Surat ut Tallaq

Surah: 65

Verse: 10

سورة الطلاق

اَعَدَّ اللّٰہُ لَہُمۡ عَذَابًا شَدِیۡدًا ۙ فَاتَّقُوا اللّٰہَ یٰۤاُولِی الۡاَلۡبَابِ ۬ ۚ ۖ ۛ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا ؕ ۟ ۛ قَدۡ اَنۡزَلَ اللّٰہُ اِلَیۡکُمۡ ذِکۡرًا ﴿ۙ۱۰﴾

Allah has prepared for them a severe punishment; so fear Allah , O you of understanding who have believed. Allah has sent down to you the Qur'an.

ان کے لئے اللہ تعالٰی نے سخت عذاب تیار کر رکھا ہے ، پس اللہ سے ڈرو اے عقل مند ایمان والو ۔ یقیناً اللہ نے تمہاری طرف نصیحت اتار دی ہے ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

أَعَدَّ اللَّهُ لَهُمْ عَذَابًا شَدِيدًا ... and the consequence of its affair was loss. And Allah has prepared for them a severe torment. means, in the Hereafter, added to the torment that was sent down on them in this life. Allah the Exalted said, after mentioning what happened to the disbelieving nations, فَاتَّقُوا اللَّهَ يَا أُوْلِي الاْاَلْبَابِ ... So have Taqwa of Allah, O men of understanding, meaning, `O you who have sound understanding, do not be like them because if you do, you will suffer what they suffered, O people of comprehension,' ... الَّذِينَ امَنُوا ... who believe, meaning, in Allah and His Messengers, ... قَدْ أَنزَلَ اللَّهُ إِلَيْكُمْ ذِكْرًا Allah has indeed sent down to you a Reminder. meaning, this Qur'an. Allah also said, إِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَ وَإِنَّا لَهُ لَحَـفِظُونَ Verily, We, it is We Who have sent down the Dhikr and surely, We will preserve it. (15:9) The Qualities of the Messenger Allah's statement,

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٢٤] ذکر کے مختلف مفہوم :۔ آیت نمبر ١٠ میں ذکر سے مراد قرآن کریم ہے اور یہ لفظ ان معنوں میں قرآن کریم میں متعدد بار استعمال ہوا۔ مثلاً ارشاد باری ہے : ( اِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَ وَاِنَّا لَهٗ لَحٰفِظُوْنَ ۝) 15 ۔ الحجر :9) && یعنی ہم ہی نے یہ قرآن نازل کیا ہے اور ہم ہی اس کی حفاظت کرنے والے ہیں && واضح رہے کہ ذکر کا لغوی معنی یاددہانی اور نصیحت ہے۔ یعنی یہ قرآن انسان کو عہد الست کی بھی یاددہانی کراتا ہے۔ اور سابقہ رسولوں کی تعلیمات کی بھی۔ اور ذکر کو اگر اس کے وسیع معنوں میں لیا جائے تو اس سے مراد وہ تمام وحی ہے جو آپ پر نازل ہوئی۔ اور جو قرآن کی ہی تفسیر و تعبیر پیش کرتی ہے۔ یعنی اللہ نے صرف قرآن کے الفاظ کی حفاظت کی ذمہ داری نہیں لی بلکہ اس کی صحیح تفسیر و تعبیر کی حفاظت کی بھی ذمہ داری لے رکھی ہے۔ جس سے ہر باطل پرست کے نظریہ کو پرکھا جاسکتا ہے۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

١۔ اَعَدَّ اللہ ُ لَھُمْ عَذَابًا شَدِیْدًا : پچھلی آیات میں دنیا کے عذاب کا ذکر تھا ، اس میں آخرت کے عذاب کا ذکر ہے۔ ٢۔ فَاتَّقُوا اللہ یٰٓـاُولِی الْاَلْبَابِ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا : یہ ” فائ “ فصیحہ ہے جو محذوف شرط کا اظہار کر رہی ہے ، یعنی جب تم ان بستیوں کا حال سن چکے جنہوں نے اللہ اور اس کے رسولوں کے احکام سے سرکشی اختیار کی تو اے عقل والوں جو ایمان لا چکے ہو ! تم اللہ اور اس کے رسول کے احکام کی نافرمانی سے بچ جاؤ۔ ٣۔ قَدْ اَنْزَلَ اللہ ُ اِلَیْکُمْ ذِکْرًا :” ذکرا “ پر تنوین تعظیم کی ہے ، عظیم نصیحت۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

قَدْ أَنزَلَ اللَّـهُ إِلَيْكُمْ ذِكْرً‌ا رَّ‌سُولًا (Allah has sent down to you a Reminder, a messenger...65:10-11). The verb arsala &sent& needs to be understood preceding the object rasulan &a messenger& which appears at the commencement of verse [ 11]. The simplest way in which these verses can be interpreted is to translate them thus: &Allah has sent down to you a Reminder, (the Qur&an and He has also sent to you) a messenger...65:11) Other commentators have preferred other interpretations. For instance some say that the word dhikr (&Reminder& ) refers to the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) himself, and the word &messenger& is an explanatory complement to the word &dhikr&, because abundance of his remembering Allah made him a personified Remembrance of Allah. [ Ruh ] 1 [ 1] This explanation is based on the premise that &dhikr& in this verse means &Allah&s remembrance&. However, it also means &reminder&. Taken in this sense, the word &messenger& in the verse can be easily interpreted as an explanatory complement to the word &dhikr&, because the Holy Prophet is a &Reminder& to the entire mankind. Our translation in the text is based on this connotation. (Muhammad Taqi Usmani)

(آیت) قَدْ اَنْزَلَ اللّٰهُ اِلَيْكُمْ ذِكْرًا، رسولاً اس آیت کی آسان توجیہ یہ ہے کہ یہاں لفظ ارسل محذوف مانا جائے تو معنے یہ ہوں گے کہ نازل کیا ذکر یعنی قرآن کو اور بھیجا رسول کو خلاصہ تفسیر میں اسی کو اختیار کر کے تفسیر کی گئی ہے حضرات مفسرین نے دوسری توجیہات بھی کلھی ہیں مثلاً یہ کہ ذکر سے مراد خود رسول ہوں کہ ذکر اللہ کی کثرت کے سبب ان کا وجود گویا خود ذکر اللہ بن گیا وغیرہ ذلک (روح)

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

اَعَدَّ اللہُ لَہُمْ عَذَابًا شَدِيْدًا۝ ٠ ۙ فَاتَّقُوا اللہَ يٰٓاُولِي الْاَلْبَابِ۝ ٠ڀ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا۝ ٠ ۭۣۛ قَدْ اَنْزَلَ اللہُ اِلَيْكُمْ ذِكْرًا۝ ١٠ ۙ عد ( اعداد) والإِعْدادُ مِنَ العَدِّ كالإسقاء من السَّقْيِ ، فإذا قيل : أَعْدَدْتُ هذا لك، أي : جعلته بحیث تَعُدُّهُ وتتناوله بحسب حاجتک إليه . قال تعالی: وَأَعِدُّوا لَهُمْ مَا اسْتَطَعْتُمْ [ الأنفال/ 60] ، وقوله : أُولئِكَ أَعْتَدْنا لَهُمْ عَذاباً أَلِيماً [ النساء/ 18] ، وَأَعْتَدْنا لِمَنْ كَذَّبَ [ الفرقان/ 11] ، وقوله : وَأَعْتَدَتْ لَهُنَّ مُتَّكَأً [يوسف/ 31] ، قيل : هو منه، وقوله : فَعِدَّةٌ مِنْ أَيَّامٍ أُخَرَ [ البقرة/ 184] ، أي : عدد ما قد فاته، وقوله : وَلِتُكْمِلُوا الْعِدَّةَ [ البقرة/ 185] ، أي : عِدَّةَ الشّهر، وقوله : أَيَّاماً مَعْدُوداتٍ [ البقرة/ 184] ، فإشارة إلى شهر رمضان . وقوله : وَاذْكُرُوا اللَّهَ فِي أَيَّامٍ مَعْدُوداتٍ [ البقرة/ 203] ، فهي ثلاثة أيّام بعد النّحر، والمعلومات عشر ذي الحجّة . وعند بعض الفقهاء : المَعْدُودَاتُ يومُ النّحر ويومان بعده فعلی هذا يوم النّحر يكون من المَعْدُودَاتِ والمعلومات، والعِدَادُ : الوقت الذي يُعَدُّ لمعاودة الوجع، وقال عليه الصلاة والسلام :«ما زالت أكلة خيبر تُعَادُّنِي» وعِدَّانُ الشیءِ : عهده وزمانه . ( ع د د ) العدد الاعداد تیار کرنا مہیا کرنا یہ عد سے ہے جیسے سقی سے اسقاء اور اعددت ھذا لک کے منعی ہیں کہ یہ چیز میں نے تمہارے لئے تیار کردی ہے کہ تم اسے شمار کرسکتے ہو اور جس قدر چاہو اس سے حسب ضرورت لے سکتے ہو ۔ قرآن میں ہے : ۔ وَأَعِدُّوا لَهُمْ مَا اسْتَطَعْتُمْ [ الأنفال/ 60] اور جہاں تک ہوسکے ( فوج کی جمیعت سے ) ان کے ( مقابلے کے لئے مستعد رہو ۔ اور جو ) کافروں کے لئے تیار کی گئی ہے ۔ اور اس نے ان کے لئے باغات تیار کئے ہیں ۔ أُولئِكَ أَعْتَدْنا لَهُمْ عَذاباً أَلِيماً [ النساء/ 18] ایسے لوگوں کے لئے ہم نے عذاب الیم تیار کر رکھا ہے وَأَعْتَدْنا لِمَنْ كَذَّبَ [ الفرقان/ 11] اور ہم نے جھٹلا نے والوں کے لئے دوزخ تیار کر رکھی ہے ۔ اور آیت کریمہ : ۔ وَأَعْتَدَتْ لَهُنَّ مُتَّكَأً [يوسف/ 31] اور ان کے لئے ایک محفل مرتب کی ۔ میں بعض نے کہا ہے کہ اعتدت بھی اسی ( عد ) سے ہے اور آیت کریمہ : ۔ وَلِتُكْمِلُوا الْعِدَّةَ [ البقرة/ 185] تم روزوں کا شمار پورا کرلو ۔ کے معنی یہ ہیں کہ تم ماہ رمضان کی گنتی پوری کرلو ۔ أَيَّاماً مَعْدُوداتٍ [ البقرة/ 184] گنتی کے چند روز میں ماہ رمضان کی طرف اشارہ ہے ۔ اور آیت کریمہ : ۔ وَاذْكُرُوا اللَّهَ فِي أَيَّامٍ مَعْدُوداتٍ [ البقرة/ 203] اور گنتی کے دنوں میں خدا کو یاد کرو ۔ میں سے عید قربان کے بعد کے تین دن مراد ہیں اور معلومات سے ذوالحجہ کے دس دن بعض فقہاء نے کہا ہے کہ ایام معدودۃ سے یوم النحر اور اس کے بعد کے دو دن مراد ہیں اس صورت میں یوم النحر بھی ان تین دنوں میں شامل ہوگا ۔ العداد اس مقرر وقت کو کہتے ہیں جس میں بیماری کا دورہ پڑتا ہو ۔ آنحضرت نے فرمایا مازالت امۃ خیبر تعادنی کہ خیبر کے دن جو مسموم کھانا میں نے کھایا تھا اس کی زہر بار بار عود کرتی رہی ہے عد ان الشئی کے معنی کسی چیز کے موسم یا زمانہ کے ہیں تَّقْوَى والتَّقْوَى جعل النّفس في وِقَايَةٍ مما يخاف، هذا تحقیقه، ثمّ يسمّى الخوف تارة تَقْوًى، والتَّقْوَى خوفاً حسب تسمية مقتضی الشیء بمقتضيه والمقتضي بمقتضاه، وصار التَّقْوَى في تعارف الشّرع حفظ النّفس عمّا يؤثم، وذلک بترک المحظور، ويتمّ ذلک بترک بعض المباحات لما روي : «الحلال بيّن، والحرام بيّن، ومن رتع حول الحمی فحقیق أن يقع فيه» قال اللہ تعالی: فَمَنِ اتَّقى وَأَصْلَحَ فَلا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلا هُمْ يَحْزَنُونَ [ الأعراف/ 35] ، إِنَّ اللَّهَ مَعَ الَّذِينَ اتَّقَوْا [ النحل/ 128] ، وَسِيقَ الَّذِينَ اتَّقَوْا رَبَّهُمْ إِلَى الْجَنَّةِ زُمَراً [ الزمر/ 73] ولجعل التَّقْوَى منازل قال : وَاتَّقُوا يَوْماً تُرْجَعُونَ فِيهِ إِلَى اللَّهِ [ البقرة/ 281] ، واتَّقُوا رَبَّكُمُ [ النساء/ 1] ، وَمَنْ يُطِعِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَيَخْشَ اللَّهَ وَيَتَّقْهِ [ النور/ 52] ، وَاتَّقُوا اللَّهَ الَّذِي تَسائَلُونَ بِهِ وَالْأَرْحامَ [ النساء/ 1] ، اتَّقُوا اللَّهَ حَقَّ تُقاتِهِ [ آل عمران/ 102] . و تخصیص کلّ واحد من هذه الألفاظ له ما بعد هذا الکتاب . ويقال : اتَّقَى فلانٌ بکذا : إذا جعله وِقَايَةً لنفسه، وقوله : أَفَمَنْ يَتَّقِي بِوَجْهِهِ سُوءَ الْعَذابِ يَوْمَ الْقِيامَةِ [ الزمر/ 24] تنبيه علی شدّة ما ينالهم، وأنّ أجدر شيء يَتَّقُونَ به من العذاب يوم القیامة هو وجوههم، فصار ذلک کقوله : وَتَغْشى وُجُوهَهُمُ النَّارُ [إبراهيم/ 50] ، يَوْمَ يُسْحَبُونَ فِي النَّارِ عَلى وُجُوهِهِمْ [ القمر/ 48] . التقویٰ اس کے اصل معنی نفس کو ہر اس چیز سے بچانے کے ہیں جس سے گزند پہنچنے کا اندیشہ ہو لیکن کبھی کبھی لفظ تقوٰی اور خوف ایک دوسرے کے معنی میں استعمال ہوتے ہیں ۔ جس طرح کہ سبب بول کر مسبب اور مسبب بولکر سبب مراد لیا جاتا ہے اور اصطلاح شریعت میں نفس کو ہر اس چیز سے بچا نیکا نام تقوی ہے جو گناہوں کا موجب ہو ۔ اور یہ بات محظو رات شرعیہ کے ترک کرنے سے حاصل ہوجاتی ہے مگر اس میں درجہ کمال حاصل کرنے کے لئے بعض مباحات کو بھی ترک کرنا پڑتا ہے ۔ چناچہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے مروی ہے ۔ ( 149 ) الحلال بین واحرام بین ومن وقع حول الحمی فحقیق ان یقع فیہ کہ حلال بھی بین ہے اور حرام بھی بین ہے اور جو شخص چراگاہ کے اردگرد چرائے گا تو ہوسکتا ہے کہ وہ اس میں داخل ہوجائے ( یعنی مشتبہ چیزیں اگرچہ درجہ اباحت میں ہوتی ہیں لیکن ورع کا تقاضا یہ ہے کہ انہیں بھی چھوڑ دایا جائے ) قرآن پاک میں ہے : ۔ فَمَنِ اتَّقى وَأَصْلَحَ فَلا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلا هُمْ يَحْزَنُونَ [ الأعراف/ 35] جو شخص ان پر ایمان لا کر خدا سے ڈرتا رہے گا اور اپنی حالت درست رکھے گا ۔ ایسے لوگوں کو نہ کچھ خوف ہوگا اور نہ وہ غمناک ہوں گے ۔ إِنَّ اللَّهَ مَعَ الَّذِينَ اتَّقَوْا[ النحل/ 128] کچھ شک نہیں کہ جو پرہیز گار ہیں اللہ ان کا مدد گار ہے ۔ وَسِيقَ الَّذِينَ اتَّقَوْا رَبَّهُمْ إِلَى الْجَنَّةِ زُمَراً [ الزمر/ 73] اور جو لوگ اپنے پروردگار سے ڈرتے ہیں ان کو گروہ بناکر بہشت کی طرف لے جائیں گے ۔ پھر تقویٰ کے چونکہ بہت سے مدارج ہیں اس لئے آیات وَاتَّقُوا يَوْماً تُرْجَعُونَ فِيهِ إِلَى اللَّهِ [ البقرة/ 281] اور اس دن سے ڈرو جب کہ تم خدا کے حضور میں لوٹ کر جاؤ گے ۔ واتَّقُوا رَبَّكُمُ [ النساء/ 1] اپنے پروردگار سے ڈرو ۔ اور اس سے ڈرے گا ۔ اور خدا سے جس کا نام کو تم اپنی حاجت برآری کا ذریعہ بناتے ہو ڈرو ۔ اور قطع مودت ارجام سے ۔ اتَّقُوا اللَّهَ حَقَّ تُقاتِهِ [ آل عمران/ 102] خدا سے ڈرو جیسا کہ اس سے ڈرنے کا حق ہے ۔ میں ہر جگہ تقویٰ کا ایک خاص معنی مراد ہے جس کی تفصیل اس کتاب کے اور بعد بیان ہوگی ۔ اتقٰی فلان بکذا کے معنی کسی چیز کے ذریعہ بچاؤ حاصل کرنے کے ہیں ۔ اور آیت : ۔ أَفَمَنْ يَتَّقِي بِوَجْهِهِ سُوءَ الْعَذابِ يَوْمَ الْقِيامَةِ [ الزمر/ 24] بھلا جو شخص قیامت کے دن اپنے منہ سے برے عذاب کو روکتا ہوا ۔ میں اس عذاب شدید پر تنبیہ کی ہے جو قیامت کے دن ان پر نازل ہوگا اور یہ کہ سب سے بڑی چیز جس کے ذریعہ وہ و عذاب سے بچنے کی کوشش کریں گے وہ ان کے چہرے ہی ہوں گے تو یہ ایسے ہی ہے جیسے دوسری جگہ فرمایا : وَتَغْشى وُجُوهَهُمُ النَّارُ [إبراهيم/ 50] اور ان کے مونہوں کو آگ لپٹ رہی ہوگی ۔ يَوْمَ يُسْحَبُونَ فِي النَّارِ عَلى وُجُوهِهِمْ [ القمر/ 48] اس روز منہ کے بل دوزخ میں گھسٹیے جائیں گے ۔ لب اللُّبُّ : العقل الخالص من الشّوائب، وسمّي بذلک لکونه خالص ما في الإنسان من معانيه، كَاللُّبَابِ واللُّبِّ من الشیء، وقیل : هو ما زكى من العقل، فكلّ لبّ عقل ولیس کلّ عقل لبّا . ولهذا علّق اللہ تعالیٰ الأحكام التي لا يدركها إلّا العقول الزّكيّة بأولي الْأَلْبَابِ نحو قوله : وَمَنْ يُؤْتَ الْحِكْمَةَ فَقَدْ أُوتِيَ خَيْراً إلى قوله : أُولُوا الْأَلْبابِ [ البقرة/ 269] ( ل ب ب ) اللب کے معنی عقل خالص کے ہیں جو آمیزش ( یعنی ظن دوہم اور جذبات ) سے پاک ہو اور عقل کو لب اس لئے کہتے ہیں کہ وہ انسان کے معنوی قوی کا خلاصہ ہوتی ہے جیسا کہ کسی چیز کے خالص حصے کو اس کا لب اور لباب کہہ دیتے ہیں ۔ بعض نے کہا ہے کہ لب کے معنی پاکیزہ اور ستھری عقل کے ہیں چناچہ ہر لب کو عقل کہہ سکتے ہیں لیکن ۔ ہر عقل لب ، ، نہیں ہوسکتی یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان تمام احکام کو جن کا ادراک عقول زکیہ ہی کرسکتی ہیں اولو الباب کے ساتھ مختض کیا ہے جیسے فرمایا : وَمَنْ يُؤْتَ الْحِكْمَةَ فَقَدْ أُوتِيَ خَيْراً إلى قوله : أُولُوا الْأَلْبابِ [ البقرة/ 269] اور جس کو دانائی ملی بیشک اس کو بڑی نعمت ملی اور نصیحت تو وہی لو گ قبول کرتے ہیں جو عقلمند ہیں ۔ اور اس نوع کی اور بھی بہت سی آیات ہیں ؛ أیمان يستعمل اسما للشریعة التي جاء بها محمّد عليه الصلاة والسلام، وعلی ذلك : الَّذِينَ آمَنُوا وَالَّذِينَ هادُوا وَالصَّابِئُونَ [ المائدة/ 69] ، ويوصف به كلّ من دخل في شریعته مقرّا بالله وبنبوته . قيل : وعلی هذا قال تعالی: وَما يُؤْمِنُ أَكْثَرُهُمْ بِاللَّهِ إِلَّا وَهُمْ مُشْرِكُونَ [يوسف/ 106] . وتارة يستعمل علی سبیل المدح، ويراد به إذعان النفس للحق علی سبیل التصدیق، وذلک باجتماع ثلاثة أشياء : تحقیق بالقلب، وإقرار باللسان، وعمل بحسب ذلک بالجوارح، وعلی هذا قوله تعالی: وَالَّذِينَ آمَنُوا بِاللَّهِ وَرُسُلِهِ أُولئِكَ هُمُ الصِّدِّيقُونَ [ الحدید/ 19] . ( ا م ن ) الایمان کے ایک معنی شریعت محمدی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے آتے ہیں ۔ چناچہ آیت کریمہ :۔ { وَالَّذِينَ هَادُوا وَالنَّصَارَى وَالصَّابِئِينَ } ( سورة البقرة 62) اور جو لوگ مسلمان ہیں یا یہودی یا عیسائی یا ستارہ پرست۔ اور ایمان کے ساتھ ہر وہ شخص متصف ہوسکتا ہے جو تو حید کا اقرار کر کے شریعت محمدی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میں داخل ہوجائے اور بعض نے آیت { وَمَا يُؤْمِنُ أَكْثَرُهُمْ بِاللهِ إِلَّا وَهُمْ مُشْرِكُونَ } ( سورة يوسف 106) ۔ اور ان میں سے اکثر خدا پر ایمان نہیں رکھتے مگر ( اس کے ساتھ ) شرک کرتے ہیں (12 ۔ 102) کو بھی اسی معنی پر محمول کیا ہے ۔ ( قَدْ ) : حرف يختصّ بالفعل، والنّحويّون يقولون : هو للتّوقّع . وحقیقته أنه إذا دخل علی فعل ماض فإنما يدخل علی كلّ فعل متجدّد، نحو قوله : قَدْ مَنَّ اللَّهُ عَلَيْنا [يوسف/ 90] ، قَدْ كانَ لَكُمْ آيَةٌ فِي فِئَتَيْنِ [ آل عمران/ 13] ، قَدْ سَمِعَ اللَّهُ [ المجادلة/ 1] ، لَقَدْ رَضِيَ اللَّهُ عَنِ الْمُؤْمِنِينَ [ الفتح/ 18] ، لَقَدْ تابَ اللَّهُ عَلَى النَّبِيِّ [ التوبة/ 117] ، وغیر ذلك، ولما قلت لا يصحّ أن يستعمل في أوصاف اللہ تعالیٰ الذّاتيّة، فيقال : قد کان اللہ علیما حكيما، وأما قوله : عَلِمَ أَنْ سَيَكُونُ مِنْكُمْ مَرْضى [ المزمل/ 20] ، فإنّ ذلک متناول للمرض في المعنی، كما أنّ النّفي في قولک : ما علم اللہ زيدا يخرج، هو للخروج، وتقدیر ذلک : قد يمرضون فيما علم الله، وما يخرج زيد فيما علم الله، وإذا دخل ( قَدْ ) علی المستقبَل من الفعل فذلک الفعل يكون في حالة دون حالة . نحو : قَدْ يَعْلَمُ اللَّهُ الَّذِينَ يَتَسَلَّلُونَ مِنْكُمْ لِواذاً [ النور/ 63] ، أي : قد يتسلّلون أحيانا فيما علم اللہ . و ( قَدْ ) و ( قط) «2» يکونان اسما للفعل بمعنی حسب، يقال : قَدْنِي كذا، وقطني كذا، وحكي : قَدِي . وحكى الفرّاء : قَدْ زيدا، وجعل ذلک مقیسا علی ما سمع من قولهم : قدني وقدک، والصحیح أنّ ذلک لا يستعمل مع الظاهر، وإنما جاء عنهم في المضمر . ( قد ) یہ حرف تحقیق ہے اور فعل کے ساتھ مخصوص ہے علماء نحو کے نزدیک یہ حرف توقع ہے اور اصل میں جب یہ فعل ماضی پر آئے تو تجدد اور حدوث کے معنی دیتا ہے جیسے فرمایا : قَدْ مَنَّ اللَّهُ عَلَيْنا [يوسف/ 90] خدا نے ہم پر بڑا احسان کیا ہے ۔ قَدْ كانَ لَكُمْ آيَةٌ فِي فِئَتَيْنِ [ آل عمران/ 13] تمہارے لئے دوگرہوں میں ۔۔۔۔ ( قدرت خدا کی عظیم الشان ) نشانی تھی ۔ قَدْ سَمِعَ اللَّهُ [ المجادلة/ 1] خدا نے ۔۔ سن لی ۔ لَقَدْ رَضِيَ اللَّهُ عَنِ الْمُؤْمِنِينَ [ الفتح/ 18] ( اے پیغمبر ) ۔۔۔۔۔ تو خدا ان سے خوش ہوا ۔ لَقَدْ تابَ اللَّهُ عَلَى النَّبِيِّ [ التوبة/ 117] بیشک خدا نے پیغمبر پر مہربانی کی ۔ اور چونکہ یہ فعل ماضی پر تجدد کے لئے آتا ہے اس لئے اللہ تعالیٰ کے اوصاف ذاتیہ کے ساتھ استعمال نہیں ہوتا ۔ لہذا عَلِمَ أَنْ سَيَكُونُ مِنْكُمْ مَرْضى [ المزمل/ 20] کہنا صحیح نہیں ہے اور آیت : اس نے جانا کہ تم میں بعض بیمار بھی ہوتے ہیں ۔ میں قد لفظا اگر چہ علم پر داخل ہوا ہے لیکن معنوی طور پر اس کا تعلق مرض کے ساتھ ہے جیسا کہ ، ، میں نفی کا تعلق خروج کے ساتھ ہے ۔ اور اس کی تقدریروں ہے اگر ، ، قد فعل مستقل پر داخل ہو تو تقلیل کا فائدہ دیتا ہے یعنی کبھی وہ فعل واقع ہوتا ہے اور کبھی واقع نہیں ہوتا اور آیت کریمہ : قَدْ يَعْلَمُ اللَّهُ الَّذِينَ يَتَسَلَّلُونَ مِنْكُمْ لِواذاً [ النور/ 63] خدا کو یہ لوگ معلوم ہیں جو تم میں سے آنکھ بچا کر چل دیتے ہیں ۔ کی تقدیریوں ہے قد یتسللون احیانا فیما علم اللہ ( تو یہ بہت آیت بھی ماسبق کی طرح موؤل ہوگی اور قد کا تعلق تسلل کے ساتھ ہوگا ۔ قدوقط یہ دونوں اسم فعل بمعنی حسب کے آتے ہیں جیسے محاورہ ہے قد فی کذا اوقطنی کذا اور قدی ( بدون نون وقایہ ا کا محاورہ بھی حکایت کیا گیا ہے فراء نے قدنی اور قدک پر قیاس کرکے قدر زید ا بھی حکایت کیا ہے لیکن صحیح یہ ہے کہ قد ( قسم فعل اسم ظاہر کے ساتھ استعمال نہیں ہوتا بلکہ صرف اسم مضمر کے ساتھ آتا ہے ۔ نزل النُّزُولُ في الأصل هو انحِطَاطٌ من عُلْوّ. يقال : نَزَلَ عن دابَّته، والفَرْقُ بَيْنَ الإِنْزَالِ والتَّنْزِيلِ في وَصْفِ القُرآنِ والملائكةِ أنّ التَّنْزِيل يختصّ بالموضع الذي يُشِيرُ إليه إنزالُهُ مفرَّقاً ، ومرَّةً بعد أُخْرَى، والإنزالُ عَامٌّ ، فممَّا ذُكِرَ فيه التَّنزیلُ قولُه : نَزَلَ بِهِ الرُّوحُ الْأَمِينُ [ الشعراء/ 193] وقرئ : نزل وَنَزَّلْناهُ تَنْزِيلًا[ الإسراء/ 106] ( ن ز ل ) النزول ( ض ) اصل میں اس کے معنی بلند جگہ سے نیچے اترنا کے ہیں چناچہ محاورہ ہے : ۔ نزل عن دابۃ وہ سواری سے اتر پڑا ۔ نزل فی مکان کذا کسی جگہ پر ٹھہر نا انزل وافعال ) اتارنا قرآن میں ہے ۔ عذاب کے متعلق انزال کا لفظ استعمال ہوا ہے قرآن اور فرشتوں کے نازل کرنے کے متعلق انزال اور تنزیل دونوں لفظ استعمال ہوئے ہیں ان دونوں میں معنوی فرق یہ ہے کہ تنزیل کے معنی ایک چیز کو مرۃ بعد اخریٰ اور متفرق طور نازل کرنے کے ہوتے ہیں ۔ اور انزال کا لفظ عام ہے جو ایک ہی دفعہ مکمل طور کیس چیز نازل کرنے پر بھی بولا جاتا ہے چناچہ وہ آیات ملا حضہ ہو جہاں تنزیل لا لفظ استعمال ہوا ہے ۔ نَزَلَ بِهِ الرُّوحُ الْأَمِينُ [ الشعراء/ 193] اس کو امانت دار فر شتہ لے کر اترا ۔ ایک قرات میں نزل ہے ۔ وَنَزَّلْناهُ تَنْزِيلًا[ الإسراء/ 106] اور ہم نے اس کو آہستہ آہستہ اتارا ذكر الذِّكْرُ : تارة يقال ويراد به هيئة للنّفس بها يمكن للإنسان أن يحفظ ما يقتنيه من المعرفة، وهو کالحفظ إلّا أنّ الحفظ يقال اعتبارا بإحرازه، والذِّكْرُ يقال اعتبارا باستحضاره، وتارة يقال لحضور الشیء القلب أو القول، ولذلک قيل : الذّكر ذکران : ذكر بالقلب . وذکر باللّسان . وكلّ واحد منهما ضربان : ذكر عن نسیان . وذکر لا عن نسیان بل عن إدامة الحفظ . وكلّ قول يقال له ذكر، فمن الذّكر باللّسان قوله تعالی: لَقَدْ أَنْزَلْنا إِلَيْكُمْ كِتاباً فِيهِ ذِكْرُكُمْ [ الأنبیاء/ 10] ، وقوله تعالی: وَهذا ذِكْرٌ مُبارَكٌ أَنْزَلْناهُ [ الأنبیاء/ 50] ، وقوله : هذا ذِكْرُ مَنْ مَعِيَ وَذِكْرُ مَنْ قَبْلِي [ الأنبیاء/ 24] ، وقوله : أَأُنْزِلَ عَلَيْهِ الذِّكْرُ مِنْ بَيْنِنا [ ص/ 8] ، أي : القرآن، وقوله تعالی: ص وَالْقُرْآنِ ذِي الذِّكْرِ [ ص/ 1] ، وقوله : وَإِنَّهُ لَذِكْرٌ لَكَ وَلِقَوْمِكَ [ الزخرف/ 44] ، أي : شرف لک ولقومک، وقوله : فَسْئَلُوا أَهْلَ الذِّكْرِ [ النحل/ 43] ، أي : الکتب المتقدّمة . وقوله قَدْ أَنْزَلَ اللَّهُ إِلَيْكُمْ ذِكْراً رَسُولًا [ الطلاق/ 10- 11] ، فقد قيل : الذکر هاهنا وصف للنبيّ صلّى اللہ عليه وسلم «2» ، كما أنّ الکلمة وصف لعیسی عليه السلام من حيث إنه بشّر به في الکتب المتقدّمة، فيكون قوله : ( رسولا) بدلا منه . وقیل : ( رسولا) منتصب بقوله ( ذکرا) «3» كأنه قال : قد أنزلنا إليكم کتابا ذکرا رسولا يتلو، نحو قوله : أَوْ إِطْعامٌ فِي يَوْمٍ ذِي مَسْغَبَةٍ يَتِيماً [ البلد/ 14- 15] ، ف (يتيما) نصب بقوله (إطعام) . ومن الذّكر عن النسیان قوله : فَإِنِّي نَسِيتُ الْحُوتَ وَما أَنْسانِيهُ إِلَّا الشَّيْطانُ أَنْ أَذْكُرَهُ [ الكهف/ 63] ، ومن الذّكر بالقلب واللّسان معا قوله تعالی: فَاذْكُرُوا اللَّهَ كَذِكْرِكُمْ آباءَكُمْ أَوْ أَشَدَّ ذِكْراً [ البقرة/ 200] ، وقوله : فَاذْكُرُوا اللَّهَ عِنْدَ الْمَشْعَرِ الْحَرامِ وَاذْكُرُوهُ كَما هَداكُمْ [ البقرة/ 198] ، وقوله : وَلَقَدْ كَتَبْنا فِي الزَّبُورِ مِنْ بَعْدِ الذِّكْرِ [ الأنبیاء/ 105] ، أي : من بعد الکتاب المتقدم . وقوله هَلْ أَتى عَلَى الْإِنْسانِ حِينٌ مِنَ الدَّهْرِ لَمْ يَكُنْ شَيْئاً مَذْكُوراً [ الدهر/ 1] ، أي : لم يكن شيئا موجودا بذاته، ( ذک ر ) الذکر ۔ یہ کبھی تو اس ہیت نفسانیہ پر بولا جاتا ہے جس کے ذریعہ سے انسان اپنے علم کو محفوظ رکھتا ہے ۔ یہ قریبا حفظ کے ہم معنی ہے مگر حفظ کا لفظ احراز کے لحاظ سے بولا جاتا ہے اور ذکر کا لفظ استحضار کے لحاظ سے اور کبھی ، ، ذکر، ، کا لفظ دل یاز بان پر کسی چیز کے حاضر ہونے کے معنی میں استعمال ہوتا ہے ۔ اس بنا پر بعض نے کہا ہے کہ ، ، ذکر ، ، دو قسم پر ہے ۔ ذکر قلبی اور ذکر لسانی ۔ پھر ان میں کسے ہر ایک دو قسم پر ہے لسیان کے بعد کسی چیز کو یاد کرنا یا بغیر نسیان کے کسی کو ہمیشہ یاد رکھنا اور ہر قول کو ذکر کر کہا جاتا ہے ۔ چناچہ ذکر لسانی کے بارے میں فرمایا۔ لَقَدْ أَنْزَلْنا إِلَيْكُمْ كِتاباً فِيهِ ذِكْرُكُمْ [ الأنبیاء/ 10] ہم نے تمہاری طرف ایسی کتاب نازل کی ہے جس میں تمہارا تذکرہ ہے ۔ وَهذا ذِكْرٌ مُبارَكٌ أَنْزَلْناهُ [ الأنبیاء/ 50] اور یہ مبارک نصیحت ہے جسے ہم نے نازل فرمایا ہے ؛هذا ذِكْرُ مَنْ مَعِيَ وَذِكْرُ مَنْ قَبْلِي [ الأنبیاء/ 24] یہ میری اور میرے ساتھ والوں کی کتاب ہے اور مجھ سے پہلے ( پیغمبر ) ہوئے ہیں ۔ اور آیت کریمہ ؛۔ أَأُنْزِلَ عَلَيْهِ الذِّكْرُ مِنْ بَيْنِنا [ ص/ 8] کیا ہم سب میں سے اسی پر نصیحت ( کی کتاب ) اتری ہے ۔ میں ذکر سے مراد قرآن پاک ہے ۔ نیز فرمایا :۔ ص وَالْقُرْآنِ ذِي الذِّكْرِ [ ص/ 1] اور ایت کریمہ :۔ وَإِنَّهُ لَذِكْرٌ لَكَ وَلِقَوْمِكَ [ الزخرف/ 44] اور یہ ( قرآن ) تمہارے لئے اور تمہاری قوم کے لئے نصیحت ہے ۔ میں ذکر بمعنی شرف ہے یعنی یہ قرآن تیرے اور تیرے قوم کیلئے باعث شرف ہے ۔ اور آیت کریمہ :۔ فَسْئَلُوا أَهْلَ الذِّكْرِ [ النحل/ 43] تو اہل کتاب سے پوچھ لو ۔ میں اہل ذکر سے اہل کتاب مراد ہیں ۔ اور آیت کریمہ ؛۔ قَدْ أَنْزَلَ اللَّهُ إِلَيْكُمْ ذِكْراً رَسُولًا [ الطلاق/ 10- 11] خدا نے تمہارے پاس نصیحت ( کی کتاب ) اور اپنے پیغمبر ( بھی بھیجے ) ہیں ۔ میں بعض نے کہا ہے کہ یہاں الذکر آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی وصف ہے ۔ جیسا کہ عیسیٰ کی وصف میں کلمۃ قسم ہے اس قرآن کی جو نصیحت دینے والا ہے ۔ کا لفظ وارد ہوا ہے ۔ اور آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو الذکر اس لحاظ سے کہا گیا ہے ۔ کہ کتب سابقہ میں آپ کے متعلق خوش خبردی پائی جاتی تھی ۔ اس قول کی بنا پر رسولا ذکرا سے بدل واقع ہوگا ۔ بعض کے نزدیک رسولا پر نصب ذکر کی وجہ سے ہے گویا آیت یوں ہے ۔ قد أنزلنا إليكم کتابا ذکرا رسولا يتلوجیسا کہ آیت کریمہ ؛ أَوْ إِطْعامٌ فِي يَوْمٍ ذِي مَسْغَبَةٍ يَتِيماً [ البلد/ 14- 15] میں کی وجہ سے منصوب ہے اور نسیان کے بعد ذکر کے متعلق فرمایا :َفَإِنِّي نَسِيتُ الْحُوتَ وَما أَنْسانِيهُ إِلَّا الشَّيْطانُ أَنْ أَذْكُرَهُ [ الكهف/ 63] قو میں مچھلی ( وہیں ) بھول گیا اور مجھے ( آپ سے ) اس کا ذکر کرنا شیطان نے بھلا دیا ۔ اور ذکر قلبی اور لسانی دونوں کے متعلق فرمایا :۔ فَاذْكُرُوا اللَّهَ كَذِكْرِكُمْ آباءَكُمْ أَوْ أَشَدَّ ذِكْراً [ البقرة/ 200] تو ( مبی میں ) خدا کو یاد کرو جسطرح اپنے پاب دادا کیا کرتے تھے بلکہ اس سے بھی زیادہ ۔ فَاذْكُرُوا اللَّهَ عِنْدَ الْمَشْعَرِ الْحَرامِ وَاذْكُرُوهُ كَما هَداكُمْ [ البقرة/ 198] تو مشعر حرام ( یعنی مزدلفہ ) میں خدا کا ذکر کرو اور اسطرح ذکر کرو جس طرح تم کو سکھایا ۔ اور آیت کریمہ :۔ لَقَدْ كَتَبْنا فِي الزَّبُورِ مِنْ بَعْدِ الذِّكْرِ [ الأنبیاء/ 105] اور ہم نے نصیحت ( کی کتاب یعنی تورات ) کے بعد زبور میں لکھ دیا تھا ۔ میں الذکر سے کتب سابقہ مراد ہیں ۔ اور آیت کریمہ ؛هَلْ أَتى عَلَى الْإِنْسانِ حِينٌ مِنَ الدَّهْرِ لَمْ يَكُنْ شَيْئاً مَذْكُوراً [ الدهر/ 1] انسان پر زمانے میں ایک ایسا وقت بھی آچکا ہے کہ وہ کوئی چیز قابل ذکر نہ تھی ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ١٠{ اَعَدَّ اللّٰہُ لَہُمْ عَذَابًا شَدِیْدًالا } ” اللہ نے ان کے لیے بہت شدید عذاب تیار کر رکھا ہے “ { فَاتَّقُوا اللّٰہَ یٰٓــاُولِی الْاَلْبَابِج الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا } ” تو اللہ کا تقویٰ اختیار کرو اے ہوش مندو ‘ جو ایمان بھی لائے ہو ! “ نوٹ کیجیے ! یہاں پھر تقویٰ کے بارے میں تاکید کی جا رہی ہے ۔ قبل ازیں پہلے رکوع میں چار مرتبہ تقویٰ کا ذکر آچکا ہے۔ { قَدْ اَنْزَلَ اللّٰہُ اِلَـیْکُمْ ذِکْرًا } ” اللہ نے تمہاری طرف ذکر نازل کردیا ہے۔ “

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

13: یہ قرآنِ کریم کا خاص اُسلوب ہے کہ وہ جو اَحکام عطا فرماتا ہے، اُن کے آگے پیچھے بار بار یہ یاد دلاتا ہے کہ تمہیں اﷲ تعالیٰ کے حضور جواب دہی کے احساس سے ڈرتے رہنا چاہئے، یہی وہ احساس ہے جو تمہارے لئے اُن اَحکام پر عمل کرنا آسان بنادے گا۔

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(65:10) اعد۔ ماضی واحد مذکر غائب اعداد (افعال) مصدر۔ بمعنی کسی چیز کو اس طرح تیار کرنا کہ وہ شمار کی جاسکے۔ اس نے تیار کیا۔ لہم میں ضمیر ہم جمع مذکر غائب بستیوں میں رہنے والوں کے لئے ہے۔ عذابا شدیدا : عذابا مفعول بہ موصوف، شدیدا صفت، سخت عذاب۔ فائدہ : اعد اللہ لہم عذابا شدیدا۔ (آخرت میں بھی اللہ نے ان کے لئے سخت عذاب تیار کر رکھا ہے۔ ترجمہ مولنا حقانی (رح)) مخاطبین کو یاد دلایا جا رہا ہے کہ تم نے بستیوں کے مکینوں کا حال سنا کہ کس طرح ان کی رب سے سرکشی اور اس کے رسول کی نافرمانی ان کے سخت محاسبہ اور شدید عذاب پر منتج ہوئی اور ان کا انجام خسران یعنی گھاٹا ہی رہا۔ اب بتایا جا رہا ہے کہ یہ تو نتیجہ انہوں نے اپنی کرتوتوں کا اس دنیا میں دیکھ لیا آخرت میں عذاب شدید ان کے لئے تیار کیا گیا ہے۔ فاتقوا اللہ میں ف سببیہ ہے۔ پس بایں وجہ اتقوا اللہ اللہ سے ڈرو۔ امر کا صیغہ جمع مذکر حاضر اتقاء (افتعال) مصدر سے پس ڈرو اللہ سے۔ یاولی الالباب : یا حرف ندی۔ اولی والے۔ جمع ہے۔ اس کا واحد نہیں آتا۔ بعض ذو کو اس کا واحد بتاتے ہیں اولوا بحالت رفع اور اولی بحالت نصب یا جر ہوگا۔ یہاں اولی منادی ہے۔ اور مفعول بہ آتا ہے۔ لہذا منصوب ہے ۔ یہ مضاف ہے اور الباب جمع ہے۔ لب کی بمعنی عقلیں۔ مجاف الیہ ہے۔ یاولی الالباب : اے عقلمندد۔ اے دانشمندو۔ فائدہ : الالباب پر معانقہ ہے اور امنوا پر بھی۔ معانقہ کی صورت میں الالباب پر بھی وقف کرسکتے ہیں اور امنوا پر بھی۔ لیکن الالباب پر معانقہ کے اشارہ کے ساتھ صلے کا اشارہ ہے جو الوصل اولی کا اختصار ہے یعنی یہاں ملا کر پڑھنا بہتر ہے آگے امنوا پر اشارہ وقف ہے جس کے معنی ہیں ٹھہر جاؤ۔ لہٰذا یہاں امنوا پر وقف کرنا بہتر ہے۔ اس صورت میں عبارت یوں آئے گی :۔ فاتقوا اللہ یاولی الالباب الذین امنوا۔ تو اس صورت میں الذین امنوا بدل ہوگا۔ فاتقوا اللہ کا۔ یعنی اے ارباب دانش جو ایمان لائے ہو اللہ سے ڈرو۔ اولی الالباب سے مقصود الذین امنوا ہے۔ (مراد وہ مومن جو نزول قرآن کے بعد ایمان لائے) قد انزل اللہ الیکم ذکرا : قد ماضی کے ساتھ تحقیق کا فائدہ دیتا ہے ۔ اور فعل کو زمانہ حال کے قریب کردیتا ہے۔ ذکرا : ای القران۔ رسولا : اس سے قبل فعل محذوف ہے : ای وارسل رسولا : رسولا مفعول بہ ہے۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

5۔ ڈرنا یہ کہ اطاعت کرو۔

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

اعداللہ ................ شدیدا (٥٦ : ٠١) ” اللہ نے (آخرت میں) ان کے لئے سخت عذاب مہیا کررکھا ہے “۔ اس عذاب اور برے انجام کی یہ تفصیلات اس لئے دی ہیں کہ اللہ کے کے احکام کی نافرمانی کی سزا کا خوف دیر تک انسانی اعصاب پر رہے۔ یہ قرآن کا انداز ہے کہ وہ عذاب الٰہی کے مناظر کو نہایت ہی مفصل اور طوالت سے بیان کرتا ہے۔ اس ڈراوے پر غور کرنے کی ضرورت ہے کہ باری باری نافرمانی اقوام کو پکڑا گیا اور اس پکڑ کا ذکر یہاں احکام وقوانین کی نافرمانی کے ضمن میں آرہا ہے۔ گویا طلاق کے احکام قوانین کا تعلق بھی سنت الٰہیہ سے ہے۔ اس سے یہ تاثر دینا مطلوب ہے کہ قوانین طلاق محض ایک سوال لاء ہی نہیں بلکہ ان کا تعلق امت مسلمہ کے اجتماعی نظام سے ہے۔ اس سلسلے میں پوری امت بھی مسﺅل ہوگی اور اگر ان قوانین کی خلاف ورزی ہوئی تو پوری امت پر عذاب الٰہی آئے گا۔ احکام طلاق اور اسلامی نظام کے دوسرے احکام کی مخالفت کے انجام سے پوری امت مسﺅل ہے۔ کیونکہ اسلامی نظام اور اسلامی منہاج کے چلانے کی ذمہ داری اجتماعی ہے۔ صرف وہ لوگ ہی عذاب الٰہی کے مستحق نہ ہوں گے جو خلاف ورزی کرتے ہیں بلکہ پورا گاﺅں اور پوری امت مسﺅل ہوگی ، جو اپنے نظام زندگی کی تنظیم میں خلاف ورزی کو برداشت کرتی ہے۔ یہ دین اسی لئے آیا ہے کہ اس کی اطاعت کی جائے ، اسے نافذ کیا جائے۔ یہ پوری زندگی پر حاوی ہو۔ اس طرح یہاں پوری امت نافرمان قرار دی گئی ، اگر اسلامی نظام کے قیام کی مسﺅلیت شخصی ہوتی تو پوری امت کو ہلاک نہ کیا جاتا۔ یہ بستیاں نافرمان قرار دی گئیں اور انہوں نے وبال کو چکھا۔ اور آخر کار خسارے میں مبتلا ہوئیں۔ اور یہ سز ان کو اسی دنیا میں دی گئی۔ بستیوں ، اقوام اور ملل کو یہ سزا دی گئی جنہوں نے اسلامی منہاج سے انکار کیا ہے۔ ہم بھی شہادت دیتے ہیں اور ہمارے اسلاف بھی شہادت دیتے ہیں کہ احکام نکاح و طلاق کی نافرمانی کرنے والی اقوام کو عذاب دیا گیا۔ وہ فساد ، انتشار ، غربت ، قحط ، ظلم ، بےچینی اور نہایت ہی بدامنی اور ڈر کی زندگی گزارتی رہیں جس میں کوئی اطمینان اور سکون نہ تھا اور آج بھی ہم اس کرہ ارض پر ایسی کئی اقوام کو دیکھ رہے ہیں۔ یہ سزا اس کے علاوہ ہے جو ان نافرمانوں کے انتظار میں ہے جنہوں نے اللہ کے احکام کی خلاف ورزی کی اور جنہوں نے اسلامی نظام سے بغاوت کی۔ اللہ فرماتا ہے : اعداللہ .................... شدیدا (٥٦ : ٠١) اللہ نے ان کے لئے سخت عذاب مہیا کررکھا ہے “۔ اور اللہ بہت ہی سچا ہے۔ یہ دین ایک منہاج حیات ہے اور اس کا ایک اجتماعی نظام زندگی ہے ، جس کی تفصیلات ہم نے سورة صف میں دی ہیں۔ اس کا مقصد یہ تھا کہ یہ ایک ایسی جماعت تشکیل دے جس کا ایک نظام ہو۔ اس جماعت اور سوسائٹی کی زندگی کو بدل کر رکھ دے لہٰذا یہ پوری جماعت اس دین کے بارے میں مسﺅل ہوگی۔ اور یہ جماعت ان احکام کی خلاف ورزی نہ کرے گی کہ اس پر یہ دھمکی صادق آجائے ، جو امم سابقہ کو دی گئی ، جنہوں نے امر الٰہی سے نافرمانی کی۔ اس ڈراوے اور اس کے طویل مناظر میں عقلمند لوگوں کو خطاب کیا گیا ہے ، جو ایمان لاتے ہیں ، اور ان کی عقلمندی کا ثبوت ہی یہ ہے کہ وہ ایمان لے آئے کہ اس اللہ سے ڈرو جس نے تم پر یہ یاد دہانی نازل کی ہے۔ قد انزل .................... ذکرا (٥٦ : ٠١) ” اللہ نے تمہاری طرف ایک نصیحت نازل کی ہے “۔ اور یہ ذکر مشخص تمہارے پاس موجود ہے۔ رسول مجسمہ ذکر ہیں۔ پوری ذات رسول کی نحوی اعتبار سے الذکر کا بدل کرکے لایا گیا ہے۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

گزشتہ ہلاک شدہ بستیوں کے احوال سے عبرت حاصل کرنے کا حكم ان آیات میں سرکش اقوام کی ہلاکت اور بربادی کا اور ایمان اور اعمال صالحہ والوں کی کامیابی کا تذکرہ فرمایا ہے۔ صاہب معالم التنزیل فرماتے ہیں کے آیت میں تقدیم اور تاخیر ہے اور مطلب یہ ہے کہ ہم نے ان بستیوں کے رہنے والوں کو دنیا میں بھوک اور قحط کا اور تلواروں سے مقتول ہونے کا اور دوسری مصیبتوں کا عذاب دیا اور آخرت میں ان سے سخت حساب لیں گے، ان لوگوں نے سرکشی کی اور اللہ تعالیٰ کے حکموں پر عمل کرنے سے منہ موڑا اور اس کے رسولوں کو جھٹلایا۔ لہٰذا دنیا میں بھی عذاب میں گرفتار ہوئے اور عذاب بھی منکر تھا بہت سخت اور برا تھا اور رسوا کن تھا پھر آخرت میں بھی ان سے سخت حساب لیا جائے گا وہاں سخت حساب کے جواب کی کسے تاب ہوگی لہٰذا وہاں پوری طرح خسارہ یعنی ہلاکت و بربادی کا سامنا ہوگا اور انجام کے طور پر دوزخ کی آگ میں ڈال دیئے جائیں گے دنیا میں بھی اپنے کیے کا وبال چکھا، اور آخرت میں بھی برباد ہوں گے اسی کو فرمایا ﴿ اَعَدَّ اللّٰهُ لَهُمْ عَذَابًا شَدِيْدًا ﴾ کہ اللہ نے ان کے لیے سخت عذاب تیار فرمایا ہے۔ قرآن کریم ایک بڑی نصیحت ہے : اس کے بعد اہل ایمان سے خطاب فرمایا اور انہیں اہل عقل بتایا ارشاد فرمایا اے عقل والو ! جنہوں نے ایمان قبول کیا اللہ نے تمہاری طرف ایک نصیحت نامہ نازل فرمایا ہے یعنی قرآن اور تمہاری طرف ایک رسول بھیجا ہے یہ رسول تمہارے اوپر اللہ کی آیات تلاوت کرتا ہے یہ آیات بینات ہیں جو واضح طور پر صاف صاف کھول کر حق اور باطل کے درمیان فرق بتاتی ہیں تاکہ وہ لوگ جو ایمان لائے اور اعمال صالحہ کیے انہیں اندھیروں سے نور یعنی روشنی کی طرف نکال دے (جو لوگ اللہ کی کتاب قرآن حکیم اور اس کے رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو نہیں مانتے وہ برابر کفر و شرک کی اندھیریوں میں رہتے ہیں، دنیا میں کفر و شرک کی گمراہی کی اندھیریوں میں رہتے ہیں اور آخرت میں دوزخ کی اندھیریوں میں رہیں گے۔ اہل ایمان کا انعام : اس کے بعد اہل ایمان کا انعام بیان فرمایا کہ جو شخص اللہ پر ایمان لائے اور نیک عمل کرے اللہ تعالیٰ اسے ایسے باغوں میں داخل فرمائے گا جن کے نیچے نہریں جاری ہوں گی وہ ان میں ہمیشہ رہیں گے پھر اس مضمون کو ﴿ قَدْ اَحْسَنَ اللّٰهُ لَهٗ رِزْقًا ٠٠١١﴾ پر ختم فرمایا یعنی جو بندہ مومن ہوا اور اعمال صالحہ انجام دیتا رہا اس کے لیے اللہ تعالیٰ نے اچھا رزق تیار فرمایا ہے وہ جنت میں جائے گا تو اپنا رزق لے لے گا یہ رزق بےمثال عمدہ اور دائمی ہوگا۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

11:۔ ” فاتقوا اللہ “ اے عقلمند مؤمنین ! اللہ سے ڈرو اور اس کے احکام کی اطاعت کرو۔ اس نے تمہاری رہنمائی کے لیے ایک عظیم الشان کتاب نازل فرمائی ہے جو سراپا نصیحت ہے اور ایک عظیم الشان رسول بھیجا ہے جو اس کی واضح ور روشن آیتیں پڑھ کر سناتا ہے تاکہ مومنین صالحین کو گمراہی کے اندھیروں سے نکال کر رشد و ہدایت کی روشنی سے ہمکنار کرے۔ رسولا، ذکرا سے بدل ہے، تلاوت قرآن پر مواظبت کی وجہ سے آپ کو ذکر فرمایا۔ یا رسولا کا فعل ناصب مقدر ای ارسل رسولا۔ سدی اور ابن عطیہ نے اسی کو اختیار کیا ہے (روح) ۔ امام زجاج، قرطبی اور قاضی ثناء اللہ پانی پتی (مظہری) اور حضرت شیخ قدس سرہ کے نزدیک بھی یہی مختار ہے اور یہ ترکیب علفتہا تبنا وماء باردا کے قبیل سے ہے۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(10) اللہ تعالیٰ نے ان کے لئے اور بھی ایک سخت عذاب تیار کررکھا ہے پس اے اہل دانش اور اے عقل والو ! جو ایمان لاچکے ہو تو اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہو بلا شبہ اللہ تعالیٰ نے تمہارے پاس ایک نصیحت بھیجی ہے یعنی ان نافرمان بستیوں کے لئے صرف دنیاوی عذاب پر اکتفا نہیں کیا گیا بلکہ ان کے لئے آخرت میں بھی سامان عذاب تیار کررکھا ہے پس یہ حالات معلوم ہونے کے بعد سرکشی کا بدلا دنیا میں بھی ملتا ہے اور آخرت میں بھی۔ اے ارباب عقل وایمان والو ! تم اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہو اور اس کے احککام بجا لائو اور نافرمانی اور سرکشی کا تصور بھی نہ کرو اور نافرمانوں کا جو حشر ہوتا ہے اس سے ڈرتے رہو اس نے تمہاری ہدایت کے لئے ایک نصیحت یعنی قرآن شریف یا رسول بھیجا ہے یا وہ نصیحت اور وہ قرآن دے کر ایک رسول بھیجا ہے۔