حضرت عبداللہ بن سلام رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم صحابہ ایک دن بیٹھے بیٹھے آپس میں یہ تذکرے کر رہے تھے کہ کوئی جائے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ دریافت کرے کہ اللہ کو سب سے زیادہ محبوب عمل کونسا ہے؟ مگر ابھی کوئی کھڑا بھی نہ ہوا تھا کہ ہمارے پاس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا قاصد پہنچا اور ہم میں سے ایک ایک کو بلا کر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے گیا جب ہم سب جمع ہوگئے تو آپ نے اس پوری سورت کی تلاوت کی ( مسند احمد ) اس میں ذکر ہے کہ جہاد سب سے زیادہ محبوب الٰہی ہے ۔ ابن ابی حاتم کی اس حدیث میں ہے کہ ہم حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کرتے ہوئے ڈرے اور اس میں یہ بھی ہے کہ جس طرح حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے پوری سورت پڑھ کر سنائی تھی اسی طرح اس روایت بیان کرنے والے صحابی نے تابعی کو پڑھ کر سنائی اور تابعی نے اپنے شاگرد کو اور اس نے اپنے شاگرد کو اسی طرح آخر تک اور روایت میں ہے کہ ہم نے کہا تھا اگر ہمیں ایسے عمل کی خبر ہو جائے تو ہم ضرور اس پر عامل ہو جائیں ، مجھ سے میرے استاد شیخ مسند ابو العباس احمد بن ابو طالب حجار نے بھی اپنی سند سے یہ حدیث بیان کی ہے اور اس میں بھی مسلسل ہر استاد کا اپنے شاگرد کو یہ سورت پڑھ کر سنانا مروی ہے یہاں تک کہ میرے استاد نے بھی اپنے استاد سے اسے سنا ہے لیکن چونکہ وہ خود امی تھے اور اسے یاد کرنے کا انہیں وقت نہیں ملا انہوں نے مجھے پڑھ کر نہیں سنائی ، لیکن الحمد اللہ میرے دوسرے استاد حافظ کبیر ابو عبداللہ محمد بن احمد بن عثمان نے اپنی سند سے یہ حدیث مجھے پڑھاتے وقت یہ سورت بھی پوری پڑھ کر سنائی ہے ۔