تعارف سورة الملک سورة نمبر 67 کل رکوع 2 آیات 30 الفاظ و کلمات 335 حروف 1359 مقام نزول مکہ مکرمہ اللہ نے فرمایا کہ اس دنیا میں رہ کر ہر شخص کو عمل کرنے کی آزادی ہے۔ آخرت میں اس کا نتیجہ سامنے آئے گا۔ وہ لوگ خوش نصیب ہیں جو اس دنیا مین اپنی صلاحیتوں سے کام لے کر اللہ کے پیغمبر حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی مکمل اطاعت کر کے اپنے لئے آخرت کا سامان کرلیں گے لیکن وہ لوگ بڑے بدنصیب ہیں جو قیامت میں خالی ہاتھ پہنچیں گے اور گناہوں کے بوجھ انکی پیٹھ پر رکھے ہوئے ہوں گے۔ جہنم ایک ہولناک مقام ہے۔ جب دوزخیوں کو اس دوزخ میں ڈالا جائے گا تو ان پر اللہ کے ایسے فرشتے مقرر ہوں گے جو کسی کے رونے چلانے سے متاثر نہ ہوں گے بلکہ وہی کریں گے جس کا ان کو حکم دیا جائے گا۔ جب ان کو جہنم میں ڈالا جائے گا تو وہ جہنم میں ایک ڈرئونی آواز میں دھاڑنا شروع کردے گی کہ جیسے وہ غصے سے پھٹی جا رہی ہے۔ اس کے برخلاف اہل جنت جنت کی تمام راحتوں میں پرسکون اور عیش و آرام کی زندگی گزارتے ہوں گے۔ سورۃ الملک مکہ مکرمہ کے ابتدائی دو ر میں نازل کی جانے والی ان سورتوں میں سے ہے جس میں غفلت اور گناہوں میں ڈوبے ہوئے انسان کو خواب غفلت سے جگا کر زمین و آسمان اور اپنے اچھے یا برے اعمال پر غوروفرک کرنے کی دعوت دی گئی ہے۔ فرمایا کہ اللہ نے ایک مرتبہ اور منظم نظام کو بنا کر اس کو ایسے ہی نہیں چھوڑ دیا بلکہ وہ اس کی نگرانی کر رہا ہے۔ اور اللہ نے انسانوں کی ہدایت کے لئے ہر زمانہ میں اپنے نبیوں اور رسولوں کو بھیجا ہے تاکہ جو لوگ ان کی باتوں پر ایمان لا کر عمل صالح کی زندگی اختیار کریں ان کو قیامت کے دن جنت کی ابدتی راحتیں عطا کردی جائیں اور جن لوگوں نے ان کو جھٹلایا اور انکی اطاعت سے انکار کیا ان کو جہنم کی بھڑکتی ہوئی آگ میں ڈال دیاجائے۔ اس سورة کا خلاصہ یہ ہے۔ اللہ جس نے تہہ در تہہ یعنی اوپر تلے سات آسمان بنائے وہ بہت ہی برکت اور عطمت والی ذات ہے۔ اگر ان آسمانوں کی تخلیق اور پیدائش پر کوئی انسان غور کرے بار بار غور کرے تو اس کی نظریں تھک جائیں گی لیکن اس کو کہیں کسی جگہ بےترتیبی یا بدنظمی نظر نہ آئے گی۔ اللہ نے دنیا کے آسمان کو چراغوں (چاند، سورج اور ستاروں) سے روشن کر رکھا ہے۔ اگر کوئی شیطان ان آسمانوں کی طرف آکر کچھ چوری چھپے سننے کی کوشش کرتا ہے تو اس پر شہاب ثاقب یعنی آگ کے گولوں کی بارش کردی جاتی ہے۔ زمین کے متعلق بتایا کہ تم اس زمین میں چل پھر کر اور مھنت کرکے اپنا رزق تلاش کرتے رہو۔ اللہ نے اس میں پہاڑوں کو بوجھ رکھ کر ایک خاص تو ازن قائم کردیا ہے ورنہ زلزلے اور تیز و تند ہوائیں ہر چیز کو برباد کرکے رکھ دیتیں۔ اس نے اس میں پانی کے ذریعہ سرسبزی و شادابی پیدا کی۔ فرمایا کہ زمین اور آسمان اور ان کے درمیان کی ہر چیز کو اس نے انسان کے تابع کردیا یعنی اس کے کام میں لگا دیا تاکہ وہ ایک مقرر وقت تک اس دنیا میں رہ کر اپنی زندگی کا ہر سامان حاصل کرسکے اور اس میں اپنے بہترین اعمال کے ذریعہ وہ جنت کی ابدی راحتوں کا حق دار بن سکے۔ اللہ نے لوگوں کی ہدایت و راہنمائی کے لئے ہر زمانہ میں اپنے نبیوں اور رسولوں کو بھیجا ہے جن انہوں نے ان کی بات مان کر ایمان اور عمل صالح کا راستہ اختیار کیا ہے اسی ایک اللہ کی ذات پر مکمل بھروسہ اور اعتماد کیا ہے۔ ان کے لئے معافی، درجات کی بلندی اور اجر عظیم تیار کیا گیا ہے۔ لیکن جن لوگوں نے نافرمانی کا راستہ منتخب کرکے رسولوں کو جھٹلایا ہے قیامت میں ان کو سوائے شرمندگی اور جہنم کی بھڑکتی ہوئی آگ کے اور کچھ بھی نصیب نہ ہوگا۔ جہنم ایک ہیبت ناک مقام ہے چناچہ جب ان جہنمیوں کو اس آگ میں ڈالا جائے گا تو جہنم اس قدر ڈرائونی آواز میں دھاڑنا شروع کرے گی کہ جیسے وہ غصے سے پھٹی جا رہی ہے۔ فرمایا کہ اس پر ایسے سخت مزاج اور حکم کی تعمیل کرنے والے فرشتے مقرر ہوں گے جن کا کام صرف یہی ہے کہ ان کو جو کچھ حکم دیا جائے وہ اس کی تعمیل کریں یعنی کسی کے رونے، چلانے اور فریاد کرنے کا ان پر کوئی اثر نہ ہوگا۔ وہ فرشتے ان جہنمیوں سے پوچھیں گے کہ کہا تمہارے پاس اللہ کی طرف سے ڈرانے ولاے اور برے انجام سے آگاہ کرنے والے پیغمبر نہیں آئے تھے ؟ وہ کہیں گے کہ پیغمبر تو آئے تھے مگر ہم نے ان کو جھٹلایا اور کہا کہ اللہ نے کوئی کتاب یا حکم ناز ل نہیں کیا یہ سب تمہاری گھڑی ہوئی باتیں ہیں اور اس طرح ہم بھٹک گئے۔ وہ نہایت افسوس کے ساتھ کہیں گے کہ کاش ہم ان کی باتوں کو مان لیتے تو آج یہ بدترین دن دیکھنا نصیب نہ ہوتا۔ فرمایا جائے گا کہ تم نے خود ہی اپنے گناہوں کا اقرار کرلیا ہے۔ تمہاری اس سوچ پر اللہ کی لعنت ہے۔ اس کے بعد جب ان کو جہنم کے قریب لایا جائے گا تو ان منکرین کے چہرے بگڑ جائیں گے اس وقت ان سے کہا جائے گا کہ یہی وہ عذاب اور جہنم کی بھڑکتی ہوئی آگ ہے جس کا تم مطالبہ اور تقاضا کرنے میں جلدی کیا کرتے تھے۔ دنیا میں اللہ کے پیغمبر ان کو اس دن کے برے انجام سے ڈرایا کرتے تا وہ مذاق اڑانے کے لئے کہا کرتے تھے کہ آخر وہ قیامت کب آئے گی اور اس کا عذاب کیسا ہوگا ؟ فرمایا کہ قیامت کے دن اس کا جواب دیا جائے گا اور وہ اس جہنم کو اپنی کھلی آنکھوں سے دیکھ کر سخت شرمندہ ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ہم نے تمہیں سننے، دیکھنے اور سوچنے کی صلاحیتیں عطا کی ہیں جن پر تمہیں اللہ کا شکر ادا کرنا چاہیے کیونکہ تمہارے مقابلے میں جتنی بھی مخلوقات ہیں وہ اس درجہ پر سننے، دیکھنے اور سوچنے کی طاقت نہیں رکھتیں۔ فرمایا کہ تاریخ انسانی پر نظر ڈالو کہ جب کسی قوم نے اللہ کی نافرمانی کی اس کا انجام دنیا ہی میں کتنا بھیانک اور خراب ہوا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں سے پوچھا ہے کہ ٭وہ اللہ جو اس نظام کائنات کو اپنی قدرت سے چلا رہا ہے اگر وہ تمہیں زمین کے اندر دھنسا دے تو کیا تم کسی طرح بھی اپنے آپ کو اس سے بچا سکتے ہو۔ تم اتنے بےفکر اور بےخوف کیوں ہوگئے ہو ؟ ٭جس اللہ نے زمین مین تو ازن بنایا ہے اگر وہ بےوزن کردے تو کیا یہ زمین زلزلوں اور جھٹکوں کا شکار نہ ہوجائے گی ؟ ٭کیا تم اس سے بےخوف ہوگئے ہو کہ وہ تمہارے اوپر طوفانی اور پتھر برسانے والی ہوائیں بھیج کر تمہیں تباہ و برباد کردے ؟ ٭اگر وہ رحمن تمہارا رزق روک لے تو کیا کوئی اور ذات یا طاقت ہے جو تمہارے لئے رزق کے دروازے کھول دے گی ؟ ٭پانی جس سے تمہاری زندگی وابستہ ہے اگر وہ اس کو زمین کے نیچے لے جا کر غائب کردے تو کیا کوئی اس کے سوتوں کو جاری کرسکتا ہے ؟ ٭رحمن کے لشکر کے سوا دوسرا کون سا لشکر ہے جو رحمن کے مقابلے میں تمہاری مدد کرسکتا ہے ؟ ٭تمہیں سوچنے کے لئے دل و دماغ سننے کے لئے کان اور دیکھنے کے لئے آنکھیں کس نے عطا کی ہیں ؟ ٭فضاؤں میں پرندے کبھی پر کھولتے اور کبھی سمیٹ لیتے ہیں ان کو کس ذات نے فضاؤں میں سنبھال رکھا ہے ؟ ٭فرمایا کہ اگر کسی کو اللہ ہی کسی مصیبت میں پھنسا دے تو اس سے چھٹکارا دلانے والا سوائے اللہ کے اور کون ہے ؟ مسلمانوں کے بد خواہوں سے فرمایا ہے کہ اللہ مومنوں پر رحم و کرم کرے یا سزا دے اس سے تمہیں کیا عرض ہے ؟ تمہیں تو اپنی فکر ہونی چاہیے جب وہ ان کافروں کو عذاب دے گا تو اس وقت ان کو بچانے والا کون ہوگا ؟ یقینا ان سب باتوں کا جواب ایک ہی ہے کہ وہ اللہ جو اس نظام کائنات کا چلا رہا ہے ہر طرف اسی کی قدرت اور طاقت ہے وہی بناتا ہے اور وہی اپنے نافرمانوں کو ان کے برے انجام تک پہنچاتا ہے۔ فرمایا کہ تم اللہ کو زور سے پکارو یا آہستہ، وہ ہر وقت ہر شخص کی فریاد کو سنتا ہے۔ وہ ہر بات کو نہایت باریکی سے دیکھ کر باخبر رہتا ہے۔ فرمایا کہ تمہیں اسی کی طرف لوٹ کر جانا ہے۔ اس سے پہلے ہی اس کی تیاری کرلی جائے کیونکہ وہاں عمل کرنے کا وقت نہیں ہوگا۔ عمل کرنے کے لئے دنیا کا میدان ہے جو یہاں بےعملی کا شکار ہوگا اسے قیامت کی ہمیشہ کی زندگی میں کبھی سکون نہ ملے گا۔
سورت الملک کا تعارف اس سورت کا نام اس کی پہلی آیت میں موجود ہے یہ سورت مکہ معظمہ میں نازل ہوئی اس کی تیس آیات ہیں جو دو رکوعات پر مشتمل ہیں۔ (عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ (رض) عَنِ النَّبِیّ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) قَال إِنَّ سُورَۃً مِنَ القُرْآنِ ثَلاَثُونَ آیَۃً شَفَعَتْ لِرَجُلٍ حَتَّی غُفِرَ لَہُ وَہِیَ سُورَۃُ تَبَارَکَ الَّذِی بِیَدِہِ الْمُلْکُ ) (رواہ الترمذی باب مَا جَاءَ فِی فَضْلِ سُورَۃِ الْمُلْکِ ) ” حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : قرآن مجید میں ایک سورت ایسی ہے جس کی تیس آیات ہیں وہ آدمی کی سفارش کرے گی یہاں تک کہ اسے معاف کردیا جائے گا، وہ سورة الملک ہے۔ “ الملک کی ابتداء میں ارشاد ہوا کہ اللہ کی ذات ہر اعتبار سے بابرکت ہے اور اسی کے ہاتھ میں زمینوں آسمانوں کی بادشاہی ہے اور وہ ہر چیز پر ہر اعتبار سے اختیار رکھنے والا ہے۔ اسی نے موت وحیات کا سلسلہ قائم کیا ہے تاکہ لوگوں کو آزمائے کہ کون اس کے حکم کے مطابق فکر و عمل اختیار کرتا ہے۔ اس کی قدرت کا عالم یہ ہے کہ اس نے اوپر نیچے سات آسمان بنائے ہیں اس کی تخلیق میں کسی قسم کی بےربطی نہیں پائی جاتی۔ اگر کسی کو یقین نہیں آتا تو وہ اپنے اوپر آسمان پر غور کرے اور اس میں کسی قسم کا نقص اور خلل تلاش کرے اس کی نظر تھک کر پلٹ آئے گی لیکن وہ ” اللہ “ کی تخلیق میں کوئی عیب اور خلل نہیں دیکھ پائے گا۔ اس نے نہ صرف پہلے آسمان کو ستاروں سے مزّین کیا ہے بلکہ ان ستاروں میں کچھ ستارے ایسے ہیں جو بھڑکتے ہوئے شعلوں کی صورت میں شیاطین کا تعاقب کرتے ہیں، قیامت کے دن اسی طرح کفار کو جہنم میں جلایا جائے گا جب وہ جہنم میں داخل کیے جائیں گے تو اس کے دھاڑنے کی آوازیں سنیں گے جہنم کی آگ کی شدت اس قدر تیز ہوگی کہ دیکھنے والا یوں محسوس کرے گا جیسے جہنم اپنے جوش میں پھٹ جائیگی۔ جہنم میں جہنمی اپنے آپ پر افسوس کرتے ہوئے کہیں گے کاش ہم دنیا میں اپنی عقل استعمال کرتے اور آج جہنم سے بچ جاتے۔ جب وہ اپنے آپ پر ماتم کر رہے ہوں گے تو جہنم کے فرشتے کہیں گے کیا تمہارے پاس تمہیں سمجھانے اور ڈرانے والا نہیں آیا تھا ؟ وہ کہیں گے کیوں نہیں۔ لیکن ہماری بدقسمتی یہ ہے کہ ہم نے اس کی بات ماننے کی بجائے اس کی تکذیب کی۔ اس تفصیل کے بعد اللہ تعالیٰ نے لوگوں کو یہ انتباہ کیا ہے کہ اے نافرمان لوگو ! کیا تم اس بات سے بےخوف ہوگئے ہو کہ اگر اللہ تعالیٰ چاہے تو تم پر آسمان گرا دے یا تمہیں زمین میں دھنسا دیا جائے یا پھر آسمان سے پتھر برسا کر تمہیں تباہ و برباد کر دے۔ کیا تم اس بات پر غور نہیں کرتے کہ اگر اللہ تعالیٰ تمہارے رزق کو روک لے تو پھر تمہیں روزی دینے والا کون ہوگا ؟ اگر وہ زمین کے پانی کو بہت نیچے کر دے تو کون تم سے اس پانی کو حاصل کرسکتا ہے ؟ اللہ کے فرمان سننے اور اس کی قدر تیں دیکھنے کے باوجود لوگوں کی حالت یہ ہے کہ وہ سیدھے راستے کی بجائے الٹے راستے پر چلتے ہیں۔ ان کی مثال اس شخص کی طرح ہے جو اپنے پاؤں پہ چلنے کی بجائے اپنے چہرے کے بل چلتا ہے غور کرو کہ ان میں سے کون شخص ٹھیک اور سیدھے رستے پر چلنے والا ہے۔
سورة الملک ایک نظر میں یہ پورا پارہ ہی مکی سورتوں پر مشتمل ہے جیسا کہ اس سے پہلے کا مکمل پارہ مدنی سورتوں پر مشتمل تھا۔ مکی اور مدنی سورتوں کا اپنااپنا ذوق اور اپنا اپنا مزاج ہوتا ہے۔ اس پارے کی بعض سورتوں کے ابتدائی حصے ایسے ہیں جو ابتدائی حصے کے ٹکڑے ہیں مثلاً سورة المزمل اور سورة المدثر کی ابتدائی آیات ۔ ان میں سے بعض سورتیں ایسی ہیں جو بعثت کے تین سال بعدنازل ہوئی ہیں ، مثلاً سورة القلم بعض بعثت کے دس سال بعد نازل ہوئی ہیں ، جیسا کہ سورة جن ، جس کے بارے میں روایات میں آتا ہے کہ یہ سفر طائف سے واپسی پر نازل ہوئی ، جہاں آپ کو بنو ثقیف نے بہت ہی اذیت دی۔ اللہ نے جنوں کا ایک طائفہ آپ کی طرف موڑ دیا ، اس وقت آپ نہایت دل سوز انداز میں قرآن پڑھ رہے تھے۔ سورة الجن میں یہ واقعہ بیان ہوا ہے ، جو اسی پارے میں ہے ۔ طائف کا سفر حضرت خدیجہ (رض) اور حضرت ابو طالب کی وفات کے بعدہوا ، یعنی ہجرت سے ایک سال قبل یا دو سال قبل ، اگرچہ ایک روایت یہ بھی ہے کہ یہ سورت آغاز بعثت میں نازل ہوئی ہے اور یہی راجح ہے۔ مکی قرآن کا موضوع اور محور بالعموم اسلامی عقیدہ توحید ، وحی الٰہی پر یقین اور آخرت کے حساب و کتاب پر یقین ہوتا ہے۔ اس تصور کے مطابق پھر اس کائنات کے بارے جو نظریہ بنتا ہے اور اس پوری کائنات اور خالق کائنات کا باہم تعلق اور خالق کائنات کی ایسی تعریف کی۔ خالق کائنات کا شعور انسانی تصور اور عقائد میں زندہ ، موثر اور فعال ہو اور یہ تصور انسان اور خدا کے درمیان عبدو معبود کا تعلق قائم کرتا ہو۔ پھر اس تصور کے مطابق ایک بندہ اس دنیا کی تمام اشیاء کی قدروقیمت متعین کرتا ہو۔ اس سے قبل کی مکی سورتوں میں اس قسم کے افکار ہم نے مطالعہ کیے ہیں۔ اس پارے میں بھی ” آفاقی ایمان “ کے نمونے موجود ہیں۔ وہ تو تھا موضوع اور حال مکی قرآن کا۔ رہا مدنی قرآن تو اس کا موضوع ، ان عقائد تصورات اور پیمانوں کے مطابق عملی زندگی اور نظام کی تشکیل ہے۔ مدینہ میں اہل ایمان کی زندگی کی عملی کشمکش میں ڈال کر دین اور شریعت کی امانت اٹھانے کا حکم دیا گیا ہے ۔ چناچہ مدنی قرآن ایک کشمکش پیہم ہے جو ایمان وضمیر کے میدان میں بھی ہے اور زندگی کے عملی مظاہر میں بھی ہے۔ اس عملی کشمکش کا مطالعہ ہم نے اس سے قبل مدنی سورتوں میں کیا ہی اور خصوصاً گزشتہ پارے میں اس کی بڑی تفصیلات مطالعہ کیں۔ یہ سورت اس کائنات کے بارے میں انسان کو بالکل ایک نیا تصور دیتی ہے اور یہ متعین کرتی ہے کہ اس کا خالق کائنات سے تعلق کس نوعیت کا ہے۔ یہ تصور نہایت وسیع اور جامع اور مانع ہے۔ یہ اس زمین کے چھوٹے سے کری سے بہت زیادہ متجاوز اور وسیع ہے ۔ اور اس دنیا کی مختصر زندگی سے بھی متجاوز اور وسیع ہے۔ اسی سلسلے میں انسان کو بتایا جاتا ہے کہ آسمانوں میں بڑے بڑے جہاں آباد ہیں اور اس زندگی کے بعد ایک دوسری زندگی بھی ہے اور انسانوں اور پرندوں کے علاوہ اور مخلوقات بھی ہیں مثلاً جن ، اور اس جہاں کے بعد دوسرا جہاں بھی ہے ، جہاں جنتیں اور ان کیخدم وحشم اور نوکر چاکر اور دوزخ اور اس کے داروغے اور چوکیدارو حوالدار اور عالم شہادت جس کے ساتھ لوگوں کے دل معلق ہیں ، جن کے علاوہ عالم غیب کے کئی جہاں ہیں جو ہمیں نظر نہیں آتے اور جن کے ساتھ صرف مومنین کے دل معلق ہوتے ہیں۔ پھر اس جہاں میں پائے جانے والے معجزات اور انسانوں کے نفوس کے اندر پائے جانے والے معجزات جن کے اوپر سے انسان نہایت ہی غفلت کے ساتھ گزر جاتا ہے۔ یہ سب اس سورت کے موضوعات ومضامین ہیں۔ اس سورت کا اہم کام اور ہدف یہ ہے کہ یہ انسانی قلب ونظر سے ، وہ تمام تصاویر ، نقوش اور وہ تمام تصورات کھرچ کر دور کرتی ہے ، جو جاہلیت کے پسماندہ ، جامد ، غیر معقول افکار کی وجہ سے قلب ونظر پر تہہ بہ تہہ جمع ہوئے تھے۔ یہ سورت ان افکار میں نقب لگاتتی ہے ، فکر ونظر سے ان کے غبار کو صاف کرتی ہے اور انسانی حواس ، انسانی عقل اور انسانی بصیرت کو جلادیتی ہے۔ انسان کو اس کائنات میں پھراتی ہے ، اسے نفس انسانی کی گہرائیوں میں لے جاتی ہے ، فضائے کائنات کا سفر کراتی ہے ، آسمانوں کے طبقات ومقامات اور ابعاد دکھاتی ہے۔ زمین کے اوپر پانیوں کی روانی ، اور اس میں پھر عالم الغیب کے جو حقائق کی تصویر کشی اور اللہ کا دست قدرت کا کام کرتا ہوا نظر آتا ہے۔ اس میں قدرت کی قوت سے ہر چیز متحرک اور دوڑتی نظرآتی ہے۔ انسان جب اس سورت کے اندر سفر کرتے ہوئے اس کے آخر سے نکلتا ہے تو اسے معلوم ہوتا ہے کہ یہ معاملہ بہت ہی بڑا ہے۔ یہ کائنات بہت وسیع ہے۔ اس زمین کے اوپر آسمان ہیں اور آسمانوں کے اوپر اور جہاں ہیں۔ مظاہر قدرت کے پیچھے حقائق قدرت ہیں اور یہ کہ یہ کائنات جامد نہیں ہے ، متحرک ہے اور یہ حرکت اللہ کی قدرت کی وجہ سے ہے۔ زندگی کی حرکت اور زندوں کی حرکت عبارت ہے اس کائنات سے۔ زندگی اور موت کیا ہے ؟ رات اور دن باہم موت وحیات کو دیکھ رہے ہیں ، لیکن یہ سورت ہمیں موت وحیات کے پردے کے پیچھے لے جاتی ہے کہ حیات اور موت کے پیچھے تقدیر الٰہی اور اللہ کا نظام قضا وقدر کافر ما ہے۔ وہ تمہیں اس زمین پر آزمارہا ہے۔ وہ حیات وکائنات کا مدبر ہے۔ الذی خلق……………الغفور (2:67) ” جس نے موت اور زندگی کو ایجاد کیا تاکہ تم لوگوں کو آزما کر دیکھے کہ تم میں سے کون بہتر عمل کرنے والا ہے اور وہ زبردست بھی ہے اور درگزر فرمانے والا بھی ہے “۔ اور آسمان ایک عظیم مخلوق ہے ، جو ہماری جاہل آنکھوں کے سامنے ہے ، یہ جاہل آنکھیں اس سے آگے بڑھ کر اس دست قدرت کو دیکھ نہیں پاتیں۔ جس نے آسمان اور زمین ایجاد کیا ہے۔ ہماری ان جاہل آنکھوں کو اس آسمان کے اندر کوئی کمال نظر نہیں آتا ہے۔ لیکن یہ سورت انسانی فکر میں ارتعاش پیدا کرکے اس پر غوروفکر اور تامل کی دعوت دیتی ہے۔ اور یاد دہانی کراتی ہے کہ اس آسمان کے کمال و جمال پر ذرا غور کرو ، اور اس کی حرکات کیسی ہیں اور ان کے مقاصد کیا ہیں۔ الذی خلق…………للشیطین (3:67 تا 5) ” جس نے تہہ بہ تہہ آسمان بنائے ۔ تم رحمن کی تخلیق میں کسی قسم کی بےربطی نہ پائو گے۔ پھر پلٹ کردیکھو ، کہیں تمہیں کوئی خلل نظر آتا ہے ؟ بار بار نگاہ دوڑائو۔ تمہاری نگاہ تھک کر نامراد پلٹ آئے گی۔ ہم نے تمہارے قریب کے آسمان کو عظیم الشان چراغوں سے آراستہ کیا ہے اور انہیں شیاطین کو مار بھگانے کا ذریعہ بنادیا ہے “۔ افکار جاہلیت میں یہ دنیا ہی اس کائنات کے وجود کا مقصد ہے اور بس یہی آخری چیز ہے۔ لیکن یہ سورت ایک دوسرے جہاں سے نہایت موثر انداز میں پردہ اٹھاتی ہے ، جو شیاطین اور کافرین کے لئے تیار کردہ ہے۔ یہ ایک زبردست خوفناک جہاں ہے۔ جہنم کا ایک منظر آتا ہے جو حرکت ، انتظار اور بھاگ دوڑ سے بھر پو رہے۔ واعتدنا……………السعیر (5:67 تا 11) ” ان شیطانوں کے لئے بھڑکتی ہوئی آگے ہم نے مہیا کررکھی ہے اور جن لوگوں نے اپنے رب سے کفر کیا ہے ان کے لئے جہنم کا عذاب ہے اور وہ بہت ہی برا ٹھکانا ہے۔ جب وہ اس میں پھینکے جائیں گے تو اس کے دہاڑنے کی ہولناک آواز سنیں گے اور وہ جوش کھارہی ہوگی ، شدت غضب سے پھٹی جاتی ہوگی۔ ہر بار جب کوئی انبوہ اس میں ڈالا جائے گا تو اس کے کارندے ان لوگوں سے پوچھیں گے ” کیا تمہارے پاس کوئی خبردار کرنے والا نہیں آیا تھا ؟ “ وہ جواب دیں گے ” ہاں ، خبردار کرنے والا ہمارے پاس آیا تھا مگر ہم نے اسے جھٹلا دیا اور کہا اللہ نے کچھ بھی نازل نہیں کیا ہے ، تم بڑی گمراہی میں پڑے ہوئے ہو “۔ اور وہ کہیں گے ” کاش ہم سنتے یا سمجھتے تو آج اس بھڑکتی ہوئی آگ کے سزاداروں میں نہ شامل ہوتے “۔ اس طرح وہ اپنے قصور کا خوداعتراف کرلیں گے ، لعنت ہے ان دوزخیوں پر “۔ مگر جاہلیت کے اندر انسانوں کی سوچ صرف اس زندگی تک محدود ہوتی ہے ، اور وہ عالم غیب کی طرف اپنی سوچ کا رخ پلٹاتے ہی نہیں کہ عالم غیب کے اندر کیا کیا مستور ہے۔ جاہلیت کی فکر اس دنیا میں قید ہوتی ہے ، اور یہ زمین جو اس فکر کے نزدیک ثابت ہے اور برقرار ہے ، یہ یونہی ہے ، یہ سورت انسانی فکر ونظر کو کھینچ کھینچ کر عالم غیب اور عالم سموات کی طرف لے جاتی ہے اور قدرت الٰہیہ کی طرف متوجہ کرتی ہے۔ اگرچہ ذات باری کو کسی نے دیکھا نہیں ہے ، لیکن وہ ذات قادر مطلق ہے ، جو چاہے کرے ، جہاں چاہے کرے ، اور جب چاہے کرے۔ یہ سورت اس زمین کو بھی حرکت دیتی ہے جسے وہ ساکن اور جامد سمجھتے ہیں اور اس پر مطمئن چلتے پھرتے ہیں اور اس کی سرگرمیوں میں غرق ہیں۔ ان الذین…………کیف نذیر (12:67 تا 17) ” جو لوگ بےدیکھے اپنے رب سے ڈرتے ہیں ، یقینا ان کے لئے مغفرت ہے اور بڑا اجر ۔ تم خواہ چپکے سے بات کرو یا اونچی آواز سے (اللہ کے لئے یکساں ہے) وہ تو دلوں کا حال تک جانتا ہے۔ کیا وہی نہ جانے گا جس نے پیدا کیا ہے ؟ حالانکہ وہ باریک بین اور باخبر ہے۔ وہی تو ہے جس نے تمہارے لئے زمین کو تابع کررکھا ہے ، چلو اس کی چھاتی پر اور کھائو خدا کا رزق ، اسی کے حضور تمہیں دوبارہ زندہ ہوکر جانا ہے۔ کیا تم اس سے بےخوف ہو کہ وہ جو آسمان میں ہے ، تمہیں زمین میں دھنسا دے اور یکایک یہ زمین جھکولے کھانے لگے ؟ کیا تم اس سے بےخوف ہو کہ وہ جو آسمان میں ہے ، تمہیں زمین میں دھنسا دے اور یکایک یہ زمین جھکولے کھانے لگے ؟ کیا تم اس سے بےخوف ہو کہ وہ جو آسمان میں ہے تم پر پتھرائو کرنے والی ہوا بھیج دے ؟ پھر تمہیں معلوم ہوجائے گا کہ میری تنبیہ کیسی ہوتی ہے “۔ پرندے ، رنگ برنگ کے پرندے اللہ کی مخلوقات ہیں اور انسان ان کو دیکھتے ہیں اور رات دن دیکھتے ہیں۔ لیکن ان پرندوں کی حقیقت اور تخلیق پر بالکل غور نہیں کرتے۔ یہ سورت ان کیدامن کو پکڑ پکڑ کر ان کو کہتی ہے کہ ذرا ان پرندوں پر غور تو کرو ، اور اللہ کی قدرت کو دیکھو کہ اس نے ان کی صورتیں کیسی پیاری بنائی ہیں۔ اور ان کی قوتیں کیسی دی ہیں۔ اولم یروا……………شیء بصیر (19:67) ” کیا یہ لوگ اپنے اوپر اڑنے والے پرندوں کو پر پھیلاتے اور سیکڑتے نہیں دیکھتے ۔ رحمن کے سوا کوئی نہیں جو انہیں تھامے ہوئے ہو ؟ وہی ہر چیز کا نگبہان ہے “۔ یہ لوگ اپنے گھروں میں بیفکر بیٹھے ہوئے ہیں ، اللہ کی قدرت اور اللہ کے نظام قضا وقدر سے غافل پڑے ہیں۔ لیکن یہ سورت ان کو اس جمود اور بےحسی کی نفسیاتی حالت سے نکالتی ہے ، جبکہ وہ ان کے پائوں کے نیچے زمین کو بھی ہلامارتی ہے اور یہ بتاتی ہے کہ تم ہر طرف سے اللہ کے قہر اور اللہ کے جبروت میں گھرے ہوئے ہو۔ امن ھذا…………غرور (20:67) ” بتائو ، آخر وہ کون سا لشکر تمہارے پاس ہے جو رحمن کے مقابلے میں تمہاری مدد کرسکتا ہے ؟ حقیقت یہ ہے کہ یہ منکرین دھوکے میں پڑے ہوئے ہیں “۔ یہ رزق جو یہ رات دن کھاتے ہیں ، ان کے خیال میں بھی یہ ان کی زندگی کا قریبی سبب ہے۔ اور اس دنیا میں ان کے سارے تنازعے اس رزق ہی پر ہیں۔ یہ سورت ان کی توجہ بہت دوران ظاہری اباب سے پیچھے حقیقی اسباب کی طرف مبذول کراتی ہے۔ امن ھذا…………ونفور (21:67) ” یا پھر بتائو ! کون ہے جو تمہیں رزق دے سکتا ہے ، اگر رحمن اپنا رزق روک لے ؟ دراصل یہ لوگ سرکشی اور حق سے گریز کرنے پر اڑے ہوئے ہیں “۔ یہ اپنی گمراہی میں بڑھتے چلے جاتے ہیں اور سمجھتے یہ ہیں کہ وہ ہدایت پر ہیں جبکہ درحقیقت وہ گمراہی میں پڑے ہوئے ہیں۔ یہ سورت ان کی تصویر اور اہل ہدایت کی تصویر کھینچتی ہے۔ نہایت موثر اور اشاراتی انداز میں۔ افمن یمشی……………مستقیم (22:67) ” بھلا سوچو ، جو شخص منہ اوندھائے چل رہا ہو ، وہ زیادہ صحیح راہ پانے والا ہے یا وہ جو سراٹھائے سیدھا ایک ہموار سڑک پر چل رہا ہو “۔ اللہ نے ان کو سوچنے سمجھنے کی استعداد دی ہے لیکن یہ اس سے استفادہ نہیں کرتے اور وہ جن چیزوں کو حواس سے دیکھتے ہیں ان کے ظاہری قالب اور صورت کے پیچھے وہ اصل حقائق دیکھنے کے اہل نہیں۔ یہ سورت ان کو یاددہانی کراتی ہے ، کہ اللہ نے تم کو کیسی کیسی نعمتیں دی ہیں ، کیسی کیسی قوتیں دی ہیں ، اور حکم دیا ہے کہ اپنی ان قوتوں کو کام میں لائو اور مستقبل کے لئے ان کو کام میں لائو ، اور اس کائنات کی اصل غرض وغایت کو معلوم کرو۔ قل ھوالذی…………تشکرون (23:67) ” ان سے کہو ، اللہ ہے جس نے تمہیں پیدا کیا ، تم کو سننے اور دیکھنے کی طاقتیں دیں اور سوچنے سمجھنے والے دل دیئے مگر تم کم ہی شکرادا کرتے ہو “۔ ان سے کہو وہ اللہ ہے جس نے تمہیں زمین میں پھیلایا ہے اور اسی کی طرف سمیٹے جائو گے۔ یہ لوگ بعث بعدالموت اور حشرونشر کو جھٹلاتے ہیں اور چڑ کر حشر کا وقت پوچھتے ہیں۔ چناچہ ان کے سامنے حشر ونشر کی ایک تصویر کھینچ دی جاتی ہے۔ ویقولون……………تدعون (25:67 تا 27) ” یہ کہتے ہیں ” اگر تم سچے ہو تو بتائو یہ وعدہ کب پورا ہوگا “۔ کہہ دیجئے ” اس کا علم تو اللہ کے پاس ہے ، میں تو بس صاف صاف خبردار کردینے والا ہوں “۔ پھر جب یہ اس چیز کو قریب سے دیکھ لیں گے تو ان سب لوگوں کے چہرے بگڑ جائیں گے جنہوں نے انکار کیا ہے اور اس وقت ان سے کہا جائے گا کہ یہی ہے وہ چیز جس کے لئے تم تقاضے کررہے تھے “۔ یہ لوگ اس انتظار میں ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہلاک ہوجائیں ، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ مسلمان بھی ختم ہوجائیں اور یہ آواز جس نے ان کی نیندیں حرام کردی ہیں ، یہ ختم ہوجائے حالانکہ یہ تو نصیحت ہے ، جمود کو توڑنے والی آواز ہے۔ سوئے ہوئوں کو جگانے والی آواز ہے۔ یہ سورت بتاتی ہے کہ اگر پیغمبرہلاک ہجائے اور آپ کے سب رفقاء ہلاک ہوجائیں تو کفر اور تکذیب پر جو تمہیں عذاب ملنے والا ہے اس سے تمہیں کون بچائے گا۔ لہٰذا ان کے لئے مناسب ہے کہ وہ قیامت کے آنے سے قبل ہی اپنے معاملات پر غور کرلیں۔ قل ارء یتم…………مبین (28:67 تا 29) ” ان سے کہو ، کبھی تم نے یہ بھی سوچا کہ اللہ خواہ مجھے اور میرے ساتھیوں کو ہلاک کردے یا ہم پر رحم کرے ، کافروں کو درد ناک عذاب سے کون بچائے گا ۔ ان سے کہو ، وہ بڑارحیم ہے ، اسی پر ہم ایمان لائے ہیں ، اور اسی پر ہمارا بھروسہ ہے ، عنقریب تمہیں معلوم ہوجائے گا کہ صریح گمراہی میں پڑا ہوا کون ہے “۔ آخر میں ان کو دھمکی دی جاتی ہے کہ اگر اللہ صرف ایک پانی کو بند کردے جس پر تمہاری زندگی موقوف ہے اور یہ اللہ کا جاری کردہ ہے تو تمہارا کیا بنے۔ قل ارء یتم…………معین (30:67) ” ان سے کہو ، کبھی تم نے یہ بھی سوچا کہ اگر تمہارے کنوئوں کا پانی زمین میں اترجائے تو کون ہے جو اس پانی کی بہتی ہوئی سوتیں تمہیں نکال کر لادے گا ؟ “۔ غرض پوری سورت حرکت ہے ، حس کی حرکت ، احساس کی حرکت ، فکر کی حرکت اور شعور کی حرکت۔ اس سورت کا محور اور کنجی اس کا پہلا فقرہ ہے۔ جو نہایت جامع اور معنی خیز ہے۔ تبرک الذی…………شیء قدیر (1:67) ” نہایت بزرگ و برتر ہے ، وہ جس کے ہاتھ میں سلطنت ہے۔ اور وہ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے “۔ تمام صورتیں اور تمام مناظر جو اس سورت میں پیش کئے گئے ہیں یہ اسی دست قدرت کی کارستانیاں ہیں۔ تمام ظاہر اور غائب حرکات جن سے انسان کا قلب متاثر ہوتا ہے ان کا محرک وہی قدرتوں والا ہے۔ اللہ کی بادشاہت اور قدرت کا سب سے بڑا کارنامہ موت وحیات کی تخلیق ہے۔ پھر انسانوں کو اس جہاں میں آزمانے کے لئے بھیجا ہے۔ پھر اللہ کی قدرت کی بڑی نشانی آسمانوں کے اندر خوبصورت چراغ پیدا کرنا اور شیطانی قوتوں کے اوپر شہاب ثاقت چھوڑنا ہے۔ اور پھر اللہ کی قدرتوں کا ایک نمونہ جہنم کی تیاری ہے اور جہنم کے اوپر زبردست داروغوں کا تقرر ہے۔ پھر اللہ کی قدرت کا مظہر سب کچھ جاننا اور زمین کو انسانوں کے لئے مسخر کرنا ہے۔ پھر انسانی تاریخ میں مکذبین پر آنے والے عذاب خسف اور پتھروں کی بارش ، پھر پرندوں کا ہوا کے اوپر سوار ہونا۔ پھر اللہ کی قہاری وجباری اور تمام کائنات پر حاوی ہونا۔ لوگوں کی تخلیق ، ان کے لئے ذوق کی تخلیق ، انسانوں کی شخصیت میں سننے ، دیکھنے اور سوچنے کی قوتیں پیدا کرنا ، زمین میں لوگوں کو دفن کرنا اور پھر اٹھانا۔ آخرت کا علم صرف اس کے لئے محفوظ ہونا اور کافروں کو عذاب دینا اور لوگوں کے لئے زمین میں پانی کے چشمے جاری کرنا اور انہیں خشک کردینا ، یہ سب کچھ اللہ کی قدرت اور بادشاہت کے کارنامے ہیں۔ غرض یہ پوری سورت اور اس کے موضوعات اور اس کی تمام تصویروں اور تمام اشارات اسی پہلو فقرے کی تشریح ہیں اور اللہ کے نظام اور مملکت اور بادشاہت کے مختلف پہلو ہیں۔ تبرک الذی……………شیء قدیر (1:67) ” نہایت بزرگ اور برتر ہے وہ جس کے ہاتھ میں سلطنت ہے اور وہ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے “۔ اس سورت میں جو حقائق بیان ہوئے ہیں اور جو ارشادات دیئے گئے ہیں ، وہ اس میں مسلسل جوش و خروش سے اٹھتے ہیں ، موجوں پر موجیں حقائق لے کر اٹھ رہی ہیں۔ اور اس پہلے فقرے کی تشریح کررہی ہیں۔ اس لئے اس سورت کو ہم مختلف اسباق میں تقسیم نہیں کرسکتے۔ اب ذرا آیات کی تفصیل !