Surat ut Tallaq

Divorce

Surah: 65

Verses: 12

Ruku: 2

Listen to Surah Recitation
Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

تعارف سورة الطلاق سورة نمبر 65 کل رکوع 2 آیات 12 الفاظ و کلمات 298 حروف 1237 مقام نزول مدینہ منورہ ایمان والوں کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ اللہ نے تمہاری ہدایت کے لئے اپنا ایک ایسا کلام اپنے رسول پر نازل کیا ہے جس کی آیات نہایت واضح اور صاف صاف ہیں تاکہ ہر وہ شخص جو ایمان لا کر عمل صالح کی زندگی اختیار کرنا چاہتا ہے ہمارا رسول ان کو اندھیروں سے نکال کر علم کی روشنی میں لے آئے گا۔ فرمایا کہ بہت سی بستیاں تھیں کہ جب انہوں نے اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانیاں کیں تو نہ صرف سختی کے ساتھ ان کا محاسبہ اور گھیراؤ کیا گیا بلکہ ان کی نافرمانیوں کی وجہ سے ان پر عذاب نازل کرکے ان کو سخت سزا دی گئی۔ اس طرح انہوں نے قدم قدم پر سخت نقصانات اٹھائے۔ فرمایا کہ ہر وہ شخص جس میں ذرا بھی عقل اور سمجھ ہے وہ کبھی اللہ کی نافرمانی نہیں کرے گا اور وہ اللہ کے خوف سے ڈرتا رہے گا۔ ٭عائلی یعنی گھریلو زندگی میں کبھی کبھی باہمی اختلافات یا مزاجوں میں ہم آہنگی نہ ہونے سے بات طلاق اور جدائی تک پہنچ جاتی ہے جو حلال ہونے کے باوجود اللہ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے نزدیک انتہائی ناپسندیدہ فعل ہے۔ اس کے ضروری مسائل سورة بقرہ میں بیان کئے گئے تھے۔ اب اس سورة میں ان ہی مسائل میں سے بقیہ مسائل کو ارشاد فرمایا جا رہا ہے تاکہ ان مسائل کی تکمیل ہوجائے۔ خلاصہ یہ ہے۔ ٭ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) خو خطاب کرتے ہوئے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی امت سے فرمایا جا رہا ہے کہ اے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! جب لوگ اپنی بیویوں کو طلاق دیں تو وہ ان کی عدت کا خیال کرکے طلاق دیا کریں اور پھر عدت کا بالکل صحیح شمار رکھا کریں یعنی ایسے دنوں میں طلاق نہ دیں جس سے عدت کی مدت طویل ہوجائے اور عدت کے دنوں کا شمار ٹھیک ٹھیک رکھا کریں تاکہ وقت سے پہلے یا بعد میں عدت نہ کھلے اسی لئے فرمایا کہ تم اپنے اللہ سے ڈرتے رہو جو تمہارا پروردگار ہے۔ ٭فرمایا کہ دوران عدت تم ان کو اپنے گھروں سے نہ نکالو اور نہ وہ خود نکلیں۔ البتہ اگر وہ کھلا ہوا گناہ (زنا، بدکاری، بدکلامی جس سے ہر شخص عاجز آجائے) کریں تو ان کو نکالا جاسکتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ یہ اس کی مقرر کی ہوئی حدیں ہیں۔ ان حدود کو پھلانگنے کی کوشش نہ کریں۔ اگر ایسا کریں گے تو وہ اپنے ساتھ بڑی زیادتی اور ظلم کرنے والے ہوں گے۔ اللہ نے فرمایا کہ تمہیں کیا معلوم ممکن ہے اس کے بعد آپس میں دوبارہ مل جانے کا کوئی راستہ بن جائے۔ ٭فرمایا کہ وہ عورتیں جب اپنی عدت پوری کرلیں (اگر ایک یاد دو طلاقیں دی ہیں) یا تو ان کو بھلے طریقے سے روک لیں یعنی رجوع کرلیں یا بھلے اور نیک طریقے سے ان سے جدا ہوجائیں۔ ٭فرمایا کہ (بہت سے قانونی مسائل سے بچنے اور ٹھیک ٹھیک گوہی کے لئے اگر) عدل و انصاف والے دو گواہ بنا لیں تو بہتر ہے۔ گواہوں سے فرمایا گیا کہ اگر کوئی گواہی کا موقع آجائے تو وہ ٹھیک ٹھیک گواہی دیں۔ یہ وہ باتیں ہیں جن کی نصیحت ہر اس شخص کو کی جاتی ہے جو اللہ اور آخرت پر ایمان رکھتے ہوئے اس سے ڈرتا ہو۔ اللہ ایسے لوگوں کے لئے ہر طرح کی مشکلات سے نکلنے کا راستہ بنا دیتا ہے اور اسی کی ایسی جگہ سے مدد کی جاتی ہے جہاں اس کا گمان بھی نہیں پہنچ سکتا جو اللہ پر مکمل بھروسہ کرتا ہے تو اللہ اس کے لئے کافی ہے۔ اللہ اپنے ہر کام کو پورا کرکے چھوڑتا ہے کیونکہ اس نے ہر چیز کے لئے ایک مقدار (تقدیر) مقرر کر رکھی ہے۔ ٭فرمایا تمہاری عورتوں میں سے وہ جنہیں اب حیض آنے کی توقع نہ ہو یا جن کو ابھی حیض آیا ہی نہ ہو اس ان کے لئے (چاند کے حساب سے) تین مہینے کی مدت مقرر ہے۔ اسی طرح حاملہ عورتوں کی عدت بچہ پیدا ہونے تک ہے۔ جیسے ہی ولادت ہوجائے گی اس کی عدت بھی ختم ہوجائے گی۔ فرمایا کہ ان تمام معاملات میں اللہ سے ڈرتے رہنا چاہیے۔ کیونکہ جو لوگ اللہ کے احکامات کی پابندی کرتے ہیں اور اللہ سے ڈرتے ہیں اللہ نہ صرف ان کے گناہوں اور خطاؤں کو معاف کردیتا ہے بلکہ ان کو اجر عظیم عطا فرماتا ہے۔ ٭فرمایا کہ عورتوں کی عدت کے دوران جیسی جگہ پر بھی تم رہتے ہو اس میں ان کو رکھو اور ان کو تنگ نہ کرو نہ ستائو بلکہ حسن معاملہ کرو۔ ٭اگر وہ حاملہ ہوں تو ان کو اس وقت تک کھلائو پلائو جب تک بچہ پیدا نہ ہوجائے۔ پھر اگر وہ تمہارے بچے کو دودھ پلائیں تو ان کو اس کا معاوضہ دو ۔ اگر باہمی رضا مندی سے وہ دونوں کسی اور عورت سے دوچھ پلوانا چاہیں تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔ لیکن اس کی شرط یہ ہے کہ جس عورت سے دودھ پلوایا جا رہا ہے اس کی اجرت اس کو دی جائے اور اس معاملہ میں کوئی زیادتی نہ کی جائے۔ ہر شخص اپنی حیثیت اور ہمت کے مطابق خرچ دیگا۔ اگر کوئی صاحب حیثیت ہے تو وہ اس کے مطابق دے اور جس کو کم رزق دیا گیا ہے وہ اپنی حیثیت کے مطابق خرچ دے گا۔ اللہ تعالیٰ کسی شخص پر اس کی ہمت سے زیادہ بوجھ نہیں ڈالتا۔ یہ تو اللہ کا نظام ہے کہ وہ جس کو جتنا دینا چاہیے دیت ا ہے اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ تنگ دستی کے باوجود اللہ اس کو فراخی عطا فرمادے۔ ٭آخر مین فرمایا کہ تمام احکامات میں اللہ کے حکم کی پوری تعمیل کی جائے۔ کیونکہ نہ جانے کتنی بستیاں ایسی تھیں کہ جب وہاں کے لوگوں نے اللہ کی نافرمانی اور رسول کی اطاعت سے انکار کیا تو نہ صرف ان کا سختی سے محاسبہ کیا گیا بلکہ ان کو سخت سزا دی گئی۔ اس طرح انہوں نے جو کچھ کیا تھا اس کا مزہ چکھا اور انہوں نے قدم قدم پر شدید نقصانات اٹھائے۔ اللہ نے فرمایا کہ اللہ نے ان کے لئے سخت عذاب تیار کر رکھا ہے۔ فرمایا کہ اے عقل رکھنے والو ! اللہ سے ڈرتے رہو۔ ٭ایمان والوں سے فرمایا کہ اللہ نے تمہاری ہدایت کے لئے اپنے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر ایسا کلام نازل کیا ہے جس کی آیات نہایت واضح اور صاف صاف بیان کی گئی ہیں جن کا مقصد یہ ہے کہ وہ لوگ جو ایمان اور عمل کی زندگی اختیار کئے ہوئے ہیں، اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) انہیں پوری طرح اندھیروں سے روشنی کی طرف لے آئیں۔ فرمایا کہ جو بھی اللہ پر ایمان رکھتے ہوئے عمل صالح اختیار کرے گا اس کو ایسی جنتوں میں داخل کیا جائے گا جن کے نیچے سے نہریں بہہ رہی ہوں گی۔ وہ اس میں ہمیشہ رہے گا اور اللہ نے اس کے لئے بہترین رزق تیار کر رکھا ہے۔ ٭اللہ نے اپنی قدرت سے سات آسمان اور اس جیسی زمین بھی بنائی ہے۔ ان سب میں اللہ کے احکامات نازل ہوتے رہتے ہیں تاکہ تم اس بات کو اچھی طرح سے جان لو کہ اللہ ہی ہر چیز پر پوری قدرت رکھتا ہے اور اس کے علم نے ہر چیز کو گھیر رکھا ہے یعنی کوئی چیز اس کے علم سے باہر نہیں ہے۔

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

سورة الطّلاق کا تعارف اس سورت کا نام اس کی پہلی آیت سے ماخوذ ہے یہ سورت مدینہ طیبہ میں نازل ہوئی، اس کے دو رکوع ہیں جو بارہ آیات پر مشتمل ہیں۔ اس سورت کا مرکزی مضمون طلاق ہے۔ یہ معاشرتی اعتبار اور خاندانی لحاظ سے اتنا اہم مسئلہ ہے کہ اس کی اہمیت کے پیش نظر اللہ تعالیٰ نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو مخاطب کرتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ جب تم عورتوں کو طلاق دو تو ان کی عدّت ملحوظ رکھو اور عدّت کے دن اچھی طرح شمار کرنے چاہئے۔ اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہو اور انہیں عدّت کے دوران ان کے گھروں سے نہ نکالا جائے یہ اللہ تعالیٰ کی حدود ہیں جو اللہ کی حدود سے تجاوز کرے گا وہ اپنے آپ پر ظلم کرے گا۔ طلاق رجعی کی صورت میں رجوع کے بعد انہیں عزت کے ساتھ اپنے گھروں میں رکھو یا اچھے انداز میں انہیں الگ کر دو ۔ اللہ تعالیٰ سے ڈرتے ہے وہی مشکلات سے نکلنے کا راستہ پیدا کرے گا جو اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کرتے ہے اللہ تعالیٰ ان کے لیے کافی ہوجاتا ہے اور ان کے لیے آسانی کا راستہ پیدا کرتا ہے اس نے اپنا رسول اس لیے مبعوث کیا ہے تاکہ لوگوں کو ہر قسم کی تاریکیوں سے نکال کر قرآن مجید کی روشنی میں لے آئے۔ جو اللہ پر ایمان لائے اور نیک عمل کرے اللہ تعالیٰ اسے جنتوں میں داخل فرمائے گا جن کے نیچے نہریں جاری ہیں جنتی ان میں ہمیشہ ہمیش رہیں گے۔ یاد رکھو کہ اللہ تعالیٰ نے ہی سات آسمان اور ان کی مثل سات زمینیں پیدا کی ہیں۔ وہی ان کے درمیان اپنے فیصلے جاری کرتا ہے تاکہ تمہیں معلوم ہو کہ اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قدرت رکھنے والا اور اپنے علم کے ساتھ ہر چیز کا احاطہ کرنے والا ہے۔ (عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ (رض) قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) لَوْ أَنَّکُمْ کُنْتُمْ تَوَکَّلُوْنَ عَلَی اللَّہِ حَقَّ تَوَکُّلِہٖ لَرُزِقْتُمْ کَمَا تُرْزَقُ الطَّیْرُ تَغْدُوْ خِمَاصًا وَتَرُوْحُ بِطَانًا) (رواہ الترمذی : باب فِی التَّوَکُّلِ عَلَی اللَّہِ ) ” حضرت عمر بن خطاب (رض) بیان کرتے ہیں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اگر تم اللہ تعالیٰ پر توکل کرو جس طرح توکل کرنے کا حق ہے۔ تو تمہیں اسی طرح رزق دیا جائے جس طرح پرندوں کو رزق دیا جاتا ہے۔ وہ خالی پیٹوں کے ساتھ صبح کرتے ہیں اور شام کو بھرے پیٹوں کے ساتھ لوٹتے ہیں۔ “

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

سورة الطلاق ایک نظر میں اس سورت کا نام الطلاق ہے ، اس لئے کہ اس میں طلاق کے احکام ہیں۔ اس سورت میں طلاق کے احکام کو قدرے تفصیل سے بیان کیا گیا ہے۔ سورة بقرہ میں بھی طلاق کے احکام گزرے ہیں۔ لیکن یہاں تفصیلات ہیں کہ طلاق کی صورت میں کیا خاندانی احکام ہیں۔ اس سورت میں وہ وقت بیایا گیا ہے جس میں طلاق واقع ہوتی ہے ، جسے اللہ قبول کرتا ہے اور جو اللہ کے طریقے کے مطابق ہے۔ یایھا النبی……………لعدتھن (1:65) ” اے نبی جب تم عورتوں کو طلاق دو تو ان کو ان کی عدت کے لئے طلاق دیا کرو “۔ مطلقہ کا یہ حق ہے اور اس پر واجب ہے کہ وہ گھر میں رہے۔ یعنی جس نے اسے طلاق دی ہے اسی کے گھر میں ، یعنی وہ خود بھی گھر سے نہ نکلے اور اسے نکالا بھی نہ جائے ، الایہ کہ وہ کھلی فحاشی کا ارتکاب کرے۔ لا تخرجوھن…………مبینۃ (1:65) ” نہ تم ان کو ان کے گھروں سے نہ نکالو اور وہ نہ وہ خود نکلیں الایہ کہ وہ کسی صریح برائی کی مرتکب ہوں “۔ عدت پوری کرنے کے بعد اس کا حق ہے کہ وہ گھر سے چلی جائے اور پھر اپنے بارے میں خود فیصلہ چاہے کرے۔ ہاں اگر خاوند نے دوران عدت رجوع کرلیا ہو اور اسے روک لیا ہو تو پھر وہ حسب سابق بیوی رہے گی لیکن یہ رجوع اس لئے نہ ہوگا کہ اسے ضرر پہنچائے یا اسے اذیت دے اور اسے معلقہ کی طرح رکھے اور بیوی بناکے نہ رکھے۔ صرف اس صورت میں رجعت ہوسکتی ہے ، جب وہ معروف طریقے سے اسے رکھنا چاہئے۔ فاذا بلغن……………بمعروف (2:65) ” پھر جب وہ اپنی عدت کے خاتمہ پر پہنچیں تو یا انہیں بھلے طریقے سے روک رکھو یا بھلے طریقے پر ان سے جدا ہوجائو “۔ جو بھی فیصلہ کرو رکھنے کا یاجدا کرنے ، اس پر گواہ ٹھہرالو۔ واشھدوا……………منکم (2:65) ” اور دو ایسے آدمیوں کو گواہ بنا لو جو تم میں سے صاحب عدل ہو “۔ سورة بقرہ میں ہے کہ جن عورتوں کو حیض آتا ہے ان کی عدت تین قروء ہے جس کے معنی فقہی اختلافات کے مطابق تین حیض ہیں یا تین طہر ہیں۔ یہاں ان عورتوں کی عدت کے احکام ہیں ، جن کو حیض نہیں آتا ۔ یا چھوٹی ہیں ابھی حیض شروع ہی نہیں ہوا۔ والئی یئسن…………یحضن (4:65) ” اور تمہاری عورتوں میں سے جو حیض سے مایوس ہوچکی ہیں یا ان کے معاملہ میں اگر تم لوگوں کو کوئی شک لاحق ہے تو ان کی عدت تین مہینے ہے۔ یہی حکم ان کا ہے جنہیں ابھی حیض نہ آیا ہو “۔ اور حاملہ عورتوں کی عدت وضع حمل تک ہے۔ و اولات……………حملھن (4:65) ” اور حاملہ عورتوں کی عدت کی حد یہ ہے کہ ان کا وضع حمل ہوجائے “۔ پھر یہ حکم ہے کہ عدت گزارنے والی کہاں عدت گزارے اور جو عورت وضع حمل کا انتظار کررہی ہے اس کا نفقہ کس کے ذمہ ہے۔ اسکنوھن…………حملھن (6:65) ” اور ان کو زمانہ عدت میں اسی جگہ رکھو جہاں تم رہتے ہو ، جیسی کچھ بھی جگہ تمہیں میسر ہو اور انہیں تنگ کرنے کے لئے ان کو نہ ستائو۔ اور اگر وہ حاملہ ہوں تو ان پر اس وقت تک خرچ کرتے رہو جب تک ان کا وضع حمل نہ ہوجائے۔ اگر وضع حمل کے بعد بچے کو دودھ پلانا ہے ، اور زوجین کے درمیان اتفاق ہوجائے کہ یہی والدہ دودھ پلائے ، بچے کی مصلحت کو مدنظر رکھتے ہوئے تو اس کا نفقہ یا انفاق نہ ہو تو کوئی دوسری پلائے۔ فان ارضعن……………لہ اخری (6:65) ” پھر اگر وہ تمہارے لئے دودھ پلائیں تو ان کی اجرت انہیں دو ، اور بھلے طریقے سے ، باہمی گفت و شنید سے طے کرلو ، لیکن اگر تم نے ایک دوسرے کو تنگ کیا تو بچے کو کوئی اور عورت دودھ پلالے گی “۔ اجرت کا معیار کیا ہونا چاہئے۔ تمام حالات میں اجرت خاوند کی مالی استطاعت کے مطابق طے ہونا چاہئے۔ لینفق ذوسعۃ…………ما اتھا (7:65) ” خوشحال آدمی اپنی خوشحالی کے مطابق نفقہ دے اور جس کو رزق کم دیا گیا ہو وہ اسی مال میں سے خرچ کرے جو اللہ نے اسے دیا ہے۔ اللہ نے جس کو جتنا کچھ دیا ہے اس سے زیادہ کا وہ اسے مکلف نہیں کرتا “۔ یوں ان نصوص کے اندر تمام حالات طلاق کے لئے مفصل احکام دے دیئے۔ طلاق کی وجہ سے ٹوٹنے والے خاندان کے تمام بنیادی مسائل یہاں حل کردیئے گئے اور ان احکام کی حکمت بھی بتادی گئی۔ نہایت نرمی ، نہایت باریکی اور نہایت وضاحت کے ساتھ۔ جب انسان اس سورت پر غور کرتا ہے تو وہ حیران رہ جاتا ہے ، اس چھوٹی سی سورت میں وہ تمام احکام دے دیئے گئے ہیں جو کسی ایسے خاندان کو درپیش ہوتے ہیں جس میں بدقسمتی سے طلاق ہوجاتی ہے۔ اس سورت میں تمام متعلقہ احکام وقوانین مفصل بتلائے ہیں لیکن ان احکام کے اندر ہی ترغیب ، ترہیب ، ڈراوا اور ہر حکم پر حکیمانہ تبصرہ کیا گیا ہے۔ اللہ نے یہ ہدایت کی ہے کہ تحلیل شدہ خاندان یہ سمجھے کہ اللہ کی تقدیر اور فیصلہ ہی ایسا ہوگا ، اصل فیصلے زمین وآسمانوں کا مالک آسمان پر کرتا ہے اور پھر یہ بھی اسی سورت میں بتادیا گیا کہ جو لوگ اللہ کے احکام کی خلاف ورزی کرتے ہیں اور اللہ کی نافرمانی کرتے ہیں ، اللہ انہیں ہلاک کرتا ہے۔ اور ان لوگوں کے لئے بڑی وسعت ہوتی ہے جو اس سے ڈرتے ہیں۔ تمام احکام کے درمیان بھی یہی تلقین ہے کہ معروف طریقے سے ، باہم رضامندی سے ، باہم احسان کے ساتھ اور ایثار کے ساتھ ، اور اجر اخروری کا لحاظ رکھتے ہوئے ، معاملات کو طے کرو ، یہ بھی تلقین کی گئی ہے کہ تخلیق اور رزق کے معاملات میں اور رزق کی تنگی اور کشادگی کے معاملات میں اللہ کی تقدیر چلتی ہے۔ سورت کا موضوع ہے معاملہ طلاق لیکن اس کے اندر جا بجا بکثرت عظیم کائناتی حقائق بھی بیان کیے گئے ہیں۔ اور پھر طلاق کے موضوع پر قانون سازی اور ہدایات کو اس قدر اہم سمجھا گیا ہے کہ احکام کے بیان میں خطاب نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو کیا گیا ہے ، خاص آپ کی ذات کو ، حالانکہ احکام وہدایات سب مومنین کے لئے عام ہیں۔ یہ اس لئے کہ دیکھو یہ کوئی بہت اہم معاملہ ہے۔ یا یھا النبی (1:65) ” سے خطاب شروع ہورہا ہے۔ پھر احکام کی تفصیلات دی گئی ہیں ، ایک ایک حالت کا حکم ہوا۔ ہر حکم تو نہایت سخت تاکیدی الفاظ میں بیان کیا گیا ہے کہ ان احکامات پر سختی سے عمل کرو ، ان کے نفاذ میں خدا سے ڈرو ، ان کو اخذ کرنے میں اللہ کو حاضر وناظر سمجھو ، درمیان میں ترغیب ، ترہیب ، تبصروں اور احکام کی علت کے بیان میں تفصیل سے کام لیا گیا ہے۔ سا قدر تفصیل سے کہ انسان سمجھتا ہے کہ شاید اسلام کا مرکزی مضمون ہی قانون طلاق ہے۔ بس یہی دین ہے۔ یہ ایک ایسا موضوع ہے کہ عالم بالا خود فیصلہ کرنے بیٹھا ہے۔ خود اس کی نگرانی کررہا ہے کہ احکام نافذ ہورہے ہیں یا نہیں۔ اور ان احکام کے نفاذ میں جو لوگ تقویٰ اور خدا خوفی کا مظاہرہ کرتے ہیں ان کو اعلیٰ درجے کا مومن کہا جاتا ہے۔ اور جو لوگ ان احکامات میں چالیں چلتے ہیں ، تامل کرتے یا تعمیل میں ہچکچاہٹ کا اظہا کرتے ہیں ، زوجین میں سے کسی کو مضرت پہنچاتے ہیں ان کو سخت ترین سزا کی دھمکی دی جاتی ہے۔ اور اگر زوجین ایک دوسرے کے ساتھ حسن اخلاق کا برتائو کریں ، بھلائی اور آسانی پیدا کرے اور رواداری پیدا کریں اور معروف طریقے سے معاملات طے کریں ، تو اللہ تعالیٰ وعدہ فرماتا ہے کہ جدائی بھی فریقین کے لئے باعث خیر بن سکتی ہے ، اللہ کے خزانے بھرے ہوئے ہیں۔ پھر قارئین ان احکامات کے درمیان آیات کے درج ذیل ٹکڑے پڑھتے ہیں۔ واتقواللہ ربکم (1:65) ” اللہ سے ڈرو جو تمہارا رب ہے “۔ وتلک حدود……………نفسہ (1:65) ” یہ اللہ کی مقرر کردہ حدیں ہیں اور جو کوئی اللہ کی حدوں سے تجاوز کرے گا وہ اپنے اوپر ظلم کرے گا “۔ لاتدری …………امرا (1:65) ” تم نہیں جانتے کہ شاید اس کے بعد اللہ کوئی صورت پیدا کردے “۔ واشھدوا……………الشھادۃ للہ (2:65) ” اور دوای سے آدمیوں کو گواہ بنالو جو تم میں سے صاحب عدل ہوں اور گواہی ٹھیک ٹھیک اللہ کے لئے ادا کرو “۔ ذلکم یوعظ……………الاخر (2:65) ” یہ باتیں ہیں جن کی لوگوں کو نصیحت کی جاتی ہے ، ہر اس شخص کو جو اللہ اور آخرت دونوں پر ایمان رکھتا ہو “۔ ومن یتق…………شیء قدرا (3:65) ” جو اللہ سے ڈرتے ہوئے کام کرے گا اللہ اس کے لئے مشکلات سے نکلنے کا کوئی راستہ پیدا کردے گا اور اسے ایسے راستے سے رزق دے گا جدھر اس کا گمان بھی نہ جاتا ہو۔ جو اللہ پر بھروسہ کرے وہ اس کے لئے کافی ہے۔ اللہ اپنا کام پورا کرکے رہتا ہے۔ اللہ نے ہر چیز کے لئے ایک تقدیر مقرر کررکھی ہے “۔ ومن یتق…………مخرجا (2:65) ” اور جو شخص اللہ سے ڈرے اس کے معاملے میں وہ سہولت پیدا کردیتا ہے “۔ ذلک امر……………الیکم (5:65) ” یہ اللہ کا حکم ہے جو اس نے تمہاری طرف نازل کیا ہے “۔ ومن یتق……………اجرا (5:65) ” اور جو اللہ سے ڈرے گا اللہ اس کی برائیوں کو اس سے دور کردے گا اور اس کو بڑا اجر دے گا۔ سیجعل…………یسرا (7:65) ” بعید نہیں کہ تنگ دستی کے بعد فراخ دستی بھی عطا فرمادے “۔ پھر اسی سورت میں ایک قاری ، ایک شدید ڈرواز بھی پڑھتا ہے جو بہت طویل ہے : وکاین من قریۃ……………شدیدا (10:65) ” کتنی ہی بستیاں ہیں جنہوں نے اپنے رب اور اس کے رسولوں کے حکم سے سرتابی کی تو ہم نے ان سے سخت محاسبہ کیا اور ان کو بری طرح سزا دی۔ انہوں نے اپنے کیے کا مزہ چکھ لیا اور ان کا انجام کار گھاٹا ہی گھاٹا ہے۔ اللہ نے ان کے لئے سخت عذاب مہیا کررکھا ہے “۔ اور اس کے بعد اس قسم کے انجام سے ڈرایا جاتا ہے اور اللہ کی نعمتیں یاد دلائی جاتی ہیں ، خصوصاً اللہ کا رسول تم میں اٹھایا جانا اور اسے ایک ایسا دین عطا کرنا جو نور ہی نور ہے یہ بھی ایک نعمت عظمیٰ ہے۔ اور پھر قیامت کا اجر کبیر جو تیار پڑا ہے۔ ………فاتقوا……………لہ رزقا (11) ” پس اللہ سے ڈرو اے صاحب عقل لوگو ، جو ایمان لائے ہو۔ اللہ نے تمہاری طرف ایک نصیحت نازل کردی ہے۔ ایسا رسول جو تم کو اللہ کی صاف صاف ہدایت دینے والی آیات سناتا ہے تاکہ ایمان لانے والوں اور نیک عمل کرنے والوں کو تاریکیوں سے نکال کر روشنی میں لے آئے۔ جو کوئی اللہ پر ایمان لائے اور نیک عمل کرے اللہ اسے ایسی جنتوں میں داخل کریگا جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی یہ لوگ ان میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے اللہ نے ایسے شخص کے لئے بہترین رزق رکھا ہے “۔ اور اس کے بعد عظیم کائنات میں انسانی فکر کو سمجھایا جاتا ہے۔ اللہ الذی……………شیء علما (12:65) ” اللہ وہ ہے جس نے سات آسمان بنائے اور زمین کی قسم سے بھی انہی کے مانند ، ان کے درمیان حکم نازل ہوتا رہتا ہے تاکہ تم جان لو کہ اللہ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے اور یہ کہ اللہ علم ہر چیز پر محیط ہے “۔ ایک انسان ان سب باتوں کے احکام طلاق کے ضمن میں اور ان تبصروں سے ضمن میں پڑھتا ہے اور یہ دیکھتا ہے کہ قرآن کی ایک پوری سورت صرف خانگی امور سے متعلق وقف ہے ، عائلی مسائل ، طلاق اور طلاق کے بعد کے حالات اور ان معاملات کو اس کائنات ، اور اس کے بارے میں نظریات اور انسانی نفسیات سے منسلک کیا جاتا ہے حالانکہ موضوع زیر بحث تعمیر کے لئے نہیں تخریب کے لئے ہے۔ اور اس میں ایک خاندان کی صرف تحلیل ہورہی ہے۔ نہ کوئی خاندان وجود میں آرہا ہے اور نہ کسی حکومت کی تشکیل کا کوئی مسئلہ ہے۔ جب کہ معلوم یہ ہوتا ہے کہ شاید کسی حکومت کی تشکیل سے بھی بڑا کوئی معاملہ درپیش ہے۔ سوال یہ ہے کہ اس عالمی مسئلہ کو اس قدر اہمیت کیوں دی گئی ہے ؟ اس سے کئی امور معلوم ہوتے ہیں ، ان میں اہم امر یہ ہے کہ دین اسلام ایک بلند مرتبہ اور سنجیدہ دین ہے اور اس کا سرچشمہ انسان نہیں ہے۔ اگر دوسرے شواہد کو نظر انداز بھی کردیا جائے تو صرف یہی ایک سورت ہی اس حقیقت پر کافی شہادت رکھتی ہے۔ پھر اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلامی نظام میں خاندان کو بہت بڑی اہمیت حاصل ہے۔ اسلام دراصل ہے ہی ایک خاندانی نظام۔ اسلامی نظام کے زاویہ سے خاندان ہی ذریعہ سکون ہے اور اس کے ذریعہ لوگ باہم محبت اور شفقت کے مظاہر دیکھتے ہیں ، ایک دوسرے کے ساتھ ہمدردی ، ایک دوسرے کے راز دار ، ایک دوسرے کے ساتھ حسن سلوک ، کردار کی طہارت کے باعث اور ایک دوسرے کے لئے کفیل ہوتے ہیں۔ اس خاندان کے ماحول میں ایک بچہ پیدا ہوتا ہے ، آہستہ آہستہ قدم بڑھاتا ہے ، اور افراد خاندان کے باہم محبت اور باہم کفالت کا انتظام ہوتا ہے۔ قرآن کریم گھریلو زندگی کی نہایت ہی خوبصورت تصویر کھینچتا ہے ، جس کے اندر ہر طرف شفقت کے سائے چھائے ہوئے ہیں۔ ہر طرف رحمت اور شفقت کی خوشبو ہی خوشبو ہے اور نہایت ہی لطیف تعلق کی تروتازگی ہے۔ ومن ایتہ …………ورحمۃ ” اور اس کی نشانیوں میں سے ایک یہ ہے کہ اس نے تمہارے نفسوں سے تمہارے لئے جوڑے بنائے تاکہ تم ان کے پاس سکون حاصل کرو اور تمہارے درمیان محبت اور رحمت پیدا کی “۔ اور دوسری جگہ ہے : ھن لباس…………لھن ” وہ تمہارے لئے لباس ہیں اور تم ان کے لئے لباس ہو “۔ ایک نفس دوسرے نفس کے ساتھ متعلق ہوجاتا ہے اور دونوں کے لئے یہ تعلق سکون وقرار ہے۔ محبت اور رحمت ہے۔ ایک دوسرے کے لئے پردے اور ایک دوسرے کی زینت ہیں۔ انسان خود ان الفاظ کے اندر نہایت مٹھاس اور محبت محسوس کرتا ہے۔ الفاظ کے اندر ہی ایک اچھی فضا اور تروتازگی نظر آتی ہے۔ ان الفاظ سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ اس رابطے اور تعلق کے لئے اسلام کیا حقیقی اساس تجویز کرتا ہے۔ یہ نہایت ہی پختہ تعلق اور نہایت ہی نرم تعلق ہے۔ اور اس تعلق سے وہ اصل مقاصد بھی معلوم ہوتے ہیں جن کے لئے یہ تعلق قائم کیا گیا ہے۔ یہ کہ نسل انسانی کا تسلسل قائم رہے۔ یہ تمام فطری اغراض ومقاصد ایک بڑے مقصد کو پورے کرنے کے لئے ہیں۔ وہ یہ کہ نساء …………لکم ” کہ تمہاری بیویاں تمہارا کھیت ہیں “۔ اس تعلق سے بڑا مقصد یہ ہے کہ نسل انسانی کے بڑھانے کا انتظام ہو۔ لیکن یہ مقصد اور اس سے متعلق تمام دوسرے مقاصد نہایت پاکیزگی ، طہارت کے رنگ میں ہوں ، یہ تعلق ایک بامقصد اور سنجیدہ تعلق ہو ، اور تمام آلودگیوں سے پاک ہو۔ اس ابتدائی یونٹ یا خلئے یا نرسری کی اسلامی نظام پوری حفاظت کرتا ہے۔ اور اسے بقا کی پوری پوری ضمانتیں عطا کرتا ہے ۔ اسلام اس خلیے کو ، محض اخلاقی اور روحانی اشراق کے ذریعہ نشوونما نہیں دیتا بلکہ وہ اس کو مکمل دستوری اور قانونی تحفظات بھی دیتا ہے۔ جو شخص اسلام کے عائلی قانون پر ایک سرسری نگاہ ڈالے اور اس سلسلے میں قرآن وسنت کی ہدایات کو غور سے پڑھے ، کہ قرآن وسنت نے مختلف حالات میں کیا کیا ہدایات دی ہیں اور پھر ان قانونی ، اخلاقی ہدایات کے ساتھ ساتھ ، ان پر کس قدر دلائل اور حکمتیں اور تبصرے اور سبق آموز نتائج دیتے ہیں۔ اور جس طرح ان تمام حالات کو اللہ کی ذات سے جوڑا گیا ہے ، جیسا کہ اس سورت میں آپ نے بطور نمونہ دیکھ لیا۔ تو وہ بڑی سہولت سے پوری طرح اس حقیقت کا ادراک کرلیتا ہے کہ اسلامی نظام میں معاشرتی نظام کو بہت اہمیت دی گئی ہے اور اللہ کے نزدیک اس کو بڑی اہمیت حاصل ہے۔ سورة نساء کے آغاز ہی میں اللہ نے فرمایا کہ مجھ سے ڈرو اور رحم کے حقوق سے ڈرو۔ ذرا پیچھے چلئے اس آیت کو دوبارہ پڑھیں۔ یایھا الناس……………رقیبا (1:4) ” اے لوگو ! اپنے رب سے ڈرو جس نے تم کو ایک جان سے پیدا کیا اور اس جان سے اس کا جوڑا بنایا اور ان دونوں سے بہت سے مرد اور عورت پھیلائے۔ اسی خدا سے ڈرو جس کا واسطہ دے کر تم ایک دوسرے سے اپنا حق مانگتے ہو اور رشتہ و قرابت کو بگاڑنے سے پرہیز کرو۔ یقین جانو کہ اللہ تم پر نگرانی کررہا ہے “۔ اور سورة اسراء میں اللہ کی عبادت اور والدین کے ساتھ احسان کو ایک سطح پر رکھا گیا۔ وقضی ……………احسانا (23:17) ” تیرے رب نے فیصلہ کردیا ہے کہ تم لوگ کسی کی عبادت نہ کرو مگر اس کی اور والدین کے ساتھ نیک سلوک کرو “۔ پھر سورة لقمان میں اللہ کے شکر اور والدین کے شکر کو ایک ساتھ لایا گیا۔ ان ش کرلی ولوالدیک ” شکر کرو میرا اور اپنے والدین کا “۔ اسلامی نظام میں خاندان کی نگہداشت اور حفاظت پر اس لئے زور دیا گیا ہے کہ خالق کے نظام تخلیق میں انسانی زندگی کو ایک خاندان کی صورت میں تسلسل دیا گیا ہے۔ اللہ نے انسانیت کا پہلا خلیہ آدم اور حوا کو قرار دیا۔ لوگ بعد میں اسی خاندان سے زیادہ ہوکر پھیلے۔ اللہ اس پر قادر تھا کہ وہ لوگوں کو کئی ملین کی تعداد میں ایک ہی بار پیدا کردیتا۔ لیکن اللہ نے ماں اور باپ پر مشتمل ایک خاندان کو حیات انسانی کے لئے گہوارہ بنا کر اس منہاج پر نسل کو چلایا۔ کیونکہ ایک خاندان ہی بچے کی فطری ضروریات کو پورا کرسکتا ہے۔ اس کے ماحول ہی میں اس کی استعداد بڑھ سکتی ہے اور خاندان ہی میں اس کی شخصیت اور اس کی قابلیت پروان چڑھ سکتی ہے۔ خاندان ہی میں وہ گہرے اثرات لے سکتا ہے۔ اس کے بعد پھر اللہ تعالیٰ نے اسلامی نظام زندگی بھی اپنی تخلیق کے نظام کے مطابق بناتے ہوئے اس کی انہی خطوط پر شیرازہ بندی کی ، جس طرح انسانیت کی تخلیق ایک خاندانی نظام کے مطابق ہے ، جس طرح اسلامی نظام قانون میں خاندان کی اہمیت ہے اسی طرح اسلامی نظام اور اسلامی قانون بھی نظام فطرت کے مطابق ہیں۔ دوسرا اہم نکتہ یہ ہے کہ اسلامی نظام حیات اور قرآن وسنت نے عائلی زندگی اور خاندانی نظام کو جو بےحد اہمیت دی گئی ہے اس کا مقصد اس نظام کو خدا کے ساتھ پیوست کرکے ایک مقدس رنگ دینا ہے۔ یہ نظام اور معاہدہ زوجیت صرف ایک سول معاہدہ ہی نہیں بلکہ یہ ایک مقدس بندھن ہے۔ اس کے ذریعہ اللہ تعالیٰ مومنین کے اندر ایک روحانی پاکی اور شعوری صفائی فرماتا ہے۔ جبکہ بت پرستانہ اور دوسرے تحریف شدہ اور گمراہانہ ادیان میں اس کو کوئی اہمیت نہیں دی گئی۔ اس میں شک نہیں کہ اسلامی فطرت کے تقاضوں کے ساتھ جنگ نہیں کرتا۔ نہ فطری تقاضوں کو ایک گندا عمل قرار دیتا ہے بلکہ اسلامی فطری خواہشات کو منظم کرکے اور پاکیزہ راہوں سے اسے بلند کرتا ہے۔ اور ان تقاضوں کو اسلام خالص حیوانی سطح سے اٹھا کر اس بلند مقام تک لے جاتا ہے کہ بیشمار نفسیاتی ، اجتماعی اور سماجی آداب کے لئے یہ تقاضے محور کا کام دیتے ہیں۔ اس کے بعد پھر جنسی تعلقات نہایت اعلیٰ درجے کے انسانی شعور پر مبنی ہوجاتے ہیں۔ اسی طرح کہ جب دو جسم آپس میں ملتے ہیں تو اس کے نتیجے میں دو دل بھی مل جاتے ہیں ، دو روحیں بھی مال جاتی ہیں بلکہ دو انسان آپس میں ایک ہوجاتے ہیں۔ مشترکہ زندگی ان کو باہم مربوط کرتی ہے۔ ان کی امیدیں مشترکہ ہوتی ہیں۔ ان کے درد اور دکھ ایک ہوتے ہیں ، ان کا مستقبل ایک ہوتا ہے اور اولاد کی صورت میں تو ان جسم بھی ایک ہوجاتے ہیں۔ کیونکہ یہ اولاد اک گھر میں پیدا ہوتی ہے اور یہ اولاد پھر والدین کے اندر ان کے ازدواجی رشتے کو اور مربوط اور مستحکم کردیتی ہے۔ اسلام ازدواجی زندگی کی پاکیزگی اور بلندی کا ذریعہ قرار دیتا ہے۔ اس لئے اسلام حکم دیتا ہے کہ لڑکے اور لڑکیوں کے درمیان شادی کا انتظام کرو۔ وانکحوا …………من فضلہ ” تم میں سے جو لوگ مجرد ہوں اور تمہارے لونڈی ، غلاموں میں سے جو صالح ہو ان کے نکاح کر دو ، اگر وہ غریب ہوں تو اللہ اپنے فضل سے ان کو غنی کردے گا ، اللہ بڑی وسعت والا اور علیم ہے۔ اور جو نکاح کا موقعہ نہ پائیں انہیں چاہئے کہ عفت مآبی اختیار کریں۔ یہاں تک کہ اللہ اپنے فضل سے ان کو غنی کردے “۔ اسلامی قانون نے شادی شدہ مرد اور عورت کو محصن اور محصنات کہا ہے ، یعنی بچے ہوئے لوگ۔ مقصد یہ ہے کہ بغیر شادی کے رہنا اگرچہ ایک نہایت ہی معمولی عرصہ ہو ، اللہ اس سے راضی نہیں ہوتا۔ حضرت علی (رض) نے فرمایا ” مجھے یہ ڈر لگا کہ میں اللہ سے ملوں اور رنڈوا ہوں “۔ یہ بات انہوں نے اس وقت کہی جب حضرت فاطمہ (رض) کی وفات کے بعد جلد انہوں نے شادی کرلی۔ یوں نکاح کرنا اسلامی نظام اور دین اسلام میں عبادات میں شمار ہوتا ہے اور اس کا درجہ اسی طرح ہے جس طرح دوسری عبادات ہوتی ہیں۔ تیسرا نکتہ یہ ہے کہ اسلام کے عائلی قوانین پر نظر ڈالی جائے تو یہ نہایت ہی فطری لیکن حقیقت پسندانہ قوانین ہیں۔ یہ عائلی تعلقات اور ان کے ضابطے انسانوں کو انسان سمجھ کر بنائے گئے ہیں۔ فطری انداز کے عائلی روابط کو پھر اٹھا کر بلند اور مقدس مقام تک لے جایا گیا ہے۔ زندگی کے حقیقی حالات اور انسان کی حقیقی سطح اور اس کی صلاحیت کو سامنے رکھتے ہوئے۔ یہ چونکہ دو دلوں کے اندر جوڑ پیدا کرنا ہوتا ہے ، اس لئے اسلام نے ان روابط کی شیرازہ بندی میں صرف قانونی اقدامات پر ہی اکتفا نہیں کیا ، نہ صرف اخلاقی وعظ پر فریقین کو چھوڑ دیا گیا ہے بلکہ قانونی ضوابط بھی وضع کیے گئے ہیں۔ اخلاقی ہدایات بھی دی گئی ہیں۔ خدا کے خوف سے بھی ڈرایا گیا ہے ، لیکن ان کے ساتھ ساتھ انسان کے حقیقی نفسیاتی حالات کو بھی پیش نظر رکھا گیا ہے۔ اسلام نے عائلی تعلقات کے اندر سب سے زیادہ اہمیت اس بات کو دی ہے کہ یہ تعلقات دائمی ہوں اور چلتے رہیں۔ اور ان تعلقات کو جاری رکھنے کے لئے اسلام نے کافی ضمانتیں فراہم کی ہیں۔ اسلام نے زوجین کو کہا ہے کہ رشتہ ازدواج دراصل ایک مقدس رشتہ اور عبادت ہے۔ اس کے قیام کے لئے سرکاری بجٹ میں مدرکھی گئی ہے۔ فقراء کے لئے اور فقیرات کے نکاح کے لئے معاونت رکھی ہے۔ پھر زینت کی نمائش کو ممنوع قرار دیا ہے کہ محروم لوگوں کے اندر جنسی اشتعال نہ ہو۔ یہ نہ ہو کہ بازاروں میں حسن پھرے اور اس کے پیچھے دیوانے لگے ہوئے ہوں۔ اسلام نے حد زنا ، اور حد قذف کا قانون جاری کیا۔ گھروں کے اندر داخلے کے لئے استیذان کا قانون جاری کیا۔ اور خود ایک گھر میں رہنے والے لوگوں سے بھی کہا گیا کہ جب وہ گھر میں داخل ہوں تو اجازت لے کر آئیں۔ اسلام نے ازدواجی تعلقات کے لئے ایک متعین قانون بنایا ، پھر گھر کا انتظام مرد کے ہاتھوں میں دیا اور اسے گھر کا منتظم اعلیٰ مقرر کیا۔ کیونکہ جسمانی اور ذہنی صلاحیتوں کے لحاظ سے وہ قوی تر ہے تاکہ خاندان کے انتظام میں انتشار نہ ہو ، غرض خاندانی نظام کے بچانے کے لئے اسلام نے ہر ذریعہ استعمال کیا۔ جذباتی ہدایات نیز تعلقات کو اللہ کی نگانی میں دینا اور ان کے سلسلے میں خدا خوفی پیدا کرنا بھی خاندانی نظام کے استحکام کے لئے ہیں۔ غرض اسلام نے ان تعلقات کو صرف جذبات کے حوالے نہیں کیا۔ لیکن ان تمام قانونی ، اخلاقی اور دینی انتظامات کے باوجود بعض اوقات ایسے عملی حالات پیدا ہوجاتے ہیں کہ کوئی خاندانی یونٹ قائم نہیں رہ سکتا۔ یہ حالات چونکہ عملی اور حقیقی ہوتے ہیں ، اس لئے اسلام نے ایسے حالات کے لئے بھی ایک عملی ضابطہ اختیار کیا ہے ، کہ اگر زوجین کے درمیان اس قدر تلخی ہوگئی ہو کہ ان کا یکجا رہنا ممکن نہ ہو تو اسلام اس قسم کی کوئی عبث کوشش نہیں کرتا کہ فریقین کو زبردستی جوڑے رکھا جائے اور اگر تحلیل کی ضرورت ہو تو اس کیلئے راہ چھوڑتا ہے لیکن : اسلام یہ اجازت نہیں دیتا کہ اس ابتدائی یونٹ میں معمولی خرابی ہوتے ہی اسے تحلیل کردیا جائے بس معمولی اختلاف ہو اور فوراً طلاق واقع ہوجائے۔ اسلام اس یونٹ کو بچانے کی پوری پوری سعی کرتا ہے اور تحلیل کی اجازت اس وقت دیتا ہے جب بچنے کی کوئی صورت نہ رہے۔ مکمل مایوسی ہوجائے۔ چناچہ اسلام کا حکم یہ ہے خصوصاً مردوں سے کہا جاتا ہے : وعاشروھن……………خیرا کثیرا (19:4) ” اور ان کے ساتھ بھلے طریقے سے زندگی بسر کرو ، اگر وہ تمہیں ناپسند ہوں تو ہو سکتا ہے کہ ایک چیز تمہیں پسند نہ ہو ، مگر اللہ نے اسی میں بہت کچھ بھلائی رکھ دی ہو “۔ اگر کوئی خاوند بیوی کو ناپسند بھی کرتا ہو ، پھر بھی قرآن اسے آمادہ کرتا ہے کہ ذرا صبر سے کام لو ، طلاق کے فیصلے میں جلدی نہ کرو اور ان کو امید دلاتا ہے کہ ” ہوسکتا ہے کہ ایک چیز تمہیں پسند نہ ہو مگر اللہ نے اس میں بہت کچھ بھلائی رکھ دی ہو “۔ کیا پتہ ہے کہ ان مکروہ عورتوں ہی میں تمہارے لئے بھلائی ہو۔ اور یہ خیر ان کے ذریعے آنیوالی ہو۔ لہٰذا ان کو چاہئے کہ اس خیر سے اپنے آپ کو محروم نہ کریں۔ یہ ایک نہایت ہی بلیغ انداز ہے جس کے ذریعہ قرآن کریم محبت اور حسن سلوک کے جذبات کو زندہ کرتا ہے اور نیز اس بلیغ انداز سے کراہت اور ناپسندیدگی کی سختی کو نرمی سے بدلنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ جب یہ نفاق اس قدر بڑھ گیا کہ محض ناپسندیدگی نہیں رہی بلکہ اس سے آگے بڑھ کر عورت کی طرف سے نافرمانی اور نشوز پیدا ہوگیا ہے پھر بھی طلاق آخری حل نہیں ہے بلکہ فریقین کے درمیان اس تنازعہ کو رفع کرنے کی کوشش ہونی چاہئے۔ وان خفتم……………خبیرا (35:4) ” اگر تم لوگوں کو کہیں میاں بیوی کے درمیان تعلقات بگڑنے کا اندیشہ ہو تو ایک حکم مرد کے رشتہ داروں میں سے اور ایک عورت کے رشتہ داروں میں سے مقرر کرو ، وہ دونوں اصلاح کرنا چاہیں تو اللہ ان کے درمیان موافقت کی صورت نکال دے گا ، اللہ سب کچھ جانتا ہے اور باخبر ہے “۔ اور دوسری جگہ ہے : وان امراۃ……………خیر (128:4) ” اگر کسی عورت کو اپنے شوہر سے بدسلوکی یا بےرخی کا خطرہ ہو تو کوئی مضائقہ نہیں کہ میاں بیوی آپس میں صلح کرلیں۔ صلح بہرحال بہتر ہے “۔ اگر جرگہ سے بھی مصالحت نہ ہو ، اور کوئی صورت نہیں ہے کہ یہ یونٹ بچ سکے اور اس سلسلے میں کی جانے والی تمام کوششیں رائیگاں گئی ہیں اور جس قدر دبائو پڑتا ہے ، حالات اور خراب ہوتے ہیں تو حکمت اور دانش مندی کا تقاضا یہ ہے کہ واقعات کو تسلیم کرلیا جائے۔ پھر اس قسم کی باہم جکڑی ہوئی زندگی کو سالام بھی پسند نہیں کرتا تو آخری حل سامنے آتا ہے اور یہ جائز قرار پاتا ہے لیکن جائز ہونے کے باوجود ۔ (ابغض الحلال عنداللہ الطلاق “۔ (اللہ کے نزدیک طلاق ناپسندیدہ ترین حلال امر ہے) اب اگر خاوند طلاق کا آخری فیصلہ کرلے تو پھر اس کے لئے یہ جائز نہیں ہے کہ فوراً ہی تعلقات کاٹ دے۔ سنت طریقہ طلاق یہ ہے کہ طلاق یوں دی جائے کہ جب عورت ایام ماہواری سے فارغ ہو تو قبل اس کے کہ خاوند اس کے ساتھ ہم بستری کرے اسے ایک طلاق دے دے۔ اس کے بعد دوسری بار عورت اس طرح فارغ ہو تو دوسری طلاق دے۔ تیسرے مہینے وہ اسی طرح فارغ ہو تو تیسری بار طلاق دے۔ اس کا مقصد یہ ہے کہ خاوند غصے میں آکر یکدم تعلقات کاٹ نہ دے۔ اس طریقہ طلاق کا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ طلاق رجعی ہوتی ہے۔ اس دوران اگر کوئی صورت پیدا ہوجائے تو خاوند رجوع کرسکتا ہے۔ اسی طرح دوسری طلاق بھی رجعی ہوگی پھر بھی وہ رجوع کرسکتا ہے۔ اگر دو ماہ میں بھی ان کے درمیان کوئی صلح نہ ہوسکے تو پھر آخری بار طلاق فائنل ہوگی۔ اس کے بعد پھر عدت کا دور آتا ہے۔ اگر کسی عورت کو ایام ہوتے ہیں تو تین بار ایام سے پاکی سے عدت گزر جائے گی ۔ اور جس عورت کا حمل ہو تو وضع حمل سے اس کی عدت گزر جائے گی اور جس کا حمل بھی نہ ہو اور حیض بھی نہ آتا ہو اس کی عدت تین ماہ ہگی۔ اسی طرح نابالغ کی عدت بھی تین ماہ ہوگی۔ اگر عدت جاری ہو تو دوران عدت خاوند رجوع کرکے تعلقات کو پھر سے بحال کرسکتا ہے۔ (اگر تین طلاق بیک وقت دے دی ہوں اور عدت گزرہی ہو تو احناف کے نزدیک رجوع کا اختیار نہ ہوگا) ۔ لیکن اسلام کی یہ تمام کوششیں اس بات کی نفی نہیں کرتیں کہ قطعی جدائی نہیں ہوسکتی۔ اسلام حقیقت پسندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ایسے حالات کو تسلیم کرتا ہے اور ایسے حالات کے لئے قانونی اقدامات بھی کرتا ہے۔ جدائی کی صورت میں ذمہ داریوں کا تعین بھی کرتا ہے۔ اس سورت میں ایسے ہی حالات کے لئے مفصل قانون سازی کی گئی ہے۔ ان قانونی اقدامات سے معلوم ہوتا ہے کہ دین اسلام کس قدر فطری اور واقفیت پسند دین ہے۔ اور اس نے انسان کی زندگی کے مسائل کو کس قدر خوبصورتی کے ساتھ حال کیا ہے اور انسان کو آگے بڑھایا ہے بلکہ اسے آسمانوں تک بلند کرکے معرفت الٰہیہ سے نوازا ہے۔ اس سورت سے چوتھا نکتہ یہ معلوم ہوتا ہے کہ اس وقت اسلامی سوسائٹی میں جاہلیت سے ورثے میں ملے ہوگی بعض عملی مسائل موجود تھے۔ یہ مسائل اور رسم و رواج پہلے سے عملاً اسلامی سوسائٹی میں چلے آرہے تھے۔ اس لئے اسلامی سوسائٹی کو خاندانی نظام کی تشکیل جدید کے لئے ترغیب ، ترہیب ، تبصرے ، حکمتوں اور احکامات پر عمل کرنے کی شدید تاکید کی ضرورت پیش آئی۔ ان مسائل کی وجہ سے عورت ظلم کی چکی میں پس رہی تھی۔ اور ہر معاملے میں اس پر مظالم ہوتے تھے جس کی وجہ سے ان احکامات کے نفاذ میں اس قدر تشدید کی ضرورت پیش آئی۔ اس لئے نفسیاتی دلائل ، نہایت باریک قانونی تفصیلات اور خدا خوفی کی بار بار اپیلیں کرنی پڑیں تاکہ لوگوں کو ان جدید احکام میں تاویل کرنے ، اور پہلوتہی کرنے کا موقعہ ہی نہ ملے۔ کیونکہ اسلام سے پہلے مرد عورت کے تعلقات کسی ضابطے کے پابندنہ تھے اور مرد جس وقت چاہتا تھا ، خاندان کا شیرازہ بکھیر دیتا تھا۔ عورت پر مظالم کے یہ حالات صرف جزیرۃ العرب تک محدود نہ تھے۔ اس وقت کی پوری دنیا میں عورتوں پر مظالم ہورہے تھے۔ پوری دنیا میں عورت ، غلاموں سے بھی بدتر حالات میں زندگی بسر کررہی تھی بلکہ دوسری جگہوں میں تو عورت کے ساتھ تعلق کو ایک گندہ تعلق سمجھا جاتا تھا۔ اور عورت کو شیطان کا ہتھیار سمجھا جاتا تھا۔ جب اسلام آیا تو اس نے عورت کو اس گرے ہوئے مقام سے اوپر بلند کیا اور مرد عورت کے تعلقات کو بالکل مساوی سطح پر لاکر اسے وہ تقدس بخشا جس کی طرف ہم نے گزشتہ صفحات میں اشارہ کیا ہے۔ قدروقیمت ، حقوق ، تحفظات کے اعتبار سے عورت کو بالکل ایک جدید زندگی بخشی ۔ اب وہ ایک ایسی بچی نہیں ہے جسے زندہ درگور کردیاجائے ، جس کی توہین کی جائے۔ اب وہ ایک ایسی خود مختار ہستی ہے۔ کہ اس کی اجازت کے بغیر اس کا نکاح نہیں ہوسکتا ، خواہ وہ باکرہ ہو یا شادی شدہ ہو ، وہ اگر کسی کی عورت ہے تو اس کے لئے حقوق اور تحفظات ہیں۔ اور یہ حقوق قانونی حقوق ہیں ، محض رسم و رواج نہیں ہیں۔ مطلقہ ہے تو اس کو دو حقوق حاصل ہیں جو اس سورت میں مفصل ہیں۔ اسلام نے عورت کو یہ حقوق اس وقت دیئے جبکہ جزیرۃ العرب یا دنیا کے کسی خطے میں ، کسی عورت کے اندر یہ سعور نہ تھا کہ معاشرہ نے ان کو جو مقام دیا ہوا ہے وہ ان کے استحقاق سے فروتر ہے۔ اور یہ حقوق اسلام نے عورت کو اس لئے بھی نہ دیئے تھے کہ خود مردوں کے اندر یہ شعور بیدار ہوگیا تھا کہ عورت پر ظلم ہورہا ہے ، نہ یہ حقوق اس لئے دئیے گئے تھے کہ عربی عورتوں کی کوئی انجمن تھی ، وہ مطالبہ کررہی تھی ۔ یا اس لئے بھی حقوق اسلام نے نہیں دیئے کہ کچھ عورتیں مکہ کے دارالندوہ کی ممبربن گئی تھیں یا مجلس شوریٰ اور پارلیمنٹ کی ممبر بن گئی تھیں۔ یا اس لئے کہ اس کرہ ارض کے اوپر کہیں سے کوئی آواز ان کے حقوق کے لئے اٹھ گئی تھی۔ یہ تو اللہ تعالیٰ نے انسانوں کے لئے از خود یہ شریعت بھیجی ، اللہ بادشاہ وسماوات نے اہل زمین رحم کیا۔ اور حکم دیا کہ عائلی زندگی کو اس گراوٹ سے بلند کیا جائے۔ اور عائلی تعلقات کو شرعی اصولوں پر استوار کیا جائے۔ یہ کہ زوجین نفس واحدہ ہیں اور ان کے حقوق بھی بحیثیت انسان برابر ہیں۔ یہ ہے ایک بلند اور ارفع دین۔ اس سے وہی شخص منہ موڑ سکتا ہے جو اندھا ہے اور اس میں عیب وہی تلاش کرتا ہے جو پسماندہ ذہنیت رکھتا ہے۔ اور اس کے ساتھ وہی جنگ کرتا ہے جو منحوس اور کمینہ ہو ، اس لئے کہ اللہ کی شریعت کو ترک کرکے انسانوں کی شریعت وہی شخص اختیار کرتا ہے جو ہوائے نفس کا غلام ہو۔ میں سمجھتا ہوں اس سورت پر اس قدر تبصرہ کافی ہے اور اب مناسب ہے کہ ہم اس کی آیات پر تفصیل کے ساتھ گفتگو کریں۔ تبصرہ بھی سورت کی فضا سے کچھ زیادہ بعید نہیں ہے ، نہ غیر متعلق ہے۔ نہ اس بارے میں فضا سے دور ہے۔ جس میں اسلامی جماعت کی تشکیل اور تنظیم پر زور دیا گیا ہے۔ ہاں البتہ تفصیلی احکام اس مجمل تبصرے سے قدرے مختلف ہوں گے۔ تفصیل سے معلوم ہوگا کہ وہ زندہ ، متحرک ، باشعور ، ہدایت پذیر سوسائٹی کی عملی باتیں ہیں۔ اور یہی فرق ہے قرآن وسنت کے احکام اور کتب فقہ کے احکام کا۔ فقہ اور اصول فقہ کے احکام کا وہ رنگ نہیں ہوتا جو قرآن میں بیان احکام کے وقت ہوتا ہے کیونکہ قرآن میں احکام کے ساتھ ہدایات اثر اندازی اور اثر پذیری بھی ساتھ ساتھ نمایاں نظر آتی ہے جبکہ فقہ و قانون میں خشک احکام ہی ہوتے ہیں۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi