Surat us Saff

Surah: 61

Verse: 8

سورة الصف

یُرِیۡدُوۡنَ لِیُطۡفِئُوۡا نُوۡرَ اللّٰہِ بِاَفۡوَاہِہِمۡ وَ اللّٰہُ مُتِمُّ نُوۡرِہٖ وَ لَوۡ کَرِہَ الۡکٰفِرُوۡنَ ﴿۸﴾

They want to extinguish the light of Allah with their mouths, but Allah will perfect His light, although the disbelievers dislike it.

وہ چاہتے ہیں کہ اللہ کے نور کو اپنے منہ سے بجھا دیں اور اللہ اپنے نور کو کمال تک پہچانے والا ہے گو کافر برا مانیں ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

يُرِيدُونَ لِيُطْفِوُوا نُورَ اللَّهِ بِأَفْوَاهِهِمْ ... They intend to put out the Light of Allah with their mouths. indicating that the disbelievers will try to contradict the truth with falsehood. Their attempts are similar to one's attempt to extinguish the sun with his mouth, which is impossible. Likewise is the case of their attempt to extinguish truth. So Allah said, ... وَاللَّهُ مُتِمُّ نُورِهِ وَلَوْ كَرِهَ الْكَافِرُونَ هُوَ الَّذِي أَرْسَلَ رَسُولَهُ بِالْهُدَى وَدِينِ الْحَقِّ لِيُظْهِرَهُ عَلَى الدِّينِ كُلِّهِ وَلَوْ كَرِهَ الْمُشْرِكُونَ

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

8۔ 1 نور سے مراد قرآن، یا اسلام یا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہے، یا دلائل وبراہین ہیں ' منہ سے بجھا دیں ' کا مطلب ہے، وہ طعن کی وہ باتیں ہیں جو ان کے مونہوں سے نکلتی ہیں۔ 8۔ 2 یعنی اس کو آفاق میں پھیلانے والا اور دوسرے تمام دینوں پر غالب کرنے والا ہے۔ دلائل کے لحاظ سے، یا مادی غلبے کے لحاظ سے یا دونوں لحاظ سے۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[١٠] اسلام کو نیست ونابود کرنے کے لیے دشمن اقوام کے منصوبے :۔ اس آیت کی مخاطب ساری ہی دشمن اسلام قومیں ہیں۔ خواہ وہ عیسائی ہوں یا یہودی یا مشرکین ہوں یا منافقین۔ فتح مکہ سے پہلے تک یہ سب طاقتیں یہی سمجھ رہی تھیں کہ اسلام بس ایک ٹمٹماتا چراغ ہے۔ جو ہوا کے ایک ہی جھونکے سے بجھ سکتا ہے اور بجھ جائے گا۔ بلکہ فتح مکہ کے بعد یہ تاثر پوری طرح زائل نہ ہوا۔ فتح مکہ کے بعد قبیلہ ثقیف اور ہوازن نے اسی ارادہ سے جنگ کی کہ اسلام کو ملیا میٹ کردیں۔ پھر اس کے بعد ایک عامر نامی عیسائی راہب نے منافقین مدینہ سے ساز باز کی اور قیصر روم کو مسلمانوں پر چڑھا لانے کے لیے روانہ ہوگیا۔ جس کے نتیجہ میں غزوہ تبوک بپا ہوا۔ روایات کے مطابق اس موقع پر عیسائیوں کے دو لاکھ افراد پر مشتمل لشکر کا آنا متوقع تھا۔ لیکن اللہ نے انہیں میدان مقابلہ میں آنے کی توفیق ہی نہ دی۔ سب اسلام دشمن طاقتیں آغاز اسلام سے لے کر جلتی بھنتی اور کڑھتی ہی رہیں اور انجام کار ہوا یہ کہ اسلام کی روشنی سارے عرب پھر اس کے بعد ساری دنیا میں پھیل گئی۔ واضح رہے کہ یہ آیات اس دور میں نازل ہوئیں جبکہ اسلام کا مستقبل بالکل مبہم تھا اور بعض غیر جانبدار قسم کے قبائل اس انتظار میں بیٹھے تھے کہ دیکھیے اونٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے ؟

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

یُرِیْدُوْنَ لِیُطْفِئُوْا نُوْرَ اللہ ِ بِاَفْوَاہِھِمْ وَ اللہ ُ مُتِمُّ نُوْرِہٖ ۔: ان آیات کی تفصیل کے لیے دیکھیے سورة ٔ توبہ (٣٢، ٣٣) کی تفسیر۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

يُرِيْدُوْنَ لِيُطْفِــــُٔـوْا نُوْرَ اللہِ بِاَفْوَاہِہِمْ وَاللہُ مُتِمُّ نُوْرِہٖ وَلَوْ كَرِہَ الْكٰفِرُوْنَ۝ ٨ رود والْإِرَادَةُ منقولة من رَادَ يَرُودُ : إذا سعی في طلب شيء، والْإِرَادَةُ في الأصل : قوّة مركّبة من شهوة وحاجة وأمل، نحو : إِنْ أَرادَ بِكُمْ سُوءاً أَوْ أَرادَ بِكُمْ رَحْمَةً [ الأحزاب/ 17] ( ر و د ) الرود الا رادۃ یہ اراد یرود سے ہے جس کے معنی کسی چیز کی طلب میں کوشش کرنے کے ہیں اور ارادۃ اصل میں اس قوۃ کا نام ہے ، جس میں خواہش ضرورت اور آرزو کے جذبات ملے جلے ہوں ۔ چناچہ فرمایا : إِنْ أَرادَ بِكُمْ سُوءاً أَوْ أَرادَ بِكُمْ رَحْمَةً [ الأحزاب/ 17] یعنی اگر خدا تمہاری برائی کا فیصلہ کر ہے یا تم پر اپنا فضل وکرم کرنا چاہئے ۔ طفی طَفِئَتِ النارُ وأَطْفَأْتُهَا . قال تعالی: يُرِيدُونَ أَنْ يُطْفِؤُا نُورَ اللَّهِ [ التوبة/ 32] ، يُرِيدُونَ لِيُطْفِؤُا نُورَ اللَّهِ [ الصف/ 8] ، والفرق بين الموضعین أنّ في قوله : يُرِيدُونَ أَنْ يُطْفِؤُا يقصدون إِطْفَاءَ نورِ الله، وفي قوله : لِيُطْفِؤُا يقصدون أمرا يتوصّلون به إلى إِطْفَاءِ نور اللہ ( ط ف ء ) طفئت ( س ) النار کے معنی آگ بجھجانے کے ہیں ۔ اور اطفا تھا ( افعال ) کے معنی پھونک سے بجھادینے کے قرآن میں ہے : ۔ يُرِيدُونَ أَنْ يُطْفِؤُا نُورَ اللَّهِ [ التوبة/ 32] یہ چاہتے ہیں کہ خدا کے نور کو اپنے منہ سے ( پھونک مار کر بجھادین يُرِيدُونَ لِيُطْفِؤُا نُورَ اللَّهِ [ الصف/ 8] یہ چاہتے ہیں کہ خدا کے چراغ کی روشنی کو منہ سے ( پھونک مارکر ) بجھادیں ۔ ان دونوں آیتوں میں معنوی طور پر یہ فرق پایا جاتا ہے کہ یریدون ان یطفوا کے معنی نور الہی کو بجھانے کا قصد کرنے کے ہیں مگر لیطفوا کے معنی ایسے امر کا قصد کرنے کے ہیں جو اطفاء نور کا سبب بن سکے نور ( روشنی) النّور : الضّوء المنتشر الذي يعين علی الإبصار، وذلک ضربان دنیويّ ، وأخرويّ ، فالدّنيويّ ضربان : ضرب معقول بعین البصیرة، وهو ما انتشر من الأمور الإلهية کنور العقل ونور القرآن . ومحسوس بعین البصر، وهو ما انتشر من الأجسام النّيّرة کالقمرین والنّجوم والنّيّرات . فمن النّور الإلهي قوله تعالی: قَدْ جاءَكُمْ مِنَ اللَّهِ نُورٌ وَكِتابٌ مُبِينٌ [ المائدة/ 15] ، وقال : وَجَعَلْنا لَهُ نُوراً يَمْشِي بِهِ فِي النَّاسِ كَمَنْ مَثَلُهُ فِي الظُّلُماتِ لَيْسَ بِخارِجٍ مِنْها [ الأنعام/ 122] ( ن و ر ) النور ۔ وہ پھیلنے والی روشنی جو اشیاء کے دیکھنے میں مدد دیتی ہے ۔ اور یہ دو قسم پر ہے دینوی اور اخروی ۔ نور دینوی پھر دو قسم پر ہے معقول جس کا ادراک بصیرت سے ہوتا ہے یعنی امور الہیہ کی روشنی جیسے عقل یا قرآن کی روشنی دوم محسوس جسکاے تعلق بصر سے ہے جیسے چاند سورج ستارے اور دیگر اجسام نیزہ چناچہ نور الہیٰ کے متعلق فرمایا : ۔ قَدْ جاءَكُمْ مِنَ اللَّهِ نُورٌ وَكِتابٌ مُبِينٌ [ المائدة/ 15] بیشک تمہارے خدا کی طرف سے نور اور روشن کتاب آچکی ہے ۔ وَجَعَلْنا لَهُ نُوراً يَمْشِي بِهِ فِي النَّاسِ كَمَنْ مَثَلُهُ فِي الظُّلُماتِ لَيْسَ بِخارِجٍ مِنْها [ الأنعام/ 122] اور اس کے لئے روشنی کردی جس کے ذریعہ سے وہ لوگوں میں چلتا پھرتا ہے کہیں اس شخص جیسا ہوسکتا ہے ۔ جو اندھیرے میں پڑا ہو اور اس سے نکل نہ سکے ۔ فوه أَفْوَاهُ جمع فَمٍ ، وأصل فَمٍ فَوَهٌ ، وكلّ موضع علّق اللہ تعالیٰ حکم القول بِالْفَمِ فإشارة إلى الکذب، وتنبيه أنّ الاعتقاد لا يطابقه . نحو : ذلِكُمْ قَوْلُكُمْ بِأَفْواهِكُمْ [ الأحزاب/ 4] ، وقوله : كَلِمَةً تَخْرُجُ مِنْ أَفْواهِهِمْ [ الكهف/ 5]. ( ف و ہ ) افواہ فم کی جمع ہے اور فم اصل میں فوہ ہے اور قرآن پاک میں جہاں کہیں بھی قول کی نسبت فم یعنی منہ کی طرف کی گئی ہے وہاں در وغ گوئی کی طرف اشارہ ہے اور اس پر تنبیہ ہے کہ وہ صرف زبان سے ایسا کہتے ہیں ان کے اندرون اس کے خلاف ہیں جیسے فرمایا ذلِكُمْ قَوْلُكُمْ بِأَفْواهِكُمْ [ الأحزاب/ 4] یہ سب تمہارے منہ کی باتیں ہیں ۔ كَلِمَةً تَخْرُجُ مِنْ أَفْواهِهِمْ [ الكهف/ 5] بات جوان کے منہ سے نکلتی ہے ۔ تمَ تَمَام الشیء : انتهاؤه إلى حدّ لا يحتاج إلى شيء خارج عنه، والناقص : ما يحتاج إلى شيء خارج عنه . ويقال ذلک للمعدود والممسوح، تقول : عدد تَامٌّ ولیل تام، قال : وَتَمَّتْ كَلِمَةُ رَبِّكَ [ الأنعام/ 115] ، وَاللَّهُ مُتِمُّ نُورِهِ [ الصف/ 8] ، وَأَتْمَمْناها بِعَشْرٍ فَتَمَّ مِيقاتُ رَبِّهِ [ الأعراف/ 142] . ( ت م م ) تمام الشیء کے معنی کسی چیز کے اس حد تک پہنچ جانے کے ہیں جس کے بعد اسے کسی خارجی شے کی احتیاج باقی نہ رہے اس کی ضد ناقص یعنی وہ جو اپنی ذات کی تکمیل کے لئے ہنور خارج شے کی محتاج ہو اور تمام کا لفظ معدودات کے متعلق بھی استعمال ہوتا ہے اور مقدار وغیرہ پر بھی بولا جاتا ہے مثلا قرآن میں ہے : ۔ وَتَمَّتْ كَلِمَةُ رَبِّكَ [ الأنعام/ 115] اور تمہارے پروردگار وعدہ پورا ہوا ۔ وَاللَّهُ مُتِمُّ نُورِهِ [ الصف/ 8] حالانکہ خدا اپنی روشنی کو پورا کرکے رہے گا ۔ وَأَتْمَمْناها بِعَشْرٍ فَتَمَّ مِيقاتُ رَبِّهِ [ الأعراف/ 142] . اور دس ( راتیں ) اور ملا کر اسے پورا ( حیلہ ) کردیا تو اس کے پروردگار کی ۔۔۔۔۔ میعاد پوری ہوگئی ۔ لو لَوْ : قيل : هو لامتناع الشیء لامتناع غيره، ويتضمّن معنی الشرط نحو : قوله تعالی: قُلْ لَوْ أَنْتُمْ تَمْلِكُونَ [ الإسراء/ 100] . ( لو ) لو ( حرف ) بعض نے کہا ہے کہ یہ امتناع الشئی لا متناع غیر ہ کے لئے آتا ہے ( یعنی ایک چیز کا دوسری کے امتناع کے سبب ناممکن ہونا اور معنی شرط کو متضمن ہوتا ہے چناچہ قرآن پاک میں ہے : ۔ قُلْ لَوْ أَنْتُمْ تَمْلِكُونَ [ الإسراء/ 100] کہہ دو کہ اگر میرے پروردگار کی رحمت کے خزانے تمہارے ہاتھ میں ہوتے ۔ كره قيل : الْكَرْهُ والْكُرْهُ واحد، نحو : الضّعف والضّعف، وقیل : الكَرْهُ : المشقّة التي تنال الإنسان من خارج فيما يحمل عليه بِإِكْرَاهٍ ، والکُرْهُ : ما يناله من ذاته وهو يعافه، وَلَوْ كَرِهَ الْمُشْرِكُونَ [ التوبة/ 33] ( ک ر ہ ) الکرہ ( سخت ناپسند یدگی ) ہم معنی ہیں جیسے ضعف وضعف بعض نے کہا ہے جیسے ضعف وضعف بعض نے کہا ہے کہ کرۃ ( بفتح الکاف ) اس مشقت کو کہتے ہیں جو انسان کو خارج سے پہنچے اور اس پر زبر دستی ڈالی جائے ۔ اور کرہ ( بضم الکاف ) اس مشقت کو کہتے ہیں جو اسے نا خواستہ طور پر خود اپنے آپ سے پہنچتی ہے۔ چناچہ قرآن میں ہے : وَلَوْ كَرِهَ الْمُشْرِكُونَ [ التوبة/ 33] اور اگر چہ کافر ناخوش ہی ہوں ۔ كفر الكُفْرُ في اللّغة : ستر الشیء، ووصف اللیل بِالْكَافِرِ لستره الأشخاص، والزّرّاع لستره البذر في الأرض، وأعظم الكُفْرِ : جحود الوحدانيّة أو الشریعة أو النّبوّة، والکُفْرَانُ في جحود النّعمة أكثر استعمالا، والکُفْرُ في الدّين أكثر، والکُفُورُ فيهما جمیعا قال : فَأَبَى الظَّالِمُونَ إِلَّا كُفُوراً [ الإسراء/ 99] ( ک ف ر ) الکفر اصل میں کفر کے معنی کیس چیز کو چھپانے کے ہیں ۔ اور رات کو کافر کہا جاتا ہے کیونکہ وہ تمام چیزوں کو چھپا لیتی ہے ۔ اسی طرح کا شتکار چونکہ زمین کے اندر بیچ کو چھپاتا ہے ۔ اس لئے اسے بھی کافر کہا جاتا ہے ۔ اور سب سے بڑا کفر اللہ تعالیٰ کی وحدانیت یا شریعت حقہ یا نبوات کا انکار ہے ۔ پھر کفران کا لفظ زیادہ نعمت کا انکار کرنے کے معنی ہیں استعمال ہوتا ہے ۔ اور کفر کا لفظ انکار یہ دین کے معنی میں اور کفور کا لفظ دونوں قسم کے انکار پر بولا جاتا ہے ۔ چناچہ قرآن میں ہے : ۔ فَأَبَى الظَّالِمُونَ إِلَّا كُفُوراً [ الإسراء/ 99] تو ظالموں نے انکار کرنے کے سوا اسے قبول نہ کیا ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(٨۔ ٩) یہود و نصاری دین الہی یا یہ کہ کتاب اللہ کو جھوٹا ثابت کرنے کی فکر میں کہ اپنی زبان درازوں سے اس پر اثر اندازی کریں۔ اللہ تعالیٰ اپنے دین اور اپنی کتاب کے نور کو کمال تک پہنچانے والا ہے، اگرچہ یہود و نصاری اور مشرکین عرب اس سے کتنے ہی بددل کیوں نہ ہوں۔ اسی نے رسول اکرم کو توحید یا قرآن اور دین اسلام دے کر بھیجا تاکہ اس دین کو تمام بقیہ ادیان پر غالب کردے۔ چناچہ قیامت قائم نہیں ہوگی جب تک کہ کوئی ایسا شخص نہ باقی رہا ہو مگر یہ کہ وہ دین اسلام میں داخل ہوگیا ہو یا اس نے جذیہ ادا کردیا ہو اگرچہ یہ یہود و نصاری اور مشرکین کو ناگوار گزرے۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

یہ آیت الفاظ کے معمولی فرق کے ساتھ سورة التوبہ میں اس طرح آئی ہے : { یُرِیْدُوْنَ اَنْ یُّطْفِئُوْا نُوْرَ اللّٰہِ بِاَفْوَاہِہِمْ وَیَاْبَی اللّٰہُ اِلَّآ اَنْ یُّتِمَّ نُوْرَہٗ وَلَوْ کَرِہَ الْکٰفِرُوْنَ ۔ } ” یہ چاہتے ہیں کہ اللہ کے نور کو بجھا دیں اپنے منہ (کی پھونکوں ) سے اور اللہ کو ہر گز منظور نہیں ہے مگر یہ کہ وہ اپنے نور کا اتمام فرما کر رہے ‘ چاہے یہ کافروں کو کتنا ہی ناگوار گزرے۔ “ اللہ کے نور کو منہ کی پھونکوں سے بجھانے کے استعارے میں یہود مدینہ کی ان بودی کوششوں کی طرف اشارہ ہے جو وہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور مسلمانوں کے خلاف اس وقت کر رہے تھے ۔ یعنی وہ سامنے آکر براہ راست مقابلہ کرنے کے بجائے مسلمانوں کے خلاف بےبنیاد پروپیگنڈا کرتے ‘ افواہیں اڑاتے ‘ درپردہ سازشوں کے جال بنتے رہتے ‘ کبھی قریش کے پاس جاتے کہ تم مدینہ پر حملہ کرو اور کبھی کسی دوسرے قبیلے کو سبز باغ دکھا کر مسلمانوں کے خلاف ابھارتے ۔ سورة الحشر میں ان کی بزدلی اور اندرونی کمزوری کا نقشہ ان الفاظ میں کھینچا گیا ہے : { لاَ یُقَاتِلُوْنَکُمْ جَمِیْعًا اِلَّا فِیْ قُرًی مُّحَصَّنَۃٍ اَوْ مِنْ وَّرَآئِ جُدُرٍط } (آیت ١٤) کہ یہ لوگ کھلے میدان میں اکٹھے ہو کر تمہارا مقابلہ کرنے کی جرات نہیں کرسکتے ‘ ہاں چھپ چھپا کر دیواروں کی اوٹ سے وہ تم پر ضرور وار کریں گے۔ مولانا ظفر علی خاں نے اس آیت کے مضمون کی ترجمانی اپنے ایک شعر میں یوں کی ہے : ؎ نورِ خدا ہے کفر کی حرکت پہ خندہ زن پھونکوں سے یہ چراغ بجھایا نہ جائے گا ! یہاں یہ اصولی نکتہ بھی پیش نظر رہنا چاہیے کہ اس آیت اور اس مضمون کی حامل قرآن کی اور بہت سی دوسری آیات کے مفہوم کا دائرہ صرف حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے زمانے کے یہودیوں اور ان کی اسلام دشمن سرگرمیوں تک ہی محدود نہیں ‘ بلکہ ان میں تاقیامِ قیامت ہر زمانے کے یہودیوں اور ان کی ان سازشوں کا ذکر ہے جو وہ اسلام اور مسلمانوں کے خلاف مسلسل کرتے رہے ہیں اور کرتے رہیں گے ۔ موجودہ دور میں اگرچہ یہ لوگ پوری عیسائی دنیا کو اپنی مٹھی میں لے کر عالم اسلام کے خلاف صف آراء ہوچکے ہیں ‘ مگر قرائن بتاتے ہیں کہ ان کے فیصلے کا وقت اب قریب آ لگا ہے۔ آیت زیر مطالعہ کے الفاظ کے مطابق اللہ کے نور کا اتمام یعنی روئے ارضی پر دین اسلام کا غلبہ تو ایک طے شدہ امر ہے۔ اس کے لیے قیامت سے پہلے دنیا کو ایک انتہائی خوفناک جنگ کا سامنا کرنا ہے۔ اس جنگ میں یہودی اور عیسائی مل کر مسلمانوں کے خلاف لڑیں گے۔ احادیث میں اس جنگ کو الَمْلَحْمَۃُ الْعُظْمٰیکا نام دیا گیا ہے ‘ جبکہ عیسائیوں اور یہودیوں کی اصطلاح میں اسے ” ہرمجدون “ (Armageddon) کہا جاتا ہے۔ اس جنگ کے نتیجے میں یہودی مکمل طور پر نیست و نابود ہوجائیں گے اور اسلام واحد طاقت کے طور پر پوری دنیا پر غالب آجائے گا۔ یہ ہے آیت کے الفاظ وَاللّٰہُ مُتِمُّ نُوْرِہٖ کے مفہوم کا خلاصہ جس کی تفصیل ہمیں احادیث میں ملتی ہے۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

12 One should bear in mind that these verses were sent down in A.H. 3 after the Battle of Uhud, when Islam was confined only to the city of Madinah, the Muslims were only a few thousands in number, and entire Arabia was bent upon wiping out this religion. The defeat that the Muslims had suffered at Uhud, had sullied their image of power and the tribes of the surrounding areas had been emboldened. Under such conditions it was said: "No one will succeed in blowing out this Light of Allah, but it will shine forth in all fullness and spread throughout the world." This was a clear prediction which literally came true. Who could know apart from Allah at that time what was the future of Islam? Human eyes could only sec that it was a flickering candle and violent winds were blowing to put it out for ever.

سورة الصَّف حاشیہ نمبر :12 یہ بات نگاہ میں رہے کہ یہ آیات 3 ہجری میں جنگ احد کے بعد نازل ہوئی تھیں جبکہ اسلام صرف شہر مدینہ تک محدود تھا ، مسلمانوں کی تعداد چند ہزار سے زیادہ نہ تھی ، اور سارا عرب اس دین کو مٹا دینے پر تلا ہوا تھا ۔ احد کے معرکے میں جو زک مسلمانوں کو پہنچی تھی ، اس کی وجہ سے ان کی ہوا اکھڑ گئی تھی ، اور گرد و پیش کے قبائل ان پر شیر ہو گئے تھے ۔ ان حالات میں فرمایا گیا کہ اللہ کا یہ نور کسی کے بجھائے بجھ نہ سکے گا بلکہ پوری طرح روشن ہو کر اور دنیا بھر میں پھیل کر رہے گا ۔ یہ ایک صریح پیشن گوئی ہے جو حرف بحرف صحیح ثابت ہوئی ۔ اللہ کے سوا اس وقت اور کون یہ جان سکتا تھا کہ اسلام کا مستقبل کیا ہے ؟ انسانی نگاہیں تو اس وقت یہ دیکھ رہی تھیں کہ یہ ایک ٹمٹماتا ہوا چراغ ہے جسے بجھا دینے کے لیے بڑے زور کی آندھیاں چل رہی ہیں ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(61:8) یریدون ۔۔ بافواہہم۔ یہ جملہ ان کے افتراء کی غرض وغایت بیان کرتا ہے۔ یریدون : مضارع جمع مذکر غائب ارادۃ (افعال) مصدر وہ چاہتے ہیں۔ لیطفئوا یہاں ان مقدرہ ہے لام زائدہ تاکید کے لئے آیا ہے۔ کلام یوں ہوگا :۔ یریدون ان یطفئوا : یطفئوا مضارع منصوب (بوجہ عمل ان مقدرہ) جمع مذکر غائب اطفاء (افعال) مصدر۔ کہ وہ بجھا دیں۔ طفئت النار کے معنی آگ بجھ جانے کے ہیں اور اطفا تھا (افعال) کے معنی پھونک سے بجھا دینے کے ہیں۔ ط ب ء مادہ نور اللہ۔ مضاف مجاف الیہ۔ اللہ کا نور۔ اللہ کے دین کی روشنی۔ اللہ کا دین۔ اس سے مراد قرآن مجید اور حضور نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بھی ہوسکتے ہیں۔ بافواہہم۔ ب استعانت کی ہے۔ افواہہم : مضاف مضاف الیہ۔ ان کے منہ بافواھھم۔ اپنے منہ سے (پھونک مار کر) ۔ افواہ فم کی جمع ہے۔ فم اصل میں فوہ تھا ہ کو گرا کر واؤ کو م میں بدل دیا گیا۔ واللہ متم نورہ جملہ حالیہ ہے اللہ مبتدا۔ متم نورہ اس کی خبر۔ متم اسم فاعل واحد مذکر ۔ مضاف۔ اتمام (افعال) مصدر سے ، پورا کرنے والا، کامل کرنے والا۔ نورہ مضاف مضاف الیہ مل کر متم کا مضاف الیہ۔ حال یہ ہے کہ اللہ اپنے نور کو کامل کرنے والا ہے لو : خواہ۔ لو متصلہ ہے۔ یعنی کافروں کی خوشی ہو یا نہ ہو دونوں برابر ہیں۔ کرۃ : ماضی واحد مذکر غائب کراھۃ (باب سمع) مصدر۔ ناپسند کرنا۔ برا جاننا۔ نفرت کرنا (منکرین پڑے برا مانا کریں۔ خواہ کافر اس کو سخت ناپسند کریں)

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 2 یعنی جھوٹی باتیں بنا کر یا طعن وتشنیع کر کے قرآن یا اسلام کو بےاعتبار کردیں تاکہ لوگ مسلمان نہ ہوں۔3 یعنی کافر اس نور … دین اسلام … کو مٹانے اور اس کا راستہ روکنے کے لئے چاہے کتنا ہی زور صرف کر ڈالیں اللہ تعالیٰ اسے پوری طرح غالب کر یک رہے گا۔

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

یریدون ................ الکفرون (١٦ : ٨) ” یہ لوگ اپنے منہ کی پھونکوں سے اللہ کے نور کو بجھانا چاہتے ہیں ، اور اللہ کا فیصلہ یہ ہے کہ وہ اپنے نور کو پھیلا کر رہے گا خواہ کافروں کو یہ کتنا ہی ناگوار ہو “۔ قرآن کی یہ آیت اس عظیم حقیقت کا اظہار کررہی ہے۔ اور اس حقیقت کو ایک ایسی تصویر انداز میں پیش کیا گیا جس سے انسانکو ان لوگوں کی حالت پر بےاختیار ہنسی آتی ہے وہ اپنے منہ سے یہ الزام لگاتے تھے کہ یہ کھلاجادو ہے ، اور اس کے خلاف یہ سازشیں کرتے تھے اور خفیہ منصوبے بنا کر اسے ختم کرنا چاہتے تھے اور اس جدید دین کا قصہ ہی تمام کرنا چاہتے تھے ، اس لئے اللہ نے ان کے منصوبوں کے مقابلے میں ان کی یہ مایوس کن تصویر کھینچی کہ وہ اللہ کے نور کو اپنے منہ کی پھونکوں سے بجھانا چاہتے ہیں۔ اللہ کا نور اور یہ ضعیف اور حقیر ! ! واللہ .................... الکفرون (١٦ : ٨) ؟ ؟ اور اللہ اپنے نور کو پوری طرح پھیلا کررہے گا ، اگر یہ کافروں کو کتنا ہی ناگوار گزرے “۔ اللہ کا وعدہ سچا ہوا۔ اللہ نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی زندگی میں اپنے نور کو پوری طرح پھیلادیا۔ اس نے ایک اسلامی جماعت ، نہایت ہی زندہ وتابندہ اسلامی جماعت کھڑی کردی۔ اور اسے اسلامی نظام زندگی نہایت ہی واضح نشانات کے ساتھ دیا۔ اور اس کے حدود اور قیود متعین کیے۔ نسلوں تک یہ نظریہ لوگوں کی عملی زندگی میں زندہ اور متحرک رہا ، صرف کتابوں میں نہیں ، اللہ نے اسے عالم واقعہ میں غالب کیا۔ اللہ پاک نے اس نور کو مکمل کیا ، مسلمانوں کا دین مکمل ہوا ، مسلمانوں پر اپنی نعمتوں کو تمام کیا۔ اور ان کے لئے دین اسلام کو پسند کیا۔ ان کے لئے اس دین کو محبوب بنادیا ، وہ اس کے لئے لڑتے رہے ، حالت یوں ہوگئی کہ اگر کسی مسلمان کو آگ میں ڈال دیاجائے تو وہ اسے پسند کرے گا مگر کفر کی طرف لوٹنا پسند نہ کرتا تھا۔ چناچہ دین کی صورت لوگوں کے دلوں میں مکمل ہوگئی۔ اور آپ کے بعد بھی یہ صورت حال کبھی کبھی پیدا ہوتی رہی ہے اور قائم رہی ہے۔ باوجود کہ اس کے کہ ہر طرف سے مسلمانوں کے خلاف سازشیں ، حملے اور پکڑ دھکڑ شروع ہے۔ باوجود ہر طرف کے حملوں کے اسلام ہر کربلا کے بعد زندہ ہوتا ہے اس لئے کہ اسلام اللہ کا نور ہے اور اللہ کے نور کو انسانی کوششیں ختم نہیں کرسکتیں۔ نہ آگ اور لوہا اس کو ختم کرسکتا ہے۔ اگرچہ عالم اسلام کے مصنوعی لیڈر جو یہودیہوں اور نصرانیوں کے خود ساختہ لیڈر ہیں۔ بعض اوقات یہ سمجھتے ہیں کہ ہم نے اسلام کو ختم کردیا ہے اور اس کا نور بجھا دیا ہے۔ جیسا کہ اوپر کہا گیا اللہ کا فیصلہ یہ تھا کہ نور خدا پھیل جائے اور دین غالب ہو۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

6:۔ ” یریدون “ یہ لوگ اپنے مونہوں کی پھونکوں سے اللہ کے نور (دین حق) کو بجھانا چاہتے ہیں اور اللہ تعالیٰ اپنے اس نور اور دین حق کو عروج پر پہنچانا چاہتا ہے اگرچہ کافر اس بات کو ناپسند کریں۔ اسلام کے خلاف مشرکین کے تمام حربوں اور منصوبوں کو پھونکوں سے تعبیر کیا گیا ہے جس طرح سورج کی روشنی پھونکوں سے نہیں بجھ سکتی، اسی طرح مشرکین کی ان تمام تدبیروں سے اسلام نہیں مٹ سکتا۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(8) یہ دین حق کے منکر یہ چاہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے نور اور اس کی روشنی کو اپنے منھوں سے بجھا دیں اور اس روشنی کو اپنے منھوں سے پھونک کر ختم کردیں اور بجھادیں۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ اپنے نور اور اپنی روشنی کو پورا کرنے والا ہے اگرچہ منکر کتنا ہی برا مانیں۔ اللہ تعالیٰ کا نور یعنی پیغمبر اور اس کے دین کی روشنی جس سے کفر کی تاریکی اور کفر کا اندھیرا کم ہورہا ہے منکر یہ چاہتے ہیں کہ اس روشنی کو پھونک مار مار کر گل کردیں اور بجھادیں حالانکہ اللہ تعالیٰ اپنے نور کو پورا کرکے ہی رہے گا اور اس کی روشنی تمام اقوام عالم میں پہنچ کررہے گی اگرچہ دین حق کے منکر برامانا کریں۔ کہتے ہیں ایک دفعہ کئی دن رسول خدا (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر وحی نازل نہ ہوئی تو کعب بن اشرف جو بڑا متعصب یہودی تھا اس نے یہود سے کہا خدا نے محمد کا نور بجھادیا اس پر یہ آیت نازل ہوئی اس میں کفار کی عام خواہش کا اظہار فرما کر اس کا رد کیا گیا ہے۔