Surat ul Qalam
Surah: 68
Verse: 37
سورة القلم
اَمۡ لَکُمۡ کِتٰبٌ فِیۡہِ تَدۡرُسُوۡنَ ﴿ۙ۳۷﴾
Or do you have a scripture in which you learn
کیا تمہارے پاس کوئی کتاب ہے جس میں تم پڑھتے ہو؟
اَمۡ لَکُمۡ کِتٰبٌ فِیۡہِ تَدۡرُسُوۡنَ ﴿ۙ۳۷﴾
Or do you have a scripture in which you learn
کیا تمہارے پاس کوئی کتاب ہے جس میں تم پڑھتے ہو؟
Or have you a Book wherein you learn, إِنَّ لَكُمْ فِيهِ لَمَا يَتَخَيَّرُونَ
37۔ 1 جس میں یہ بات لکھی ہوئی ہے جس کا تم دعویٰ کر رہے ہو، کہ وہاں بھی تمہارے لئے وہ کچھ ہو جسے تم پسند کرتے ہو۔
[١٨] غلط فہمی کی تین طرح سے تردید :۔ آیت نمبر ٣٧ تا ٤١ میں تین مختلف صورتیں بیان کی گئی ہیں۔ جو ان کے اس باطل نظریہ کی تردید میں نقلی دلائل کی حیثیت رکھتی ہیں اور وہ یہ ہیں : ١۔ کیا کسی الہامی کتاب میں یہ بات لکھی ہوئی ہے کہ آخرت میں بھی تمہیں آسودگی اور خوشحالی کی زندگی میسر ہوگی جیسا کہ تمہاری یہ خواہش ہے۔ ٢۔ یا تم نے ہم سے کچھ ایسے حلف نامے لے رکھے ہیں کہ تمہیں قیامت کے دن وہی کچھ ملے گا جو تم چاہتے ہو اور اپنے حق میں ایسا ہی فیصلہ چاہتے ہو۔ اگر ایسی بات ہے تو بتاؤ کہ ان حلف ناموں کو ہم سے پورا کرا کے دینے کے لیے تم سے کون ذمہ دار اور ضامن ہے ؟ ٣۔ تیسری صورت یہ ہوسکتی ہے کہ ان کے کچھ معبود اللہ کے کارناموں میں اس کے شریک ہیں۔ اگر ایسی بات ہے تو شریکوں کی بھی کائنات میں شراکت اور امور کائنات میں ان کے تصرف کو ثابت کرکے دکھائیں۔ پھر جب ان میں سے کوئی بات بھی نہیں ہے تو پھر آخر یہ کس برتے پر آس لگائے بیٹھے ہیں کہ انہیں اخروی زندگی میں آسودگی اور خوشحالی میسر ہوگی۔
(١) ام لکم کتب فیہ تدرسون …: کفار جو کہتے تھے کہ ہمیں آخرت میں بھی جنت و نعمت ملے گی، اس بات کی تردید ایک اور طرح سے ہے، فرمایا تمہیں یہ بات کیسے معلوم ہوئی ؟ اگر کہو کہ تمہیں خود اللہ تعالیٰ نے بتائی ہے تو بتاؤ تمہارے پاس اللہ تعالیٰ کی کون سی کتاب ہے جس میں تم نے پڑھا ہے کہ آخرت میں تمہیں تمہاری پسند ہی کی چیزیں ملیں گی ؟ صاف ظاہر ہے کہ نہ تمہارے پاس ایسی کوئی کتاب ہے اور نہ تمہارا یہ گمان کچھ حقیقت رکھتا ہے۔ (٢) ” تخیزون “ باب تفعل میں سے ” تنخیرون “ ہے، ایک تاء حذف کردی ہے۔” ان لکم فیہ لما تخیرون “ جملہ مکسور ہوگیا ۔ ترجمہ یہ ہوگا ” کیا تمہارے پاس کوئی کتاب ہے جس میں تم یہ بات پڑھتے ہو کہ تمہارے لئے آخرت میں وہی ہوگا جو تم پسند کرو گے ؟ “
اَمْ لَكُمْ كِتٰبٌ فِيْہِ تَدْرُسُوْنَ ٣٧ ۙ أَمْ»حرف إذا قوبل به ألف الاستفهام فمعناه : أي نحو : أزيد أم عمرو، أي : أيّهما، وإذا جرّد عن ذلک يقتضي معنی ألف الاستفهام مع بل، نحو : أَمْ زاغَتْ عَنْهُمُ الْأَبْصارُ [ ص/ 63] أي : بل زاغت . ( ا م حرف ) ام ۔ جب یہ ہمزہ استفہام کے بالمقابل استعمال ہو تو بمعنی اور ہوتا ہے جیسے ازید فی الدار ام عمرو ۔ یعنی ان دونوں میں سے کون ہے ؟ اور اگر ہمزہ استفہام کے بعد نہ آئے تو بمعنیٰ بل ہوتا ہے ۔ جیسے فرمایا :۔ { أَمْ زَاغَتْ عَنْهُمُ الْأَبْصَارُ } ( سورة ص 63) ( یا) ہماری آنکھیں ان ( کی طرف ) سے پھر گئی ہیں ۔ كتب والْكِتَابُ في الأصل اسم للصّحيفة مع المکتوب فيه، وفي قوله : يَسْئَلُكَ أَهْلُ الْكِتابِ أَنْ تُنَزِّلَ عَلَيْهِمْ كِتاباً مِنَ السَّماءِ [ النساء/ 153] فإنّه يعني صحیفة فيها كِتَابَةٌ ، ( ک ت ب ) الکتب ۔ الکتاب اصل میں مصدر ہے اور پھر مکتوب فیہ ( یعنی جس چیز میں لکھا گیا ہو ) کو کتاب کہاجانے لگا ہے دراصل الکتاب اس صحیفہ کو کہتے ہیں جس میں کچھ لکھا ہوا ہو ۔ چناچہ آیت : يَسْئَلُكَ أَهْلُ الْكِتابِ أَنْ تُنَزِّلَ عَلَيْهِمْ كِتاباً مِنَ السَّماءِ [ النساء/ 153]( اے محمد) اہل کتاب تم سے درخواست کرتے ہیں ۔ کہ تم ان پر ایک لکھی ہوئی کتاب آسمان سے اتار لاؤ ۔ میں ، ، کتاب ، ، سے وہ صحیفہ مراد ہے جس میں کچھ لکھا ہوا ہو درس دَرَسَ الدّار معناه : بقي أثرها، وبقاء الأثر يقتضي انمحاء ه في نفسه، فلذلک فسّر الدُّرُوس بالانمحاء، وکذا دَرَسَ الکتابُ ، ودَرَسْتُ العلم : تناولت أثره بالحفظ، ولمّا کان تناول ذلک بمداومة القراءة عبّر عن إدامة القراءة بالدّرس، قال تعالی: وَدَرَسُوا ما فِيهِ [ الأعراف/ 169] ، وقال : بِما كُنْتُمْ تُعَلِّمُونَ الْكِتابَ وَبِما كُنْتُمْ تَدْرُسُونَ [ آل عمران/ 79] ، وَما آتَيْناهُمْ مِنْ كُتُبٍ يَدْرُسُونَها [ سبأ/ 44] ، وقوله تعالی: وَلِيَقُولُوا دَرَسْتَ [ الأنعام/ 105] ، وقرئ : دَارَسْتَ أي : جاریت أهل الکتاب، وقیل : وَدَرَسُوا ما فِيهِ [ الأعراف/ 169] ، ترکوا العمل به، من قولهم : دَرَسَ القومُ المکان، أي : أبلوا أثره، ودَرَسَتِ المرأةُ : كناية عن حاضت، ودَرَسَ البعیرُ : صار فيه أثر جرب . ( د ر س ) درس الدار ۔ گھر کے نشان باقی رہ گئے اور نشان کا باقی رہنا چونکہ شے کے فی ذاتہ مٹنے کو چاہتا ہے اس لئے دروس کے معنی انمحاء یعنی مٹ جانا کرلئے جاتے ہیں اسی طرح کے اصل معنی کتاب یا علم حفظ کرکے اس کا اثر لے لینے کے ہیں اور اثر کا حاصل ہونا مسلسل قراءت کے بغیر ممکن نہیں اس لئے درست الکتاب کے معنی مسلسل پڑھنا کے آتے ہیں ۔ قرآن میں ہے :۔ وَدَرَسُوا ما فِيهِ [ الأعراف/ 169] اور جو کچھ اس ( کتاب ) میں لکھا ہ اس کو انہوں نے پڑھ بھی لیا ہے ۔ بِما كُنْتُمْ تُعَلِّمُونَ الْكِتابَ وَبِما كُنْتُمْ تَدْرُسُونَ [ آل عمران/ 79] کیونکہ تم کتاب ( خدا کی ) تعلیم دینے اور اسے پڑھتے پڑھاتے رہتے ہو ۔ وَما آتَيْناهُمْ مِنْ كُتُبٍ يَدْرُسُونَها [ سبأ/ 44] اور ہم نے نہ تو ان کو کتابیں دیں جن کو یہ پڑھتے ہیں اور یہ آیت کریمہ : ۔ وَلِيَقُولُوا دَرَسْتَ [ الأنعام/ 105] میں ایک قراءت وارسلت بھی ہے جس کے معنی یہ ہیں کہ کافر یہ نہ کہیں کہ تم نے کتاب کو دوسروں سے پڑھ لیا ۔ بعض نے کہا ہے وَدَرَسُوا ما فِيهِ [ الأعراف/ 169] کے معنی یہ ہیں کہ انہوں نے اس پر عمل ترک کردیا اور یہ کے محاورہ سے ماخوذ ہے ۔ یعنی انہوں نے مکان کے نشانات مٹادیئے درست المرءۃ ( کنایہ ) عورت کا حائضہ ہونا ۔ درس البعیر ۔ اونٹ کے جسم پر خارش کے اثرات ظاہر ہونا ۔
(٣٧۔ ٣٩) کیا اس کتاب میں تمہارے لیے وہ چیز لکھی ہو جس کو تم پسند کرتے ہو یعنی جنت ملنا، کیا ہمارے ذمہ کچھ قسمیں چڑھی ہوئی ہیں کہ تمہیں آخرت میں جنت ملے جس کا تم اپنے لیے فیصلہ کر رہے ہو۔
21 That is, the Book sent down by Allah.
سورة الْقَلَم حاشیہ نمبر :21 یعنی اللہ تعالی کی بھیجی ہوئی کتاب ۔
(68:37) ام لکم کتب فیہ تدرسون ۔ ام حرف عطف ہے۔ بعنی یاء خواہ ، کیا۔ استفہام کے معنی دیتا ہے۔ کبھی بمعنی بل : یعنی بلکہ : اور کبھی بمعنی ہمزہ استفہام آتا ہے۔ اور کبھی زائدہ ہوتا ہے۔ یہاں ام منقطعہ ہے۔ یعنی پہلی بات سے اعراض ہے اور بمعنی بل ہے۔ یعنی اگر تمہارے پاس کوئی عقلی دلیل نہیں ہے جیسا کہ اوپر معلوم ہوا کہ یہ بات بعیداز عقل ہے کہ مسلمانوں اور مجرموں کو ایک ہی طرح کا کردیں۔ تو کہا تمہارے پاس اور کوئی نقلی دلیل ہے ؟ یعنی کوئی آسمانی کتاب جو تمہارے خیال کی تائید میں ہو۔ کتب بمعنی آسانی کتاب ۔ منزل من اللہ، اللہ تعالٰ کی طرف سے نازل شدہ فیہ ای فی ذلک الکتب اس کتاب میں۔ تدرسون۔ مضارع کا صیغہ جمع مذکر حاضر۔ درس (باب نصر) مصدر سے۔ تم پڑھتے ہو۔
ام لکم ............................ تخیرون (٨٣) (٨٦ : ٧٣۔ ٨٣) ” کیا تمہارے پاس کوئی کتاب ہے جس میں تم یہ پڑھتے ہو کہ تمہارے لئے ضرور وہاں وہی کچھ ہے جو تم اپنے لئے پسند کرتے ہو “۔ یہ ان کے ساتھ ایک مذاق ہے کہ کس کتاب سے یہ علم لے کر آئے ہو ، کیونکہ عقل وعدل کا کوئی معیار تمہارے اس فیصلے کو تسلیم نہیں کرسکتا۔ اس لئے کہ تمہارے فیصلے کا خلاصہ تو یہ ہے کہ مسلموں اور مجرموں کا ایک ہی انجام ہے۔ پھر یہ عجیب مضحکہ خیز کتاب ہوگی جو تمہاری خواہشات اور تمہاری مرغوبات کے مطابق فیصلے کرتی ہے کہ جو تم چاہتے ہو ، وہی فیصلے اس میں درج ہیں۔ حق اور عدل پر مبنی نہیں ہیں۔ نہ معقول ومعروف کے کسی اصول پر مبنی ہیں۔
﴿اَمْ لَكُمْ كِتٰبٌ فِيْهِ تَدْرُسُوْنَۙ٠٠٣٧﴾ (الی آخر الآیات) یہ بات جو تم نے کہی ہے تمہارے پاس اس کی کیا دلیل ہے ؟ کیا تمہارے پاس آسمان سے کوئی کتاب نازل ہوئی ہے جسے تم آپس میں پڑھتے ہو ؟ اور کیا اس کتاب میں یہ مضمون ہے کہ تم جو چاہو اپنے پاس سے اپنی خواہش کے مطابق کہہ دو گے اسی کے مطابق فیصلہ ہوجائے گا ؟ پھر فرمایا کیا تمہارے لیے ہمارے اوپر قسمیں ہیں جو قیامت تک باقی رہنے والی ہیں کہ تمہیں وہ دیا جائے گا جس کا تم فیصلہ کرتے ہو ؟ مطلب یہ ہے کہ تم بتاؤ کیا اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی ایسا عہد ہے کہ جو تم کہہ دو گے ہم وہی کردیں گے اور تمہارے کہنے کے مطابق فیصلہ ہوگا ؟ ایسا نہیں ہے پھر بڑھ چڑھ کر یہ باتیں اپنی طرف سے کیسے تجویز کر رہے ہو ؟ پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے خطاب فرمایا ﴿ سَلْهُمْ اَيُّهُمْ بِذٰلِكَ زَعِيْمٌۚۛ٠٠٤٠﴾ (آپ ان سے دریافت کرلیجئے کہ ایسا کون شخص ہے جو ان کی باتوں کو صحیح ثابت کرنے کا ذمہ دار ہے) ۔ یعنی ان کی نامعقول باتوں کو کوئی عاقل صحیح نہیں کہہ سکتا۔
17:۔ ” ام لکم کتب “ خطاب مشرکین سے ہے۔ کیا تمہارے پاس کوئی آسمانی کتاب ہے جس میں تم پڑھتے ہو کہ اس میں تمہاری مرضی کی باتیں موجود ہیں یعنی کیا اس میں لکھا ہے کہ ان کے معبود برکات دہندہ ہیں یا یہ کہ قیامت کے دن مسلمان ان کے برابر ہوں گے ؟ ” ام لکم ایمان “ یا ہم نے تمہارے ساتھ پختہ وعدے کر رکھے ہیں جن کو پورا کرنا قیامت تک ہمارے ذمہ ہے اور جو کچھ تم کہہ رہے ہو، ہم اس کو ضرور پورا کریں گے کہ قیامت کے دن تم مسلمانوں کے برابر ہو گے (بالغۃ) ای ثابتۃ الکم الی یوم القیامۃ لا نخرج عن عھدتہا الا یومئذ اذا حکمنالکم و اعطیناکم ماتحکمون (روح ج 29 ص 34) ۔