Surat ul Anaam

Surah: 6

Verse: 83

سورة الأنعام

وَ تِلۡکَ حُجَّتُنَاۤ اٰتَیۡنٰہَاۤ اِبۡرٰہِیۡمَ عَلٰی قَوۡمِہٖ ؕ نَرۡفَعُ دَرَجٰتٍ مَّنۡ نَّشَآءُ ؕ اِنَّ رَبَّکَ حَکِیۡمٌ عَلِیۡمٌ ﴿۸۳﴾

And that was Our [conclusive] argument which We gave Abraham against his people. We raise by degrees whom We will. Indeed, your Lord is Wise and Knowing.

اور یہ ہماری حجت تھی وہ ہم نے ابراہیم ( علیہ السلام ) کو ان کی قوم کے مقابلہ میں دی تھی ہم جس کو چاہتے ہیں مرتبوں میں بڑھا دیتے ہیں ۔ بےشک آپ کا رب بڑا حکمت والا بڑا علم والا ہے ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

وَتِلْكَ حُجَّتُنَا اتَيْنَاهَا إِبْرَاهِيمَ عَلَى قَوْمِهِ ... ... نَرْفَعُ دَرَجَاتٍ مَّن نَّشَاء إِنَّ رَبَّكَ حَكِيمٌ عَلِيمٌ And that was Our proof which We gave Ibrahim against his people. means, We directed him to proclaim Our proof against them. Mujahid and others said that `Our proof' refers to, وَكَيْفَ أَخَافُ مَا أَشْرَكْتُمْ وَلاَ تَخَافُونَ أَنَّكُمْ أَشْرَكْتُم بِاللّهِ مَا لَمْ يُنَزِّلْ بِهِ عَلَيْكُمْ سُلْطَانًا فَأَيُّ الْفَرِيقَيْنِ أَحَقُّ بِالاَمْنِ And how should I fear those whom you associate in worship with Allah (though they can neither benefit nor harm, while you fear not that you have joined in worship with Allah things for which He has not sent down to you any Sultan. (So) which of the two parties has more right to be in security! Allah has testified Ibrahim's statement and affirmed security and guidance, saying; الَّذِينَ امَنُواْ وَلَمْ يَلْبِسُواْ إِيمَانَهُم بِظُلْمٍ أُوْلَـيِكَ لَهُمُ الاَمْنُ وَهُم مُّهْتَدُونَ It is those who believe and confuse not their belief with Zulm, for them there is security and they are the guided. Allah said, وَتِلْكَ حُجَّتُنَا اتَيْنَاهَا إِبْرَاهِيمَ عَلَى قَوْمِهِ نَرْفَعُ دَرَجَاتٍ مَّن نَّشَاء ... And that was Our proof which We gave Ibrahim against his people. We raise in degrees whom We will. And; ... إِنَّ رَبَّكَ حَكِيمٌ عَلِيمٌ Certainly your Lord is All-Wise, All-Knowing. He is All-Wise in His statements and actions, All-Knower of those whom He guides or misguides, and whether the proof was established against them or not. Allah also said, إِنَّ الَّذِينَ حَقَّتْ عَلَيْهِمْ كَلِمَةُ رَبِّكَ لاَ يُوْمِنُونَ وَلَوْ جَأءَتْهُمْ كُلُّ ءايَةٍ حَتَّى يَرَوُاْ الْعَذَابَ الاٌّلِيمَ Truly! Those, against whom the Word (wrath) of your Lord has been justified, will not believe. Even if every sign should come to them -- until they see the painful torment. (10:96-97) This is why Allah said here, إِنَّ رَبَّكَ حَكِيمٌ عَلِيمٌ Certainly your Lord is All-Wise, All-Knowing.

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

83۔ 1 یعنی توحید الٰہی پر ایسی حجت اور دلیل، جس کا کوئی جواب ابراہیم (علیہ السلام) کی قوم سے بن نہ پڑا۔ اور وہ بعض کے نزدیک یہ قول تھا (وکیف اخاف ما اشرکتم ولا تخافون انکم اشرکتم باللہ مالم ینزل بہ علیکم سلطنا فای الفریقین احق بالامن) اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے اس قول کی تصدیق فرمائی اور کہا (اَلَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَلَمْ يَلْبِسُوْٓا اِيْمَانَهُمْ بِظُلْمٍ اُولٰۗىِٕكَ لَهُمُ الْاَمْنُ وَهُمْ مُّهْتَدُوْنَ ) 6 ۔ الانعام :82)

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٨٦] ابراہیم نے مشرکوں کو کیا دلیل دی تھی ؟ وہ دلیل یہ تھی کہ اگر ہر چیز کا خالق ومالک اللہ تعالیٰ ہے تو ہر چیز پر تصرف اور اختیار بھی صرف اسی کا ہونا چاہیے۔ یہ کس قدر ناانصافی کی بات ہے کہ ہر چیز کا خالق ومالک تو اللہ تعالیٰ ہو اور اس کے اختیارات میں اور اس کی عبادت میں دوسروں کو بھی شریک کرلیا جائے۔ اس آیت سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ سیدنا ابراہیم کی قوم بھی اس بات کی قائل تھی کہ اس کائنات کا خالق ومالک اللہ تعالیٰ ہے اگر وہ اس بات کی قائل نہ ہوتی تو اس بحث کا انداز بیان کسی اور انداز کا ہوتا۔ (نیز دیکھئے سورة بقرہ کی آیت نمبر ٢٥٨ کا حاشیہ)

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

وَتِلْكَ حُجَّتُنَآ۔۔ : اس حجت سے مراد توحید کے وہ دلائل ہیں جو قوم کے مقابلے میں ابراہیم (علیہ السلام) نے پیش کیے، یہ دلائل اللہ تعالیٰ نے قوم کے مقابلے میں ابراہیم (علیہ السلام) کو عطا فرمائے تھے۔ اس سے بھی اس بات کی تائید ہوتی ہے کہ یہ باتیں ان کے بچپن کے زمانے کی نہیں کہ آپ شرک سے درجہ بہ درجہ توحید کی طرف بڑھے ہوں، کیونکہ اللہ کا نبی اللہ تعالیٰ کی توحید سمجھنے میں کبھی غلطی نہیں کرتا۔ نَرْفَعُ دَرَجٰتٍ مَّنْ نَّشَاۗءُ : یعنی چونکہ ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنی جان کی پروا نہیں کی اور اپنے آپ کو توحید کی دعوت دینے کے لیے وقف کردیا، اس لیے ہم نے بھی ان پر بڑے بڑے احسانات فرمائے۔ دنیا ہی میں انھیں یہ انعام دیا کہ بڑھاپے میں انھیں نیک اولاد سے نوازا، ان کے بعد ان کی اولاد میں نبوت اور کتاب اتارنے کا سلسلہ جاری کردیا اور اسی سلسلے کے آخری نبی محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہیں۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

In the second verse (83), Allah Ta` ala has said that the triumph of Sayyidna Ibrahim (علیہ السلام) in his debate against his people and in which he had silenced them was a blessing of Allah alone for He gave him a sound theory to propound and glowing arguments to employ. Let no one wax proud about his or her intelligence and understanding or art of dis¬course and power of oration as self-sufficient. Nothing crosses the bar¬rier of possibility without the support and help of Allah Ta` ala. Bland human reason is not enough to comprehend realities. This is a matter of common observation in every age. Philosophers of great standing go astray while many among the illiterate get a firm hold on correct belief and right thinking. Maulana Rumi was on the beam when he said: بے عنایاتِ حق و خاصانِ حق گر مَلک بشد سید ہستش ورق Without the graces of The True One and those close to Him Dark shall be the record of deeds, even if one be an angel. By saying: نَرْ‌فَعُ دَرَ‌جَاتٍ مَّن نَّشَاءُ (We raise in ranks whom We will) towards the end of the verse (83), the hint given is that the station of special reverence received by Sayyidna Ibrahim (علیہ السلام) in this world which would last through generations to come until the Last Day, a homage universally paid by Jews, Christians, Muslims and Buddhists, was no feat of personal acquisition or recognition, instead of which, this was nothing but the grace and reward from Allah.

دوسری آیت میں حق تعالیٰ نے ارشاد فرمایا کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے جو اپنی قوم کے مناظرہ میں کھلی فتح پائی، اور ان کو لاجواب کردیا، یہ ہمارا ہی انعام تھا کہ ان کو صحیح نظریہ عطا کیا پھر اس کے واضح دلائل بتلا دئیے، کسی کو اپنی عقل و فہم یا تقریر اور زور خطابت پر ناز نہ ہونا چاہئے بغیر خدا تعالیٰ کی امداد و اعانت کے کسی کا بیڑا پار نہیں ہوتا، نری عقل انسانی ادراک حقائق کیلئے کافی نہیں جس کا مشاہدہ ہر دور میں ہوتا رہتا ہے، کہ بڑے بڑے ماہر فلاسفر گمراہی کے راستہ پر پڑجاتے ہیں اور بہت سے اَن پڑھ جاہل صحیح عقیدہ اور نظریہ کے پابند ہوجاتے ہیں، مولانا رومی رحمة اللہ علیہ نے خوب فرمایا بے عنایاتِ حق و خاصانِ حق گر ملک باشدسیہ ہستش ورق آخر آیت میں فرمایا نرفع درجت من نشآء یعنی ہم جس کے چاہتے ہیں درجات بلند کردیتے ہیں، اس میں اشارہ ہے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو جو پورے عالم میں اور قیامت تک آنے والی نسلوں میں خاص عزت و مقام عطا ہوا کہ یہودی، نصرانی، مسلمان، بُدھ مت وغیرہ سب کے سب ان کے تقدس کے قائل اور ان کی تعظیم کرتے چلے آئے ہیں، یہ بھی ہمارا ہی فضل و انعام ہے کسی کے کسب و اکتساب کا اس میں دخل نہیں۔

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

وَتِلْكَ حُجَّتُنَآ اٰتَيْنٰہَآ اِبْرٰہِيْمَ عَلٰي قَوْمِہٖ۝ ٠ۭ نَرْفَعُ دَرَجٰتٍ مَّنْ نَّشَاۗءُ۝ ٠ۭ اِنَّ رَبَّكَ حَكِيْمٌ عَلِيْمٌ۝ ٨٣ حجة : الدلالة المبيّنة للمحجّة، أي : المقصد المستقیم الذي يقتضي صحة أحد النقیضین . قال تعالی: قُلْ فَلِلَّهِ الْحُجَّةُ الْبالِغَةُ [ الأنعام/ 149] ، وقال : لِئَلَّا يَكُونَ لِلنَّاسِ عَلَيْكُمْ حُجَّةٌ إِلَّا الَّذِينَ ظَلَمُوا [ البقرة/ 150] ، فجعل ما يحتجّ بها الذین ظلموا مستثنی من الحجة وإن لم يكن حجة، وذلک کقول الشاعر : 104- ولا عيب فيهم غير أنّ سيوفهم ... بهنّ فلول من قراع الکتائب ويجوز أنّه سمّى ما يحتجون به حجة، کقوله تعالی: وَالَّذِينَ يُحَاجُّونَ فِي اللَّهِ مِنْ بَعْدِ ما اسْتُجِيبَ لَهُ حُجَّتُهُمْ داحِضَةٌ عِنْدَ رَبِّهِمْ [ الشوری/ 16] ، فسمّى الداحضة حجّة، وقوله تعالی: لا حُجَّةَ بَيْنَنا وَبَيْنَكُمُ [ الشوری/ 15] ، أي : لا احتجاج لظهور البیان، الحجۃ اس دلیل کو کہتے ہیں جو صحیح مقصد کی وضاحت کرے اور نقیضین میں سے ایک کی صحت کی مقتضی ہو ۔ قرآن میں ہے :۔ قُلْ فَلِلَّهِ الْحُجَّةُ الْبالِغَةُ [ الأنعام/ 149] کہدو کہ خدا ہی کی حجت غالب ہے ۔ لِئَلَّا يَكُونَ لِلنَّاسِ عَلَيْكُمْ حُجَّةٌ إِلَّا الَّذِينَ ظَلَمُوا [ البقرة/ 150]( یہ تاکید ) اس لئے کی گئی ہے ) کہ لوگ تم کو کسی طرح کا الزام نہ لگا سکیں ۔ مگر ان میں سے جو ظالم ہیں ( وہ الزام دیں تو دیں ۔ اس آیت میں ظالموں کے احتجاج کو حجۃ سے مستثنیٰ کیا ہے گو اصولا وہ حجت میں داخل نہیں ہے ۔ پس یہ استشہاد ایسا ہی ہے جیسا کہ شاعر نے کہا ہے ( طویل ) (100) ولا عیب فیھم غیر ان سیوفھم بھن للول من قراع الکتاب ان میں صرف یہ عیب پایا جاتا ہے ک لشکروں کے ساتھ لڑنے سے ان کی تلواروں پر دندا نے پڑنے ہوئے ہیں ۔ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ان کے اس احتجاج کو حجت قرار دینا ایسا ہی ہو ۔ جیسا کہ آیت :۔ وَالَّذِينَ يُحَاجُّونَ فِي اللَّهِ مِنْ بَعْدِ ما اسْتُجِيبَ لَهُ حُجَّتُهُمْ داحِضَةٌ عِنْدَ رَبِّهِمْ [ الشوری/ 16] اور جو لوگ خدا کے بارے ) میں بعد اس کے کہ اسے ( مومنوں نے ) مان لیا ہو جھگڑتے ہیں انکے پروردگار کے نزدیک ان کا جھگڑا لغو ہے ۔ میں ان کے باطل جھگڑے کو حجت قراد دیا گیا ہے اور آیت کریمہ : لا حُجَّةَ بَيْنَنا وَبَيْنَكُمُ [ الشوری/ 15] اور ہم میں اور تم میں کچھ بحث و تکرار نہیں ہے ۔ کے معنی یہ ہیں کہ ظہور بیان کی وجہ سے بحث و تکرار کی ضرورت نہیں ہے إِيتاء : الإعطاء، [ وخصّ دفع الصدقة في القرآن بالإيتاء ] نحو : وَأَقامُوا الصَّلاةَ وَآتَوُا الزَّكاةَ [ البقرة/ 277] ، وَإِقامَ الصَّلاةِ وَإِيتاءَ الزَّكاةِ [ الأنبیاء/ 73] ، ووَ لا يَحِلُّ لَكُمْ أَنْ تَأْخُذُوا مِمَّا آتَيْتُمُوهُنَّ شَيْئاً [ البقرة/ 229] ، ووَ لَمْ يُؤْتَ سَعَةً مِنَ الْمالِ [ البقرة/ 247] الایتاء ( افعال ) اس کے معنی اعطاء یعنی دینا اور بخشنا ہے ہیں ۔ قرآن بالخصوص صدقات کے دینے پر یہ لفظ استعمال ہوا ہے چناچہ فرمایا :۔ { وَأَقَامُوا الصَّلَاةَ وَآتَوُا الزَّكَاةَ } [ البقرة : 277] اور نماز پڑہیں اور زکوۃ دیں { وَإِقَامَ الصَّلَاةِ وَإِيتَاءَ الزَّكَاةِ } [ الأنبیاء : 73] اور نماز پڑھنے اور زکوۃ دینے کا حکم بھیجا { وَلَا يَحِلُّ لَكُمْ أَنْ تَأْخُذُوا مِمَّا آتَيْتُمُوهُنَّ } ( سورة البقرة 229) اور یہ جائز نہیں ہے کہ جو مہر تم ان کو دے چکو اس میں سے کچھ واپس لے لو { وَلَمْ يُؤْتَ سَعَةً مِنَ الْمَالِ } [ البقرة : 247] اور اسے مال کی فراخی نہیں دی گئی قوم والقَوْمُ : جماعة الرّجال في الأصل دون النّساء، ولذلک قال : لا يَسْخَرْ قَوْمٌ مِنْ قَوْمٍ الآية [ الحجرات/ 11] ، ( ق و م ) قيام القوم۔ یہ اصل میں صرف مرودں کی جماعت پر بولا جاتا ہے جس میں عورتیں شامل نہ ہوں ۔ چناچہ فرمایا : ۔ لا يَسْخَرْ قَوْمٌ مِنْ قَوْمٍ الآية [ الحجرات/ 11] رفع الرَّفْعُ في الأجسام الموضوعة إذا أعلیتها عن مقرّها، نحو : وَرَفَعْنا فَوْقَكُمُ الطُّورَ [ البقرة/ 93] ، قال تعالی: اللَّهُ الَّذِي رَفَعَ السَّماواتِ بِغَيْرِ عَمَدٍ تَرَوْنَها[ الرعد/ 2] ( ر ف ع ) الرفع ( ف ) کے معنی اٹھانے اور بلند کرنے کے ہیں یہ مادی چیز جو اپنی جگہ پر پڑی ہوئی ہو اسے اس کی جگہ سے اٹھا کر بلند کرنے پر بولا جاتا ہے ۔ جیسے فرمایا : وَرَفَعْنا فَوْقَكُمُ الطُّورَ [ البقرة/ 93] اور ہم نے طو ر پہاڑ کو تمہارے اوپر لاکر کھڑا کیا ۔ اللَّهُ الَّذِي رَفَعَ السَّماواتِ بِغَيْرِ عَمَدٍ تَرَوْنَها[ الرعد/ 2] وہ قادر مطلق ہے جس نے آسمان کو بدوں کسی سہارے کے اونچا بناکر کھڑا کیا ۔ درج الدّرجة نحو المنزلة، لکن يقال للمنزلة : درجة إذا اعتبرت بالصّعود دون الامتداد علی البسیطة، کدرجة السّطح والسّلّم، ويعبّر بها عن المنزلة الرفیعة : قال تعالی: وَلِلرِّجالِ عَلَيْهِنَّ دَرَجَةٌ [ البقرة/ 228] ( د ر ج ) الدرجۃ : کا لفظ منزلہ ميں اترنے کی جگہ کو درجۃ اس وقت کہتے ہیں جب اس سے صعود یعنی اوپر چڑھتے کا اعتبار کیا جائے ورنہ بسیط جگہ پر امدیاد کے اعتبار سے اسے درجۃ نہیں کہتے جیسا کہ چھت اور سیڑھی کے درجات ہوتے ہیں مگر کبھی اس کا اطلاق مزدلہ رفیع یعنی بلند مرتبہ پر بھی ہوجاتا ہے ۔ چناچہ آیت کریمہ : ۔ وَلِلرِّجالِ عَلَيْهِنَّ دَرَجَةٌ [ البقرة/ 228] البتہ مردوں کو عورتوں پر فضیلت ہے ۔ إِنَّ وأَنَ إِنَّ أَنَّ ينصبان الاسم ويرفعان الخبر، والفرق بينهما أنّ «إِنَّ» يكون ما بعده جملة مستقلة، و «أَنَّ» يكون ما بعده في حکم مفرد يقع موقع مرفوع ومنصوب ومجرور، نحو : أعجبني أَنَّك تخرج، وعلمت أَنَّكَ تخرج، وتعجّبت من أَنَّك تخرج . وإذا أدخل عليه «ما» يبطل عمله، ويقتضي إثبات الحکم للمذکور وصرفه عمّا عداه، نحو : إِنَّمَا الْمُشْرِكُونَ نَجَسٌ [ التوبة/ 28] تنبيها علی أنّ النجاسة التامة هي حاصلة للمختص بالشرک، وقوله عزّ وجل : إِنَّما حَرَّمَ عَلَيْكُمُ الْمَيْتَةَ وَالدَّمَ [ البقرة/ 173] أي : ما حرّم ذلك إلا تنبيها علی أنّ أعظم المحرمات من المطعومات في أصل الشرع هو هذه المذکورات . وأَنْ علی أربعة أوجه : الداخلة علی المعدومین من الفعل الماضي أو المستقبل، ويكون ما بعده في تقدیر مصدر، وينصب المستقبل نحو : أعجبني أن تخرج وأن خرجت . والمخفّفة من الثقیلة نحو : أعجبني أن زيدا منطلق . والمؤكّدة ل «لمّا» نحو : فَلَمَّا أَنْ جاءَ الْبَشِيرُ [يوسف/ 96] . والمفسّرة لما يكون بمعنی القول، نحو : وَانْطَلَقَ الْمَلَأُ مِنْهُمْ أَنِ امْشُوا وَاصْبِرُوا [ ص/ 6] أي : قالوا : امشوا . وكذلك «إِنْ» علی أربعة أوجه : للشرط نحو : إِنْ تُعَذِّبْهُمْ فَإِنَّهُمْ عِبادُكَ [ المائدة/ 118] ، والمخفّفة من الثقیلة ويلزمها اللام نحو : إِنْ كادَ لَيُضِلُّنا [ الفرقان/ 42] ، والنافية، وأكثر ما يجيء يتعقّبه «إلا» ، نحو : إِنْ نَظُنُّ إِلَّا ظَنًّا [ الجاثية/ 32] ، إِنْ هذا إِلَّا قَوْلُ الْبَشَرِ [ المدثر/ 25] ، إِنْ نَقُولُ إِلَّا اعْتَراكَ بَعْضُ آلِهَتِنا بِسُوءٍ [هود/ 54] . والمؤكّدة ل «ما» النافية، نحو : ما إن يخرج زيد ( ان حرف ) ان وان ( حرف ) یہ دونوں اسم کو نصب اور خبر کو رفع دیتے ہیں اور دونوں میں فرق یہ ہے کہ ان جملہ مستقل پر آتا ہے اور ان کا مابعد ایسے مفرد کے حکم میں ہوتا ہے جو اسم مرفوع ، منصوب اور مجرور کی جگہ پر واقع ہوتا ہے جیسے اعجبنی انک تخرج وعجبت انک تخرج اور تعجب من انک تخرج جب ان کے بعد ما ( کافہ ) آجائے تو یہ عمل نہیں کرتا اور کلمہ حصر کے معنی دیتا ہے ۔ فرمایا :۔ { إِنَّمَا الْمُشْرِكُونَ نَجَسٌ } ( سورة التوبة 28) ۔ مشرک تو پلید ہیں (9 ۔ 28) یعنی نجاست تامہ تو مشرکین کے ساتھ مختص ہے ۔ نیز فرمایا :۔ { إِنَّمَا حَرَّمَ عَلَيْكُمُ الْمَيْتَةَ وَالدَّمَ } ( سورة البقرة 173) اس نے تم امر ہوا جانور اور لہو حرام کردیا ہے (2 ۔ 173) یعنی مذکورہ اشیاء کے سوا اور کسی چیز کو حرام قرار نہیں دیا اس میں تنبیہ ہے کہ معلومات میں سے جو چیزیں اصول شریعت میں حرام ہیں ان میں سے یہ چیزیں سب سے بڑھ کر ہیں ۔ ( ان ) یہ چار طرح پر استعمال ہوتا ہے (1) ان مصدریہ ۔ یہ ماضی اور مضارع دونوں پر داخل ہوتا ہے اور اس کا مابعد تاویل مصدر میں ہوتا ہے ۔ ایسی صورت میں یہ مضارع کو نصب دیتا ہے جیسے :۔ اعجبنی ان تخرج وان خرجت ۔ ان المخففہ من المثقلۃ یعنی وہ ان جو ثقیلہ سے خفیفہ کرلیا گیا ہو ( یہ کسی شے کی تحقیق اور ثبوت کے معنی دیتا ہے جیسے ۔ اعجبنی ان زید منطلق ان ( زائدہ ) جو لما کی توکید کے لئے آتا ہے ۔ جیسے فرمایا { فَلَمَّا أَنْ جَاءَ الْبَشِيرُ } ( سورة يوسف 96) جب خوشخبری دینے والا آپہنچا (12 ۔ 92) ان مفسرہ ۔ یہ ہمیشہ اس فعل کے بعد آتا ہے جو قول کے معنیٰ پر مشتمل ہو ( خواہ وہ لفظا ہو یا معنی جیسے فرمایا :۔ { وَانْطَلَقَ الْمَلَأُ مِنْهُمْ } ( سورة ص 6) ان امشوا اور ان میں جو معزز تھے وہ چل کھڑے ہوئے ( اور بولے ) کہ چلو (38 ۔ 6) یہاں ان امشوا ، قالوا کے معنی کو متضمن ہے ان ان کی طرح یہ بھی چار طرح پر استعمال ہوتا ہے ۔ ان شرطیہ جیسے فرمایا :۔ { إِنْ تُعَذِّبْهُمْ فَإِنَّهُمْ عِبَادُكَ } ( سورة المائدة 118) اگر تو ان کو عذاب دے تو یہ تیرے بندے ہیں (5 ۔ 118) ان مخففہ جو ان ثقیلہ سے مخفف ہوتا ہے ( یہ تا کید کے معنی دیتا ہے اور ) اس کے بعد لام ( مفتوح ) کا آنا ضروری ہے جیسے فرمایا :۔ { إِنْ كَادَ لَيُضِلُّنَا } ( سورة الفرقان 42) ( تو ) یہ ضرور ہم کو بہکا دیتا ہے (25 ۔ 42) ان نافیہ اس کے بعداکثر الا آتا ہے جیسے فرمایا :۔ { إِنْ نَظُنُّ إِلَّا ظَنًّا } ( سورة الجاثية 32) ۔۔ ،۔ ہم اس کو محض ظنی خیال کرتے ہیں (45 ۔ 32) { إِنْ هَذَا إِلَّا قَوْلُ الْبَشَرِ } ( سورة المدثر 25) (ٌپھر بولا) یہ ( خدا کا کلام ) نہیں بلکہ ) بشر کا کلام سے (74 ۔ 25) { إِنْ نَقُولُ إِلَّا اعْتَرَاكَ بَعْضُ آلِهَتِنَا بِسُوءٍ } ( سورة هود 54) ۔ ہم تو یہ سمجھتے ہیں کہ ہمارے کسی معبود نے تمہیں آسیب پہنچا ( کر دیوانہ کر ) دیا ہے (11 ۔ 54) ان ( زائدہ ) جو ( ما) نافیہ کی تاکید کے لئے آتا ہے جیسے : مان یخرج زید ۔ زید باہر نہیں نکلے گا ۔ رب الرَّبُّ في الأصل : التربية، وهو إنشاء الشیء حالا فحالا إلى حدّ التمام، يقال رَبَّهُ ، وربّاه ورَبَّبَهُ. وقیل : ( لأن يربّني رجل من قریش أحبّ إليّ من أن يربّني رجل من هوازن) فالرّبّ مصدر مستعار للفاعل، ولا يقال الرّبّ مطلقا إلا لله تعالیٰ المتکفّل بمصلحة الموجودات، نحو قوله : بَلْدَةٌ طَيِّبَةٌ وَرَبٌّ غَفُورٌ [ سبأ/ 15] . وعلی هذا قوله تعالی: وَلا يَأْمُرَكُمْ أَنْ تَتَّخِذُوا الْمَلائِكَةَ وَالنَّبِيِّينَ أَرْباباً [ آل عمران/ 80] أي : آلهة، وتزعمون أنهم الباري مسبّب الأسباب، والمتولّي لمصالح العباد، وبالإضافة يقال له ولغیره، نحو قوله : رَبِّ الْعالَمِينَ [ الفاتحة/ 1] ، ورَبُّكُمْ وَرَبُّ آبائِكُمُ الْأَوَّلِينَ [ الصافات/ 126] ، ويقال : رَبُّ الدّار، ورَبُّ الفرس لصاحبهما، وعلی ذلک قول اللہ تعالی: اذْكُرْنِي عِنْدَ رَبِّكَ فَأَنْساهُ الشَّيْطانُ ذِكْرَ رَبِّهِ [يوسف/ 42] ، وقوله تعالی: ارْجِعْ إِلى رَبِّكَ [يوسف/ 50] ، وقوله : قالَ مَعاذَ اللَّهِ إِنَّهُ رَبِّي أَحْسَنَ مَثْوايَ [يوسف/ 23] ، قيل : عنی به اللہ تعالی، وقیل : عنی به الملک الذي ربّاه والأوّل أليق بقوله . والرَّبَّانِيُّ قيل : منسوب إلى الرّبّان، ولفظ فعلان من : فعل يبنی نحو : عطشان وسکران، وقلّما يبنی من فعل، وقد جاء نعسان . وقیل : هو منسوب إلى الرّبّ الذي هو المصدر، وهو الذي يربّ العلم کالحکيم، وقیل : منسوب إليه، ومعناه، يربّ نفسه بالعلم، وکلاهما في التحقیق متلازمان، لأنّ من ربّ نفسه بالعلم فقد ربّ العلم، ومن ربّ العلم فقد ربّ نفسه به . وقیل : هو منسوب إلى الرّبّ ، أي : اللہ تعالی، فالرّبّانيّ کقولهم : إلهيّ ، وزیادة النون فيه كزيادته في قولهم : لحیانيّ ، وجسمانيّ قال عليّ رضي اللہ عنه : (أنا ربّانيّ هذه الأمّة) والجمع ربّانيّون . قال تعالی: لَوْلا يَنْهاهُمُ الرَّبَّانِيُّونَ وَالْأَحْبارُ [ المائدة/ 63] ، كُونُوا رَبَّانِيِّينَ [ آل عمران/ 79] ، وقیل : ربّانيّ لفظ في الأصل سریانيّ ، وأخلق بذلک فقلّما يوجد في کلامهم، وقوله تعالی: رِبِّيُّونَ كَثِيرٌ [ آل عمران/ 146] ، فالرِّبِّيُّ کالرّبّانيّ. والرّبوبيّة مصدر، يقال في اللہ عزّ وجلّ ، والرِّبَابَة تقال في غيره، وجمع الرّبّ أرْبابٌ ، قال تعالی: أَأَرْبابٌ مُتَفَرِّقُونَ خَيْرٌ أَمِ اللَّهُ الْواحِدُ الْقَهَّارُ [يوسف/ 39] ، ولم يكن من حقّ الرّبّ أن يجمع إذ کان إطلاقه لا يتناول إلّا اللہ تعالی، لکن أتى بلفظ الجمع فيه علی حسب اعتقاداتهم، لا علی ما عليه ذات الشیء في نفسه، والرّبّ لا يقال في التّعارف إلّا في الله، وجمعه أربّة، وربوب، قال الشاعر کانت أربّتهم بهز وغرّهم ... عقد الجوار وکانوا معشرا غدرا وقال آخر : وكنت امرأ أفضت إليك ربابتي ... وقبلک ربّتني فضعت ربوب ويقال للعقد في موالاة الغیر : الرِّبَابَةُ ، ولما يجمع فيه القدح ربابة، واختصّ الرّابّ والرّابّة بأحد الزّوجین إذا تولّى تربية الولد من زوج کان قبله، والرّبيب والرّبيبة بذلک الولد، قال تعالی: وَرَبائِبُكُمُ اللَّاتِي فِي حُجُورِكُمْ [ النساء/ 23] ، وربّبت الأديم بالسّمن، والدّواء بالعسل، وسقاء مربوب، قال الشاعر : فکوني له کالسّمن ربّت بالأدم والرَّبَابُ : السّحاب، سمّي بذلک لأنّه يربّ النبات، وبهذا النّظر سمّي المطر درّا، وشبّه السّحاب باللّقوح . وأَرَبَّتِ السّحابة : دامت، وحقیقته أنها صارت ذات تربية، وتصوّر فيه معنی الإقامة فقیل : أَرَبَّ فلانٌ بمکان کذا تشبيها بإقامة الرّباب، وَ «رُبَّ» لاستقلال الشیء، ولما يكون وقتا بعد وقت، نحو : رُبَما يَوَدُّ الَّذِينَ كَفَرُوا [ الحجر/ 2] . ( ر ب ب ) الرب ( ن ) کے اصل معنی تربیت کرنا یعنی کس چیز کو تدریجا نشونما دے کر حد کمال تک پہنچانا کے ہیں اور ربہ ورباہ ورببہ تینوں ایک ہی معنی میں استعمال ہوتے ہیں ۔ کسی نے کہا ہے ۔ لان یربنی رجل من قریش احب الی من ان یربنی رجل من ھوازن ۔ کہ کسی قریشی کا سردار ہونا مجھے اس سے زیادہ عزیز ہے کہ بنی ہوازن کا کوئی آدمی مجھ پر حکمرانی کرے ۔ رب کا لفظ اصل میں مصدر ہے اور استعارۃ بمعنی فاعل استعمال ہوتا ہے اور مطلق ( یعنی اصافت اور لام تعریف سے خالی ) ہونے کی صورت میں سوائے اللہ تعالیٰ کے ، جو جملہ موجودات کے مصالح کا کفیل ہے ، اور کسی پر اس کا اطلاق نہیں ہوتا چناچہ ارشاد ہے :۔ بَلْدَةٌ طَيِّبَةٌ وَرَبٌّ غَفُورٌ [ سبأ/ 15] عمدہ شہر اور ( آخرت میں ) گناہ بخشنے والا پروردگار ،۔ نیز فرمایا :۔ وَلا يَأْمُرَكُمْ أَنْ تَتَّخِذُوا الْمَلائِكَةَ وَالنَّبِيِّينَ أَرْباباً [ آل عمران/ 80] اور وہ تم سے ( کبھی بھی ) یہ نہیں کہے گا کہ فرشتوں اور انبیاء کرام کو خدا مانو ( یعنی انہیں معبود بناؤ ) اور مسبب الاسباب اور مصالح عباد کو کفیل سمجھو ۔ اور اضافت کے ساتھ اللہ تعالیٰ پر بھی بولا جاتا ہے ۔ اور دوسروں پر بھی ۔ چناچہ فرمایا :۔ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ [ الفاتحة/ 1] ہر طرح کی حمد خدا ہی کو ( سزا وار ) ہے جو تمام جہانوں کا پروردگار ہے ۔ ورَبُّكُمْ وَرَبُّ آبائِكُمُ الْأَوَّلِينَ [ الصافات/ 126] یعنی اللہ کو جو تمہارا ( بھی ) پروردگار ( ہے ) اور تمہارے پہلے آباؤ اجداد کا ( بھی ) رب الدار گھر کا مالک ۔ رب الفرس گھوڑے کا مالک اسی معنی کے اعتبار سے فرمایا :۔ اذْكُرْنِي عِنْدَ رَبِّكَ فَأَنْساهُ الشَّيْطانُ ذِكْرَ رَبِّهِ [يوسف/ 42] اپنے آقا سے میرا بھی تذکرہ کرنا ۔ سو شیطان نے اس کو اپنے آقا سے تذکرہ کرنا بھلا دیا ۔ ارْجِعْ إِلى رَبِّكَ [يوسف/ 50] اپنے سردار کے پاس لوٹ جاؤ ۔ اور آیت :۔ قالَ مَعاذَ اللَّهِ إِنَّهُ رَبِّي أَحْسَنَ مَثْوايَ [يوسف/ 23] ( یوسف نے کہا ) معاذاللہ وہ تمہارا شوہر میرا آقا ہے اس نے مجھے اچھی طرح رکھا ہے ۔ میں بعض نے کہا ہے کہ ربی سے مراد اللہ تعالیٰ ہے اور بعض نے عزیز مصر مراد لیا ہے ۔ لیکن پہلا قول انسب معلوم ہوتا ہے ۔ ربانی بقول بعض یہ ربان ( صیغہ صفت ) کی طرف منسوب ہے ۔ لیکن عام طور پر فعلان ( صفت ) فعل سے آتا ہے ۔ جیسے عطشان سکران اور فعل ۔ ( فتحہ عین سے بہت کم آتا ہے ) جیسے نعسان ( من نعس ) بعض نے کہا ہے کہ یہ رب ( مصدر ) کی طرف منسوب ہے اور ربانی وہ ہے جو علم کی پرورش کرے جیسے حکیم ( یعنی جو حکمت کو فروغ دے ۔ ) اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ رب مصدر کی طرف ہی منسوب ہے اور ربانی وہ ہے ۔ جو علم سے اپنی پرورش کرے ۔ درحقیقت یہ دونوں معنی باہم متلازم ہیں کیونکہ جس نے علم کی پرورش کی تو اس نے علم کے ذریعہ اپنی ذات کی بھی تربیت کی اور جو شخص اس کے ذریعہ اپنی ذات کی تربیت کریگا وہ علم کو بھی فروغ بخشے گا ۔ بعض نے کہا ہے کہ یہ رب بمعنی اللہ کی طرف منسوب ہے اور ربانی بمعنی الھی ہے ( یعنی اللہ والا ) اور اس میں الف نون زائدتان ہیں جیسا کہ جسم ولحی کی نسبت میں جسمانی ولحیانی کہا جاتا ہے ۔ حضرت علی کا قول ہے : انا ربانی ھذہ الامۃ میں اس امت کا عالم ربانی ہوں اس کی جمع ربانیون ہے ۔ چناچہ قرآن میں ہے : لَوْلا يَنْهاهُمُ الرَّبَّانِيُّونَ وَالْأَحْبارُ [ المائدة/ 63] انہیں ان کے ربی ( یعنی مشائخ ) کیوں منع نہیں کرتے ۔ كُونُوا رَبَّانِيِّينَ [ آل عمران/ 79]( بلکہ دوسروں سے کہیگا ) کہ تم خدا پرست ہو کر رہو ۔ اور بعض نے کہا ہے کہ ربانی اصل میں سریانی لفظ ہے اور یہی قول انسب معلوم ہوتا ہے اس لیے کہ عربی زبان میں یہ لفظ بہت کم پایا جاتا ہے اور آیت :۔ رِبِّيُّونَ كَثِيرٌ [ آل عمران/ 146] بہت سے اللہ والوں نے ۔ میں ربی بمعنی ربانی ہے ۔ یہ دونوں مصدر ہیں ۔ لیکن اللہ تعالیٰ کے لئے ربوبیۃ اور دوسروں کے لئے ربابیۃ کا لفظ استعمال ہوتا ہے ۔ الرب ( صیغہ صفت ) جمع ارباب ۔ قرآن میں ہے : أَأَرْبابٌ مُتَفَرِّقُونَ خَيْرٌ أَمِ اللَّهُ الْواحِدُ الْقَهَّارُ [يوسف/ 39] بھلا ( دیکھو تو سہی کہ ) جدا جدا معبود اچھے یا خدائے یگانہ اور زبردست ۔ اصل تو یہ تھا کہ رب کی جمع نہ آتی ۔ کیونکہ قرآن پاک میں یہ لفظ خاص کر ذات باری تعالیٰ کیلئے استعمال ہوا ہے لیکن عقیدہ کفار کے مطابق بصیغہ جمع استعمال ہوا ہے اور ارباب کے علاوہ اس کی جمع اربۃ وربوب بھی آتی ہے ۔ چناچہ شاعر نے کہا ہے ۔ ( بسیط) کانت اربتھم بھز وغرھم عقد الجوار وکانوا معشرا غدرا ان کے ہم عہد بنی بہز تھے جنہیں عقد جوار نے مغرور کردیا اور درحقیقت وہ غدار لوگ ہیں ۔ دوسرے شاعر نے کہا ہے ( طویل ) ( 129) وکنت امرءا افضت الیک ربابتی وقبلک ربنی فضعت ربوب تم آدمی ہو جس تک میری سر پرستی پہنچتی ہے تم سے پہلے بہت سے میرے سرپرست بن چکے ہیں مگر میں ضائع ہوگیا ہوں ۔ ربابۃ : عہد و پیمان یا اس چیز کو کہتے ہیں جس میں قمار بازی کے تیر لپیٹ کر رکھے جاتے ہیں ۔ رابۃ وہ بیوی جو پہلے شوہر سے اپنی اولاد کی تربیت کررہی ہو ۔ اس کا مذکر راب ہے ۔ لیکن وہ اولاد جو پہلے شوہر سے ہو اور دوسرے شوہر کی زیر تربیت ہو یا پہلی بیوی سے ہو اور دوسری بیوی کی آغوش میں پرورش پا رہی ہو ۔ اسے ربیب یا ربیبۃ کہا جاتا ہے اس کی جمع ربائب آتی ہے قرآن میں ہے : وَرَبائِبُكُمُ اللَّاتِي فِي حُجُورِكُمْ [ النساء/ 23] اور تمہاری بیویوں کی ( پچھلی ) اولاد جو تمہاری گودوں میں ( پرورش پاتی ) ہے ۔ ربیت الادیم بالسمن میں نے چمڑے کو گھی لگا کر نرم کیا ۔ ربیت الدواء بالعسل میں نے شہد سے دوا کی اصلاح کی سقاء مربوب پانی مشک جسے تیل لگا کر نرم کیا گیا ہو ۔ شاعر نے کہا ہے ( طویل ) ( 170) فکونی لہ کالسمن ربت لہ الادم اس کے لئے ایسی ہوجاؤ جیسے رب لگا ہوا چمڑا گھی کے لئے ہوتا ہے ۔ الرباب : بادل کو کہتے ہیں کیونکہ وہ نباتات کی پرورش کرتا اور اسے بڑھاتا ہے اسی معنی کے اعتبار سے مطر کو در ( دودھ ) اور بادل کو تشبیہا لقوح ( یعنی دودھیلی اونٹنی ) کہا جاتا ہے محاورہ ہے ۔ اربت السحابۃ بدلی متواتر برستی رہی اور اسکے اصل معنی ہیں بدلی صاحب تربیت ہوگئی اس کے بعد اس سے ٹھہرنے کا معنی لے کر یہ لفظ کسی جگہ پر مقیم ہونے کے معنی میں استعمال ہونے لگا ہے ۔ جیسے ارب فلان بمکان کذا اس نے فلان جگہ پر اقامت اختیار کی ۔ رب تقلیل کے لئے آتا ہے اور کبھی تکثیر کے معنی بھی دیتا ہے ۔ جیسے فرمایا : رُبَما يَوَدُّ الَّذِينَ كَفَرُوا[ الحجر/ 2] کافر بہترے ہی ارمان کریں گے ( کہ ) اے کاش ( ہم بھی ) مسلمان ہوئے ہوتے ۔ حكيم فإذا قيل في اللہ تعالی: هو حَكِيم فمعناه بخلاف معناه إذا وصف به غيره، ومن هذا الوجه قال اللہ تعالی: أَلَيْسَ اللَّهُ بِأَحْكَمِ الْحاكِمِينَ [ التین/ 8] ، وإذا وصف به القرآن فلتضمنه الحکمة، نحو : الر تِلْكَ آياتُ الْكِتابِ الْحَكِيمِ [يونس/ 1] ، وعلی ذلک قال : وَلَقَدْ جاءَهُمْ مِنَ الْأَنْباءِ ما فِيهِ مُزْدَجَرٌ حِكْمَةٌ بالِغَةٌ [ القمر/ 4- 5] ، وقیل : معنی الحکيم المحکم «3» ، نحو : أُحْكِمَتْ آياتُهُ [هود/ 1] ، وکلاهما صحیح، فإنه محکم ومفید للحکم، ففيه المعنیان جمیعا، والحکم أعمّ من الحکمة، فكلّ حكمة حكم، ولیس کل حکم حكمة، فإنّ الحکم أن يقضی بشیء علی شيء، فيقول : هو كذا أو ليس بکذا، قال صلّى اللہ عليه وسلم : «إنّ من الشّعر لحكمة» أي : قضية صادقة لہذا جب اللہ تعالے کے متعلق حکیم کا لفظ بولاجاتا ہے تو اس سے وہ معنی مراد نہیں ہوتے جو کسی انسان کے حکیم ہونے کے ہوتے ہیں اسی بنا پر اللہ تعالیٰ نے اپنی ذات کے متعلق فرمایا ہے ۔ أَلَيْسَ اللَّهُ بِأَحْكَمِ الْحاكِمِينَ [ التین/ 8] کیا سب سے بڑا حاکم نہیں ہے ؟ اور قرآن پاک کو حکیم یا تو اس لئے کہا جاتا ہے کہ وہ حکمت کی باتوں پر مشتمل ہے جیسے فرمایا ۔ الر تِلْكَ آياتُ الْكِتابِ الْحَكِيمِ [يونس/ 1] یہ بڑی دانائی کی کتان کی آیئیں ہیں ۔ نیز فرمایا : وَلَقَدْ جاءَهُمْ مِنَ الْأَنْباءِ ما فِيهِ مُزْدَجَرٌ حِكْمَةٌ بالِغَةٌ [ القمر/ 4- 5] اور ان کو ایسے حالات ( سابقین پہنچ چکے ہیں جن میں عبرت ہے اور کامل دانائی ) کی کتاب بھی ۔ اور بعض نے کہا ہے کہ قرآن پاک کے وصف میں حکیم بمعنی محکم ہوتا ہے جیسے فرمایا :، أُحْكِمَتْ آياتُهُ [هود/ 1] ا حکمت ایا تہ جس کی آیتہ ( جس کی آیتیں مستحکم ہیں ۔ اور یہ دونوں قول صحیح ہیں کیونکہ قرآن پاک کی آیات محکم بھی ہیں اور ان میں پراز حکمت احکام بھی ہیں لہذا ان ہر دو معافی کے لحاظ سے قرآن محکم سے ۔ حکم کا لفظ حکمۃ سے عام ہے ہر حکمت کو حکم کہہ سکتے ہیں ۔ لیکن ہر حکم حکمت نہیں ہوسکتا ۔ کیونکہ حکم کے معنی کسی چیز کے متعلق فیصلہ کرنے کے ہوتے ہیں کہ وہ یوں ہے یا یوں نہیں ہے ۔ آنحضرت نے فرمایا کہ بعض اشعار مبنی برحکمت ہوتے ہیں جیسا کہ کبید نے کہا ہے ( ویل ) کہ خدائے تعالیٰ کا تقوی ہی بہترین توشہ ہے

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

قول باری ہے ( وتلک حجتنا اتینا ھا ابراہیم علی قومہ۔ یہ تھی ہماری وہ حجت جو ہم نے ابراہیم کو اس کی قول کے مقابلہ میں عطا کی ) یعنی ۔۔۔۔ واللہ اعلم۔۔۔۔۔ تارے، چاند اور سورج کے حدوث پر مذکورہ استدلال ، نیز یہ کہ جو چیز حدوث کی ان کیفیات کی حامل ہوگی جس طرح مذکورہ بالا تینوں اجرام فلکی حالم ہیں وہ الہ اور معبود نہیں بن سکتی ۔ پھر جب یہ بات ان لوگوں کے ذہنوں میں اتر گئی تو حضرت ابراہیم نے پوچھا ( فای الفریقین احق بالامن ۔ بتائو، ہم دونوں فریقوں میں سے کون زیادہ بےخوفی اور اطمینان کا مستحق ہے) آیا وہ اس کا زیادہ مستحق ہے جو ایک الہ کی عبادت کرتا ہے یا وہ جس نے مختلف الہ بنا رکھے ہیں ؟ انہوں نے جواب دیا کہ وہ اس کا زیادہ مستحق ہے جو ایک الہ کی عبادت کرتا ہے اس طرح انہوں نے اپنی غلطی کا خود اعتراف کرلیا اور ان پر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی حجت تام ہوگئی۔ ایک قول یہ ہے کہ انہوں نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) سے یہ کہا کہ تمہیں اس بات کا خوف نہیں کہ کہیں ہمارے معبود تمہیں تبا ہ نہ کردیں اور تمہیں پاگل نہ بنادیں ؟ “ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے جواب میں کہا ” کیا تمہیں اس بات کا خوف نہیں کہ تمہارے معبودان باط اپنی پرستش کرا کے تمہارے بڑے چھوٹے سب کو تباہی کے غار میں دھکیل دیں ؟ “ اس طرح آپ نے اس کی طرف سے پیش کیے جانے والے استدلال کو باطل کردیا اور انہوں نے جو دلیل آپ کے خلاف استعمال کرنی چاہی تھی آپ نے پلٹ کر وہی دلیل ان کے خلاف استعمال کرلی ۔ اور اپنی بات کے ذریعے ان کا قول باطل کردیا۔

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(٨٣) یہ ہماری حجت تھی جو غیبی طور پر ہم نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو دی جس کے ذریعے انہوں نے اپنی قوم سے مناظرہ کیا اور ہم تو قدرت منزلت اور حجت اور علم توحید جیسے امور میں جو اس کا اہل ہوتا ہے، اسے یہ فضائل عطا کردیتے ہیں اور آپ کا پروردگار اپنے اولیاء کو حجت کا الفاظ فرمانے میں حلیم اور اپنے اولیاء کی حجت اور اپنے دشمنوں کی سزا کے بارے میں خوب جاننے والا ہے۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٨٣ (وَتِلْکَ حُجَّتُنَآ اٰتَیْنٰہَآ اِبْرٰہِیْمَ عَلٰی قَوْمِہٖ ط) اسی آیت کا حوالہ موضوع کے آغاز میں آیا تھا۔ پوری سرگزشت بیان کرنے کے بعد اب فرمایا کہ یہ ہماری وہ حجت تھی جو ہم نے ابراہیم (علیہ السلام) کو اس کی قوم کے خلاف عطا کی۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اپنی قوم سے جس انداز سے محاجہ کر رہے تھے اس کو توریہکہتے ہیں۔ توریہ سے مراد ایسا انداز گفتگو ہے جس میں جھوٹ بولے بغیر مخاطب کو مغالطے میں مبتلا کردیا جائے۔ مثلاً حضرت شیخ الہند (رض) کا مشہور واقعہ ہے کہ ایک زمانے میں انگریز حکومت کی طرف سے ان کی گرفتاری کے لیے وارنٹ جاری کیے گئے۔ اس زمانے میں وہ مکہ مکرمہ میں مقیم تھے۔ شریف حسین والی مکہ کے سپاہی انہیں ڈھونڈتے پھر رہے تھے کہ ایک سپاہی نے انہیں کہیں کھڑے ہوئے دیکھا۔ وہ آپ کو پہچانتا نہیں تھا۔ اس نے قریب آکر آپ (رح) سے پوچھا کہ تم محمود الحسن کو جانتے ہو ؟ آپ (رح) نے کہا جی ہاں ‘ میں جانتا ہوں۔ اس نے پوچھا وہ کہاں ہیں ؟ آپ (رح) نے دو قدم پیچھے ہٹ کر کہا کہ ابھی یہیں تھے۔ اس سے اس سپاہی کو مغالطہ ہوا اور وہ یہ سمجھتے ہوئے وہاں سے دوڑ پڑا کہ ابھی ادھر تھے تو میں جلدی سے یہیں کہیں سے انہیں ڈھونڈ لوں۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے اس کلام میں توریہ کا یہ انداز پایا جاتا ہے۔ جیسے آپ ( علیہ السلام) نے بت خانے کے بتوں کو توڑا ‘ اور جس تیشے سے ان کو توڑا تھا وہ اس بڑے بت کی گردن میں لٹکا دیا۔ پوچھنے پر آپ ( علیہ السلام) نے جواب دیا کہ اس بڑے بت نے ہی یہ کام دکھایا ہوگا جو صحیح سالم کھڑا ہے اور آل واردات بھی اس کے پاس ہے۔ وہاں بھی یہ انداز اختیار کرنے کا مقصد یہی تھا کہ وہ لوگ سوچنے پر مجبور اور دروں بینی پر آمادہ ہوں۔ (نَرْفَعُ دَرَجٰتٍ مَّنْ نَّشَآءُ ط اِنَّ رَبَّکَ حَکِیْمٌ عَلِیْمٌ ) یعنی ہم نے ابراہیم (علیہ السلام) کے درجے بہت بلند کیے ہیں۔ اب انبیاء و رسل کے ناموں کا وہ گلدستہ آ رہا ہے جس کا ذکر پہلے کیا گیا تھا۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

(83 ۔ 89) ۔ اوپر کی آیتوں میں ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنے باپ اور اپنی قوم کو جن دلیلوں سے قائل کیا انہی کو فرمایا کہ وہ دلیلیں الہام کے طور پر اللہ تعالیٰ نے ابراہیم خلیل اللہ کے دل میں ڈالی تھی پھر فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے جس طرح ابراہیم خلیل اللہ کا مرتبہ بڑھایا کہ انہوں نے نمردو جیسے بادشاہ اور اپنے باپ اور قوم سب کو قائل کیا اسی طرح اے رسول اللہ کے اللہ اپنی حکمت اور اپنے علم سے جس کا چاہے مرتبہ بڑھا دیوے اس حکمت اور علم کے آگے کسی کی کوئی تدبیر نہیں چل سکتی اس میں آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو گویا یہ تسلی فرمائی گئی ہے کہ اگرچہ یہ اہل مکہ اسلام کے کمزور کرنے کی تدبیریں کر رہے ہیں لیکن اللہ تعالیٰ کی حکمت اور اس کے علم کے آگے ان کی کوئی تدبیر کارگر نہ ہوگی اور آخر کار ہوگا وہی جو اللہ تعالیٰ کی حکمت اور اس کے علم کے موافق ہونے ولا ہے۔ اللہ کا کلام سچا ہے بدر کا لڑائی سے لے کی فتح مکہ تک اللہ تعالیٰ کو اپنی حکمت اور اپنے علم کے موافق جو کچھ منظور تھا وہ سب ہوگیا اور کسی مخالف اسلام کی کوئی تدبیر کارگر نہیں ہوئی۔ اب آگے اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو سمجھایا کہ جب ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنی قوم کی مخالفت پر صبر کیا تو اللہ تعالیٰ نے اس صبر کے اجر میں اپنی حکمت کے موافق ان کو ملک عراق سے نکال کر ملک شام میں پہنچایا اور وہاں ان کو ایسی اولاو اور اولا دراولاد عنایت فرمائی جن کی نسل میں قیامت تک نبوت قائم رہے گی تم بھی اگر اپنی قوم کی مخالفت پر کچھ دن صبر کرو گے تو اس کا انجام اچھا ہوگا۔ اللہ سچا ہے اللہ کا کلام سچا ہے اللہ تعالیٰ نے اپنی حکمت سے جس طرح ابراہیم خلیل اللہ کو عراق سے شام پہنچا کر ان کے صبر کا اجر دنیا میں دکھا دیا ہجرت کے بعد وہی انجام نبی آخر الزمان (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے صبر کا ہوا۔ طوفان کے بعد جس طرح حضرت نوح (علیہ السلام) کی اولاد سے دنیا کا سلسلہ قائم ہے اسی طرح حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی اولاد سے قیامت تک نبوت کا سلسلہ قائم ہے اسی واسطے قرآن شریف میں کئی جگہ حضرت نوح ( علیہ السلام) اور حضرت ابراہیم ( علیہ السلام) کی اولاد کا ذکر ساتھ ہی ساتھ آیا ہے تفسیر ابن ابی حاتم میں عبداللہ بن مسعود (رض) کا اور تفسیر ضحاک میں عبداللہ بن عباس (رض) کا قول ہے کہ الیاس ( علیہ السلام) اور ادریس ( علیہ السلام) ایک ہی نبی کا نام ہے لیکن اور علماء نے اس قول پر یہ اعتراض کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آیتوں میں الیاس ( علیہ السلام) کو حضرت نوح ( علیہ السلام) کی اولاد میں ذکر کیا ہے اور ادریس ( علیہ السلام) تو حضرت نوح ( علیہ السلام) کے دادوں میں ہیں جو حضرت نوح (علیہ السلام) سے ہزار برس پہلے نبی ہوئے ہیں پھر دونوں نبی الیاس ( علیہ السلام) اور ادریس ( علیہ السلام) ایک کیوں کر ہوسکتے ہیں۔ بعضے علماء نے الیسع حضرت خضر کو قرار دیا ہے من آبائھم کی مثال جیسے حضرت ابراہیم ( علیہ السلام) اور حضرت اسحاق ( علیہ السلام) اخوانھم کی مثال جیسے حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) وہارون ( علیہ السلام) اب آگے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کو نبوت کے لئے پسند کر کے ان کو نبی بنایا ہے لیکن شرک ایسی بری چیز ہے کہ بالفرض اگر یہ لوگ بھی شرک کرتے تو ان کی سب نیکیاں اکارت ہوجاتیں اور ان کی نبوت کا کچھ پاس بارگاہ الٰہی میں نہ ہوتا کیونکہ بارگاہ الٰہی میں خالص نیت کا نیک کام مقبول ہوتا ہے شرک کے میل جول کا کوئی کام اللہ تعالیٰ کو پسند نہیں مکہ کے مشرکوں کو اس فرضی مثال سے یہ سمجھایا گیا ہے کہ جب شرک کی حالت میں انبیاء کی نیکیاں اکارت ہیں تو شرک پر اڑے رہنے کے بعد ان لوگوں سے اگر کچھ نیکی ہوئی تو اسکا کیا ٹھکانا ہے۔ پھر فرمایا کہ جن لوگوں کا ذکر نوح (علیہ السلام) سے لے کر آخر تک ہوا یہ وہ لوگ ہیں جن کا اللہ تعالیٰ نے شریعت اور نبوت عطا کی ہے جس کا ذکر قرآن میں ہے اگر یہ اہل مکہ ان باتوں کے منکر رہیں گے تو اللہ تعالیٰ نے اپنے علم ازلی کے موافق اور ایسے لوگ ٹھہرا رکھے ہیں جو ان باتوں کو اچھی طرح مان لیویں گے مکہ کے مشرک لوگوں نے اسلام کی مخالفت پر اور قرآن کے کلام الٰہی نہ ہونے پر جب کمر باندھ لی تو آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) موسم حج میں باہر کے لوگوں کو قرآن شریف کی آیتیں سنا کر ان کو اسلام کی امداد پر آمادہ کیا کرتے تھے ایک سال اہل مدینہ میں سے قبیلہ خزرج کے بارہ شخص حج کو آئے اور قرآن شریف کی آیتیں اور آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نصیحت منیٰ کی گھاٹی کے پاس سن کر انہوں نے اسلام کی اور اسلام کی امداد کی بیعت کی اسی کو عقبہ اولیٰ کی بیعت کہتے ہیں جس کا مطلب یہ ہے کہ مقام منیٰ کے پہاڑ کی گھاٹی کی یہ پہلی بیعت ہے منیٰ میں عقبہ اس گھاٹی کا نام ہے جہاں شیطانوں کو کنکریاں مارتے ہیں اس سال کے بعد پھر اسی قبیلہ کے بہت سے لوگ حج کو آئے اور اسی گھاٹی میں پہلے بارہ شخصوں کی طرح انہوں نے بھی بیعت کی اس کو ثانی بیعت کہتے ہیں۔ اسی بیعت میں اسلام کے پھیلانے کی غرض سے بارہ چوہدری مدینہ اور گرو نواح مدینہ میں آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مقرر کئے اور اسی بیعت کے بعد اہل مدینہ کا نام انصار قرار پایا جس کے مطلب یہ ہے کہ یہ لوگ اسلام کے مددگار ہیں۔ صحیح باری ومسلم کی عبادہ بن الصامت (رض) کی حدیث میں اور بعضے صحابہ کی اور حدیثوں میں اس بیعت کا تذکرہ تفصیل وار ١ ؎ ہے یہ حدیثیں ان آیتوں کی تفسیر ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے یہ جو فرمایا تھا کہ اگر یہ مکہ کی مخالفت کی جڑ اکھڑ گئی کیونکہ ان میں کے بڑے بڑے مخالف تو بدر کی لڑائی میں مارے گئے اور پھر آخر کو تمام مکہ اسلام کا تابع ہوگیا مسند امام احمد وغیرہ کے حوالہ سے ابوذر (رض) کی حدیث ایک جگہ گذر چکی ٢ ؎ ہے جس میں آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ کل نبی ایک لاکھ چوبیس ہزار ہیں جن میں تین سوتیرہ اور بعضی روایتوں میں تین سو پندرہ رسول ہیں۔ ابن حبان نے اس حدیث کو صحیح کہا ٣ ؎ ہے ان نبیوں میں سے قرآن شریف میں پچیس نبیوں کا ذکر آیا ہے اٹھارہ کا ان آیتوں میں ہے باقی کے سات کا ذکر اور آیتوں میں ہے جن کے نام یہ ہیں۔ آدم ( علیہ السلام) ۔ ادریس ( علیہ السلام) ۔ شعیب ( علیہ السلام) ۔ صالح ( علیہ السلام) ۔ ہود ( علیہ السلام) ۔ ذوالکفل ( علیہ السلام) ۔ محمد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان نبیوں کے نبی ہونے کا یقین شریعت میں تفصیلی طور پر ہے باقی کا بغیر نام کے مبہم طور پر ہے :۔ ١ ؎ صحیح بخاری ج ١ ص ٥٥٠ باب وفوہ الانصار الخ ٢ ؎ یعنی تفسیر احسن التفاسیر کی جلد اول کے ص ٣٩٧ پر بحوالہ تفسیر ابن کثیر ج ١ ص ٥٨٦

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 2 اس حجت سے مراد وہ دلائل توحید ہیں جو قوم کے مقابلے میں حضرت ابراہیم ( علیہ السلام) نے پیش کئے یہ دلائل اللہ تعالیٰ نے قوم کے مقابلہ میں حضرت ابرہیم ( علیہ السلام) کو عطا فرمائے تھے اس سے بھی اس بات کی تائید ہوتی ہے کہ باتیں عہد طفولیت کی نہیں ہیں کہ آپ شرک سے درجہ بدرجہ توحید کی طرف بڑھے ہوں کیونکہ اللہ کا نبی معرفت الہی میں کبھی غلطی نہیں کرتا۔ (رازی)7 یعنی چونکہ حضرت ابراہیم ( علیہ السلام) نے اپنی جان کو کوئی پروانہ کی اور اپنے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو توحید کی دعوت دینے کے لے وقف کردیا اس لئے ہم نے بھی ان پر بڑے بڑے احسانا فرمائے دنیا ہی میں انہیں یہ انعام دیا کہ نیک اولاد سے نوازار اور ان کے بعد ان کی ذریت میں نبوت اور کتاب اتارنے کا سلسلہ جاری کردیا اور اسی سلسلے کے آخری نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہیں۔

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

(آیت) ” نمبر ٨٣۔ قبل اس کے کہ ہم آیات زیر بحث کو چھوڑ کر آگے بڑھیں ‘ میں مناسب سمجھتا ہوں کہ صحابہ کرام (رض) اجمعین کی زندگی کے کچھ خوشگوار واقعات ناظرین کے سامنے رکھو ۔ ان پر قرآن کریم باران رحمت کی طرح اثر کر رہا تھا اور ان کے نفوس اس سے خوب سیراب ہو رہے تھے ۔ وہ اس قرآن کے ساتھ زندہ تھے اور قرآن کے لئے زندہ تھے ۔ وہ اپنی زندگی کو قرآن کریم کے اشاروں ‘ اس کے مفہومات ومدلولات کے ساتھ بدلتے اور ہم آہنگ کرتے چلے جاتے تھے ۔ اس کے تقاضوں کو پورے کرتے چلے جاتے تھے اور وہ نہایت ہی سنجیدگی ‘ نہایت ہی فہم و فراست اور نہایت ہی سختی کے ساتھ اسے لیتے تھے ۔ قرآن کریم کی خوبصورتی ‘ اثر آفرینی عملیت اور سنجیدگی کو دیکھ کر انسان حیران رہ جاتا ہے ۔ یہ امر حیران کن ہے کہ قرآن نے گروہ صحابہ کے اندر کس قدر خارق العادت تبدیلی پیدا کی کہ صرف ٢٥ سال کے اندر اندر یہ معجزہ رونما ہوا جس کی کوئی مثال تاریخ میں نہیں ۔ یہ اس لئے ہوا کہ گروہ صحابہ (رض) اجمعین نہایت ہی محیرالعقول لوگ تھے ۔ ابن جریر نے ‘ اپنی سند کے ساتھ حضرت عبداللہ ابن ادریس سے روایت کی ہے ۔ وہ فرماتے ہیں کہ جب یہ آیت اتری ۔ (آیت) ” الَّذِیْنَ آمَنُواْ وَلَمْ یَلْبِسُواْ إِیْمَانَہُم بِظُلْم “۔ وہ لوگ جو ایمان لائے اور انہوں نے اپنے ایمان کو ظلم کے ساتھ نہ ملایا ۔ “ تو یہ بات صحابہ کرام پر بہت ہی گراں گزری ۔ انہوں نے کہا کہ ہم میں سے کون ہے جس نے اپنے نفس پر ظلم نہ کیا ہو ۔ کہتے ہیں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” اس طرح نہیں جس طرح تم لوگ گمان کرتے ہو ‘ یہ تو اس طرح ہے جس طرح حضرت لقمان نے اپنے بیٹے سے کہا تھا ۔ (آیت) ” لاتشرک باللہ ان الشرک لظلم عظیم “۔ بیٹے اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ بیشک شرک ظلم عظیم ہے ۔ “ انہوں نے اپنی سند کے ساتھ ابو الاشعری ‘ عبدی اور اس کے باپ سے نقل کیا ہے کہ زید ابن ہومان نے سلمان سے پوچھا : اے ابو عبداللہ اللہ کی کتاب میں سے ایک آیت نے میرا برا حال بنا دیا ہے ۔ (آیت) ” الَّذِیْنَ آمَنُواْ وَلَمْ یَلْبِسُواْ إِیْمَانَہُم بِظُلْم “۔ وہ لوگ جو ایمان لائے اور انہوں نے اپنے ایمان کو ظلم کے ساتھ نہ ملایا ۔ “ تو سلمان نے کہا کہ یہ تو اللہ کے ساتھ شرک ہے اور اس کا ذکر اللہ نے کیا ہے ۔ زید نے کہا کہ آپ سے یہ سن کر مجھے اس قدر خوشی ہوئی کہ کل رات میری جس قدر دولت تھی اگر اسی قدر مجھے اور بھی مل جائے تو اتنی خوشی نہ ہوتی ۔ ان تین روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ صحابہ کا معزز گروہ قرآن کریم کے بارے میں کس قدر حساس تھا اور ان کی زندگی پر قرآن کس قدر عملا اثر انداز ہوتا تھا اور کس طرح وہ قرآن کریم کو لیتے تھے ؟ “ اس طرح کہ یہ ایسے احکام ہیں جن کا فی الفور نافذ کرنا ضرروی ہے ۔ اور یہ ایسی ہدایات اور ایسے فیصلے ہیں جن کی اطاعت ضروری ہے ۔ کیونکہ یہ آخری احکام اور فیصلے ہیں اور جب وہ یہ محسوس کرتے تھے کہ ان کی وسعت و طاقت اور مطلوبہ احکام کے درمیان فرق ہے اور ان کے لئے ان احکام کانفاذ ممکن نہ رہے گا تو وہ بےچین ہوجاتے تھے اور اللہ اور رسول ان احکام میں رعایت اور نرمی فرما دیتے تھے ۔ یہ وہ مناظر ہیں جو آنکھوں کو خیرہ کردیتے ہیں ۔ یہ ہیں ان لوگوں کے حالات جو اس دین کے حاملین تھے ۔ وہ ایسا پردہ تقدیر الہی تھے اور وہ دستہ تھے جو مشیت الہی کے نفاذ کے لئے منتخب کیا گیا تھا اور یہ مشیت سب سے پہلے انہوں نے اپنی زندگی میں نافذ کی تھی ۔ اب سیاق کلام میں اس عظیم قافلہ ایمان کا ذکر آتا ہے جس قائدین انبیاء ورسل تھے ۔ حضرت نوح (علیہ السلام) سے خاتم النبیین تک ان سب پر اللہ کی اللہ کی رحمتیں نازل ہوں ۔ یہ طویل قافلہ ایک دوسرے کے ساتھ مربوط ہے ۔ خصوصا حضرت ابراہیم (علیہ السلام) سے لے کر حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تک ان حضرات کے تذکرے میں تاریخی تسلسل کا خیال نہیں رکھا گیا ۔ جیسا کہ دوسرے مقامات پر نظر آتا ہے کیونکہ یہاں مقصد یہ نہیں ہے کہ ان کی تاریخی ترتیب کو بیان کیا جائے بلکہ مقصد یہ ہے کہ تمام انبیاء کا مشن ایک ہی تھا یعنی عقیدہ توحید :

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

حضرت انبیاء کرام (علیہ السلام) کا تذکرہ اور ان کی اقتدا کرنے کا حکم اوپر حجت بیان کی جو ابراہیم (علیہ السلام) نے ستارہ پرستوں کو پیش کی اور انہیں بتایا کہ غروب ہونے والا معبود نہیں ہوسکتا۔ اور یہ کہ میں تمہارے معبود ان باطلہ سے نہیں ڈرتا۔ یہ دلیل اللہ تعالیٰ نے ابراہیم (علیہ السلام) کو بتادی اور ان کے دل میں ڈال دی۔ جس سے انہوں نے قوم کو سمجھایا اور قائل کردیا اور جواب سے عاجز کردیا۔ (وَ تِلْکَ حُجَّتُنَآ) میں اسی کو بیان فرمایا ہے اس کے بعد فرمایا۔ (نَرْفَعُ دَرَجٰتٍ مَّنْ نَّشَآءُ ) (ہم درجات کے اعتبار سے جس کو چاہیں بلند کردیتے ہیں) حضرات انبیاء کرام (علیہ السلام) سب ہی درجات عالیہ والے تھے اور ان میں اللہ پاک نے بعض کو بعض پر رفعت و فضیلت دی ہے جیسا کہ (تِلْکَ الرُّسُلُ فَضَّلْنَا بَعْضَھُمْ عَلیٰ بَعْضٍ ) میں بیان فرمایا ہے، حضرت ابراہیم خلیل اللہ (علیہ السلام) بلند درجات والے تھے۔ جنہوں نے اللہ کی راہ میں بہت تکلیفیں اٹھائیں اور اپنی قوم سے بڑے بڑے مقابلے کیے اور نمردو کے ساتھ بحث و مناظرہ کیا جس سے وہ لا جواب ہو کر رہ گیا۔ اور ان کے بعد جتنے بھی انبیاء اکرام (علیہ السلام) تشریف لائے سب ان کی نسل میں سے ہیں آپ ابو الانبیاء ہیں۔ صلی اللہ علیہ و علی جمیع الانبیاء والمرسلین

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

89 تِلْکَ سے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے گذشتہ استدلال کی طرف اشارہ ہے۔ اشارۃ الی جمیع ما احتج بہ ابراھیم (علیہ السلام) علی قومہ (مدارک ج 2 ص 17) ۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

83 اور توحید باری پر جو حجت اور دلیل حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے پیش کی اس کی حالت یہ ہے کہ یہ حجت اور یہ طریقہ استدلال ہم نے ابراہیم (علیہ السلام) کو بتایا اور سکھایا تھا اور یہ ہماری وہ دلیل تھی جو ہم نے ابراہیم (علیہ السلام) کو اس کی قوم کے مقابلہ میں دی تھی ہم جس کو چاہتے ہیں اس کے علم و عمل کے درجے بلند کردیتے ہیں بلاشبہ آپ کا پروردگار کمال حکمت اور کمال علم کا مالک ہے یعنی ہر ایک کی صلاحیت اور استعداد کو جانتا ہے اور اسی کے موافق اس کو علمی اور عملی کمالات سے نوازتا ہے اور اس کے مرتبے بلند وبالا کرتا ہے۔