Surat ul Qalam

Surah: 68

Verse: 43

سورة القلم

خَاشِعَۃً اَبۡصَارُہُمۡ تَرۡہَقُہُمۡ ذِلَّۃٌ ؕ وَ قَدۡ کَانُوۡا یُدۡعَوۡنَ اِلَی السُّجُوۡدِ وَ ہُمۡ سٰلِمُوۡنَ ﴿۴۳﴾

Their eyes humbled, humiliation will cover them. And they used to be invited to prostration while they were sound.

نگاہیں نیچی ہوں گی ان پر ذلت و خواری چھا رہی ہوگی حالانکہ یہ سجدے کے لئے ( اس وقت بھی ) بلائے جاتے تھے جبکہ صحیح سلالم تھے ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

خَاشِعَةً أَبْصَارُهُمْ تَرْهَقُهُمْ ذِلَّةٌ ... Their eyes will be cast down and ignominy will cover them; means, in the final abode, due to their crimes and arrogance in the worldly life. Thus they will be punished with the opposite of what they did. ... وَقَدْ كَانُوا يُدْعَوْنَ إِلَى السُّجُودِ وَهُمْ سَالِمُونَ they used to be called to prostrate themselves, while they were whole, (and had refused). When they were called to prostrate in the worldly life, they refused to do so even though they were healthy and secure. Therefore, they will be punished with the lack of ability to do so in the Hereafter. When the Almighty Lord makes Himself visible (before the believers), then the believers will fall down in prostration to Him, but no one of the disbelievers and hypocrites will be able to prostrate. rather, their backs will become one plate. Every time one of them attempts to prostrate, he will bow his neck but will not be able to prostrate. This is just like in the life of this world, when these people were in opposition to what the believers were doing. For Whoever denies the Qur'an Then Allah says,

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

43۔ 1 یعنی دنیا کے برعکس ان کا معاملہ ہوگا دنیا میں تکبر وعناد کی وجہ سے ان کی گردنیں اکڑی ہوتی تھیں۔ 43۔ 2 یعنی صحت مند اور توانا تھے، اللہ کی عبادت میں کوئی چیز ان کے لئے مانع نہیں تھی۔ لیکن دنیا میں اللہ کی عبادت سے یہ دور رہے۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

وقد کانوا یدعون الی السجود وھم سلمون : گویا آخرت میں ان کی پیٹھ کا تختہ بن جانا اور ان کا سجدے کے قابل نہ رہنا اس بات کی سزا ہے کہ انہوں نے دنیا میں صحیح سالم ہوتے ہوئے ایک اللہ کو سجدہ کرنے کی دعوت قبول نہ کی۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

خَاشِعَۃً اَبْصَارُہُمْ تَرْہَقُہُمْ ذِلَّۃٌ۝ ٠ ۭ وَقَدْ كَانُوْا يُدْعَوْنَ اِلَى السُّجُوْدِ وَہُمْ سٰلِمُوْنَ۝ ٤٣ خشع الخُشُوع : الضّراعة، وأكثر ما يستعمل الخشوع فيما يوجد علی الجوارح . والضّراعة أكثر ما تستعمل فيما يوجد في القلب ولذلک قيل فيما روي : روي : «إذا ضرع القلب خَشِعَتِ الجوارح» قال تعالی: وَيَزِيدُهُمْ خُشُوعاً [ الإسراء/ 109] ، وقال : الَّذِينَ هُمْ فِي صَلاتِهِمْ خاشِعُونَ [ المؤمنون/ 2] ، وَكانُوا لَنا خاشِعِينَ [ الأنبیاء/ 90] ، وَخَشَعَتِ الْأَصْواتُ [ طه/ 108] ، خاشِعَةً أَبْصارُهُمْ [ القلم/ 43] ، أَبْصارُها خاشِعَةٌ [ النازعات/ 9] ، كناية عنها وتنبيها علی تزعزعها کقوله : إِذا رُجَّتِ الْأَرْضُ رَجًّا [ الواقعة/ 4] ، وإِذا زُلْزِلَتِ الْأَرْضُ زِلْزالَها [ الزلزلة/ 1] ، يَوْمَ تَمُورُ السَّماءُ مَوْراً وَتَسِيرُ الْجِبالُ سَيْراً [ الطور/ 9- 10] . ( خ ش ع ) الخشوع ۔ ( ان ) کے معنی ضواعۃ یعنی عاجزی کرنے اور جھک جانے کے ہیں ۔ مگر زیادہ تر خشوع کا لفظ جوارح اور ضراعت کا لفظ قلب کی عاجزی پر بولا جاتا ہے ۔ اسی لئے ایک روایت میں ہے :۔ (112) اذا ضرعت القلب خشعت الجوارح جب دل میں فروتنی ہو تو اسی کا اثر جوارح پر ظاہر ہوجاتا ہے قرآن میں ہے : وَيَزِيدُهُمْ خُشُوعاً [ الإسراء/ 109] اور اس سے ان کو اور زیادہ عاجزی پید اہوتی ہے ۔ الَّذِينَ هُمْ فِي صَلاتِهِمْ خاشِعُونَ [ المؤمنون/ 2] جو نماز میں عجز و نیاز کرتے ہیں ۔ وَكانُوا لَنا خاشِعِينَ [ الأنبیاء/ 90] اور ہمارے آگے عاجزی کیا کرتے تھے ۔ وَخَشَعَتِ الْأَصْواتُ [ طه/ 108] آوازیں پست ہوجائیں گے ۔ ان کی آنکھیں جھکی ہوئی ہوں گی ۔ أَبْصارُها خاشِعَةٌ [ النازعات/ 9] یہ ان کی نظروں کے مضطرب ہونے سے کنایہ ہے ۔ جیسا کہ زمین وآسمان کے متعلق بطور کنایہ کے فرمایا ۔ إِذا رُجَّتِ الْأَرْضُ رَجًّا [ الواقعة/ 4] جب زمین بھونچال سے لرزنے لگے ۔ وإِذا زُلْزِلَتِ الْأَرْضُ زِلْزالَها [ الزلزلة/ 1] جب زمین بھونچال سے ہلا دی جائے گی ۔ يَوْمَ تَمُورُ السَّماءُ مَوْراً وَتَسِيرُ الْجِبالُ سَيْراً [ الطور/ 9- 10] جس دن آسمان لرزنے لگے کپکپا کر۔ اور پہاڑ اڑانے لگیں ( اون ہوکر ) بصر البَصَر يقال للجارحة الناظرة، نحو قوله تعالی: كَلَمْحِ الْبَصَرِ [ النحل/ 77] ، ووَ إِذْ زاغَتِ الْأَبْصارُ [ الأحزاب/ 10] ( ب ص ر) البصر کے معنی آنکھ کے ہیں جیسے فرمایا ؛کلمح البصر (54 ۔ 50) آنکھ کے جھپکنے کی طرح ۔ وَ إِذْ زاغَتِ الْأَبْصارُ [ الأحزاب/ 10] اور جب آنگھیں پھر گئیں ۔ نیز قوت بینائی کو بصر کہہ لیتے ہیں اور دل کی بینائی پر بصرہ اور بصیرت دونوں لفظ بولے جاتے ہیں قرآن میں ہے :۔ فَكَشَفْنا عَنْكَ غِطاءَكَ فَبَصَرُكَ الْيَوْمَ حَدِيدٌ [ ق/ 22] اب ہم نے تجھ پر سے وہ اٹھا دیا تو آج تیری نگاہ تیز ہے ۔ رهق رَهِقَهُ الأمر : غشيه بقهر، يقال : رَهِقْتُهُ وأَرْهَقْتُهُ ، نحو ردفته وأردفته، وبعثته وابتعثته قال : وَتَرْهَقُهُمْ ذِلَّةٌ [يونس/ 27] ، وقال : سَأُرْهِقُهُ صَعُوداً [ المدثر/ 17] ، ومنه : أَرْهَقْتُ الصّلاة : إذا أخّرتها حتّى غشي وقت الأخری. ( ر ھ ق ) رھقہ ( س ) رھقا ۔ الامر ۔ کسی معاملہ نے اسے بزور و جبر دبا لیا ۔ اور رھقہ وارھقہ ( مجرد و مزید فیہ ) دونوں کے ایک ہی معنی ہیں جیسے ۔ ردفہ اردفہ وبعثہ وابعثہ ۔ قرآن میں ہے ۔ وَتَرْهَقُهُمْ ذِلَّةٌ [يونس/27] اور ان پر ذلت چھا رہی ہوگی ۔ سَأُرْهِقُهُ صَعُوداً [ المدثر/ 17] ہم عنقریب اس کو عذاب سخت میں مبتلا کردیں گے ، اور اسی سے ارھقت الصلوٰۃ ہے جس کے معنی نماز کو آخر وقت تک موخر کرنے کے ہیں ۔ حتی ٰ کہ دوسری نماز کا وقت آجائے ۔ ذلت يقال : الذُّلُّ والقُلُّ ، والذِّلَّةُ والقِلَّةُ ، قال تعالی: تَرْهَقُهُمْ ذِلَّةٌ [ المعارج/ 44] ، وقال : ضُرِبَتْ عَلَيْهِمُ الذِّلَّةُ وَالْمَسْكَنَةُ [ البقرة/ 61] ، وقال : سَيَنالُهُمْ غَضَبٌ مِنْ رَبِّهِمْ وَذِلَّةٌ [ الأعراف/ 152] ، وذَلَّتِ الدّابة بعد شماس، ذِلًّا، وهي ذَلُولٌ ، أي : ليست بصعبة، قال تعالی: لا ذَلُولٌ تُثِيرُ الْأَرْضَ [ البقرة/ 71] ، بغیر تاء کے ذل اور تار کے ساتھ ذلتہ کہا جاتا ہے جیسا کہ قل اور قلتہ ہے ۔ قرآن میں ہے ۔ تَرْهَقُهُمْ ذِلَّةٌ [ المعارج/ 44] اور ان کے مونہوں پر ذلت چھا جائے گی ۔ ضُرِبَتْ عَلَيْهِمُ الذِّلَّةُ وَالْمَسْكَنَةُ [ البقرة/ 61] اور ( آخری کار ) زلت ( اور رسوائی ) اور محتاجی ( اور بےتوانائی ) ان سے چنٹادی گئی ۔ سَيَنالُهُمْ غَضَبٌ مِنْ رَبِّهِمْ وَذِلَّةٌ [ الأعراف/ 152] پروردگار کا غضب واقع ہوگا اور ذلت ( نصیب ہوگی ) منہ زوزی کے بعد سواری کا مطیع ہوجانا اور اس قسم کی مطیع اور مئقاد سواری کا ذلول ( صفت فاعلی ) کہا جاتا ہے ۔ قرآن میں ہے ۔ لا ذَلُولٌ تُثِيرُ الْأَرْضَ [ البقرة/ 71] کہ وہ بیل کام میں لگا ہوا نہ ۔ نہ تو زمین جوتتا ہو ۔ ( قَدْ ) : حرف يختصّ بالفعل، والنّحويّون يقولون : هو للتّوقّع . وحقیقته أنه إذا دخل علی فعل ماض فإنما يدخل علی كلّ فعل متجدّد، نحو قوله : قَدْ مَنَّ اللَّهُ عَلَيْنا [يوسف/ 90] ، قَدْ كانَ لَكُمْ آيَةٌ فِي فِئَتَيْنِ [ آل عمران/ 13] ، قَدْ سَمِعَ اللَّهُ [ المجادلة/ 1] ، لَقَدْ رَضِيَ اللَّهُ عَنِ الْمُؤْمِنِينَ [ الفتح/ 18] ، لَقَدْ تابَ اللَّهُ عَلَى النَّبِيِّ [ التوبة/ 117] ، وغیر ذلك، ولما قلت لا يصحّ أن يستعمل في أوصاف اللہ تعالیٰ الذّاتيّة، فيقال : قد کان اللہ علیما حكيما، وأما قوله : عَلِمَ أَنْ سَيَكُونُ مِنْكُمْ مَرْضى [ المزمل/ 20] ، فإنّ ذلک متناول للمرض في المعنی، كما أنّ النّفي في قولک : ما علم اللہ زيدا يخرج، هو للخروج، وتقدیر ذلک : قد يمرضون فيما علم الله، وما يخرج زيد فيما علم الله، وإذا دخل ( قَدْ ) علی المستقبَل من الفعل فذلک الفعل يكون في حالة دون حالة . نحو : قَدْ يَعْلَمُ اللَّهُ الَّذِينَ يَتَسَلَّلُونَ مِنْكُمْ لِواذاً [ النور/ 63] ، أي : قد يتسلّلون أحيانا فيما علم اللہ . و ( قَدْ ) و ( قط) «2» يکونان اسما للفعل بمعنی حسب، يقال : قَدْنِي كذا، وقطني كذا، وحكي : قَدِي . وحكى الفرّاء : قَدْ زيدا، وجعل ذلک مقیسا علی ما سمع من قولهم : قدني وقدک، والصحیح أنّ ذلک لا يستعمل مع الظاهر، وإنما جاء عنهم في المضمر . ( قد ) یہ حرف تحقیق ہے اور فعل کے ساتھ مخصوص ہے علماء نحو کے نزدیک یہ حرف توقع ہے اور اصل میں جب یہ فعل ماضی پر آئے تو تجدد اور حدوث کے معنی دیتا ہے جیسے فرمایا : قَدْ مَنَّ اللَّهُ عَلَيْنا [يوسف/ 90] خدا نے ہم پر بڑا احسان کیا ہے ۔ قَدْ كانَ لَكُمْ آيَةٌ فِي فِئَتَيْنِ [ آل عمران/ 13] تمہارے لئے دوگرہوں میں ۔۔۔۔ ( قدرت خدا کی عظیم الشان ) نشانی تھی ۔ قَدْ سَمِعَ اللَّهُ [ المجادلة/ 1] خدا نے ۔۔ سن لی ۔ لَقَدْ رَضِيَ اللَّهُ عَنِ الْمُؤْمِنِينَ [ الفتح/ 18] ( اے پیغمبر ) ۔۔۔۔۔ تو خدا ان سے خوش ہوا ۔ لَقَدْ تابَ اللَّهُ عَلَى النَّبِيِّ [ التوبة/ 117] بیشک خدا نے پیغمبر پر مہربانی کی ۔ اور چونکہ یہ فعل ماضی پر تجدد کے لئے آتا ہے اس لئے اللہ تعالیٰ کے اوصاف ذاتیہ کے ساتھ استعمال نہیں ہوتا ۔ لہذا عَلِمَ أَنْ سَيَكُونُ مِنْكُمْ مَرْضى [ المزمل/ 20] کہنا صحیح نہیں ہے اور آیت : اس نے جانا کہ تم میں بعض بیمار بھی ہوتے ہیں ۔ میں قد لفظا اگر چہ علم پر داخل ہوا ہے لیکن معنوی طور پر اس کا تعلق مرض کے ساتھ ہے جیسا کہ ، ، میں نفی کا تعلق خروج کے ساتھ ہے ۔ اور اس کی تقدریروں ہے اگر ، ، قد فعل مستقل پر داخل ہو تو تقلیل کا فائدہ دیتا ہے یعنی کبھی وہ فعل واقع ہوتا ہے اور کبھی واقع نہیں ہوتا اور آیت کریمہ : قَدْ يَعْلَمُ اللَّهُ الَّذِينَ يَتَسَلَّلُونَ مِنْكُمْ لِواذاً [ النور/ 63] خدا کو یہ لوگ معلوم ہیں جو تم میں سے آنکھ بچا کر چل دیتے ہیں ۔ کی تقدیریوں ہے قد یتسللون احیانا فیما علم اللہ ( تو یہ بہت آیت بھی ماسبق کی طرح موؤل ہوگی اور قد کا تعلق تسلل کے ساتھ ہوگا ۔ قدوقط یہ دونوں اسم فعل بمعنی حسب کے آتے ہیں جیسے محاورہ ہے قد فی کذا اوقطنی کذا اور قدی ( بدون نون وقایہ ا کا محاورہ بھی حکایت کیا گیا ہے فراء نے قدنی اور قدک پر قیاس کرکے قدر زید ا بھی حکایت کیا ہے لیکن صحیح یہ ہے کہ قد ( قسم فعل اسم ظاہر کے ساتھ استعمال نہیں ہوتا بلکہ صرف اسم مضمر کے ساتھ آتا ہے ۔ سجد السُّجُودُ أصله : التّطامن «3» والتّذلّل، وجعل ذلک عبارة عن التّذلّل لله وعبادته، وهو عامّ في الإنسان، والحیوانات، والجمادات، وذلک ضربان : سجود باختیار، ولیس ذلک إلا للإنسان، وبه يستحقّ الثواب، نحو قوله : فَاسْجُدُوا لِلَّهِ وَاعْبُدُوا[ النجم/ 62] ، أي : تذللوا له، وسجود تسخیر، وهو للإنسان، والحیوانات، والنّبات، وعلی ذلک قوله : وَلِلَّهِ يَسْجُدُ مَنْ فِي السَّماواتِ وَالْأَرْضِ طَوْعاً وَكَرْهاً وَظِلالُهُمْ بِالْغُدُوِّ وَالْآصالِ [ الرعد/ 15] ( س ج د ) السجود ( ن ) اسکے اصل معنی فرو تنی اور عاجزی کرنے کے ہیں اور اللہ کے سامنے عاجزی اور اس کی عبادت کرنے کو سجود کہا جاتا ہے اور یہ انسان حیوانات اور جمادات سب کے حق میں عام ہے ( کیونکہ ) سجود کی دو قسمیں ہیں ۔ سجود اختیاری جو انسان کے ساتھ خاص ہے اور اسی سے وہ ثواب الہی کا مستحق ہوتا ہے جیسے فرمایا : ۔ فَاسْجُدُوا لِلَّهِ وَاعْبُدُوا[ النجم/ 62] سو اللہ کے لئے سجدہ کرو اور اسی کی ) عبادت کرو ۔ سجود تسخیر ی جو انسان حیوانات اور جمادات سب کے حق میں عام ہے ۔ چناچہ فرمایا : ۔ : وَلِلَّهِ يَسْجُدُ مَنْ فِي السَّماواتِ وَالْأَرْضِ طَوْعاً وَكَرْهاً وَظِلالُهُمْ بِالْغُدُوِّ وَالْآصالِ [ الرعد/ 15] اور فرشتے ) جو آسمانوں میں ہیں اور جو ( انسان ) زمین میں ہیں ۔ چار ونا چار اللہ ہی کو سجدہ کرتے ہیں اور صبح وشام ان کے سایے ( بھی اسی کو سجدہ کرتے ہیں اور صبح وشام ان کے سایے ( بھی اسی کو سجدہ کرتے ہیں )

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

اور ان کی آنکھیں جھکی ہوں گی بھلائی کو نہیں دیکھ سکیں گے اور ان پر ذلت اور پسماندگی چھائی ہوگی یعنی ان کی صورتیں سیاہ ہوں گی۔ اور وجہ اس کی یہ ہے کہ ان لوگوں کو دنیا میں توحید خداوندی کے سامنے جھکنے کے لیے بلایا جایا کرتا تھا مگر ان لوگوں نے توحید خدا ودی کو اختیار نہیں کیا حالانکہ یہ صحیح وسالم تھے۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٤٣{ خَاشِعَۃً اَبْصَارُہُمْ } ” ان کی نگاہیں زمین پر گڑی رہ جائیں گی “ { تَرْہَقُہُمْ ذِلَّـــۃٌط } ” ان (کے چہروں) پر ذلت چھا رہی ہوگی۔ “ { وَقَدْ کَانُوْا یُدْعَوْنَ اِلَی السُّجُوْدِ وَہُمْ سٰلِمُوْنَ ۔ } ” اور ان کو (دنیا میں) پکارا جاتا تھا سجدے کے لیے جبکہ یہ صحیح سالم تھے۔ “ دنیا میں وہ لوگ اذان کی آواز پر کبھی توجہ ہی نہیں کرتے تھے اور کوئی مجبوری و معذوری نہ ہونے کے باوجود بھی اللہ تعالیٰ کے حضور سجدہ ریز نہیں ہوتے تھے۔ قیامت کے دن میدانِ حشر میں وہ سجدہ کرنا چاہیں گے لیکن نہیں کرسکیں گے۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

25 It means: On the Resurrection Day it will be openly and publicly demonstrated as to who in the world had actually worshipped Allah and who was disinclined to do so. For this purpose the people will be called upon to prostrate themselves before Allah. Then, those who had been sincerely worshipping Allah in the world, would prostrate themselves, and those who had declined to bow before Him in the world, would be unable to do so. It will become impossible for them to put up a false show of being worshippers. Therefore, they will remain standing, degraded and downcast with shame.

سورة الْقَلَم حاشیہ نمبر :25 اس کے معنی یہ ہیں کہ قیامت کے روز علی الاعلان اس بات کا مظاہرہ کرایا جائے گا کہ دنیا میں کون اللہ تعالی کی عبادت کرنے والا تھا اور کون اس سے منحرف تھا ۔ اس غرض کے لیے لوگوں کو بلایا جائے گا کہ وہ اللہ تعالی کے حضور سجدہ بجا لائیں ۔ جو لوگ دنیا میں عبادت گزار تھے وہ سجدہ ریز ہو جائیں گے ۔ اور جن لوگوں نے دنیا میں اللہ کے آگے سر نیاز جھکانے سے انکار کر دیا تھا ان کی کمر تختہ ہو جائے گی ۔ ان کے لیے یہ ممکن نہ ہو گا کہ وہاں عبادت گزار ہونے کا جھوٹا مظاہرہ کرسکیں ۔ اس لیے وہ ذلت اور پیشمانی کے ساتھ کھڑے کے کھڑے رہ جائیں گے ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(68:43) خاشعۃ ابسارھم : جملہ ضمیر یدعون سے حال ہے۔ خاشعۃ ذلیل ہونے والی خوار۔ دبی جانے والی۔ خشوع (باب سمع) مصدر سے اسم فاعل کا صیغہ واحد مؤنث۔ ابصارھم۔ مضاف مضاف الیہ۔ اب کی آنکھیں۔ یعنی شرم و ذلت کی وجہ سے ان کی آنکھیں جھکی جا رہی ہوں گی۔ ترھقھم ذلۃ : ترھق مضارع کا صیغہ واحد مؤنث غائب : رھق (باب سمع) مصدر۔ بمعنی کسی چیز کا کسی چیز پر زبردستی چھا جانا اور اس کو پالینا۔ ہم ضمیر مفعول جمع مذکر غائب۔ ان پر ذلت چھا رہی ہوگی۔ جملہ ما سبق کی طرح یہ جملہ بھی حالیہ ہے۔ وقد کانوا یدعون الی السجود وہم سالمون : کافروں اور منافقوں کے متعلق ذکر چلا آرہا ہے۔ قیامت کے روز جب شدت کرب کے ماحول میں سب کو سجدہ کیلئے کہا جائے گا تو جو لوگ خلوص دل سے اللہ کے حضور دنیا میں سجدہ ریزی کرتے رہے تھے ۔ وہ فورا سجدہ میں چلے جائیں گے۔ لیکن کفار اور منافقین کی کمریں تختہ بن جائیں گی اور وہ سجدہ تمہیں کرسکیں گے۔ یہاں (وقد کانوا یدعون ۔۔ الخ میں) یہ بتایا گیا ہے کہ یہ لوگ دنیا میں بحالت خیر و عافیت جب بھی سجدہ کے لئے بلائے جاتے تھے (یہ انکار کردیتے تھے یا اگر سجدہ کرتے تھے تو دکھاوے کی خاطر یا طوعا و کرہا) ۔ وقد کانوا یدعون الی السجود ای فی الدنیا وھم سالمون معافون فی ابدانھم ولا یسجدون تکبیرا وکفرا باللہ ربھم وبشرعہ (السیر التفاسیر) یعنی دنیا میں جب کہ وہ جسمانی طور پر بخیر و عافیر تھے سجدوں کے لئے بلائے جاتے تھے تو تکبر کی بنا پر یا اپنے پروردگار سے تکفیر کی بنا پر انکار کردیتے تھے۔ السجود بمعنی نماز بھی ہوسکتا ہے۔ جیسا کہ ابھی اوپر گزرا۔ کانوا یدعون ماضی استمراری مجہول جمع مذکر غائب کا صیغہ دعوۃ (باب نصر) مصدر سے بلائے جایا کرتے تھے۔ بلائے جاتے تھے ۔ وھم سالمون : جملہ حال ہے کانوا یدعون کی ضمیر سے۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 10 گویا آخرت میں انہیں یہ سزا جائے گی کہ انہیں سجدہ کرنے کے ناقابل بنادیا جائے گا۔ کعب الاحبار کہتے ہیں کہ یہ آیت ان لوگوں کے بارے میں نازل ہوئی ہے جو نماز با جماعت میں شریک نہیں ہوتے۔ (شوکانی)

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

4۔ دنیا میں امتثال امر نہ کرنے سے آج ان کو یہ رسوائی و ذلت ہوئی۔

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

خاشعة ............ ذلة (٨٦ : ٣٤) ” ان کی نگاہیں نیچی ہوں گی ، رات ان پر چھائی ہوئی ہوگی “۔ یہ متکبر اور اپنے آپ کو بہت بڑی چیز سمجھنے والے اس دن یوں ہوں گے۔ نیچی نظر اور ذلیل حالت یہ دو حالتیں ان کی بداعمالیوں کا بدلہ ہیں۔ سورت کے آغاز میں جو ڈراوا آیا تھا کہ اس کی سونڈ پر ہم داغ لگائیں گے یہاں اس کی طرف اشارہ ہے کہ یہ گہری ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوں گے اور ذلیل و خوار ہوں گے۔ یہ ایسے حالات میں ہیں شکستہ دریختہ کہ ان کو ڈرایا دلایا جاتا ہے کہ اس حالت تک وہ کس وجہ سے پہنچے ، کیونکہ یہ لوگ حق سے منہ موڑتے تھے اور تکبر کرتے تھے۔ اور جب صحیح سالم تھے اور ان کو سجدوں کے لئے بلایا جاتا تھا ، تو یہ تکبر کرتے تھے۔ اب اس وجہ سے یہ لوگ اس ذلیل موقف میں ہیں اور اس مختصر دنیا کہ تو یہ پیچھے چھوڑ آئے ہیں۔ آج انہیں بلایا جاتا ہے مگر ان کے اندر سکت ہی نہیں ہے۔ وقد .................... سلمون (٨٦ : ٣٤) ” جب صحیح وسالم تھے اس وقت انہیں جسدے کے لئے بلایا جاتا تھا “ مگر یہ انکار کرتے تھے۔ اور آج بلایا جاتا ہے ، کرنا چاہتے ہیں ، مگر طاقت نہیں ہے یا موقعہ نہیں۔ ایسی ہی حالت میں ایک دوسری تہدید دلوں کو ہلا مارنے والی جبکہ وہ پہلے سے کرب اور بےچینی میں ہیں اور حواس باختہ ہیں۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(43) ان کی آنکھیں نیچی ہورہی ہوں گی اور ان پر ذلت چھارہی ہوگی اس رسوائی کی وجہ یہ ہے کہ ان کو دنیا میں سجے کے لئے بلایا جاتا تھا حالانکہ اس وقت یہ توانا اور تندرست تھے۔ ساق پنڈلی کو کہتے ہیں ، حدیث میں آتا ہے۔ یکشف ربنا من ساقہ فیسجد کل مومن ومومنۃ ویبقی من کا یسجد فی الدنیا ریاء وسمعۃ، یعنی ہمارا پروردگار اپنی پنڈلی کو نمایاں کرے گا پھر ہر مومن مرد اور مومن عورت سجدہ میں گرپڑیں گے اور جو شخص دنیا میں ریاکاری اور دکھاوا کا سجدہ کیا کرتا تھا وہ باقی رہ جائے گا۔ مطلب یہ ہے کہ جب منافق اور ریاکار سجدہ نہ کرسکیں گے تو کافر کس طرح کرسکیں گے ان کی کمر کی ہڈی سیدھی کردی جائے گی اور یہ جھک نہ سکیں گے کشف ساق کے وقت سجدے کی دعوت تکلیف یا عبادت کے لئے نہ ہ وگی کیونکہ وہ عالم دارلتکلیف نہیں ہے بلکہ جن کے سجدے نامقبول ہیں ان کا امتیاز مقصود ہوگا تاکہ عبادت مقبولہ اور غیر مقبولہ کا امتیاز ہوجائے جن کی عبادت خلوص کے ساتھ دنیا میں ادا ہوتی تھی وہ سجدہ کریں گے اور جو مخلصانہ عبادت نہ کرتے تھے یا بالکل عبادت کے خوگر نہ تھے وہ قادر نہ ہوسکیں گے۔ اسی کو فرمایا کہ دنیا میں ان کو نماز کی دعوت دی جاتی تھی یا اس دین کی طرف دعوت دی جاتی تھی س میں اہم العبادات نماز اور سجدہ تھا حالانکہ یہ اس وقت صحیح سالم تھے تو یہ اس طرف نہ آتے تھے اور چونکہ سجدہ پر قدرت نہ ہوگی نفاق اور کفر ظاہر ہوجائے گا اس لئے حرماں نصیبی کے آثار چہرے پر نمایاں ہوجائیں گے آنکھیں شرمندگی سے نوی اور جھکی ہوئی ہوں گی اور ان پر ذلت و پھٹکار چھارہی ہوگی یہ کشف ساق بھی مثل ید اور وجہ کے متشابہات سے ہے۔ اس لئے مفسرین نے بہت سی تفسیریں کی ہیں لیکن ہم ن ترجمے میں ایک خاص قسم کی تجلی کردی ہے اس موقعہ پر عرب کی بہت سی مثالیں اور محاورے بیان کرنا اور اسکے معنی شدت اور سختی کرنا اگرچہ اہل عرب عام استعمال کشف ساق کا ایسے ہی موقعہ پر کیا کرتے ہیں کیونکہ پریشانی اور سختی کی موقعہ پر جو جدوجہد کی جاتی ہے اس وقت مستعدی اور تیاری کے لئے آدمی اپنادامن اٹھالیتا ہے بلکہ عرب میں کیا ہندوستان میں بھی لوگ بھاگتے اور دوڑتے وقت پائجامے کے پائنچے چڑھا لیتے ہیں غرض اسی قسم کی پریشانی اور جدوجہد کے موقعہ پر یہ کشف ساق کا لفظ استعمال ہوتا ہے۔ اس لئے بہت سے مفسرین اس کی توجیہہ کرتے وقت یہ محاورے نقل کئے ہیں مگر ہم سمجھتے ہیں کہ یہ توجہیات اپنی جگہ سب صحیح ہیں لیکن اس آیت کی تفسیر چونکہ احادیث میں آچکی ہے اس لئے ایک سیدھی سادھی بات کو اس قدر الجھانے کی ضرورت نہیں بلکہ سیدھی اور صاف بات یہ ہے کہ ساق حقیقت الٰہیہ میں سے ایک حقیقت کا نام ہے جس کو عام حقائق الٰہیہ سے وہ نسبت ہے جیسی نسبت پنڈلی کو تماماعضائے انسانیہ کے ساتھ ہے اس لئے تشبیہہ اور استعارے کے طور پر اس حقیقت کا نام ساق رکھا گیا ہے اس حقیقت کے انکشاف کو فرمایا ہے۔ یوم یکشف عن ساق۔ زیادہ تفصیل دیکھنی ہو تو تفسیر عزیزی کو ملاحظہ کیا جائے اہل موقوف کے لئے ساق اور اہل جہنم کے لئے قدم ان دو حقیقتوں کا اظہار ہوگا۔ واللہ اعلم بہرحال خلاصہ آیت کا یہ ہے کہ اس دن حقیقت ساق کا انکشاف ہوگا اور امتحان کے لئے سجدے کی دعوت دی جائے گی نہ عبادت وثواب کے لئے اس امتحان میں کافر اور منافق فیل اور ناکام ہوجائیں گے ان کی آنکھیں شرمندگی سے نیچی اور ان پر ذلت و رسوائی چھائی ہوئی ہوگی۔ اس کا سبب یہ ہے کہ ان کو سجدوں کی یا نماز کی دنیا میں دعوت دی جاتی تھی یا اسلام کی طرف بلایا جاتا تھا حالانکہ یہ صحیح سالم اور تندرست و توانا تھے قدرت علی الاسلام اور علی الصلوٰۃ رکھتے تھے لیکن اس کیا وجود نہیں آتے تھے۔ اس لئے آج انکشاف حقیقت کے وقت قدرت علی السجود ان سے سلب کرلی گئی۔ (العیاذ باللہ) حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں حشر کے دن ہر امت جس کو پوجتی تھی اس کے ساتھ جاویگی مسلمان کھڑے رہ جاویں گے پروردگار آوے گا جس صورت میں نہ پہچانیں گے فرمائے گا میں تمہارا رب ہوں میرے ساتھ آئو، کہیں گے نعوذ باللہ ہمارا رب آوے گا تو ہم پہچان لیں گے فرمائیگا کچھ اس کا نشان جانتے ہو کہیں گے جانتے ہیں پھر ظاہر ہوگا ان کی پہچان کے موافق اور پنڈلی کھولے گا تو سجدے میں گریں گے جو سچی بات سے سجدہ نہ کرتا تھا اس کی پیٹھ نہ مڑے گی الٹا کرے گا یہ ان کا اعتقاد و توحید آزمانے کو کہ صورت پوجنے سے ایسے بیزار ہیں۔ یہ ایک مشہور حدیث ہے جس کا ترجمہ شاہ صاحب نے کیا ہے۔ شارحین حدیث فرماتے ہیں کہ پہلے کوئی فرشتہ کسی صورت میں ظاہر ہوکر کہے گا میں تمہارا رب ہوں یہ پناہ مانگیں گے اس سے خدا کی تب کشف ساق یعنی ساق کی حقیقت کا انکشاف ہوگا تب سب سجدے میں گرپڑیں گے آگے مکذبین کے بارے میں پیغمبر (علیہ السلام) کو خطاب ہے۔