تعارف سورة الجمعہ سورة نمبر 62 کل رکوع 2 آیات 11 الفاظ و کلمات 176 حروف 787 مقام نزول مدینہ منورہ ایک مرتبہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جمعہ کا خطبہ ارشاد فرما رہے تھے اسی دوران لوگوں کو معلوم ہوا کہ ایک تجارتی قافلہ مدینہ منورہ پہنچ گیا ہے ۔ اگر انہوں نے دیر کی تو باقی لوگ اس قافلے کا مال تجارت لے جائیں گے وہ سب سے سب اس تجارتی قافلے کی طرف دوڑ کر پہنچ گئے سوائے بارہ صحابہ (رض) کے باقی سب نے خطبہ چھوڑ دیا اور اس مشغولیت میں لگ گئے ۔ چونکہ ابتداء میں لوگوں کو جمعہ کی اس عظمت کا اندازہ نہیں ہوگا اس لئے ایسا ہوا۔ جب قرآن کریم میں جمعہ کی عظمت کا حکم دیا گیا تو پھر کبھی کوئی ایسا واقعہ پیش نہیں آیا۔ اس سورة میں دو رکوع ہے پہلے رکوع کے بعد دوسرا رکوع کافی عرصہ بعد نازل ہوا۔ خلاصہ یہ ہے۔ ٭دین اسلام کی تبلیغ اور دعوت کو روکنے کی یہودی سازشیں اس وقت بہت کمزور پڑگئیں جب ہر طرف سے یہودیوں اور کفار قریش کو شکست اور اہل ایمان کو فتح و نصرت حاصل ہوتی چلی گئی۔ بنو نضیر اور بنو قریضہ کی جلاوطنی اور بنو قینقاع کی ذلت و رسوائی، قریش مکہ اور تمام قبائل عرب کی غزوہ خندق میں شکست فاش، معمولی سی جدوجہد کے بعد وادی القری، فدک، تیما اور خیبر کی فتح، فوج در فوج قبیلوں، خاندانوں اور لوگوں کا اسلام قبول کرنا وغیرہ یہ سب وہ باتیں تھیں جنہوں نے ان یہودیوں کو جو اپنے آپ کو اہل علم اور اہل عرب کو امی یعنی جاہل، ان پڑھی اور غرور وتکبر کا جواب دیتے ہوئے فرمایا کہ عرب کے وہ لوگ جو امی سمجھے جاتے تھے اللہ نے ان ہی میں سے ایک ایسے عظیم رسول کو اٹھایا ہے جو ان کو اللہ کی آیات سنا کر سمجھا رہے ہیں۔ دلوں کو مانجھ کر اور تزکیہ کرکے علم و حکمت کی باتیں سکھا رہے ہیں اور وہ لوگ جو صدیوں سے گمراہی اور جہالت کے اندھیروں میں بھٹک رہے تھے ان کو راہ ہدایت دکھا رہے ہیں۔ فرمایا کہ یہ سب کچھ اللہ کا فضل و کرم ہے وہ جس پر چاہتا ہے رحمتیں نازل فرما دیتا ہے۔ فرمایا کہ وہ لوگ جن کا یہ گمان ہے کہ ساری دنیا میں وہی پڑھے لکھے ہیں ان کا یہ حال ہے کہ ان کی ہدایت کے لئے اللہ نے توریت جیسی روشن کتاب عطا کی تھی تاکہ وہ اس کو سمجھ کر عمل کرتے مگر انہوں نے اپنی کتاب پر عمل کرنے کے بجائے اسے اپنے اوپر لاد رکھا ہے جس طرح گدھے پر بہت سے کتابیں لاد دی جائیں تو اسے یہ معلوم نہیں ہوتا کہ اس پر جو کتابیں لاد دی گئی ہیں وہ کس قسم کا بوجھ ہے، ان کتابوں میں کیا لکھا گیا ہے۔ فرمایا کہ گدھے سے بدتر تمہاری حالت کی وجہ یہ ہے کہ اس کتاب پر عمل کرنے کے بجائے تم نے یہ سمجھ لیا ہے کہ تم اللہ کی محبوب اور ایسے چہیتے ہو کہ اس نے جنت تمہارے نام الاٹ کردی ہے بس ادھر تم مرو گے اور ادھر جنت خود تمہارے استقبال کے لئے حاضر ہوجائے گی۔ (نعوذ باللہ) اللہ تعالیٰ نے طنز کرتے ہوئے فرمایا کہ اگر تم سمجھتے ہو کہ تم معمولی سی تکلیف کے بعد سیدھے جنت میں جائوگے تو پھر تم دنیا کی تکلیفیں کیوں اٹھا رہے ہو ؟ مرو اور سیدھے جنت میں پہنچ جائو۔ تم جنت کی راحتوں کو چھوڑ کر دنیا میں جینے کی تمنا کیوں کرتے ہو ؟ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! یہ کبھی موت کی تمنا نہ کریں گے کیونکہ انہیں معلوم ہے کہ انہوں نے اپنے آگے کیا کیا عمل اور کرتوت بھیجے ہیں۔ اگر انہیں جنت کا ایسا ہی یقین ہوتا تو دنیا میں ایک ایک ہزار سال تک جینے کی تمنا نہ کرتے۔ فرمایا کہ ان کو ” یوم السبت “ ہفتہ کا دن دیا گیا تھا مگر انہوں نے اس کو بھی اپنی رسموں اور تمناؤں کو بھینٹ چڑھا دیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کو ” یوم الجمعہ “ جمعہ کا دن عطا فرمایا ہے۔ یہ دن اہل ایمان کو یہ سمجھا رہا ہے کہ وہ اس یوم الجمعہ کو اسی طرح بےحقیقت نہ بنا دیں جس طرح یہودیوں نے یوم السبت کا حشر کیا ہے۔ فرمایا کہ اے مومنو ! تمہیں جمعہ کے دن جیسے ہی آواز دی جائے (اذان دی جائے) تم اپنا تمام کاروبار اور مشغولیات کو چھوڑ کر تیزی سے اللہ کے ذکر کی طرف دوڑ کر ذوق و شوق سے مسجدوں کی طرف آئو۔ اللہ نے اسی تمہارے لئے خیر و فلاح رکھ دی ہے۔ نماز سے فارغ ہو کر زمین میں پھیل جائو اور اللہ کا ذکر کرتے ہوئے اسے یاد کرتے ہوئے اپنا رزق تلاش کرو شاید تمہیں فلاح و کامیابی عطا کردی جائے۔ البتہ اس بات کا پوری طرح لحاظ رکھا جائے کہ کھیل تماشے اور دنیا کا لالچ تمہیں اس طرح اپنی طرف نہ کھینچ لیں کہ نبی اللہ کی طرف بلا رہے ہیں اور تم ان کو چھوڑ کر کھیل تماشے اور مال تجارت لینے کے لئے دوڑ جائو۔ فرمایا کہ یاد رکھو ! ان کھیل تماشوں اور تجارت سے بڑھ کر وہ رزق ہے جو اللہ نے تمہارے نیک اعمال کے بدلے عطا کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ بہترین رزق تو اللہ کے پاس ہے وہی سب کو بہترین رزق عطا فرمانے والا ہے۔
سورة الجمعہ کا تعارف سورت الجمعہ ہجرت مدینہ کے ساتویں سال نازل ہوئی گیارہ آیات اور دو رکوع پر مشتمل ہے۔ یہ سورة اس بات کی اطلاع دیتی ہے کہ زمین و آسمانوں کی ہر چیز اللہ تعالیٰ کی تسبیح بیان کرتی ہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ پوری کائنات کا بادشاہ، بڑا پاک اور ہر اعتبار سے غالب ہے، اس کے ہر حکم اور کام میں حکمت پائی جاتی ہے یہ اس کی حکمت کا تقاضا ہے کہ اس نے ان پڑھ قوم میں ایسا رسول بھیجا جو ان کے سامنے اس کی آیات کی تلاوت کرتا ہے، ان کے فکرو عمل کو پاکیزہ بناتا ہے، انہیں کتاب و حکمت کی تعلیم دیتا ہے۔ رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی تشریف آوری سے پہلے لوگ کھلی گمراہی میں مبتلا تھے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان لوگوں کے لیے بھی رسول ہیں جو ابھی تک مسلمان نہیں ہوئے یا جو بعد میں آنے والے ہیں۔ اللہ تعالیٰ جس پر چاہتا ہے اپنا فضل نازل فرماتا ہے اور وہ بڑا ہی فضل فرمانے والا ہے۔ یہاں فضل کا پہلا معنٰی نبوت ہے یہودیوں کا یہ عقیدہ ہے کہ ہماری نسل سے باہر کوئی رسول نہیں ہوسکتا اس لیے وہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اور نبی آخرالزماں (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نبوت کا انکار کرتے ہیں اور اس کے لیے تورات سے من گھڑت دلائل پیش کرتے ہیں حالانکہ تورات میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی تشریف آوری کی شہادت موجود ہے۔ لیکن یہودیوں نے تعصب میں آکر اصل تورات کو فراموش کر رکھا ہے اس لیے ان کے بارے میں ارشاد ہوا کہ جن لوگوں کو تورات دی گئی ہے ان کی مثال گدھے جیسی ہے جس پر کتابیں رکھ دی گئی ہوں۔ گدھے کو کیا خبر کہ مجھ پر کتنی مفید اور مقدس چیز رکھی گئی ہے۔ یہودیوں کا یہ دعوٰی بھی جھوٹا ہے کہ وہ اللہ کے چہیتے اور مقرب ہیں جس وجہ سے اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے جنت واجب کردی ہے۔ انہیں چیلنج دیا گیا ہے کہ اگر تم واقعی ہی اللہ کے محب اور محبوب ہو تو پھر تمہیں موت کی تمنا کرنی چاہیے لیکن یہودی ایسی قوم ہے جو سب سے زیادہ موت سے ڈرنے والی ہے یہی وجہ ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے دور اور اس کے بعد شاید ہی کوئی موقعہ ہو کہ یہودی کسی جنگ میں ہر اول دستے کے طور پر لڑے ہوں۔ یہودی ہر قسم کی ذلّت قبول کرلیتے ہیں مگر براہ راست جنگ کرنے کے لیے تیار نہیں ہوتے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے کہ یہ لوگ کبھی بھی موت کی تمنا نہیں کرسکتے حالانکہ موت ایسی حقیقت ہے کہ اس سے کوئی شخص چھٹکارا نہیں پاسکتا۔ اس لیے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے یہ بات کہلوائی گئی کہ یہودیوں سے فرمائیں کہ جس موت سے تم بھاگتے ہو وہ ہر صورت میں تمہیں اور کسی کو آلے گی پھر تم اس ذات کے سامنے کھڑے کیے جاؤ گے جو ہر قسم کے غائب اور ظاہر کو جانتا ہے وہ تمہیں بتلائے گا کہ تم دنیا میں رہ کر کیا کرتے تھے۔ سورت کے آخر میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ یہودیوں کو عبادت کے لیے ہفتہ کا دن دیا گیا تھا مگر انہوں نے اس کی پروا نہیں کی اے مسلمانوں تمہیں جمعہ کے دن کے بارے میں کسی قسم کی غفلت کا مظاہرہ نہیں کرنا چاہیے۔ رزق دینے والا ” اللہ “ ہے اور وہ بہترین رزق دینے والا ہے اس کی تفصیل آیت نمبر ٩ میں بیان کردی گئی ہے۔
سورة الجمعۃ ایک نظر میں ے یہ سورت ، سورة الصف کے بعد نازل ہوئی۔ موضوع اور محور وہی ہے جو سورة صف کا ہے۔ البتہ یہ اس موضوع کو ایک نئے پہلو اور ایک نئے انداز میں لے رہی ہے۔ اور اس میں بالکل جدید دلائل دیئے گئے۔ یہ سورت مدینہ کی جماعت مسلمہ کے ذہن میں یہ بات بٹھاتی ہے کہ دعوت اسلامی کو پھیلانے کے لئے اللہ نے جس جماعت کا انتخاب کیا ہے ، یہ آخری جماعت ہے۔ اور یہ اس کے لئے یہ بہت بڑا اعزاز ہے۔ اور اس پر خدا کا بہت بڑا فضل ہے کہ خاتم الانبیاء کو یہ خاتم الامم امت دی گی ۔ پھر نبی آخر الزمان ، خاتم الانبیاء کا ، ایک امی امت عربوں کے اندر بھیجا جانا ، اللہ کا بہت بڑا کرم ہے اور اس کی قدر کرنی چاہئے۔ پھر جب لوگوں کو اللہ نے یہ توفیق دی کہ وہ رسول کریم کی دعوت کو قبلو کریں ، تو ان کو چاہئے کہ وہ اس امانت کو اٹھائیں اور اس کی ذمہ داریاں پوری کریں۔ اور یہ احساس بھی کرنا چاہئے کہ ان کی ایک تاریخ ہے۔ اللہ تعالیٰ کی منشا یہ ہے کہ یہ بیج جو یہاں بویا گیا ہے ، یہ بڑھ جائے اور دور تک پھیل جائے۔ جبکہ بنی اسرائیل جو اہل کتاب اور تعلیم یافتہ تھے ، انہوں نے اس امانت کو اٹھانے سے انکار کردیا ہے اور انہوں نے ایک طویل عرصہ تک عالم بالا سے تعلق رکھنے کے باوجود ، اب اس تعلق کو توڑ دیا ہے۔ اور ان کی مثال یوں ہے کہ تورات کو اٹھائے پھرتے ہیں لیکن اس طرح جس طرح گدھے پر کتابیں لاد دی جائیں۔ وہ تورات کی تعلیمات کو سمجھتے ہیں اور نہ ان پر عمل کرتے ہیں۔ یہ ہے وہ اصل موضع اور محور جو اس سورت میں لیا گیا ہے۔ اور یہ ہیں وہ باتیں جو اس سورت کے ذریعہ ، مسلمانوں کے دلوں میں بٹھانے کی سعی کی گئی ہے۔ خصوصاً وہ لوگ جو اس وقت مدینہ طیبہ میں موجود تھے۔ اور یہ وہ لوگ تھے جن کو یہ ڈیوٹی دی گئی تھی کہ تم نے اسلامی نظام حیات کو مدینہ میں عملاً برپا کرنا ہے اور ان تحریکات کی طرف بھی اس میں اشارہ کیا گیا جو مدینہ کی جماعت کے بعد یہ ذمہ داری قبول کریں گی ، وہ بھی اسی سلسلے کی کڑی ہوں گی۔ اس سورت میں مدینہ کی جماعت مسلمہ کے بعض عملی حالات کو بھی گیا گیا ہے اور عملی ہدایات دی گئی ہیں۔ خصوصاً جماعت کی نفسیاتی تربیت کے سلسلے میں ، اس سے بعض دینی اور اختلافی کمزوریاں دور کرنا بھی مطلوب تھیں۔ کسی جماعت کی ذہنی اور نفسیاتی تطہیر کوئی آسان کام نہیں ہے۔ جذبات ، میلانات ، رکاوٹیں ، لالچ ، دنیاوی مفادات ، عرب کلچر کی موروثی عادات ، اور رسم و رواج ، خصوصا دولت سمیٹنے کی عادات اور وہ تمام باتیں جو اس عظیم مشن اور عظیم بار امانت اٹھانے کی راہ میں حائل تھیں۔ ان کو دور کرنا ایک مشکل کام تھا۔ اس سلسلے میں ایک متعین واقعہ کی طرف بھی اشارہ کیا گیا ہے کہ حضور اکرم صلی للہ علیہ وسلم ایک دن خطبہ جمعہ دے رہے تھے کہ تجارتی قافلوں میں سے ایک قافلہ پہنچ گیا۔ جونہی اعلان ہوا کہ فاقلہ آگیا ہے ، لوگ خطبہ جمع چھوڑ کر قافلے پر ٹوٹ پڑے ، اور خریداری کے کام میں لگ گئے۔ خصوصاً فافلوں میں جو لہو ولعب ہوتے ہیں ، ایام جاہلیت کے رواج کے مطابق کہ فاقلوں کے ساتھ دف بجانے والے اور دوسرے گانے بجانے والے بھی ہوتے تھے ، سب لوگ چلے گئے اور رسول اللہ کو کھڑا چھوڑ دیا۔ صرف 12 آدمی رہ گئے ، جن میں حضرت ابوبکر اور حضرت عمر (رض) موجود تھے۔ اور آپ کی باتیں سنتے رہے ، جیسا کہ روایات میں آتا ہے ۔ ہوسکتا ہے کہ لوگوں کی تعداد پوری طرح منضبط نہ کی جاسکی ہو۔ بہرحال لوگوں نے یہ حرکت بہرحال کی ، جس پر قرآن کریم میں تنبیہہ کی گئی۔ اس واقعہ سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ ابتدائی دور میں لوگوں کی تربیت کے رسول اللہ صلی للہ علیہ وسلم اور قرآن کو کس قدر محنت کرنی پڑی اور ان محنتوں کے بعد ہی جاکر وہ لوگ اس مقام تک پہنچے جس تک پہنچے۔ ایک تو یہ حال کہ رسول اللہ صلی للہ علیہ وسلم کو چھوڑ کر چلے جائیں اور ایک یہ کہ پھر وہ تاریخ اسلام کو کیا بلکہ پوری انسانی تاریخ میں ایک منفرد جماعت بن جائیں۔ اس سے ہمیں سبق ملتا ہے کہ اس قسم کی جماعت کی تعمیر وتشکیل کا کام کس قدر دشوار ہے ، جس پر عظیم امانت کے اٹھانے کا دبائو ڈالنا مطلوب ہو ، آئندہ بھی کوئی ایسی جماعت تیار کرنا چاہے ، اور اسلامی نظام زندگی کو عملاً برپا کرنے کا مقصد اس کے پیش نظر ہو تو اسے انہی خطوط پر تربیتی جدوجہد کرنی ہوگی۔ اس سورت میں یہودیوں کو ایک چیلنج بھی دیا گیا ہے ، کہ آئو موت کی تمنا کریں اس شخص کے لئے یا اس گروہ کے لئے جو باطل پر ہو۔ یہ اس لئے کہ ان کا دعویٰ تھا کہ وہ تمام لوگوں کے مقابلے میں اللہ کے زیادہ محبوب اور دوست ہیں ، اور یہ کہ وہ اللہ کی برگزیدہ قوم ہیں ، اور یہ کہ ان کے علاوہ کسی قوم میں کوئی رسول کس طرح آسکتا ہے۔ یہ اس قسم کے لمبے چوڑے دعوے کرتے تھے ، قرآن کریم نے اس یقین کا اظہار کیا ہے کہ ان کو اچھی طرح یقین ہے کہ وہ برسر باطل ہیں ، اس لئے وہ ہرگز اس چیلنج کو قبول نہ کرنے کی ہمت نہ کریں گے ، اور بتایا جاتا ہے کہ یہ موت سے بہت بھاگتے ہیں ، لیکن یہ جہاں بھی ہوں ، موت ان تک رسائی حاصل کرے گی اور ان کو میدان حشر میں اٹھایا جائے گا اور وہاں ان کو پورا پورا اعمال نامہ بتادیا جائے گا کہ یہ کیا کرتے رہے ہیں۔ یہ بات اگرچہ یہودیوں کو خطاب کرکے کہی گئی ہے لیکن اشارہ مومنین کے لئے بھی یہی ہے کہ وہ بھی ایسے نہ بن جائیں ، جو لوگ اس دنیا میں دعوت دین کی امانت کے حامل بنا دیئے گئے ہی ، ان کو چاہئے کہ وہ اس سلسلے میں اپنے فرائض ادا کریں ، اگرچہ ان کی جان بھی اس راہ میں چلی جائے۔ یہ ہے اصل تجارت کہ کوئی اس منزل کی راہ ورسم سے واقف ہو۔ اور تجارت کا یہ مضمون سورة صف کے مضمون سے ملتا ہے۔ وہاں تجارت بتا دی گئی ہے جو ایک مسلمان نے کرنی ہے ، اور یہاں وہ تجارت بتائی گئی ہے ، جس سے دور بھاگنا ہے ۔ دونوں جگہ تجارت کے الگ الگ پہلو ہیں۔ قرآن کا اسلوب دونوں جگہ ایک ہے جو تاثرات دینے میں دونوں جگہ الگ ہیں۔ اگرچہ مقصد ایک ہے۔ دونوں سورتیں ایک ہی سمت میں آگے بڑھ رہی ہیں۔ ذرا تفصیلات دیکھئے !