Surat ul Qalam

Surah: 68

Verse: 44

سورة القلم

فَذَرۡنِیۡ وَ مَنۡ یُّکَذِّبُ بِہٰذَا الۡحَدِیۡثِ ؕ سَنَسۡتَدۡرِجُہُمۡ مِّنۡ حَیۡثُ لَا یَعۡلَمُوۡنَ ﴿ۙ۴۴﴾

So leave Me, [O Muhammad], with [the matter of] whoever denies the Qur'an. We will progressively lead them [to punishment] from where they do not know.

پس مجھے اور اس کلام کو جھٹلانے والے کو چھوڑ دے ہم انہیں اس طرح آہستہ آہستہ کھینچیں گے کہ انہیں معلوم بھی نہ ہوگا ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

فَذَرْنِي وَمَن يُكَذِّبُ بِهَذَا الْحَدِيثِ ... Then leave Me alone with such as belie this narration. meaning, the Qur'an. This is a sever threat which means, `leave Me alone with this person; I know about him and how I will gradually punish him and increase him in his falsehood. I am giving him respite for a while, then I will seize him with a mighty and powerful punishment.' Thus, Allah says, ... سَنَسْتَدْرِجُهُم مِّنْ حَيْثُ لاَ يَعْلَمُونَ We shall punish them gradually from directions they perceive not. meaning, and they will not even be aware of it. Rather, they will believe that it is a noble blessing from Allah, but really the same matter is actually a form of humiliation (for them). This is similar to Allah's statement, أَيَحْسَبُونَ أَنَّمَا نُمِدُّهُمْ بِهِ مِن مَّالٍ وَبَنِينَ نُسَارِعُ لَهُمْ فِى الْخَيْرَتِ بَل لاَّ يَشْعُرُونَ Do they think that in wealth and children with which We expand them, We hasten unto them with good things. Nay, but they perceive not. (23:55,56) Allah also said, فَلَمَّا نَسُواْ مَا ذُكِّرُواْ بِهِ فَتَحْنَا عَلَيْهِمْ أَبْوَابَ كُلِّ شَىْءٍ حَتَّى إِذَا فَرِحُواْ بِمَأ أُوتُواْ أَخَذْنَـهُمْ بَغْتَةً فَإِذَا هُمْ مُّبْلِسُونَ So, when they forgot that which they had been reminded, We opened for them the gates of everything, until in the midst of their enjoyment in that which they were given, all of a sudden, We punished them, and lo! They were plunged into destruction with deep regrets and sorrows. (6:44) Therefore, Allah says here, وَأُمْلِي لَهُمْ إِنَّ كَيْدِي مَتِينٌ

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

44۔ 1 یعنی میں ہی ان سے نمٹ لوں گا تو ان کی فکر نہ کر یہ ڈھیل دینے کا ذکر ہے۔ قرآن میں کئی جگہ بیان کیا گیا ہے اور حدیث میں بھی وضاحت کی گئی ہے کہ نافرمانی کے باوجود دنیاوی مال و اسباب کی فراوانی، اللہ کا فضل نہیں ہے، اللہ کے قانون پھر جب وہ گرفت کرنے پر آتا ہے تو کوئی بچانے والا نہیں ہوتا۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٢٠] (سَنَسْـتَدْرِجُهُمْ ١٨٢؀ښ) 7 ۔ الاعراف :182) استدراج کے لغوی معنی میں دو باتیں بنیادی طور پر پائی جاتی ہیں۔ ایک تدریج، دوسرے آہستگی، یعنی یہ قریشی سردار جو اللہ کی آیات کو جھٹلاتے ہیں۔ پھر وہ یہ بھی سمجھے بیٹھے ہیں کہ چونکہ وہ خوشحال اور آسودہ ہیں۔ لہذا ان کا پروردگار ان پر مہربان ہے۔ حالانکہ اللہ انہیں آہستہ آہستہ ہلاکت اور تباہی کی طرف لیے جارہا ہے۔ اور جن چیزوں کو وہ اللہ کے انعامات سمجھ رہے ہیں وہ دراصل ان کی ہلاکت کا سامان ہے۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

فذرنی ومن یکذب بھذا الحدیث…: یعنی جھٹلانے والوں کو سزا دینے میں اگر تاخیر ہو رہی ہے تو آپ فکر مت کریں، انہیں ہمارے سپرد کردیں، پھر ہم جانیں اور وہ ” سنستدرجھم “ ہم انہیں درجہ بدرجہ ہلاکت کی طرف لے جائیں گے، یعنی ہم انہیں عمر، صحت اور دوسری نعمتیں مسلسل دیتے جائیں گے، وہ شکر کے بجائے کفر میں بڑھتے جائیں گے اور انجام کار جہنم میں پہنچ جائیں گے۔ کفر و فسق کے باوجود نعمتیں بڑھتی جائیں تو یہ اللہ کی طرف سے استدراج اور اس کی خفیہ تدبیر ہے۔ دیکھیے سورة مومنون (٥٦) ، انعام (٤٤) اور سورة اعراف (١٨٣) ۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

فَذَرْ‌نِي وَمَن يُكَذِّبُ بِهَـٰذَا الْحَدِيثِ (So, leave Me alone with those who reject this discourse. We will draw them on little by little (towards Hell) from a way they do not know.... 68:44). Here the phrase &So, leave me alone& in the original Arabic is an idiomatic expression which signifies &Rely on Allah&. The disbelievers often demanded Divine punishment arguing that if they are really guilty in the sight of Allah, and if He has the power to punish, then why the punishment does not befall them forthwith. These were heart-rending demands on account of which the thought probably must have crossed the mind of the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) and he might have prayed to Allah to punish them sometime, in the hope that the rest of the people might draw lessons and amend their conduct. On that occasion, Allah revealed [ in verse, 45] that He is the best aware of the wisdom behind His decisions. He does not punish them immediately, but He gives them respite to test them and to give them an opportunity to believe. Towards the end, the story of Sayyidna Yunus (علیہ السلام) is concisely told that when his people constantly demanded punishment, he became indignant and prayed for the punishment to be sent down. The signs of the punishment started appearing. Sayyidna Yunus (علیہ السلام) left the place and transferred himself elsewhere. In the meantime the entire nation wept, wailed, sincerely repented and begged refuge from the Divine punishment. Allah pardoned them and took away the punishment. Sayyidna Yunus (علیہ السلام) felt embarrassed and thought that if he goes back to his people, they might think he was a liar. As a result, without the clear permission of Allah, he acted purely on his ijtihad [ independent judgment ] that he would not go back to his people. At this, Allah, in order to caution him, created a situation where he had to undertake sea voyage, and then was lowered into the sea where he was swallowed up by a fish. Being thus cautioned, Sayyidna Yunus (علیہ السلام) sought the Divine pardon. Consequently, Allah once again opened the doors of the former blessings to be restored to him. Full description of the event has been given in Surah Yunus (Verse 10:98) and other Surahs. The Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) is comforted by this story not to be impressed by people&s demands nor to be anxious to get them punished hastily. Allah&s wisdom is profound and unfathomable. Allah alone knows what is in the best interests of the world. Allah should be trusted and relied on.

(آیت) فَذَرْنِيْ وَمَنْ يُّكَذِّبُ بِهٰذَا الْحَدِيْثِ :۔ یعنی آپ اس قیامت کی بات جھٹلانے والوں کو اور مجھے چھوڑ دیں پھر دیکھیں کہ ہم کیا کرتے ہیں۔ یہاں چھوڑ دینا ایک محاورہ کے طور پر فرمایا گیا ہے مراد اس سے اللہ پر بھروسہ اور توکل کرنا ہے اور حاصل اس کلام کا یہ ہے کہ کفار کی طرف سے یہ مطالبہ بھی بار بار پیش ہوا کرتا تھا کہ اگر ہم واقعی اللہ کے نزدیک مجرم ہیں اور اللہ تعالیٰ ہمیں عذاب دینے پر قادر ہے تو پھر ہمیں عذاب ابھی کیوں نہیں دے ڈالتا ان کے ایسے دل آزار مطالبوں کی وجہ سے کبھی کبھی خود رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے قلب مبارک میں بھی یہ خیال پیدا ہوتا ہوگا اور ممکن ہے کسی وقت دعا بھی کی ہو کہ ان لوگوں پر اسی وقت عذاب آجائے تو باقیماندہ لوگوں کی اصلاح کی توقع ہے اس پر یہ فرمایا گیا کہا پنی حکمت کو ہم ہی خوب جانتے ہیں ایک حد تک ان کو مہلت دیے ت ہیں فوراً عذاب نہیں بھیج دیتے اس میں ان کی آزمائش بھی ہوتی ہے اور ایمان لانے کی مہلت بھی آخر میں حضرت یونین (علیہ السلام) کے واقعہ کا ذکر فرما کر آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ نصیحت فرمائی گئی کہ جس طرح یونس (علیہ السلام) نے لوگوں کے مطالبے سے تنگ آ کر عذاب کی دعا کردی اور عذاب کے آثار سامنے بھی آگئے اور یونس (علیہ السلام) اس جائے عذاب سے دوسری جگہ منتقل بھی ہوگئے مگر پھر پوری قوم نے الحاج وزاری اور اخلاص کیساتھ توبہ کرلی اللہ تعالیٰ نے ان کو معافی دے دی اور عذاب ہٹا لیا تو اب یونس (علیہ السلام) نے یہ شرمندگئی محسوس کی کہ میں ان لوگوں میں جھوٹا قرار پاؤں گا اس بدنامی کے خوف سے اللہ تعالیٰ کے اذن صریح کے بغیر اپنے اجتہاد سے یہ راہ اختیار کرلی کہ اب ان لوگوں میں واپس نہ جائیں، اس پر حق تعالیٰ نے ان کی تنبیہ کے لئے دریا کے سفر پھر مچھلی کے نگل جانے کا معاملہ فرمایا اور پھر یونس (علیہ السلام) کے متنبہ ہو کر استغفار و معافی کی طرف متوجہ ہونے پر دوبارہ ان پر اپنے سابقہ انعامات کے دروازے کھول دیئے۔ یہ واقع ہ سورة یونس اور دوسری سورتوں میں گزر چکا ہے۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ واقعہ یاد دلا کر اس کی نصیحت فرمائی کہ آپ ان لوگوں کے ایسے مطالبہ سے مغلوب نہ ہوں اور ان پر جلدی عذاب نازل کرنے کے خواہشمند نہ ہوں اپنی حکمتوں اور عالم کی مصلحتوں کو ہم ہی جانتے ہیں ہم پر توکل کریں۔

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

فَذَرْنِيْ وَمَنْ يُّكَذِّبُ بِہٰذَا الْحَدِيْثِ۝ ٠ ۭ سَنَسْتَدْرِجُہُمْ مِّنْ حَيْثُ لَا يَعْلَمُوْنَ۝ ٤٤ ۙ وذر [يقال : فلان يَذَرُ الشیءَ. أي : يقذفه لقلّة اعتداده به ] ، ولم يستعمل ماضيه . قال تعالی: قالُوا أَجِئْتَنا لِنَعْبُدَ اللَّهَ وَحْدَهُ وَنَذَرَ ما کانَ يَعْبُدُ آباؤُنا[ الأعراف/ 70] ، وَيَذَرَكَ وَآلِهَتَكَ [ الأعراف/ 127] ، فَذَرْهُمْ وَما يَفْتَرُونَ [ الأنعام/ 112] ، وَذَرُوا ما بَقِيَ مِنَ الرِّبا[ البقرة/ 278] إلى أمثاله وتخصیصه في قوله : وَيَذَرُونَ أَزْواجاً [ البقرة/ 234] ، ولم يقل : يترکون ويخلّفون، فإنه يذكر فيما بعد هذا الکتاب إن شاء اللہ . [ والوَذَرَةُ : قطعة من اللّحم، وتسمیتها بذلک لقلة الاعتداد بها نحو قولهم فيما لا يعتدّ به : هو لحم علی وضم ] «1» . ( و ذ ر ) یذر الشئی کے معنی کسی چیز کو قلت اعتداد کی وجہ سے پھینک دینے کے ہیں ( پھر صرف چھوڑ دینا کے معنی میں استعمال ہونے لگا ہے ۔ اس کا فعل ماضی استعمال نہیں ہوتا چناچہ فرمایا : ۔ قالُوا أَجِئْتَنا لِنَعْبُدَ اللَّهَ وَحْدَهُ وَنَذَرَ ما کانَ يَعْبُدُ آباؤُنا[ الأعراف/ 70] وہ کہنے لگے کیا تم ہمارے پاس اس لئے آئے ہو کہ ہم اکیلے خدا ہی کی عبادت کریں اور جن اور جن کو ہمارے باپ دادا پوجتے چلے آئے ہیں ان کو چھوڑ دیں ۔ ؟ ، وَيَذَرَكَ وَآلِهَتَكَ [ الأعراف/ 127] اور آپ سے اور آپ کے معبودوں سے دست کش ہوجائیں ۔ فَذَرْهُمْ وَما يَفْتَرُونَ [ الأنعام/ 112] تو ان کو چھوڑ دو کہ وہ جانیں اور انکا جھوٹ ۔ وَذَرُوا ما بَقِيَ مِنَ الرِّبا[ البقرة/ 278] تو جتنا سو د باقی رہ گیا ہے اس کو چھوڑ دو ۔ ان کے علاوہ اور بھی بہت سی آیات ہیں جن میں یہ لفظ استعمال ہوا ہے اور آیت : ۔ وَيَذَرُونَ أَزْواجاً [ البقرة/ 234] اور عورتیں چھوڑ جائیں ۔ میں یترکون یا یخلفون کی بجائے یذرون کا صیغہ اختیار میں جو خوبی ہے وہ اس کے بعد دوسری کتاب میں بیان کریں گے ۔ الو ذرۃ : گوشت کی چھوٹی سی بوٹی کو کہتے ہیں اور قلت اعتناء کے سبب اسے اس نام سے پکارتے ہیں جیسا کہ حقیر شخص کے متعلق ھو لحم علیٰ وضمی ( یعنی وہ ذلیل ہے ) کا محاورہ استعمال ہوتا ہے ۔ كذب وأنه يقال في المقال والفعال، قال تعالی: إِنَّما يَفْتَرِي الْكَذِبَ الَّذِينَ لا يُؤْمِنُونَ [ النحل/ 105] ، ( ک ذ ب ) الکذب قول اور فعل دونوں کے متعلق اس کا استعمال ہوتا ہے چناچہ قرآن میں ہے ۔ إِنَّما يَفْتَرِي الْكَذِبَ الَّذِينَ لا يُؤْمِنُونَ [ النحل/ 105] جھوٹ اور افتراء تو وہی لوگ کیا کرتے ہیں جو خدا کی آیتوں پر ایمان نہیں لاتے حدیث وكلّ کلام يبلغ الإنسان من جهة السمع أو الوحي في يقظته أو منامه يقال له : حدیث، قال عزّ وجلّ : وَإِذْ أَسَرَّ النَّبِيُّ إِلى بَعْضِ أَزْواجِهِ حَدِيثاً [ التحریم/ 3] ، وقال تعالی: هَلْ أَتاكَ حَدِيثُ الْغاشِيَةِ [ الغاشية/ 1] ، وقال عزّ وجلّ : وَعَلَّمْتَنِي مِنْ تَأْوِيلِ الْأَحادِيثِ [يوسف/ 101] ، أي : ما يحدّث به الإنسان في نومه، حدیث ہر وہ بات جو انسان تک سماع یا وحی کے ذریعہ پہنچے اسے حدیث کہا جاتا ہے عام اس سے کہ وہ وحی خواب میں ہو یا بحالت بیداری قرآن میں ہے ؛وَإِذْ أَسَرَّ النَّبِيُّ إِلى بَعْضِ أَزْواجِهِ حَدِيثاً [ التحریم/ 3] اور ( یاد کرو ) جب پیغمبر نے اپنی ایک بی بی سے ایک بھید کی بات کہی ۔ أَتاكَ حَدِيثُ الْغاشِيَةِ [ الغاشية/ 1] بھلا ترکو ڈھانپ لینے والی ( یعنی قیامت کا ) حال معلوم ہوا ہے ۔ اور آیت کریمہ :۔ وَعَلَّمْتَنِي مِنْ تَأْوِيلِ الْأَحادِيثِ [يوسف/ 101] اور خوابوں کی تعبیر کا علم بخشا۔ میں احادیث سے رویا مراد ہیں درج الدّرجة نحو المنزلة، لکن يقال للمنزلة : درجة إذا اعتبرت بالصّعود دون الامتداد علی البسیطة، کدرجة السّطح والسّلّم، ويعبّر بها عن المنزلة الرفیعة : قال تعالی: وَلِلرِّجالِ عَلَيْهِنَّ دَرَجَةٌ [ البقرة/ 228] ( د ر ج ) الدرجۃ : کا لفظ منزلہ ميں اترنے کی جگہ کو درجۃ اس وقت کہتے ہیں جب اس سے صعود یعنی اوپر چڑھتے کا اعتبار کیا جائے ورنہ بسیط جگہ پر امتداد کے اعتبار سے اسے درجۃ نہیں کہتے جیسا کہ چھت اور سیڑھی کے درجات ہوتے ہیں مگر کبھی اس کا اطلاق منزلہ رفیع یعنی بلند مرتبہ پر بھی ہوجاتا ہے ۔ چناچہ آیت کریمہ : ۔ وَلِلرِّجالِ عَلَيْهِنَّ دَرَجَةٌ [ البقرة/ 228] البتہ مردوں کو عورتوں پر فضیلت ہے ۔ حيث حيث عبارة عن مکان مبهم يشرح بالجملة التي بعده، نحو قوله تعالی: وَحَيْثُ ما كُنْتُمْ [ البقرة/ 144] ، وَمِنْ حَيْثُ خَرَجْتَ [ البقرة/ 149] . ( ح ی ث ) حیث ( یہ ظرف مکان مبنی برضم ہے ) اور ) مکان مبہم کے لئے آتا ہے جس کی مابعد کے جملہ سے تشریح ہوتی ہے ۔ چناچہ قرآن میں ہے : ۔ وَحَيْثُ ما كُنْتُمْ [ البقرة/ 144] اور تم جہاں ہوا کرو لا «لَا» يستعمل للعدم المحض . نحو : زيد لا عالم، وذلک يدلّ علی كونه جاهلا، وذلک يكون للنّفي، ويستعمل في الأزمنة الثّلاثة، ومع الاسم والفعل غير أنه إذا نفي به الماضي، فإمّا أن لا يؤتی بعده بالفعل، نحو أن يقال لك : هل خرجت ؟ فتقول : لَا، وتقدیره : لا خرجت . ويكون قلّما يذكر بعده الفعل الماضي إلا إذا فصل بينهما بشیء . نحو : لا رجلا ضربت ولا امرأة، أو يكون عطفا . نحو : لا خرجت ولَا رکبت، أو عند تكريره . نحو : فَلا صَدَّقَ وَلا صَلَّى [ القیامة/ 31] أو عند الدّعاء . نحو قولهم : لا کان، ولا أفلح، ونحو ذلك . فممّا نفي به المستقبل قوله : لا يَعْزُبُ عَنْهُ مِثْقالُ ذَرَّةٍ [ سبأ/ 3] وفي أخری: وَما يَعْزُبُ عَنْ رَبِّكَ مِنْ مِثْقالِ ذَرَّةٍ فِي الْأَرْضِ وَلا فِي السَّماءِ [يونس/ 61] وقد يجيء «لَا» داخلا علی کلام مثبت، ويكون هو نافیا لکلام محذوف وقد حمل علی ذلک قوله : لا أُقْسِمُ بِيَوْمِ الْقِيامَةِ [ القیامة/ 1] ، فَلا أُقْسِمُ بِرَبِّ الْمَشارِقِ [ المعارج/ 40] ، فَلا أُقْسِمُ بِمَواقِعِ النُّجُومِ [ الواقعة/ 75] ، فَلا وَرَبِّكَ لا يُؤْمِنُونَ [ النساء/ 65] لا وأبيك ابنة العامريّ «1» وقد حمل علی ذلک قول عمر رضي اللہ عنه۔ وقد أفطر يوما في رمضان فظنّ أنّ الشمس قد غربت ثم طلعت۔: لا، نقضيه ما تجانفنا لإثم فيه، وذلک أنّ قائلا قال له قد أثمنا فقال لا، نقضيه . فقوله : «لَا» ردّ لکلامه قد أثمنا، ثم استأنف فقال : نقضيه «2» . وقد يكون لَا للنّهي نحو : لا يَسْخَرْ قَوْمٌ مِنْ قَوْمٍ [ الحجرات/ 11] ، وَلا تَنابَزُوا بِالْأَلْقابِ [ الحجرات/ 11] ، وعلی هذا النّحو : يا بَنِي آدَمَ لا يَفْتِنَنَّكُمُ الشَّيْطانُ [ الأعراف/ 27] ، وعلی ذلك : لا يَحْطِمَنَّكُمْ سُلَيْمانُ وَجُنُودُهُ [ النمل/ 18] ، وقوله : وَإِذْ أَخَذْنا مِيثاقَ بَنِي إِسْرائِيلَ لا تَعْبُدُونَ إِلَّا اللَّهَ [ البقرة/ 83] فنفي قيل تقدیره : إنهم لا يعبدون، وعلی هذا : وَإِذْ أَخَذْنا مِيثاقَكُمْ لا تَسْفِكُونَ دِماءَكُمْ [ البقرة/ 84] وقوله : ما لَكُمْ لا تقاتلُونَ [ النساء/ 75] يصحّ أن يكون «لا تقاتلون» في موضع الحال «3» : ما لکم غير مقاتلین . ويجعل «لَا» مبنيّا مع النّكرة بعده فيقصد به النّفي . نحو : فَلا رَفَثَ وَلا فُسُوقَ [ البقرة/ 197] ، [ وقد يكرّر الکلام في المتضادّين ويراد إثبات الأمر فيهما جمیعا . نحو أن يقال : ليس زيد بمقیم ولا ظاعن . أي : يكون تارة كذا وتارة كذا، وقد يقال ذلک ويراد إثبات حالة بينهما . نحو أن يقال : ليس بأبيض ولا أسود ] «4» ، وإنما يراد إثبات حالة أخری له، وقوله : لا شَرْقِيَّةٍ وَلا غَرْبِيَّةٍ [ النور/ 35] . فقد قيل معناه : إنها شرقيّة وغربيّة «5» . وقیل معناه : مصونة عن الإفراط والتّفریط . وقد يذكر «لَا» ويراد به سلب المعنی دون إثبات شيء، ويقال له الاسم غير المحصّل . نحو : لا إنسان، إذا قصدت سلب الإنسانيّة، وعلی هذا قول العامّة : لا حدّ. أي : لا أحد . ( لا ) حرف ) لا ۔ یہ کبھی عدم محض کے لئے آتا ہے ۔ جیسے : زید عالم یعنی جاہل ہے اور کبھی نفی کے لئے ہوتا ہے ۔ اور اسم و فعل دونوں کے ساتھ ازمنہ ثلاثہ میں نفی کے معنی دیتا ہے لیکن جب زمانہ ماضی میں نفی کے لئے ہو تو یا تو اس کے بعد فعل کو ذکر ہی نہیں کیا جاتا مثلا اگر کوئی ھل خرجت کہے تو اس کے جواب میں صرف ، ، لا ، ، کہ دنیا کافی ہے یعنی لاخرجت اور اگر نفی فعل مذکور بھی ہوتا ہے تو شاذو نا در اور وہ بھی اس وقت (11) جب لا اور فعل کے درمیان کوئی فاعل آجائے ۔ جیسے لارجل ضربت ولا امرءۃ (2) جب اس پر دوسرے فعل کا عطف ہو جیسے ۔ لا خرجت ولاضربت اور یا (3) لا مکرر ہو جیسے ؛فَلا صَدَّقَ وَلا صَلَّى [ القیامة/ 31] اس ناعاقبت اندیش نے نہ تو کلام خدا کی نعمتوں کی تصدیق کی اور نہ نماز پڑھی ۔ اور یا (4) جملہ دعائیہ میں جیسے لا کان ( خدا کرے ایسا نہ ہو ) لا افلح ( وہ کامیاب نہ ہوا وغیرہ ۔ اور زمانہ مستقبل میں نفی کے متعلق فرمایا : لا يَعْزُبُ عَنْهُ مِثْقالُ ذَرَّةٍ [ سبأ/ 3] ذرہ پھر چیز بھی اس سے پوشیدہ نہیں ۔ اور کبھی ، ، لا ، ، کلام مثبت پر داخل ہوتا ہے اور کلام محذوف کی نفی کے لئے آتا ہے ۔ جسیے فرمایا : وَما يَعْزُبُ عَنْ رَبِّكَ مِنْ مِثْقالِ ذَرَّةٍ فِي الْأَرْضِ وَلا فِي السَّماءِ [يونس/ 61] اور تمہارے پروردگار سے ذرہ برابر بھی کوئی چیز پوشیدہ نہیں ہے نہ زمین میں اور نہ آسمان میں ۔۔۔ اور مندرجہ ذیل آیات میں بھی بعض نے لا کو اسی معنی پر حمل کیا ہے ۔ لا أُقْسِمُ بِيَوْمِ الْقِيامَةِ [ القیامة/ 1] ہم کو روز قیامت کی قسم ۔ فَلا أُقْسِمُ بِرَبِّ الْمَشارِقِ [ المعارج/ 40] میں مشرقوں اور مغربوں کے مالک کی قسم کھاتا ہوں ۔ فَلا وَرَبِّكَ لا يُؤْمِنُونَ [ النساء/ 65] تمہارے پروردگار کی قسم یہ مومن نہیں ہوں گے ۔ فَلا أُقْسِمُ بِمَواقِعِ النُّجُومِ [ الواقعة/ 75] ہمیں تاروں کی منزلوں کی قسم ۔ اور اسی معنی میں شاعر نے کہا ہے ( المتقارب ) (388) لاوابیک ابتہ العامری نہیں تیرے باپ کی قسم اسے عامری کی بیٹی ۔ اور مروی ہے (105) کہ ا یک مرتبہ حضرت عمر نے یہ سمجھ کر کہ سورج غروب ہوگیا ہے روزہ افطار کردیا اس کے بعد سورج نکل آیا تو آپ نے فرمایا : لانقضیہ ماتجالفنا الاثم فیہ اس میں بھی لا کلام محذوف کی نفی کے لئے ہے یعنی اس غلطی پر جب لوگوں نے کہا کہ آپ نے گناہ کا ارتکاب کیا تو اس کی نفی کے لئے انہوں نے لا فرمایا ۔ یعنی ہم گنہگار نہیں ہیں ۔ اس کے بعد تفضیہ سے از سر نو جملہ شروع کیا ہے ۔ اور کبھی یہ لا نہی کے لئے آتا ہے جیسے فرمایا : لا يَسْخَرْ قَوْمٌ مِنْ قَوْمٍ [ الحجرات/ 11] کوئی قوم کسی قوم سے تمسخرنہ کرے ولا تَنابَزُوا بِالْأَلْقابِ [ الحجرات/ 11] اور نہ ایک دوسرے کا برنام رکھو ۔ اور آیت ؛ يا بَنِي آدَمَ لا يَفْتِنَنَّكُمُ الشَّيْطانُ [ الأعراف/ 27] اے بنی آدم دیکھنا کہیں شیطان تمہیں بہکادے ۔ اور نیزلا يَحْطِمَنَّكُمْ سُلَيْمانُ وَجُنُودُهُ [ النمل/ 18] ایسانہ ہو ک سلمان اور اس کے لشکر تم کو کچل ڈالیں ۔۔۔ میں بھی لا نہی کے لئے ہے ۔ اور آیت کریمہ : وَإِذْ أَخَذْنا مِيثاقَ بَنِي إِسْرائِيلَ لا تَعْبُدُونَ إِلَّا اللَّهَ [ البقرة/ 83] اور جب ہم نے بنی اسرائیل سے عہد لیا کہ خدا کے سو اکسی کی عبادت نہ کرنا ۔ کی تفسیر میں بعض نے کہا ہے کہ لانا فیہ یعنی خبر ہے یعنی وہ اللہ کے سو ا کسی کی عبادت نہیں کریں گے ۔ اسی طرح آیت کریمہ : وَإِذْ أَخَذْنا مِيثاقَكُمْ لا تَسْفِكُونَ دِماءَكُمْ [ البقرة/ 84] اور جب ہم نے تم سے عہد لیا ک تم آپس میں کشت وخون نہیں کروگے ۔ میں بھی لانفی پر محمول ہے اور فرمان باری تعالیٰ ما لَكُمْ لا تقاتلُونَ [ النساء/ 75] تمہیں کیا ہوا کہ خدا کی راہ میں نہیں لڑتے ۔ میں ہوسکتا ہے کہ لاتقاتلو ن موضع حال میں ہو ۔ اور معنی ی ہو مالکم غیر مقاتلین یعنی تمہیں کیا ہوا اور آنحالیکہ لڑنے والے نہیں ہو ۔ اور لا کے بعد اسم نکرہ آجائے تو وہ مبنی بر فتحہ ہوتا ہے اور لا لفی کے مبنی دیتا ہے جیسے فرمایا : نہ عورتوں سے اختلاط کرے نہ کوئی برا کام کرے ۔ فَلا رَفَثَ وَلا فُسُوقَ [ البقرة/ 197] اور کبھی دو متضادمعنوں کے درمیان لا مکرر آجاتا ہے ۔ اور دونوں کا اثبات مقصود ہوتا ہے جیسے : لا زید بمقیم ولا ظاعن نہ زید مقیم ہے اور نہ ہی مسافر یعن کبھی مقیم ہے اور کبھی سفر پر اور کبھی متضاد مقصود ہوتا ہے جیسے ۔ لیس ابیض ولااسود سے مراد ہے کہ وہ ان دونوں رنگوں کے درمیان ہے یا پھر یہ بھی ہوسکتا ہے ہے کہ ان دونوں کے علاوہ کوئی تیسرا رنگ ہو چناچہ آیت کریمہ : لا شَرْقِيَّةٍ وَلا غَرْبِيَّةٍ [ النور/ 35] یعنی زیتون کی نہ مشرق کی طرف منسوب اور نہ مغرب کیطر کے بعض نے یہ معنی کئے ہیں کہ وہ بیک وقت مشرقی بھی ہے اور غربی بھی ۔ اور بعض نے اس کا افراط اور تفریط سے محفوظ ہونا مراد لیا ہے ۔ کبھی لا محض سلب کے لئے استعمال ہوتا ہے اور اس سے ایک شے کی نفی کرکے دوسری کا اثبات مقصود نہیں ہوتا مثلا لا انسان کہہ کہ صرف انسانیت کی نفی کا قصد کیا جائے اور عامی محاورہ لاحد بھی اسی معنی پر محمول ہے ۔ علم العِلْمُ : إدراک الشیء بحقیقته، ( ع ل م ) العلم کسی چیز کی حقیقت کا ادراک کرنا

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

سو محمد مجھ کو اور جو اس کتاب یعنی قرآن کریم کو جھٹلاتے اور اس کا مذاق اڑاتے ہیں رہنے دیجیے ہم انہیں دوزخ کی طرف لے جارہے ہیں اس طور پر کہ ان کو خبر نہیں۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٤٤{ فَذَرْنِیْ وَمَنْ یُّکَذِّبُ بِہٰذَاالْحَدِیْثِ } ” تو (اے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! ) آپ چھوڑ دیجیے مجھے اور ان لوگوں کو جو اس کلام کی تکذیب کر رہے ہیں۔ “ جیسا کہ قبل ازیں بھی ذکر ہوچکا ہے اس گروپ کی سورتوں میں یہ کلمہ (ذَرْنِیْ ‘ فَذَرْنِیْ ) اور یہ اسلوب بہت تکرار کے ساتھ آیا ہے۔ اس میں ایک طرف حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی دلجوئی کا پہلو ہے تو دوسری طرف آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے مخالفین کے لیے بہت بڑی وعید ہے ‘ کہ اے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! آپ ان لوگوں کی باتوں سے رنجیدہ نہ ہوں ‘ ان کا معاملہ آپ مجھ پر چھوڑ دیجیے ‘ ان سے میں خود ہی نمٹ لوں گا۔ { سَنَسْتَدْرِجُہُمْ مِّنْ حَیْثُ لَا یَعْلَمُوْنَ ۔ } ” ہم انہیں رفتہ رفتہ وہاں سے لے آئیں گے جہاں سے انہیں علم تک نہیں ہوگا۔ “ علماء کے ہاں ” استدراج “ کا لفظ بطور اصطلاح استعمال ہوتا ہے۔ اس سے مراد ایسا عذاب ہے جو اللہ تعالیٰ کی ڈھیل سے ناجائز فائدہ اٹھانے کے باعث کسی قوم یا کسی فرد پر درجہ بدرجہ (درجہ ‘ تدریج اور استدراج کا مادہ ایک ہی ہے) مسلط ہو۔ مثلاً اگر کوئی شخص اپنی ہٹ دھرمی کی وجہ سے غلط راستے پر جا رہا ہے تو اللہ تعالیٰ اسے کچھ دیر کے لیے ڈھیل دیتا ہے ‘ بلکہ بعض اوقات اس راستے پر اسے طرح طرح کی کامیابیوں سے بھی نوازتا ہے تاکہ اس کے اندر کی خباثت پوری طرح سے ظاہر ہوجائے۔ جب وہ شخص اپنی روش کو کامیاب دیکھتا ہے تو سرکشی میں مزید دیدہ دلیری دکھاتا ہے۔ یہاں تک کہ اس کی مہلت کا وقت پورا ہوجاتا ہے اور پھر اچانک اسے عذاب کے شکنجے میں کس لیا جاتا ہے۔ استدراج کی مثال کانٹے کے ذریعے مچھلی کے شکار کی سی ہے۔ شکاری جب دیکھتا ہے کہ مچھلی نے کانٹا نگل لیا ہے تو وہ ڈور کو ڈھیلا چھوڑ دیتا ہے اور پھر جب چاہتا ہے ڈور کھینچ کر اسے قابو کرلیتا ہے ۔ لفظ استدراج کی وضاحت کرتے ہوئے یہاں مجھے مولانا حسین احمد مدنی - کا وہ قول یاد آگیا ہے جس میں انہوں نے قیام پاکستان کے بارے میں کہا تھا کہ یہ استدراج بھی ہوسکتا ہے۔ مولانا صاحب رمضان ہمیشہ سلہٹ میں گزارتے تھے ۔ ١٩٤٦ ء کے رمضان میں انہوں نے کہہ دیا تھا کہ ملاء اعلٰی میں پاکستان کے قیام کا فیصلہ ہوچکا ہے۔ اس کے ٹھیک ایک سال بعد اگلے رمضان (لیلۃ القدر) میں پاکستان کا قیام واقعتا عمل میں آگیا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ مولانا مدنی (رح) کو بذریعہ کشف قیام پاکستان کے بارے میں جس فیصلے کا علم ہوا تھا ‘ ملاء اعلیٰ میں وہ فیصلہ ١٩٤٦ ء کی لیلۃ القدر میں اس اصول کے تحت ہوا تھا جس کا ذکر سورة الدخان کی آیت ٤ میں آیا ہے۔ اس آیت میں لیلۃ القدر (لَیْلَۃٍ مُبَارَکَۃٍ ) کے بارے میں فرمایا گیا ہے : { فِیْھَا یُفْرَقُ کُلُّ اَمْرٍ حَکِیْمٍ ۔ } کہ اس رات میں آئندہ سال کے دوران رونما ہونے والے اہم امور کے فیصلے کردیے جاتے ہیں۔ مولانا صاحب نظریاتی طور پر قیام پاکستان کے مخالف تھے۔ ان کے اس انکشاف کے بعد ان کے عقیدت مندوں نے بجاطور پر ان سے پوچھا کہ اس فیصلے کا علم ہوجانے کے باوجود بھی آپ قیام پاکستان کی مخالفت کیوں کر رہے ہیں ؟ اس پر مولانا صاحب (رح) نے جو جواب دیا تھا اس کا خلاصہ یہ ہے کہ یہ اللہ تعالیٰ کا تکوینی (کائنات کی سلطنت کا انتظامی) فیصلہ ہے۔ اللہ تعالیٰ کو اس سے کیا منظور ہے ‘ اس کا ہمیں علم نہیں ۔ ہمیں چیزوں کے ظاہر اور سامنے نظر آنے والے حالات کو دیکھنا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کو دیکھنے سننے ‘ سمجھنے وغیرہ کی صلاحیتیں اسی لیے دی ہیں کہ وہ ان صلاحیتوں سے کام لیتے ہوئے فیصلے کرے۔ چناچہ اس معاملے میں ہمیں وہی موقف اپنانا چاہیے جس میں ہمیں مسلمانانِ برصغیر کی بہتری نظر آتی ہو۔ ظاہر ہے اللہ تعالیٰ نے یہ فیصلہ اپنی حکمت اور مشیت کے مطابق کیا ہے۔ یہ بھی تو ممکن ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ فیصلہ ” استدراج “ کی غرض سے کیا گیا ہو۔ یعنی یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس خطے کے مسلمانوں کو ڈھیل دے کر انہیں عذاب میں مبتلا کرنا چاہتا ہو۔ قیامِ پاکستان کے بعد کے حالات کو دیکھ کر محسوس ہوتا ہے کہ مولانا مدنی (رح) کا خدشہ کافی حد تک درست تھا۔ اہل پاکستان پر عذاب کا ایک کوڑا تو ١٩٧١ ء میں برسا تھا۔ اس کے بعد بھی ملک کی مجموعی صورت حال کبھی تسلی بخش نہیں رہی ‘ بلکہ پاکستان کے موجودہ حالات کو دیکھ کر تو یوں لگتا ہے کہ اب ایک فیصلہ کن عذاب ہمارے سر پر آیا کھڑا ہے۔ لیکن میری رائے میں اس کا سبب ” قیامِ پاکستان نہیں “ بلکہ بحیثیت قوم ہمارا وہ مجموعی طرزعمل ہے جو قیام پاکستان کے بعد ہم نے نظام اسلام کے حوالے سے اختیار کیا ہے۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

26 That is, "Do not worry yourself as to how to deal with them; it is for Me to see how to chastise them. " 27 A form of leading somebody to ruin in imperceptible ways is that an enemy of the Truth and wicked person may be blessed in the world, and be granted health, wealth, children and worldly successes, by which he may be deluded into believing that whatever he is doing, he is doing well and right: there is nothing wrong with his acts and deeds. Thus, he may go on getting more and more deeply involved in enmity of the truth and wickedness and rebellious conduct and may not realize that the blessings he is being favoured with are not a reward but, in fact, a means of his own ruin.

سورة الْقَلَم حاشیہ نمبر :26 یعنی ان سے نمٹنے کی فکر میں نہ پڑو ۔ ان سے نمٹنا میرا کام ہے ۔ سورة الْقَلَم حاشیہ نمبر :27 بے خبری میں کسی کو تباہی کی طرف لے جانے کی صورت یہ ہے کہ ایک دشمن حق اور ظالم کو دنیا میں نعمتوں سے نوازا جائے ، صحت ، مال ، اولاد اور دنیوی کامیابیاں عطا کی جائیں ، جن سے دھوکا کھا کر وہ سمجھے کہ میں جو کچھ کر رہا ہوں خوب کر رہا ہوں ، میرے عمل میں کوئی غلطی نہیں ہے ۔ اسی طرح وہ حق دشمنی اور ظلم و طغیان میں زیادہ سے زیادہ غرق ہوتا چلا جاتا ہے اور نہیں سمجھتا کہ جو نعمتیں اسے مل رہی ہے وہ انعام نہیں ہیں بلکہ در حقیقت یہ اس کی ہلاکت کا سامان ہے ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(68:44) فذرنی : ف سببیہ ہے ذر فعل امر، واحد مذکر حاضر، وذر (باب سمع، فتح) مصدر سے۔ تو چھوڑ دے۔ ن وقایہ ی ضمیر واحد متکلم ۔ تو مجھے چھوڑ دے۔ اس کی ماضی نہیں آتی ۔ ومن یکذب بھذا الحدیث۔ واؤ عاطفہ من موصولہ محل نصب میں ہے ۔ اس کا عطف ی ضمیر مفعول واحد متکلم پر ہے۔ یکذب مضاف واحد مذکر غائب تکذیب (تفعیل) مصدر۔ ھذا اسم اشارہ قریب۔ واحد مذکر ۔ الحدیث : ای القران ، اور (چھوڑ) اس کو جو اس قرآن کی تکذیب کرتا ہے۔ اس کو جھٹلاتا ہے ۔ یعنی ایسوں سے نمٹنے کی فکر میں مت پڑو ان سے نمٹنا میرا کام ہے۔ سنستدرجھم : س مضارع پر داخل ہوکر مستقبل کیلئے خاص کردیتا ہے اور اس کو زمانہ حال سے قریب کردیتا ہے۔ بمعنی اب، ابھی۔ قریب۔ عنقریب۔ نستدرج مضارع جمع متکلم استدراج (استفعال) مصدر سے۔ درجۃ زینہ کی سیڑھیاں تدرج (تفعل) درجہ بدرجہ چڑھنا۔ نستدرج ہم درجہ بدرجہ پکڑلیں گے۔ ھم ضمیر مفعول جمع مذکر غائب من کی طرف راجع ہے۔ اور لفظ من اگرچہ مفرد ہے لیکن معنی کے لحاظ سے جمع ہے اس لئے جمع کی ضمیر کا مرجع اس کی طرف صحیح ہے۔ سنستدرجہم : ہم عنقریب ہی ان کو رفتہ رفتہ (عذاب میں گرفتار کرلیں گے) ۔ من حیث : من حرف جر ہے۔ حیث اسم ظرف مکان ہے مبنی برضمہ ہے بدیں وجہ حیث ضمہ کے ساتھ آیا ہے۔ ایسی جگہ سے، جہاں سے۔ من حیث لا یعلمون ایسی جگہ سے جسے وہ جانتے ہی نہیں ۔ ایسے طریقہ سے کہ انہیں معلوم تک نہ ہو۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 1 یعنی دنیا میں ان کے لئے طرح طرح کی عیش و آرام کے اسباب فراہم کریں گے تاکہ وہ اور زیادہ غافل ہوجائیں اور پھر آخر کار جہنم میں چلے جائیں۔ یہ اللہ تعالیٰ کا استدراج اور مکر ہے جس کا متعدد آیات میں ذکر کیا گیا ہے۔ (مومنوں 56 انعام آیت 44 ۔ اعراف 183)

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

فذرنی ............ الحدیث (٨٦ : ٥٥) “ پس اے نبی ! تم اس کلام کے جھٹلانے والوں کا معاملہ مجھ پر چھوڑ دو “۔ مارگئے۔ یہ خوفناک دھمکی ہے اللہ جبار وقہار کی طرف سے ، جو قوی اور مضبوط ہے۔ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کہا جاتا ہے کہ چھوڑ دیجئے ان نٹ پونجیوں کو جو اس عظیم کلام کی تکذیب کرتے ہیں۔ میں ان سے لڑوں گا۔ یہ کون تھا جو تکذیب کرتا تھا ؟ یہ وہی انسان ہے جس کی قوت ایک چیونٹی سے بھی کم ہے۔ بلکہ اس پوری کائنات کی نسبت سے یہ تو ایک ذرے کے برابر بھی نہیں ہے جو ہوا میں اڑرہا ہے۔ اللہ قہار وجبار کی قوت کے مقابلے میں ، اس کی عظمت کے مقابلے میں انسان بیچارہ ہے کیا ؟ محمد ((صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)) تم ان کو میرے لئے چھوڑدو ، آپ اور اہل ایمان آرام و اطمینان سے بیٹھیں ، یہ جنگ میرے ساتھ ہے ، میرے دین کی وجہ سے ہے۔ یہ لوگ میرے دشمن ہیں۔ میں ان کے معاملے کو اپنے ہاتھ میں لے رہا ہوں ، ان کو معلوم ہوجائے گا۔ آپ لوگ آرام و اطمینان سے بیٹھ جائیں۔ کس قدر خوفناک دھمکی ہے۔ اور کس قدر باوثوق یقین دہانی ہے ، ان لوگوں کو جو اس وقت نہایت ہی کمزور پوزیشن میں ہیں۔ اور یہ محض یقین دہانی ہی نہیں ہے۔ اللہ جبار وقہار بتلا دیتا ہے کہ ان کے خلاف کیا سٹریجی اختیار کی جائے گی۔ یہ تو بہت ہی کمزور ہیں اور ضعیف ہیں۔ سنستدرجھم ................ متین (٥٤) (٨٦ : ٤٤۔ ٥٤) “ ہم ایسے طریقہ سے ان کو بتدریج تباہی کی طرف سے جائیں گے کہ ان کو خبر بھی نہ ہوگی۔ میں ان کی رسی دراز کررہا ہوں ، میری چال بڑی زبردست ہے “۔ ان مکذبین اور تمام روئے زمین کے باشندے اس سے فروتر ہیں کہ اللہ ان کے بارے میں کوئی تدبیر کرے۔ لیکن اللہ تعالیٰ ان کو اپنی قوتوں سے ڈراتا ہے کہ وہ اللہ کے غضب کو دعوت نہ دیں۔ اور وقت کے چلے جانے سے پہلے ہی ، اپنے آپ کو درست کرلیں ، اور یہ جان لیں کہ یہ ظاہری عافیت جس میں وہ ہیں ، یہ بھی ان کے لئے بڑی فتح ہے جس پر وہ غرور کررہے ہیں۔ اور یہ کہ ان کو جو ظلم کرنے ، سرکشی کرنے ، دین اسلام سے منہ موڑنے ، اور گمراہی اختیار کرنے کی جو مہلت دے دی گئی ہے ، یہ دراصل مزید برے انجام کی تدبیر ہے۔ یہ اللہ کی تدبیر ہے کہ یہ لوگ اپنے بوجھ پورے کے پورے اٹھائیں اور قیامت میں جب آئیں تو گناہوں سے لدے ہوئے ہوں اور شرمندگی ، سرزنش اور عذاب میں ڈالے جانے کے مستحق ہوچکے ہوں۔ اللہ نے جو تدبیر کی ہوئی ہے ، اس میں بھی اللہ نہایت ہی عارلانہ اور رحیمانہ انداز اپناتا ہے کہ ان کو پہلے سے بتا دیتا ہے ، حالانکہ وہ اس کے دین کے دشمن ہیں ، رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے دشمن ہیں تاکہ وہ غور کرلیں اور اگر چاہیں تو راہ راست پر آجائیں۔ اللہ تعالیٰ مہلت تو دیتا ہے لیکن یونہی شتر بےمہار نہیں چھوڑتا۔ جب وہ ظالموں کو پکڑتا ہے تو اس کی پکڑ سے پھر کوئی بچ نہیں سکتا۔ یہاں اللہ اپنے طریقے ، اپنی سنت اور اپنی مشیت بتاتا ہے اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو بتاتا ہے کہ جو لوگ اس کلام کا انکار کرتے ہیں ان کو ذرا چھوڑیں کہ میں کس طرح انجام تک پہنچاتا ہوں۔ یہ لوگ مال ، اولاد اور مرتبہ ومقام پر اتراتے ہیں۔ میں ان کو مہلت دیتا ہوں۔ یہ نعمتیں ہی ان کے لئے باعث عذاب ہوں گی۔ یوں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو مطمئن کردیا جاتا ہے اور ان کو عذاب کے منہ میں جانے کے لئے چھوڑ دیا جاتا ہے۔ یہ انداز تعبیر نہایت معنی خیز ، خوفناک اور عجیب ہے۔ فذرنی ................ الحدیث (٨٦ : ٤٤) چھوڑ دو مجھے اور ان لوگوں کو جو اس کلام کی تکذیب کرتے ہیں “۔ میرے اور ان احمقوں کے درمیان اب گویا جنگ شروع ہوگئی ہے اور ایسے لوگوں کے ساتھ ہمیشہ اللہ کی جنگ رہی ہے۔ اس اعلان کے ذریعہ اللہ تعالیٰ مسلمانوں کے ذہن میں یہ بات بٹھاتا ہے کہ معرکہ ایمان وکفر ، معرکہ حق و باطل میں ، دراصل تم فریق نہیں ہو۔ ایک فریق یہ احمق ہیں اور دوسرا اللہ ہے۔ اس جنگ کی کمان اللہ کے اپنے ہاتھ میں ہے۔ اور یہ بات دراصل ہے بھی حقیقت ، اگرچہ بظاہر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور صحابہ کرام (رض) معرکہ حق و باطل میں اہم کردار نظر آتے ہیں ، ان کا جو کردار ہے وہ بھی سنت الٰہیہ اور تقدیر الٰہی کی تدبیر کا ایک حصہ ہے۔ رسول اللہ اور مسلمان تو دست قدرت کے آلات کار تھے ، یہ اللہ ہی تھا جو انہیں استعمال کرتا تھا۔ وہ فعال لمایرید ہے جو چاہتا ہے ، کرتا ہے اور کراتا ہے۔ کام اللہ خود کرتا ہے۔ جب یہ آیات نازل ہوئیں تو حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مکہ میں تھے اور مکہ کے بھی ابتدائی ایام تھے۔ مسلمان نہایت ہی قلیل تعداد میں تھے ، ضعیف تھے۔ یوں اللہ نے ان کے کاسہ دل کو اطمینان سے بھر دیا اور یوں ان لوگوں کو خوفزدہ کردیا جو قوت ، مال ، مرتبے اور اولاد کی وجہ سے غرے میں مبتلا تھے۔ اس کے بعد جب حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مدینہ گئے تو وہاں ظاہری حالات بدل گئے۔ اللہ نے یہ چاہا کہ رسول اللہ اور مسلمانوں کا اس معرکہ میں ایک ظاہری کردار بھی ہو۔ لیکن اصل حقیقت اللہ نے ہمیشہ دو ٹوک الفاظ میں بتائی جہاں وہ مکہ میں ضعیف تھے ، تب بھی اور مدینہ میں وہ بظاہر کامیاب اور طاقتور تھے تب بھی۔ بدر میں کہا۔ فلم تقتلوھم ................ سمیع علیم (٨ : ٧١) ” پس حقیقت یہ ہے کہ تم نے انہیں قتل نہیں کیا بلکہ اللہ نے انہیں قتل کیا اور اے نبی تونے نہیں پھینکا بلکہ اللہ نے پھینکا (اور مومنوں کے ہاتھ جو اس کام میں استعمال کیے گئے) تو یہ اس لئے تھا کہ اللہ مومنوں کو ایک بہترین آزمائش سے کامیابی کے ساتھ گزار دے ، یقینا اللہ سننے اور جاننے والا ہے “ تاکہ ان کے دلوں میں یہ حقیقت بیٹھ جائے کہ جنگ کا فریق دراصل اللہ ہے۔ اور یہ جنگ اس کی جنگ ہے ، تاکہ اس آزمائش میں اللہ کے لئے اجر لکھ دے۔ رہی اصل جنگ تو وہ اللہ کی ہے اور رہی فتح تو وہ بھی اللہ عطا کرتا ہے ، مسلمانوں کے بغیر بھی یہ فتح اللہ عطا کرسکتا ہے۔ رہے یہ لوگ جو اس میں شریک ہوتے ہیں تو یہ دست قدرت کے آلات ہوتے ہیں۔ اور اللہ کی افواج صرف مومنین تک محدود نہیں ہیں۔ بہرحال قرآنی آیات میں اس حقیقت کو بالکل واضح کرکے بیان کیا ہے ، خواہ بظاہر مسلمان کمزور ہوں یا مضبوط ، نیز اللہ کے نظام قضا وقدر کے ساتھ بھی یہی بات متفق ہے۔ اللہ کی سنت اور اللہ کی مشیت کا بھی یہی تقاضا ہے۔ رہے مسلمان اور اسلامی افواج تو وہ محض آلات اور اسباب ہیں۔ یہ وہ حقیقت ہے جو مومن کو حالت قوت اور ضعف دونوں میں مطمئن کردیتی ہے بشرطیکہ قلب مومن مخلص ہو ، اور جہاد میں وہ اللہ پر بھروسہ کرتا ہو ، کیونکہ کفر واسلام کے معرکوں میں مسلمانوں کی قوت فیصلہ کن نہیں ہوتی بلکہ اللہ کی نصرت فیصلہ کن ہوتی ہے۔ اللہ نصرت کا ضامن بن جاتا ہے۔ اگر مسلمان ضعیف بھی ہوں تو بھی فتح پاتے ہیں کیونکہ ان کو اللہ کی تائید حاصل ہوتی ہے۔ ہاں اللہ دشمنوں کو مہلت دیتا ہے۔ ان کی رسی دراز کرتا ہے۔ اور اپنی مشیت ، حکمت ، اور عدل اور رحمت کے مطابق اپنے مناسب وقت پر اپنے دشمنوں کو شکست دیتا ہے۔ نیز یہ ایک ایسی حقیقت بھی ہے جس سے اللہ کے دشمنوں کے دل بھی تھر تھر کانپتے ہیں۔ چاہے مسلمان حالت ضعف میں ہوں یا حالت قوت میں ہوں۔ اس لئے کہ دشمن اسلام بھی جانتا ہے کہ ہمارا مقابلہ مسلمانوں سے نہیں بلکہ خدا سے ہے۔ اس خدا سے جو اپنے نبی سے کہہ رہا ہے۔ فذرنی .................... الحدیث (٨٦ : ٤٤) ” چھوڑدو مجھے اور اس شخص کو جو اس کلام کی تکذیب کرتا ہے “۔ تم الگ ہوجاﺅ اور اس بد بخت کو میرے لئے چھوڑ دو لیکن اللہ کی چال زبردست اور اس کا جال نظر فریب ہوتا ہے۔ یہ اس میں اس طرح پھنس جائیں گے کہ پتہ بھی نہ چلے گا۔ اگر چہ یہ طاقتور ہوں۔ یہ ان لوگوں کی توقت جس کی وجہ سے یہ غرے میں مبتلا ہیں یہی ان کے لئے موجب شکست ہوگی۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

مکذبین کے لیے استدراج اور ان کی مہلت ان آیات میں منکرین اور مکذبین کو وعید سنائی ہے اور پیرایہ ایسا اختیار کیا ہے کہ بظاہر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو خطاب ہے اور اس ضمن میں آپ کی تسلی بھی مضمر ہے ارشاد فرمایا ہے کہ مجھے اور ان لوگوں کو رہنے دیجئے جو اس کلام کو جھٹلاتے ہیں یعنی عذاب آنے میں جو دیر لگ رہی ہے آپ اس سے رنجیدہ نہ ہوں، ہم انہیں بتدریج جہنم کے عذاب کی طرف لے جا رہے ہیں اور وہ بھی اس طور پر کہ انہیں خبر بھی نہیں، انہیں مہلت دی جا رہی ہے انہوں نے اس مہلت کو اپنے لیے فائدہ مند سمجھ رکھا ہے اور دنیا کی نعمتوں اور لذتوں میں پڑ کر اپنی جانوں کو کامیاب سمجھ رہے ہیں حالانکہ سراسر ناکامی اور عذاب کی طرف لے جا رہے ہیں۔ یہ ڈھیل ایک تدبیر ہے اور مضبوط تدبیر ہے ان کو جو مہلت دی جا رہی ہے وہ اس کی وجہ سے اور زیادہ معاصی میں منہمک ہو رہے ہیں اور یہ ہماری طرف سے استدراج ہے۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

21:۔ ” فذرنی “ یہ سزا دینے پر تمکن وقدرت سے کنایہ ہے۔ مجھے چھوڑو تو سہی میں ان جھٹلانے والوں کے لیے کافی ہوں اور میں ان کو ٹھیک کرلوں گا ہم ان کو مہلت دیں گے اور ان کو نعمتوں سے نوازیں گے اور ان کو معلوم بھی نہ ہوگا کہ یہ ان کے لیے استدراج ہے اور پھر ہم ان کو اچانک پکڑ لیں۔ میری تدبیر ایسی محکم ہے کہ کوئی اس کا مقابلہ نہیں کرسکتا۔ اللہ تعالیٰ کی کید سے مراد انتقام ہے بصورت انعام و امہال فالکید من اللہ الانتقام بصورۃ الانعام (مظہری ج 10 ص 43) ۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(44) پس اے پیغمبر آپ مجھ کو اور ان لوگوں کو جو اس کلام کی تکذیب کرتے ہیں چھوڑ دیجئے ہم ان کو اس طرح بتدریج عذاب کی طرف لے جائیں گے جس کی ان کو خبر بھی نہ ہوگی ۔ یعنی آپ ان کے معاملے کو مجھ پر چھوڑ دیجئے اور مجھ پر بھروسہ کیجئے میں ان سے بدلہ اور انتقام لینے کے لئے کافی ہوں میں ان کو جہنم اور عذاب کی طرف آہستہ آہستہ اس طور پر لے جارہا ہوں کہ ان کو اس کا علم بھی نہیں۔ استدراج اندک اندک نزدیک گردانیدن آپ کو کوئی تشویش نہ ہو آپ اپنی طبیعت پر کسی قسم کا بار نہ ڈالئے۔