Surat ut Taghabunn

Surah: 64

Verse: 17

سورة التغابن

اِنۡ تُقۡرِضُوا اللّٰہَ قَرۡضًا حَسَنًا یُّضٰعِفۡہُ لَکُمۡ وَ یَغۡفِرۡ لَکُمۡ ؕ وَ اللّٰہُ شَکُوۡرٌ حَلِیۡمٌ ﴿ۙ۱۷﴾

If you loan Allah a goodly loan, He will multiply it for you and forgive you. And Allah is Most Appreciative and Forbearing.

اگر تم اللہ کو اچھا قرض دو گے ( یعنی اس کی راہ میں خرچ کرو گے ) تو وہ اسے بڑھاتا جائے گا اور تمہارے گناہ بھی معاف فرما دے گا اللہ بڑا قدردان بڑا برد بار ہے ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

إِن تُقْرِضُوا اللَّهَ قَرْضًا حَسَنًا يُضَاعِفْهُ لَكُمْ وَيَغْفِرْ لَكُمْ ... If you lend to Allah a handsome loan, He will double it for you, and will forgive you. meaning, whatever you spend, then Allah will replace it, and on Him will be the reward of whatever you give away in charity. Allah considered giving charity as if it is a loan to Him, just as Allah said in a Qudsi Hadith, مَنْ يُقْرِضُ غَيْرَ ظَلُومٍ وَلاَ عَدِيم "Who will give a loan to He Who is neither unjust nor poor" This is why Allah the Exalted said in Surah Al-Baqarah, فَيُضَاعِفَهُ لَهُ أَضْعَافًا كَثِيرَةً So that He may multiply it to him many times. (2:245) Allah said; ... وَيَغْفِرْ لَكُمْ ... and will forgive you. meaning, He will erase your mistakes, ... وَاللَّهُ شَكُورٌ ... And Allah is Shakur, meaning, He gives abundantly in return for what was little, ... حَلِيمٌ Halim, means, He forgives, pardons, covers and absolves the sins, mistakes, errors and shortcomings, عَالِمُ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

17۔ 1 یعنی اخلاص نیت اور طیب نفس کے ساتھ اللہ کی راہ میں خرچ کرو گے۔ 17۔ 2 یعنی کئی کئی گنا بڑھانے کے ساتھ وہ تمہارے گناہ بھی معاف فرما دے گا۔ 17۔ 3 وہ اپنے اطاعت گزاروں کو اجر وثواب سے نوازتا ہے اور گناہ گاروں کی فوری باز پرس نہیں فرماتا۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٢٦] تشریح کے لئے سورة الحدید کی آیت نمبر ١١ کا حاشیہ ملاحظہ فرمائیے۔ [٢٧] قدردانی کی بات یہ ہے کہ اس کے دیئے ہوئے مال میں سے ہی کچھ مال اس کی راہ میں خرچ کرنے پر بھی ثواب عطا فرماتا ہے اور تھوڑے سے عمل پر بہت زیادہ ثواب دیتا ہے اور اس کا تحمل یہ ہے کہ نافرمانی کرنے پر فوراً سزا نہیں دے ڈالتا۔ پھر بہت سے مجرموں کو معاف بھی کردیتا ہے اور بہت سے لوگوں کی سزا میں تخفیف بھی کردیتا ہے۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

١۔ اِنْ تُقْرِضُوا اللہ قَرْضًا حَسَنًا یُّضٰعِفْہُ لَکُمْ وَیَغْفِرْلَکُمْ : اس کی وضاحت کے لیے دیکھئے سورة ٔ بقرہ (٢٤٥) کی تفسیر۔ ٢۔ وَ اللہ ُ شَکُوْرٌ حَلِیْمٌ : اللہ ” شکور “ ( بڑا قدر دان ) ہے کہ تھوڑا سا خرچ کرنے پر اسے بےحساب بڑھاتا ہے اور گناہ بھی بخشتا ہے اور ” حلیم “ ( بےحد بر باد) ہے کہ بڑی بڑی غلطیوں پر بھی فوراً نہیں پکڑتا ، بلکہ مہلت پر مہلت دیتا چلا جاتا ہے۔ اس میں ازواج و اولاد کے ساتھ معاملے میں ’ شکر و حلم “ اختیار کرنے کی طرف بھی اشارہ ہے کہ میاں بیوی اور والدہ اولاد دونوں ایک دوسرے کے معمولی حسن سلوک کی بھی قدر کریں اور ایک دوسرے کی کوتاہیوں پر برد باری سے کام لیں۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

اِنْ تُقْرِضُوا اللہَ قَرْضًا حَسَـنًا يُّضٰعِفْہُ لَكُمْ وَيَغْفِرْ لَكُمْ۝ ٠ ۭ وَاللہُ شَكُوْرٌ حَلِيْمٌ۝ ١٧ ۙ قرض القَرْضُ : ضرب من القطع، وسمّي قطع المکان وتجاوزه قَرْضاً ، كما سمّي قطعا . قال : وَإِذا غَرَبَتْ تَقْرِضُهُمْ ذاتَ الشِّمالِ [ الكهف/ 17] ، أي : تجوزهم وتدعهم إلى أحد الجانبین، وسمّي ما يدفع إلى الإنسان من المال بشرط ردّ بدله قَرْضاً ، قال : مَنْ ذَا الَّذِي يُقْرِضُ اللَّهَ قَرْضاً حَسَناً [ البقرة/ 245] ، وسمّي المفاوضة في الشّعر مُقَارَضَةً ، والقَرِيضُ للشّعر، مستعار استعارة النّسج والحوک . ( ق ر ض ) القرض ( کرتا ) یہ قطع کی ایک قسم ہے پھر جس طرح کسی جگہ سے گزر نے اور تجاوز کر نیکے لئے قطع المکان کا محاورہ استعمال ہوتا ہے اس طرح قرض المکان بھی کہتے بھی ہیں چناچہ قرآن میں ہے : ۔ وَإِذا غَرَبَتْ تَقْرِضُهُمْ ذاتَ الشِّمالِ [ الكهف/ 17] اور جب غروب ہو تو اس سے بائیں طرف کترا جائے ۔ یعنی غروب کے وقت انہیں ایک جانب چھوڑتا ہو اگزر جاتا ہے ۔ اور قرض اس مال کو بھی کہتے ہیں جو کسی کو اس کی ضرورت پوری کرنے کے لئے دیا جائے اس شرط پر کہ وہ واپس مل جائیگا ۔ قرآن میں ہے : ۔ مَنْ ذَا الَّذِي يُقْرِضُ اللَّهَ قَرْضاً حَسَناً [ البقرة/ 245] کوئی ہے خدا کو قرض حسنہ دے ؟ اور شعر گوئی ۔۔۔ کو بھی مقارضۃ کہا جاتا ہے اور شعر کو بطور استعارہ قریض کہا جاتا ہے جس طرح کہ تسبیح اور حو ک کے الفاظ اس معنی میں استعمال ہوتے ہیں ۔ حسن الحُسْنُ : عبارة عن کلّ مبهج مرغوب فيه، وذلک ثلاثة أضرب : مستحسن من جهة العقل . ومستحسن من جهة الهوى. ومستحسن من جهة الحسّ. والحسنةُ يعبّر عنها عن کلّ ما يسرّ من نعمة تنال الإنسان في نفسه وبدنه وأحواله، فقوله تعالی: وَإِنْ تُصِبْهُمْ حَسَنَةٌ يَقُولُوا : هذِهِ مِنْ عِنْدِ اللَّهِ [ النساء/ 78] ( ح س ن ) الحسن ہر خوش کن اور پسندیدہ چیز کو حسن کہا جاتا ہے اس کی تین قسمیں ہیں ۔ ( 1) وہ چیز جو عقل کے اعتبار سے مستحسن ہو ۔ ( 2) وہ جو خواہش نفسانی کی رو سے پسندیدہ ہو ۔ ( 3) صرف نگاہ میں بھی معلوم ہو ۔ الحسنتہ ہر وہ نعمت جو انسان کو اس کے نفس یا بدن یا اس کی کسی حالت میں حاصل ہو کر اس کے لئے مسرت کا سبب بنے حسنتہ کہلاتی ہے اس کی ضد سیئتہ ہے اور یہ دونوں الفاظ مشترکہ کے قبیل سے ہیں اور لفظ حیوان کی طرح مختلف الواع کو شامل ہیں چناچہ آیت کریمہ ۔ وَإِنْ تُصِبْهُمْ حَسَنَةٌ يَقُولُوا : هذِهِ مِنْ عِنْدِ اللَّهِ [ النساء/ 78] اور ان لوگوں کو اگر کوئی فائدہ پہنچتا ہے تو کہتے ہیں کہ یہ خدا کی طرف سے ہے اور اگر کوئی گزند پہنچتا ہے ۔ ضعف ( دوگنا) ضِّعْفُ هو من الألفاظ المتضایفة التي يقتضي وجود أحدهما وجود الآخر، کالنّصف والزّوج، وهو تركّب قدرین متساويين، ويختصّ بالعدد، فإذا قيل : أَضْعَفْتُ الشیءَ ، وضَعَّفْتُهُ ، وضَاعَفْتُهُ : ضممت إليه مثله فصاعدا . قال بعضهم : ضَاعَفْتُ أبلغ من ضَعَّفْتُ «1» ، ولهذا قرأ أكثرهم : يُضاعَفْ لَهَا الْعَذابُ ضِعْفَيْنِ [ الأحزاب/ 30] ، وَإِنْ تَكُ حَسَنَةً يُضاعِفْها[ النساء/ 40] ، وقال : مَنْ جاءَ بِالْحَسَنَةِ فَلَهُ عَشْرُ أَمْثالِها [ الأنعام/ 160] ، والمُضَاعَفَةُ علی قضيّة هذا القول تقتضي أن يكون عشر أمثالها، وقیل : ضَعَفْتُهُ بالتّخفیف ضَعْفاً ، فهو مَضْعُوفٌ ، فَالضَّعْفُ مصدرٌ ، والضِّعْفُ اسمٌ ، کا لثَّنْيِ والثِّنْيِ ، فَضِعْفُ الشیءِ هو الّذي يُثَنِّيهِ ، ومتی أضيف إلى عدد اقتضی ذلک العدد ومثله، نحو أن يقال : ضِعْفُ العشرةِ ، وضِعْفُ المائةِ ، فذلک عشرون ومائتان بلا خلاف، وعلی هذا قول الشاعر : 293- جزیتک ضِعْفَ الوِدِّ لمّا اشتکيته ... وما إن جزاک الضِّعف من أحد قبلي «3» وإذا قيل : أعطه ضِعْفَيْ واحدٍ ، فإنّ ذلک اقتضی الواحد ومثليه، وذلک ثلاثة، لأن معناه الواحد واللّذان يزاوجانه وذلک ثلاثة، هذا إذا کان الضِّعْفُ مضافا، فأمّا إذا لم يكن مضافا فقلت : الضِّعْفَيْنِ فإنّ ذلك يجري مجری الزّوجین في أنّ كلّ واحد منهما يزاوج الآخر، فيقتضي ذلک اثنین، لأنّ كلّ واحد منهما يُضَاعِفُ الآخرَ ، فلا يخرجان عن الاثنین بخلاف ما إذا أضيف الضِّعْفَانِ إلى واحد فيثلّثهما، نحو : ضِعْفَيِ الواحدِ ، وقوله : فَأُولئِكَ لَهُمْ جَزاءُ الضِّعْفِ [ سبأ/ 37] ، وقوله : لا تَأْكُلُوا الرِّبَوا أَضْعافاً مُضاعَفَةً [ آل عمران/ 130] ، فقد قيل : أتى باللّفظین علی التأكيد، وقیل : بل المُضَاعَفَةُ من الضَّعْفِ لا من الضِّعْفِ ، والمعنی: ما يعدّونه ضِعْفاً فهو ضَعْفٌ ، أي : نقص، کقوله : وَما آتَيْتُمْ مِنْ رِباً لِيَرْبُوَا فِي أَمْوالِ النَّاسِ فَلا يَرْبُوا عِنْدَ اللَّهِ [ الروم/ 39] ، وکقوله : يَمْحَقُ اللَّهُ الرِّبا وَيُرْبِي الصَّدَقاتِ [ البقرة/ 276] ، وهذا المعنی أخذه الشاعر فقال : زيادة شيب وهي نقص زيادتي وقوله : فَآتِهِمْ عَذاباً ضِعْفاً مِنَ النَّارِ [ الأعراف/ 38] ، فإنهم سألوه أن يعذّبهم عذابا بضلالهم، وعذابا بإضلالهم كما أشار إليه بقوله : لِيَحْمِلُوا أَوْزارَهُمْ كامِلَةً يَوْمَ الْقِيامَةِ وَمِنْ أَوْزارِ الَّذِينَ يُضِلُّونَهُمْ [ النحل/ 25] ، وقوله : لِكُلٍّ ضِعْفٌ وَلكِنْ لا تَعْلَمُونَ [ الأعراف/ 38] ، أي : لكلّ منهم ضِعْفُ ما لکم من العذاب، وقیل : أي : لكلّ منهم ومنکم ضِعْفُ ما يرى الآخر، فإنّ من العذاب ظاهرا و باطنا، وكلّ يدرک من الآخر الظاهر دون الباطن فيقدّر أن ليس له العذاب الباطن . ( ض ع ف ) الضعف الضعف ۔ یہ اسمائے متضایقہ سے ہے یعنی وہ الفاظ جو اپنے مفہوم ومعنی کے تحقیق میں ایک دوسرے پر موقوف ہوتے ہیں جیسے نصف وزوج اور ضعف ( دوگنا) کے معنی ہیں ایک چیز کے ساتھ اس کے مثل کامل جانا اور یہ اسم عدد کے ساتھ مخصوص ہے ۔ اور اضعفت الشئی وضعتہ وضاعفتہ کے معنی ہیں کسی چیز کو دو چند کردینا بعض نے کہا ہے کہ ضاعفت ( مفاعلۃ ) میں ضعفت ( تفعیل ) سے زیادہ مبالغہ پایا جاتا ہے آیت کریمہ : ۔ يُضاعَفْ لَهَا الْعَذابُ ضِعْفَيْنِ [ الأحزاب/ 30] ان کو دگنی سزادی جائے گی ۔ اور آیت : ۔ وَإِنْ تَكُ حَسَنَةً يُضاعِفْها[ النساء/ 40] اور اگر نیکی ( رکی ) ہوگی تو اس کو دو چند کر دیگا ۔ میں یضاعف ( مفاعلۃ پڑھا ہے اور کہا ہے کہ اس سے نیکیوں کے دس گناہ ہونے کی طرف اشارہ ہے جیسا کہ آیت : ۔ مَنْ جاءَ بِالْحَسَنَةِ فَلَهُ عَشْرُ أَمْثالِها [ الأنعام/ 160] سے معلوم ہوتا ہے اور بعض نے کہا ہے کہ ضعفتہ ضعفا فھوا مضعوف ۔ تخفیف عین کے ساتھ آتا ہے اس صورت میں ضعف مصدر ہوگا اور ضعف اسم جیسا کہ شئی اور شئی ہے اس اعتبار سے ضعف الشئی کے معنی ہیں کسی چیز کی مثل اتنا ہی اور جس سے وہ چیز دوگنی ہوجائے اور جب اس کی اضافت اسم عدد کی طرف ہو تو اس سے اتنا ہی اور عدد یعنی چند مراد ہوتا ہے لہذا ضعف العشرۃ اور ضعف المابۃ کے معنی بلا اختلاف بیس اور دو سو کے ہوں گے چناچہ اسی معنی میں شاعر نے کہا ہے ( الطویل ) جز نیتک ضعف الواد لما اشتیتہ وما ان جزاک الضعف من احد قبلی جب تونے محبت کے بارے میں شکایت کی تو میں نے تمہیں دوستی کا دو چند بدلہ دیا اور مجھ سے پہلے کسی نے تمہیں دو چند بد لہ نہیں دیا ۔ اور اعطہ ضعفی واحد کے معنی یہ ہیں کہ اسے سر چند دے دو کیونکہ اس کے اصل معنی یہ ہیں کہا یک اور اس کے ساتھ دو اور دے دو اور یہ کل تین ہوجاتے ہیں مگر یہ معنی اس صورت میں ہوں گے جب ضعف کا لفظ مضاعف ہو ورنہ بدوں اضافت کے ضعفین کے معنی تو زوجین کی طرح دوگنا ہی ہوں گے ۔ لیکن جب واحد کی طرف مضاف ہوکر آئے تو تین گنا کے معنی ہوتے ہیں قرآن میں ہے : ۔ فَأُولئِكَ لَهُمْ جَزاءُ الضِّعْفِ [ سبأ/ 37] ایسے لوگوں کو دوگنا بدلہ ملے گا ۔ اور آیت کریمہ : ۔ فَآتِهِمْ عَذاباً ضِعْفاً مِنَ النَّارِ [ الأعراف/ 38] تو ان کی آتش جہنم کا دوگنا عذاب دے ۔ میں دوگنا عذاب مراد ہے یعنی دوزخی بار تعالٰ سے مطالیہ کریں گے کہ جن لوگوں نے ہمیں کمراہ کیا تھا انہیں ہم سے دو گناہ عذاب دیا جائے گا ایک تو انکے خود گمراہ ہونے کا اور دوسرے ، ہمیں گمراہ کرنے کا جیسا کہ آیت کریمہ : لِيَحْمِلُوا أَوْزارَهُمْ كامِلَةً يَوْمَ الْقِيامَةِ وَمِنْ أَوْزارِ الَّذِينَ يُضِلُّونَهُمْ [ النحل/ 25] یہ قیامت کے ادن اپنے اعمال کے پورے بوجھ بھی اٹھائیں گے اور جن کو یہ بےتحقیق گمراہ کرتے ہیں ان کے بوجھ بھی اٹھائیں گے ۔ سے مفہوم ہوتا ہے ۔ پھر اس کے بعد لِكُلٍّ ضِعْفٌ وَلكِنْ لا تَعْلَمُونَ [ الأعراف/ 38] کہہ کر بتایا کہ ان میں سے ہر ایک کو تم سے دگنا عذاب دیا جائے گا ۔ بعض نے اس کے یہ معنی بیان کئے ہیں کہ تم اور ان میں سے ہر ایک کو اس سے دگنا عذاب ہور ہا ہے جتنا کہ دوسرے کو نظر آرہا ہے ۔ کیونکہ عذاب دو قسم پر ہے ظاہری اور باطنی ، ظاہری عذاب تو ایک دوسرے کو نظر آئے گا مگر باطنی عذاب کا ادراک نہیں کرسکیں گے اور سمجھیں گے کہ انہی اندرونی طور پر کچھ بھی عذاب نہیں ہورہا ہے ( حالانکہ وہ باطنی عذاب میں بھی مبتلا ہوں گے ۔ اور آیت ؛لا تَأْكُلُوا الرِّبَوا أَضْعافاً مُضاعَفَةً [ آل عمران/ 130] بڑھ چڑھ کر سود در سود نہ کھاؤ ۔ میں بعض نے کہا ہے کہ اضعافا کے بعد مضاعفۃ کا لفظ بطور تاکید لایا گیا ہے مگر بعض نے کہا ہے کہ مضاعفۃ کا لفظ ضعف ( بفتح الضاد ) سے ہے جس کے معنی کمی کے ہیں پس آیت کے معنی یہ ہیں کہ سود جسے تم افزونی اور بیشی سمجھ رہے ہو یہ ، دراصل بڑھانا نہیں ہے بلکہ کم کرنا ہے جیسے فرمایا : يَمْحَقُ اللَّهُ الرِّبا وَيُرْبِي الصَّدَقاتِ [ البقرة/ 276] کہ اللہ تعالیٰ سود کو کم کرتا اور صدقات کو بڑھاتا ہے ۔ چناچہ اسی معنی کے پیش نظر شاعر نے کہا ہے ( الطویل ) (286) زیادۃ شیب وھی نقض زیادتی کہ بڑھاپے کی افرزونی دراصل عمر کی کمی ہے غفر الغَفْرُ : إلباس ما يصونه عن الدّنس، ومنه قيل : اغْفِرْ ثوبک في الوعاء، واصبغ ثوبک فإنّه أَغْفَرُ للوسخ «1» ، والغُفْرَانُ والْمَغْفِرَةُ من اللہ هو أن يصون العبد من أن يمسّه العذاب . قال تعالی: غُفْرانَكَ رَبَّنا[ البقرة/ 285] ( غ ف ر ) الغفر ( ض ) کے معنی کسی کو ایسی چیز پہنا دینے کے ہیں جو اسے میل کچیل سے محفوظ رکھ سکے اسی سے محاورہ ہے اغفر ثوبک فی ولوعاء اپنے کپڑوں کو صندوق وغیرہ میں ڈال کر چھپادو ۔ اصبغ ثوبک فانہ اغفر لو سخ کپڑے کو رنگ لو کیونکہ وہ میل کچیل کو زیادہ چھپانے والا ہے اللہ کی طرف سے مغفرۃ یا غفران کے معنی ہوتے ہیں بندے کو عذاب سے بچالیا ۔ قرآن میں ہے : ۔ غُفْرانَكَ رَبَّنا[ البقرة/ 285] اے پروردگار ہم تیری بخشش مانگتے ہیں ۔ شكر الشُّكْرُ : تصوّر النّعمة وإظهارها، قيل : وهو مقلوب عن الکشر، أي : الکشف، ويضادّه الکفر، وهو : نسیان النّعمة وسترها، ودابّة شکور : مظهرة بسمنها إسداء صاحبها إليها، وقیل : أصله من عين شكرى، أي : ممتلئة، فَالشُّكْرُ علی هذا هو الامتلاء من ذکر المنعم عليه . والشُّكْرُ ثلاثة أضرب : شُكْرُ القلب، وهو تصوّر النّعمة . وشُكْرُ اللّسان، وهو الثّناء علی المنعم . وشُكْرُ سائر الجوارح، وهو مکافأة النّعمة بقدر استحقاقه . وقوله تعالی: اعْمَلُوا آلَ داوُدَ شُكْراً [ سبأ/ 13] ، ( ش ک ر ) الشکر کے معنی کسی نعمت کا تصور اور اس کے اظہار کے ہیں ۔ بعض نے کہا ہے کہ یہ کشر سے مقلوب ہے جس کے معنی کشف یعنی کھولنا کے ہیں ۔ شکر کی ضد کفر ہے ۔ جس کے معنی نعمت کو بھلا دینے اور اسے چھپا رکھنے کے ہیں اور دابۃ شکور اس چوپائے کو کہتے ہیں جو اپنی فربہی سے یہ ظاہر کر رہا ہو کہ اس کے مالک نے اس کی خوب پرورش اور حفاظت کی ہے ۔ بعض نے کہا ہے کہ یہ عین شکریٰ سے ماخوذ ہے جس کے معنی آنسووں سے بھرپور آنکھ کے ہیں اس لحاظ سے شکر کے معنی ہوں گے منعم کے ذکر سے بھرجانا ۔ شکر تین قسم پر ہے شکر قلبی یعنی نعمت کا تصور کرنا شکر لسانی یعنی زبان سے منعم کی تعریف کرنا شکر بالجوارح یعنی بقدر استحقاق نعمت کی مکانات کرنا ۔ اور آیت کریمہ : اعْمَلُوا آلَ داوُدَ شُكْراً [ سبأ/ 13] اسے داود کی آل میرا شکر کرو ۔ حلم الحِلْم : ضبط النّفس والطبع عن هيجان الغضب، وجمعه أَحْلَام، قال اللہ تعالی: أَمْ تَأْمُرُهُمْ أَحْلامُهُمْ بِهذا [ الطور/ 32] ، قيل معناه : عقولهم ، ولیس الحلم في الحقیقة هو العقل، لکن فسّروه بذلک لکونه من مسبّبات العقل وقد حَلُمَ وحَلَّمَهُ العقل وتَحَلَّمَ ، وأَحْلَمَتِ المرأة : ولدت أولادا حلماء قال اللہ تعالی: إِنَّ إِبْراهِيمَ لَحَلِيمٌ أَوَّاهٌ مُنِيبٌ [هود/ 75] ، وقوله تعالی: فَبَشَّرْناهُ بِغُلامٍ حَلِيمٍ [ الصافات/ 101] ، أي : وجدت فيه قوّة الحلم، وقوله عزّ وجل : وَإِذا بَلَغَ الْأَطْفالُ مِنْكُمُ الْحُلُمَ [ النور/ 59] ، أي : زمان البلوغ، وسمي الحلم لکون صاحبه جدیرا بالحلم، ويقال : حَلَمَ في نومه يَحْلُمُ حُلْماً وحُلَماً ، وقیل : حُلُماً نحو : ربع، وتَحَلَّمَ واحتلم، وحَلَمْتُ به في نومي، أي : رأيته في المنام، قال اللہ تعالی: قالُوا أَضْغاثُ أَحْلامٍ [يوسف/ 54] ، والحَلَمَة : القراد الکبير، قيل : سمیت بذلک لتصوّرها بصورة ذي حلم، لکثرة هدوئها، فأمّا حَلَمَة الثدي فتشبيها بالحلمة من القراد في الهيئة، بدلالة تسمیتها بالقراد في قول الشاعر : كأنّ قرادي زوره طبعتهما ... بطین من الجولان کتّاب أعجمي وحَلِمَ الجلد : وقعت فيه الحلمة، وحَلَّمْتُ البعیر : نزعت عنه الحلمة، ثم يقال : حَلَّمْتُ فلانا : إذا داریته ليسكن وتتمکّن منه تمكّنک من البعیر إذا سكّنته بنزع القراد عنه ( ح ل م ) الحلم کے معنی ہیں نفس وطبیعت پر ایسا ضبط رکھنا کہ غیظ وغضب کے موقع پر بھڑ کنہ اٹھے اس کی جمع احلام ہے اور آیت کریمہ : ۔ کیا عقلیں ان کو ۔۔۔ سکھاتی ہیں ۔ میں بعض نے کہا ہے کہ احلام سے عقیں مراد ہیں اصل میں ھلم کے معنی متانت کے ہیں مگر چونکہ متانت بھی عقل کی وجہ سے پیدا ہوتی ہے اس لئے حلم کا لفظ بول کر عقل مراد لے لیتے ہیں جیسا کہ مسبب بول کر سبب مراد لے لیا جاتا ہے حلم بردبار ہونا ۔ عقل نے اسے برد بار رہنا دیا ۔ عورت کا حلیم بچے جننا ۔ قرآن میں ہے : ۔ إِنَّ إِبْراهِيمَ لَحَلِيمٌ أَوَّاهٌ مُنِيبٌ [هود/ 75] بیشک ابراہیم بڑے تحمل والے نرم دل اور رجوع کرنے والے تھے ۔ اور آیت کریمہ : ۔ فَبَشَّرْناهُ بِغُلامٍ حَلِيمٍ [ الصافات/ 101] تو ہم نے ان کو ایک نرم دل لڑکے کی خوشخبری دی ۔ کے معنی یہ ہیں کہ اس غلام ہیں قوت برداشت ۔۔۔۔۔۔ تھی اور آیت کریمہ : ۔ وَإِذا بَلَغَ الْأَطْفالُ مِنْكُمُ الْحُلُمَ [ النور/ 59] اور جب تمہارے لڑکے بالغ ہوجائیں & میں حلم کے معنی سن بلوغت کے ہیں اور سن بلوغت کو حلم اس لئے کہا جاتا ہے کہ اس عمر میں طور عقل وتمیز آجاتی ہے کہا جاتا ہے ۔ حلم ( ن ) فی نومہ خواب دیکھنا مصدر حلم اور حلم مثل ربع بھی کہا گیا ہے ۔ اور ۔ یہی معنی تحلم واحتلم کے ہیں ۔ حلمت بہ فی نومی ۔ میں نے اسے خواب میں دیکھا ۔ قرآن میں ہے : ۔ قالُوا أَضْغاثُ أَحْلامٍ [يوسف/ 54] انہوں نے کہا یہ تو پریشان سے خواب ہیں ۔ الحلمۃ بڑی چیچڑی ۔ کیونکہ وہ ایک جگہ پر جمے رہنے کی وجہ سے حلیم نظر آتی ہے اور سر پستان کو حلمۃ الثدی کہنا محض ہیت میں چیچڑی کے مشابہ ہونے کی وجہ سے ہے ۔ اس مجاز کی دلیل یہ ہے کہ سر پستان کو قراد بھی کہہ دیتے ہیں ۔ جیسا کہ شاعر نے کہا ہے ع ( طویل ) اس کے سینے پر پستانوں کے نشانات اسطرح خوشمنا نظر اتے ہیں کہ گویا کسی کاتب لے مٹی کی مہریں لگادیں ہیں چمڑے کو کیڑا الگ جانا ۔ حلمت البعیر میں نے اونٹ سے خیچڑ نکالے حلمت فلانا کسی پر قدرت حاصل کے لئے اس کے ساتھ مدارات سے پیش آنا تاکہ وہ مطمئن رہے جیسا کہ اونٹ سے چیچڑ دور کرنے سے اسے سکون اور راحت محسوس ہوتا ہے اور انسان اس پر پوری طرح قدرت پالیتا ہے

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

اور اگر تم اللہ تعالیٰ کے رستہ میں خلوص کے ساتھ خیرات کرو گے تو وہ اس کو تمہارے لیے بڑھاتا چلا جائے گا اور اس صدقہ کی وجہ سے تمہارے گناہ معاف کرے گا۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ١٧{ اِنْ تُقْرِضُوا اللّٰہَ قَرْضًا حَسَنًا یُّضٰعِفْہُ لَــکُمْ وَیَغْفِرْ لَـکُمْ } ” اگر تم اللہ کو قرض حسنہ دو گے تو وہ اسے تمہارے لیے کئی گنا بڑھا دے گا اور تمہیں بخش دے گا ۔ “ { وَاللّٰہُ شَکُوْرٌ حَلِیْمٌ ۔ } ” اور اللہ شکور (یعنی قدر دان) بھی ہے اور حلیم (یعنی بردبار) بھی ۔ “ وہ ایسا شکور ہے کہ بندہ جو کچھ بھی اس کی راہ میں خرچ کرتا ہے وہ اس کی قدر کرتا ہے اور حلیم ایسا ہے کہ اس کے بار بار ترغیب دلانے کے باوجود بھی اگر کوئی شخص کچھ نہیں دیتا وہ فوری طور پر اس کی گردن نہیں ناپتا۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

33 For explanation, see E.N. 267 of Al-Baqarah, E.N. 33 of Al Ma'idah, E,N. 16 of Al-Hadid. 34 For explanation, see E.N.'s 52, 59 of Fatir; E.N.42 of Ash-Shura.

سورة التَّغَابُن حاشیہ نمبر :33 تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن ، جلد اول ، البقرہ ، حاشیہ 267 ۔ المائدہ ، حاشیہ 32 ۔ جلد پنجم ، الحدید ، حاشیہ 16 ۔ سورة التَّغَابُن حاشیہ نمبر :34 تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن ، جلد چہارم ، فاطر ، حواشی 52 ۔ 59 ۔ الشوریٰ ، حاشیہ 42 ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

6: اﷲ تعالیٰ کو قرض دینے سے مراد یہ ہے کہ اﷲ تعالیٰ کی خوشنودی کی خاطر نیک کاموں میں خرچ کیا جائے، اس تعبیر میں یہ اشارہ ہے کہ جس طرح کسی کو قرض دیتے وقت اِنسان کو یہ اطمینان ہوتا ہے کہ یہ قرض اسے کسی وقت واپس مل جائے گا، اسی طرح نیک کاموں میں خرچ کرتے وقت اِنسان کو یہ یقین ہونا چاہئے کہ اﷲ تعالیٰ اس کے بدلے میں بہترین اجر عطا فرمائیں گے، اور اچھی طرح قرض دینے کا مطلب یہ ہے کہ اِنسان نیک کاموں میں اخلاص سے خرچ کرے، نام ونمود اور دِکھاوا مقصود نہ ہو، نیک کاموں میں خرچ کرنے کو سورۂ بقرہ (۲:۲۴۵)، سورۃ مائدہ (۵:۱۲)، سورۃ حدید (۵۷:۱۱و۱۸) اور سورۃ مزمل (۷۳:۲۰)، میں بھی قرضِ حسن سے تعبیر فرمایا گیا ہے۔

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(64:17) ان تفرضوا اللہ : جملہ شرط ہے ان شرطیہ۔ اگر : تقرضوا۔ مضارع جمع مذکر حاضر۔ اقراض (افعال) مصدر ۔ بمعنی قرض دینا۔ اللہ مفعول فعل تقرضوا کا یہ اصل میں تقرضون تھا۔ ان شرطیہ کے آنے سے نون اعرابی ساقط ہوگیا۔ اگر تم اللہ کو قرض دو ۔ قرضا حسنا : قرضا مفعول مطلق۔ موصوف حسنا صفت، قرضا کی بمعنی اچھا عمدہ۔ خوب۔ ہر لحاظ سے پسندیدہ۔ یضعفہ لکم۔ جملہ جواب شرط ہے۔ یضعف مضارع مجزوم (بوجہ جواب شرط) واحد مذکر غائب۔ مضاعفۃ (مفاعلۃ) مصدر ہ ضمیر مفعول واحد مذکر گا ئب کا مرجع قرضا ہے۔ وہ اس کو بڑھا دے گا۔ دگنا کر دے گا۔ وہ اس کو بڑھا کر دے گا۔ لکم تم کو، تمہارے لئے یعنی دس گناہ سے لے کر سات سو گنا تک۔ بلکہ اس سے بھی زیادہ جتنا اللہ چاہے گا اجر عطا فرمائے گا۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے :۔ مثل الذین ینفقون اموالہم فی سبیل اللہ کمثل حبۃ انبتت سبع سنابل فی کل سنبلۃ ماۃ حبۃ واللہ یضعف لمن یشاء واللہ واسع علیہم (2:261) جو لوگ اپنا مال خدا کی راہ میں خرچ کرتے ہیں ان (کے مال) کی مثال اس دانے کی سی ہے جس سے سات بالیں اگیں اور ہر ایک میں سودانے ہوں ۔ اور خدا جس (کے مال) کو چاہتا ہے زیادہ کرتا ہے اور وہ بڑی ہی کشائش والا (اور) سب کچھ جاننے والا ہے۔ ویغفرلکم اور تمہارے گناہ بخش دے گا ۔ اس کا عطف جملہ سابقہ پر ہے۔ واللہ شکور حلیم : اور اللہ شکور اور حلیم ہے۔ شکور : وہ بندہ جو اطاعت الٰہی اور اس کی عبادت کی بجا آوری کے ذریعے جو کہ اس پر مقرر کی گئی ہے حق تعالیٰ کی شکر گزاری میں خوب کوشاں ہو۔ اور شکور کا جب اللہ تعالیٰ کی صفات میں استعمال ہوگا تو اس کے معنی بڑے قدردان یعنی تھوڑے کام پر بہت بڑا ثواب دینے والے کے ہوں گے۔ شکور : شکر یشکر کا مصدر ہے شکر و شکر ان بھی مصدر ہے۔ حلیم : حلم سے (باب کرم) مصدر بروزن فعیل صفت مشبہ کا صیغہ ہے۔ حلم بمعنی جوش غضب سے نفس اور طبیعت کو روکنا۔ یعنی برد باری اور تحمل کرنا۔ حلیم : سزا دینے میں جلدی نہ کرنے والا۔ بردبار۔ تحمل والا۔ باوقار۔ یہ اللہ کے اسماء حسنی میں ہے ہے۔ کیونکہ اصل حلم اس کا ہے۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 9 یعنی اپنی حلال کی کمائی میں سے خوشدلی کے ساتھ اس کی راہ میں خرچ کروں گے۔10 اور قدانی یہ ہے کہ تھوڑے عمل پر بہت ثواب دیتا ہے۔

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : مال کی آزمائش میں سرخرو ہونے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ انسان اللہ کی راہ میں صدقہ کرتا رہے صدقہ کرنا ” اللہ “ کو قرض دینے کے مترادف ہے۔ اوپر کی دو آیات میں ایمان والوں کو صدقہ کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ اس آیت میں صدقہ کرنے والوں کو یہ فرما کر تسلی اور ترغیب دی ہے کہ اگر تم اخلاص کے ساتھ صدقہ کرو گے تو اللہ تعالیٰ کو قرض حسنہ دو گے۔ وہ تمہارے صدقہ کو دوگنا تگنا کرے گا اور اس کے بدلے تمہارے گناہوں کو معاف فرمائے گا کیونکہ اللہ تعالیٰ نیکی اور نیکی کرنے والوں کا بڑا ہی قدر دان اور بردبار ہے۔ وہ تمہارے ظاہری اور باطنی حالات کو جانتا ہے اور ہر چیز پر غالب ہونے کے ساتھ بڑاحکیم ہے۔ یہاں صدقہ کے لیے قرض حسنہ کے الفاظ استعمال فرمائے ہیں۔ حسنہ کا معنٰی ایسا صدقہ ہے جس میں کسی قسم کی نمود و نمائش اور ایذا رسانی نہ پائی جائے۔ اللہ تعالیٰ ایسے صدقہ کی قدر کرتا ہے۔ اس کی قدر شناسی کی انتہا دیکھیے کہ وہی سب کچھ عطا کرنے والا ہے۔ لیکن جب غریب، یتیم اور دین کے کاموں پر خرچ کرنے کا حکم دیتا ہے تو اسے اپنے لیے صدقہ شمار کرتا ہے۔ حالانکہ ان مصارف پر خرچ کرنے سے انسان کو ہی فائدہ پہنچتا ہے۔ حلیم کی صفت بتلا کر اشارہ دیا ہے کہ اللہ کی راہ میں خرچ کرنا بڑے حوصلے کی بات ہے۔ اس میں یہ بھی ارشاد ہے کہ اگر تمہارے بخل کرنے پر وہ تمہیں نہیں پکڑتا تو ایسا اس لیے ہے کہ وہ بڑا حلیم ہے۔ (عَنْ أَبِيْ ھُرَیْرَۃَ (رض) قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مَنْ تَصَدَّقَ بِعَدْلِ تَمْرَۃٍمِنْ کَسْبٍ طَیِّبٍ وَ لَا یَقْبَلُ اللّٰہُ إِلَّا الطَّیِّبَ وَإِنَّ اللّٰہَ یَتَقَبَّلُھَا بَیَمِیْنِہٖ ثُمَّ یُرَبِّیْھَا لِصَاحِبِہٖ کَمَا یُرَبِّيْ أَحَدُکُمْ فَلُوَّہٗ حَتّٰی تَکُوْنَ مِثْلَ الْجَبَلِ ) (رواہ البخاری : کتاب الزکاۃ، باب الصدقۃ من کسب طیب) ” حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جس نے پاکیزہ کمائی سے ایک کھجور کے برابر صدقہ کیا اور اللہ تعالیٰ صرف پاکیزہ چیز ہی قبول فرماتے ہیں۔ بیشک اللہ تعالیٰ اسے اپنے دائیں ہاتھ میں لیتے ہیں پھر اس کو صدقہ کرنے والے کے لیے بڑھاتے رہتے ہیں جس طرح تم میں سے کوئی اپنے بچھڑے کی پرورش کرتا ہے یہاں تک کہ آدمی کا کیا ہوا صدقہ پہاڑ کی مانند ہوجاتا ہے۔ “ ( عَنْ اَبِیْ ہُرَیْرَۃَ (رض) عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) قَالَ مَا نَقَصَ صَدَقَۃٌ مِنْ مَالٍ وَمَا زَاد اللّٰہُ عَبْدًا بِعَفْوٍا اِلَّا عِزًّا وَمَا تَوَاضَعَ اَحَدٌ لِلّٰہِ اِلَّا رَفَعَہُ اللّٰہُ ) (رواہ مسلم : باب استحباب العفو والتواضع) ” حضرت ابوہریرہ (رض) نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے بیان کرتے ہیں آپ نے فرمایا : کہ صدقہ سے مال کم نہیں ہوتا جو بندہ درگزر کرتا ہے اللہ تعالیٰ اسے عزت دیتا ہے۔ جو اللہ کی رضا کے لیے عاجزی اور انکساری اختیار کرتا ہے اللہ تعالیٰ اسے بلند کرتا ہے۔ “ (مَثَلُ الَّذِیْنَ یُنْفِقُوْنَ اَمْوَالَہُمْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ کَمَثَلِ حَبَّۃٍ اَنْبَتَتْ سَبْعَ سَنَابِلَ فِیْ کُلِّ سُنْبُلَۃٍ مِّاءَۃُ حَبَّۃٍ وَ اللّٰہُ یُضٰعِفُ لِمَنْ یَّشَآءُ وَ اللّٰہُ وَاسِعٌ عَلِیْمٌ) (البقرۃ : ٢٦١) ” جو لوگ اپنا مال اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں ان کی مثال اس دانے جیسی ہے جس میں سے سات بالیاں نکلیں اور ہر بالی میں سو دانے ہوں اور اللہ تعالیٰ جسے چاہے بڑھا چڑھاکر دیتا ہے اور اللہ تعالیٰ بڑی وسعت والا، خوب جاننے والا ہے۔ “ مسائل ١۔ اللہ کی راہ میں خرچ کرنا اللہ تعالیٰ کو قرض حسنہ دینے کے مترادف ہے۔ ٢۔ اللہ تعالیٰ صدقہ کرنے والے کے مال میں برکت پیدا کرنے کے ساتھ اس کے گناہوں کو معاف کرتا ہے۔ ٣۔ اللہ تعالیٰ نیکی اور نیکی کرنے والے کا قدردان ہے۔ ٤۔ اللہ تعالیٰ غیب اور پوشیدہ باتوں کا علم رکھنے کے باوجود بڑا بردبار اور حکمت والا ہے۔ تفسیر بالقرآن صدقہ کرنے کے دنیا اور آخرت میں فوائد : ١۔ صدقہ کرنا اللہ تعالیٰ کو قرض دینا ہے۔ (الحدید : ١١) ٢۔ صدقہ کرنے والے کو تسکین حاصل ہوتی ہے۔ (البقرۃ : ٢٦٥) ٣۔ صدقہ کرنے سے مال میں برکت ہوتی ہے۔ ( البقرۃ : ٢٦٥) ٤۔ اللہ تعالیٰ اسے دگنا تگنا کرکے واپس کرے گا۔ (التغابن : ١٧) ٥۔ اللہ سات سو گنا تک بڑھا دیتا ہے۔ (البقرۃ : ٢٦١) ٦۔ اللہ کے ہاں اضافے کی کوئی حد نہیں ہے۔ (البقرۃ : ٢٦١) ٧۔ اللہ تعالیٰ صدقہ کرنے والوں کو جزا دیتا ہے۔ (یوسف : ٨٨) ٨۔ مومن اللہ کی رضا کے لیے خرچ کرتا ہے۔ (التوبہ : ٩٩) ٩۔ مسلمان تنگدستی اور خوشحالی میں خرچ کرتے ہیں۔ (آل عمران : ١٣٤) ١٠۔ جو کچھ تم خرچ کرو گے اللہ تعالیٰ تمہیں اس سے زیادہ دے گا۔ (سبا : ٣٩)

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

ان تقرضوا .................... حلیم (٤٦ : ٧١) ” اگر تم اللہ کو قرض حسن دو تو وہ تمہیں کئی گنا بڑھا کردے گا اور تمہارے قصوروں سے درگزر فرمائے گا ، اللہ بڑا قدردان اور بردبار ہے “۔ اللہ بہت ہی برکت والا اور عظیم ہے۔ کتنا بڑا کریم ہے ، کتنا بڑا ہے۔ وہ بندے کو پیدا کرتا ہے ، اسے رزق دیتا ہے ، پھر اس سے قرضہ مانگتا ہے قرض حسن۔ پھر صرف قرض ہی نہیں لوٹاتا بلکہ اسے کئی گناکرکے لوٹاتا ہے۔ پھر اللہ اپنے بندے کا شکریہ ادا کرتا ہے۔ اور اس کے ساتھ نہایت ہی حلم سے معاملہ کرتا ہے۔ اللہ اور اپنے غلام کا شکر ، یا اللہ یہ تیرا ہی کام ہے ! اور ایک عظیم انعام ہے ! اللہ ہمیں اپنے صفات سے آگاہ کرتا ہے کہ ہم اپنے نقائص اور اپنی کمزوریوں پر کس طرح قابو پائیں اور ہم ہمیشہ اللہ کی طرف نظریں اٹھا کر دیکھیں اور ہم اللہ جل شانہ کی تقلید زمین پر کریں۔ اپنی محدود طاقت کے مطابق۔ اللہ نے فرمایا ہے کہ میں نے انسان کے اندر اپنی روح پھونکی ہے۔ اس روح کا تقاضا یہی ہے کہ ہم اللہ کی صفات کی تقلید کریں۔ اپنی طاقت کے مطابق کریں۔ انسان کے سامنے یہ بلند آفاق ہر وقت کھلے ہیں کہ یہ جس قدر ان میں بلندیوں تک جاسکتا ہے ، جاسکے۔ ان بلندیوں تک وہ درجہ بدرجہ بلند ہو۔ یہاں تک کہ وہ اللہ تک جب پہنچے تو ایسی حالت میں ہو کہ اللہ اسے پسند کرے۔ اور اس سے راضی ہو۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

اللہ کو قرض حسن دیدو وہ بڑھا چڑھا کر دے گا اور مغفرت فرما دے گا : ﴿ اِنْ تُقْرِضُوا اللّٰهَ قَرْضًا حَسَنًا يُّضٰعِفْهُ لَكُمْ وَ يَغْفِرْ لَكُمْ ﴾ (اگر تم اللہ کو فرض دے دو گے اچھا قرض (جس میں اخلاص ہو اور خوش دلی سے ان کاموں میں خرچ کردیا جائے جہاں اللہ تعالیٰ نے خرچ کرنے کا حکم فرمایا ہے یا مستحب قرار دیا ہے) اللہ تعالیٰ اس پر چند در چند اضافہ کر کے اجر عطا فرمائے گا اور تمہارے گناہ بخش دے گا) سب بند اللہ کے ہیں اور سارے اموال بھی اللہ ہی کے ہیں اس نے کرم فرمایا کہ اس کی راہ میں جو کچھ خرچ کیا جائے اس کا نام قرض رکھ دیا پھر اس پر چند در چند ثواب دینے کا وعدہ فرما لیا۔ یہ مضمون سورة البقرہ میں بھی گزر چکا ہے۔ (دیکھو انوارا لبیان جلد اول) ﴿وَ اللّٰهُ شَكُوْرٌ حَلِيْمٌۙ٠٠١٧﴾ (اور اللہ شکور ہے یعنی قدرد ان ہے) تھوڑے عمل اور تھوڑے مال کے عوض بہت زیادہ دیتا ہے اور حلیم یعنی بردبار ہے گناہوں کی سزا دینے میں جلدی نہیں فرماتا اور بہت سے گناہوں کو معاف کردیتا ہے۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

15:۔ ” ان تقرضوا اللہ “ آخر میں انفاق فی سبیل اللہ کا بیان ہے اور سورة منافقون میں امر انفاق سے بطور ترقی فرمایا کہ تم اللہ کو قرض دیدو وہ تمہیں اس سے کئی گنا زیادہ اجر وثواب عطا فرمائے گا اور تمہارے گناہ بھی معاف کردے گا۔ اللہ کی راہ میں خرچ کیا ہوا مال ضائع نہیں گا۔ کیونکہ یہ تم اس ذات بابرکات کو دو گے جو قدر شناس اور تھوڑی سی قربانی کا زیادہ بدلہ دینے والی ہے یعطی الجزیل بمقابلۃ النزل القلیل (روح) ۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(17) اگر تم اللہ تعالیٰ کو قرض حسنہ کے طور پر قرض دو گے تو اللہ تعالیٰ اس قرض کو تمہارے لئے بڑھاتا رہے گا یعنی اس کے اجر کو زیادہ کرتا رہے گا اور تمہارے گناہ بخش دے گا اور اللہ تعالیٰ بڑا قدردان اور بڑے تحمل والا ہے۔ قرض حسنہ کو ہم سورة حدید میں بیان کرچکے ہیں قرض حسنہ خلوص اور خوش دلی کے ساتھ دینا اور دینے پر احسان نہ رکھنا۔ بڑھانے کا مطلب یہ ہے کہ اس کے اجر کو دنیا اور آخرت میں بڑھاتا رہے گا دس گنا سے لے کر سات سو گنا تک بلکہ اس سے بھی زیادہ عطا فرمائے گا تم کو بخش دے گا یعنی تمہارے گناہ بخش دے گا اللہ تعالیٰ شکور یعنی قدر دان ہے کہ عمل صالح کو قبول کرتا ہے اور تھوڑی چیز کو بڑھاتا ہے حلیم ہے یعنی بردبار ہے اور تحمل والا ہے معصیت پر فوری نہیں پکڑتا بلکہ سننے اور توبہ کرنے کے لئے مہلت دیتا ہے اور فوراً ہی عذاب نازل نہیں کردیتا۔