Surat ut Taghabunn

Surah: 64

Verse: 13

سورة التغابن

اَللّٰہُ لَاۤ اِلٰہَ اِلَّا ہُوَ ؕ وَ عَلَی اللّٰہِ فَلۡیَتَوَکَّلِ الۡمُؤۡمِنُوۡنَ ﴿۱۳﴾

Allah - there is no deity except Him. And upon Allah let the believers rely.

اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں اور مومنوں کو اللہ ہی پر توکل رکھنا چاہیئے ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

Allah! La ilaha illa Huwa. And in Allah therefore let the believers put their trust. So, He first informs about Tawhid and its meaning. The implied meaning is to single Him out for deification, being purely devoted to Him, and relying upon Him, as He said; رَّبُّ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ لاَ إِلَـهَ إِلاَّ هُوَ فَاتَّخِذْهُ وَكِيلً The Lord of the east and the west; La ilaha illa Huwa. So take Him alone as Trustee. (73:9)

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

13۔ 1 یعنی تمام معاملات اسی کو سونپیں، اسی پر اعتماد کریں اور صرف اسی سے دعا والتجا کریں کیونکہ اس کے سوا کوئی حاجت روا اور مشکل کشا ہے ہی نہیں۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٢٠] توکل اللہ پر ہی کیوں ؟ اس کائنات میں تصرفات کا اختیار صرف اللہ کو ہے اور پورے کا پورا اختیار اسی کو ہے۔ دوسرا کوئی اس اختیار میں اللہ تعالیٰ کا شریک نہیں ہوسکتا۔ لہذا اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لانے کا ایک لازمی نتیجہ یہ بھی نکلتا ہے کہ صرف اس اللہ پر بھروسہ کیا جائے جس کے قبضہ قدرت میں جملہ اختیارات ہیں۔ ہر طرح کے ظاہری اور باطنی اسباب پر اسی کا کنٹرول ہے۔ جو شخص اللہ تعالیٰ کی اس صفت پر دل سے یقین رکھتا ہے اس کے لئے یہ ممکن ہی نہیں رہتا کہ وہ اس کا در چھوڑ کر کسی دوسرے کے دروازے پر جائے۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

اَﷲُ لَآ اِلٰـہَ اِلاَّ ھُوَط وَعَلَی اللہ ِ ۔۔۔۔: یعنی جس طرح تقدیر اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے اور جو بھی مصیبت یا راحت ہے اسی کے حکم سے آتی ہے ، اسی طرح یاد رکھو کہ اللہ تعالیٰ ہی وہ ہستی ہے جو ہر عبادت کی مستحق ہے ، اسکے سوا کوئی معبود نہیں ، اس لیے رنج ہو یا راحت ہر حال میں اسی کو پکارو اور اسی پر توکل رکھو ، کیونکہ پکارنا بھی عبادت ہے اور توکل بھی عبادت ہے اور جو اللہ پر ایمان رکھتا ہو اس کے پاس اس اکیلے پر بھروسہ کرنے کے سوا کوئی راستہ نہیں ، کیونکہ کسی دوسرے کے ہاتھ میں رنج یا راحت میں سے کچھ سے ہی نہیں کہ اس پر بھروسہ کیا جاسکے۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

اَللہُ لَآ اِلٰہَ اِلَّا ہُوَ۝ ٠ ۭ وَعَلَي اللہِ فَلْيَتَوَكَّلِ الْمُؤْمِنُوْنَ۝ ١٣ وكل والتَّوَكُّلُ يقال علی وجهين، يقال : تَوَكَّلْتُ لفلان بمعنی: تولّيت له، ويقال : وَكَّلْتُهُ فَتَوَكَّلَ لي، وتَوَكَّلْتُ عليه بمعنی: اعتمدته قال عزّ وجلّ : فَلْيَتَوَكَّلِ الْمُؤْمِنُونَ [ التوبة/ 51] ( و ک ل) التوکل ( تفعل ) اس کا استعمال دو طرح ہوتا ہے ۔ اول ( صلہ لام کے ساتھ ) توکلت لفلان یعنی میں فلاں کی ذمہ داری لیتا ہوں چناچہ وکلتہ فتوکل لی کے معنی ہیں میں نے اسے وکیل مقرر کیا تو اس نے میری طرف سے ذمہ داری قبول کرلی ۔ ( علیٰ کے ساتھ ) توکلت علیہ کے معنی کسی پر بھروسہ کرنے کے ہیں ۔ چناچہ قرآن میں ہے ۔ فَلْيَتَوَكَّلِ الْمُؤْمِنُونَ [ التوبة/ 51] اور خدا ہی پر مومنوں کو بھروسہ رکھنا چاہئے ۔ أیمان يستعمل اسما للشریعة التي جاء بها محمّد عليه الصلاة والسلام، وعلی ذلك : الَّذِينَ آمَنُوا وَالَّذِينَ هادُوا وَالصَّابِئُونَ [ المائدة/ 69] ، ويوصف به كلّ من دخل في شریعته مقرّا بالله وبنبوته . قيل : وعلی هذا قال تعالی: وَما يُؤْمِنُ أَكْثَرُهُمْ بِاللَّهِ إِلَّا وَهُمْ مُشْرِكُونَ [يوسف/ 106] . وتارة يستعمل علی سبیل المدح، ويراد به إذعان النفس للحق علی سبیل التصدیق، وذلک باجتماع ثلاثة أشياء : تحقیق بالقلب، وإقرار باللسان، وعمل بحسب ذلک بالجوارح، وعلی هذا قوله تعالی: وَالَّذِينَ آمَنُوا بِاللَّهِ وَرُسُلِهِ أُولئِكَ هُمُ الصِّدِّيقُونَ [ الحدید/ 19] . ( ا م ن ) الایمان کے ایک معنی شریعت محمدی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے آتے ہیں ۔ چناچہ آیت کریمہ :۔ { وَالَّذِينَ هَادُوا وَالنَّصَارَى وَالصَّابِئِينَ } ( سورة البقرة 62) اور جو لوگ مسلمان ہیں یا یہودی یا عیسائی یا ستارہ پرست۔ اور ایمان کے ساتھ ہر وہ شخص متصف ہوسکتا ہے جو تو حید کا اقرار کر کے شریعت محمدی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میں داخل ہوجائے اور بعض نے آیت { وَمَا يُؤْمِنُ أَكْثَرُهُمْ بِاللهِ إِلَّا وَهُمْ مُشْرِكُونَ } ( سورة يوسف 106) ۔ اور ان میں سے اکثر خدا پر ایمان نہیں رکھتے مگر ( اس کے ساتھ ) شرک کرتے ہیں (12 ۔ 102) کو بھی اسی معنی پر محمول کیا ہے ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

اور اللہ تعالیٰ وحدہ لاشریک ہے مومنین کو اسی پر بھروسا کرنا چاہیے۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ١٣{ اَللّٰہُ لَآ اِلٰـہَ اِلاَّ ہُوَط وَعَلَی اللّٰہِ فَلْیَتَوَکَّلِ الْمُؤْمِنُوْنَ ۔ } ” اللہ وہ ہے کہ اس کے سوا کوئی الٰہ نہیں۔ پس اہل ایمان کو اللہ ہی پر توکل کرنا چاہیے۔ “ اے اہل ایمان ! اگر تم واقعی اللہ پر ایمان رکھتے ہو تو تمہیں یقین ہونا چاہیے کہ اللہ کی مرضی کے بغیر ایک ذرہ بھی حرکت نہیں کرسکتا۔ تمہیں معلوم ہونا چاہیے کہ تمہارے کرنے سے کچھ نہیں ہوگا ‘ جو کچھ بھی ہوگا وہ اللہ کی مشیت اور مرضی سے ہوگا ۔ تمہارا کام صرف یہ ہے کہ محنت کرو اور اس کا نتیجہ اللہ پر چھوڑ دو ۔ اگر تم کوئی کام کرنے کی استطاعت بھی رکھتے ہو ‘ تمہارے پاس تمام وسائل بھی موجود ہیں اور تم حالات کو بھی کلی طور پر سازگار دیکھتے ہو تو بھی کبھی مت کہنا کہ میں یہ کام ضرور کرلوں گا۔ اگر تم ایسا دعویٰ کر بیٹھو گے تو ایمان سے دور ہوجائو گے : { وَلَا تَقُوْلَنَّ لِشَایْئٍ اِنِّیْ فَاعِلٌ ذٰلِکَ غَدًا اِلَّآ اَنْ یَّشَآئَ اللّٰہُ ز } (الکہف) ” اور کسی چیز کے بارے میں کبھی یہ نہ کہا کریں کہ میں یہ کام کل ضرور کروں گا۔ مگر یہ کہ اللہ چاہے ! “ کثرتِ وسائل کے زعم میں فتح کی امید رکھو گے تو وہی حال ہوگا جو لشکر اسلام کا وادی حنین میں ہوا تھا۔ وادی حنین میں دشمن کی تیر اندازی کی وجہ سے اہل ایمان کی صفوں میں ایسی بھگدڑ مچی تھی کہ بارہ ہزار کے لشکر میں سے سید سلیمان ندوی (رح) کی تحقیق کے مطابق تین چار سو اور ان کے استاد مولانا شبلی نعمانی (رح) کے مطابق صرف تیس چالیس لوگ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ کھڑے رہ گئے تھے۔ سورة التوبہ کی آیت ٢٥ میں اس کا سبب بھی بتادیا گیا : { اِذْ اَعْجَبَتْکُمْ کَثْرَتُکُمْ } (التوبۃ : ٢٥) کہ اس دن اہل ِ ایمان میں سے بعض لوگوں کے دلوں میں اپنی کثرت تعداد کا زعم پیدا ہوگیا تھا۔ بہرحال مومنین کو ہر طرح کے حالات میں اللہ پر ہی توکل کرنا چاہیے اور صادق الایمان مومنین ہر حالت میں بلاشبہ اللہ پر ہی توکل کرتے ہیں۔ یہ توکل علی اللہ بھی شجر ایمان کا وہ پھول ہے جو اہل ایمان کے دلوں اور ذہنوں کے اندر کھلتا ہے۔ گویا یہ ایمان کا تیسرا ثمرہ ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس دنیا میں تہذیب و تمدن کی گاڑی کو چلانے کے لیے ” علائق دنیوی “ کے ضمن میں بہت سی فطری محبتیں انسان کے دل میں ڈال دی ہیں۔ واقعہ یہ ہے کہ ان محبتوں میں سب سے زیادہ قوی محبت بیویوں اور اولاد کی محبت ہے۔ اس طبعی محبت کی طرف اگلی آیت میں متنبہ فرمایا گیا کہ اگر اس میں حد اعتدال سے تجاوز ہوجائے تو یہی محبت انسان کے لیے دشمنی کا روپ دھار لے گی۔ لہٰذا اس کے ضمن میں احتیاط کی ضرورت ہے :

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

28 That is, "All Divine powers belong to Allah alone. No one else has any power to make or mar your destiny. He alone cat bring about a good time and He alone can avert a bad time. Therefore, whoever believes sincerely that AIlah is One, has absolutely no other choice than to place his full trust in Him and to continue doing his duty as a believer with the conviction that goodness and well- being only lie in the way that Allah has shown him. If he attains to success in this way, it will only he by Allah's help and leave; there is no other helper. And if he encounters difficulties, hardships, dangers and disasters in this way, Allah alone will rescue him, for there is no other rescuer beside Him."

سورة التَّغَابُن حاشیہ نمبر :28 یعنی خدائی کے سارے اختیارات تنہا اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہیں ۔ کوئی دوسرا سرے سے یہ اختیار رکھتا ہی نہیں ہے کہ تمہاری اچھی یا بری تقدیر بنا سکے ۔ اچھا وقت آ سکتا ہے تو اسی کے لائے آ سکتا ہے ، اور برا وقت ٹل سکتا ہے تو اسی کے ٹالے ٹل سکتا ہے ۔ لہٰذا جو شخص سچے دل سے اللہ کو خدائے واحد مانتا ہو اس کے لیے اس کے سوا سرے سے کوئی راستہ ہی نہیں ہے کہ وہ اللہ پر بھروسہ رکھے اور دنیا میں ایک مومن کی حیثیت سے اپنا فرض اس یقین کے ساتھ انجام دیتا ہے چلا جائے کہ خیر بہر حال اسی راہ میں ہے جس کی طرف اللہ نے رہنمائی فرمائی ہے ۔ اس راہ میں کامیابی نصیب ہو گی تو اللہ ہی کی مدد اور تائید و توفیق سے ہو گی ، کوئی دوسری طاقت مدد کرنے والی نہیں ہے ۔ اور اس راہ میں اگر مشکلات و مصائب اور خطرات و مہالک سے سابقہ پیش آئے گا تو ان سے بھی وہی بچائے گا ، کوئی دوسرا بچانے والا نہیں ہے ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(64:13) اللہ لا الہ الا ھو : یہ جملہ حکم ایمان و اطاعت کی علت ہے۔ (اللہ پر ایمان لاؤ اور اس کی اطاعت کرو اس لئے کہ) وہی اللہ ہے اس کے سوا قابل عبادت کوئی نہیں) ۔ فلیتوکل : امر کا صیغہ مذکر غائب توکل (تفعل) مصدر۔ پس چاہیے کہ بھروسہ کرے (یہاں جمع کے صیغہ کے معنی میں آیا ہے۔ پس چاہیے کہ بھروسہ کریں مومن لوگ۔ علی اللہ کا تعلق فلیتوکل المؤمنون سے ہے۔ تقدیم حصر کا فائدہ دیتی ہے۔ خاص اللہ پر ہی مومن لوگوں کو بھروسہ کرنا چاہے فائدہ : ترمذی اور حاکم نے لکھا ہے کہ حضرت ابن عباس (رض) نے فرمایا :۔ اہل مکہ میں سے کچھ مرد مسلمان ہوگئے اور انہوں نے ہجرت کرنے کا ارادہ کرلیا لیکن ان کے اہل و عیال نے ان کو مکہ چھوڑ کر مدینہ جانے کی اجازت دینے سے انکار کردیا اور کہا کہ ہم نے تمہارے مسلمان ہونے کا صبر کرلیا لیکن اب تمہاری جدائی ہمارے لئے ناقابل برداشت ہے۔ بیوی بچوں کی اس التجاء کو انہوں نے مان لیا اور ہجرت کا ارادہ ترک کردیا۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 6 توکل کے لئے دیکھیے (آل عمران 160)

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

5۔ پس اسی کو معبود سمجھنا چاہئے۔ 6۔ اس میں ایمان کا مضمون جو کہ اوپر مذکور تھا اور صبر کا مضمون جو کہ بعد میں مذکور تھا دونوں آگئے۔

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

اللہ لا .................... المومنون (٤٦ : ٣١) ” اللہ وہ ہے جس کے سوا کوئی خدا نہیں ، لہٰذا ایمان لانے والوں کو اللہ ہی پر بھروسہ رکھنا چاہئے۔ “ توحید کی حقیقت ہی ایمان کی اساس ہے۔ اور اس کا تقاضا یہ ہے کہ انسان کو صرف اللہ پر بھروسہ ہو ، صرف اللہ پر بھروسہ کرنا صحیح عقیدہ توحید کے اثرات میں سے ایک اثر ہے جو دل میں موجود ہوتا ہے۔ اس دعوت ایمان سے آگے پھر اہل ایمان کو خطاب شروع ہوتا ہے۔ گویا یہ آیت پچھلے پیرگراف اور آنے والے کے درمیان پل کا کام دے رہی ہے۔ اب مومنین کو متنبہ کیا جاتا ہے کہ بیویاں ، اولاد اور مال ایک بہت بڑا فتنہ اور آزمائش ہوتے ہیں۔ اور اس آزمائش میں کامیاب وہی ہوسکتا ہے جو خدا کا خوف رکھتا ہو۔ سمع ، طاعت اور انفاق ہی کے ذریعہ انسان ان فتنوں پر قابو پاسکتا ہے اور مومنین کو نفسیاتی کنجوسی سے بھی متنبہ کیا جاتا ہے اور سخاوت اور انفاق کے بدلے میں اجر ، مغفرت اور فلاح اخروی کا وعدہ کیا جاتا ہے۔ آخر میں بتایا جاتا ہے کہ اللہ حاضر وناظر ہے۔ اس کی قدرت غالب ہے۔ اور وہ زبردست حکیم ہے۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

تیسری نصیحت فرماتے ہوئے اول توحید کی تلقین فرمائی اور فرمایا ﴿اَللّٰهُ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ ١ؕ﴾ (اللہ ہے اس کے سوا کوئی معبود نہیں) پھر توکل کا حکم فرمایا۔ ﴿ وَ عَلَى اللّٰهِ فَلْيَتَوَكَّلِ الْمُؤْمِنُوْنَ ٠٠١٣﴾ اور مومنین اللہ ہی پر توکل کریں۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

12:۔ ” اللہ لا الہ الا ھو “ اصل مقصود دعوائے توحید کا اعادہ ہے جس کی خاطر انفاق اور جہاد کے احکام نازل کیے گئے۔ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی الہ اور کارساز نہیں اس لیے مومنوں کو اسی پر بھروسہ کرنا چاہیے، مصائب و بلیات میں اسی سے مدد کی امید رکھنا اور مدد کے لیے صرف اسی کو پکارنا چاہیے یہاں تک مضمون توحید کا بیان تھا۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(13) اللہ تعالیٰ اس بن کسی کی بندگی نہیں اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں اور ایمان والوں کو اللہ تعالیٰ ہی پر بھروسہ رکھنا چاہیے۔ یعنی اللہ تعالیٰ جل شانہ حقیقی معبود ہے اس کے سوا کوئی لائق عبادت نہیں اور اہل ایمان کو اللہ تعالیٰ ہی پر توکل کرنا چاہیے اور اللہ تعالیٰ ہی پر بھروسہ رکھناچاہیے۔