Surat ul Mulk

Surah: 67

Verse: 11

سورة الملك

فَاعۡتَرَفُوۡا بِذَنۡۢبِہِمۡ ۚ فَسُحۡقًا لِّاَصۡحٰبِ السَّعِیۡرِ ﴿۱۱﴾

And they will admit their sin, so [it is] alienation for the companions of the Blaze.

پس انہوں نے اپنے جرم کا اقبال کر لیا اب یہ دوزخی دفع ہوں ( دور ہوں )

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

Then they will confess their sin. So, away with the dwellers of the blazing Fire! Imam Ahmad recorded from Abu Al-Bakhtari At-Ta'i that he heard from one of the Companions that the Messenger of Allah said, لَنْ يَهْلِكَ النَّاسُ حَتْى يُعْذِرُوا مِنْ أَنْفُسِهِم The people will not be destroyed until they themselves confess their guilt.

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

11۔ 1 جس کی بنا پر مستحق عذاب قرار پائے اور وہ ہے کفر اور انبیاء (علیہم السلام) کی تکذیب۔ 11۔ 2 یعنی اب ان کے لئے اللہ اور اس کی رحمت سے دوری ہی دوری ہے۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[١٤] یہاں گناہ کا لفظ واحد استعمال ہوا ہے۔ حالانکہ ان کی ساری کی ساری زندگی گناہوں سے لبریز تھی۔ اس لیے کہ اللہ کی آیات سے انکار اور جھٹلانا یہ ایک گناہ باقی سارے گناہوں کی جڑ ہے۔ باقی سب گناہ اسی ایک بڑے گناہ کی شاخیں ہیں۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

فَاعْتَرَفُوْا بِذَنْبِہِمْ ۔۔۔۔: وہ اپنے گناہ کا اقرارکریں گے ، یہ نہیں فرمایا کہ وہ اپنے گناہوں کا اقرار کریں گے کیونکہ ان کو جہنم میں لے جانے والا اصل گناہ ایک ہی تھا ، یعنی رسولوں کو جان بوجھ کر جھٹلا دینا ، مگر ایسے اقرار کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا ، بلکہ جانتے بوجھتے جہنمی بننے والوں کو یہی کہا جائے گا کہ جہنمی اللہ کی رحمت سے دورہو جائیں ۔ ” سحقا “ ” سحبن “ (س، ک) کا مصدر ہے ، دور ہونا اور ” سحیق “ بعید۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

فَاعْتَرَفُوْا بِذَنْۢبِہِمْ۝ ٠ ۚ فَسُحْقًا لِّاَصْحٰبِ السَّعِيْرِ۝ ١١ اعْتِرَافُ والاعْتِرَافُ : الإقرارُ ، وأصله :إظهار مَعْرِفَةِ الذّنبِ ، وذلک ضدّ الجحود . قال تعالی: فَاعْتَرَفُوا بِذَنْبِهِمْ [ الملک/ 11] ، فَاعْتَرَفْنا بِذُنُوبِنا[ غافر/ 11] . الاعتراف ( افتعال ) کے معنی اقرار کے میں اصل میں اس کے معنی گناہ کا اعتراف کرنے کے ہیں ۔ اس کی ضد جحود یعنی انکار کرنا ہے ۔ قرآن پاک میں ہے ؛ فَاعْتَرَفُوا بِذَنْبِهِمْ [ الملک/ 11] پس وہ اپنے گناہ کا اقرار کریں گے ۔ فَاعْتَرَفْنا بِذُنُوبِنا[ غافر/ 11] ہم کو اپنے گناہوں کا اقرار ہے ذنب والذَّنْبُ في الأصل : الأخذ بذنب الشیء، يقال : ذَنَبْتُهُ : أصبت ذنبه، ويستعمل في كلّ فعل يستوخم عقباه اعتبارا بذنب الشیء، ولهذا يسمّى الذَّنْبُ تبعة، اعتبارا لما يحصل من عاقبته، وجمع الذّنب ذُنُوب، قال تعالی: فَأَخَذَهُمُ اللَّهُ بِذُنُوبِهِمْ [ آل عمران/ 11] ، الذنب ( ض ) کے اصل معنی کسی چیز کی دم پکڑنا کے ہیں کہا جاتا ہے ذنبتہ میں نے اس کی دم پر مارا دم کے اعتبار ست ہر اس فعل کو جس کا انجام برا ہوا سے ذنب کہہ دیتے ہیں اسی بناء پر انجام کے اعتباڑ سے گناہ کو تبعتہ بھی کہا جاتا ہے ۔ ذنب کی جمع ذنوب ہے ۔ قرآن میں ہے ۔ فَأَخَذَهُمُ اللَّهُ بِذُنُوبِهِمْ [ آل عمران/ 11] تو خدا نے ان کو ان کے گناہوں کے سبب ( عذاب میں ) پکڑلیا تھا۔ سحق السَّحْقُ : تفتیت الشیء، ويستعمل في الدّواء إذا فتّت، يقال : سَحَقْتُهُ فَانْسَحَقَ ، وفي الثوب إذا أخلق، يقال : أَسْحَقَ ، والسُّحْقُ : الثوب البالي، ومنه قيل : أَسْحَقَ الضّرعُ ، أي : صار سَحْقاً لذهاب لبنه، ويصحّ أن يُجعل إِسْحَاقُ منه، فيكون حينئذ منصرفا «3» ، وقیل : أبعده اللہ وأَسْحَقَهُ ، أي : جعله سَحِيقاً ، وقیل : سَحَقَهُ ، أي جعله بالیا، قال تعالی: فَسُحْقاً لِأَصْحابِ السَّعِيرِ [ الملک/ 11] ، وقال تعالی: أَوْ تَهْوِي بِهِ الرِّيحُ فِي مَكانٍ سَحِيقٍ [ الحج/ 31] ، ودم مُنْسَحِقٌ ، وسَحُوقٌ مستعار، کقولهم : مدرور . ( س ح ق ) السق ( ض ک ) اس کے اصل معنی کسی چیز کو ریزہ ریزہ کرنے کے ہیں ۔ زیادہ تر دوا کے پیسنے پر اس کا استعمال ہوتا ہے ۔ جیسے : ۔ سحقتہ فانسحق میں نے دوا کو پیسا چناچہ وہ پس گئی اسحق الثوب کے معنی کپڑے کا پرانا ہوجانا کے ہیں اور پرانے کپڑے کو سحق کہا جاتا ہے اسی سے اسحق الضوع کا محاورہ جس کے معنی ہیں دودھ خشک ہوجانے کی وجہ سے تھن مرجھا گئے : ۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔ اور ہوسکتا ہے کہ اسحق ( علم ) بھی اسی س مشتق ہو اس صورت میں یہ اسم منصرف ہوگا ۔ اور کپڑے کے بوسیدہ کردینے پر سحقہ ( مجرد ) بھی استعمال ہوتا ہے اور محاورہ میں اسحقہ اللہ کے معنی ہیں اللہ تعالیٰ اسے ہلاک کرے اسی سے فرمایا : ۔ فَسُحْقاً لِأَصْحابِ السَّعِيرِ [ الملک/ 11] کہ دوزخیوں کے لئے دوری ہے ۔ اور فرمایا : ۔ أَوْ تَهْوِي بِهِ الرِّيحُ فِي مَكانٍ سَحِيقٍ [ الحج/ 31] یا اس کو ہوا کسی دور جگہ لے کر ڈال دے گی ۔ اور استعارہ کے طور پر جاری خون کو منسحق و سحوق کہا جاتا ہے جیسے مزرور ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

غرض اپنے شرک کا اقرار کریں گے سو آج کے دن دوزخیوں پر لعنت اور رحمت خداوندی سے دوری ہے۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ١ ١{ فَاعْتَرَفُوْا بِذَنْبِہِمْ } ” پس وہ اپنے اصل گناہ کا اعتراف کرلیں گے۔ “ { فَسُحْقًا لاَصْحٰبِ السَّعِیْرِ ۔ } ” پس پھٹکار ہے جہنمی لوگوں کے لیے۔ “ اب تقابل کے طور پر آگے اہل جنت کا تذکرہ آ رہا ہے ۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

17 The word dhanb (sin) has been used in the singular. It means that the real sin because of which they became worthy of Hell was to belie the Messengers and refuse to obey them; all other sins are its consequences.

سورة الْمُلْک حاشیہ نمبر :17 قصور کالفظ واحد استعمال ہوا ہے ۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ اصل قصور جس کی بنا پر وہ جہنم کے مستحق ہوئے رسولوں کا جھٹلانا اور ان کی پیروی سے ا نکار کرنا ہے ۔ باقی سارے گناہ اسی کی فرع ہیں ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(67:11) فاعترفوا بذنبھم : قالوا پر عطف تفسیری ہے یعنی انہوں نے اپنے جرم کا ایسے وقت اعتراف کیا جب اعتراف غیر مفید تھا۔ اعتراف (افتعال) کا معنی ہے پہچاننے کے بعد اقرار کرنا۔ اور (ذنب) گناہ سے مراد ہے کفر۔ ذنب چونکہ اصلا مصدر ہے اور مصادر میں باعتبار اصل جمع نہیں ہوتی اس لئے ذنب کو بصورت جمع ذکر نہیں کیا۔ فسحقا لاصحب السعیر : سحقا مفعول مطلق ہے اور مصدر ہے اس کا فعل محذوف ہے ۔ ای فاسحقھم اللہ سحقا : اللہ نے ان کو اپنی رحمت سے دور کردیا۔ یہ جملہ بددعائیہ معترضہ ہے (تفسیر المظہری) سحق (باب سمع) مصدر۔ دور کرنا، دفع کرنا، سحق سے سحیق بروزن فعیل بمعنی فاعل بمعنی دور، بعید 22:31 میں مستعمل ہے

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 1 سحق (پھٹکار) سے مراد یہ ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی رحمت سے دور ہوں۔ سعید بن جبیر کہتے ہیں کہ ” سخق “ دوزخ کی ایک وادی کا نام ہے واللہ اعلم (شواکفی)

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

فاعترفوا .................... السعیر (٧٦ : ١١) ” اس طرح وہ اپنے قصور کا خود اعتراف کرلیں گے ، لعنت ہے ان دوزخیوں پر “۔ سحق کے معنی بعد کے ہیں۔ یہ اللہ کی طرف سے ان کے لئے بددعا ہے۔ جب انہوں نے اعتراف کرلیا اور یہ اعتراف ، اس وقت کیا جب وہ منظر ان کے سامنے آگیا ، جس کے وقوع کا وہ انکار کررہے تھے۔ اور اللہ جس کے لئے بددعا کردے تو گویا ان کی بربادی کا فیصلہ ہوگیا۔ یہ لوگ رحمت خداوندی سے دور ہوگئے ، اب ان کو اللہ کی مغفرت کی کوئی امید نہیں رہی ہے۔ نہ عذاب سے چھوٹنے کی کوئی امید ہے۔ اب تو وہ دوزخ کے ساتھی ہیں۔ کیا ہی بری صحبت ہے اور کیا ہی بری ہم نشینی ہے ان کی اور کیا ہی برانجام ! یہ عذاب ، جہنم کا عذاب ، جو پھٹکاریں ماررہی ہے ، ایک شدید عذاب ہے۔ خوفناک عذاب ہے۔ اللہ کسی پر ظلم نہیں کرتا۔ حقیقت یہ ہے کہ ہر نفس کے اندر اللہ نے ایمان کی حقیقت اور ایمان کے دلائل رکھ دیئے ہیں اس کے باوجود بھی اگر کو ئی نفس کے اندر اللہ نے ایمان کی حقیقت اور ایمان کے دلائل رکھ دیئے ہیں اس کے باوجود بھی اگر کوئی نفس اللہ کا انکار کرتا ہے تو معلوم ہوجاتا ہے کہ اس کے اندر کوئی بھلائی نہیں اور وہ ہر قسم کی بھلائی سے محروم ہے۔ اسی طرح وہ اپنے وجود اور شخصیت کی تمام بنیادی صفات کا بھی وزن کھوبیٹھتی ہے۔ وہ اسی طرح ہے جس طرح جہنم میں پتھروں کو جلایا جائے۔ اس کی شخصیت نے اپنے آپ کو اپنے مکان سے گرا کر اس آگ میں ڈالا ہے حالانکہ اس کا فرض یہ تھا کہ وہ اس سے بھاگتی۔ جو متنفس اللہ کا انکار کرتا ہے وہ آگے بڑھنے کے بجائے الٹے پاﺅں پھرتا ہے اور اوندھے منہ گرتا ہے اور وہ زندگی کے ہر دوڑ میں گرتا ہی چلا جاتا ہے ، یہاں تک کہ وہ انتہائی بری ، پسماندہ اور قابل نفرت شکل اختیار کرلیتا ہے۔ آخرکار وہ ایک مکروہ جہنمی کی شکل اختیار کرلیتا ہے۔ وہ اس قدر بدشکل ہوجاتا ہے کہ اس جہاں کی کوئی چیز بھی اس قدر کریہہ المنظر نہیں ہوتی۔ جس طرح کوئی چیز مسخ ہوجائے۔ تو ایسے متنفس کے سوا تمام جہاں ایک طرف ہوتی ہے۔ ہر چیز مومن ہے۔ اللہ کی ثناخواں ہے ، اور ہر چیز میں خیر موجود ہے اور تمام اشیاء کے اندر ایمان ایک رابطہ ہے۔ ماسوائے ان نفوس انسانی وشیطانی کے جو کفر اختیار کرتے ہیں۔ ان منکر اور بھٹکے ہوئے افراد کا ہر قسم کا تعلق جہاں بھی وہ ہوں ، ہر چیز سے کٹ جاتا ہے ، ماسوائے جہنم کے وہو کسی کام کے نہیں ہوتے۔ ان کے اندر کوئی معنی کوئی حقانیت اور کوئی عزت نہیں ہوتی۔ اس لئے یہ نفوس جہنم کے مستحق ہوجاتے ہیں۔ قرآن کریم کا یہ انداز ہے کہ وہ صفات بالمقابل پیش کرتا ہے۔ جس طرح جہنم والوں کے مناظر دکھائے گئے۔ اس کے بالمقابل مومنین کے حالات بھی دکھائے جاتے ہیں۔ اور یہ پورے قرآن کریم کا انداز ہے۔ چناچہ یہاں بھی آیات۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

﴿فَاعْتَرَفُوْا بِذَنْۢبِهِمْ ١ۚ﴾ (یہ بات کہہ کر کہ اگر ہم سنتے اور سمجھتے تو آج جلنے کے عذاب میں نہ ہوتے اپنے گناہ کا اقرار کرلیں گے یعنی یہ مان لیں گے کہ ہم نے اللہ تعالیٰ کے رسولوں کو جھٹلایا۔ ) ۔ ﴿ فَسُحْقًا لِّاَصْحٰبِ السَّعِيْرِ ٠٠١١﴾ (سو جلتی ہوئی آگ میں داخل ہونے والوں کے لیے اللہ تعالیٰ کی رحمت سے دوری ہے) یہ دوری ہمیشہ کے لیے ہے کبھی بھی ان پر رحم نہ کیا جائے گا۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(11) غرض یہ کافر اپنے جرم کا اقرار کریں گے پس یہ اہل دوزخ خدائے تعالیٰ کی رحمت سے دور ہوں گی۔ یہ منکر آخر کار اپنے جرم یعنی اپنی غفلت کا اقرار کرلیں گے لیکن یہ اقرار بےوقت ہوگا جس جس وقت اقرار و اعتراف مفید نہیں ہوتا وانی لہ الذکری اس لئے فرماتے ہیں۔ فستحقا الاصحاب السعیر کا مطلب یہ ہے کہالزمہم اللہ ستھایا اسحقھم اللہ سحقا یعنی ہر قسم کے الطاف و عنایات اور مہرومحبت سے دوری ہی دوری ہو ان اصحاب سعیر کو العیاذ باللہ ان منکروں کا ذکر کرنے کے بعد آگے نیک اور ڈرانے والوں کا ذکر فرمایا۔