج ‘ بردبار اور حلیم الطبع تھے اور پھر وہ تھے بھی ایک بیٹے کی پوزیشن میں لیکن نظریہ حیات کی قدروقیمت باپ بیٹے کے تعلق اور صبر اور برداشت کی صفات کے مقابلے میں زیادہ قیمتی ہے ۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) وہ نشان راہ تھے ۔ جس کے بارے میں ان کی اولاد کو یہ ہدایت کی گئی تھی کہ وہ اس کی پیروی کریں اور یہ قصہ بھی بطور مثال اور نمونہ پیش کیا جا رہا ہے ۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اپنی فطرت کی صفائی اور اپنے خلوص نیت کی بنا پر اس بات کے مستحق ہوئے کہ اللہ تعالیٰ ان پر اپنی بادشاہت کے کچھ مخصوص راز منکشف فرمائیں اور ان کو وہ دلائل عطا کریں جو زمین و آسمان کے اندر اللہ کی بادشاہت کے دلائل ہیں ۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

چاند، سورج اور ستاروں کی پرستش کے بارے میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا مناظرہ حضرت ابراہیم علیٰ نبینا و ( علیہ السلام) اپنے بعد آنے والے تمام انبیاء کرام علیہم الصلوٰۃ والسلام کے باپ ہیں ان کی قوم بابل کے آس پاس رہی تھی جو آج کل عراق کا ایک شہر ہے اس وقت وہاں کا بادشاہ نمرود نامی ایک شخص تھا وہ خدائی کا دعویدار تھا۔ ساری قوم بت پرست تھی۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا والد جس کا نام آزر تھا وہ بھی بت پرست تھا اور ساری دنیا کفر و شرک میں مبتلا تھی۔ ایسے موقع پر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی پیدائش ہوئی وہ خالص موحد تھے۔ اللہ پاک کی توحید کی طرف انہوں نے اپنے باپ اور قوم کو دعوت دی اور اس بارے میں انہوں نے بہت تکلیف اٹھائی۔ نمرود سے آپ کا مناظرہ ہوا۔ (جس کا ذکر سورة بقرہ کی آیت (اَلَمْ تَرَاِلَی الَّذِیْ حَآجَّ اِبْراھِیْمَ فِیْ رَبِّہٖ ) (میں گزر چکا ہے) اپنی قوم کو انہوں نے طرح طرح سے سمجھایا اور قائل کیا لیکن قوم نے ایک نہ مانی بت پرستی پر جمے رہے اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو آگ میں ڈال دیا۔ جس کا واقعہ سورة انبیاء (رکوع ٥) میں اور سورة صافات (رکوع نمبر ٣) میں مذکور ہے۔ اپنے والد سے جو ابراہیم (علیہ السلام) نے خطاب فرمایا یہاں اس کا ذکر ہے۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے فرمایا (اَتَتَّخِذُ اَصْنَامًا اٰلِھَۃً ) (کیا تو بتوں کو معبود بناتا ہے) ( اِنِّیْٓ اَرٰیکَ وَ قَوْمَکَ فِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ ) (میں تجھے اور تیری قوم کو کھلی گمراہی میں دیکھتا ہوں) سورة مریم میں ہے۔ (اِذْ قَلَ لِاَبِیْہِ یٰٓاَبَتِ لِمَ تَعْبُدُ مَا لَا یَسْمَعُ وَ لَا یُبْصِرُ وَ لَا یُغْنِیْ عَنْکَ شَیْءًا) (جبکہ ابراہیم نے کہا اے میرے باپ تم کیوں ایسی چیز کی عبادت کرتے ہو جو نہ سنے اور نہ دیکھے اور تمہیں کوئی فائدہ نہ دے۔ ) اپنے باپ کو صراط مستقیم کی دعوت دی اور بتایا کہ شیطان کی عبادت نہ کرو اور یہ بھی فرمایا تم جس دین پر ہو اس پر قائم رہنے سے اللہ پاک کی طرف سے عذاب پہنچ جائے گا۔ ان کے باپ نے ساری سنی ان سنی کردی۔ اور کوئی بات نہ مانی اور سختی کے ساتھ جواب دیا کہ (لَءِنْ لَّمْ تَنْتَہِ لَاَرْجُمَنَّکَ وَ اھْجُرْنِیْ مَلِیًّا) (اگر تو باز نہ آجائے تو تجھے ضرور بالضرور سنگسار کر دوں گا۔ یعنی پتھر مار مار کر ہلاک کر دوں گا اور تو مجھے چھوڑ کر بالکل ہی علیحدہ ہوجا)

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

79 یہ توحید پر پہلی نقلی دلیل ہے، حضرت ابراہیم (علیہ السلام) سے تفصیلاً اور باقی تمام انبیاء (علیہم السلام) سے اجمالاً تصدیق وتائید اور دستخط کے طور پر آزر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے والد کا لقب ہے اور ان کا نام بقول زجاج باتفاق مؤرخین تارح (بتاء مثناۃ فوقانیہ والف وراء مہملۃ مفتوحہ وحاء مہملہ اور بعض نے خاء معجمہ کہا ہے) ۔ مام ابن جریج سے بھی تارح منقول ہے۔ حضرت ابن عباس، امام مجاہد، سدی سعید بن مسیب ور سلمان تیمی کہتے ہیں کہ آزر بمعنی اعوج (ٹیڑھا) ہے۔ آزر مشرک ہونے کی وجہ سے خطا کار اور ٹیڑھے راستے پر گامزن تھا اس لیے اس لقب سے ملقب کیا گیا (کلہ من الروح ج 7 ص 194 ج 7 والکبیر ج 4 ص 102) ۔ 80 آزر وزن فعل اور علمیت یا وصفیت کی وجہ سے غیر منصرف ہے۔ اور وہ اَبِیْہِ کا عطف بیان ہے۔ بعض لوگوں کا خیال ہے کہ آزر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا باپ نہیں تھا بلکہ ان کا چچا تھا اور چچا کو باپ کہنا عربی زبان کے محاورات میں عام ہے۔ علامہ سیوطی نے اس پر قرآن مجید کی آیت وَتَقَلُّبَکَ فِی السّٰجِدِیْنَ (شراء ع 11) سے استدلال کیا ہے اور کہا ہے کہ اس آیت میں ساجدین (سجدہ کرنے والوں) سے آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے آباء و اجداد مراد ہیں اور تَقَلُّب سے پشت بہ پشت منتقل ہونا مراد ہے تو اس سے ثابت ہوا کہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے آباء و اجداد موحد تھے ان میں کوئی مشرک نہیں تھا اس لیے آزر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا باپ نہیں تھا بلکہ چچا تھا۔ لیکن صحیح یہ ہے کہ آزر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا باپ تھا جیسا کہ قرآن مجید کی نص سے ظاہر ہے اس میں تاویل کی گنجائش نہیں اور قرآن میں ساجدین سے صحابہ کرام مراد ہیں جیسا کہ آیت کے سیاق وسباق سے ظاہر ہوتا ہے جیسا کہ شاہ عبدالقادر دہلوی اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں۔ یعنی جب تو تہجد کو اٹھتا ہے اور یاروں کی خبر لیتا ہے کہ اللہ یاد میں ہیں یا غافل۔ حق تو یہی ہے لیکن آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے آباء کرام کے ایمان وکفر کی بحث میں ہرگز نہیں پڑنا چاہئے۔ مسئلہ کی زیادہ تحقیق سورة شعراء کے آخر رکوع میں آئیگی۔ انشاء اللہ تعالیٰ ۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

74 اور وہ وقت بھی یاد کرنے کے قابل ہے جب حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنے باپ آزر سے کہا کیا تو بتوں کو معبود مانتا ہے اور ان اصنام کو اپنا معبود ٹھیراتا ہے یقینا میں تجھ کو اور تیری تمام قوم کو جو اس باطل عقیدے کی پیرو ہے صریح گمراہی میں مبتلا سمجھتا ہوں اور صریح گمراہی میں دیکھتا ہوں۔