Surat ul Mulk

Surah: 67

Verse: 12

سورة الملك

اِنَّ الَّذِیۡنَ یَخۡشَوۡنَ رَبَّہُمۡ بِالۡغَیۡبِ لَہُمۡ مَّغۡفِرَۃٌ وَّ اَجۡرٌ کَبِیۡرٌ ﴿۱۲﴾

Indeed, those who fear their Lord unseen will have forgiveness and great reward.

بیشک جو لوگ اپنے پروردگار سے غائبانہ طور پر ڈرتے رہتے ہیں ان کے لئے بخشش ہے اور بڑا ثواب ہے ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

The Reward of those Who fear their Lord unseen Allah informs, إِنَّ الَّذِينَ يَخْشَوْنَ رَبَّهُم بِالْغَيْبِ لَهُم مَّغْفِرَةٌ وَأَجْرٌ كَبِيرٌ Verily, those who fear their Lord unseen, theirs will be forgiveness and a great reward. Allah informs of he who fears standing before his Lord, being frightened about matters between himself and Allah when he is not in the presence of other people. So he refrains from disobedience and he performs acts of obedience when no one sees him except Allah. Allah mentions that this person will have forgiveness and a great reward. This means that his sins will be remitted and he will be rewarded abundantly. This is similar to what has been confirmed in the Two Sahihs, سَبْعَةٌ يُظِلُّهُمُ اللهُ تَعَالى فِي ظِلِّ عَرْشِهِ يَوْمَ لاَ ظِلَّ إِلاَّ ظِلُّه There are seven people whom Allah the Exalted will shade in the shade of His Throne on the Day when there will be no shade except its shade. Then he mentioned that among those people are: دَعَتْهُ امْرَأَةٌ ذَاتُ مَنْصِبٍ وَجَمَالٍ فَقَالَ إِنِّي أَخَافُ اللهَ وَرَجُلً تَصَدَّقَ بِصَدَقَةٍ فَأَخْفَاهَا حَتْى لاَ تَعْلَمَ شِمَالُهُ مَا تُنْفِقُ يَمِينُه - A man who is tempted by a beautiful woman of high social status, but he says: `Verily, I fear Allah.' - Another person from among them is a man who gives charity and he conceals it so that his left hand does not know what his right hand spent. Then He says, while informing that He is aware of the innermost conscience and secrets, وَأَسِرُّوا قَوْلَكُمْ أَوِ اجْهَرُوا بِهِ إِنَّهُ عَلِيمٌ بِذَاتِ الصُّدُورِ

نافرمانی سے خائف ہی مستحق ثواب ہیں اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو خوشخبری دے رہا ہے جو اپنے رب کے سامنے کھڑے ہونے سے ڈرتے رہتے ہیں ، گو تنہائی میں ہوں جہاں کسی کی نگاہیں ان پر نہ پڑ سکیں تاہم خوف اللہ سے کسی نافرمانی کے کام کو نہیں کرتے نہ اطاعت و عبادت سے جی چراتے ہیں ، ان کے گناہ بھی وہ معاف فرما دیتا ہے اور زبردست ثواب اور بہترین اجر عنایت فرمائے گا ، جیسے بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے کہ جن سات شخصوں کو جناب باری اپنے عرش کا سایہ اس دن دے گا جس دن اس کے سوا کوئی سایہ نہ ہو گا ان میں ایک وہ ہے جسے کوئی مال و جمال والی عورت زنا کاری کی طرف بلائے اور وہ کہہ دے کہ میں اللہ سے ڈرتا ہوں اور اسے بھی جو اس طرح پوشیدگی سے صدقہ کرے کہ دائیں ہاتھ کے خرچ کی خبر بائیں ہاتھ کو بھی نہ لگے مسند بزار میں ہے کہ صحابہ نے ایک مرتبہ کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے دلوں کی جو کیفیت آپ کے سامنے ہوتی ہے آپ کے بعد وہ نہیں رہتی آپ نے فرمایا یہ بتاؤ رب کے ساتھ تمہارا کیا خیال رہتا ہے؟ جواب دیا کہ ظاہر باطن اللہ ہی کو ہم رب مانتے ہیں ، فرمایا جاؤ پھر یہ نفاق نہیں ۔ پھر فرماتا ہے کہ تمہاری چھپی کھلی باتوں کا مجھے علم ہے دلوں کے خطروں سے بھی آگاہ ہوں ، یہ ناممکن ہے کہ جو خالق ہو وہ عالم نہ ہو ، مخلوق سے خالق بےخبر ہو ، وہ تو بڑا باریک بین اور بیحد خبر رکھنے والا ہے ۔ بعد ازاں اپنی نعمت کا اظہار کرتا ہے کہ زمین کو اس نے تمہارے لئے مسخر کر دیا وہ سکون کے ساتھ ٹھہری ہوئی ہے ہل جل کر تمہیں نقصان نہیں پہنچاتی ، پہاڑوں کی میخیں اس میں گاڑ دی ہیں ، پانی کے چشمے اس میں جاری کر دیئے ہیں ، راستے اس میں مہیا کر دیئے ہیں ، قسم قسم کے نفع اس میں رکھ دیئے ہیں پھل اور اناج اس میں سے نکل رہا ہے ، جس جگہ تم جانا چاہو جا سکتے ہو طرح طرح کی لمبی چوڑی سود مند تجارتیں کر رہے ہو ، تمہاری کوششیں وہ بار آور کرتا ہے اور تمیں ان اسباب سے روزی دے رہا ہے ، معلوم ہوا کہ اسباب کے حاصل کرنے کی کوشش توکل کے خلاف نہیں ۔ مسند احمد کی حدیث میں ہے اگر تم اللہ کی ذات پر پورا پورا بھرسہ کرو تو وہ تمہیں اس طرح رزق دے جس طرح پرندوں کو دے رہا ہے کہ اپنے گھونسلوں سے خالی پیٹ نکلتے ہیں اور آسودہ حال واپس جاتے ہیں ، پس ان کا صبح شام آنا جانا اور رزق کو تلاش کرنا بھی توکل میں داخل سمجھا گیا کیونکہ اسباب کا پیدا کرنے والا انہیں آسان کرنے والا وہی رب واحد ہے ، اسی کی طرف قیامت کے دن لوٹنا ہے ، حضرت ابن عباس وغیرہ تو ( مناکب ) سے مراد راستے کونے اور ادھر ادھر کی جگہیں لیتے ہیں ، قتادہ وغیرہ سے مروی ہے کہ مراد پہاڑ ہیں ۔ حضرت بشیر بن کعب رحمتہ اللہ علیہ نے اس آیت کی تلاوت کی اور اپنی لونڈی سے جس سے انہیں اولاد ہوئی تھی فرمایا کہ اگر ( مناکب ) کی صحیح تفسیر تم بتا دو تو تم آزاد ہو اس نے کہا مراد اس سے پہاڑ ہیں آپ نے حضرت ابو درداء رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے پوچھا جواب ملا کہ یہ تفسیر صحیح ہے ۔

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

12۔ 1 یہ اہل کفر و تکذیب کے مقابلے میں اہل ایمان کا اور ان نعمتوں کا ذکر ہے جو انہیں قیامت والے دن اللہ کے ہاں ملیں گی۔ بالغیب کا ایک مطلب یہ ہے کہ انہوں نے اللہ کو دیکھا تو نہیں لیکن پیغمبروں کی تصدیق کرتے ہوئے وہ اللہ عذاب سے ڈرتے رہے دوسرا مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ لوگوں کی نظروں سے غائب یعنی خلوتوں میں اللہ سے ڈرتے رہے۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[١٥] ایمان بالغیب کے علاوہ کوئی بنیاد انسان کو گناہوں سے باز رکھ سکتی ہے نہ اخلاق فاضلہ پیدا کرسکتی ہے :۔ اللہ سے بن دیکھے ڈرنا ہی وہ بنیاد ہے جس پر انسان کے اخلاق فاضلہ کی تعمیر اٹھتی ہے اور اخلاقی لحاظ سے اس کی زندگی سنورتی ہے۔ اس بنیاد کے علاوہ جتنی بھی بنیادیں ہیں وہ سب کمزور اور ناپائیدار ہیں۔ مثلاً ایک یہ کہ وہ خود کسی برائی کو برائی سمجھتا ہو۔ دوسری یہ کہ لوگ اس کام کو برا سمجھتے ہوں۔ تیسری یہ کہ اس کام کے معاشرہ کے دوسرے افراد پر برے اثرات پڑتے ہوں اور چوتھے یہ کہ وہ کام حکومت کے قانون کے مطابق قابل مواخذہ برائی ہو۔ ان میں سے کوئی بھی بنیاد ایسی نہیں جو ایک انسان کو شریف اور بااخلاق بناسکتی ہو۔ نہ لوگ اسے ہر وقت دیکھ رہے ہوتے ہیں اور نہ حکومت۔ لہذا جب اس کے ذاتی مفاد کا مسئلہ ہو تو انسان لوگوں کی یا قانون کی گرفت سے بچنے کی ہزاروں راہیں تلاش کرلیتا ہے۔ انسان کو اگر کوئی چیز گناہوں سے باز رکھ سکتی ہے تو وہ یہی عقیدہ ہے کہ اللہ اسے ہر حال میں دیکھ رہا ہے۔ وہ اس کے دل کے خیالات تک سے واقف ہے۔ پھر وہ اس سے بازپرس کرنے اور سزا دینے کی پوری قدرت بھی رکھتا ہے۔ ایسے لوگوں کی زندگی خود بخود سنورنے لگتی ہے۔ چھوٹے موٹے گناہ اللہ ویسے ہی معاف کردے گا پھر اس کے لئے ایسے لوگوں کو جنت بھی عطا فرمائے گا۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

اِنَّ الَّذِیْنَ یَخْشَوْنَ رَبَّھُمْ بِالْغَیْبِ ۔۔۔۔: پچھلی آیات میں جہنمیوں کا ذکر تھا جو نہ اپنے رب سے ڈرتے تھے نہ انہیں قیامت کا یا اپنی بد اعمالیوں کی سزا کا خوف تھا ، کیونکہ نہ وہ ان دیکھی چیزوں پر ایمان لانے پر تیار تھے اور نہ ان سے ڈرنے پر ۔ ان کے مقابلے میں اب ان لوگوں کا ذکر ہے جو عقل سلیم کے تقاضے اور اللہ تعالیٰ کے رسولوں اور گربزیدہ بندوں کے بتانے سے دیکھے بغیر اللہ تعالیٰ پر ، اس کے فرشتوں پر ، اس کے رسولوں اور یوم آخرت پر ایمان لائے اور دیکھے بغیر اپنے رب سے ڈرتے رہے۔ ان سے اگر کوئی غلطی ہو بھی گئی تو ان کے بن دیکھے ڈرتے رہنے کے صلے میں اللہ تعالیٰ انہیں معاف فرما دے گا اور اسی خشیت بالغیب کی وجہ سے انہوں نے خود نیکیاں کیں ان کا انہیں بہت بڑا اجر عطاء فرمائے گا ۔ خشیت کا معنی شدت خوف ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ہر نیکی کی اصل ایمان بالغیب اور خشیت بالغیب ہے اور گناہ سے بچنے کا اصل باعث بھی یہی ہے۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

اِنَّ الَّذِيْنَ يَخْشَوْنَ رَبَّہُمْ بِالْغَيْبِ لَہُمْ مَّغْفِرَۃٌ وَّاَجْرٌ كَبِيْرٌ۝ ١٢ خشی الخَشْيَة : خوف يشوبه تعظیم، وأكثر ما يكون ذلک عن علم بما يخشی منه، ولذلک خصّ العلماء بها في قوله : إِنَّما يَخْشَى اللَّهَ مِنْ عِبادِهِ الْعُلَماءُ [ فاطر/ 28] ( خ ش ی ) الخشیۃ ۔ اس خوف کو کہتے ہیں جو کسی کی عظمت کی وجہ سے دل پر طاری ہوجائے ، یہ بات عام طور پر اس چیز کا علم ہونے سے ہوتی ہے جس سے انسان ڈرتا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ آیت کریمہ ؛۔ إِنَّما يَخْشَى اللَّهَ مِنْ عِبادِهِ الْعُلَماءُ [ فاطر/ 28] اور خدا سے تو اس کے بندوں میں سے وہی ڈرتے ہیں جو صاحب علم ہیں ۔ میں خشیت الہی کے ساتھ علماء کو خاص کیا ہے ۔ رب الرَّبُّ في الأصل : التربية، وهو إنشاء الشیء حالا فحالا إلى حدّ التمام، يقال رَبَّهُ ، وربّاه ورَبَّبَهُ. وقیل : ( لأن يربّني رجل من قریش أحبّ إليّ من أن يربّني رجل من هوازن) فالرّبّ مصدر مستعار للفاعل، ولا يقال الرّبّ مطلقا إلا لله تعالیٰ المتکفّل بمصلحة الموجودات، نحو قوله : بَلْدَةٌ طَيِّبَةٌ وَرَبٌّ غَفُورٌ [ سبأ/ 15] ( ر ب ب ) الرب ( ن ) کے اصل معنی تربیت کرنا یعنی کس چیز کو تدریجا نشونما دے کر حد کہال تک پہنچانا کے ہیں اور ربہ ورباہ وربیہ تنیوں ایک ہی معنی میں استعمال ہوتے ہیں ۔ کسی نے کہا ہے ۔ لان یربنی رجل من قریش احب الی من ان یربنی رجل من ھوازن ۔ کہ کسی قریشی کا سردار ہونا مجھے اس سے زیادہ عزیز ہے کہ بنی ہوازن کا کوئی آدمی مجھ پر حکمرانی کرے ۔ رب کا لفظ اصل میں مصدر ہے اور استعارۃ بمعنی فاعل استعمال ہوتا ہے اور مطلق ( یعنی اصافت اور لام تعریف سے خالی ) ہونے کی صورت میں سوائے اللہ تعالیٰ کے ، جو جملہ موجودات کے مصالح کا کفیل ہے ، اور کسی پر اس کا اطلاق نہیں ہوتا چناچہ ارشاد ہے :۔ بَلْدَةٌ طَيِّبَةٌ وَرَبٌّ غَفُورٌ [ سبأ/ 15] عمدہ شہر اور ( آخرت میں ) گنا ه بخشنے والا پروردگار ،۔ غيب الغَيْبُ : مصدر غَابَتِ الشّمسُ وغیرها : إذا استترت عن العین، يقال : غَابَ عنّي كذا . قال تعالی: أَمْ كانَ مِنَ الْغائِبِينَ [ النمل/ 20] ( غ ی ب ) الغیب ( ض ) غابت الشمس وغیر ھا کا مصدر ہے جس کے معنی کسی چیز کے نگاہوں سے اوجھل ہوجانے کے ہیں ۔ چناچہ محاورہ ہے ۔ غاب عنی کذا فلاں چیز میری نگاہ سے اوجھل ہوئی ۔ قرآن میں ہے : أَمْ كانَ مِنَ الْغائِبِينَ [ النمل/ 20] کیا کہیں غائب ہوگیا ہے ۔ اور ہر وہ چیز جو انسان کے علم اور جو اس سے پودشیدہ ہو اس پر غیب کا لفظ بولا جاتا ہے غفر الغَفْرُ : إلباس ما يصونه عن الدّنس، ومنه قيل : اغْفِرْ ثوبک في الوعاء، واصبغ ثوبک فإنّه أَغْفَرُ للوسخ «1» ، والغُفْرَانُ والْمَغْفِرَةُ من اللہ هو أن يصون العبد من أن يمسّه العذاب . قال تعالی: غُفْرانَكَ رَبَّنا[ البقرة/ 285] ( غ ف ر ) الغفر ( ض ) کے معنی کسی کو ایسی چیز پہنا دینے کے ہیں جو اسے میل کچیل سے محفوظ رکھ سکے اسی سے محاورہ ہے اغفر ثوبک فی ولوعاء اپنے کپڑوں کو صندوق وغیرہ میں ڈال کر چھپادو ۔ اصبغ ثوبک فانہ اغفر لو سخ کپڑے کو رنگ لو کیونکہ وہ میل کچیل کو زیادہ چھپانے والا ہے اللہ کی طرف سے مغفرۃ یا غفران کے معنی ہوتے ہیں بندے کو عذاب سے بچالیا ۔ قرآن میں ہے : ۔ غُفْرانَكَ رَبَّنا[ البقرة/ 285] اے پروردگار ہم تیری بخشش مانگتے ہیں ۔ أجر الأجر والأجرة : ما يعود من ثواب العمل دنیویاً کان أو أخرویاً ، نحو قوله تعالی: إِنْ أَجْرِيَ إِلَّا عَلَى اللَّهِ [يونس/ 72] ، وَآتَيْناهُ أَجْرَهُ فِي الدُّنْيا وَإِنَّهُ فِي الْآخِرَةِ لَمِنَ الصَّالِحِينَ [ العنکبوت/ 27] ، وَلَأَجْرُ الْآخِرَةِ خَيْرٌ لِلَّذِينَ آمَنُوا [يوسف/ 57] . والأُجرة في الثواب الدنیوي، وجمع الأجر أجور، وقوله تعالی: وَآتُوهُنَّ أُجُورَهُنَّ [ النساء/ 25] كناية عن المهور، والأجر والأجرة يقال فيما کان عن عقد وما يجري مجری العقد، ولا يقال إلا في النفع دون الضر، نحو قوله تعالی: لَهُمْ أَجْرُهُمْ عِنْدَ رَبِّهِمْ [ آل عمران/ 199] ، وقوله تعالی: فَأَجْرُهُ عَلَى اللَّهِ [ الشوری/ 40] . والجزاء يقال فيما کان عن عقدٍ وغیر عقد، ويقال في النافع والضار، نحو قوله تعالی: وَجَزاهُمْ بِما صَبَرُوا جَنَّةً وَحَرِيراً [ الإنسان/ 12] ، وقوله تعالی: فَجَزاؤُهُ جَهَنَّمُ [ النساء/ 93] . يقال : أَجَر زيد عمراً يأجره أجراً : أعطاه الشیء بأجرة، وآجَرَ عمرو زيداً : أعطاه الأجرة، قال تعالی: عَلى أَنْ تَأْجُرَنِي ثَمانِيَ حِجَجٍ [ القصص/ 27] ، وآجر کذلک، والفرق بينهما أنّ أجرته يقال إذا اعتبر فعل أحدهما، وآجرته يقال إذا اعتبر فعلاهما «1» ، وکلاهما يرجعان إلى معنی واحدٍ ، ويقال : آجره اللہ وأجره اللہ . والأجير : فعیل بمعنی فاعل أو مفاعل، والاستئجارُ : طلب الشیء بالأجرة، ثم يعبّر به عن تناوله بالأجرة، نحو : الاستیجاب في استعارته الإيجاب، وعلی هذا قوله تعالی: اسْتَأْجِرْهُ إِنَّ خَيْرَ مَنِ اسْتَأْجَرْتَ الْقَوِيُّ الْأَمِينُ [ القصص/ 26] . ( ا ج ر ) الاجر والاجرۃ کے معنی جزائے عمل کے ہیں خواہ وہ بدلہ دنیوی ہو یا اخروی ۔ چناچہ فرمایا : ۔ {إِنْ أَجْرِيَ إِلَّا عَلَى اللَّهِ } [هود : 29] میرا اجر تو خدا کے ذمے ہے ۔ { وَآتَيْنَاهُ أَجْرَهُ فِي الدُّنْيَا وَإِنَّهُ فِي الْآخِرَةِ لَمِنَ الصَّالِحِينَ } [ العنکبوت : 27] اور ان کو دنیا میں بھی ان کا صلہ عنایت کیا اور وہ آخرت میں بھی نیک لوگوں میں سے ہوں گے ۔ { وَلَأَجْرُ الْآخِرَةِ خَيْرٌ لِلَّذِينَ آمَنُوا } [يوسف : 57] اور جو لوگ ایمان لائے ۔ ۔۔۔ ان کے لئے آخرت کا اجر بہت بہتر ہے ۔ الاجرۃ ( مزدوری ) یہ لفظ خاص کر دنیوی بدلہ پر بولا جاتا ہے اجر کی جمع اجور ہے اور آیت کریمہ : { وَآتُوهُنَّ أُجُورَهُنَّ } [ النساء : 25] اور ان کے مہر بھی انہیں ادا کردو میں کنایہ عورتوں کے مہر کو اجور کہا گیا ہے پھر اجر اور اجرۃ کا لفظ ہر اس بدلہ پر بولاجاتا ہے جو کسی عہد و پیمان یا تقریبا اسی قسم کے عقد کی وجہ سے دیا جائے ۔ اور یہ ہمیشہ نفع مند بدلہ پر بولا جاتا ہے ۔ ضرر رساں اور نقصان دہ بدلہ کو اجر نہیں کہتے جیسے فرمایا { لَهُمْ أَجْرُهُمْ عِنْدَ رَبِّهِمْ } [ البقرة : 277] ان کو ان کے کاموں کا صلہ خدا کے ہاں ملے گا ۔ { فَأَجْرُهُ عَلَى اللهِ } ( سورة الشوری 40) تو اس کا بدلہ خدا کے ذمے ہے الجزاء ہر بدلہ کو کہتے ہیں خواہ وہ کسی عہد کی وجہ سے ہو یا بغیر عہد کے اچھا ہو یا برا دونوں پر بولا جاتا ہے ۔ چناچہ فرمایا ۔ { وَجَزَاهُمْ بِمَا صَبَرُوا جَنَّةً وَحَرِيرًا } [ الإنسان : 12] اور ان کے صبر کے بدلے ان کو بہشت کے باغات اور ریشم ( کے ملبوسات) عطا کریں گے ۔ { فَجَزَاؤُهُ جَهَنَّمُ } ( سورة النساء 93) اس کی سزا دوزخ ہے ۔ محاورہ میں ہے اجر ( ن ) زید عمرا یا جرہ اجرا کے معنی میں زید نے عمر کو اجرت پر کوئی چیز دی اور اجر عمر زیدا کے معنی ہوں گے عمرو نے زید کو اجرت دی قرآن میں ہے :۔ { عَلَى أَنْ تَأْجُرَنِي ثَمَانِيَ حِجَجٍ } [ القصص : 27] کہ تم اس کے عوض آٹھ برس میری خدمت کرو ۔ اور یہی معنی اجر ( مفاعلہ ) کے ہیں لیکن اس میں معنی مشارکت کا اعتبار ہوتا ہے اور مجرد ( اجرتہ ) میں مشارکت کے معنی ملحوظ نہیں ہوتے ہاں مال کے لحاظ سے دونوں ایک ہی ہیں ۔ محاورہ ہی ۔ اجرہ اللہ واجرہ دونوں طرح بولا جاتا ہے یعنی خدا اسے بدلہ دے ۔ الاجیرہ بروزن فعیل بمعنی فاعل یا مفاعل ہے یعنی معاوضہ یا اجرت کا پر کام کرنے والا ۔ الاستیجار کے اصل معنی کسی چیز کو اجرت پر طلب کرنا پھر یہ اجرت پر رکھ لینے کے معنی میں بولا جاتا ہے جس طرح کہ استیجاب ( استفعال ) بمعنی اجاب آجاتا ہے چناچہ آیت کریمہ : { اسْتَأْجِرْهُ إِنَّ خَيْرَ مَنِ اسْتَأْجَرْتَ الْقَوِيُّ الْأَمِينُ } [ القصص : 26] اسے اجرت پر ملازم رکھ لیجئے کیونکہ بہتر ملازم جو آپ رکھیں وہ ہے جو توانا اور امانت دار ہو میں ( استئجار کا لفظ ) ملازم رکھنے کے معنی میں استعمال ہوا ہے ۔ كبير الْكَبِيرُ والصّغير من الأسماء المتضایفة التي تقال عند اعتبار بعضها ببعض، فالشیء قد يكون صغیرا في جنب شيء، وكبيرا في جنب غيره، ويستعملان في الكمّيّة المتّصلة كالأجسام، وذلک کالکثير والقلیل، وفي الكمّيّة المنفصلة کالعدد، وربما يتعاقب الکثير والکبير علی شيء واحد بنظرین مختلفین نحو : قُلْ فِيهِما إِثْمٌ كَبِيرٌ [ البقرة/ 219] و : كثير «1» قرئ بهما . وأصل ذلک أن يستعمل في الأعيان، ثم استعیر للمعاني نحو قوله : لا يُغادِرُ صَغِيرَةً وَلا كَبِيرَةً إِلَّا أَحْصاها[ الكهف/ 49] ، وقوله : وَلا أَصْغَرَ مِنْ ذلِكَ وَلا أَكْبَرَ [ سبأ/ 3] ، وقوله : يَوْمَ الْحَجِّ الْأَكْبَرِ [ التوبة/ 3] إنما وصفه بالأكبر تنبيها أنّ العمرة هي الحجّة الصّغری كما قال صلّى اللہ عليه وسلم : «العمرة هي الحجّ الأصغر» فمن ذلک ما اعتبر فيه الزمان، ( ک ب ر ) کبیر اور صغیر اسمائے اضافیہ سے ہیں ۔ جن کے معانی ایک دوسرے کے لحاظ سے متعین ہوتے ہیں ۔ چناچہ ایک ہی چیز دوسری کے مقابلہ میں صغیر ہوتی ہے لیکن وہ شئے ایک اور کے مقابلہ میں کبیر کہلاتی ہے ۔ اور قلیل وکثٰیر کی طرح کبھی تو ان کا استعمال کمیت متصلہ یعنی اجسام میں ہوتا ہے ۔ اور کبھی کمیۃ منفصلہ یعنی عدد ہیں ۔ اور بعض اوقات کثیر اور کبیر دو مختلف جہتوں کے لحاظ سے ایک ہی چیز پر بولے جاتے ہیں ۔ چناچہ فرمایا : قُلْ فِيهِما إِثْمٌ كَبِيرٌ [ البقرة/ 219] کہہ دو کہ ان میں نقصان بڑے ہیں ۔ کہ اس میں ایک قرآت کثیر بھی ہے ۔ یہ اصل وضع کے لحاظ سے تو اعیان میں ہی استعمال ہوتے ہیں ۔ لیکن استعارہ کے طور پر معانی پر بھی بولے جاتے ہیں چناچہ فرمایا : لا يُغادِرُ صَغِيرَةً وَلا كَبِيرَةً إِلَّا أَحْصاها[ الكهف/ 49] کہ نہ چھوٹی بات کو چھوڑتی ہے ۔ اور نہ بڑی کو ( کوئی بات بھی نہیں ) مگر اسے گن رکھا ہے ۔ وَلا أَصْغَرَ مِنْ ذلِكَ وَلا أَكْبَرَ [ سبأ/ 3] اور نہ کوئی چیز اس سے چھوٹی ہے یا بڑی ۔ اور آیت کریمہ : يَوْمَ الْحَجِّ الْأَكْبَرِ [ التوبة/ 3] اور حج اکبر کے دن ۔۔۔ میں حج کو اکبر کہہ کر متنبہ کیا ہے کہ عمرۃ حج اصغر ہے ۔ جیسا کہ آنحضرت نے فرمایا ہے ؛العمرۃ ھہ الحج الاصغر ۔ کہ عمرہ حج اصغر ہے ۔ اور کبھی بڑائی بلحاظ زمانہ مراد ہوتی ہے چناچہ محاورہ ہے ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

اور جو لوگ غائبانہ اپنے پروردگار سے ڈرتے ہیں تو ان کے د نیاوی گناہوں کی مغفرت اور جنت میں بہت بڑا ثواب ہے۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

18 This is the real basis of morality in religion. A person's refraining from an evil because it is an evil in his personal opinion, or because the world regards it as an evil, or because its commission is likely to bring loss in the world, or because it may entail a punishment by a worldly power, is a very flimsy basis for morality. A man's personal opinion may be wrong, he may regard a good thing as bad and a bad thing as good because of some philosophy of his own. In the first place, the worldly standards of good and evil have never been the same: they have been changing from time to time. No universal and eternal standard in the moral philosophies is found today, nor has it ever been found before. The fear of worldly loss also does not provide a firm foundation for morality. The person who avoids an evil because he fears the loss that may result from it for himself, cannot keep himself from committing it when there is no fear of incurring such a loss. Likewise, the danger of the punishment by a worldly power also is not something which can trun a person into a gentleman. Everybody knows that no worldly power is knower of both the seen and the unseen. Many crimes can be committed unseen and unobserved. Then, there are many possible devices by which one can escape the punishment of every worldly power; and the Taws made by a worldly power also do not cover all evils. Most evils are such as do not come within the purview of the mundane laws, whereas they are even worse than the evils which they regard as punishable. That is why, the Religion of Truth has raised the edifice of morality on the basis that one should refrain from an evil in fear of the unseen God Who sees man under all conditions, from Whose grasp man cannot escape in any way, Who has given man an all-pervading, universal and everlasting criterion of good and evil. To forsake evil and adopt good only out of fear of Him is the real good which is commendable in religion. Apart from this, if a man refrains from committing evil for .any other reason or adopts acts which in view of their external form are regarded as good acts, his these moral acts will not be worth any merit and value in the Hereafter, for they are like a building which has been built on sand. 19 That is, there are two inevitable results of fearing God unseen: (1) That whatever errors and sins one will have committed because of human weaknesses, will be forgiven provided these were not committed because of fearlessness of God; and (2) that whatever good acts a man performs on the basis of this belief, he will be rewarded richly for them.

سورة الْمُلْک حاشیہ نمبر :18 یہ دین میں اخلاق کی اصل جڑ ہے ۔ کسی کا برائی سے اس لیے بچنا کہ اس کی ذاتی رائے میں وہ برائی ہے ، یا دنیا اسے برا سمجھتی ہے ، یا اس کے ارتکاب سے دنیا میں کوئی نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہے ، یا اس پر کسی دنیوی طاقت کی گرفت کا خطرہ ہے ، یہ اخلاق کے لیے ایک بہت ہی ناپائیدار بنیاد ہے ۔ آدمی کی ذاتی رائے غلط بھی ہو سکتی ہے ، وہ اپنے کسی فلسفے کی وجہ سے ایک اچھی چیز کو برا اور ایک بری چیز کو اچھا سمجھ سکتا ہے ۔ دنیا کے معیار خیر و شر اول تو یکساں نہیں ہیں ، پھر وہ وقتاً فوقتا بدلتے بھی رہتے ہیں ، کوئی عالمگیر اور ازلی و ابدی معیار دنیا کے اخلاقی فلسفوں میں نہ آج پایا جاتا ہے نہ کبھی پایا گیا ہے ۔ دنیوی نقصان کا اندیشہ بھی اخلاق کے لیے کوئی مستقل بنیاد فراہم نہیں کرتا ۔ جو شخص برائی سے اس لیے بچتا ہو کہ وہ دنیا میں اس کی ذات پر مترتب ہونے والے کسی نقصان سے ڈرتا ہے وہ ایسی حالت میں اس کے ارتکاب سے باز نہیں رہ سکتا جبکہ اس سے کوئی نقصان پہنچنے کا اندیشہ نہ ہو ۔ اسی طرح کسی دنیوی طاقت کی گرفت کا خطرہ بھی وہ چیز نہیں ہے جو انسان کو ایک شریف انسان بنا سکتی ہو ۔ ہر شخص جانتا ہے کہ کوئی دنیوی طاقت بھی عالم الغیب و الشہادہ نہیں ہے ۔ بہت سے جرائم اس کی نگاہ سے بچ کر کیے جا سکتے ہیں ۔ اور ہر دنیوی طاقت کی گرفت سے بچنے کی بے شمار تدبیریں ممکن ہیں ۔ پھر کسی دنیوی طاقت کے قوانین بھی تمام برائیوں سے قبیح تر ہیں جن پر وہ گرفت کرتے ہیں ۔ اس لیے دین حق نے اخلاق کی پوری عمارت اس بنیاد پر کھڑی کی ہے کہ اس ان دیکھے خدا سے ڈر کر برائی سے اجتناب کیا جائے جو ہر حال میں انسان کو دیکھ رہا ہے ، جس کی گرفت سے انسان بچ کر کہیں نہیں جا سکتا جس نے خیر و شر کا ایک ہمہ گیر ، عالمگیر اور مستقل معیار انسان کو دیا ہے ۔ اسی کے ڈر سے بدی کو چھوڑتا اور نیکی اختیار کرنا وہ اصل بھلائی ہے جو دین کی نگاہ میں قابل قدر ہے ۔ اس کے سوا کسی دوسری وجہ سے اگر کوئی انسان بدی نہیں کرتا ، یا اپنی ظاہری شکل کے اعتبار سے جو افعال نیکی میں شمار ہوتے ہیں ان کو اختیار کرتا ہے تو آخرت میں اس کے یہ اخلاق کسی قدر اور وزن کے مستحق نہ ہوں گے ، کیونکہ ان کی مثال اس عمارت کی سی ہے جو ریت پر تعمیر ہوئی ہو ۔ سورة الْمُلْک حاشیہ نمبر :19 یعنی خدا سے بالغیب ڈرنے کے دو لازمی نتائج ہیں ۔ ایک یہ کہ جو قصور بھی بشری کمزوریوں کی بنا پر آدمی سے سر زد ہو گئے ہوں وہ معاف کر دیے جائیں گے ، بشرطیکہ ان کی تہ میں خدا سے بے خوفی کار فرما نہ ہو ۔ دوسرے یہ کہ جو نیک اعمال بھی انسان اس عقیدے کے ساتھ انجام دے گا اس پر وہ بڑا اجر پائے گا ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

١٢۔ ١٥۔ اوپر دوزخیوں کے گروہ کا ذکر فرما کر اب ان آیتوں میں جنتی گروہ کی نشانی کا ذکر فرمایا ہے اگرچہ شیطان جس طرح بد لوگوں کو بہکاتا ہے اسی طرح نیک لوگوں کو بھی بہکاتا ہے اور جس طرح بد لوگوں نے دنیا میں عذاب آخرت کو آنکھ سے نہیں دیکھا اسی طرح نیک لوگوں نے بھی دنیا میں عذاب آخرت کو آنکھ سے تو نہیں دیکھا لیکن وہ اللہ اور اللہ کے رسول کے کلام کا پورا یقین اپنے دل میں رکھتے ہیں اور بغیر آنکھ کے دیکھنے کے ان آنکھوں سے غائب چیزوں کا خوف انکے دل میں اس قدر ہے کہ گویا آج عذاب آخرت ان کی آنکھوں کے سامنے ہے اور اس واسطے وہ لوگ شیطان کے بہکاوے میں کم آتے ہیں اور بدکام کا چھوڑنا ‘ نیک کام کرنا ‘ جو کچھ کرتے ہیں دنیا کے دکھاوے کی نیت سے نہیں کرتے بلکہ محض ثواب آخرت کی نیت سے کرتے ہیں اس لئے اللہ تعالیٰ ان کی نیت پوری کرے گا اور عقبیٰ میں بہت بڑا ثواب ان کو عنایت فرمائے گا ان آیتوں میں یہ جو فرمایا کہ تم چپکے سے چھپا کر بات کرو یا پکار کر بات کرو اللہ تعالیٰ کو سب دل کا بھید تک معلوم ہے حضرت عبد اللہ بن عباس نے اس آیت کی تفسیر میں فرمایا ہے کہ مکہ کے مشرک اسلام کی اور آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور مسلمانوں میں ندمت کرتے تھے اور ایک دوسرے سے کہتے تھے کہ چپکے چپکے باتیں کرو ایسا نہ ہو کہ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا خدا ہماری باتیں سن لے۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی اور فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کو تو دل کا بھید معلوم ہے اس سے کوئی بات کس طرح چھپی رہ سکتی ہے لطیف وہ جس پر کوئی چیز مخفی نہ رہے۔ مناکب کے معنی اطراف ‘ آخر آیت کے حاصل معنی یہ ہیں کہ باوجود اس کے کہ زمین میں سخت پہاڑ ہیں لیکن ان میں گھاٹیاں ایسی نرم اور گزر کے قابل رکھ دی گئی ہیں جس کے سبب سے اطراف کی بستیوں میں تجارت کے لئے سفر کرنا آسان ہے اب جو چاہے تجارت کے لئے سفر کرے اور اللہ تعالیٰ نے جو رزق ہر ایک کی تقدیر میں لکھ دیا ہے وہ کھائے اور اپنی زندگی بسر کرے اہل مکہ کی گزر تجارت پر ہی تھی اس لئے خاص طور پر تجارت کے لئے اس پہاڑی ملک میں راتوں کے آسان ہوجانے کا ذکر فرمایا اور اس کے بعد حشر کا ذکر اس لئے فرمایا تاکہ معلوم ہو کہ آدمی کے گزر کے سب انتظام کھیل کے طور پر نہیں کئے گئے ہیں بلکہ اس واسطے کئے گئے ہیں کہ انسان اللہ تعالیٰ کے ان انتظاموں سے تا زیست نفع اٹھا کر اس کے شکریہ میں کچھ نیک کام کرے گا تو اس نیکی کے ثمرہ کا اور بر کام کرے گا تو اس کی پرسش کا ایک دن ہے ‘ اسی دن کا نام حشر ہے ہر عقل مند کے نزدیک ایسے ایک دن کی ضرورت ہے تاکہ دنیا کے سب انتظام جو اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت سے کئے ہیں وہ ٹھکانے سے لگیں لیکن جو شخص اللہ تعالیٰ کے ان سب انتظاموں کے بےٹھکانہ ٹھہرا کر حشر کا منکر ہے اس کی عقل میں فتور ہے اور پھر اپنی قدرت کی چند مثالیں ذکر کرکے قریش کو سمجھایا اور یہ بھی فرمایا کہ باوجود سمجھانے کے یہ لوگ اگر اپنی گمراہی سے باز نہ آئیں گے تو ان سے پہلے بہت سی گمرا ہیں جس طرح عذاب الٰہی سے ہلاک ہوچکی ہیں وہی انجام آخر ان لوگوں کا ہوگا اور جن بتوں کو یہ لوگ پوجتے ہیں وہ بت اللہ کے عذاب سے بچانے میں ان لوگوں کی کچھ مدد نہ کرسکیں گے بعض شیطان کے دھوکے اور فریب سے ان لوگوں کے دل میں یہ بات سما گئی ہے کہ وہ ان کے بت اللہ کے عذاب کے آگے ان لوگوں کو کچھ کام آئیں گے۔

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(67:12) ان الذین یخشون ربھم بالغین : ان حرف مشبہ بالفعل الذین موصول۔ یخشون ربہم صلہ۔ بالغیب متعلق یخشون، مغفرۃ مبتدائ۔ وعاجر کبیر معطوف اس کا عطف مغفرۃ پر ہے لہم خبر مقدم ہے ان کی۔ اور موصول و صلہ مل کر اسم ان۔ یخشون مضارع جمع مذکر غائب خشیۃ (باب سمع) مصدر۔ بمعنی ڈرنا۔ وہ ڈرتے ہیں ۔ ربھم مضاف مضاف الیہ مل کر مفعول ہے یخشون کا۔ بالغیب : ڈرتے ہیں اس عذاب سے جو ابھی تک ان پر نہیں آیا یا ظاہر نہیں ہوا۔ یا تنہائی میں ڈرتے ہیں۔ یا اللہ کو دیکھے بغیر اس کے عذاب سے ڈرتے ہیں۔ اجر کبیر : موصوف و صفت ۔ بڑا ثواب۔ جس کے مقابلہ میں ہر لذت، ہیچ ہو۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 2 ” بن دیکھے “ سے مراد یہ ہے کہ انہوں نے اللہ تعالیٰ کو دیکھا ہے اور نہ اس کے عذاب کو محض انبیاء کی تصدیق کرتے ہوئے وہ اس پر ایمان رکھتے ہیں اور اس کے عذاب سے ڈرتے ہیں۔ بالغیب کا دوسرا ترجمہ ” تنہائی میں بھی ہوسکتا ہے جیسا کہ صحیحین کی حدیثت ’ دسبعتہ بظلھم اللہ فی ظلہ “ میں ساتواں وہ شخص شمار کیا ہے جس نے تنہائی میں اللہ تعالیٰ کو یاد کیا اور اس کی آنکھوں سے آنسو بہہ نکلے۔ “ (ابن کثیر)

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : جو لوگ اپنے رب سے ڈرگئے اور اس کی نافرمانی سے بچتے رہے ان کا اجر۔ دنیا میں بیشمار ایسے لوگ ہوتے ہیں جو برائی سے اس لیے نہیں بچتے کہ اللہ تعالیٰ نے اس سے بچنے کا حکم دیا ہے۔ وہ ملکی قانون، خاندانی روایات یا پھر معاشرے کے خوف کی وجہ سے برائی سے اجتناب کرتے ہیں۔ ایسا کرنا اچھی بات ہے اور اس کا دینا میں فائدہ ہوتا ہے لیکن قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کے ہاں وہی لوگ اجر پائیں گے جو اللہ کے خوف کی وجہ سے برائی سے بچتے ہیں۔ ان سے جو گناہ بتقاضا بشریت ہوگا اللہ تعالیٰ نہ صرف اسے معاف فرمائے گا بلکہ انہیں اجر کبیر سے بھی ہمکنار کرے گا۔ اللہ تعالیٰ سے غائب میں ڈرنے کا یہ معنٰی نہیں کہ کوئی چیز اللہ تعالیٰ سے پوشیدہ ہے۔ غائب سے مرادوہ کام اور چیز ہے جو انسان ایک دوسرے سے چھپا سکتا ہے یا انسان کی آنکھوں سے اوجھل ہوتی ہے۔ اللہ تعالیٰ کے لیے ظاہر اور پوشیدہ برابر ہے۔ ” اللہ جانتا ہے جو ہر مادہ اٹھائے ہوئے ہے اور رحم جو کچھ کم کرتے ہیں اور جو زیادہ کرتے ہیں اور اس کے ہاں ہر چیز کا اندازہ مقرر ہے۔ وہ غیب اور ظاہر کو جاننے والا، بہت بڑا اور نہایت بلندو بالا ہے۔ برابر ہے اس کے لیے تم میں سے جو بات چھپا کر کرے یا اسے بلند آواز سے کرے۔ جو رات کو چھپا ہوا ہے اور جو دن کو ظاہر پھرنے والا ہے۔ اس کے لیے اس کے آگے اور اس کے پیچھے یکے بعد دیگرے مقرر کیے ہوئے نگران لگے ہوئے ہیں، جو اللہ کے حکم سے اس کی حفاظت کرتے ہیں۔ بیشک اللہ نہیں بدلتا کسی قوم کو، یہاں تک کہ وہ اپنے آپ کو خود بدل لے۔ “ (الرعد : ٨ تا ١١) اس لیے اس کا فرمان ہے کہ تم اپنی بات ظاہر کرو یا خفیہ رکھو۔ اسے اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کیونکہ وہ دلوں کے بھید جانتا ہے۔ سوچو اور غور کرو ! کیا جس نے انسان اور ہر چیز کو پیدا کیا ہے وہ کسی بات سے بیخبر ہوسکتا ہے ؟ ایسا ہرگز نہیں کیونکہ وہ باریک سے باریک تر چیز کی خبر رکھتا ہے۔ (عَنْ اَبِیْ ہُرَیْرَۃَ (رض) عَنْ النَّبِیِّ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) قَالَ لَمَّا تَجَلّٰی اللّٰہُ عَزَّ وَجَلَّ لِمُوْسیٰ ( علیہ السلام) کَانَ یَبْصُرُالنَّمْلَۃَ عَلیٰ الصَّفَا فِیْ الَّلیْۃِ الظُّلْمَاءِ مَسِیْرَۃَ عَشْرَۃِ فَرْسَخٍ ) ( تفسیر ابن کثیر، سورة الاعراف : ١٤٣) ” حضرت ابوہریرہ (رض) نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے بیان کرتے ہیں آپ نے فرمایا جب اللہ نے موسیٰ (علیہ السلام) کے لیے تجلی فرمائی اس وقت وہ اندھیری رات میں دس فرسخ کے فاصلے سے پتھر پر چلنے والی چیونٹی کو دیکھ رہا تھا۔ “ (اِِلَّا مَنْ تَابَ وَاٰمَنَ وَعَمِلَ عَمَلًا صَالِحًا فَاُوْلٰٓءِکَ یُبَدِّلُ اللّٰہُ سَیِّاٰتِہِمْ حَسَنَاتٍ وَّکَان اللّٰہُ غَفُوْرًا رَحِیْمًا) (الفرقان : ٧٠) ” ہاں جو توبہ کرے اور ایمان لاکرصالح عمل کرے ایسے لوگوں کی برائیوں کو اللہ تعالیٰ نیکیوں سے بدل دے گا کیونکہ اللہ غفورّرحیم ہے۔ “ مسائل ١۔ جو لوگ اپنے رب سے غائب کی حالت میں ڈرتے ہیں ان کے لیے بخشش اور اجر کبیر ہے۔ ٢۔ کوئی اپنی بات کو ظاہر کرے یا اسے چھپائے اللہ تعالیٰ اسے جانتا ہے۔ کیونکہ وہ دلوں کے بھید جاننے والا ہے۔ ٣۔ ہر انسان کو یہ معلوم ہونا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ باریک سے باریک تر چیز سے باخبر ہوتا ہے۔ تفسیر بالقرآن اللہ تعالیٰ سے غائب کی حالت میں ڈرنے والے لوگوں کا صلہ اور مقام : ١۔ جو لوگ اللہ سے غیب میں ڈرتے ہیں ان کے لیے بخشش اور بڑا اجر ہے۔ (الملک : ١٢) ٢۔ جو الرحمن سے غیب میں ڈرتے ہیں ان کے لیے بخشش کی خوشخبری ہے۔ (یٰس : ١١) ٣۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان لوگوں کو ڈرانے والے ہیں جو اپنے رب سے غیب میں ڈرتے ہیں اور نماز قائم کرتے ہیں۔ (الفاطر : ١٨) ٤۔ غیب پر ایمان لانا، نماز قائم کرنا، اللہ کے دیئے ہوئے مال سے خرچ کرنا، قرآن مجید اور سابقہ کتب آسمانی پر ایمان لانا اور آخرت پر یقین رکھنے والوں کے لیے کامیابی ہے۔ (البقرۃ : ٣، ٤)

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

ان الذین ................ اجرکبیر غیب سے مراد یہ ہے کہ انہوں نے اپنے رب کو دیکھا نہیں اور اس سے ڈرتے ہیں ، اور یہ مراد بھی ہے کہ اس حالت میں بھی رب سے ڈرتے ہیں جب انہیں کوئی نہیں دیکھ رہا ہوتا۔ ایک انسان جب چھپے ہوئے بھی برائی نہیں کرتا تو اس کا ضمیر زندہ ہوتا ہے اور وہ خدا کا صحیح طرح مومن ہوتا ہے۔ حافظ ابوبکر بزار نے اپنی مسند میں روایت کیا ہے ، طالوت ابن عباد سے ، انہوں نے حارث ابن عبید سے ، انہوں نے ثابت سے ، انہوں نے انس سے وہ کہتے ہیں صحابہ کرام (رض) نے پوچھا اے رسول خدا .... ہم آپ کے پاس ایک حال میں ہوتے ہیں لیکن جب ہم آپ سے جدا ہوتے ہیں تو ہمارا حال اور ہوتا ہے۔ تو آپ نے فرمایا تم اور تمہارے رب کے ساتھ تعلق کیسا ہے ؟ تو انہوں نے فرمایا کہ رب تو تنہائی میں اور محفل میں ہر جگہ ہمارا رب ہے۔ تو آپ نے فرمایا کہ یہ ” نفاق نہیں ہے “۔ لہٰذا اللہ کے ساتھ رابطہ حقیقی رابطہ ہے۔ جب اللہ پر یقین ہو تو ایسا شخص مومن ہے۔ یہ مذکورہ بالا آیت مضمون ماقبل اور مضمون مابعد دونوں کو آپس میں ملاتی ہے۔ یہ کہ اللہ کو ہر حالت کا علم ہے خواہ کوئی ظاہر ہو یا خفیہ ، تنہائیوں میں ہو۔ اللہ تعالیٰ پکار کر لوگوں کو کہتا ہے کہ میں نے تمہیں پیدا کیا اور میں تمہارے ظاہر و باطن دونوں سے واقف ہوں مجھے اپنی مخلوق کی تمام صلاحیتوں کا علم ہے۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

اللہ تعالیٰ سے ڈرنے والوں کے لیے بڑی مغفرت ہے اور اجر کریم ہے یہ تین آیات ہیں پہلی آیت میں اہل ایمان کا اور اعمال صالحہ کا اور گناہوں سے بچنے کا فائدہ بتایا ان کے لیے مغفرت ہے اور ان کے لیے بڑا اجر بھی ہے جس طرح یعنی کہ کافروں کے لیے عذاب سعیر ہے اسی طرح اہل ایمان کے لیے اجر کبیر ہے جو بھی کوئی شخص جنت میں داخل ہوگا اسے اس کا اجر وہاں کی نعمتوں کی صورت میں ملے گا، دوسری آیت میں فرمایا کہ تم لوگ آہستہ سے بات کرو یا زور کی آواز سے اللہ تعالیٰ دونوں طرح کی آواز کو سنتا ہے اور اگر کوئی بات بالکل ہی بےآواز ہو مثلاً دل میں کوئی بات طے کرلی ہو یا کسی بھی گمراہی کا یقین کرلیا ہو اللہ تعالیٰ کو اس سب کی خبر ہے کیونکہ وہ سینہ کی باتوں کو جانتا ہے۔ معالم التنزیل میں لکھا ہے کہ مشرکین نے آپس میں ایک دوسرے سے یوں کہا کہ چپکے چپکے باتیں کرو ایسا نہ ہو کہ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا معبود سن لے۔ اس پر آیت بالا نازل ہوئی۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

9:۔ ” ان الذین یخشون “ یہ مومنوں کے لیے بشارت اخرویہ ہے۔ جو لوگ اللہ کے عذاب سے ڈرتے رہتے ہیں حالانکہ عذاب آنکھوں سے دیکھا بھی نہیں، ان کے لیے گناہوں کی معافی کے علاوہ بہت بڑا اجر وثواب تیار ہے۔ ” واسروا قولکم “ یہ دلائل سابقہ کا ثمرہ ہے۔ ” انہ علیم بذات الصدور “ جملہ تعلیلیہ ہے، یہ ماقبل کی علت ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ کو آہستہ پکارو یا اونچی آواز سے پکارو وہ سنتا ہے، کیونکہ وہ تو دل کی باتیں بھی جانتا ہے قالہ الشیخ۔ یا یہ خطاب مشرکین سے مخصوص ہے جو کفر و عداوت کی باتیں کرتے اور آپس میں کہتے آہستہ باتیں کرو کہیں محمد کا رب سن کر اس کو اطلاع نہ دیدے تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔ قال ابن عباس و سببہ ان بعض المشرکین قال لبعض اسروا قولکم لا یسمعکم الہ محمد (بحر ج 8 ص 300) ۔ ” الا یعلم من خلق “ بھلا جس نے پیدا کیا ہے وہ جانتا نہیں اور ساتھ ہی وہ ظاہر و باطن اور نہاں وعیاں کو جاننے والا بھی ہے ؟ استفہام انکاری ہے یعنی وہ سب کچھ جانتا ہے اور اس سے کوئی چیز پوشیدہ نہیں۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(12) البتہ وہ لوگ جو اپنے پروردگار کو بغیر دیکھے اس سے ڈرتے ہیں تو ان کے لئے بڑی مغفرت اور بڑا اجروثواب ہے بن دیکھے یعنی نہ عذاب کا معائنہ کیا نہ میدان حشر کو دیکھا نہ دوزخ آنکھوں کے سامنے آئی پھر بھی ان باتوں کا یقین رکھتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کے عذاب سے ڈرتے ہیں تو ایسے لوگ بڑی بخشش اور اور ثواب کے امیدوار ہیں۔ ولمن خاف مقام ربہ جنتن آگے ان لوگوں کو تنبیہہ فرمائی جو اپنی مجالس اور محافل اور روزانہ کی صحبتوں میں بیٹھ کر قرآن اور اسلام اور نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے خلاف ہرزہ سرائی کیا کرتے تھے۔