Surat ul Mulk

Surah: 67

Verse: 15

سورة الملك

ہُوَ الَّذِیۡ جَعَلَ لَکُمُ الۡاَرۡضَ ذَلُوۡلًا فَامۡشُوۡا فِیۡ مَنَاکِبِہَا وَ کُلُوۡا مِنۡ رِّزۡقِہٖ ؕ وَ اِلَیۡہِ النُّشُوۡرُ ﴿۱۵﴾

It is He who made the earth tame for you - so walk among its slopes and eat of His provision - and to Him is the resurrection.

وہ ذات جس نے تمہارے لئے زمین کو پست و مطیع کر دیا تاکہ تم اس کی راہوں میں چلتے پھرتے رہو اور اللہ کی روزیاں کھاؤ ( پیو ) اسی کی طرف ( تمہیں ) جی کر اٹھ کھڑا ہونا ہے ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

هُوَ الَّذِي جَعَلَ لَكُمُ الاَْرْضَ ذَلُولاً فَامْشُوا فِي مَنَاكِبِهَا ... He it is Who has made the earth subservient to you; so walk in the paths thereof, meaning, travel wherever you wish throughout its regions and frequent its countryside's and all the areas of its domain in your various journeys to seek earnings and trade. And know that your efforts will not benefit you anything unless Allah makes matters easy for you. Ibn `Abbas, Mujahid, As-Suddi and Qatadah all said that مَنَاكِبِهَا Manakibiha (its paths) means its outermost borders, its roads and its regions. Allah continues to say, ... وَكُلُوا مِن رِّزْقِهِ ... and eat of His provision. Thus, striving by using the means (to attain something) does not negate the necessity of depending upon Allah (At-Tawakkul). This is similar to what Imam Ahmad recorded from `Umar bin Al-Khattab, that he heard the Messenger of Allah say, لَوْأَنَّكُمْ تَتَوَكَّلُونَ عَلَى اللهِ حَقَّ تَوَكُّلِهِ لَرَزَقَكُمْ كَمَا يَرْزُقُ الطَّيْرَ تَغْدُو خِمَاصًا وَتَرُوحُ بِطَانًا If you would trust in Allah as He truly should be trusted in, He would surely provide for you as He provides for the birds. They set out in the morning with empty stomachs and return in the evening with full stomachs. At-Tirmidhi, An-Nasa'i and Ibn Majah all recorded this Hadith. At-Tirmidhi said, "Hasan Sahih." So this confirms that the bird searches morning and evening for its sustenance while depending upon Allah. For He is the Subduer, the Controller and the One Who causes everything. ... وَإِلَيْهِ النُّشُورُ And to Him will be the resurrection. meaning, the place of return on the Day of Judgement. Ibn `Abbas, Mujahid, As-Suddi and Qatadah all said that مَنَاكِبِهَا Manakibiha (its paths) means its outermost borders, its roads and its regions.

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

15۔ 1 لطیف کے معنی ہے باریک بین یعنی جس کا علم اتنا ہے کہ دلوں میں پرورش پانے والی باتوں کو بھی جانتا ہے۔ ذلول کے معنی مطیع۔ یعنی زمین کو تمہارے لیے نرم اور آسان کردیا اس کو اسی طرح سخت نہیں بنایا کہ تمہارا اس پر آباد ہونا اور چلنا پھرنا مشکل ہو۔ یعنی زمین کی پیداوار سے کھاؤ پیو۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[١٨] ذَلُوْلٌ۔ ذل بمعنی کمزور اور زبردست ہونا اور ذلول بمعنی کسی چیز کا طوعاً اپنی سرکشی کو چھوڑ کر مطیع ومنقاد ہوجانا ہے اور یہ لفظ انسان کا اپنی محنت سے کسی چیز کو اپنا تابع فرمان بنانے اور اس چیز کے تابع فرمان بن جانے کے پہلو کو ظاہر کرتا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ تم زمین میں محنت کرکے جیسے فائدے اس سے حاصل کرنا چاہتے ہو کرسکتے ہو۔ اس میں کھیتی باڑی کرسکتے ہو۔ اس سے معدنیات اور دوسرے زمین میں مدفون خزانے نکال سکتے ہو اس میں سفر کرکے تجارتی فوائد حاصل کرسکتے ہو۔ [١٩] اللہ تعالیٰ کی قدرت کے دلائل :۔ یعنی زمین سے تم جتنے فائدے اٹھا سکتے ہو اٹھاؤ۔ لیکن یہ بات تمہیں ہر وقت ملحوظ رکھنی چاہئے کہ تم مرنے کے بعد اللہ کے حضور پیش ہونے والے ہو لہذا زمین سے فائدے اٹھاتے ہوئے تمہیں دوسروں کی حق تلفی نہ کرنا چاہیے۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

١۔ ہُوَ الَّذِیْ جَعَلَ لَکُمُ الْاَرْضَ ذَلُوْلًا ۔۔۔۔:” دلولا “ جو تمہارے تابع ہوجائے ، سرکشی نہ کرے۔ یہاں لے ۔ یعنی تم اس پر چل پھر سکتے ہو اور اسے کام میں لاسکتے ہو ۔ اللہ تعالیٰ نے زمین میں پہاڑ گاڑ کر اسے ہر وقت زلرلے کی حالت میں رہنے سے محفوظ کردیا ، تا کہ تم سکون سے رہ سکو ۔ اسے لوہے کی طرح سخت نہیں بنایا ، ورنہ نہ اس سے کچھ اگتا ، نہ عمارتیں بنتیں ، نہر نہریں یا کنویں کھودے جاسکتے اور نہ انسان اور جانوروں کے رزق کا انتظام ہوتا اور اسے ضرورت سے زیادہ نرم بھی نہیں بنایا ، ورنہ سب کچھ اس کے اندر دھنس جاتا ۔ مشرک اقوام کی کم عقلی دیکھیے کہ اللہ تعالیٰ نے جس چیز کو انسان کے تابع کیا ، انہوں نے اسے دھرتی ماتا کے نام سے اپنا معبود بنا لیا ۔ ” مناکب “ کا لفظ معنی کندھے ہے ۔ جس طرح بالکل مطیع جانور بیٹھ کر علاوہ کندھوں پر بھی سواری کرلینے دیتا ہے ، زمین بھی تمہارے لیے ایسے ہی مسخر ہے ، اس پر جہاں چاہو چلو پھرو۔ ٢۔ وَکُلُوْا مِنْ رِّزْقِہٖ ۔۔۔: اس کے دیے ہوئے میں سے کھاؤ، مگر آزادی سے نہیں بلکہ یہ سمجھتے ہوئے کہ اس کا دیا ہوا کھا رہے ہو اور آخر کار تمہیں اپنے رب کے سامنے حاضر ہونا ہے جو تم سے ایک ایک چیز کا حساب لے گا کہ اسے کن ذرائع سے حاصل کیا اور کہاں خرچ کیا ؟ (اشرف الحواشی)

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

هُوَ الَّذِي جَعَلَ لَكُمُ الْأَرْ‌ضَ ذَلُولًا (He is the One who has made the earth submissive for you ...67:15) The word dhalul signifies &submissive&. When dhalul is used for an animal, it means that it is not insolent when someone is riding it. The word manakib is the plural of mankib, which means &shoulder&, which in animals refer to the upper part of their front legs. Normally, this is not the part of the animals where a rider would sit to ride them. Their back or neck is involved in riding. But an animal that offers its shoulders as well to the riders is very obedient and submissive. Therefore, the verse says that Allah &has made the earth submissive for you, so walk on its shoulders&. Allah has made the structure of earth such that it is not liquid like water so that it flows, nor is it like mud, mire or slime, because if the earth were to be in any of these states, it would not have been possible for man to live in it. Nor is it made hard like rocks or iron, for in that state it would not have been possible for him to plough the fields to sow his crops and derive various other types of benefit from the earth. Wells and rivers could not have been dug. It would not have been possible to dig trenches into the ground to lay foundations of huge buildings. With such well-balanced infrastructure, He granted him tranquility that it is possible for buildings to stand on it and for people, moving on its surface, to avoid slipping. وَكُلُوا مِن رِّ‌زْقِهِ (...and eat out of His provision ...67:15). After directing man to travel on earth, it is said &eat out of His provision&. This probably indicates that commercial trips carried out for import and export are the doors for obtaining livelihood from Allah. وَإِلَيْهِ النُّشُورُ‌ (...and to Him is the Resurrection...67:15). This warning tells us that man is permitted to draw benefits of eating, drinking and living from the earth, but he is reminded at the same time not to be neglectful of death and life-after-death. Eventually, he will have to leave this world for the Hereafter. Whilst living on the earth, he must prepare for life-after-death. In this verse, man is warned that eventually he will return to Allah on the Day of Resurrection. The next verse warns that the Divine punishment can overtake him, even when living on the earth.

(آیت) هُوَ الَّذِيْ جَعَلَ لَكُمُ الْاَرْضَ ذَلُوْلًا۔ ذلول کے لفظی معنی منقاد و مطیع کے ہیں اس جانور کو ذلول کہا جاتا ہے جو سواری دینے میں شوخی نہ کرے۔ مناکب، منکب کی جمع ہے مونڈھے کو کہتے ہیں۔ کسی بھیج انور کا مونڈھا سواری کی جگہ نہیں ہوتی بلکہ اسکی کمر یا گردن ہوتی جو جانور سوار ہونے والوں کے لئے اپنے مونڈھے بھی پیش کردے وہ بہت ہی مطیع و منقاد اور مسخر ہو سکتا ہے اس لئے فرمایا کہ زمین کو تمہارے لئے ہم نے ایسا مخسرو مطیع بنادیا ہے کہ تم اس کے مونڈھیوں پر چڑھتے پھرو۔ زمین کو حق تعالیٰ نے ایک ایسا قوام بخشا ہے کہ نہ تو پانی کیر طح سیال اور بہنے والا ہے نہ روئی اور کیچڑ کی طرح دبنے والا، کیونکہ زمین ایسی ہوتی تو اس پر کسی انسان کا رہنا ٹھہرنا ناممکن نہ ہوتا اسی طرح زمین کو لہوے پتھر کی طرح سخت بھی نہیں بنایا اگر ایسا ہوتا تو اس میں درخت اور کھیتی نہ بوئی جاسکتی اس میں کنوئیں اور نہریں نہ کھودی جا سکتیں اس کو کھود کر اونچی عمارتوں کی بنیاد نہ رکھی جاسکتی، اس قوام کے ساتھ اس کو ایسا سکون بخشا کہ اس پر عمارتیں ٹھہر سکیں چلنے پھرنے والوں کو لغزش نہ ہو۔ وَكُلُوْا مِنْ رِّزْقِهٖ ۭ وَاِلَيْهِ النُّشُوْرُ پہلے زمین کے اطراف میں چلنے پھرنے کی ہدایت فرمائی اس کے بعد فرمایا کہ اللہ کا رزق کھاؤ اس میں اشارہ ہو سکتا ہے کہ تجارت کے لئے سفر اور مال کی درآمد برآمد اللہ کے رزق کا دروازہ ہے الیہ النشور میں مبتلا دیا کہ کھانے پینے رہنے سہنے کے فوائد زمین سے حاصل کرنے کی اجازت ہے مگر موت اور آخرت سے بےفکر نہ رہو کہ انجام کار اسی کی طرف لوٹ کر جانا ہے۔ زمین پر رہتے ہوئے آخرت کی تیاری میں لگے رہو۔ اس میں تو اس بات سے ڈرایا گیا تھا کہ آخر کار قیامت میں اللہ کی طرف لوٹنا ہے، آگے اس پر تنبیہ کی گئی ہے کہ زمین پر رہنے بسنے کے وقت بھی اللہ کا عذاب آسکتا ہے

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

ہُوَالَّذِيْ جَعَلَ لَكُمُ الْاَرْضَ ذَلُوْلًا فَامْشُوْا فِيْ مَنَاكِبِہَا وَكُلُوْا مِنْ رِّزْقِہٖ۝ ٠ ۭ وَاِلَيْہِ النُّشُوْرُ۝ ١٥ جعل جَعَلَ : لفظ عام في الأفعال کلها، وهو أعمّ من فعل وصنع وسائر أخواتها، ( ج ع ل ) جعل ( ف ) یہ لفظ ہر کام کرنے کے لئے بولا جاسکتا ہے اور فعل وصنع وغیرہ افعال کی بنسبت عام ہے ۔ أرض الأرض : الجرم المقابل للسماء، وجمعه أرضون، ولا تجیء مجموعةً في القرآن «4» ، ويعبّر بها عن أسفل الشیء، كما يعبر بالسماء عن أعلاه . ( ا رض ) الارض ( زمین ) سماء ( آسمان ) کے بالمقابل ایک جرم کا نام ہے اس کی جمع ارضون ہے ۔ جس کا صیغہ قرآن میں نہیں ہے کبھی ارض کا لفظ بول کر کسی چیز کا نیچے کا حصہ مراد لے لیتے ہیں جس طرح سماء کا لفظ اعلی حصہ پر بولا جاتا ہے ۔ ذُّلُّ ( محمود) متی کان من جهة الإنسان نفسه لنفسه فمحمود، نحو قوله تعالی: أَذِلَّةٍ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ [ المائدة/ 54] ، وقال : وَلَقَدْ نَصَرَكُمُ اللَّهُ بِبَدْرٍ وَأَنْتُمْ أَذِلَّةٌ [ آل عمران/ 123] ، وقال : فَاسْلُكِي سُبُلَ رَبِّكِ ذُلُلًا [ النحل/ 69] ، أي : منقادة غير متصعّبة، قال تعالی: وَذُلِّلَتْ قُطُوفُها تَذْلِيلًا[ الإنسان/ 14] ، أي : سهّلت، وقیل : الأمور تجري علی أذلالها أي : مسالکها وطرقها . پھر اگر انسان کی ذلت خود اس کے اپنے اختیار وار اور سے ہو تو وہ محمود سمجھی جاتی ہے جیسا کہ قرآن نے مومنین کی مدح کرتے ہوئے فرمایا : : أَذِلَّةٍ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ [ المائدة/ 54] جو مومنوں کے حق میں نرمی کریں ۔ وَلَقَدْ نَصَرَكُمُ اللَّهُ بِبَدْرٍ وَأَنْتُمْ أَذِلَّةٌ [ آل عمران/ 123] اور خدا نے جنگ بدر میں بھی تمہاری مدد کی تھی اور اس وقت بھی تو تم بےسرو سامان تھے ۔ فَاسْلُكِي سُبُلَ رَبِّكِ ذُلُلًا[ النحل/ 69] يعنی بغیر کسی قسم سر کشی کے نہایت مطیع اور منقاد ہوکر اپنے پر وردگاڑ کے صرف راستوں پر چلی جا اور آیت کریمہ : وَذُلِّلَتْ قُطُوفُها تَذْلِيلًا[ الإنسان/ 14] کے معنی یہ ہیں کہ وہ گچھے اس طرح جھکے ہوئے ہوں گے کہ ان کو نہایت آسانی سے توڑ سکیں گے محاورہ ہے ۔ ( مثل ) کہ تمام امور اپنے راستوں پر اور حسب مواقع جاری ہیں ۔ مشی المشي : الانتقال من مکان إلى مکان بإرادة . قال اللہ تعالی: كُلَّما أَضاءَ لَهُمْ مَشَوْا فِيهِ [ البقرة/ 20] ، وقال : فَمِنْهُمْ مَنْ يَمْشِي عَلى بَطْنِهِ [ النور/ 45] ، إلى آخر الآية . يَمْشُونَ عَلَى الْأَرْضِ هَوْناً [ الفرقان/ 63] ، فَامْشُوا فِي مَناكِبِها[ الملک/ 15] ، ويكنّى بالمشي عن النّميمة . قال تعالی: هَمَّازٍ مَشَّاءٍ بِنَمِيمٍ [ القلم/ 11] ، ويكنّى به عن شرب المسهل، فقیل : شربت مِشْياً ومَشْواً ، والماشية : الأغنام، وقیل : امرأة ماشية : كثر أولادها . ( م ش ی ) المشی ( ج ) کے معنی ایک مقام سے دوسرے مقام کی طرف قصد اور ارادہ کے ساتھ منتقل ہونے کے ہیں چناچہ قرآن میں ہے : ۔ كُلَّما أَضاءَ لَهُمْ مَشَوْا فِيهِ [ البقرة/ 20] جب بجلی چمکتی اور ان پر روشنی ڈالتی ہے تو اس میں چل پڑتے ہیں ۔ فَمِنْهُمْ مَنْ يَمْشِي عَلى بَطْنِهِ [ النور/ 45] ان میں سے بعض ایسے ہیں جو پیٹ کے بل چلتے ہیں يَمْشُونَ عَلَى الْأَرْضِ هَوْناً [ الفرقان/ 63] جو زمین پر آہستگی سے چلتے ہیں ۔ فَامْشُوا فِي مَناكِبِها[ الملک/ 15] تو اس کی راہوں میں چلو پھرو ۔ اور کنایۃ مشی کا لفظ چغلی کھانے کے معنوں میں استعمال ہوتا ہے ۔ چناچہ فرمایا : ۔ هَمَّازٍ مَشَّاءٍ بِنَمِيمٍ [ القلم/ 11] طعن آمیز اشارتیں کرنے والا چغلیاں لئے پھرنے والا ۔ اور کنایۃ کے طور پر مشئی کے معنی مسہل پینا بھی آتے ہیں ۔ چناچہ محاورہ ہے : ۔ شربت مشیا ومشو ا میں نے مسہل دواپی الما شیۃ مویشی یعنی بھیڑ بکری کے ریوڑ کو کہتے ہیں اور امراۃ ماشیۃ اس عورت کو کہتے ہیں جس کے بچے بہت ہوں ۔ نكب نَكَبَ عن کذا . أي : مَالَ. قال تعالی: عَنِ الصِّراطِ لَناكِبُونَ [ المؤمنون/ 74] والمَنْكِبُ : مُجْتَمَعُ ما بين العَضُدِ والکَتِفِ ، وجمْعُه : مَنَاكِبُ ، ومنه استُعِيرَ للأَرْضِ. قال تعالی: فَامْشُوا فِي مَناكِبِها[ الملک/ 15] واسْتِعَارَةُ المَنْكِبِ لها كاسْتِعَارَةُ الظَّهْرِ لها في قوله : ما تَرَكَ عَلى ظَهْرِها مِنْ دَابَّةٍ [ فاطر/ 45] . ومَنْكِبُ القومِ : رَأْسُ العُرَفَاءِ «3» . مُسْتَعَارٌ مِنَ الجَارِحَةِ اسْتِعَارَةَ الرَّأْسِ للرَّئِيسِ ، والْيَدِ لِلنَّاصِرِ ، ولِفُلَانٍ النِّكَابَةُ في قَوْمِهِ ، کقولهم : النِّقَابَةُ. والأَنْكَبُ : المَائِلُ المَنْكِبِ ، ومن الإبل الذي يَمْشِي في شِقٍّ. والنَّكَبُ : داءٌ يأْخُذُ في المَنْكِبِ. والنَّكْبَاءُ : رِيحٌ نَاكِبَةٌ عَنِ المَهَبِّ ، ونَكَبَتْهُ حَوَادِثُ الدَّهْرِ. أي : هَبَّتْ عليه هُبُوبَ النَّكْبَاءِ. ( ن ک ب ) نکب عن کذا کسی چیز سے پھرجانا قرآن پاک میں ہے : ۔ عَنِ الصِّراطِ لَناكِبُونَ [ المؤمنون/ 74] وہ رستے سے الگ ہو رہے ہیں ۔ المنکب کندھا ج ۔ مناکب ۔ اور اسی سے بطور استعارہ زمین کے راستوں پر بولا جاتا ہے قرآن پاک میں ہے : ۔ فَامْشُوا فِي مَناكِبِها[ الملک/ 15] تو اس کی راہوں میں چلو پھرو ۔ اور زمین کے لئے بطور استعارہ ایسے ہی استعمال ہوا ہے جیسا کہ آیت کریمہ : ۔ ما تَرَكَ عَلى ظَهْرِها مِنْ دَابَّةٍ [ فاطر/ 45] تور وٹے زمین پر ایک چلنے پھرنے والیکو نہ چھوڑ تا میں ظھر کا لفظ استعمال ہوا ہے ۔ منکب القوم قوم کا کندھا یعنی رئیس جیسا کہ راس بمعنی رئیس اور ید بمعنی ناصر آجاتا ہے : ۔ لفلان النکابۃ فی قومہ فلاں کے پاس قوم کی ریاست ہے ۔ الانکب ( 1 ) ٹیڑھے شانے والا ( 2 ) اونٹ جو ایک جانب جھک کر چلے ۔ النکب ایک قسم کی بیماری جو شانے میں ہوتی ہے ترکی میں اسے قولا غو کہا جاتا ہے ) النکباء اپنی سمت سے پھر کر چلنے والی ہوا ۔ تکبتہ ھو ادث الدھر مصیبت پہنچانا ۔ أكل الأَكْل : تناول المطعم، وعلی طریق التشبيه قيل : أكلت النار الحطب، والأُكْل لما يؤكل، بضم الکاف وسکونه، قال تعالی: أُكُلُها دائِمٌ [ الرعد/ 35] ( ا ک ل ) الاکل کے معنی کھانا تناول کرنے کے ہیں اور مجازا اکلت النار الحطب کا محاورہ بھی استعمال ہوتا ہے یعنی آگ نے ایندھن کو جلا ڈالا۔ اور جو چیز بھی کھائی جائے اسے اکل بضم کاف و سکونا ) کہا جاتا ہے ارشاد ہے { أُكُلُهَا دَائِمٌ } ( سورة الرعد 35) اسکے پھل ہمیشہ قائم رہنے والے ہیں ۔ رزق الرِّزْقُ يقال للعطاء الجاري تارة، دنیويّا کان أم أخرويّا، وللنّصيب تارة، ولما يصل إلى الجوف ويتغذّى به تارة ، يقال : أعطی السّلطان رِزْقَ الجند، ورُزِقْتُ علما، قال : وَأَنْفِقُوا مِنْ ما رَزَقْناكُمْ مِنْ قَبْلِ أَنْ يَأْتِيَ أَحَدَكُمُ الْمَوْتُ [ المنافقون/ 10] ، أي : من المال والجاه والعلم، ( ر ز ق) الرزق وہ عطیہ جو جاری ہو خواہ دنیوی ہو یا اخروی اور رزق بمعنی نصیبہ بھی آجاتا ہے ۔ اور کبھی اس چیز کو بھی رزق کہاجاتا ہے جو پیٹ میں پہنچ کر غذا بنتی ہے ۔ کہاجاتا ہے ۔ اعطی السلطان رزق الجنود بادشاہ نے فوج کو راشن دیا ۔ رزقت علما ۔ مجھے علم عطا ہوا ۔ قرآن میں ہے : وَأَنْفِقُوا مِنْ ما رَزَقْناكُمْ مِنْ قَبْلِ أَنْ يَأْتِيَ أَحَدَكُمُ الْمَوْتُ [ المنافقون/ 10] یعنی جو کچھ مال وجاہ اور علم ہم نے تمہیں دے رکھا ہے اس میں سے صرف کرو نشر النَّشْرُ ، نَشَرَ الثوبَ ، والصَّحِيفَةَ ، والسَّحَابَ ، والنِّعْمَةَ ، والحَدِيثَ : بَسَطَهَا . قال تعالی: وَإِذَا الصُّحُفُ نُشِرَتْ [ التکوير/ 10] ، وقال : وهو الّذي يرسل الرّياح نُشْراً بين يدي رحمته [ الأعراف/ 57] «2» ، وَيَنْشُرُ رَحْمَتَهُ [ الشوری/ 28] ، وقوله : وَالنَّاشِراتِ نَشْراً [ المرسلات/ 3] أي : الملائكة التي تَنْشُرُ الریاح، أو الریاح التي تنشر السَّحابَ ، ويقال في جمع النَّاشِرِ : نُشُرٌ ، وقرئ : نَشْراً فيكون کقوله :«والناشرات» ومنه : سمعت نَشْراً حَسَناً. أي : حَدِيثاً يُنْشَرُ مِنْ مَدْحٍ وغیره، ونَشِرَ المَيِّتُ نُشُوراً. قال تعالی: وَإِلَيْهِ النُّشُورُ [ الملک/ 15] ، بَلْ كانُوا لا يَرْجُونَ نُشُوراً [ الفرقان/ 40] ، وَلا يَمْلِكُونَ مَوْتاً وَلا حَياةً وَلانُشُوراً [ الفرقان/ 3] ، وأَنْشَرَ اللَّهُ المَيِّتَ فَنُشِرَ. قال تعالی: ثُمَّ إِذا شاءَ أَنْشَرَهُ [ عبس/ 22] ، فَأَنْشَرْنا بِهِ بَلْدَةً مَيْتاً [ الزخرف/ 11] وقیل : نَشَرَ اللَّهُ المَيِّتَ وأَنْشَرَهُ بمعنًى، والحقیقة أنّ نَشَرَ اللَّهُ الميِّت مستعارٌ من نَشْرِ الثَّوْبِ. كما قال الشاعر : 440- طَوَتْكَ خُطُوبُ دَهْرِكَ بَعْدَ نَشْرٍ ... كَذَاكَ خُطُوبُهُ طَيّاً وَنَشْراً «4» وقوله تعالی: وَجَعَلَ النَّهارَ نُشُوراً [ الفرقان/ 47] ، أي : جعل فيه الانتشارَ وابتغاء الرزقِ كما قال : وَمِنْ رَحْمَتِهِ جَعَلَ لَكُمُ اللَّيْلَ وَالنَّهارَ الآية [ القصص/ 73] ، وانْتِشَارُ الناس : تصرُّفهم في الحاجاتِ. قال تعالی: ثُمَّ إِذا أَنْتُمْ بَشَرٌ تَنْتَشِرُونَ [ الروم/ 20] ، فَإِذا طَعِمْتُمْ فَانْتَشِرُوا[ الأحزاب/ 53] ، فَإِذا قُضِيَتِ الصَّلاةُ فَانْتَشِرُوا فِي الْأَرْضِ [ الجمعة/ 10] وقیل : نَشَرُوا في معنی انْتَشَرُوا، وقرئ : ( وإذا قيل انْشُرُوا فَانْشُرُوا) [ المجادلة/ 11] «1» أي : تفرّقوا . والانْتِشَارُ : انتفاخُ عَصَبِ الدَّابَّةِ ، والنَّوَاشِرُ : عُرُوقُ باطِنِ الذِّرَاعِ ، وذلک لانتشارها، والنَّشَرُ : الغَنَم المُنْتَشِر، وهو للمَنْشُورِ کالنِّقْضِ للمَنْقوض، ومنه قيل : اکتسی البازي ريشا نَشْراً. أي : مُنْتَشِراً واسعاً طویلًا، والنَّشْرُ : الكَلَأ الیابسُ ، إذا أصابه مطرٌ فَيُنْشَرُ. أي : يَحْيَا، فيخرج منه شيء كهيئة الحَلَمَةِ ، وذلک داءٌ للغَنَم، يقال منه : نَشَرَتِ الأرضُ فهي نَاشِرَةٌ. ونَشَرْتُ الخَشَبَ بالمِنْشَارِ نَشْراً اعتبارا بما يُنْشَرُ منه عند النَّحْتِ ، والنُّشْرَةُ : رُقْيَةٌ يُعَالَجُ المریضُ بها . ( ن ش ر ) النشر کے معنی کسی چیز کو پھیلانے کے ہیں یہ کپڑے اور صحیفے کے پھیلانے ۔ بارش اور نعمت کے عام کرنے اور کسی بات کے مشہور کردیتے پر بولا جاتا ہے ۔ چناچہ قرآن میں ہے : وَإِذَا الصُّحُفُ نُشِرَتْ [ التکوير/ 10] اور جب دفتر کھولے جائیں گے ۔ وهو الّذي يرسل الرّياح نُشْراً بين يدي رحمته [ الأعراف/ 57] اور وہی تو ہے جو لوگوں کے ناامیدہو جانیکے بعد مینہ برساتا اور اپنی رحمت ( یعنی بارش کے برکت ) کو پھیلا دیتا ہے ۔ اور آیت کریمہ : وَالنَّاشِراتِ نَشْراً [ المرسلات/ 3] اور بادلوں کو ( بھاڑ ) ( پہلا دیتی ہے ۔ میں ناشرات سے مراد وہ فرشتے ہن جو ہواؤں کے پھیلاتے ہیں یا اس سے وہ ہوائیں مراد ہیں جو بادلون کو بکھیرتی ہیں ۔ چناچہ ایک قرات میں نشرابین یدی رحمتہ بھی ہے جو کہ وہ الناشرات کے ہم معنی ہے اور اسی سے سمعت نشرا حسنا کا محاورہ ہے جس کے معنی میں نے اچھی شہرت سنی ۔ نشرالمیت نشودا کے معنی ہیت کے ( ازسرنو زندہ ہونے کے ہیں ) چناچہ قرآن میں ہے : وَإِلَيْهِ النُّشُورُ [ الملک/ 15] اسی کے پاس قبروں سے نکل کر جانا ہے بَلْ كانُوا لا يَرْجُونَ نُشُوراً [ الفرقان/ 40] بلکہ ان کو مرنے کے بعد جی اٹھنے کی امیدہی نہیں تھی ۔ وَلا يَمْلِكُونَ مَوْتاً وَلا حَياةً وَلا نُشُوراً [ الفرقان/ 3] اور نہ مرنا ان کے اختیار میں ہے ۔ اور نہ جینا اور نہ مرکراٹھ کھڑے ہونا ۔ انشر اللہ المیت ک معنی میت کو زندہ کرنے کے ہیں۔ اور نشر اس کا مطاوع آتا ہے ۔ جس کہ معنی زندہ ہوجانے کے ہیں چناچہ قرآن میں ہے : ثُمَّ إِذا شاءَ أَنْشَرَهُ [ عبس/ 22] پھر جب چاہے گا اسے اٹھا کھڑا کرے گا ۔ فَأَنْشَرْنا بِهِ بَلْدَةً مَيْتاً [ الزخرف/ 11] پھر ہم نے اس سے شہر مردہ کو زندہ کردیا ۔ بعض نے کہا ہے ک نشر اللہ المیت وانشرہ کے ایک ہی معنی میں ۔ لیکن درحقیقت نشر اللہ المیت نشرالثوب کے محاورہ سے ماخوذ ہے شاعر نے کہا ہے ( الوافر) (425) طوتک خطوب دھرک بعد نشر کذاک خطوبہ طیا ونشرا تجھے پھیلانے کے بعد حوادث زمانہ نے لپیٹ لیا اس طرح حوادث زمانہ لپیٹنے اور نشر کرتے رہتے ہیں ۔ اور آیت کریمہ : فَأَنْشَرْنا بِهِ بَلْدَةً مَيْتاً [ الزخرف/ 11] اور دن کو اٹھ کھڑا ہونے کا وقت ٹھہرایا ۔ میں دن کے نشوربنانے سے مراد یہ ہے کہ اس کا روبار کے پھیلانے اور روزی کمانے کے لئے بنایا ہے جیسا کہ دوسری جگہ فرمایا : وَمِنْ رَحْمَتِهِ جَعَلَ لَكُمُ اللَّيْلَ وَالنَّهارَ الآية [ القصص/ 73] اور اس نے رحمت سے تمہارے لئے رات کو اور دن کو بنایا ۔ تاکہ تم اس میں آرام کرو اور اس میں اس کا فضل تلاش کرو ۔ اور انتشارالناس کے معنی لوگوں کے اپنے کاروبار میں لگ جانے کے ہیں ۔ چناچہ فرمایا : ثُمَّ إِذا أَنْتُمْ بَشَرٌ تَنْتَشِرُونَ [ الروم/ 20] پھر اب تم انسان ہوکر جابجا پھیل رہے ہو ۔ فَإِذا طَعِمْتُمْ فَانْتَشِرُوا[ الأحزاب/ 53] تو جب کھانا کھا چکو تو چل دو ۔ فَإِذا قُضِيَتِ الصَّلاةُ فَانْتَشِرُوا فِي الْأَرْضِ [ الجمعة/ 10] پھر جب نماز ہوچکے تو اپنی اپنی راہ لو ۔ اور بعض نے کہا ہے کہ نشروا بمعنی انتشروا کے آتا ہے۔ چناچہ آیت کریمہ : وإذا قيل انْشُرُوا فَانْشُرُوا) [ المجادلة/ 11] اور جب کہاجائے کہ اٹھ کھڑے ہو تو اٹھ کھڑا ہوا کرو ۔ میں ایک قراءت فاذا قیل انشروافانشروا بھی ہے ۔ یعنی جب کہاجائے کہ منتشر ہوجاؤ تو منتشر ہوجایا کرو ۔ الانتشار کے معنی چوپایہ کی رگوں کا پھول جانا ۔۔ بھی آتے ہیں ۔ اور نواشر باطن ذراع کی رگوں کو کہاجاتا ہے ۔ کیونکہ وہ بدن میں منتشر ہیں ۔ النشر ( ایضا) پھیلنے والے بادل کو کہتے ہیں ۔ اور یہ بمعنی منشور بھی آتا ہے جیسا کہ نقض بمعنی منقوض آجاتا ہے اسی سے محاورہ ہے ؛اکتسی البازی ریشا نشرا ۔ یعنی باز نے لمبے چوڑے پھیلنے والے پروں کا لباس پہن لیا ۔ النشر ( ایضا) خشک گھاس کو کہتے ہیں ۔ جو بارش کے بعد سرسبز ہوکر پھیل جائے اور اس سے سر پستان کی سی کونپلیں پھوٹ نکلیں یہ گھاس بکریوں کے لئے سخت مضر ہوتی ہے ۔ اسی سے نشرت الارض فھی ناشرۃ کا محاورہ ہے جس کے معنی زمین میں نشر گھاس پھوٹنے کے ہیں ۔ شرت الخشب بالمنشار کے معنی آرے سے لکڑی چیرنے کے ہیں ۔ اور لکڑی چیر نے کو نشر اس لئے کہتے ہیں کہ اسے چیرتے وقت نشارہ یعنی پر ادہ پھیلتا ہے ۔ اور نشرہ کے معنی افسوں کے ہیں جس سے مریض کا علاج کیا جاتا ہے ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

وہ ایسا ہے جس نے زمین کو تمہارے لیے پہاڑوں کے ساتھ مسخر کردیا، سو تم اس کے رستوں، گوشوں، پہاڑوں اور کونوں میں چلو پھرو اور اللہ کی روزی میں سے کھاؤ اور اسی کے پاس آخرت میں جانا ہے۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ١٥{ ہُوَ الَّذِیْ جَعَلَ لَـکُمُ الْاَرْضَ ذَلُوْلًا } ” وہی ہے جس نے تمہارے لیے بنا دیا ہے زمین کو پست “ اس نے زمین کو تمہارے ماتحت اور تابع حکم کر رکھا ہے۔ { فَامْشُوْا فِیْ مَنَاکِبِہَا } ” تو تم چلو پھرو اس کے کندھوں کے مابین “ زمین کے کندھوں سے مراد اس کے وہ میدان ہیں جو انسان کو بہت وسیع اور کشادہ نظر آتے ہیں۔ جیسے ایک چیونٹی اگر ہاتھی کے کندھوں کے درمیان چل پھر رہی ہوگی تو ظاہر ہے اس جگہ کو وہ بہت وسیع میدان سمجھے گی۔ { وَکُلُوْا مِنْ رِّزْقِہٖط وَاِلَـیْہِ النُّشُوْرُ ۔ } ” اور اس کے (دیے ہوئے) رزق سے کھائو پیو ‘ اور (یاد رکھو کہ تم نے) اسی کی طرف زندہ ہو کر جانا ہے۔ “

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

23 That is, "This earth has not become subdued for you of its own accord, and the provisions also that you are eating have not become available here by themselves, but AIlah has so arranged it by His wisdom and power that your life became possible here and this splendid globe became so peaceful that you are moving about on it with full peace of mind, and it has become such a vast table spread with food that it contains endless and limitless provisions for your sustenance. If you are not lost in heedlessness and look about yourself intelligently you will find how much wisdom underlies the making of this earth habitable for you and arranging in it immeasurable stores of provisions for you." (For explanation, see E.N.'s 73, 74, 81 of Surah An-Naml, E.N.'s 29, 32 of Ya Sin, E.N.'s 90, 91 of Al-Mu'min, E.N. 7 of Az-Zukhruf, E,N. 7 of Al-Jathiyah, E,N. 18 of Surah Qaf.) 24 That is, "While you move about on the earth and eat of what Allah has. provided for you here, you should not forget that ultimately you have to appear before God one day."

سورة الْمُلْک حاشیہ نمبر :23 یعنی زمین تمہارے لیے آپ سے آپ تابع نہیں بن گئی اور وہ رزق بھی جو تم کھا رہے ہو خود بخود یہاں پیدا نہیں ہو گیا ، بلکہ اللہ نے اپنی حکمت اور قدرت سے اس کو ایسا بنایا ہے کہ یہاں تمہاری زندگی ممکن ہوئی اور یہ عظیم الشان کرہ ایسا پرسکون بن گیا کہ تم اطمینان سے اس پر چل پھر رہے ہو اور ایسا خوان نعمت بن گیا کہ اس میں تمہارے لیے زندگی بسر کرنے کا بے حدو حساب سرو سامان موجود ہے ۔ اگر تم غفلت میں مبتلا نہ ہو اور کچھ ہوش سے کام لے کر دیکھو تو تمہیں معلوم ہو کہ اس زمین کو تمہاری زندگی کے قابل بنانے اور اس کے اندر رزق کے اتھاہ خزانے جمع کر دینے میں کتنی حکمتیں کار فرما ہیں ۔ ( تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن ، جلد سوم ، النمل ، حواشی 73 ۔ 74 ۔ 81 ۔ جلد چہارم ، یٰسین ، حواشی 29 ۔ 32 ۔ المومن ، حواشی 90 ۔ 91 ۔ الزخرف ، حاشیہ 7 ۔ الجاثیہ ، حاشیہ 7 ۔ جلد پنجم قٓ ، حاشیہ 18 ۔ سورة الْمُلْک حاشیہ نمبر :24 یعنی اس زمین پر چلتے پھرتے اور خدا کا بخشا ہوا رزق کھاتے ہوئے اس بات کو نہ بھولو کہ آخر کار تمہیں ایک دن خدا کے حضور حاضر ہونا ہے ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

3: یعنی زمین کی تمام چیزیں اﷲ تعالیٰ نے تمہارے تصرف میں دے دی ہیں، لیکن ان کو استعمال کرتے وقت یہ مت بھولو کہ تمہیں ہمیشہ یہاں نہیں رہنا، بلکہ ایک دن یہاں سے اﷲ تعالیٰ ہی کے پاس جانا ہے جہاں تمہیں ان نعمتوں کا حساب دینا ہوگا، لہٰذا یہاں کی ہر چیز کو اﷲ تعالیٰ کے حکم کے مطابق ہی استعمال کرو۔

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(67:15) ھو الذی جعل لکم الارض ذلولا : الارض مفعول اول۔ فعل جعل کا ذلولا مفعول ثانی، لکم متعلق فعل۔ ذلولا سیغہ صفت مشبہ۔ ذلل جمع : ذل وذل مصدر۔ پست، نرم ، ہموار مطیع۔ یعنی اللہ نے تمہارے لئے زمین کو ایسا بنادیا کہ تم آسانی کے ساتھ اس میں چل پھر سکو۔ جعل بسیط ایک مفعول چاہتا ہے اس وقت بمعنی خلق ہوگا۔ جعل مرکب دو مفعول کو چاہتا ہے اس وقت بمعنی صیر ہوگا۔ پہلی صورت میں ذلولا حال ہوگا الارض سے۔ فامشوا فی مناکبھا : ف ترتیب کے لئے ہے ای لترتیب الامر بالمشی : امشوا فعل امر جمع مذکر حاضر۔ مشی باب ضرب مصدر۔ بمعنی چلنا۔ تم چلو پھرو۔ مناکبھا۔ مضاف مضاف الیہ، نکب مادہ سے منکب بمعنی کندھا ۔ (جمع مناکب بمعنی کندھے) استعارہ کے طور پر زمین کے راستوں پر بولا جاتا ہے جیسے کہ آیت ہذا میں ۔ اور یہ زمین کے لئے بطور استعارہ ایسے ہی استعمال ہوا ہے جیسا کہ آیت کریمہ ما ترک علی ظھرھا من دابۃ (35:45) تو روئے زمین پر ایک چلنے پھرنے والے کو نہ چھوڑتا۔ میں ظھر کا لفظ استعمال ہوا ہے۔ حسن ، مجاہد ، کلبی، مقاتل کا قول ہے :۔ مناکب الارض سے مراد زمین کے راستے، گھاٹیاں، کنارے، اطراف ہیں۔ کس لئے کہ انسان کے مناکب بھی اس کے بدن کے کنارے ، جو انب ہیں۔ اس مناسبت سے زمین کے کناروں اور جوانب اور راستوں کو بھی مناکب کہنے لگے۔ وکلوا من رزقہ۔ واؤ عاطفہ، کلوا فعل امر جمع مذکر حاضر۔ اکل (باب نصر) مصدر۔ کھاؤ۔ من تبعیضیہ ہے۔ زرقہ مضاف مضاف الیہ۔ اس کی دی ہوئی روزی سے ۔ صاحب تفسیر مظہر فرماتے ہیں :۔ وکلوا من رزقہ ای اطلبوا : یعنی خداداد نعمت کی طلب کرو۔ کھانے سے مراد طلب کرنا۔ اور رزق سے مراد ہے نعمت خداوندی۔ والیہ النشور : جملہ مستانفہ ہے۔ الیہ میں ضمیر ہ واحد مذکر غائب کا مرجع اللہ ہے۔ النشور (باب نصر) مصدر ہے۔ بمعنی جی اٹھنا۔ یعنی جزاء وسزا کے لئے دوبارہ زندہ ہوکر اٹھ کھڑا ہونا۔ مطلب ہے کہ روز قیامت دوبارہ زندہ ہوکر قبروں سے اٹھ کر اسی ہی کی طرف جانا ہے۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 4 ” ذلولا “ کے لفظی معنی ہیں ذلیل سخر اور تابعدار ملائم بنادیا ہے کہ تم جیسے چاہو اسے کھو دو ، اس میں راستے بنائو اور اس کی مٹی سے کچی اور پکی عمارتیں تعمیر کرو وغیرہ5 ” مناکب “ کے لفظی معنی ” کندھوں “ کے ہیں۔ مراد زمین کے راستے، اطراف اور پہاڑ ہیں۔ یعنی تین طرف چاہو سفر کرو، کسب و تجارت کے لئے چلو پھرو۔6 یعنی کھائو پیئو مگر آزادی سے نہیں بلکہ سمجھتے ہوئے کہ آخر کار تمہیں اپنے رب کے سامنے حاضر ہوتا ہے جو تم سے ایک ایک چیز کا حساب لے گا کہ اسے کن ذرائع سے حاصل کیا اور کہاں خرچ کیا ؟

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

آیات ١٥ تا ٣٠۔ اسرار ومعارف۔ وہی ذات کریم ہے کہ جس نے زمین کو تمہارے لیے مسخر کردیا اب اس کے راستوں میں چلو یعنی وہ طریقے اور قاعدے دریافت کرو جن سے اس سے فائدہ حاصل کرسکو تمہیں اس کی استعداد بھی دی اور یوں اس کے سینے سے اپنے لیے اللہ کی نعمتیں اور رزق حاصل کرکے زندگی بسر کرو کہ اس کے بعد پھر تمہیں اسی عظیم بارگاہ میں پیش ہونا ہے۔ یعنی صرف ایجادات اور اشیاء کی لذات میں نہ کھوجاؤ بلکہ ان سب کو اللہ کی نعمتیں شمار کرکے اس کا شکر ادا کرتے رہو اور اطاعت اختیار کرو کہ پھر پیشی پر شرمندگی نہ ہو۔ اور اے وہ لوگو جو اس سب کو محض اپنا ذاتی کمال خیال کرتے ہو کیا تم تب مانو گے کہ اللہ جو زمین ہی نہیں آسمانوں کا بھی مالک ہے اسی زمین میں تم کو دھنسا دے گا اور تمہاری ساری عقل اور سائنس دھری کی دھری رہ جائے اور خود زمین بھی غضب الٰہی سے لرزنے لگے گی یاتب مانو گے جب اللہ کی قدرت سے آسمانوں سے پتھر برسنے لگیں گے اور تمہیں سمجھ آجائے کہ غضب الٰہی کیا ہوگا جس کی یہ ادنی جھلک ہے اور یہ سب گاہے بگاہے ہوتارہتا ہے اگرچہ پہلی قوموں کی طرح اجتماعی ہلاکت کا عزاب اب نہیں آتا مگر کہیں نہ کہیں زمین پھٹ جاتی ہے زلزلے تباہی مچادیتے ہیں اور پتھروں کی طرح اولے پڑتے ہیں جسے انسانی سائنس روکنے سے بےبس ہوجاتی ہے پھر پہلی قوموں کے حالات پڑھو کہ انہوں نے کفر اور انکار کا راستہ اختیار کیا تو ان اقوام پر کیسی تباہی آئی۔ تم اس کی قدرت کاملہ کو نہیں دیکھتے تمہیں آج راکٹوں میں اڑنے پر نازل ہے وہ بھی اسی کی دی ہوئی عقل سے مگر یہ کمال اس نے بےزبان پرندوں میں تخلیقی طور پر پیدا کردیا کہ ان کے اجسام اور پرا ایسے بنائے کہ کبھی پھیلاتے ہیں اور کبھی پروں کو سکیڑ کر ہوا میں تیرتے پھرتے ہیں کس طرح انہوں نے اس بہت بڑے رحم کرنے والے نے سکھادیا اور وہ ہر شے سے باخبر ہے۔ بھلا یہ تو بتاؤ کہ اگر وہ تمہیں چھوڑ دے تو کون سالشکر جو تمہاری مدد کو آئے گا تمہیں زندگی اور یہ نعمتیں دے گا خود تمہارے وجود کو قائم رہنے میں مدد دے گا کوئی بھی نہیں صرف کافر دھوکے میں میں گرفتار ہیں یہ نہیں سوچتے کہ اگر وہ رزق روک لے صرف بارش نہ برسائے یا زمین سے اگانا بند کردے اور اس کی زرخیزی چھین لے تو کوئی ہے جو اپن طاقت سے یہ سب کردے کوئی نہیں محض کفار برائی اور شرارت پر اڑے ہوئے ہیں اور ان کا حال یا رویہ ایسا ہے جیسا کوئی الٹا سر کے بل چلناشروع کردے بھلایہ شخص صحیح ہے یا وہ جو سیدھا اور سیدھی راہ پر چلتا ہے وہی عظیم ذات ہے جس نے تمہیں پیدا کیا اور تمہیں کان آنکھ اور دل عطا فرمایا کہ تم اس کی ذات کو بھی پہچانو اور دنیا کے کمالات بھی حاصل کرو۔ مرکز علم دل ہے۔ علم الابدان کے ماہرین کے نزدیک پانچ حسیں حصول علم کا ذریعہ جنہیں حواس خمسہ کہتے ہیں سننا ، دیکھنا ، سونگھنا ، چکھنا ، اور محسوس کرنا اور ان سے حاصل ہونے والے علم کامرکز دماغ ہے مگر قرآن نے صرف دو ذریعوں کا ذکر فرمایا سب سے اول سننے کا اور ظاہر ہے انسان سب سے زیادہ علم سن کر حاصل کرتا ہے ۔ بچپن سے موت تک اس کا سلسلہ جاری رہتا ہے اور یا پھر مشاہدے سے اور دیکھ کر باقی تین ذرائع اتنے اہم نہیں وہ ذاتی زندگی کے لیے ہیں عظیم امور میں ان کا دخل نہیں اور تمام علوم کا مرکز دل کو قرار دیا کہ اگر سب کا تجربہ کرکے دل درست اور صحیح کیفیت اختیارنہ کرے تو سب ضائع ہوجاتا ہے۔ لہذا تنی بڑی نعمتوں پہ تو انسان کو شکر ادا کرنا چاہیے تھا جو بہت کم لوگ کرتے ہیں اگر ان ذرائع علم سے تجربہ کرو تو یہ حقیقت جان سکتے ہو کہ اسی نے تمہیں پیدا کرکے زمین پر پھیلادیا ہے اور تم اس کی نعمتیں حاصل کرکے زندگی بسر کرتے ہو اس تمام کارگہ حیات کا نتیجہ اور حساب بھی تو ہونا ہے لہذا تمہین اسکی بارگاہ میں پھر سے جمع ہوناپڑے گا پھر کہتے ہیں کہ بھلا وہ جمع ہونے کا دن اور تاریخ کونسی ہے اگر اے نبی آپ کی بات درست ہے تو وقت بتادیجئے اور فرمادیجئے کہ اس میں انسان کو دخل نہیں نہ اس نے اس کا کوئی انتظام کرنا ہے کہ اسے بتایاجائے یہ سب اللہ کا اپنا کام ہے اور وہی خوب جانتا ہے ہاں میرا منصب ہے کہ میں تمہیں اس کی تیاری کے لیے مکمل معلومات فراہم کردوں۔ اور جب یہ اسے سامنے پائیں گے توہیبت سے ان کے چہرے تک مسخ ہوجائیں گے تب ان سے کہاجائے گا کہ وہ وقت آگیا ہے جس کا تم مطالبہ کیا کرتے تھے۔ کفر ہمیشہ سے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور مسلمانوں کا دشمن رہا ہے۔ ان سے فرمادیجئے کہ تم ہماری یعنی مسلمانوں کی تباہی اور ہلاکت کے درپے ہو ہمارا معاملہ تو اللہ کے ساتھ ہے کہ ہمیں ہلاک کرے گایاسلامت رکھے گا ذرایہ بتاؤ کہ تمہارے پاس اللہ کے دردناک عذابوں سے بچنے کی کیا تدبیر ہے یا کون ہے جو تمہیں بچالے گا جبکہ اللہ سب سے بڑا رحم کرنے والا ہے اور ہم تو اسی پر ایمان لائے ہیں اور اسی پر بھروسہ کرتے ہیں اسی کی رحمت ہمیں تمام عذابوں اور ہلاکتوں سے بچانے کا سبب ہے لہذا عنقریب تم بھی دیکھ لوگے کہ کون گمراہی کا شکار ہے یعنی تم پر اپنی غلطی واضح ہوجائے گی ان سے فرمادیجئے کہ اپنی بیشمار نعمتوں میں سے صرف پانی کو خشک کردے تو بھلا کون ہے جو تمہیں ایسی حیات آفریں نعمت عطا کرے گا کہ جس کے باعث معمورہ عالم آباد ہے۔ کتنے سمندر بادل ، برسات برف ، چشمے ، ندیاں ، دریا ، اور زیر زمین سونے پھیلاکر بےشمارنعمتوں کو وجود میں لانے کا سبب بنادیا بھلا کوئی ہے جو اللہ کے بغیر ایسا کرسکے ، ہرگز ہرگز نہیں۔

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

ذلول۔ اطاعت گذار۔ فرماں بردار۔ امشوا۔ تم چلو پھرو۔ مناکب (منکب) ۔ کاندھے۔ النشور۔ (مرنے کے بعد) دوبارہ زندہ ہونا۔ ان یخسف۔ یہ کہ وہ دھنسا دے۔ تمور۔ ہلنے لگے۔ یرسل۔ وہ بھیجتا ہے۔ حاصبا۔ پتھر برسانے والی ہوا۔ الطیر۔ پرندہ۔ یقبضن۔ وہ سیکٹر لیتے ہیں (بازو سیکٹر لیتے ہیں) ۔ ما یمسک۔ نہیں تھامتا ہے۔ جند۔ لشکر۔ غرور۔ دھوکا ۔ فریب۔ لجوا۔ وہ اڑ گئے۔ عتو۔ سرکشی۔ مکبا۔ گرا ہوا۔ اھدی۔ زیادہ ہدایت پر۔ سویا۔ سیدھا۔ انشائ۔ اس نے پیدا کیا۔ ذرا۔ اس نے پھیلا دیا۔ تشریح : ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے زمین وآسمان اور ان کے درمیان اپنی بعض ان نعمتوں اور قدرتوں کا ذکر فرمایا ہے جو ہر شخص کے لئے ایک آزمائش اور امتحان ہیں۔ جو بھی اس آزمائش کی کسوٹی پر پورا اترتا ہے اس کے لئے آخرت کی کامیابیاں ہیں اور جو شخس اسباب اور عیش و آرام کو زندگی سمجھ کر ان میں الجھ گیا اور کفر وشرک کے راستے پر چل پڑا وہ دنیا والوں کی نظر میں کتنا بھی کامیاب کیوں نہ سمجھا جاتا آخرت کی حقیقی زندگی میں ایک بدقسمت انسان ہے۔ فرمایا کہ زمین و آسمان اور اس کے درمیان جو کچھ بھی ہے اس کا سارا نظام اس کی قدرت سے چل رہا ہے۔ اللہ نے زمین و آسمان ، ہواؤں اور فضاؤں کو انسان کے لئے اس طرح کام میں لگا دیا ہے اور مسخر کردیا ہے کہ وہ دن رات اپنی صلاحیتوں کے مطابق ان سے فائدے حاصل کرتا ہے۔ اللہ نے زمین کو اپنے بیشمار خزانوں اور اسباب سے بھردیا ہے جس میں وہ چلتا پھرتا، کھاتا پیتا، رہتا اور بعتا ہے لیکن آدمی اس بات کو بھول جاتا ہے کہ ان تمام چیزوں کو خالق ومالک کون ہے ؟ وہ اس بات کو فراموش کر بیٹھتا ہے کہ یہ دنیا اور اس کے اسباب ہمیشہ کے لئے نہیں ہیں بلکہ وقتی اور عارضی ہیں ایک وقت آئے گا جب ہر چیز فنا ہوجائے گی اور زمین و آسمان کے نظام کو توڑ کر ایک نیا جہان تعمیر کیا جائے گا اور ہر شخص کو اپنی زندگی کے ہر لمحے کا حساب دینا ہوگا۔ بس یہی ایک آزمائش اور امتحان ہے۔ اگر ایک آدمی دنیا کی نعمتوں پر شکر ادا کرتا ہے اور اپنے اللہ سے سچا قلبی تعلق قائم کرکے اس کے ہر حکم کے آگے سر جھکا دیتا ہے۔ اسکے رسول حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی مکمل اطاعت و فرماں برداری اور ان سے محبت کا حق ادا کرتا ہے تو وہ آخرت کی ختم نہ ہونے والی ہمیشہ کی زندگی میں جنت کی راحتوں کا مستحق بن جائے گا جو اس کی سب سے بڑی کامیابی اور خوش قسمتی ہوگی۔ لیکن اگر اس نے اللہ کی نعمتوں کی ناشکری کرتے ہوئے کفر اور شرک کو اختیار کیا اور دنیاوی اسباب، عیش و آرام، مال و دولت اور بلڈنگوں کی سجاوٹ میں الجھ کر رہ گیا تو وہ آخرت کی ابدی زندگی کی ہر راحت و آرام سے محروم رہے گا۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا کہ اس پوری کائنات کو وہ تنہا سنبھالے ہوئے ہے وہ جب چاہے گا اور جیسے چاہے گا اس کا رخ موڑ سکتا ہے اور انسان اپنی ترقیات کے باوجود اپنی بےبسی پر ہاتھ ملتا رہ جائے گا۔ اگر وہ چاہیے تو دنیا میں ایسے زلزلے پیدا کردے جس سے ساری دنیا ہل کر رہ جائے اور بڑی بری بلڈنگیں ریت کا ڈھیر بن جائیں، شہرویران ہوجائیں اور انسانی بستیاں قبرستان بن جائیں۔ وہ چاہے تو زمین پر بسنے والوں کو زمین ہی میں دھنسا زبردست طوفانی ہواؤں سے شہروں کو الٹ کر پھینک دے۔ آسمان سے پتھروں کی بارش کرکے ہر طرف تباہی مچادے۔ اس وقت انسان سوائے پچھتانے کے اور شرمندگی کے اور کچھ بھی نہیں کرسکتا۔ فرمایا کہ تاریخ انسانی اس بات پر گواہ ہے کہ دنیا میں جب بھی ظلم و جبر، کفر وشرک اور اللہ کی نافرمانیاں بڑھ کر انتہا تک پہنچ گئیں تو اللہ نے ایسے قوموں کو سخت سزائیں دیں۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ یہ بھی اس کا نظام ہے کہ وہ قوموں کی نافرمانی اور کفر و شرک سے منع کرنے اور لوگوں کی اصلاح کے لئے اپنے پیغمبر بھیجتا رہا ہے جنہوں نے ان کی باتوں کو مانا اور اپنی اسلاح کرلی تو ان کی دنیا اور آخرت دونوں سنور گئیں لیکن جنہوں نے ان پیغمبروں کو جھٹلایا۔ ان کو ستایا اور ان کی اطاعت کا انکار کیا تو ان قوموں کو سخت سزائیں دی گئیں۔ نبی کریم حضرت محمد مصطفیٰ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جو اللہ کے آخری نبی اور رسول ہیں آپ نے بھی اسی طرح لوگوں کو کفر و شرک، ظلم و ستم اور غلط راستوں سے روکا۔ آپ کی بات ماننے والے اطاعت گزار صحابہ کرام (رض) کامیاب ہوئے اور آپ کی اطاعت نہ کرنے والے آج صفحہ ہستی سے مٹ گئے۔ چونکہ جب نبوت و رسالت کا سلسلہ ختم ہوگیا اس لئے اب اگر دنیا میں اسی طرح کی نافرمانیاں جنم لیں گے تو امت کے علماء نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی تعلیمات کی روشنی میں لوگوں کو آگاہ اور خبردار کرنے کی جدوجہد کریں گے۔ الحمد اللہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بعد علمائے امت نے اپنی ذمہ داریوں کو احسن طریقے پر پورا کیا اور انشاء اللہ قیامت تک پورا کرتے رہیں گے۔ فرمایا کہ تم دن رات اللہ کی قدرت کے ہزاروں نمونے دکھتے ہو وہی اپنی قدرت سے اس پورے نظام کو چلا رہا ہے۔ چھوٹے بڑے پرندے کبھی پروں کو کھول کر کبھی بازؤں کو سمیٹ کر کس طرح فضاؤں میں اڑتے پھرتے ہیں۔ وہ ایک حد کے اندر رہ کر اڑتے ہیں، اپنا رزق تلاش کرکے اپنا اور اپنے بچوں کو پیٹ بھرتے ہیں، نہ زمین کی کوشش ان کو اپنی طرف کھینچتی ہے نہ وہ آسمان کی بلندیوں میں گم ہوتے ہیں۔ اس تیز و تند ہواؤں اور فضاؤں میں ان کو کس نے سنبھال رکھا ہے یہ صرف اللہ کی قدرت ہے کہ اس نے ان پرندوں کو وہ صلاحیت عطا فرما دی کہ وہ جہاں اور جیسے چاہتے ہیں فضاؤں میں تیرتے پھرتے ہیں۔ فرمایا کہ اس دنیا میں نفع، نقصان اور رزق سب اللہ کے ہاتھ میں ہے اس کے سوا دوسرا کوئی نہیں ہے جو اس کو نفع اور نقصان پہنچا سکے لیکن یہ انسان کی بھول ہے کہ وہ ایسی طاقت و قوت اور قدرت رکھنے والی ذات کو بھلا کر کائنات کی بےحقیقت چیزوں کو اپنا معبود بناتا ہے اور ان سے نفع کی امید اور نقصان کا خوف رکھتا ہے حالانکہ نفع نقصان تو ہی ذات پہنچا سکتی ہے جس کے ہاتھ میں نفع و نقصان کی باگ ڈور ہے۔ وہ بےجان پتھر جو اپنے وجود میں بھی انسانی ہاتھوں کے محتاج ہیں وہ خود اپنے نفع اور نقصان کے مالک نہیں ہیں وہ کسی کو نفع اور نقصان کیا پہنچا سکتے ہیں۔ واقعی جو شخص ٹیڑھے راستے پر اوندھا ہو کر چکتا ہے وہ کبھی حقیقی منزل تک نہیں پہنچ سکتا لیکن وہ شخص جو سیدھا اور صراط مستقیم پر چلتا ہے وہ یقینا اپنی حقیقی منزل کو پالے گا۔ یہ دونوں اپنے انجام کے اعتبار سے برابر نہیں ہیں کیونکہ ان میں سے ایک ناکام و نامراد ہے اور دوسرا کامیاب و بامراد ہے۔ آخر میں فرمایا کہ جس نے کفروشرک ، دنیا کی وقتی لذتوں اور عیش و آرام کو اپنی زندگی کا مقصد بنا لیا ہو وہ کسی وقت بھی ٹھوکر کھا سکتا ہے۔ جب اس کے لئے اللہ کا فیصلہ آجائے گا تو اس کے بنائے ہوئے گھروندے دھرے رہ جائیں گے۔ لیکن جو لوگ آنکھیں رکھنے کے باوجود کسی حقیقت کو نہ دیکھتے ہوں کان رکھنے کے باوجود وہ کسی حق بات کو نہ سنتے ہوں ان سے زیادہ ناکام اور کون ہوگا کیونکہ اللہ نے اس کو آنکھیں دیکھنے اور کان سننے کے لئے دئیے تھے۔ فرمایا کہ اچھے اور برے ایمان والے اور کافر و مشرک سب اس دنیا میں رہتے بستے ہیں اگرچہ وہ دور دراز کے علاقوں میں رہتے ہیں لیکن جب اللہ چاہے گا ان سب کو ایک میدان میں جمع کرے گا اور میدان حشر کو قائم فرمائے گا۔

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

4۔ چناچہ وہ تمہارے تصرفات کی قابلیت رکھتی ہے۔ 5۔ پس یہ اس کو مقتضی ہے کہ اس کی نعمتوں کا شکر ادا کرو جو کہ ایمان وطاعت ہے۔

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : جس رب نے انسان کو پیدا کیا ہے اسی نے انسان کے لیے زمین کو بنایا اور بچھایا ہے۔ اس سورت کی آیت ٣ تا ٥ میں آسمانوں کی تخلیق، تزئین اور حفاظت کا ذکر فرماکر انسان کو یہ حقیقت یاد کرائی گئی ہے کہ جس خالق نے سب کچھ پیدا کیا ہے وہ لوگوں کے سینوں کے رازوں سے واقف ہے اور جو رب لوگوں کے دلوں کے جذبات کو جانتا ہے اس نے ہی زمین کو اس قابل بنایا ہے تاکہ تم اس کے راستوں پر چلو اور اپنے رازق کا رزق کھاؤ اور یاد رکھو ! کہ تم نے اسی کے حضور پیش ہونا ہے۔ یہاں زمین کے لیے ” ذَلُوْلًا “ کا لفظ استعمال کیا ہے جس کا معنٰی نر م ہے۔ بیشک زمین میں پہاڑ اور چٹانیں بھی پائی جاتی ہیں مگر اللہ تعالیٰ نے ہر دور کے انسان کو فہم اور وسائل عطا فرمائے ہیں کہ وہ اپنی ضرورت کے مطابق زمین میں راستے بنائے اور انہیں ہموار کرے تاکہ وہ ایک مقام سے دوسرے مقام تک جاسکے۔ اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ صلاحیت کے سبب انسان نے زمین پر شاہرائیں بنائیں اور پہاڑوں کے سینے چیر کر راستے ہموار کیے یہاں تک کہ سمندر پر بھی راستے بنا لیے ہیں۔ جس سے ایک ملک کے وسائل اور اناج باآسانی دوسرے ملک میں پہنچ رہے ہیں۔ اس سے لوگوں کے رزق میں کشادگی پیدا ہوئی اور ایک دوسرے کے ساتھ تعلقات قائم کرنے میں آسانی میسر آئی۔ اگر اللہ تعالیٰ زمین پر راستے نہ بناتا اور انسان کو مواصلات کے ذرائع بنانے کی صلاحیت نہ دیتا تو لوگ اپنے اپنے علاقے میں قیدی بن کر رہ جاتے اور نہ ایک دوسرے کے وسائل سے فائدہ اٹھا سکتے تھے اور نہ ہی دنیا اس قدر ترقی کرسکتی تھی۔ مسائل ١۔ اللہ ہی نے زمین کو نرم بنایا اور اس پر راستے بنائے۔ ٢۔ اللہ ہی لوگوں کو رزق دینے اور کھلانے والا ہے۔ ٣۔ ہر شخص نے اپنی اپنی قبر سے نکل کر اللہ کے حضور پیش ہونا ہے۔ تفسیر بالقرآن ہرکسی نے ” اللہ “ کے حضور پیش ہونا ہے : ١۔ میں اسی کی طرف بلاتا ہوں اور اسی کی طرف مجھے واپس جانا ہے۔ (الرعد : ٣٦) ٢۔ اللہ کو ہی قیامت کا علم ہے اور اسی کی طرف تم نے لوٹنا ہے۔ (الزخرف : ٨٥، مریم : ٤٠، الزمر : ٤٤، یونس : ٥٦)

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

ھوالذی .................... النشور ” لوگوں کی حالت یہ ہے کہ اس زمین پر رہتے رہتے اور اس زمین پر ان کو ہر قسم کی رہائشی سہولتیں ہونے کی وجہ سے ، اس میں چلنے پھرنے کی قدرت اور اس کی مٹی ، پانی ، ہوا اور دوسرے خزانوں پر دسترس کی وجہ سے اور اس کی تمام پیداوار استعمال کرنے کی وجہ سے ، لوگ یہاں کی زندگی کے عادی ہوگئے ہیں اور یہ بات تک بھول گئے ہیں کہ اللہ نے اس کو ان کے لئے مسخر کردیا ہے اور ان کی دسترس میں دے دیا ہے۔ قرآن کریم بار بار ان کو یہ سبق یاد دلاتا ہے کہ ذرا اس پر غور کرو اور دیکھو۔ چناچہ ہر دور میں لوگوں نے اپنے اپنے علم کے مطابق تسخیر کائنات کے مفہوم کو سمجھا۔ ایک مسخر زمین ، ابتدائی دور کے سننے والوں کے ذہن میں صرف یہ مفہوم رکھتی تھی کہ اس زمین کے اوپر ہم چل سکتے ہیں۔ پیدل یا گھوڑوں پر سوار ہوکر ، یا کشتی پر سوار ہوکر جو سمندر کے سینے کو چیرتی چلی جاتی ہے۔ اور اس میں زراعت کرسکتے ہیں اور اس کے اندر جو کچھ زندہ و مردہ مخلوقات ہے ، اسے استعمال کرسکتے ہیں۔ پانی ، ہوا اور زمین اور ہر قسم کے نباتات وغیرہ۔ یہی مجمل مفہومات تھے جن کو اب سائنس نے ذرا مزید مفصل بنادیا ہے ، جہاں تک آج ہمارا علم آگے بڑھا ہے اور ہمارے اس علم کی وجہ سے اس نص قرآنی کا مفہوم بھی مزید وسیع ہوگیا ہے آئندہ نسلیں اس سے زیادہ سمجھیں گی۔ اب جدید علوم کے مطابق اس کا مفہوم کس قدر وسیع ہے۔ یہ لفص ذلول بالعموم ایک جانور کے لئے استعمال ہوتا ہے جو سدھایا ہوا ہو۔ یعنی جو سواری کے لئے اچھا ہو ، مطیع ہو ، زمین پر اس لفظ کا اطلاق اب ہم اچھی طرح سمجھے ہیں کہ یہ زمین بھی درصال ایک سواری ہے ، اگر یہ ٹھہری ہوگی ، پر سکون اور جمی ہوئی ہے ، لیکن دراصل یہ متحرک سواری ہے بلکہ نہایت ہی تیز رفتار سواری ہے۔ اللہ نے اسے ایسا تابع جانور بنایا ہے کہ سوار کو اٹھا کر پھینک نہیں دیتی اور نہ اسے ہوا میں اڑا دیتی ہے۔ نہ اس کے اوپر انسان کے قدم ڈگمگاتے ہیں اور نہ یہ انسان کو گھڑے یا اونٹ پر سوار ہونے والے کی طرح ہلاتی ہے ، جھٹکے دیتی ہے ، اچھالتی ہے ، جس طرح ایک غیر ” ذلول “ جانور ایسا کرتا ہے۔ پھر یہ ایک ایسا جانور ہے کہ تابع جانور کی طرح دودھ دینے والی بھی ہے۔ یہ جانور یا یہ گولا جس کے اوپر ہم سوار ہیں ، یہ اپنے ارد گرد ایک ہزار میل فی گھنٹہ کے حساب سے چکر لگارہی ہے اور اس محوری رفتار کے ساتھ ساتھ یہ سورج کے گرد ٥٦ ہزار میل فی گھنٹہ کی رفتار سے بھی دوڑ رہی ہے۔ پھر یہ زمین یہ سورج اور سورج کی پوری کہکشاں ٠٢ ہزار میل فی گھنٹہ کے حساب سے آسمان کے برج جبار (VAST ORBTTA) کی سمت چلتے ہیں جس کا ایک چکر ٦٢ کروڑ سال میں پورا ہوتا ہے۔ ان تمام رفتاروں کے باوجود ، ان تمام دوڑوں کے باوجود ہم بڑے آرام سے اس گھوڑے کی پیٹھ پر بیٹھے ہوتے ہیں اور یہ گھوڑا بہت بڑا ” ذلول “ ہے۔ اس قدر سکون سے جارہا ہے کہ رفتار کا احساس بھی ہیں ہورہا ہے۔ بڑے سکون سے بیٹھا ہے۔ اس کے اعصاب پر کوئی دباﺅ نہیں ہے اور یہ نہیں ہورہا کہ اس سے گر کر اس کی بوٹی بوٹی اس کائنات میں بکھر جائے۔ اور اس گھوڑے کے اوپر سے انسان کبھی بھی نہیں گرتا۔ پھر یہ تین مختلف الاطراف حرکتوں میں یہ گھوڑا جتا ہوا ہے۔ ان میں دو حرکتوں ، یعنی حرکت محوری اور حرکت شمسی کے اثرات کو تو ہم جانتے ہیں۔ انسانوں پر بھی ان کا اثر ہے ، زمین پر بھی ان کا اثر ہے اور اس زمین پر پائی جانے والی زندگی پر بھی ان کا اثر ہوتا ہے۔ زمین کی گردش کی محوری کی وجہ سے لیل ونہار پیدا ہوتے ہیں۔ اگر ہمیشہ رات ہوتی تو سردی کی وجہ سے تمام چیزیں جم جاتیں ، اور سورج کے گرد اس کا جو دورہ ہے اس سے موسم اور مختلف فصلوں کے اوقات کا تعین ہوتا ہے۔ اور اگر ایک ہی موسم رہتا تو زمین کی موجودہ شکل نہ ہوتی۔ رہی تیسری حرکت تو ابھی ہمیں اس کی حکمت کا علم نہیں ہوسکا اور یہ ضروری ہے کہ اس عظیم کائنات کے کسی عظیم تر نظام سے اس کا کوئی تعلق ہو۔ واللہ اعلم ! یہ گھوڑاجو بیک وقت ان مختلف اطراف میں یہ حرکات کررہا ہے اپنی اس حرکت کے دوران اپنی جگہ جما ہوا ہے یا جما ہو نظر آتا ہے۔ اور یہ اپنے محور پر 5 ئ 23 درجہ جھکا ہوا ہے۔ اور اس جھکاﺅ کے نتیجے ہی میں چار مختلف موسم پیدا ہوتے ہیں۔ یہ موسم زمین کی گردش شمسی کے نتیجے میں پیدا ہوتے ہیں۔ اگر اس حرکت میں ذرا بھی خلل آجائے تو ہمارا تمام موسمی نظام ، بارشوں کا نظام اور فصلیں اگنے کا نظام اور ماہ وسال کا نظام ختم ہوجائے ، بلکہ ممکن ہے کہ زمین پر سے زندگی ہی ناپید ہوجائے۔ اللہ نے زمین کو اس رطح انسان کے لئے سدھایا ہوا ہے کہ اس کے اندر جاذبیت کی ایسی مقداررکھی ہے کہ زمین انسان کو اپنے اوپر چپکائے رکھتی ہے اور تمام حرکات کے دوران انسان اس کے اوپر ادھر ادھر نہیں لڑھکتے۔ اسی طرح اس کے اوپر فضا کے دباﺅ کا نظام قائم کیا گیا ہے جس کی وجہ سے انسان بسبولت اس کے اوپر چل سکتا ہے۔ اگرچہ موجودہ فضائی دباﺅ ذرا بھی زیادہ ہوتا تو انسان کے لئے زمین کے اوپر چلنا ممکن ہی نہ رہتا یا چلنا ممکن بہت ہی مشکل ہوتا۔ زیادہ دباﺅ کی وجہ سے انسان چپک جاتا یا چلنے کے قابل نہ ہوتا۔ اور اگر موجود دباﺅ سے بھی اسے قدرے کم کردیا جاتا تو انسان فضا میں چھلانگیں لگاتا پھرتا اور اس کے قدم مضطرب ہوجاتے۔ یا اس کا پیٹ اندرونی دباﺅ سے پھٹ جاتا۔ کانوں کے پردے پھٹ جاتے۔ جس طرح ان لوگوں کو پیش آتا ہے جو بالائی فضا میں چلے جاتے ہیں اور ان کو موجودہ فضائی دباﺅ مصنوعی طور پر فراہم نہیں کیا جاتا۔ پھر اللہ نے موجودہ زمین کو مسخر کردیا۔ اس نے زمین کی سطح کو ہموار کردیا ہے اور اوپر سے اس پر نرم مٹی فراہم کردی ہے۔ اگر یہ زمین ایک مضبوط صحرا کی طرح ہوتی جس طرح سائنس دانوں نے یہ مقروضہ کیا ہے کہ یہ ٹھنڈی ہوکر ایک چٹان بن گئی تھی۔ تو اس پر چلنا بھی مشکل ہوتا اور اس کے اندر کوئی روئیدگی بھی نہ ہوتی ، لیکن فضائی عوامل ، ہوا ، گرمی ، سردی اور سارشوں نے ان سخت پتھروں کو توڑاپھوڑا اور اس طرح زمین پر یہ مٹی پیدا ہوئی ، جس کے اندر ہر قسم کی پیداوار ممکن ہوتی ہے ( اور اسی سے انسان بھی بنایا گیا) یوں اس سوار یکے سوار اس کا دودھ بھی پیتے ہیں۔ اور اللہ نے زمین کو اس طرح مسخر بنایا کہ اس کے اوپر جو ہوا جمع کی اس کے اندر انسان اور دوسری زندگی کی تمام ضروریات جمع کردیں۔ اور یہ ضروریات اس طرح باریک بینی کے ساتھ اس ہوا کے اندر رکھ دیں کہ اگر ان عناصر میں سے کوئی چیز ذرا بھی کم وبیش کردی جائے تو کرہ ارض کے اوپر سے تمام زندگی ختم ہوجائے۔ ہوا میں آکسیجن کی نسبت ١٢ ہے اور نائٹروجن ٨٧ % ہے اور باقی کاربن ڈائی آکسائیڈ ہے اور دوسری گیسیں ہیں۔ اور یہ نسبت زمین پر زندگی کے قیام کے لئے لازمی ہے۔ پھر اللہ نے زمین کو انسانی زندگی کی ہزارہا ضروریات کے لئے موزوں قرار دیا۔ ان میں زمین کا موجودہ حجم ، سورج کا موجودہ حجم اور چاند کا موجودہ حجم سب کے سب سازگار ہیں۔ پھر شمس وقمر سے زمین کی موجودہ دوری ، سورج کا درجہ حرارت ، اور زمین کے چھلکے کا موجودہ موٹاپا اور زمین کی موجودہ رفتار ، زمین کا اپنے محور پر ایک طرف جھکا ہوا ہونا اور پھر خشکی اور تری کی موجودہ نسبت اور ہوا کی موجودہ کثافت اور یہ اس قسم کی دوسری چیزیں سب مل کر زمین کو انسان کے لئے مسخر کرتی ہے اور ذلول بناتی ہیں اور انہی چیزوں کی وجہ سے انسانوں کا رزق فراہم ہوا ہے اور ان سے مختلف حیوانات اور پھر انسان کو زندگی ملی ہے۔ یہ قرآنی آیت ان امور کی طرف اشارہ کررہی ہے تاکہ اسے ہر دور کا آدمی اپنی علمی استطاعت کے مطابق سمجھ سکے۔ جس قدر انسانی مشاہدہ آگے بڑھے گا۔ آیت کا مفہوم وسیع ہوتا جائے گا اور انسان یہ شعور تازہ کرتا رہے گا کہ سب بادشاہی اللہ کے ہاتھ ہی میں ہے۔ وہ ہر چیز کا نگہبان ہے۔ انسان کے پورے ماحول میں ہر چیز کا بھی نگہبان ہے۔ یہ زمین انسان کے لئے مسخرکردی گئی ہے۔ انسان کی حفاظت بھی اللہ کررہا ہے اور اگر کسی وقت اس کی نگہبانی اٹھ جائے تو یہ پورے کا پورا نظام یکلخت بگڑ جائے۔ جب انسانی ضمیر میں یہ بات بیٹھ گئی ، تو اللہ رحمن اور رحیم نے حکم دیا کہ اس زمین کی چھاتی پر گھومو پھرو اور اس کے اندر جو ارزاق رکھے ہوئے ہیں ان کو استعمال کرو۔ فامشوا .................... من رزقہ (٧٦ : ٥١) ” چلو اس کی چھاتی پر اور کھاﺅ خدا کا رزق “۔ مناکب کے معنی ہیں اس کی بلندیاں یا اس کی پہلو۔ جب اللہ نے زمین کی بلندیوں اور پہلوﺅں کی اجازت دے دی تو اس کے میدان اور اس کی وادیوں میں پھرنے کی اجازت بھی اس میں آگئی اور اس کے اندر جو بھی رزق ہے وہ اللہ کا پیدا کردہ ہے۔ وہ کسی کا مال نہیں ہے ، جو کسی کے ہاتھ میں ہو ، یہ سب اس کی ملکیت میں ہے۔ اور اس کا مفہوم بہت ہی وسیع ہے ، اس سے جو بالعموم لوگوں کے ذہن میں آتا ہے ، لفظ رزق سے۔ اس سے صرف وہ مال مراد نہیں ہے و کسی کے قبضے میں ہوتا کہ وہ اس سے اپنی ضروریات پوری کرے۔ اس رزق سے مراد وہ تمام چیزیں ہیں جو انسان کے لئے رزق کے اسباب ہیں اور جو اس زمین کے اندر ودیعت کی ہوئی ہیں۔ وہ تمام عناصر جن سے یہ زمین بنائی گئی ہے اور وہ تمام عناصر جن کے استعمال کے لئے اللہ نے نباتات ، حیوانات اور انسانوں کو اہل بنایا۔ اس رزق کی تشریح جدید علوم ناے خوب کردی ہے مختصراً اس کی نوعیت یوں ہے : ” ہر پودے کی زندگی ہوا میں موجود کاربن ڈائی آکسائیڈ کے چھوٹے ذرات مالیکیولزئزوزرات پر موقوف ہے جو ہوا میں ہوتے ہیں۔ جن کو یہ پودا سانس لے کر کذب کرتا ہے۔ یہ ایک کیمیاوی عمل ہے جو سورج کی روشنی میں مکمل ہوتا ہے ، یوں سمجھنا چاہئے کہ درختوں کے پتے دراصل درختوں کے پھیپھڑے ہیں۔ سورج کی روشنی میں پودے اس قابل ہوتے ہیں کہ کاربن ڈائی آکسائیڈ کو جذب کریں اور کاربن کو آکسیجن سے علیحدہ کردیں اور آکسیجن کو واپس کردیں اور کاربن کو ہائیڈروجن کے ساتھ ملا کر ، جسے جڑوں کے ذریعہ پودا پانی کی شکل میں اخذ کرتا ہے ، (جہاں پانی کی آکسیجن اور ہائیڈرون کی علیحدگی ہوجاتی ہے) اور پھر نہایت ہی حیران کن انداز سے قدرت ان عناصر سے شکر اور نامیاتی ریشے اور متعدد دوسرے کیمیاوی مواد تیار کرتی ہے ، جس سے پھل اور پھول تیار ہوتے ہیں اور جس مواد سے پودا اپنی غذا بھی لیتا ہے اور روئے زمین کے تمام دوسرے حیوانات کے لئے غذا تیار بھی کرتا ہے ، اور اس دوران یہ پودا جو آکسیجن سانس کے ذریعہ کھینچتا ہے اسے نکال دیتا ہے ، جس کے بغیر پانچ سیکنڈ کے اندر اندر زندگی ختم ہوجاتی ہے “۔ ” اسی طرح معلوم ہوتا ہے تمام نباتات ، تمام جنگلات ، تمام جھاڑیاں پانی پر پائی جانے والی کائی ، تمام فصلیں دراصل کاربن اور پانی سے تشکیل پاتی ہیں۔ حیوانات اور انسان کاربن ڈائی آکسائیڈ سے نکالتے ہیں اور نباتات آکسیجن نکالتے ہیں۔ اگر یہ تبادلہ نہ ہوتا تو انسان زندگی اور حیوانی زندگی سب آکسیجن اور سب کاربن ڈائی آکسائیڈ کو آخر کار ختم کردیتے اور جب یہ توازن ختم ہوجاتا تو پودے جھلس جاتے اور انسان مرجاتے۔ حال ہی میں یہ انکشاف ہوا ہے کہ کاربن ڈائی آکسائیڈ کی ایک قلیل مقدار حیوانات کی زندگی کے لئے ضروری ہے جبکہ نباتات کو بھی آکسیجن کی قلیل مقدار کی ضرورت ہوتی ہے “۔ ” اگرچہ ہم ہائیڈروجن کو سانس کے ذریعے نہیں جذب کرتے۔ لیکن اس کا وجود بھی ضروری ہے کیونکہ اس کے بغیر پانی موجود نہیں ہوتا اور پانی انسانی اور حیوانی زندگی کے لئے نباتات کے لئے اس قدر ضروری ہے کہ اس کے بغیر انسانوں اور حیوانوں کی زندگی ممکن ہی نہیں “۔ (” سائنس ایمان کی دعوت دیتی ہے “ ترجمہ محمود صالح فلکی ص ٠٢ ، ١٢) ۔ اسی طرح نائٹروجن کا بھی زمین کے رزق کے ساتھ گہرا تعلق ہے۔ ” نائٹروجن کے بغیر کوئی غذائی پودا نشوونما نہیں پاسکتا۔ اسے کسی نہ کسی طرح نائٹروجن ملنا چاہئے۔ زرعی زمین میں نائٹروجن کے داخل ہونے کے دو طریقے ہیں۔ یہ کہ ایک خاص قسم کا بیکٹریا یعنی (جراثیم) سبزی نما نباتات کی جڑوں میں رہتے ہیں۔ شفتل ، چنا ، لوبیا وغیرہ کی جڑوں میں۔ یہ جراثیم خالص نائٹروجن حاصل کرتے ہیں مثلاً ہوا اسے اور ان کو مرکب شکل میں زمین میں چھوڑتے ہیں اور پھر پودا اس کو اپنے اندر جذب کرسکتا ہے۔ جب یہ پودا مرجاتا ہے تو یہ مرکب نائٹروجن زمین کے اندر ہی رہ جاتا ہے “۔ ” ایک طریقہ دوسرا بھی ہے ، جس کے ذریعہ نائٹروجن زمین میں داخل ہوجاتی ہے۔ اور وہ یہ ہے کہ جب ایسی ہوائیں چلتی ہیں جن میں بجلی چمکتی ہے۔ ہواﺅں کے اندر جب بھی چمکتی ہے تو کسی آکسیجن اور نائٹروجن کو متحد کردیتی ہے۔ اور بارش اسے زمین پر ایک مرکب نائٹروجن کے طور پر پھینک دیتی ہے۔ اس صورت میں کہ پودے ان کو جذب کرسکیں “۔ کیونکہ پودے خالص نائٹروجن کو اپنے اندر جذب نہیں کرسکتے۔ اس لئے کہ ہوا میں اس کی نسبت ٨٧ % ہوتی ہے “۔ (” سائنس ایمان کی دعوت دیتی ہے “ ترجمہ محمود صالح فلکی ص ٠٢ ، ١٢) ۔ اور زمین کے اندر جو جامد اور سیال رزق موجود ہے یہ سب زمین اس کے حالات رزق کے ساتم متعلق ہے۔ یہاں اندر کے ارزاق کی تشریحات کی ضرورت نہیں ہے۔ کیونکہ الفظ رزق کا مفہوم یہاں بہت ہی وسیع ہے اور بہت ہی گہرا ہے۔ اور جب اللہ ہمیں اجازت دیتا ہے کہ تم زمین میں پھرو اور رزق تلاش کرو کہ تمہارے لئے زمین کو مسخر کیا گیا ہے تو یہ سب اس لفظ کے مفہوم میں داخل ہیں اور ہمیں اجازت ہے۔ جس قدر انسان اس سے استعفادہ کرسکے۔ فامشوا ............................ من رزقہ (٧٦ : ٥١) ” چلو اس کی چھاتی پر اور کھاﺅ خدا کا رزق “۔ لیکن یہ اجازت ایک متعین وقت تک کے لئے ہے اور وقت کا تعین کردیا گیا ہے جو اللہ کے علم میں ہے۔ اللہ کی تدبیر کائنات کے مطابق ہے۔ زندگی اور موت کے عرصہ ابتلا تک کھاﺅ لیکن اس کے بعد۔ والیہ النشور (٧٦ : ٥١) ” اسی کے حضور تمہیں دوبارہ زندہ ہوکر جانا ہے “۔ اسی کی طرف جانا اور اگر تم نہیں مانتے تو بتاﺅ کس کی طرف جانا ہے ؟ اس کے سوا جائے پناہ تو کہیں بھی نہیں ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ ابھی انسان اس زمین کی پشت پر اور اس کے اندر اللہ کی نعمتوں سے لطف اندوز ہی ہورہا تھا اور اللہ کے حکم سے زمین پر چل کر نعمتیں سمیٹ رہا تھا کہ اچانک اس سدھائی ہوئی تابعداد زمین کے اندر ایک جنبش پیدا ہوتی ہے اور اس کا یہ توازن اور رفتار یکدم ختم ہوجاتی ہے۔ اب یہی پر سکون زمین ان پر بمباری کررہی ہے اور پہاڑ گرارہی ہے۔ ان کے احساس اور تصورات میں ایک زلزلہ برپا کردیا جاتا ہے تاکہ یہ لوگ زمین کے قرار و سکون اور نعمتوں سے لطف اندوز ہونے میں ہی مگن نہ ہوجائیں اور ذرا اس بادشاہ کی طف بھی دیکھیں جس نے اس نظام کو قائم کررکھا ہے ، اپنے دلوں اور سوچوں کو اللہ کے ساتھ مربوط رکھیں۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

اللہ تعالیٰ نے زمین کو تمہارے لیے مسخر فرما دیا، اسے قدرت ہے کہ تمہیں زمین میں دھنسا دے یا سخت آندھی بھیج دے، بلندی پر جو پرندے اڑتے ہیں اللہ تعالیٰ ہی ان کا محافظ ہے ان آیات میں بھی اللہ تعالیٰ کی شان خالقیت اور رازقیت بیان فرمائی ہے اول تو یہ فرمایا کہ یہ زمین جس پر تم بستے ہو اللہ تعالیٰ نے تمہارے لیے مسخر فرما دی ہے اس کو جیسے چاہتے ہو اپنے تصرف میں لاتے ہو نرم چیز ہے اسے کھودتے ہو بنیادیں ڈال کر گھر بناتے ہو۔ کنویں کھودتے ہو، ہل اور ٹریکٹر چلا کر کھیتی بوتے ہو، اس پر رہتے سہتے ہو، ناپاکی تک اس پر ڈالتے ہو۔ غرض یہ کہ وہ تمہارے کاموں میں آتی ہے اور تمہاری ضرورتوں میں استعمال ہوتی ہے تم اس کے راستوں میں چلو پھرو سفر کرو تجارت کرو یہاں کی چیزیں وہاں لے جاؤ اور وہاں کی چیزیں یہاں لے کر آؤ اور جو رزق تمہیں سفر کیے بغیر مل جائے یا سفر کر کے حاصل ہو اسے کھاؤ پیو۔ یہ اللہ تعالیٰ ہی کا رزق ہے اور ساتھ ہی یہ سمجھ لو کہ زمین کی یہ نعمت اور رزق کی دولت صرف اسی حد تک نہیں ہے کہ یہیں کھا پی کر بےفکر ہوجاؤ تمہیں مرنا بھی ہے اور اسی زمین میں دفن ہونا ہے پھر صور پھونکے جانے پر قبروں سے اٹھنا ہے اور حساب کتاب کے لیے خالق جل مجدہ کے حضور پیش بھی ہونا ہے، چلو پھرو، کھاو پیو اور اس کی نعمتوں کا شکر ادا کرو اس کی فرمانبرداری میں لگو۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

10:۔ ” ھو الذی جعل “ یہ چوتھی دلیل عقلی خاص ہے۔۔ اوپر کا حال تو دیکھ لیا اچھا اب نیچے کی طرف دیکھو۔ یہاں ” ذلولا “ مدار کلام ہے۔ اللہ تعالیٰ ہی نے اس زمین کو تمہارے لیے عاجز بنا دیا ہے کہ اس کی راہوں میں چلتے ہو اور اس میں پیدا ہونے والا رزق کھاتے ہو اور پھر آخر اسی کی طرف اٹھ کر جانا ہے جس نے زمین کو ذلول بنایا وہی برکات دہندہ ہے اور کوئی نہیں۔ ذلول، یعنی نہ ایسی سخت اور درشت کہ پاؤں کو چھیل ڈالے اور نہ ایسی نرم کہ پاؤں اس میں دھنس جائیں۔ ” الیہ النشور “ یہ تخویف اخروی کی طرف اشارہ ہے۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(15) وہ اللہ تعالیٰ نے ایسا ہے کہ جس نے تمہارے نفع کے لئے زمین کو مطیع مسخر اور فرماں بردار کردیا سو اب اس کے کندھوں یعنی اس کے راستوں میں اس کے اطراف و جوانب میں چلو پھرو اور اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی روزی میں سے کھائو اور دوبارہ زندہ ہوکر اللہ تعالیٰ ہی کی طرف جانا اور اٹھنا ہے۔ یعنی زمین کو باوجود اس کی اتنی وسعت وپنہاں کے تمہارا تابعدار کردیا کہ جس طرح چاہتے ہو اس کو استعمال کرتے ہو۔ اس کی معدنیات کو اپنے کام میں لاتے ہو، کھیتی باڑی کے لئے ہل چلاتے ہو اس کی نباتات سے فائدہ حاصل کرتے ہو اس پر ہر قسم کی تعمیر کرتے ہو اور مویشی کو جس طرح چاہتے ہو کام میں لاتے ہو غرض اس عالم کی ایک بہت بڑی طاقت نمو اور قوت نشو و نما کو تمہارے اختیار میں دے دیا تم اس کے کاندھوں پرچڑھے چڑھے پھرو۔ یعنی جہاں تمہارا جی چاہے سفر کرو ، تجارت کرو ایک جگہ کی پیداوار دوسری جگہ منتقل کرکے نفع کمائو اور دنیوی فوائد حاصل کرو اور اس کی مہربانی سے جو روزی تم کو دی جاتی ہے اس کو کھائو۔ ہاں یہ ضرور ہے کہ ان نعمتوں سے فائدہ اٹھا کر اس مالک و مختار کو نہ بھول جائو جس نے اتنی بڑی طاقت کو تمہارے لئے پست اور تمہارا تابعدار کردیا ہے اس کا خیال رکھو کہ تم سب کو ایک دن اسی مالک و مختار کی پیشی میں حاضر ہونا ہے اور اس کی جناب میں جی کر اٹھنا ہے۔