هُمُ الَّذِينَ يَقُولُونَ لَا تُنفِقُوا عَلَىٰ مَنْ عِندَ رَسُولِ اللَّـهِ حَتَّىٰ يَنفَضُّوا (They are the ones who say, “ Do not spend on those who are with Allah’ s Messenger, so that they disperse…63:7). This verse points out to the foolish statement that Ibn Ubayy had made at the time of the dispute between Jahjah, the Emigrant, and Sinan, the Helper. Allah Ta’ ala has responded to it that these foolish people have presumed that the Emigrants need their donations and they are their sustainers, while all treasures of heavens and the earth belong to Allah. If He will, He can provide to them everything without any contribution from their side. Since the statement made by Ibn Ubayy was an evidence of his foolishness, the Holy Qur’ an states لَا یَفقَھونَ “…but the hypocrites do not understand [ 7].”
(آیت) هُمُ الَّذِيْنَ يَقُوْلُوْنَ لَا تُنْفِقُوْا عَلٰي مَنْ عِنْدَ رَسُوْلِ اللّٰهِ حَتّٰى يَنْفَضُّوْا، یہ وہی قول ہے جو جہجاہ مہاجر اور سنان انصاری کے جھگڑے کے وقت ابن ابی نے کہا تھا، جس کا جواب اللہ تعالیٰ نے یہ دے دیا کہ یہ بیوقوف یوں سمجھ رہے ہیں کہ مہاجرین ہماری داد و دہش کے محتاج ہیں ہم ہی ان کو دیتے ہیں حالانکہ تمام آسمان و زمین کے خزانے تو اللہ کے ہاتھ میں ہیں وہ چاہیں تو مہاجرین کو تمہاری کسی امداد کے بغیر سب کچھ دے سکتے ہیں، اس کا ایسا سمجھنا چونکہ بےعقلی اور بیوقوفی کی دلیل ہے اس لئے قرآن حکیم نے اس جگہ لایفقمون کا لفظ اختیار فرما کر بتلا دیا کہ ایسا خیال کرنے والا بےعقل و بےسمجھ ہیں۔